| تاریخ اور فلسفہ تاریخ اور فلسفہ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() |
کیا تاریخ اسلام میں حضرت عمر ابن خطاب نے حجر الاسود کو مخاطب کر کے صرف یہی کہا تھا :
توصرف ایک پتھر ہے اور مجھے پتا ہے کہ تجھ میں نفع یا نقصان پہنچانے کی کوئی طاقت نہیں ہے۔ اور اگر میں نے رسول ﷺ کو نہ دیکھا ہوتا کہ وہ تجھے چوم رہےہیں، تو میں تجھے کبھی نہ چومتا۔ صحیح بخاری، کتاب الحجر اور آج یہ ادھی روایت مسلمانوں میں کئی قسم کے سوالات پیدا کرچکی ہے اور کچھ حضرات اسے صحیح بات یا مکمل بات سمجھ کر اسکا صرف ایک حصہ پیش کر تے ہیں. پورا واقعہ یوں ہے [یہ حدیث الترمذی، النسائی، البیہقی، الطبرانی اوربخاری کی تاریخ میں نقل ہوئی ہے] حضرت عمر ابن الخطاب جب کعبہ کی زیارت کو گئے تو حجر اسود کو مخاطب کر کے کہا: تم کچھ (نفع یا نقصان) نہیں کر سکتے ہو، مگر میں تمہیں صرف اس لئے چومتا ہوں تاکہ رسول ﷺ کی سنت کی پیروی کر سکوں۔ علی(ابن ابی طالب) نے سن کر کہا: میں نے رسول ﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ حجرِ اسود قیامت کے روزلوگوں کی شفاعت کرے گا۔ یہ سن کر حضرت عمر نے حضرت علی کا شکریہ ادا کیا۔ چنانچہ مولا علی نے یہ بات واضح کر دی کہ شعائر اللہ کی تعظیم کرنے سےوہ ہمیں نفع پہنچائیں گے اور ان کی بے حرمتی نقصان کا باعث ہے کچھ حضرات آج بھی اس مکمل روایت کوشاید چھپا جاتے ہیں ورنہ یہ بہت واضع بات تھی آپ کی خدمت میں اص روایت کے چند اور ورژن پیشِ خدمت ہیں۔ یہی حدیث شیخ عبدالقادر جیلانی نے اپنی کتاب "غنیۃ الطالبین" میں یوں نقل کی ہے: ابوسعید خدری کہتے ہیں: میں عمر ابن خطاب کی خلافت کے ابتدائی زمانے میں آپکے ساتھ حج کو گیا۔ عمر ابن خطاب مسجد میں آئے اور حجر اسود کے پاس آ کرکھڑے ہو گئے اور پھر حجر اسود سے مخاطب ہو کر کہا کہ تو ہر صورت میں پتھر ہے اور تو نہ کچھ فائدہ پہنچا سکتا ہے اور نہ ضرر۔اگر میں نے رسول ﷺ کوتجھے بوسہ لیتے ہوئے نہ دیکھتا تو میں تجھے ہرگز نہ چومتا۔ حضرت علیؑ نے فرمایا: ایسا نہ کہو، یہ پتھر نقصان بھی پہنچا سکتا ہے اور نفع بھی، مگر نفع اور نقصان اللہ کے حکم سے ہے۔اگرتم نے قران پڑھا ہوتا اور جو کچھ اس میں لکھا ہے اُس کو سمجھا ہوتا توہمارے سامنے ایسا نہ کہتے۔ عمر ابن خطاب نے کہا اے ابوالحسن، آپ ہی فرمائیے کہ قران میں اس کی کیا تعریف ہے۔ حضرت علی نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کی صلب سے اولاد کو پیدا کیا تو انہیں اپنی جانوں پرگواہ کیا اور سوال کیا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ اس کے جواب میں سب نے اقرار کیا کہ تو ہمارا پیدا کرنے والا ہے اور ہمارا پروردگار ہے۔ پس اللہ نے اس اقرار کو لکھ لیا اور اس کے بعد اس پتھر کو بلایا اور اس صحیفےکو اس کے پیٹ میں بطور امانت کے رکھ دیا۔ پس یہ وہی پتھر اس جگہ اللہ کاامین ہے تاکہ قیامت کے دن یہ گواہی دے کہ وعدہ وفا ہوا یا نہیں۔ اس کے بعد عمر ابن خطاب نے کہا: اے ابوالحسن، آپ کے سینے کو اللہ نے علم اور اسرارکا خزینہ بنا دیا ہے۔ غنیۃ الطالبین، عبدالقادر جیلانی، صفحہ 534، مطبوعہ مکتبِ ابراہیمیہ، لاہور، پاکستان متقی الہندی نے یہی روایت تقریباً انہی الفاظ کے ساتھ اپنی حدیث کی کتاب "کنزالاعمال" میں یوں نقل کی ہے۔ ابو سعید خدری کہتے ہیں: ہم نے حضرت عمر ابن خطاب کے ساتھ حج کیا۔ چنانچہ جب وہ طواف کرنے لگے تو حجر اسود کو مخاطب کر کے کہا: “میں جانتا ہوں کہ تم صرف ایک پتھر ہو جو کہ نہ نفع پہنچا سکتا ہے اور نہ نقصان۔ اور اگر میں نے رسول ﷺ کو تجھے چومتے ہوئے نہیں دیکھا ہوتا، تو میں کبھی تجھے نہ چومتا۔" علی(ابن طالب) نے کہا: "یہ(پتھر) نفع بھی پہنچا سکتا ہے اورنقصان بھی۔ " عمر(ابن خطاب) نے پوچھا: “وہ کیسے"، اس پر علی نے جواب دیا: “کتاب اللہ کی رو سے۔ " عمرنے کہا: “پھر آپ مجھے بھی یہ بات قران میں دکھائیے۔ " علی نے کہا کہ اللہ قران میں فرماتا ہے کہ جب اُس نے حضرت آدم کی صلب سے اولاد کو پیدا کیا توانہیں اپنی جانوں پر گواہ کیا اور سوال کیا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ اس کے جواب میں سب نے اقرار کیا کہ تو ہمارا پیدا کرنے والا ہے اورہمارا پروردگار ہے۔ پس اللہ نے اس اقرار کو لکھ لیا۔ اور اس پتھر کے دو لباور دو آنکھیں تھیں، چنانچہ اللہ کے حکم سے اس نے اپنا منہ کھولا اور یہ صحیفہ اس میں رکھ دیا اور اس سے کہا کہ میرے عبادت گذاروں کو جو حج پوراکرنے آئیں، اُن کو اس بات کی گواہی دینا۔ اور میں رسول اللہ (ص) سے سنا ہے:”اس کالے پتھر کو قیامت کے روز لایا جائےگا، اور اس کو زبان عطا کی جائے گی جو کہ اُن لوگوں کی شہادت دے گی جوتوحید پر قائم تھے اور اپنے فرائض انجام بجا لاتے تھے۔" چنانچہ یہ پتھرنفع بھی پہنچا سکتا ہے اور نقصان بھی۔" یہ سن کر عمر نے کہا۔ "اعوذ باللہ کہ مجھے لوگوں میں ایسے رہنا پڑے کہ جن میں اے ابوالحسن(علی) آپ نہ موجود ہوں۔" متقی الہندی، کنزالاعمال، فی فضائل مکہ(المحدث سوفٹ ویئر میں اس حدیث کا نمبر 12521 ہے ابو الحسن القطان نے الطوالات میں۔ حاکم نے اپنی کتاب "المستدرك"، جلد 1، صفحہ 457 پر۔ وجہ انکار :- چونکہ ایک طرف یہ کچھ حضرات کو اپنے عقیدہ پر نظر ثانی کرنے کا اشارہ دے رہی ہے. اوردوسری طرف اس سے مولا علی ؑ کا باب المدینۃ العلم ہونا ثابت ہوتا ہے.بظاہر شاید اس لئے کچھ لوگوں نے کسی نہ کسی بہانے اس حدیث کا انکار کیا۔ وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ شاید ان کی نظروں سے نہ گزری ہو یا اس کے پیرائے میں کچھ اور نظریات ہوں مگر یہ بات تو طے ہے کہ اس روایت کو چپھانا صراط مستقیم ڈھونڈنے والوں کی راہ میں رکاوٹ ضرور بنے گئی. کچھ لوگ حدیث کو جھٹلانے کا سب سے بہتر ہتھیار بس یہ ہے کہ اُسکے متن کو دیکھنے کے بجائے، اُس کے سلسلہ رواۃ میں شک پیدا کر کے اُسےضعیف قرار دے دیا جائے۔ اس روایت کے ساتھ بھی انہوں نے یہی حشر کرنا چاہا ہے۔ اور اُنکا پورااستدلال یہ ہے کہ الذھبی نے یہ روایت حاکم سے نقل کی ہے اور پھر اس کے ایکراوی "ابی ہارون" کو ساقط قرار دیا ہے۔ کیا کچھ حضرات یہ سمجھتے ہیں کہ رسول ﷺ نے پوری امت کو ایک بیکار اور مشرکانہ فعل میں مبتلا کر دیا ہے؟ اہل علم اور بندگان تلاش حق افراد کہ لیے یہ مشکل نہی ہونی چاہیے کہ مولا علی ؑ نے حضرت عمر ابن خطاب کو یہ بتایا ہے کہ ’’حجر اسود ہمیں نفع بھی پہنچا سکتا ہے اور نقصان بھی. کیونکہ رسول (ص) کی اپنی زندگی میں ہزاروں واقعات ایسے ہیں، جو کہ یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں کہ ہر وہ چیز جو کہ اولیاء اللہ سے مس ہو، وہ بابرکت ہو جاتی ہے۔ بہت اس ابواب میں بہت سی ایسی احادیث درج ہیں جن میں صحابہ کرام پوری زندگی رسول ﷺ کے تبرکات سے نفع اور برکت حاصل کرتے رہے مثلاً آپﷺ کے بال، ناخن، عصا، قمیض، لعاب دہن، وضو کا پانی۔۔۔۔۔ یاد کریں وہ حدیث جب جنابِ عائشہ اور اسماء بنت ابی بکر بیماروں کو شفا دینے کے لئے رسول ﷺ کا کمبل پانی میں بھگو کر دیتی تھیں۔ اور یاد کریں وہ حدیث کہ ام المومنین ام سلمہ(ر) نطرِ بد اور بیماری کے خلاف رسول ﷺ کے بالوں کو پانی میں بھگو کر دیتی تھیں۔ اور یاد کریں وہ حدیث کہ جب رسول نے مولا علی اور صحابی سلمہ کو اپنے لعاب دہن سے نفع پہنچایا۔۔۔۔۔۔ اسی طرح کیا غلط اور برا کہنے والوں نے قران نہیں پڑھا جس میں صاف لکھاہے کہ آلِ موسیٰ و آلِ ہارون کے تبرکات میں وہ برکت تھی کہ جس کی وجہ سےاُس صندق کو اللہ نے تابوتِ سکینہ قرار دے دیا۔ اور وہ مٹی جہاں سے حضرت جبرئیل ؑ کا گذر ہو گیا(بلکہ جہاں اُن کے گھوڑے کا پاؤں پڑا)، وہ مٹی اتنی بابرکت ہو گئی کہ اُس کے اثر سے گوسالہ بولنے لگا۔ اور یوسف ؑ کی قمیض میں وہ برکت تھی کہ جس نے گئی ہوئی بینائی کو لوٹا دیا۔۔۔۔ اب اگر کچھ حضرت سے پوچھیں کہ اپ نے اپنی پوری زندگی میں سیکھا ہی کیا؟ روایات صابت کرتی ہیں کہ حضرت عمر نے مخالفت نہی کی اور ایک بات کو سمجھنے کے بعد حضرت علی ابن ابی طالب کا شکریہ بھی ادا کیا حیرت ان حضرات پر ہے جو اب تک یہی ایمان لائے بیٹھے ہیں کہ حجر اسود کوئی نفع یا نقصان نہیں پہنچا سکتا، اور کہتے ہیں کہ جوایسا اعتقاد رکھے، وہ مشرک ہے۔ حجر اسود تو اللہ کی وہ نشانی ہے کہ جسے ہزاروں انبیاء نےلاتعداد بار چوما ہے۔ اب پتا نہیں کہ اسے انبیاء کے چومنے سے برکت ملی، یاانبیاء کو اسے چومنے سے برکت ملی، مگر وہ شخص جاہلِ مطلق ہے جو اب بھی اسکو نفع و نقصان کا حامل نہ سمجھے. اور جو مولا علی نے فرمایا: ۔۔۔۔