| تاریخ اور فلسفہ تاریخ اور فلسفہ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() |
تابوت سکینہ مسلمانوں کے لئے صرف ایک صندوق جتنی اہمیت رکھتا ہے اور قرآن میں اس کے بارے میں صرف یہ بیان کیا گیا ہے کہ اسکو اس وقت فرشتوں نے اٹھایا ہوا ہے مزید اسکے بارے میں قرآن اور حدیث میں خاموشی ہے - لیکن تابوت سکینہ یہودی مزہب میں بہت اہمیت کا حامل ہے اور اسے انتہائ مقدس سمجھا جاتا ہے- عیسائیت میں بھی یہ اہمیت کا حامل ہے اور اسکا ذکر انکی کتابوں میں بھی ملتا ہے - یہودیوں اور عیسائیوں کے نظریے کے مطابق تابوت سکینہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے خداکے کہنے پر بنایا تھا اور اس میں وہ پتھر کی لوحیں لاکر رکھیں تھیں جو انکو خدا نے کوہ سینا پر دی تھیں اور جن میں یہودی مزہب کی تعلیمات بیان کی گئ تھیں- مزید یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس میں حضرت موسی کا اعصا، اور من بھی رکھا گیا تھا جو کہ بنی اسرایئل کے لوگون کے لئے اللہ تعالی نے آسمان سے نازل کیا تھا - یہ بہت مقدس تابوت شمار کیا جاتا تھا اورہمیشہ مزہبی رہنما اسکو اٹھایا کرتے تھے اور اسکی حفاظت کے لئے فوج کا ایک دستہ بھی ہمیشہ ساتھ رہتا تھا نیز یہ بنی اسرائیل کے نزدیک فتح اور برکت کی علامت تھا- اسکو جنگوں کے دوران لشکر سے آگے رکھا جاتا تھا اور یہ سمجھا جاتا تھا کہ اس تابوت کی برکت کی وجہ سے جیت ہمیشہ بنی اسرایئل کی ہی ہو گی - جب بنی اسرائیل اللہ کے احکامات کی نافرمانی کرنے لگے اور کھلم کھلا وہ کام کرنے لگے جن سے اللہ نے انہیں منع کیا تھا تو یہ تابوت ان سے ایک جنگ کے دوران کھو گیا اور انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا- یہ تابوت حضرت طالوت کے زمانے میں واپس مل گیا اور اسی بارے میں قرآن میں بھی ارشاد ہے،"ان لوگوں سے انکے نبی نے کہا کہ طالوت کے بادشاہ ہونے کی علامت یہ ہے کہ تمہارے پاس وہ صندوق واپس آ جائے گا جس میں تمہارے رہ کی طرف سے تسکین قلب کا سامان ہے اور وہ کچھ اشیاء بھی ہیں جو حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون چھوڑ گئے تھے اسکو فرشتے اٹھا کر لائیں گے اور بلاشبہ اسمیں تمہارے لئے بڑی نشانی ہے اگر تم ایمان رکھتے ہو "- یہ تابوت جب تک مشرکین کے پاس رہا تب تک اسکی وجہ سے ان پر مشکلات نازل ہوتی رہیں اور آخر کار تنگ آکر انہوں نے اسے ایک بیل گاڑی پر رکھ کر اپنے علاقے سے باہر نکال دیا اور فرشتوں نے اس بیل گاڑی کو ہنکا کر واپس بنی اسرایئل تک پہنچا دیا اور غالبا"اسی بات کی طرف قرآن پاک میں بھی اشارہ کیا گیا ہے - حضرت داؤد کے زمانے تک اس تابوت کو رکھنے کے لئے کوئ خاص انتظام نہیں تھا اور اسکے لئے پڑاؤ کی جگہ پر ایک الگ خیمہ لگا دیا جاتا تھا- حضرت داؤد نے خدا کے حکم سے خدا کا گھر بنانا شروع کیا جو عین اس مقام پر ہے جہاں آج مسجد اقصیٰ موجود ہے-لیکن یہ عالی شان گھر آپ کے بیٹے حضرت سلیمان کے عہد میں مکمل ہوا اور اسکو ہیکل سلیمانی کے نام سے جانا جاتا ہے- اس گھر کی تعمیر کے بعدتابوت سکینہ کو یہاں پورے احترام کے ساتھ رکھ دیا گیا- اور اس طرح یہ مقام یہودیوں کا مقدس ترین مقام بن گیا - بعد کے زمانے میں ہونے والی جنگوں نے اس ہیکل کو بہت نقصان پہنچایا لیکن بابل کے بادشاہ بخت نصر نے اس کو مکمل طور پر تباہ کر دیا اور اسکو آگ لگا دی ، وہ یہاں سے مال غنیمت کے ساتھ ساتھ تابوت سکینہ بھی لے گیا تھا- اس تباہی کے نتیجے میں آج اصلی ہیکل کی کوئ چیز باقی نہیں ہے- ان تمام تباہیوں کے نتیجے میں تابوت سکینہ کہیں غائب ہو گیا اور اسکا کوئ نشان نہیں ملا- آج بھی بہت سارے ماہر آثار قدیمہ اور خصوصا"یہودی مزہب سے تعلق رکھنے والے ماہر اسکی تلاش میں سرکرداں ہیں تاکہ اسکو ڈھونڈ کر وہ اپنی اسی روحانیت کو واپس پا سکیں جو کبھی ان کو عطا کی گئ تھی- تابوت سکینہ کی موجودہ جگہ کے بارے میں مختلف لوگ قیاس آرائیاں کرتے رہتے ہیں کچھ کے نزدیک اس کو افریقہ لے جایا گیا، ایک مشہور ماہر آثار قدیمہ ران وائٹ کا کہنا ہے کہ یہ مشرق وسطیٰ میں موجود ہے اور کچھ لوگوں کے مطابق اسکو ڈھونڈنے کی کوشش انگلینڈ کے علاقے میں کرنی چاہیے- بہرحال کوششیں جاری ہیں لیکن تاحال انہیں ناکامی کا سامنا ہے *****************************
__________________
ہماری جنگ تو خود سے تھی،ڈھال کیا رکھتے -
فقیر لوگ تھے ،مال و منال کیا رکھتے |
|
|
|
| 10 قاری/قارئین نے عصمت کا شکریہ ادا کیا | کنعان (08-06-11), منتظمین (07-06-11), محمدخلیل (07-06-11), معظم (08-06-11), اویسی (08-06-11), حیدر (08-06-11), حیدر Rehan (08-06-11), سیپ (08-06-11), عبدالقدوس (10-06-11), عبداللہ حیدر (09-06-11) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,170
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
حضرت موسیٰ علیہ السلام کا بنایا صندوق کا نام "تابوت سکینہ" تھا ؟؟
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا | حیدر (08-06-11), حیدر Rehan (10-06-11) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 1,217
کمائي: 17,947
شکریہ: 2,333
913 مراسلہ میں 2,332 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
قرآن پاک میں طالوت کےقصےمیں تابوت سکینہ کےبارےمیں پڑھاہے۔وہ کیسے بنامجھےبھی آج ہی معلوم ہوا
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے سام کا شکریہ ادا کیا | حیدر (08-06-11), حیدر Rehan (10-06-11) |
|
|
#4 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,570
کمائي: 315,126
شکریہ: 25,210
16,389 مراسلہ میں 41,628 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اس صندوق کے قصے سے کچھ مسائل بھی اخذ کیے جاتے ہیں ۔۔ جن کا ذکر انٹر نیٹ پر کچھ ویب سائٹس پر پڑھنے کو ملا
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا | حیدر (08-06-11), حیدر Rehan (10-06-11) |
|
|
#5 | ||
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,570
کمائي: 315,126
شکریہ: 25,210
16,389 مراسلہ میں 41,628 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم
عصمت بھائی مضمون کا پہلا پیرا گراف کہتا ہے کہ اقتباس:
اقتباس:
اب ان چیزوں کی تفاصیل کیا ہیں ۔ ان کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ قرآن وحدیث خاموش ہے |
