| تاریخ اور فلسفہ تاریخ اور فلسفہ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2010
مراسلات: 979
کمائي: 15,197
شکریہ: 1,882
726 مراسلہ میں 1,803 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ابو حامد غزالی
فلسفے کو الٰہیات کے تابع کرنے کی کوشش انسانی چہروں کے وسیع سمندر میں وہ درویش صفت، پار سا اور صوفی منش باپ بے چہرہ رہتا اور اس کا نام بھی کوئی نہ جانتا اگر اس کے آنسو بے فیض رہتے اور اس کی دعا قبول نہ کی جاتی. اس کے مشاغل محدود اور آمدنی کے ذرائع قلیل تھے۔ وہ پشم اور اون کا تتا اور فارغ اوقات میں علماءمشائخ کی صحبت میں حاضر ہوتا اور کمائی میں سے جو کچھ بچتا وہ بھی ان کے قدموں میں نچھاور کر کے خوش ہوتا۔ وعظ و ارشاد کی محفلوں میں اس پر رقت طاری ہو جاتی۔ مذہبی، علمی اور ادبی گفتگو سنتا تو روتا اور اللہ سے دعا کرتا کہ مجھے بھی بیٹا عطا کر جو ایسی ہی گفتگو کیا کرے.... درد مندی اور دلسوزی سے کی گئی یہ دعا قبول ہوئی اور اس گمنام اور مجہول الحال خاندان میں وہ بچہ پیدا ہوا جو آگے چل کر حجتہ الاسلام امام غزالی کے نام سے شہرت کے آسمان پر چھا گیا۔ 28 سال کی عمر ہی میں اس کے علم و فضل کی شہرت دور دور تک پہنچ گئی اور ابھی وہ 33 سال کا بھی نہیں ہوا تھا اس کو بغداد کے مدرسہ نظامیہ کا صدر مدرس مقرر کر دیا گیا۔ اس کا اثر و رسوخ اتنا بڑھ گیا کہ اس کے جاہ جلال کے سامنے امرا اور وزراءاور خود دربار خلافت کی شان و شوکت ماند پڑ گئی۔ ابو حامد محمد ابن محمد غزالی 1059ءمیں خراسان کی شہر طوس میں پیدا ہوئے۔ بچپن ہی میں والد کا سایہ شفقت سر سے اٹھ گیا۔ والد کی وصیت کے مطابق ایک صوفی درویش نے ان کی کفالت اور سرپرستی کی۔ گویا اول روز ہی سے تصوف کا رنگ ان کی شخصیت کا حصہ بن گیا۔ ابتدائی تعلیم طوس میں احمد بن محمد راز کانی سے حاصل کی۔ ہوش سنبھالا تو امام ابو نصر اسماعیل سے استفادہ تحصیل علم کیلئے جرجان کا سفر کیا۔ کچھ عرصہ بعد واپس طوس آگئے اصول ، منطق اور فقہ کی تعلیم کیلئے مدرسہ نظامیہ نیشاپور کا رخ کیا۔ استاد کی وفات کے بعد نیشاپور کے قریب نظام الملک طوسی کی قیام گاہ ”عسکر“ چلے گئے۔ اس وقت ان کی عمر صرف اٹھائیس برس تھی اور ان کی علمی شہرت اور ان کے پہنچنے سے پہلے ہی نظام الملک طوس تک پہنچ چکی تھی وہ نہایت عزت و تکریم سے پیش آیا اور اپنی علمی صحبتوں میں خوش آمدید کہا۔ جلد ہی وہ اپنی ذہانت 1091ءمیں انہیں مدرسہ نظامیہ بغداد کی تدریس کی خدمت سپرد کر دی۔ یہ وہی نظام الملک طوس ہے جسے سلجوقی ترک ملک شاہ نے اپنا وزیر بنا کر سلطنت کا سارا انتظام سپرد کر دیا تھا۔ یہ وزیر اپنی خوبیوں میں ہارون الرشید عباسی کے وزیر جعفر برمکی پر بھی بازی لے گیا۔ سلطان الپ ارسلان کے زمانہ میں بھی وہی وزیر تھا۔ اس کی بزرگی کی وجہ سے ملک شاہ اسے بابا کہا کرتا تھا۔ یہ وہی ملک شاہ ہے جس کے گھوڑے کی لگام شہر اصفہان کے پل پر ایک بڑھیانے پکڑ لی تھی۔ بڑھیانے کہا ”ملک شاہ! تم میرا انصاف اس پل پر کرو گے یا پل صراط پر؟