حضرت علی نے فرمایا: ایسا نہ کہو، یہ پتھر نقصان بھی پہنچا سکتا ہے اور نفع بھی،مگر نفع اور نقصان اللہ کے حکم سے ہے۔۔۔۔ (غینیۃ الطالبین، عبدالقادر جیلانی) ہمیں اندازہ ہے کہ اب بھی کچھ حضرات بھاگنے کے چکر میں ہیں اور یہ سب ماننے سے انکار کریں گئے. تو اِن کی خدمت میں یہ ایکحدیث اور پیش کر کے اپنی طرف سے ہم اتمام حجت کرتے ہیں: 113 - باب مَا جَاءَ فِي الْحَجَرِ الأَسْوَدِ 976 -قتیبہ نے جریر سے، اُس نے ابن خثیم سے، اُس نے سعید بن جبیر سے، اُس نےابن عباس سے نقل کیا ہے کہ رسول ﷺ نے حجر الاسود کے متعلق فرمایا: خدا کی قسم، اللہ اس(حجر اسود) کو روزِ قیامت آنکھیں عطا کرے گا جو انہیں دیکھیں گی، اور زبان عطا کرے گاجو اُن کے حق میں شہادت دیں گی جنھوں نے اُس کے ساتھ صحیح سلوک کیا ہے۔ ابو عیسی کہتے ہیں یہ حدیث حسن ہے حوالہ: سنن ترمذی، کتاب الحج اگر کوئی اب بھی نہ مانے اور حجر اسود کو نفع و نقصان نہ پہنچانے والا عام پتھر سمجھے، تو ہم یہ نہی کہہ رہے کہ اللہ نے اُس کے دلوں پر تالا ڈال دیا ہے بلکہ یہ ضرور کہیں گئے کہ اللہ سب کو ھدایت دے اور یہ باتیں منظر عام پر بھی رہنی چاہیے تاکہ کوئی حق کا متلاشی اگر یہاں ائے تو اسے کچھ مل سکئے اور اس کے جواب جو ضرور ائیں گئے اور انے چاہیں تا کہ ہمارے علم میں بھی اضافہ ہو مولا علی کا قول ہے کہ مومن ہوہے جو دوباتوں میں سے ایک بہترین کا انتخاب کرلے |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#2 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,570
کمائي: 315,126
شکریہ: 25,210
16,389 مراسلہ میں 41,628 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
عن عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما قال کنت خلف النبی صلی اللہ علیہ وسلم فقال یا غلام انی اعلمک کلمات احفظ اللہ یحفظک ، احفظ اللہ تجدہ تجاھک اذا سالت فاسال اللہ واذا استعنت فاستعن باللہ واعلم ان الامۃ لواجتمعت علی ان ینفعوک بشیءلم ینفعوک الابشی ءقد کتبہ اللہ تعالی لک وان اجتمعوا علی ان یضروک بشیءلم یضروک الابشیءقدکتبہ اللہ تعالی علیک رفعت الاقلام وجفت الصحف حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں کسی سواری پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا اے لڑکے میں تجھے کچھ باتیں سکھاتا ہوں اللہ کا لحاظ کرو اللہ تمہارا لحاظ کرے گا ۔ اللہ کا لحاظ کرو تم اللہ کو اپنے سامنے پاؤ گے جب بھی سوال کریں تو اللہ سے سوال کریں اورجب کبھی امداد طلب کریں تو اللہ ہی سے مدد مانگیں اور خوب جان لیں کہ اگر پوری قوم تجھے کچھ فائدہ پہنچانے کے لئے جمع ہو جائے تو وہ تمہیں کچھ فائدہ نہیں دے سکتی ، سوائے اس کے جو اللہ نے تیرے لئے رکھا ہوا ہے اور اگر اس بات پر جمع ہو جائے کہ تیرا کچھ نقصان کردے تو وہ تمہیں نقصان نہیں پہنچاسکتی سوائے اس نقصان کے جو اللہ نے پہلے ہی لکھ دیا ہے ۔ قلم اٹھا لئے گئے ہیں اور صحیفے خشک ہو گئے ہیں
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
|
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (15-02-12), فاروق سرورخان (16-01-12), نبیل خان (17-01-12), مجرم (25-12-11), محمد عاصم (12-07-11), حیدر Rehan (10-06-11), رضی (15-01-12), عروج (10-06-11) |
|
|
#3 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
بے شک صحیح کہا ہے لیکن شاید کچھ لوگ غلط سمجھے اس بات کا مطلب یہ بھی ہوا کہ اللہ سے لاتعلق ہوکر ، پوری دنیا بھی اگر اپکی مدد کرنا چاہے تو کچھ فائدہ نہ دے سکے گئ حجر اسود تو اللہ ہی سے تعلق رکھتا ہے Last edited by حیدر Rehan; 10-06-11 at 05:05 PM. |
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,220
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
خلفاء راشدین بے شک ھدایت کے چراغ ھیں ھی۔
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عروج کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() |
اسود کو چوم چوم کر۔۔۔۔ کالا ہی کردیا بدعت نہی ہے کیا ؟ یہ کسی کی نگاہ میں ائے مفتی ' فتوی دے زرا کعبہ کے رنگ پر شیعہ سا نہی لگتا۔۔۔۔ یہ کالے لباس میں |
|
|
|
| حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا گیا | rana ammar mazhar (15-02-12) |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() |
کعبہ تیرے غلاف کا کالا ہے رنگ کیوں ؟
کیا تو بھی سوگوار ہے میرے حسین کا ؟ |
|
|
|
| حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا گیا | rana ammar mazhar (15-02-12) |
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 439
کمائي: 10,419
شکریہ: 340
435 مراسلہ میں 1,429 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
عنوان ہے حجر اسود اور شعائر اللہ کی تعظیم۔ لیکن اندر پوسٹ میں تعظیم کی بجائے تبرک پر بات کی جا رہی ہے۔ شعائر اللہ کی تعظیم سے کوئی مسلمان کسی درجہ میںبھی انکار نہیں کر سکتا۔ لیکن تبرک عبادت کی قبیل سے ہے، جس کے لئے صاحب شریعت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع ضروری ہے۔ اس میں غلو اور تجاوز ہرگز جائز نہیں۔کیونکہ عبادت ساری کی ساری اتباع رسول اور توقیف پر مبنی ہے۔ اور تبرک کا معاملہ ایسا ہے کہ اس میںمختلف گروہ افراط و تفریط کا شکار ہوئے ہیں۔ کچھ نے تو بالکل ہی کسی چیز سے برکت حاصل کرنے یعنی تبرک کا انکار کر دیا ہے تو کچھ نے اپنی مرضی سے ہر شے سے ہی تبرک حاصل کرنا شروع کر دیا ہے۔
شیخالاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی نبی یا بزرگ کی قبر پر نماز پڑھنے کی نیت سے گیا کہ وہ جگہ مبارک ہے تو اس کا یہ عمل اللہ و رسول کے معارض، اسلام کے خلاف اور نئے دین کی ایجاد ہے، جس کی اجازت اللہ نے نہیںدی۔ مسلمانوں کا اجماع ہے اور دین رسول اللہ کا اہم مسئلہ ہے کہ قبر کے پاس نماز خواہ وہ کسی کی بھی ہو، اس میںہرگز کوئی فضیلت نہیں، اور نہ ہی اس جگہ کی کوئی اہمیت ہے۔ البتہ اس میںگناہ کا شر اور ضرر ضرور ہے۔ شیخالاسلام مزید لکھتے ہیںکہ غار حرا، غار ثور، کوہ طور، نعل نبی پر بنی ہوئی عمارت، یا مقام ولادت نبوی یا مقام بیعت عقبہ وغیرہ مقامات جو انبیإء و صالحین کی طرف کسی طرح منسوب ہیں، امت کے لئے کسی طرح جائز نہیںکہ ان کی زیارت اور وہاںجا کر نماز وغیرہ کا قصد کریں۔ اور اس میں کوئی خفا نہیںکہ اگر یہ عمل مشروع و مستحب یا کار ثواب ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ضرور لوگوںکو اس کی خبر دیتے، خود ان کا شوق کرتے، صحابہ کو تعلیم فرماتے اور پھر صحابہ کرام بھی ضرور جانتے ہوتے اور اپنے بعد آنے والوںکو ان سے مطلع کرتے۔ جب ان حضرات نے اس جانب کوئی توجہ نہیںکی تو معلوم ہوا کہ یہ اعمال لوگوں کے خود ایجاد کردہ بدعت ہیں ۔ جنہیںسلف صالحین نے عبادت، طاعت یا تقرب الی اللہ شمار نہیںکیا۔ تو جو شخص ان اعمال کو عبادت، طاعت اور تقرب گردانتا ہے وہ ان صالحین کے طریقہ پر نہیں ہے۔ اور اس نے ایسا دین بنایا ہے جس کا اللہ نے اذن نہیںدیا۔‘‘ (اقتصاء الصراط المستقیم ص 424 تا 426) طبقات ابن سعد میںحضرت نافع سے مروی ہے کہ کچھ لوگ بیعت رضوان والے درخت کی زیارت کو جاتے اور وہاں نماز پڑھتے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اطلاع ملی تو انہیںسخت تنبیہہ کی اور درخت کے کاٹنے کا حکم دیا۔ چنانچہ وہ کاٹ دیا گیا۔ (الطبقات۔ 100/2 اور یہ اثر صحیحہے۔ ملاحظہ وہ مرویات غزوۃ الحدیبیہ ص 137 کتاب البدع۔ ابن وضاح۔ 43) اگر غیر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے تبرک جائز ہوتا تو انبیإء کے بعد اللہ کی مخلوق میںسب سے بہترین چنیدہ لوگ صحابہ کرام تھے۔ تو حضرات تابعین ان کے ساتھ یہ عمل اختیار کرتے اور ایسے ہی صغار تابعین اپنے سے پہلے بزرگ علمإء کے ساتھ یہ وطیرہ اپناتے جب ان صالحین کی جماعتوںکی جماعتیں ایسے کاموں کے نہ کرنے پر متفق اور مجتمع ہیںتو یہ دلیل ہے کہ یہ عمل غیر مشروع اور ناجائز ہے۔ صحابہ کرام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آثار سے تو تبرک لیتے تھے۔ لیکن آپس میںان کا ایسا کوئی عمل ثابت نہیں۔ اور نہ ہی تابعین کرام، صحابہ کرام کے ساتھ باوجود ان کے عالی مرتبہ ہونے کے ایسا کوئی انداز اپناتے تھے۔ المختصر، بچا ہوا کھانا، جھوٹا پانی، وضو کا پانی، بال یا دیگر اشیإءسے تبرک صرف اور صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خاصہے۔ اور یہ تمام چیزیں ۔ بعد از پیغمبر۔ مریدوںاور ان کے پیروں و بزرگوں دونوںکے لئے بہت بڑے فتنے کا باعث ہیں۔ اور یہ غلو بدعت کی راہ کھولتا ہے بلکہ بسا اوقات شرک تک نوبت جا پہنچتی ہے۔ سیدنا ابو واقد قریشی رضی اللہ عنہا بیان کرتے ہیں کہ ہم جنگ حنین کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مقام حنین کی طرف جارہے تھے۔ اور ہمارا زمانہ کفر ابھی نیا نیا گزرا تھا۔ راستے میں ایک جگہ بیری کا درخت آیا جس کوذات انواط کہا جاتا تھا۔مشرکین اس درخت کے پاس بیٹھنا باعث برکت خیال کرتے تھے اور اپنے ہتھیار بھی برکت کے لیے اس درخت پر لٹکایا کرتے تھے۔ سیدنا ابو واقد رضی اللہ عنہا کہتے ہیں چلتے چلتے ہم ایک بیری کے درخت کے پاس سے گزرے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ جیسے ان مشرکین کے لیے ذاتِ انواط ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لیے بھی ایک ذاتِ انواط مقرر فرما دیجئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اَللّٰہُ اَکْبَر کہااورفرمایا :اللہ کی قسم! تم بالکل وہی بات کہہ رہے ہو جو بنی اسرائیل نے جناب موسی علیہ السلام سے کہی تھی کہ ''اے موسیٰ علیہ ہمارے لیے بھی کوئی ایسا معبود بنا دیجیئے جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں''۔ موسیٰ نے کہا ''تم لوگ بڑی نادانی کی باتیں کرتے ہو'' ۔ (پھرفرمایا ) تم بھی اگلی اُمتوں کے طریقوں پر چلو گے۔ (رواہ الترمذی و صححہ)۔ مشرکین اُس درخت کی عظمت و جلالت کے پیشِ نظر اسکے پاس بیٹھنا باعث بر کت سمجھتے تھے۔ یعنی برکت حاصل کرنے کی نیت سے اس درخت پر اپنے ہتھیار لٹکاتے تھے۔ ان صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے یہ اس لیے کہا کہ ان کے ذہن میں یہ بات پیدا ہوئی کہ یہ بھی عند اللہ پسندیدہ عمل ہے لہٰذا ہم بھی تبرّک حاصل کیا کریں۔ اگر ان کو یہ علم ہوتا کہ یہ شرک ہے تووہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کی کیسے جرات کر سکتے تھے؟؟؟۔۔۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی اِس بات کو بنی اِسرائیل کے قول سے مشابہ قرار دیا ہے کیونکہ دونوں نے الہٰ طلب کیا تھا جس کی وہ اللہ تعا لیٰ کے سوا عبادت کریں۔ دونوں کے مطالبہ کے الفاظ اگرچہ مختلف ہیں تاہم معنیٰ ایک ہی ہیں کیونکہ الفاظ کی تبدیلی سے حقیقت تو تبدیل نہیں ہو جاتی۔ زیرِ بحث حدیث میں شرک سے بچنے کی تعلیم دی گئی ہے کیونکہ بسا اوقات اِنسان کسِی کام کو بہتر سمجھ کر سرانجام دیتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ اس سے اللہ تعا لیٰ کا قُرب حاصل ہو گا، لیکن در حقیقت وہ عمل انسان کو، اللہ تعالیٰ اور اُس کی رحمت سے دور اور اس کی ناراضگی اور غضب کو قریب کر رہا ہوتا ہے۔ اس حقیقت کو وہی شخص سمجھ سکتا ہے جس نے علماء سُو، عُبّاد ِقُبور، اس میں غلّوکرنے والوں اور ان کی عبادت کرنے والوں کو غور سے دیکھا ہو، کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ بہت بہتر اعمال سر انجام دے رہے ہیں حالا نکہ وہ ایسے گناہ میں مبتلا ہیں ، یعنی شرک، جس کو اللہ تعالیٰ معاف نہیں کرے گا۔ اس بحث سے یہ معلوم ہوا کہ: 1۔ جو شخص اولیائے کرام کی قبروں پر اعتکاف کرتا یا کسی شجر و حجر کے پاس جا کر اور وہاں جانور ذبح کرنے کو تبرک خیال کرتا ہے وہ شرک میں مبتلا ہے۔ 2 دوسرا مسئلہ یہ معلوم ہوا کہ احکامِ شرعیہ میں معانی کا اعتبار ہے، الفاظ کا نہیں۔ اسی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مطالبے کو بنی اِسرائیل کے مطالبہ کے سا تھ مشابہ اور مماثل قرار دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کی کوئی پروا نہیں کی کہ اس کا نام انھوں نے ذاتِ انواط رکھا ہے کیونکہ شرک کا کوئی بھی نام رکھ لیا جائے وہ شرک ہی رہے گا، چاہے مردوں کو پکارنے، اُن کے نام کی نذرو نیاز دینے اور اس کے نام کا جانور ذبح کرنے کو کوئی محبت اورتعظیم کا نام دے لے، یہ بہر حال شرک ہی کہلا ئے گا۔ اِسی پر دوسرے اعمال کو قیاس کیاجا سکتا ہے۔ الحجر االاسود کے بارے میں صحیح بخاری میں فقط اسی قدر روایت ہے کہ: ’’حضرت عمر ابن الخطاب رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ وہ حجر اسود کے پاس آئے اور فرمانے لگے۔ میں جانتا ہوں کہ تو محض ایک پتھر ہے نہ نفع دے سکتا ہے نہ نقصان۔ اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے نہ دیکھا ہوتا تو ہرگز بوسہ نہ دیتا۔‘‘ اس کے آگے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا جو ارشاد اوپر پہلی پوسٹ میں نقل کیا گیا ہے، وہ ثابت نہیں ہے۔ امام ذہبی رحمہ اللہ نے حاکم کی اس روایت کو ساقط قرار دیا ہے۔ اور بے شک دین وہی ہے جو ثابت ہو۔ ورنہ کوئی بھی شخص حضرت علی رضی اللہ عنہ کا نام لے کر کچھ بھی کہہ ڈالے اور اسے دین تسلیم کر لیا جائے تو شریعت کا حلیہ کیسا بگڑے گا ، اہل علم پر مخفی نہیں۔ امام ابن حجر رحمہ اللہ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قول میں یہ اشارہ ہے کہ امور دین میں شارع علیہ السلام کی بات ہی قابل قبول ہے اور جن باتوں کی حقیقت معلوم نہ ہو سکے، ان میں بھی سر تسلیم خم ہونا چاہئے۔ اور اتباع نبی کا یہ اہم اصول و قاعدہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے افعال بھی قابل اتباع ہیں خواہ ان کی حکمت معلوم نہ ہو۔ ابن ابی شیبہ اور دار قطنی نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بھی یہی الفاظ نقل کئے ہیں کہ آپ نے بھی حجر اسود کے استلام کے وقت یوں فرمایا ”میں جانتا ہوں کہ تیری حقیقت ایک پتھر سے زیادہ کچھ نہیں۔ نفع یا نقصان کی کوئی طاقت تیرے اندر نہیں ہے۔ اگر میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں بھی تجھ کو بوسہ نہ دیتا۔“ بعض محدثین نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بھی یہ الفاظ نقل فرمائے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود کو بوسہ دیتے ہوئے فرمایا ”میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے جس میں نفع ونقصان کی تاثیر نہیں ہے۔ اگر مجھے میرے رب کا حکم نہ ہوتاتو میں تجھے بوسہ نہ دیتا۔“ حجر اسود کے متعلق حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ایک فرمان کچھ یوں ہے : والله ليبعثنه الله يوم القيامة له عينان يبصر بهما ولسان ينطق به يشهد على من استلمه بحق خدا کی قسم، اللہ اس (حجر اسود) کو روزِ قیامت آنکھیں عطا کرے گا جو انہیں دیکھیں گی، اور زبان عطا کرے گا جو اُن کے حق میں شہادت دیں گی جنھوں نے اُس کے ساتھ صحیح سلوک کیا ہے۔ قال ابو عيسى هذا حديث حسن۔ سنن الترمذي ، كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه وسلم ، باب ما جاء في الحجر الأسود حضرت علی رضی اللہ عنہ کا یہ قول حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قول کا مخالف نہیں ہے۔ کیونکہ اس قولِ علی (رضی اللہ عنہ) میں حجر اسود کے بروزِ قیامت "گواہی" دینے کا ذکر ہے۔ ظاہر ہے جو مسلمان جیسا عمل کرے گا ، ویسی ہی گواہی ملے گی۔ اگر نیک عمل ہوگا تو حجر اسود کی گواہی پر (بروز قیامت) فائدہ اٹھائے گا اور اگر برا عمل ہوگا تو نقصان۔ دوسری بات یہ کہ، قیامت کے روز تو راستوں میں موجود عام شجر حجر کا گواہی دینا بھی احادیث سے ثابت ہے۔ تو کیا اس بنیاد پر ہم راستے میں پڑے پتھروں کو بھی نفع نقصان کا مالک سمجھنا شروع کر دیں؟ تیسری بات یہ کہ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرما رہے ہیں کہ تو صرف پتھر ہے جو نفع نقصان کا مالک نہیں؟ کیا کوئی شخص حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی اس بات کا انکار کر کے یہ کہہ سکتا ہے کہ نہیں جی الحجر الاسود صرف پتھر نہیں ہے اور نفع نقصان کا مالک ہے؟ اور ۔۔۔۔۔۔ رسول کریم کا فرمان تھا کہ : والبركة من الله (برکت تو اللہ ہی کی طرف سے ہوتی ہے) صحيح بخاري ، كتاب المناقب ، باب : علامات النبوة في الاسلام ، حدیث : 3620 اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے وابستہ تبرکات اور اقوال و افعال ، اماکن و جمادات ، زمان و اوقات اور کھانے پینے کی چیزیں ۔۔۔ بذات خود شفا نہیں بلکہ شفا کا سبب ہیں اور شفاء پہنچانے والا تو اللہ اکیلا ہے وہی خیر و بھلائی سے نوازتا ہے اور اسی لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرماتے تھے (بروایت حضرت علی رضی اللہ عنہ) والخير كله في يديك [(اے اللہ!) تمام بھلائیاں تیرے ہی ہاتھ میں ہیں] صحیح مسلم کتاب اللہ وسنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں اس حقیقت کو اچھی طرح ذہن نشین کرلینا چاہیے کہ مصنوعات الٰہیہ میں جو چیز بھی محترم ہے وہ بالذات محترم نہیں ہے بلکہ پیغمبر اسلام کی تعلیم وارشاد کی وجہ سے محترم ہے۔ اسی کلیہ کے تحت خانہ کعبہ، حجر اسود، صفا مروہ وغیرہ وغیرہ محترم قرار پائے۔ اسی لیے اسلام کا کوئی فعل بھی جس کو وہ عبادت یا لائق عظمت قرار دیتا ہو، ایسا نہیں ہے جس کی سند سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے سے حق تعالیٰ تک نہ پہنچتی ہو۔ اگر کوئی مسلمان ایسا فعل ایجاد کرے جس کی سند پیغمبر علیہ السلام تک نہ پہنچتی ہوتو وہ فعل نظروں میں کیسا بھی پیارا اور عقل کے نزدیک کتنا ہی مستحسن کیوں نہ ہو، اسلام فوراً اس پر بدعت ہونے کا حکم لگا دیتا ہے اور صرف اس لیے اس کو نظروں سے گرادیتا ہے کہ اس کی سند حضرت رسول خدا تک نہیں پہنچتی بلکہ وہ ایک غیر ملہم انسان کا ایجاد کیا ہوا فعل ہے۔ اسی پاک تعلیم کا اثر ہے کہ سارا کعبہ باوجود یکہ ایک گھر ہے حجر اسود اور رکن یمانی وملتزم پر پیغمبراسلام علیہ السلام نے جو طریق استلام یا چمٹنے کا بتلایا ہے مسلمان اس سے انچ بھر آگے نہیں بڑھتے۔ نہ دوسری دیواروں کے پتھروں کو چومتے ہیں۔ کیونکہ مسلمان مخلوقات الٰہیہ کے ساتھ تعلقات قائم کرنے میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد وعمل کے تابع ہیں۔ تبرک کی شرعی حیثیت، اقسام وغیرہ کے موضوع پر درج ذیل کتاب کا مطالعہ بہتر رہے گا: جائز و ناجائز تبرک
__________________
نہیں، اے محمدؐ، تمہارے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں،پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی نہ محسوس کریں، بلکہ سر بسر تسلیم کر لیں۔ [النساء: 65] |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (15-02-12), فاروق سرورخان (16-01-12), نبیل خان (17-01-12), عبداللہ حیدر (10-02-12) |
|
|
#8 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
شکریہ شکاری بھائی۔۔۔۔۔ایسا ہی ہے بے شک۔ اور ایسا نہی ہے کہ جو کچھ آس پاس ہورہا ہے وہ سب درست اور صحیح ہے۔ ’’میں اہل تشیع کی طرف سے لکھ رہا ہوں‘‘ ۔ لیکن اگر ’علم مبارک‘ کی بات کریں تو ۔۔۔ رسول اللہ ص نے یوں تو کئی جگہ اسلام کے لشکروں کو علم دیا لیکن خیبر کی بات کرتے ہیں جب رسول اللہ ص نے خیبر میں علم دینے کی بات کی تو تمام صحابہ نے یہ تمام رات یہ ارزو کی کہ علم اسے مل جائے ۔ یعنی ’علم‘ اٹھانے کی آرزو کرنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نہ صرف یہ ہے سنت رسول ص ہوا بلکہ سنت صحابہ بھی ہوا؟ اگے روز رسول اکرم ص ’علم مبارک‘ آٹھائے اپنے خیمے سے باہر آئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یع نی علم آٹھانا سنت رسول ص ہوا ؟ رسول اکرم ص ’علم مبارک ‘ کو آٹھائے ہوئے صحابہ اکرم رض کی طرف چلے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی ’علم مبارک‘ کو نہ صرف اٹھایا بلکہ خیمے سے باہر آئے اور پھر ’علم مبارک‘ لے کر چلے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی علم آٹھانا ۔۔۔گھر سے باہر آنا۔۔۔۔اسے لے کر چلنا سنت رسول ص ہوا ؟ پھر مولا علی علیہ سلام کو ’علم مبارک‘ دیا۔۔ صحابہ اکرم رض نے مبارک باد دی ۔۔۔۔۔۔۔یعنی رسول اکرم ص کی موجودگی میں علم آٹھانا اور اس پر مبارک باد دینا سنت رسول ص ہوا ؟ اب ان باتوں پر بنا سمجھے اعتراض کرنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔کیا کہلائے گا ؟؟ یہ نہ کہیئے گا کہ وہ ’علم مبارک‘ کوئی اور تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔و رنہ کوئی یہ کہہ دئے گا کہ حضرت ابراھیم علیہ سلام نے جو دنبہ ذبح کیا تھا وہ بھی کوئی اور تھا۔۔۔۔ جس عمل کی رسول اکرم ص سے سند ملتی ہو اس پر عمل کرنا سنت رسول ص ہی ہے اور ساتھ ساتھ یہ بھی کہ ہمارے پاس آل محمد علیہ سلام کے زریعے رسول اللہ ص کی بہت سی آحادیث موجود ہیں۔ تو ایسے میں کوئی ’علم مبارک‘ اٹھانے پر اعتراض کرئے تو ہمیں کیا سمجھنا چاہیے ؟؟ Last edited by حیدر Rehan; 16-01-12 at 04:29 PM. |
|
|
|
|
|
|
#9 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 439
کمائي: 10,419
شکریہ: 340
435 مراسلہ میں 1,429 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() |
شکاری بھائی اگر میں یہ کہوں کہ کس چیز کے بدعت ہونے پر اپ اتنی لمبی تمھید باندھی ہے تو یہ زیادہ مشکل بات ہے ہوسکتا ہے کہ اپ نے کئی ہزار باتوں اور اعمال کے بدعت ہونے پر یہ تحریر چسپاں کی ہو۔
اس لیے جو شئے سب سے پہلے زہن میں آئی میں نے اس کا پوچھ لیا کہ لگے ہاتھوں اس مسلے سے تو نکلیں کہیں اپ کے زہن میں ’علم مبارک‘ کے متعلق تو ایسی سوچ نہی ہے نا؟ |
|
|
|
| حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا گیا | rana ammar mazhar (15-02-12) |
|
|
#11 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 439
کمائي: 10,419
شکریہ: 340
435 مراسلہ میں 1,429 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (15-02-12), حیدر Rehan (17-01-12) |
|
|
#12 |
|
Senior Member
![]() |
پھر تو مختصرا لکھ دیتے کہ
’حجرِ اسود اور شعائر اللہ کی تعظیم‘ کے سلسلے میں جو حدیث مراسلہ کا عنوان بنائی گئی ہے وہ مکمل حوالہ ہے اور وہ درست ہے۔ |
|
|
|
| حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا گیا | rana ammar mazhar (15-02-12) |
|
|
#13 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 439
کمائي: 10,419
شکریہ: 340
435 مراسلہ میں 1,429 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
صحیحبخاری کی درج ذیل حدیثبالکل درست حوالہ ہے اور صحیحہے:
توصرف ایک پتھر ہے اور مجھے پتا ہے کہ تجھ میں نفع یا نقصان پہنچانے کی کوئی طاقت نہیں ہے۔ اور اگر میں نے رسول ﷺ کو نہ دیکھا ہوتا کہ وہ تجھے چوم رہےہیں، تو میں تجھے کبھی نہ چومتا۔ لیکن اس روایت کو ادھورا قرار دے کر مکمل واقعہ میںحضرت علی رضی اللہ عنہ کا جو جواب اور واقعہ ترمذی، نسائی، بیہقی ، طبرانی وغیرہ کے حوالہ کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔ اس کا ثبوت موجود نہیں ہے۔ اور اسے امام ذہبی رحمہ اللہ نے ساقط قرار دیا ہے۔ اس کی وضاحت میںنے اپنی پوسٹمیںکر دی تھی۔ نیز اس پر کچھ سوالات وارد کئے گئے تھے مثلاً کہ بروز قیامت تو عام حجر و شجر کا گواہی دینا بلکہ ہر شخص کے اپنے اعضإء(، علاوہ زبان، کا گواہی دینا بھی احادیثسے ثابت ہے تو پھر جس طرحالحجر الاسود کی گواہی سے آپ اسے نفع نقصان کا مالک سمجھا رہے ہیں، اسی طرحہم راستے میںپڑے عام حجر و شجر، اپنے اعضاء وغیرہ کو بھی نفع نقصان کا مالک کیوںنہ قرار دے دیں؟ اسی طرح، ایک سوال یہ تھا کہ کیا آپ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی اس بات سے اختلاف کرتے ہیںکہ یہ تو صرف ایک پتھر ہے جو نہ نفع دے سکتا ہے نہ نقصان؟ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#15 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 439
کمائي: 10,419
شکریہ: 340
435 مراسلہ میں 1,429 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اگر یہ اختلاف دلیل کے ساتھ قائم ہے۔ تو دلیل عنایت کر دیجئے۔ شکریہ!
|
|
|
|
| شکاری کا شکریہ ادا کیا گیا | rana ammar mazhar (15-02-12) |
![]() |
| Tags |
| پاکستان, وفا, واقعات, قران, نظر, مکہ, مکمل, مولا علی, مسجد, آج, ایمان, اللہ, اسلام, بہترین, تلاش, جواب, جلد, حکم, حدیث, حضرات, زندگی, عبادت, صحابہ, صحابی, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہا | سیپ | عورت کہانی | 1 | 09-02-11 11:55 PM |
| ::::: حدیث کی تعریف اور اقسام کا تعارف ::::: آپ کے سوال اور ان کے جواب | ابن یعقوب | اقسام حدیث | 16 | 24-05-10 10:03 PM |
| پرسنل کمپیوٹر ٹیکنالوجیز میں جدید ترین تھرڈ جنریشن کا انٹل وی پرو سوئیٹ متعارف | ابن جلال | کمپیوٹر کی باتیں | 2 | 24-09-08 11:10 PM |
| ::::: آئیے اپنے عقیدے کا جائزہ لیں ::: سوال 9 ::: اللہ تعالیٰ کی عِبادت کرت | عادل سہیل | ایمان | 0 | 08-04-08 07:01 PM |
| ::: آئیے اپنے عقیدے کا جائزہ لیں ::: سوال 3 ::: اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو کیوں بھیجا ؟ ::: | عادل سہیل | اسلامی عقیدہ | 4 | 19-03-08 06:14 PM |