حضرت عمر رضي اللہ تعالي عنہ کو حمص کا امير گورنر بنايا گيا۔
ايک عرصہ بعد اہل حمص حضرت عمر رضي اللہ تعالي عنہ کے پاس آئے تو آپ رضي اللہ عنہ نے ان سے کہا
اپنے فقرا کے نام لکھ دو تاکہ ہم انکي مدد کرسکيں۔
وہ لکھ کر لائے ان ميں ايک نام سعيد بن عامر بھي تھا۔
کون سعيد بن عامر؟ کہا ہمارا امير پوچھا تمہارا امير فقير ہے ؟ کہا
جي ہاں کئي دن گزرجاتے ہيں اور ان کے گھر ميں آہ نہيں جلتي ہے حضرت حضرت عمر رضي اللہ تعالي عنہ يہ سن کر رونے لگے اور ايک ہزار دينار ان کيلئے بھيجے۔
جب وہ دينار ملے تو ايک دم انا للہ پڑھنے لگے بيوی نے کہا کيا بات ہے امير المومنين انتقال کرگئے؟
کہا معاملہ اس بھي بڑھ کر ہے، دنيا ميرے پاس آںے لگي، فتنہ ميرے پاس آنے لگا، مجھ پر چھانے لگا۔
کہنے لگي اس کا تو حل راہ خڈا ميں تقسيم کرديجئے، چناچہ اگلے دن وہ ساري رقم اللہ کے راستے ميں خرچ کردي۔
يہ تھے خوہشات کو کچلنے والے اصحاب بلند ذوق ونظر، ہوس چھپ چپ کر ان کے سينوں ميں تصويريں کہا بناسکتي تھي، شاعر نے خوب کہا ہے۔
اميد نہیں جينے کي ياں صبح سےتا شام
ہستي کو يہ سمجھو کہ ہے خورشيد لب بام
ياں کام کرو ايسا جو آئے وہاں کام
آجائے خدا جانے کب موت کا پيغام
اپني کوئي ملک نہ املاک سمجھنا
ہونا ہے تمہيں خاک سب خاک سمجھنا