واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > تاریخ اور فلسفہ



تاریخ اور فلسفہ تاریخ اور فلسفہ


ایک ایرانی فلسفی ،ابو حامد غزالی

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 22-03-10, 08:50 PM   #1
Senior Member
 
عارف اقبال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2010
مراسلات: 979
کمائي: 15,197
شکریہ: 1,882
726 مراسلہ میں 1,803 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default ایک ایرانی فلسفی ،ابو حامد غزالی

ایک ایرانی فلسفی ،ابو حامد غزالی

ابو حامد غزالی

فلسفے کو الٰہیات کے تابع کرنے کی کوشش

انسانی چہروں کے وسیع سمندر میں وہ درویش صفت، پار سا اور صوفی منش باپ بے چہرہ رہتا اور اس کا نام بھی کوئی نہ جانتا اگر اس کے آنسو بے فیض رہتے اور اس کی دعا قبول نہ کی جاتی. اس کے مشاغل

محدود اور آمدنی کے ذرائع قلیل تھے۔ وہ پشم اور اون کا تتا اور فارغ اوقات میں علماءمشائخ کی صحبت میں حاضر ہوتا اور کمائی میں سے جو کچھ بچتا وہ بھی ان کے قدموں میں نچھاور کر کے خوش ہوتا۔ وعظ و ارشاد کی محفلوں میں اس پر رقت طاری ہو جاتی۔ مذہبی، علمی اور ادبی گفتگو سنتا تو روتا اور اللہ سے دعا کرتا کہ مجھے بھی بیٹا عطا کر جو ایسی ہی گفتگو کیا کرے.... درد مندی اور دلسوزی سے کی گئی یہ دعا قبول ہوئی اور اس گمنام اور مجہول الحال خاندان میں وہ بچہ پیدا ہوا جو آگے چل کر حجتہ الاسلام امام غزالی کے نام سے شہرت کے آسمان پر چھا گیا۔ 28 سال کی عمر ہی میں اس کے علم و فضل کی شہرت دور دور تک پہنچ گئی اور ابھی وہ 33 سال کا بھی نہیں ہوا تھا اس کو بغداد کے مدرسہ نظامیہ کا صدر مدرس مقرر کر دیا گیا۔

اس کا اثر و رسوخ اتنا بڑھ گیا کہ اس کے جاہ جلال کے سامنے امرا اور وزراءاور خود دربار خلافت کی شان و شوکت ماند پڑ گئی۔ ابو حامد محمد ابن محمد غزالی 1059ءمیں خراسان کی شہر طوس میں پیدا ہوئے۔ بچپن ہی میں والد کا سایہ شفقت سر سے اٹھ گیا۔ والد کی وصیت کے مطابق ایک صوفی درویش نے ان کی کفالت اور سرپرستی کی۔ گویا اول روز ہی سے تصوف کا رنگ ان کی شخصیت کا حصہ بن گیا۔ ابتدائی تعلیم طوس میں احمد بن محمد راز کانی سے حاصل کی۔ ہوش سنبھالا تو امام ابو نصر اسماعیل سے استفادہ تحصیل علم کیلئے جرجان کا سفر کیا۔ کچھ عرصہ بعد واپس طوس آگئے اصول ، منطق اور فقہ کی تعلیم کیلئے مدرسہ نظامیہ نیشاپور کا رخ کیا۔ استاد کی وفات کے بعد نیشاپور کے قریب نظام الملک طوسی کی قیام گاہ ”عسکر“ چلے گئے۔ اس وقت ان کی عمر صرف اٹھائیس برس تھی اور ان کی علمی شہرت اور ان کے پہنچنے سے پہلے ہی نظام الملک طوس تک پہنچ چکی تھی وہ نہایت عزت و تکریم سے پیش آیا اور اپنی علمی صحبتوں میں خوش آمدید کہا۔ جلد ہی وہ اپنی ذہانت 1091ءمیں انہیں مدرسہ نظامیہ بغداد کی تدریس کی خدمت سپرد کر دی۔ یہ وہی نظام الملک طوس ہے جسے سلجوقی ترک ملک شاہ نے اپنا وزیر بنا کر سلطنت کا سارا انتظام سپرد کر دیا تھا۔ یہ وزیر اپنی خوبیوں میں ہارون الرشید عباسی کے وزیر جعفر برمکی پر بھی بازی لے گیا۔ سلطان الپ ارسلان کے زمانہ میں بھی وہی وزیر تھا۔ اس کی بزرگی کی وجہ سے ملک شاہ اسے بابا کہا کرتا تھا۔ یہ وہی ملک شاہ ہے جس کے گھوڑے کی لگام شہر اصفہان کے پل پر ایک بڑھیانے پکڑ لی تھی۔ بڑھیانے کہا ”ملک شاہ! تم میرا انصاف اس پل پر کرو گے یا پل صراط پر؟“ دراصل اس بیوہ بڑھیا کی گائے ملک شاہ کے فوجیوں نے پکڑ کر ذبح کر لی تھی۔ ملک شاہ اس اچانک اور غیر متوقع ” کارروائی“ پر چونکا، ٹھٹھکا اور پھر کود کر گھوڑے کی پشت سے نیچے اتر آیا۔ اس نے اپنے اسی پل پر فیصلہ کروں گا۔“