“ دراصل اس بیوہ بڑھیا کی گائے ملک شاہ کے فوجیوں نے پکڑ کر ذبح کر لی تھی۔ ملک شاہ اس اچانک اور غیر متوقع ” کارروائی“ پر چونکا، ٹھٹھکا اور پھر کود کر گھوڑے کی پشت سے نیچے اتر آیا۔ اس نے اپنے اسی پل پر فیصلہ کروں گا۔“ 488ھ میں بغداد چھوڑ کر تلاش حق میں نکل پڑے اور مختلف ممالک کی خاک چھانی۔ یہاں تک کہ ان میں ایک کیفیت سکونی پیدا ہوگئی اور اشعری نے جس فلسفہ مذہب کی ابتدا کی تھی۔ انہوں نے اسے انجام تک پہنچا دیا۔ ان کی کتاب’’ المنقذ من الضلال‘‘ ان کے تجربات کی آئینہ دار ہے۔ اسی زمانہ میں سیاسی انقلابات نے ان کے ذہن کو بہت متاثر کیا اور یہ دو سال تک شام میں گوشہ نشین رہے۔ پھر حج کرنے چلے گئے ۔ اور آخر عمر طوس میں گوشہ نشینی میں گزاری۔ ان کی دیگر مشہور تصانیف احیاء العلوم، تحافتہ الفلاسفہ، کیمیائے سعادت اور مکاشفتہ القلوب ہیں۔ ان کا انتقال505ھ کو طوس میں ہوا۔ طوس میں قائم ہارونیہ کی عمارت، اس کے قریب ہی امام غزالی کا مقبرہ ہے
__________________
اندازِ بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے
شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات |
|
|
|
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
یونس بھائی شئیرنگ کا بہت بہت بہت شکریہ!
![]() اب آپ کی جانب سے خوبصورت اور معلوماتی شئیرنگ کا سلسلہ شروع ہوگیاہے، اللہ آپ کو مذید ہمت عطا فرمائے، آمین ثم آمین ۔ ۔ ۔ |
|
|
|
| shafresha کا شکریہ ادا کیا گیا | عارف اقبال (22-03-10) |
|
|
#3 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,616
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,595 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سرورق کے لیے پیش کریں۔
|
|
|
|
| منتظمین کا شکریہ ادا کیا گیا | عارف اقبال (24-03-10) |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() |
ایک اچھا اور مفید مراسلہ ہےلیکن میرے خیال میں امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ کے علوم ومعارف کے لیے ایک الگ سیکشن ہوناچاہیے۔
ویسے آپ لوگوں کی کیارائے ہے؟ |
|
|
|
| عبیداللہ عبید کا شکریہ ادا کیا گیا | بلال الراعی (09-07-11) |
![]() |
| Tags |
| com, php, وزیر, وصیت, متوقع, آئینہ, اللہ, استاد, بچپن, تلاش, ترک, تعلیم, جلد, خوش, دعا, روتا, زمانہ, سفر, سال, شام, عزت, صوفی, صدر, صرف, صراط |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| احیاء علوم الدین : امام غزالی | گوندل | کتاب گھر | 15 | 13-03-12 10:21 PM |
| امام غزالی کی باتیں | wajee | دلچسپ اسلامی تاریخی واقعات | 0 | 10-08-09 11:37 PM |
| حضرت امام غزالی کے اقوال | ابو عمار | گپ شپ | 1 | 26-11-08 08:12 PM |
| اسلام کے بارے میں 100 سوال از علامہ محمد غزالی | عرفان حیدر | کتاب گھر | 1 | 11-04-08 08:29 AM |
| خدا کیلئے اور محبتاں سچیاں “نے فلمی صنعت کو نئی زندگی بخشی، غزالہ کنول | عبدالقدوس | فلمی دنیا | 1 | 27-10-07 10:37 AM |