||
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#6 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,570
کمائي: 315,126
شکریہ: 25,210
16,389 مراسلہ میں 41,628 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اس حوالے سے یہ معلومات شاید کسی حد تک مفید ہوں
تابوت سکینہ میں کیا تھا ؟ اس مقدّس صندوق میں حضرت موسٰی علیہ السلام کا عصا اور ان کی مقدس جوتیاں اور حضرت ہارون علیہ السلام کا عمامہ، حضرت سلیمان علیہ السلام کی انگوٹھی، توراۃ کی تختیوں کے چند ٹکڑے، کچھ من و سلوٰی، اس کے علاوہ حضرات انبیاءکرام علیہم السلام کی صورتوں کے حلیے وغیرہ سب سامان تھے۔ ( تفسیر روح البیان، ج1، ص386، پ2، البقرۃ: 248 ) قرآن مجید میں خداوندقدوس نے سورہ بقرہ میں اس مقدس صندوق کا تذکرہ فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ :- وقال لھم نبیھم ان ایۃ ملکہ ان یاتیکم التابوت فیہ سکینۃ من ربکم و بقیۃ مما ترک اٰل موسٰی وال ھرون تحملہ الملئکۃ ط ان فی ذٰلک لاٰیۃ لکم ان کنتم مؤمنین ہ ( پ2، البقرۃ: 248 ) ترجمہ کنزالایمان: اور ان سے ان کے نبی نے فرمایا اس کی بادشاہی کی نشانی یہ ہے کہ آئے تمہاری پاس تابوت جس میں تمہارے رب کی طرف سے دلوں کا چین ہے اور کچھ بچی ہوئی چیزیں ہیں معزز موسٰی اور معزز ہارون کے ترکہ کی، اٹھاتے لائیں گے اسے فرشتے بیشک اس میں بڑی نشانی ہے تمہارے لئے اگر ایمان رکھتے ہو۔ درس ہدایت ))) بنی اسرائیل کے صندوق کے اس واقعہ سے چند مسائل و فوائد پر روشنی پڑتی ہے جو یاد رکھنے کے قابل ہیں: (1) معلوم ہوا کہ بزرگوں کے تبرکات کی خداوندقدوس کے دربار میں بڑی عزت و عظمت ہے اور ان کے ذریعہ مخلوق خدا کو بڑے بڑے فیوض و برکات حاصل ہوتے ہیں۔ دیکھ لو ! اس صندوق میں حضرت موسٰی علیہ السلام کی جوتیاں، آپ کا عصا اور حضرت ہارون علیہ السلام کی پگڑی تھی، تو اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں یہ صندوق اس قدر مقبول اور مکرم و معظم ہو گیا کہ فرشتوں نے اس کو اپنے نورانی کندھوں پر اٹھا کر حضرت شمویل علیہ السلام کے دربار نبوت میں پہنچایا اور خداوندی قدوس نے قرآن مجید میں اس بات کی شہادت دی کہ فیہ سکینۃ من ربکم یعنی اس صندوق میں تمہارے رب کی طرف سے سکینہ یعنی مومنوں کے قلوب کا اطمینان اور ان کی روحوں کی تسکین کا سامان تھا۔مطلب یہ کہ اس پر رحمت الٰہی کے انوار و برکات کا نزول اور اس پر رحمتوں کی بارش ہوا کرتی تھی تو معلوم ہوا کہ بزرگوں کے تبرکات جہاں اور جس جگہ بھی ہوں گے ضرور ان پر رحمت خداوندی کا نزول ہوگا اور اس پر نازل ہونے والی رحمتوں اور برکتوں سے مومنین کو سکون قلب اور اطمینان روح کے فیوض و برکات ملتے رہیں گے۔ (2) اس صندوق میں اللہ والوں کے لباس و عصا اور جوتیاں ہوں جب اس صندوق پر اطمینان کا سکینہ اور انوار و برکات کا خزینہ خدا کی طرف سے اترنا، قرآن سے ثابت ہے تو بھلا جس قبر میں ان بزرگوں کا پورا جسم رکھا ہوگا، کیا ان قبروں پر رحمت و برکت اور سکینہ و اطمینان نہیں اترے گا ؟ ہر عاقل انسان جس کو خداوندعالم نے بصارت کے ساتھ ساتھ ایمانی بصیرت بھی عطا فرمائی ہے، وہ ضرور اس بات پر ایمان لائے گا کہ جب بزرگوں کے لباس اور ان کی جوتیوں پر سکینہ رحمت کا نزول ہوتا ہے تو ان بزرگوں کی قبروں پر بھی رحمت خداوندی کا خزینہ ضرور نازل ہو گا۔ اور جب بزرگوں کی قبروں پر رحمتوں کی بارش ہوتی ہے تو جو مسلمان ان مقدس قبروں کے پاس حاضر ہو گا ضرور اس پر بھی بارش انوار رحمت کے چند قطرات برس ہی جائیں گے کیونکہ جو موسلا دھار بارش میں کھڑا ہوگا ضرور اس کا کپڑا اور بدن بھیگے گا، جو دریا میں غوطہ لگائے گا ضرور اس کا بدن پانی سے تر ہو گا، جو عطر کی دوکان پر بیٹھے گا ضرور اس کو خوشبو نصیب ہو گی۔ تو ثابت ہو گیا کہ جو بزرگوں کی قبروں پر حاضری دیں گے ضرور وہ فیوض و برکات کی دولتوں سے مالا مال ہوں گے اور ضرور ان پر خدا کی رحمتوں کا نزول ہوگا جس سے ان کے مصائب و آلام دور ہوں گے اور دین و دنیا کے فوائد منافع حاصل ہوں گے۔ (3) یہ بھی معلوم ہوا کہ جو لوگ بزرگوں کے تبرکات یا ان کی قبروں کی اہانت و بےادبی کریں گے وہ ضرور قہر و قہار اور غضب جبار میں گرفتار ہوں گےکیونکہ قوم عمالقہ جنہوں نے اس صندوق کی بےادبی کی تھی ان پر ایسا قہر الٰہی کا پہاڑ ٹوٹا کہ وہ بلاؤں کے ہجوم سے بلبلا اٹھے اور کافر ہوتے ہوئے انہوں نے اس بات کو مان لیا کہ ہم پر بلاؤں اور وباؤں کا حملہ اسی صندوق کی بےادبی کی وجہ سے ہوا ہے۔ چنانچہ اسی لئے ان لوگوں نے اس صندوق کو بیل گاڑی پر لاد کر بنی اسرائیل کی بستی میں بھیج دیا تاکہ وہ لوگ غضب الٰہی کی بلاؤں کے پنجہ قہر سے نجات پا لیں۔ (4) جب اس صندوق کی برکت سے بنی اسرائیل کو جہاد میں فتح مبین ملتی تھی تو ضرور بزرگوں کی قبروں سے بھی مؤمنین کی مشکلات دفع ہوں گی اور مرادیں پوری ہوں گی کیونکہ ظاہر ہے کہ بزرگوں کے لباس سے کہیں زیادہ اثر رحمت بزرگوں کے بدن میں ہوگا۔ (5) اس واقعہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جو قوم سرکشی اور عصیان کے طوفان میں پڑ کر اللہ و رسول ( عزوجل و صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ) کی نافرمان ہو جاتی ہے اس قوم کی نعمتیں چھین لی جاتی ہیں۔ چنانچہ آپ نے پڑھ لیا کہ جب بنی اسرائیل سرکش ہوکر خدا کے نافرمان ہو گئے اور قسم قسم کی بدکاریوں میں پڑ کر گناہوں کا بھوت ان کے سروں پر عفریت بن کر سوار ہو گیا تو ان کے جرموں کی نحوستوں نے انہیں یہ برا دن دکھایا کہ صندوق سکینہ ان کے پاس سے قوم عمالقہ کے کفار اٹھا لے گئے اور بنی اسرائیل کئی برسوں تک اس نعمت عظمٰی سے محروم ہو گئے۔ ( واللہ تعالٰی اعلم) حوالہ |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#8 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,570
کمائي: 315,126
شکریہ: 25,210
16,389 مراسلہ میں 41,628 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اس تابوت کا قرآنی نام تابوت سکینہ نہیں اور نہ ہی کسی مستند حوالے سے اس کا یہ نام میری نظر سے گزرا ہے۔
میرا خیال ہے کہ چونکہ اس تابوت کی خصوصیات کا ذکر کرتے ہوئے ایک بات یہ بھی بیان کی گئی کہ ’’فیہ سکینۃ من ربکم‘‘ اس میں تمہارے رب کی جانب سے سکون اور چین ہے۔۔ شاید اسی سکون کی جانب نسبت کر کے اسے تابوت سکینۃ کے نام سے موسوم کر دیا گیا ہو۔ تا ہم یہ صرف میری رائے ہے۔ مستند بات کوئی صاحب علم ہی بتا سکتا ہے۔ |
|
|
|
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() |
یہودی اس صندوق کی تلاش میں کب کے سر کھپا رہے ہیں اس کی خاص وجہ یہ اس میں موسی ّ کا اعصا، تورات کی اصلی حالت میں
یہ سب جتن خرج دجال کےلئے ہیں تاکہ ان کو قوت بخشی جائے ہیکل سلیمانی کی باقیات تلاش کرنا ایک بہانہ ہے اصل تلاش صندوق سکینہ کی ہے موسیّ کا اعصاء سے قوت حاصل کرنا ۔ بیت مقدس کو جب مسلمان اپنے ہاتھوں سے ڈھا دینگے تب خرج دجال مسیح ہوگا یہ یہودیوں کا ماننا ہے کچھ کا یہ بھی کہنا ہے صندوق سکینہ کو بیت مقدس میں دفن کیا گیا تھا یہودیوں نے بیت مقدس کو کھنگال ڈالا ہے بیت مقدس کے نیچے بے شمار غاریں بنائی ہیں تلاش صندوق سکینہ کی تلاش کےلیے ہیکل سلیمانی اور صندوق سکینہ کی تلاش جاری ہے کہتے یہ ہیں جب ہیکل سلیمانی مکمل تلاش ہوجائے گا صندوق سکینہ بھی مل جائے گی واللہ اعلم بصواب ------ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عصمت کا شکریہ ادا کیا | اویسی (10-06-11), حیدر Rehan (08-06-11) |
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() |
مسلمانوں میں یا یہ کہیں کہ اج امت محمدی ص میں تابوت سکینہ کی وہ عزت وتکریم نہ ہونے کی وجہ راجہ اکرام صاحب کی مراسلے سے ثابت ہوتی ہے یعنی جو شئے واقعی اتنی اہم ہے اس پر مسلمانان اسلام خاموش ہیں اور باقی قومیں جن میں عیسائی و یہودی دونوں شامل ہٰیں اپنے دن رات لگا رہے ہیں ۔
ایک جملہ جو میرے زہن میں اس وقت ہے وہ یہ بھی ہے کہ ۔۔ تابوت سکینہ وہ بکس ہے جس میں جناب موسی علیہ سلام کو پچپن میں انکی والدہ نے لٹا کر دریا میںچھوڑ دیا تھا ۔ |
|
|
|
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() |
امام مھدی غار انطاکیہ سے تابوت سکینہ کو برآمد کرینگے جس میں توریت و انجیل کا اصلی نسخہ موجود ھے اور پھر توریت والوں کے ساتھ توریت سے اور انجیل والوں کے ساتھ انجیل سے فیصلہ دینگے اور ان کو اسلام کی دعوت دیکر اپنی اتباع و پیروی کے بارے میں تاکید کرینگے نتیجہ میں اسلامی حکومت اور عادلانہ قرآنی سیاست کے علاوہ کوئی سیاست و حکومت دنیا میں نہ ھوگی ، شرق تا غرب امام مھدی علیہ سلام کی ھی حکومت ھوگی۔۔
پس زمین کا کوئی خطہ ایسا نہ ھوگا جھاں سے صدائے محمدی (ص) ”اشھد ان لا الٰہ اِلاّالله، واشھد انّ محمدالرسول الله“ نہ آرھی ھو۔ حیات فکری و سیاسی ۔۔۔رسول جعفریان ص/۵۹۹ بہ نقل المھدی الموعود ص۲۵۲ تا۲۵۵ بحارالانوار ج ۵۲ ص ۳۴۰ حدیث ۸۹ باب ۲۷ (ع)و تفسیر عیاشی (ع) |
|
|
|
|
|
#12 |
|
Senior Member
![]() |
امام جعفرصادق علیہ السلام کے فرزند امام موسی کاظم علیہ السلام کا نام جوکہ اللہ کے معین کردہ نام ”موسی“ سے موسوم کیا تو اس کی خصوصیات بیان کرتے ہویے علامہ محمدرضالکھتے ہیں کہ
موسی ،قبطی لفظ ہے اور’’مو‘‘ اور’’سی‘‘ سے مرکب ہے مو کے معنی پانی اور”سی“ کے معنی درخت کے ہیں اس نام سے سب سے پہلے حضرت کلیم اللہ موسوم کئے گئے تھے۔ اوراس کی وجہ یہ تھی کہ خوف فرعون سے مادرموسی نے آپ کواس صندوق میں رکھ کر دریامیں بہایاتھا جو”حبیب نجار“ کابنایاہواتھا اوربعدمیں ”تابوت سکینہ“ قرارپایا، تووہ صندوق بہہ کرفرعون اورجناب آسیہ تک پانی کے ذریعہ سے ان درختوں سے ٹکراتاہواجوخاص باغ میں تھے پہنچاتھا لہذا پانی اوردرخت کے سبب سے ان کانام موسی قرارپایاتھا (جنات الخلود ص ۲۹) ۔ |
|
|
|
|
|
#13 |
|
Senior Member
![]() |
مسلمان اس کی تلاش اس لیئے نہیں کر رہے ہمارے پیارے نبی اکرم محمد مصطفیﷺ نے اس صندوق کے بارے کوئی حکم صادر نہیں فرمایا
کیونکہ اگر اب کوئی اسے حاصل کر لیتا ہے مسلمان تو یقین جانوں بہت بڑا فتنہ شروع ہو جائے گا یہودی و نصاری اس کھوج اس لیئے کر رہے ہیں اس میں ان کتابیں اصلی حالت میں موجود ہیں جو۔ اب نہیں یہودیوں اور عیسایوں نے اپنی کتابوں کا بیڑا گرق کردیا ہے اللہ تعالیٰ نے اس صندوق کو ایک وقت مقرر تک اپنے پاس محفوظ رکھ لیا ہے جب مقرر وقت پورا ہوجائے گا صندوق سکینہ اس دنیا میں آ موجود ہوگا اور سب کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے گا۔اور سب دین محمدی ﷺ کی طرف لوٹ آئیں گے **************** Last edited by عصمت; 08-06-11 at 01:26 PM. |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے عصمت کا شکریہ ادا کیا | اویسی (10-06-11), حیدر (08-06-11), حسن قادری (09-06-11), راجہ اکرام (08-06-11), شھزادباجوہ (08-06-11) |
|
|
#14 | ||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2011
مراسلات: 1,635
کمائي: 32,131
شکریہ: 3,022
1,410 مراسلہ میں 4,199 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
------------------------------------------ Last edited by فیصل ناصر; 09-06-11 at 04:18 PM. |
||
|
|
|
|
|
#15 |
|
Senior Member
![]() |
حسن قادری
آپ کا مراسکہ "ان اپروو" کر دیا گیا ہے ۔ وجہ آپ جانتے ہیںکہ کیا لکھا تھا آپ نے
__________________
تم لوگوں کی اس دنیا میں ہر قدم پہ انساں غلط میں صحیح سمجھ کہ جوبھی کروں تم کہتے ہو غلط میں غلط ہوں تو پھر کون صحیح؟ |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| کوشش, کوششیں, کتابوں, پاک, قرآن, مکمل, موجودہ, موسیٰ علیہ السلام, مسجد, آج, ایمان, اللہ, تلاش, جیت, حکم, حدیث, عہد, عیسائیوں, عیسائیت, علاقے, علامت, غنیمت, غائب, صندوق, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| ایک کہاوت ایک کہانی | حیدر | اردو زبان http://urduzuban.org | 20 | 06-11-11 07:12 PM |
| اسا مہ بن لاڈن کی موت یا موت کا ڈرامہ ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی | سیفی خان | عمومی بحث | 18 | 10-06-11 12:38 AM |
| بغاوت کامیاب ہو جائے تو انقلاب بن جاتی ہے اور انقلاب ناکام ہو جائیں تو بغاوت کہلاتے ہیں | ذوالفقار علی | عمومی بحث | 1 | 30-04-11 09:28 PM |
| اک دن مرنا ہے آخر موت ہے۔۔۔۔ ایک نمازی کی سجدے کی حالت میں موت(ویڈیو) | ایکسٹو | متفرقات | 2 | 09-03-11 01:54 PM |
| نبوت محمدی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کاعقلی ثبوت | عبداللہ حیدر | عقیدہ رسالت | 12 | 31-12-10 02:09 PM |