488ھ میں بغداد چھوڑ کر تلاش حق میں نکل پڑے اور مختلف ممالک کی خاک چھانی۔ یہاں تک کہ ان میں ایک کیفیت سکونی پیدا ہوگئی اور اشعری نے جس فلسفہ مذہب کی ابتدا کی تھی۔ انہوں نے اسے انجام تک پہنچا دیا۔ ان کی کتاب’’ المنقذ من الضلال‘‘ ان کے تجربات کی آئینہ دار ہے۔ اسی زمانہ میں سیاسی انقلابات نے ان کے ذہن کو بہت متاثر کیا اور یہ دو سال تک شام میں گوشہ نشین رہے۔ پھر حج کرنے چلے گئے ۔ اور آخر عمر طوس میں گوشہ نشینی میں گزاری۔

ان کی دیگر مشہور تصانیف احیاء العلوم، تحافتہ الفلاسفہ، کیمیائے سعادت اور مکاشفتہ القلوب ہیں۔ ان کا انتقال505ھ کو طوس میں ہوا۔

طوس میں قائم ہارونیہ کی عمارت، اس کے قریب ہی امام غزالی کا مقبرہ ہے
__________________
اندازِ بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے
شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات
عارف اقبال آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عارف اقبال کا شکریہ ادا کیا
shafresha (22-03-10), منتظمین (23-03-10), آبی ٹوکول (23-03-10)
پرانا 22-03-10, 09:29 PM   #2
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,661
کمائي: 254,736
شکریہ: 53,117
7,704 مراسلہ میں 22,599 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

یونس بھائی شئیرنگ کا بہت بہت بہت شکریہ!

اب آپ کی جانب سے خوبصورت اور معلوماتی شئیرنگ کا سلسلہ شروع ہوگیاہے، اللہ آپ کو مذید ہمت عطا فرمائے، آمین ثم آمین ۔ ۔ ۔
shafresha آف لائن ہے   Reply With Quote
shafresha کا شکریہ ادا کیا گیا
عارف اقبال (22-03-10)
پرانا 23-03-10, 04:12 PM   #3
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,616
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,595 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سرورق کے لیے پیش کریں۔
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
منتظمین کا شکریہ ادا کیا گیا
عارف اقبال (24-03-10)
پرانا 24-03-10, 01:58 PM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مقام: پاکستان
مراسلات: 1,761
کمائي: 26,282
شکریہ: 912
1,266 مراسلہ میں 2,890 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبیداللہ عبید کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبیداللہ عبید کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبیداللہ عبید کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ایک اچھا اور مفید مراسلہ ہےلیکن میرے خیال میں امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ کے علوم ومعارف کے لیے ایک الگ سیکشن ہوناچاہیے۔

ویسے آپ لوگوں کی کیارائے ہے؟
عبیداللہ عبید آف لائن ہے   Reply With Quote
عبیداللہ عبید کا شکریہ ادا کیا گیا
جواب

Tags
com, php, وزیر, وصیت, متوقع, آئینہ, اللہ, استاد, بچپن, تلاش, ترک, تعلیم, جلد, خوش, دعا, روتا, زمانہ, سفر, سال, شام, عزت, صوفی, صدر, صرف, صراط


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
احیاء علوم الدین : امام غزالی گوندل کتاب گھر 15 13-03-12 10:21 PM
امام غزالی کی باتیں wajee دلچسپ اسلامی تاریخی واقعات 0 10-08-09 11:37 PM
حضرت امام غزالی کے اقوال ابو عمار گپ شپ 1 26-11-08 08:12 PM
اسلام کے بارے میں 100 سوال از علامہ محمد غزالی عرفان حیدر کتاب گھر 1 11-04-08 08:29 AM
خدا کیلئے اور محبتاں سچیاں “نے فلمی صنعت کو نئی زندگی بخشی، غزالہ کنول عبدالقدوس فلمی دنیا 1 27-10-07 10:37 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 07:21 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger