| تاریخ اور فلسفہ تاریخ اور فلسفہ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: متحدہ عرب امارات
عمر: 22
مراسلات: 6,348
کمائي: 154,210
شکریہ: 4,887
4,398 مراسلہ میں 11,054 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
(Thales of Miletus)
بھری گرمیوں کا دن تھا، دو متحارب بادشاہوں کی فوجیں آپس میں برسرِ پیکار تھیں، اس دن سینکڑوں لاشیں گر چکیں تھیں۔ یہ دونوں فوجیں پچھلے پندرہ سالوں سے آپس میں خون کی ندیاں بہا رہی تھیں کبھی جنگ رک جاتی تھی اور کبھی خون آشام تلواریں ہزاروں جوانوں کو موت کی ابدی نیند سلا دیتی تھیں۔ اور پچھلے پانچ سالوں سے تو بغیر کسی وقفے سے جنگ اور موت کے دیوتا ہی ان کی پرستشوں کے محور تھے۔ کہ یکا یک آسمان نے اپنا رنگ بدلنا شروع کیا۔ ایک عفریت تھی کہ سورج دیوتا کو نگلے جا رہی تھی۔ روزِ روشن، آہستہ آہستہ تاریکی میں بدلنا شروع ہوا، دیکھتے ہی دیکھتے وہ عفریت مکمل طور پر سورج دیوتا کو نگل گئی، لوگوں کو دن دیہاڑے ستارے نظر آنے لگے اور بھری دوپہر میں یوں محسوس ہونے لگا کہ آدھی رات ہے۔ ان متحارب لشکروں نے اپنے سورج دیوتا کا یہ حشر ہوتے دیکھا تو تلواریں، نیزے، بھالے پھینک، سجدے میں گر گئے اور مناجات پڑھنے لگے۔ سورج دیوتا کو آہستہ، آہستہ اس عفریت سے رہائی ملی اور وہ دوبارہ اپنی کرنوں سے دنیا کو ضیاء پاش کرنے لگا۔ لیکن اب دونوں لشکروں کے دل بدل چکے تھے، انہوں نے لڑنے سے انکار کر دیا، انہوں نے کہا کہ دیوتا ان کی خونریزیوں کی وجہ سے ان سے ناراض ہو گئے تھے، اسی وجہ سے سورج دیوتا کو یہ سزا ملی، لہذا یہ موت کا کھیل بند کر کے امن سے رہنا چاہئیے۔ جب پیادے ہی لڑنے کو تیار نہ تھے تو شاہ و وزیر بھلا کیا کرتے سو ان دونوں بادشاہوں نے آپس میں امن کا معاہدہ کیا اور عوام ہنسی خوشی رہنے لگے۔ یہ کوئی دیومالائی کہانی نہیں ہے بلکہ قدیم تاریخ کا ایک ایسا منفرد واقعہ ہے جس کا انتہائی صداقت سے تعین ہو چکا ہے۔ یہ ہمارے مروجہ اور مستعمل کیلنڈر کے مطابق 28 مئی 585قبل مسیح کا دن تھا کہ جس دن سورج گرہن لگا، اور یہ دونوں فوجیں قدیم سلطنتوں لیڈیا اور میڈیا کی تھیں، موجودہ دور میں یہ دونوں علاقے، بالترتیب ترکی اور ایران کے حصے بنتے ہیں کہ جو ازمنہء قدیم سے ہی آپس میں برسرِ پیکار رہے ہیں۔ یہ تو شاید مظاہر فطرت کا پہلا واقعہ تھا جسنے ان لوگوں کی پر خون دنیا میں امن پیدا کر دیا۔ لیکن اس واقعے کی اہمیت ایک اور وجہ سے اس بھی زیادہ اہم ہے۔ جس وقت یہ جنگ سورج گرہن کی وجہ سے رکی، اسی وقت لوگوں نے میدانِ جنگ سے ملحقہ ایک شہر میں ایک آدمی کو گھیرے ہوا تھا اور حیران و پریشان تھے کہ اس شخص کو اس سورج گرہن کا کیسے پتہ چل گیا کہ یہ دیوتا بھی نہیں اور اس نے کافی عرصہ پہلے اس سورج گرہن کی پیشن گوئی کر دی تھی۔ ناسا کے سائنسدانوں نے نہ صرف اس سورج گرہن والے واقعے کی تاریخ پر مہرِ تصدیق ثبت کردی ہے، بلکہ اس بات کو بھی مانا ہے کہ ایشیائے کُوچک کے ان علاقوں میں جہاں پر یہ لڑائی جاری تھی، یہ ایک مکمل سورج گرہن تھا۔ یہ پیشن گوئی کرنے والا شخص، تھے لیز تھا جو متفقہ طور پر دنیا میں پہلا فلسفی مانا جاتا ہے۔ علمِ نجوم جو بعد میں ترقی کرکے علمِ ہیت بنا، دنیا کے قدیم ترین علموں میں سے ہے۔ بابل اور مصر کے لوگ آج سے ہزاروں سال پہلے اسکے عالم تھے۔ اسکی ابتدا تو شاید اس وقت ہوئی ہوگی جب انسان نے اپنی تاریک راتوں میں سفر کرنے کیلیے ستاروں کی طرف دیکھا ہوگا اور سینکڑوں، ہزاروں سالوں کے مشاہدے نے اسے سکھلا دیا کہ آسمان میں کچھ ستارے ایسے بھی ہیں، جو ہمیشہ ایک ہی سمت کا تعین کرتے ہیں اور انسے دوسری سمتوں کا تعین بآسانی ہو سکتا ہے، لیکن اس علم کو ترقی اس وقت ملی جب یہ معبدوں کے پروہتوں کے ہاتھ میں آیا۔ اس زمانے کے لوگ اور بہت سارے مظاہرِ فطرت کے ساتھ چاند، سورج اور ستاروں کی بھی پرستش کرتے تھے اور پروہت چونکہ دیوتاؤں کے نائب پوتے تھے اور انکی بات ہی دیوتاؤں کی بات ہوتی تھی، لہذا یہ ان پروہتوں کی مجبوری تھی کہ وہ اپنے آپ کو اپنے دیوتاؤں کے حالات سے با خبر رکھیں۔ بابل اور مصر کے لوگ آج سے ہزاروں سال پہلے علم نجوم میں کافی ترقی یافتہ تھے۔ ان پروہتوں نے جب اتنہائی بلند و بالا معبدوں کے اونچے اونچے چبوتروں پر بیٹھ کر تاریک راتوں میں آسمان کے ستاروں کا سینکڑوں سالوں تک مشاہدہ کیا اور انکا ریکارڈ رکھنا شروع کیا تو زائچے بن گئے، انہوں نے نہ صرف ستاروں کی گردش اور مختلف موسموں میں انکی آسمان میں پوزیشن کو نوٹ کیا بلکہ وہ اس بات پر بھی قادر ہوگئے کہ ستاروں کی پوزیشن کے متعلق پیشن گوئیاں کر سکیں اور اسی سے وہ پروہت سورج گرہن اور چاند گرہن کے متعلق پیشن گوئیاں کیا کرتے تھے۔ یہ ایک انتہائی سائینٹفک علم تھا جو کہ مشاہدہ پر مشتمل تھا لیکن ان پروہتوں نے اس پر طلسم و اسرار کے دبیز پردے ڈالے ہوئے تھے۔ وہ عوام کو گرہنوں کی پیشن گوئی کرکے نہ صرف مرعوب کرتے تھے بلکہ ان کو یہ کہہ کر کہ دیوتا ان سے ناراض ہوگئے ہیں، قربانیوں اور مناجات پر مجبور بھی کردیتے تھے۔ تھےلیز ایشیائے کوچک کے بحیرہ روم کے ساحل پر ایک یونانی نوآبادی آئیونیا کے شہر مائیلیٹس کا باشندہ تھا۔ اسکے نسل کے بارے میں مورخ آجتک متفق نہیں ہوسکے، بہت سارے مؤرخین کا کہنا ہے کہ وہ یونانی الاصل تھا لیکن قدیم اور نامور یونانی مؤرخ ہیروڈوٹس کا کہنا ہے کہ وہ فونیشی الاصل یعنی ایشیائی تھا۔ تھے لیز 624 ق-م میں مائیلیٹس میں پیدا ہوا اور 546 ق۔م میں وہیں وفات پا گیا۔ تھے لیز کا عہد تاریخ کا ایک انتہائی اہم دور ہے، یہ وہ زمانہ تھا جب علم کا مرکز ایشیا سے مغرب کی طرف منتقل ہو رہا تھا۔ قدیم اور عظیم مصری تہذیب اپنی آخری سانسیں لے رہی تھی اور میسوپوٹیمیا کی تہذیب، ایرانی فاتحین کے ہاتھوں تخت و تاراج ہو رہی تھی، گو ابھی دم خم باقی تھا۔ آئیونیا کی شہری ریاستوں کے مصر اور بابل کے ساتھ دوستانہ اور تجارتی روابط تھے اور انہی خوشگوار تعلقات کی وجہ سے تھےلیز کو اپنی جوانی میں ان علاقوں کے سفروں کا مواقع ملے۔ بابل کے سفر کے دوران اس نے وہاں سے علم نجوم یا علم ہیت سیکھا تھا۔ اسکا مصر کا سفر بہت یادگار ہے۔ مصر کی تہذیب ہزاروں سال پرانی ہے، اور جب تھےلیز نے اہرامِ مصر دیکھے تو انکو تعمیر ہوئے بھی تقریبا دو ہزار سال ہوچکے تھے۔ مصر میں تھےلیز نے جیومیڑی اور ریاضی کا علم حاصل کیا۔ مصر میں اس کا ایک واقعہ تو بہت ہی مشہور ہے۔ مصر میں قیام کے دوران اسکے علم کا شہرہ ہو چکا تھا۔ اہلِ مصر نے اس سے پوچھا کہ تم بتاؤ ہمارے اہرام کی اونچائی کتنی ہے کہ یہ بات ان کیلیے ایک چیستان تھی۔ تھےلیز نے کہا یہ تو کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ اس نے ان سے کہا کہ ریگستان میں ایک چھڑی گاڑ دو، جب چھڑی کا سایہ اسکی اصل لمبائی کے برابر ہوگیا تو تھےلیز نے کہا اب اہرام کا سایہ ماپ لو، وہ بھی یقینا انکی اصل اونچائی کے برابر ہوگا، یہ بظاہر سامنے کی بات نظر آتی ہے لیکن تھےلیز نے یہ بات کرکے یقیناّ اہلیانِ مصر کو ششدر کر دیا ہوگا۔ مصر میں اسکے قیام کے دوران اسکی دریائے نیل کی طغیانی، کہ جس پر مصر کا دارومدار آج بھی ہے، کے بارے میں تحقیقات بھی کافی مشہور ہیں۔ تھےلیز کی کوئی تحریر باقی نہیں ہے اور بعض مؤرخین کے نزدیک اس نے کوئی کتاب لکھی بھی نہیں تھی، اس بات پر بہرحال مؤرخین و فلاسفہ کا اختلاف ہے۔ تھےلیز کے فلسفے کو دوام ارسطو نے اپنی مختلف کتابوں میں بیان کرکے بخشا ہے۔ ارسطو نے نہ صرف اسکے فلسفے پر بحث کی ہے بلکہ اسکے حالاتِ زندگی کا بھی ذکر کیا ہے۔ اپنی کتاب سیاسیات میں ارسطو نے اسکے علمِ نجوم میں مہارت کا قصہ بیان کیا ہے۔ ہوا یوں کہ لوگ اسکو غربت کا طعنہ مارا کرتے تھے کہ یوں تو بڑے عالم فاضل بنے پھرتے ہو اور بھوکوں مر رہے ہو، اسنے کہا، اچھا اگر یہ بات ہے تو پھر دیکھنا ۔اس نے علم ہیت میں اپنی مہارت سے اندازہ لگایا کہ اس سال گرما میں موسم کچھ اسطرح کا ہوگا کہ زیتون کی فصل بہت اچھی ہوگی، لہذا اسنے مائیلیٹس اور اسکے ملحقہ علاقوں کے زیتون کا تیل نکالنے والے تمام کارخانے اپنے نام بُک کروالیے۔ یہ سردیوں کا موسم تھا، کارخانے بند پڑے تھے اور اسکے مقابل کوئی بولی لگانے والا بھی نہیں تھا، لہذا اسے بڑے مناسب داموں پر یہ کارخانے مل گئے۔ جب موسمِ گرما میں زیتون کی فصل آئی تو وہ واقعی بہت شاندار تھی، اب ہر کسی کو تیل نکالنے کیلیے کارخانے درکار تھے، تھےلیز نے اپنی من مرضی کے نرخوں پر وہ کارخانے چلائے اور کثیر سرمایہ کمایا اور لوگوں سے کہا کہ دیکھو اگر فلسفی اور علما دولت کمانا چاہئیں تو بہت کما سکتے ہیں لیکن انکے مقاصد اور طرح کے ہوتے ہیں، یہ تو ارسطو کی بیان کردہ کہانی تھی، اس واقعہ پر ایک ستم ظریف فلسفی نے یہ اضافہ کیا کہ اس تمام قصے میں نہ تو علمِ نجوم میں مہارت درکار تھی اور نہ ہی زیتون کی بہت اچھی فصل کی، بلکہ یہ تو سیدھا سادا تاجرانہ اجارہ داری کا واقعہ ہے۔ اسکا ایک اور واقعہ بھی مشہور ہے ایک دفعہ شام کو وہ کہیں جا رہا تھا اور چلتے چلتے آسمان میں ستاروں کا مشاہدہ بھی کر رہا تھا کہ ایک گڑھے میں گر گیا، اس پر وہاں پر موجود لڑکیوں نے اسکی خوب سبکی کی کہ آسمانوں کی خبر تو رکھتا ہے اور پاؤں کی خبر نہیں۔ تھےلیز کو دنیا میں متفقہ طور پر پہلا فلسفی اور سائنسدان مانا جاتا ہے اور اسکے ساتھ، فزکس جیومیٹری اور ریاضی کا موجد بھی، جیومیٹری کو مصریوں نے بہت پہلے ترقی دی تھی اور تھےلیز نے یہ علم انہی سے سیکھا تھا لیکن اس وقت تک یہ علم بغیر کسی قواعد و ضوابط کے تھا، تھےلیز نے سائنسی بنیادوں پر جیومیٹری کے قواعد و ضوابط منظم کیے اور تھیورم پیش کیے جو بعد میں اقلیدس نے بیان کیے اور آج تک ساری دنیا میں پڑھائے جاتے ہیں۔ فلسفے اور سائنس کا بانی اس لحاظ سے کہ وہ پہلا آدمی تھا جس نے اس کائنات کے وجود میں آنے کی وجوہات کی علمی اور عقلی توجیہات بیان کیں۔ اس سے پہلے جب بھی کوئی سوال پوچھتا تھا کہ دنیا کیسے وجود میں آئی تو ہر طرف سے یہی جواب ملتا تھا کہ اس دیوی اور دیوتاؤں نے بنایا ہے۔ اس نے آفرینشِِ کائنات کے بارے میں مادی اسباب کا فلسفہ بیان کیا اور کہا کہ دنیا پانی سے وجود میں آئی ہے۔ اس نے اور بھی نظریات پیش کیے جو آج کی دنیا کو بچگانہ معلوم ہوتے ہیں مثلاّ یہ کہ زمین چپٹی ہے اور پانی کی سطح پر تیر رہی ہے اور کائنات دیوی دیوتاؤں سے بھری ہوئی ہے، لیکن تھےلیز کا تاریخ انسانیت میں یہ کارنامہ نہیں ہے کہ اس نے پانی کو بنیاد مانا بلکہ یہ ہے کہ اس نے علوم کو خرافاتی پردوں کی دبیز تہوں سے نکال کر خرد کی بات کی اور انسان کو یکایک خرافات اور اسطوریات کی دنیا سے نکال کر خرد افروز تحریک کی بنیاد رکھی۔ بقولِ غالب، میں چمن میں کیا گیا گویا دبستان کھل گیا۔ تھےلیز کے بعد یکے بعد دیگرے بہت سارے فلسفی آسمانِ علم و عقل پر نمودار ہوئے اور اپنے اپنے نظریات پیش کیئے۔ جن میں سب سے پہلے اسکا شاگردِ رشید اناکسی مینڈر تھا، اس نے کہا کہ یہ کائنات پانی نے نہیں بنی بلکہ ایک لامحدود زندہ شے ہے۔ یہی اناکسی مینڈر تھا جس نے ڈارون سے دو ہزار سال پہلے نظریہِ ارتقا پیش کیا اور اسکی ایک دلیل یہ دی کہ انسان کا بچہ پیدا ہوتے ہی، دوسرے حیوانات کی طرح اپنی خوراک تلاش نہیں کرسکتا اور اسکا دودھ پینے کا عرصہ بھی زیادہ ہوتا ہے،اسلیے اگر انسان شروع ہی سے ایسا ہوتا تو کبھی زندہ نہ رہ سکتا تھا، لہذا وہ حیوانوں ہی کی ترقی یافتہ شکل ہے۔ اسکے بعد اناکسی منیس نے کہا کہ گو کائنات کا اصول مادی ہے لیکن یہ ہوا سے بنی ہے۔ ہیریقلیتس نے کہا نہیں یہ کائنات آگ سے بنی ہے۔ ایمپےدکلیس نے عناصرِ اربعہ کا نظریہ پیش کیا اور کہا کہ کائنات آگ، ہوا، مٹی اور پانی سے مل کر بنی ہے اور یہی عناصرِ اربعہ کا نظریہ ہے جو آج تک مسلم صوفیوں میں مقبول ہے۔ ایک مفکر، سائنسدان، ریاضی دان، ماہر علمِ نجوم اور جیومیڑی ہونے کے ساتھ ساتھ، تھےلیز انجینیئر اور سیاست دان بھی تھا۔ ان دنوں مائیلیٹس ایک بہت بڑا تجارتی شہر تھا اور وہاں غلاموں کی بہت بڑی آبادی موجود تھی اور امیر و غریب طبقے کی کشمکش عروج پر تھی۔ پہلے عوام نے شہر پر قبضہ کیا اور طبقہ اشرافیہ کے بیوی بچوں کو قتل کردیا۔ اسکے بعد اشرافیہ نے شہر کو فتح کیا اور غلاموں کو زندہ جلا دیا۔ اسی طرح کے حالات ایشیائے کوچک کی دیگر یونانی شہری ریاستوں کے تھے۔ اس پر مستزاد یہ کے ایرانیوں نے میسوپوٹیمیا کے علاقے فتح کرنے کے بعد اپنا رخ مغرب کی طرف کیا ہوا تھا اور یہ شہری ریاستیں انکی مستقل زد میں تھیں۔ انہی حالات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے، تھےلیز نے شہری ریاستوں کی ایک فیڈریشن کا نظریہ پیش کیا جسکو پذیرائی نہ ملی۔ نطریے کو پذیرائی ملی ہو یا نہ، لیکن تھےلیز کو اپنی زندگی میں ہی بہت پذیرائی مل گئی تھی۔ عمر کے آخری حصے میں اسے عوام کی جانب سے سوفوس یا فلسفی اور حکیم کا خطاب مل چکا تھا۔ قدیم یونانیوں نے سقراط سے پہلے کہ سات دانشور آدمیوں کی فہرست میں اسے نمبر ایک کے درجے پر رکھا ہوا تھا۔ تھےلیز کے بہت سارے مقولے بھی مشہور ہیں۔ جیسے کسی نے اس سے پوچھا کہ خدا کیا ہے، اس نے کہا جس کی نہ ابتدا ہے اور نہ انتہا۔ لوگوں نے پوچھا، انسان امن و سکون اور انصاف کے ساتھ کیسے رہ سکتا ہے، تھےلیز نے کہا، اسطرح کہ ہم ہر وہ کام چھوڑ دیں جسکا دوسروں کو الزام دیتے ہیں۔ کسی نے کہا سب سے مشکل کام کیا ہے، اسنے کہا اپنے آپ کو جاننا۔ اور سب سے زیادہ آسان کام، کسی نے فورا پوچھا۔ "مشورہ دینا"، تھےلیز نے جواب دیا۔ |
|
|
|
| عدنان دانی کا شکریہ ادا کیا گیا | محمدخلیل (22-01-10) |
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
حوالہ عدنان بھائی حوالہ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#3 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,570
کمائي: 315,126
شکریہ: 25,210
16,389 مراسلہ میں 41,628 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ویسے فلسفہ ہے کیا؟ کسے فلسفہ کہتے ہیں؟ اس کے انسانوں کے لئے کیا فائدے ہیں؟
|
|
|
|
|
|
#4 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: متحدہ عرب امارات
عمر: 22
مراسلات: 6,348
کمائي: 154,210
شکریہ: 4,887
4,398 مراسلہ میں 11,054 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
راجہ بھائی اتنے بھولے بھی نہ بنو
یہی سوال ہم تم سے کرنے والے تھے |
|
|
|
|
|
#5 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,570
کمائي: 315,126
شکریہ: 25,210
16,389 مراسلہ میں 41,628 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بھائی مجھ سے سوال کر کے کیوں اپنا وقت ضائع کرنا ہے، کسی اہل علم سے پوچھیں تا کہ کوئی اچھا جواب آئے اور ہمیں بھی کچھ سیکھنے کو ملے
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
|
|
|
|
|
#6 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: متحدہ عرب امارات
عمر: 22
مراسلات: 6,348
کمائي: 154,210
شکریہ: 4,887
4,398 مراسلہ میں 11,054 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بھئی ہمارا علم بھی اتنا نہیں ۔۔۔ سیکھنے کیلئے تو ہیاں آئے ہے
|
|
|
|
|
|
#7 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
کمائي: 8,120,880,613,331
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
استادِ محترم محمد وارث صاحب کی تحریر ہے جو ان کے بلاگ پر میرے بلاگ پر اور اردو محفل پر موجود ہیں
عدنان بھائی اگر حوالے بھی دے دیا کریں تو بہت بہتر ہو گا شکریہ
__________________
ہمارے لیے دعا کریں ہمیں دعاؤں کی بہت ضرورت ہے پلیز پلیز پلیز
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا | نیلم خان (27-01-10), محمد علی75 (27-01-10) |
|
|
#8 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,904
کمائي: 561,067
شکریہ: 25,573
10,451 مراسلہ میں 38,586 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
شافریشہ بھائ کی بات سے متفق ہوںحوالہ ضروری ہے
|
|
|
|
| نیلم خان کا شکریہ ادا کیا گیا | محمد علی75 (27-01-10) |
|
|
#9 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: متحدہ عرب امارات
عمر: 22
مراسلات: 6,348
کمائي: 154,210
شکریہ: 4,887
4,398 مراسلہ میں 11,054 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ٹھیک ہے جناب عالی
آیندہ خوالہ ضرور دیا کرو گا |
|
|
|
|
|
#10 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: متحدہ عرب امارات
عمر: 22
مراسلات: 6,348
کمائي: 154,210
شکریہ: 4,887
4,398 مراسلہ میں 11,054 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ٹھیک ہے جناب عالی
آیندہ خوالہ ضرور دیا کرو گا |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| کتابوں, وزیر, قواعد, قصہ, نیند, نظر, مکمل, موت, موجودہ, منتقل, معلوم, آج, آدمی, ایران, الزام, انسان, امیر, بچوں, تلاش, جواب, خدا, دیکھو, سیاست, سورج گرہن, ستارے |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| ایکسل کی شیٹس کو جوڑنا | ارشد کمبوہ | Ask Experts ماہرین کی رائے | 2 | 21-01-11 01:19 PM |
| سریز کے آغاز سے ہی سٹہ باز ذوالقرنین کو گھیرنے کیلئے سرگرم تھے | مزمل فاروق | خبریں | 1 | 09-11-10 11:04 PM |
| گریز شب سے سحر سے کلام رکھتے تھے | پاکستانی | نوشی گیلانی | 4 | 14-10-10 08:44 AM |
| بل گیٹس میرے پاس آیا اور بولا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ | ghanmi | قہقہے ہی قہقے | 4 | 28-07-09 08:40 PM |
| جسٹس افتخار کرپٹ تھے ، بعض جج دوسرے ریاستی ستونوں سے ٹکرارہے تھے۔۔۔ مشرف | محمدعدنان | خبریں | 0 | 12-11-07 09:58 AM |