واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > تاریخ اور فلسفہ



تاریخ اور فلسفہ تاریخ اور فلسفہ


ہرقل (شاہ روم)

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات درجہ بندی: موضوع  کی درجہ بندی:  1 ووٹ 5.00 اوسط ظاہری انداز
پرانا 28-10-11, 07:53 AM   #1
Senior Member
 
رضی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,537
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default ہرقل (شاہ روم)

ہرقل (شاہ روم)

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ابوسفیان بن حرب رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ ہرقل (شاہ روم) نے ان کے پاس ایک آدمی بھیجا (اور وہ) قریش کے چند سواروں میں (اس وقت بیٹھے ہوئے تھے) اور وہ لوگ شام میں تاجر (بن کر گئے) تھے (اور یہ واقعہ) اس زمانہ میں (ہوا ہے) جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوسفیان اور (نیز دیگر) کفار قریش سے ایک محدود عہد کیا تھا۔ چنانچہ سب قریش ہرقل کے پاس آئے اور یہ لوگ (اس وقت) ایلیاء میں تھے۔ تو ہرقل نے ان کو اپنے دربار میں طلب کیا اور اس کے گرد سرداران روم (بیٹھے ہوئے) تھے۔ پھر ان (سب قریشیوں) کو اس نے (اپنے قریب) بلایا اور اپنے ترجمان کو طلب کیا اور (قریشیوں سے مخاطب ہو کر) کہا کہ تم میں سب سے زیادہ اس شخص کا قریب النسب کون ہے جو اپنے کو نبی کہتا ہے؟ ابوسفیان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ میں ان سب سے زیادہ (ان کا) قریب النسب ہوں (یہ سن کر) ہرقل نے کہا کہ ابوسفیان کو میرے قریب کر دو اور اس کے ساتھیوں کو (بھی) قریب رکھو اور ان کو ابوسفیان کے پس پشت (کھڑا) کرو۔ پھر اپنے ترجمان سے کہا کہ ان لوگوں سے کہو کہ میں ابوسفیان سے اس مرد کا حال پوچھتا ہوں (جو اپنے آپ کو نبی کہتا ہے) پس اگر یہ مجھ سے جھوٹ بیان کرے تو تم (فوراً) اس کی تکذیب کر دینا۔ (ابوسفیان) کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم! اگر (مجھے) اس بات کی شرم نہ ہوتی کہ لوگ میرے اوپر جھوٹ بولنے کا الزام لگائیں گے یقینا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت غلط باتیں بیان کر دیتا۔ غرض سب سے پہلے جو ہرقل نے مجھ سے پوچھا تھا، یہ تھا کہ ان کا نسب تم لوگوں میں کیسا ہے؟ میں نے کہا کہ وہ ہم میں عالی نسب ہیں۔ (پھر) ہرقل نے کہا کہ کیا تم میں سے کسی نے ان سے پہلے بھی اس بات (یعنی نبوت) کا دعویٰ کیا ہے؟ میں نے کہا نہیں (پھر) ہرقل نے کہا کہ کیا ان کے باپ دادا میں کوئی بادشاہ گزرا ہے؟ میں نے کہا نہیں۔ (پھر) ہرقل نے کہا کہ بااثر لوگوں نے ان کی پیروی کی ہے یا کمزور لوگوں نے؟ میں نے کہا (امیروں نے نہیں بلکہ) کمزور لوگوں نے۔ (پھر) ہرقل بولا کہ آیا ان کے پیرو (روز بروز) بڑھتے جاتے ہیں یا گھٹتے جاتے ہیں؟ میں نے کہا (کم نہیں ہوتے بلکہ) زیادہ ہوتے جاتے ہیں۔ (پھر) ہرقل نے پوچھا کہ آیا ان (لوگوں) میں سے (کوئی) ان کے دین میں داخل ہونے کے بعد ان کے دین سے بدظن ہو کر منحرف بھی ہو جاتا ہے؟ میں نے کہا کہ نہیں۔ (پھر) ہرقل نے پوچھا کہ کیا وہ (کبھی) وعدہ خلافی کرتے ہیں؟ میں نے کہا کہ نہیں۔ اور اب ہم ان کی طرف سے مہلت میں ہیں۔ ہم نہیں جانتے کہ وہ اس (مہلت کے زمانہ) میں کیا کریں گے (وعدہ خلافی یا وعدہ وفائی) ابوسفیان کہتے ہیں کہ سوائے اس کلمہ کے اور مجھے موقع نہیں ملا کہ میں بات (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات میں) داخل کر دیتا۔ (پھر) ہرقل نے پوچھا کہ کیا تم نے (کبھی) اس سے جنگ کی ہے؟ میں نے کہا کہ ہاں۔ تو (ہرقل) بولا تمہاری جنگ اس سے کیسی رہتی ہے؟ میں نے کہا کہ لڑائی ہمارے اور ان کے درمیان ڈول (کے مثل) رہتی ہے کہ (کبھی) وہ ہم سے لے لیتے ہیں اور (کبھی) ہم ان سے لے لیتے ہیں (یعنی کبھی ہم فتح پاتے ہیں اور کبھی وہ) (پھر) ہرقل نے پوچھا کہ وہ تم کو کیا حکم دیتے ہیں؟ میں نے کہا کہ وہ کہتے ہیں کہ صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور (شرکیہ باتیں و عبادتیں) جو تمہارے باپ دادا کیا کرتے تھے، سب چھوڑ دو اور ہمیں نماز (پڑھنے) اور سچ بولنے اور پرہیزگاری اور صلہ رحمی کا حکم دیتے ہیں۔
اس کے بعد ہرقل نے ترجمان سے کہا کہ ابوسفیان سے کہو کہ میں نے تم سے اس کا نسب پوچھا تو تم نے بیان کیا کہ وہ تمہارے درمیان میں (اعلیٰ) نسب والے ہیں چنانچہ تمام پیغمبر اپنی قوم کے نسب میں اسی طرح (عالی نسب) مبعوث ہوا کرتے ہیں اور میں نے تم سے پوچھا کہ آیا یہ بات (یعنی اپنی نبوت کی خبر) تم میں سے کسی اور نے بھی ان سے پہلے کہی تھی؟ تو تم نے بیان کیا کہ نہیں۔ میں نے (اپنے دل میں) یہ کہا تھا کہ اگر یہ بات ان سے پہلے کوئی کہہ چکا ہوا تو میں کہہ دوں گا کہ وہ ایک ایسے شخص ہیں جو اس قول کی تقلید کرتے ہیں جو ان سے پہلے کہا جا چکا ہے اور میں نے تم سے پوچھا کہ ان کے باپ دادا میں کوئی بادشاہ تھا؟ تو تم نے بیان کیا کہ نہیں۔ پس میں نے (اپنے دل میں) کہا تھا کہ ان کے باپ دادا میں کوئی بادشاہ ہوا ہو گا تو میں کہہ دوں گا کہ وہ ایک شخص ہیں جو اپنے باپ دادا کا ملک (اقتدار حاصل کرنا) چاہتے ہیں اور میں نے تم سے پوچھا کہ آیا اس سے پہلے کہ انھوں نے جو یہ بات (نبوت کا دعویٰ) کہی ہے، کہیں تم ان پر جھوٹ کی تہمت لگاتے تھے؟ تو تم نے کہا کہ نہیں۔ پس (اب) میں یقینا جانتا ہوں کہ (کوئی شخص) ایسا نہیں ہو سکتا کہ لوگوں سے تو جھوٹ بولنا (غلط بیانی) چھوڑ دے اور اللہ پر جھوٹ بولے اور میں نے تم سے پوچھا کہ آیا بڑے (بااثر) لوگوں نے ان کی پیروی کی ہے یا کمزور لوگوں نے؟ تم نے کہا کہ کمزور لوگوں نے ان کی پیروی کی ہے اور (دراصل) تمام پیغمبر کے پیرو یہی لوگ (ہوتے رہے) ہیں اور میں نے تم سے پوچھا کہ ان کے پیرو زیادہ ہوتے جاتے ہیں یا کم؟ تو تم نے بیان کیا کہ زیادہ ہوتے جاتے ہیں اور (درحقیقت) ایمان کا یہی حال (ہوتا) ہے تاوقتیکہ کمال کو پہنچ جائے اور میں نے تم سے پوچھا کہ کیا کوئی شخص ان کے دین میں داخل ہونے کے بعد ان کے دین سے ناخوش ہو کہ (دین سے) پھر بھی جاتا ہے؟ تو تم نے بیان کیا کہ نہیں! اور ایمان (کا حال) ایسا ہی ہے جب اس کی بشاشت دلوں میں رچ بس جائے (تو پھر نہیں نکلتی) اور میں نے تم سے پوچھا کہ آیا وہ وعدہ خلافی کرتے ہیں؟ تو تم نے بیان کیا کہ نہیں! اور (بات یہ ہے کہ) اسی طرح تمام پیغمبر وعدہ خلافی نہیں کرتے اور میں نے تم سے پوچھا کہ وہ تمہیں کس بات کا حکم دیتے ہیں؟ تو تم نے بیان کیا کہ وہ تمہیں یہ حکم دیتے ہیں کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو نیز تمہیں بتوں کی پرستش سے منع کرتے ہیں اور تمہیں نماز (پڑھنے) سچ بولنے اور پرہیزگاری (اختیار کرنے) کا حکم دیتے ہیں پس اگر جو تم کہتے ہو سچ ہے تو عنقریب وہ میرے ان دونوں قدموں کی جگہ کے مالک ہو جائیں گے اور بیشک میں (کتب سابقہ کی پیش گوئی سے) جانتا تھا کہ وہ ظاہر ہونے والے ہیں مگر میں یہ نہ سمجھتا تھا کہ وہ تم میں سے ہوں گے۔ پس اگر میں جانتا کہ ان تک پہنچ سکوں گا تو میں ان سے ملنے کا بڑا اہتمام و سعی کرتا اور اگر میں ان کے پاس ہوتا تو یقینا میں ان کے قدموں کو دھوتا۔ پھر ہرقل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا (مقدس) خط، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا دحیہ کلبی کے ہمراہ امیر بصریٰ کے پاس بھیجا تھا اور امیر بصریٰ نے اس کو ہرقل کے پاس بھیج دیا تھا، منگوایا (اور اس کو پڑھوایا) تو اس میں (یہ مضمون) تھا۔
“ اللہ نہایت مہربان رحم والے کے نام سے”
(یہ خط ہے) اللہ کے بندے اور اس کے پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بادشاہ روم کی طرف۔ اس شخص پر سلام ہو جو ہدایت کی پیروی کرے۔ بعد اس کے (واضح ہو کہ) میں تم کو اسلام کی طرف بلاتا ہوں۔ اسلام لاؤ گے تو (قہر الہٰی سے) بچ جاؤ گے اور اللہ تمہیں تمہارا ثواب دوگنا دے گا اور اگر تم (میری دعوت سے) سے منہ پھیرو گے تو بلاشبہ تم پر (تمہاری) تمام رعیت کے (ایمان نہ لانے) کا گناہ ہو گا اور “ اے اہل کتاب ایک ایسی بات کی طرف آؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان مشترک ہے یعنی یہ کہ ہم اور تم اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائیں اور نہ ہم میں سے کوئی کسی کو سوائے اللہ کے پروردگار بنائے (اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ) پھر اگر اہل کتاب اس سے اعراض کریں تو تم کہہ دینا کہ اس بات کے گواہ رہو کہ ہم تو اللہ کی اطاعت کرنے والے ہیں” ۔ (آل عمران: 64) ابوسفیان کہتے ہیں کہ ہرقل نے جو کچھ کہنا تھا، کہہ چکا اور (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا) خط پڑھنے سے فارغ ہوا تو اس کے ہاں بہت ہی شور ہونے لگا۔ آوازیں بلند ہوئیں اور ہم لوگ (وہاں سے) نکال دیے گئے تو میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا، جب کہ ہم سب باہر کر دیے گئے، کہ (دیکھو تو) ابوکبثہ کے بیٹے (یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) کا معاملہ و رتبہ ایسا بڑھ گیا کہ اس سے بنو اصفر (روم) کا بادشاہ بھی خوف کھاتا ہے۔ پس ہمیشہ میں اس کا یقین رکھتا رہا کہ وہ عنقریب غالب ہو جائیں گے یہاں تک کہ اللہ نے مجھ کو مشرف بہ اسلام کر دیا۔
فرمایا اور ابن ناطور جو ایلیاء کا حاکم، ہرقل کا مصاحب اور شام کے عیسائیوں کا پیر پادری ہے، وہ بیان کرتا ہے کہ ہرقل جب ایلیاء میں آیا تو ایک دن صبح کو بہت پریشان خاطر اٹھا تو اس کے بعض خواص نے کہا کہ ہمیں (اس وقت) آپ کی حالت کچھ اچھی دکھائی نہیں دیتی۔ ابن ناطور کہتا ہے کہ ہرقل کاہن تھا، علم نجوم میں مہارت رکھتا تھا، تو اس نے اپنے خواص سے، جب کہ انھوں نے پوچھا یہ کہا کہ میں نے رات کو جب ستاروں میں نظر کی تو دیکھا کہ ختنہ کرنے والا بادشاہ غالب ہو گیا تو (دیکھو کہ) اس دور کے لوگوں میں ختنہ کون کرتا ہے؟ لوگوں نے کہا کہ سوائے یہود کے کوئی ختنہ نہیں کرتا، سو یہود کی طرف سے آپ اندیشہ نہ کریں اور اپنے ملک کے بڑے بڑے شہروں میں (حاکموں کو) لکھ بھیجئے کہ جتنے یہود وہاں ہیں سب قتل کر دیے جائیں۔ پس وہ لوگ اپنی اسی منصوبہ بندی میں تھے کہ ہرقل کے پاس آدمی لایا گیا جسے غسان کے بادشاہ نے بھیجا تھا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر بیان کرتا تھا سو جب ہرقل نے اس سے یہ خبر معلوم کی تو (اپنے لوگوں سے) کہا کہ جاؤ اور دیکھو کہ وہ ختنہ کیے ہوئے ہے یا نہیں؟ لوگوں نے اس کو دیکھا تو بیان کیا کہ وہ ختنہ کیے ہوئے ہے۔ اور ہرقل نے اس سے اہل عرب کا حال پوچھا تو اس نے کہا کہ وہ ختنہ کرتے ہیں۔ تب ہرقل نے کہا کہ یہی (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) اس دور کے لوگوں کا بادشاہ ہے جو ظاہر ہو گیا۔ پھر ہرقل نے اپنے دوست کو رومیہ (یہ حال) لکھ بھیجا وہ علم (نجوم) میں اسی کا ہم پلہ تھا اور (یہ لکھ کر) ہرقل حمص کی طرف چلا گیا۔ پھر حمص سے باہر بھی نہیں جانے پایا تھا کہ اس کے دوست کا خط (اس کے جواب میں) آ گیا۔ وہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے بارے میں ہرقل کی رائے کی موافقت کرتا تھا اور یہ (اس نے لکھا تھا) کہ وہ نبی ہیں۔ اس کے بعد ہرقل نے سرداران روم کو اپنے محل میں جو حمص میں تھا طلب کیا اور حکم دیا کہ محل کے دروازے بند کر دیے جائیں، تو وہ بند کر دیے گئے، پھر ہرقل (اپنے بالاخانے) نمودار ہوا اور کہا کہ اے روم والو! کیا ہدایت اور کامیابی میں (کچھ حصہ) تمہارا بھی ہے؟ اور (تمہیں) یہ منظور ہے) کہ تمہاری سلطنت قائم رہے (اگر ایسا چاہتے ہو) تو اس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کر لو۔ تو (اس کے سنتے ہی) وہ لوگ وحشی گدھوں کی طرح دروازوں کی طرف بھاگے، کواڑوں کو بند پایا۔ بالآخر جب ہرقل نے (اس درجے) ان کی نفرت دیکھی اور (ان کے) ایمان لانے سے مایوس ہو گیا تو بولا کہ ان لوگوں کو میرے پاس واپس لاؤ اور (جب وہ آئے تو ان سے) کہا کہ میں نے یہ بات ابھی جو کہی تو اس سے تمہارے دین کی مضبوطی کا امتحان لینا (مقصود) تھا اور وہ مجھے معلوم ہو گئی۔ پس لوگوں نے اسے سجدہ کیا اور اس سے خوش ہو گئے اور ہرقل کی آخری حالت یہی رہی۔
__________________

عشق قاتل سے بھی مقتول سے ہمدردی بھی ،یہ بتا کس سے محبت کی جزا مانگے گا؟
سجدہ خالق کو بھی ابلیس سے یارانہ بھی، حشر میں کس سے عقیدت کا صلہ مانگے گا؟
رضی آف لائن ہے   Reply With Quote
19 قاری/قارئین نے رضی کا شکریہ ادا کیا
A Nawaz Khan (18-11-11), skjatala (28-10-11), فیاض انصاری (04-02-12), ھارون اعظم (28-10-11), قاسمی (28-10-11), نیلم خان (03-11-11), نورالدین (28-10-11), ننھا بچہ (28-10-11), محمد یاسرعلی (28-10-11), محمدعدنان (28-10-11), wajee (28-10-11), احمد نذیر (28-10-11), بنت حوا (28-10-11), راجہ اکرام (28-10-11), سیپ (28-10-11), سحر (30-10-11), طارق راحیل (28-10-11), عدنان دانی (29-10-11), عروج (28-10-11)
پرانا 28-10-11, 08:27 AM   #2
Senior Member
 
محمد یاسرعلی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: راولپنڈی
عمر: 28
مراسلات: 4,031
کمائي: 54,659
شکریہ: 7,881
2,881 مراسلہ میں 7,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد یاسرعلی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد یاسرعلی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اللہ نے ہر قل کو سامنے حق کھو تو دیا پر اس بدنصیب کو حق کی اطاعت کرنے کی توفیق نہیں دی
__________________
فیس بک پہ پاک نیٹ کا حلقہ احباب
https://www.facebook.com/groups/pak.net

دوستوں سے گزارش ہے کہ اپنے شائع کردہ موضوع کو یہاں بھی شئیر کردیا کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو پاک نیٹ کی فیملی کا حصہ بنایا جاسکے۔
محمد یاسرعلی آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے محمد یاسرعلی کا شکریہ ادا کیا
قاسمی (28-10-11), نیلم خان (03-11-11), احمد نذیر (28-10-11), بنت حوا (28-10-11), رضی (28-10-11)
پرانا 28-10-11, 12:22 PM   #3
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,570
کمائي: 315,126
شکریہ: 25,210
16,389 مراسلہ میں 41,628 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

حق کے اس قدر واضح ہو جانے کے بعد بھی وہ محروم رہا
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
قاسمی (28-10-11), نیلم خان (03-11-11), بنت حوا (28-10-11), رضی (28-10-11), عروج (28-10-11)
پرانا 28-10-11, 04:11 PM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 329
کمائي: 6,286
شکریہ: 2,159
266 مراسلہ میں 791 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ولٰکنّ اللہ یہدی من یشاء
قاسمی آف لائن ہے   Reply With Quote
قاسمی کا شکریہ ادا کیا گیا
رضی (28-10-11)
پرانا 28-10-11, 04:27 PM   #5
Administrator


 
سیپ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: دلِ ویران
مراسلات: 10,064
کمائي: 1,047,213
شکریہ: 5,798
6,278 مراسلہ میں 15,253 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام عليكم ورحمة اللہ وبركاتہ
بہت عمدہ اور پُر اثر شئرنگ ہے رضی
سیپ آف لائن ہے   Reply With Quote
سیپ کا شکریہ ادا کیا گیا
رضی (28-10-11)
پرانا 28-10-11, 04:38 PM   #6
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Oct 2011
مراسلات: 1,133
کمائي: 12,504
شکریہ: 3,416
697 مراسلہ میں 1,606 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت اچھی شئیرنگ ھے ۔
بنت حوا آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے بنت حوا کا شکریہ ادا کیا
نیلم خان (03-11-11), رضی (28-10-11)
پرانا 28-10-11, 06:32 PM   #7
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,220
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : راجہ اکرام مراسلہ دیکھیں
حق کے اس قدر واضح ہو جانے کے بعد بھی وہ محروم رہا
صحیح کہا۔ کچھ پانا بھی تو چاہ اور مقدر سے ھوتا ھے۔
عروج آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عروج کا شکریہ ادا کیا
نیلم خان (03-11-11), رضی (28-10-11)
پرانا 28-10-11, 08:02 PM   #8
Junior Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Oct 2011
مراسلات: 7
کمائي: 250
شکریہ: 4
7 مراسلہ میں 13 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اس سے عربوں کی حق پرستی بھی ظاہر ہوتی ہے کہ حضرت ابو سفیان اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے لیکن ہر بات کا جواب حق اور سچ دیا۔ رضی اﷲ عنہ۔ یہی خوبیاں زمانہ اسلام میں بھی ان کو معزز بنا دیتی ہیں، غزوہ حنین میں ان کی ایک آنکھ شہید ہوئی اور پھر ایک اور معرکہ یرموک میں شہید ہوئی۔ یوں انہوں نے اپنی ابتدائی اسلام دشمنی کا کفارہ اپنی دونوں آنکھوں کی شہادت سے دیا۔ اﷲ ان سے راضی ہوا۔
محمد مسلم آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے محمد مسلم کا شکریہ ادا کیا
A Nawaz Khan (18-11-11), نیلم خان (03-11-11), رضی (07-11-11)
پرانا 28-10-11, 11:15 PM   #9
Senior Member
 
رضی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,537
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : محمد مسلم مراسلہ دیکھیں
اس سے عربوں کی حق پرستی بھی ظاہر ہوتی ہے کہ حضرت ابو سفیان اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے لیکن ہر بات کا جواب حق اور سچ دیا۔ رضی اﷲ عنہ۔ یہی خوبیاں زمانہ اسلام میں بھی ان کو معزز بنا دیتی ہیں، غزوہ حنین میں ان کی ایک آنکھ شہید ہوئی اور پھر ایک اور معرکہ یرموک میں شہید ہوئی۔ یوں انہوں نے اپنی ابتدائی اسلام دشمنی کا کفارہ اپنی دونوں آنکھوں کی شہادت سے دیا۔ اﷲ ان سے راضی ہوا۔
میرا ہر گز مقصد تنقید کرنا یا ابو سفیان رضی اللہ تعالٰی کی توہین کرنا نہیں۔بلکہ اس بات کی
"]اس سے عربوں کی حق پرستی بھی ظاہر ہوتی ہے کہ حضرت ابو سفیان اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے لیکن ہر بات کا جواب حق اور سچ دیا" وضاحت کے لیے ہے۔

اقتباس:
(ابوسفیان) کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم! اگر (مجھے) اس بات کی شرم نہ ہوتی کہ لوگ میرے اوپر جھوٹ بولنے کا الزام لگائیں گے یقینا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت غلط باتیں بیان کر دیتا۔
رضی آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے رضی کا شکریہ ادا کیا
نیلم خان (03-11-11), منتظمین (29-10-11)
پرانا 03-11-11, 11:31 PM   #10
ذیلی ناظم
 
نیلم خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,904
کمائي: 561,067
شکریہ: 25,573
10,451 مراسلہ میں 38,586 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اچھی شئیرنگ ہے

مبارکباد قبول فرمائیں ۔
نیلم خان آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے نیلم خان کا شکریہ ادا کیا
خالد حسین (10-02-12), رضی (05-11-11)
جواب

Tags
کمال, لوگ, نفرت, نماز, نظر, منصوبہ, معلوم, آدمی, ایمان, اللہ, الزام, امتحان, اسلام, اعلیٰ, بندگی, جھوٹ, جواب, حکم, حال, خبر, دیکھو, دوست, دل, عبادت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 07:33 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger