واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > تاریخ اور فلسفہ



تاریخ اور فلسفہ تاریخ اور فلسفہ


یوم شہادت علی مرتضی علیہ السلام

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 22-08-11, 08:58 PM   #1
Senior Member
 
اسراراحمد چوہدری's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 200
کمائي: 7,231
شکریہ: 146
162 مراسلہ میں 425 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default یوم شہادت علی مرتضی علیہ السلام

یوم شہادت علی مرتضی علیہ السلام

یوم شہادت علی مرتضی علیہ السلام
Name:  1283002656_.jpg
Views: 90
Size:  33.8 KB
21 رمضان المبارک کو حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کا یوم شہادت ہے چنانچہ ذیل میں آپکی مختصر سیرت قارئین کی نظر کی جارہی ہے

حضرت علی علیہ السلام پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے چچا زاد بھائی ہیں اور انہوں نے سایہ نبوت میں پرورش پائی۔ پیغمبر کی زیر نگرانی آپ کی تربیت ہوئی۔حضرت علی علیہ السلام پہلے مرد تھے جنہوں نے اسلام کا اظہار کیا۔یہ کہنا بڑا ظلم ہے کہ علی بچوں میں سب سے پہلے اسلام لے کر آئے۔
جگر گوشہ رسول ،خاتون جنت سیدہ فاطمہ سلام اللہ اور مولائے متقیان زندگی گھریلو زندگی کا ایک بے مثال نمونہ تھی کہ مرد اور عورت آپس میں کس طرح ایک دوسرے کے شریک ُ حیات ثابت ہوسکتے ہیں ،کس طرح تقسیم عمل ہونا چاہیے اور کیوں کر دونوں کی زندگی ایک دوسے کے لیے مددگار ہوسکتی ہے۔
باب العلم کی زندگی ہر رخ سے ایک آفتاب درخشندہ ہے۔علم، حلم، عبادت، خطابت، شجاعت، ریاضت، تلاوت ہر ایک وصف گویا منفرد تھا۔ انہوں نے مسلمانوں کو یہ درس دیا کہ زندگی دراصل اطاعت پروردگار اور اطاعت رسول کانام ہے۔ انہوں نے کام کرنے کو انسان کی معراج بنایا۔
علی علیہ السلام صبح کو مشکیزہ لے کر جاتے تھے اوریہودیوں کے باغ میں پانی دیتے تھے او جو کچھ مزدوری ملتی تھی اسےگھر لاتے اور کچھ رقم سے بازار سے جو خرید کر خاتون جنت کو دیتے تھے اورسیدہ چکی پیستیں, کھانا پکاتیں اورگھر میں صفائی کرتیں, حسنین کی پرورش اورفرصت کے اوقات میں چرخہ چلاتیں خود اپنے اور اپنے گھر والوں کو لباس کے لیے اور کبھی مزدوری کے طور پر سوت کاتتی تھیں اور اس طرح گھر میں رہ کر زندگی کی مہم میں اپنے شوہر کاہاتھ بٹاتی تھیں۔
بہت سے مفسرین اور مفکرین نے اہلیبیت اطہار کے حوالے سے اکثر یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ انکے لئے کھانا اور کپڑے جنت سے آ جاتے تھے اور گویا روئے زمین پر یہ مثالی ہستیاں مافوق الفطرت طور پر زندگی گزارتی تھیں۔حالانکہ سچ تو یہ ہے کہ خانوادہ رسالت کے ہر فرد کو اگرچہ خالق کائنات نے بیش بہا معجزات عنایت لیئے تھے لیکن انہوں نے اپنی زندگی عام انسان کی طرح محنت مزدوری اور کام کاج کر کے گزاری اور دوسروں کے لیے کام میں عظمت کی مثال چھوڑی۔
مدینہ میں پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو مخالف گروہ نے آرام سے بیٹھنے نہ دیا.پہلے ابو جہل اور غزوہ بدر کے بعد ابوسفیان کی قیادت میں مشرکینِ مکہ نے جنگی تیاریاں کیں یہی نہیں بلکہ اسلحہ اور فوج جمع کر کے خود رسول کے خلاف مدینہ پر چڑھائی کردی۔
اس موقع پر رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا اخلاقی فرض تھا کہ وہ مدینہ والوں کے گھروں کی حفاظت کرتے جنھوں نے کہ آپ کوانتہائی ناگوار حالات میں پنا ہ دی تھی اور آپ کی نصرت وامداد کاوعدہ کیا تھا , گو آپ کے ساتھ تعدادبہت کم تھی لیکن صرف تین سو تیرہ آدمی تھے , ہتھیار بھی نہ تھے مگر آپ نے یہ طے کرلیا کہ آپ باہر نکل کر دشمن سے مقابلہ کریں گے چنانچہ پہلی لڑائی اسلام کی ہوئی جو غزوہ بدر کے نام سے مشہور ہے۔
اس لڑائی میں زیادہ رسول اللہ نے اپنے عزیزوں کو خطرے میں ڈالا چنانچہ آپ کے چچا زاد بھائی عبیدہ ابن حارث ابن عبدالمطلب اس جنگ میں شہید ہوئے . علی ابن ابی طالب علیہ السلام کا جنگ کا یہ پہلا تجربہ تھا . 25 برس کی عمر تھی مگر جنگ کی فتح کا سہرا حضرت علی کے سر رہا .جتنے مشرکین قتل ہوئے تھے ان میں سے آدھے مجاہدین کے ہاتھوں قتل ہوئے تھے اس کے بعد غزوہ احد، غزوہ خندق، غزوہ خیبر اور غزوہ حنین یہ وہ بڑی لڑائیاں ہیں جن میں حضرت علی نے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ رہ کر اپنی بے نظیر بہادری کے جوہر دکھلائے۔
تقریباًان تمام لڑائیوں میں حضرت علی علیہ السلام کو علمداری کا عہدہ بھی حاصل رہا . اس کے علاوہ بہت سی لڑائیاں ایسی تھیں جن میں رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت علی کو تنہا بھیجا اورانھوں نے اکیلے ان تمام لڑائیوں میں بڑی بہادری اور ثابت قدمی دکھائی اور انتہائی استقلال، تحمّل اور شرافت ُ نفس سے کام لیاجس کا اقرار خود ان کے دشمن بھی کرتے تھے۔
غزوہ خندق میں دشمن کے سب سے بڑے سورما عمروبن عبدود کو جب آپ نے مغلوب کر لیااور اس کاسر کاٹنے کے لیے اس کے سینے پر بیٹھے تو اس نے آپ کے چہرے پر لعاب دہن پھینک دیا . آپ کو غصہ آگیااور آپ اس کے سینے پر سے اتر ائے . صرف اس خیال سے کہ اگر غصّے میں اس کو قتل کی تو یہ عمل محض خدا کی راہ میں نہ ہوگا بلکہ خواہش نفس کے مطابق ہوگا۔
کچھ دیر کے بعد آپ نے اس کو قتل کیا , اس زمانے میں دشمن کو ذلیل کرنے کے لیے اس کی لاش برہنہ کردیتے تھے مگر حضرت علی علیہ السلام نے اس کی زرہ نہیں اُتاری اگرچہ وہ بہت قیمتی تھی . چناچہ اس کی بہن جب اپنے بھائی کی لاش پر آئی تو اس نے کہا کہ کسی اور نے میرے بھائی کوقتل کیا ہوتا تو میں عمر بھر روتی مگر مجھ یہ دیکھ کر صبر آگیا کہ اس کا قاتل علی سا شریف انسان ہے جس نے اپنے دشمن کی لاش کی توہین گوارا نہیں کی۔
آپ نے کبھی دشمن کی عورتوں یا بچّوں پر ہاتھ نہیں اٹھا یا اور کبھی مالِ غنیمت کی طرف رخ نہیں کیا۔رسول اللہ کی طرف سے عہد ناموں کا لکھنا، خطوط تحریر کرنا آپ کے ذمے تھا اور لکھے ہوئے اجزائے قرآن کے امانتدار بھی آپ تھے- اس کے علاوہ یمن کی جانب تبلیغ اسلام کے ليے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے آپ کو روانہ کیا جس میں آپ کی کامیاب تبلیغ کا اثر یہ تھا کہ سارا یمن مسلمان ہو گیا۔
جب سورہ براَت نازل ہوئی تو اس کی تبلیغ کے ليے بحکم خدا آپ ہی مقرر ہوئے اور آپ نے جا کر مشرکین کو سورئہ براَت کی آیتیں سنائیں۔
حضرت علی علیہ السلام کی امتیازی صفات اور خدمات کی بنا پر رسول ان کی بہت عزت کرتے تھے او اپنے قول اور فعل سے ان کی خوبیوں کو ظاہر کرتے رہتے تھے.
کبھی یہ کہتے تھے کہ ‘‘علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں‘‘ .کبھی یہ کہا کہ ‘‘میں علم کاشہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے ‘‘ کبھی یہ کہا ‘‘تم سب میں بہترین فیصلہ کرنے والا علی ہے‘‘ کبھی یہ کہا‘‘علی کومجھ سے وہ نسبت ہے جو ہارون کو موسیٰ علیہ السّلام سے تھی‘‘کبھی یہ کہا‘‘علی مجھ سے وہ تعلق رکھتے ہیں جو روح کو جسم سے یا سر کو بدن سے ہوتا ہے‘‘۔
کبھی یہ کہ‘‘وہ خدا اور رسول کے سب سے زیادہ محبوب ہیں ‘‘۔
یہاں تک کہ مباہلہ کے واقعہ میں حضرت علی نفسِ رسول قرار پائے اور اللہ کے نبی انہیں مولائے کائنات اور اپنا وصی کہا. عملی اعزاز یہ تھا کہ مسجد میں سب کے دروازے بند ہوئے تو علی کا دروازہ کھلا رکھا گیا . جب مہاجرین وانصار میں بھائی چارہ کیا گیا تو علی علیہ السّلام کو پیغمبر نے اپنا دنیا وآخرت میں بھائی قرار دیااور سب سے آخر میں غدیر خم کے میدان میں ہزاروں مسلمانوں کے مجمع میں حضرت علی کو اپنے ہاتھوں پر بلند کر کے یہ اعلان فرما دیا کہ جس طرح کاسرپرست اورحاکم ہوں اسی طرح علی سب کے سرپرست اور حاکم ہیں۔ جس کا میں مولا ہوں اسکا علی مولا ہے۔
اتنا بڑا اعزاز ہے کہ تمام مسلمانوں نے حضرت علی کو مبارک باد دی اور سب نے سمجھ لیا کہ پیغمبر نے حضرت علی کی ولی عہدی اور جانشینی کااعلان کردیا ہے.
جس نے زندگی بھر پیغمبر کا ساتھ دیا وہ بعد رسول آپ کی لاش کو کس طرح چھوڑتا, چنانچہ رسول کی تجہیز وتکفین اور غسل وکفن کاتمام کام حضرت علی علیہ السلام ہی کے ہاتھوں ہوا اورقبر میں آپ ہی نے رسول کو اتارا , رسول کے دفن سے فرصت ہونے کے بعد یہ معلوم ہوا کہ اتنی دیر میں پیغمبر کی جانشینی کاانتظام ہوگیا ہے . اگر کوئی دوسرا انسان ہوتاتو جنگ آزمائی پر تیار ہوجاتا مگر حضرت علی کو اسلامی مفاد اتنا عزیز تھا کہ آپ نے اپنے حقوق کے اعلان کے باوجود اپنی طرف سے مسلمانوں میں خانہ جنگی پیدا نہیں ہونے دی , نہ صرف یہ کہ آپ نے معرکہ آرائی نہیں چاہی بلکہ جس وقت ضرورت پڑی , اس وقت اسلامی مفاد کی خاطر آپ نے امداد دینے سے دریغ بھی نہیں کیا , مشکل مسائل کے فیصلہ اور ضروری مشورہ ليے جانے پر اپنی مفید رائے کااظہار کیاا س سے کبھی پہلو نہیں بچایا۔چنانچہ بعض روایات کے مطابق خلیفہ دوم حضرت عمر کو کئی مقامات پر یہ کہنا پڑا لولا علی لہلاک عمر یعنی علی نہ هوتے تو عمر ہلاک ہوجاتا۔
علی علیہ السلام اسلام کی روحانی اور علمی خدمت میں مصروف رہے . قرآن کو ترتیب ُ نزول کے مطابق ناسخ ومنسوخ اور محکم اور متشابہ کی تشریح کے ساتھ مرتب کیا . مسلمانوں کے علمی طبقے میں تصنیف وتالیف کااور علمی تحقیق کاذوق پیدا کیااور خود بھی تفسیر اور کلام اور فقہ واحکام کے بارے میں ایک مفید علمی ذخیرہ فراہم کیا . بہت سے ایسے شاگرد تیار کئے جو مسلمانوں کی آئندہ علمی زندگی کیلئے معمار کاکام انجام دے سکیں , زبان عربی کی حفاظت کیلئے علم نحوکی داغ بیل ڈالی اور فن صرف اور معانی بیان کے اصول کو بھی بیان کیا اس طرح یہ سبق دیا کہ اگر ہوائے زمانہ مخالف بھی ہوا اور اقتدار نہ بھی تسلیم کیا جائے تو انسان کو گوشہ نشینی اور کسمپرسی میں بھی اپنے فرائض کو فراموش نہ کرنا چاہیے . ذاتی اعزاز اور منصب کی خاطر مفادملّی کو نقصان نہ پہنچایا جائے۔
پچیس برس تک رسول کے بعد حضرت علی نے خانہ نشینی میں بسر کی اور جب 35ھ میں مسلمانوں نے خلافت ُ اسلامی کامنصب حضرت علی کے سامنے پیش کیا توآپ نے پہلے انکار کیا , لیکن جب مسلمانوں کااصرار بہت بڑھ گیا تو آپ نے اس شرط سے منظو رکیا کہ میں بالکل قران اور سنت ُ پیغمبر کے مطابق حکومت کروں گا اور کسی رورعایت سے کام نہ لوں گا۔
مسلمانوں نے اس شرط کو منظور کیا اور آپ نے خلافت کی ذمہ داری قبول کی- مگر زمانہ آپ کی خالص مذہبی سلطنت کو برداشت نہ کرسکا , آپ کے خلاف بنی امیہ اور بہت سے وہ لوگ کھڑے ہوگئے جنھیں آپ کی مذہبی حکومت میں اپنے اقتدار کے زائل ہونے کا خطرہ تھا , آپ نے ان سب سے مقابلہ کرنااپنا فرض سمجھا اور جمل اور صفین اور نہروان کی خون ریز لڑائیاں ہوئیں . جن میں حضرت علی بن ابی طالب علیہ السّلام نے اسی شجاعت اور بہادری سے جنگ کی جو بدر واحد و خندق وخیبر میں کسی وقت دیکھی جاچکی تھی اور زمانہ کو یاد تھی ۔
ان لڑائی جھگڑوں کی وجہ سے آپ کو موقع نہ مل سکا کہ آپ جیسا دل چاہتا تھا اس طرح اصلاح فرمائیں . پھر بھی آپ نے اس مختصر مدّت میں اسلام کی سادہ زندگی , مساوات اور نیک کمائی کے لیے محنت ومزدوری کی تعلیم کے نقش تازہ کردئے آپ شہنشاہ ُ اسلام ہونے کے باوجود محنت مزدوری کرتے، پیوند لگے ہوئے کپڑے پہنتے،غریبوں کے ساتھ زمین پر بیٹھ کر کھاناکھالیتے ، جو روپیہ بیت المال میں آتا تھا اسے تمام مستحقین پر برابر سے تقسیم کرتے تھے ۔یہاں تک کہ آپ کے سگے بھائی عقیل نے یہ چاہا کہ کچھ انہیں دوسرے مسلمانوں سے زیادہ مل جائے مگر آپ نے انکار کردیا اور کہا کہ اگر میرا ذاتی مال ہوتا تو خیر یہ بھی ہوسکتا تھا مگر یہ تمام مسلمانوں کا مال ہے . مجھے حق نہیں ہے کہ میں اس میں سے کسی اپنے عزیز کو دوسروں سے زیادہ دوں۔
انتہا ہے کہ اگر کبھی بیت المال میں شب کے وقت حساب وکتاب میں مصروف ہوئے اور کوئی ملاقات کے لیے اکر غیر متعلق باتیں کرنے لگا تو آپ نے چراغ بجھادیا کہ بیت المال کے چراغ کو میرے ذاتی کام میں صرف نہ ہونا چاہیے . آپ کی کوشش یہ رہتی تھی کہ جو کچھ بیت المال میں آئے وہ جلد حق داروں تک پہنچ جائے . آپ اسلامی خزانے میںمال کاجمع رکھنا پسند نہیں فرماتے تھے۔
حضرت علی علیہ السلام کو 19 رمضان 40ھ کو صبح کے وقت مسجد میں عین حالتِ نماز میں ایک زہر میں بجھی ہوئی تلوار سے زخمی کیا گیا۔ جب آپ کے قاتل ابن ملجم کو گرفتار کرکے آپ کے سامنے لائے اور آپ نے دیکھا کہ اس کا چہرہ زرد ہے اور آنکھوں سے آنسو جاری ہیں تو آپ کو اس پر بھی رحم آ گیا اور اپنے دونوں فرزندوں امام حسن علیہ السلام و امام حسین علیہ السلام کو ہدایت فرمائی کہ یہ تمھارا قیدی ہے اس کے ساتھ کوئی سختی نہ کرنا جو کچھ خود کھانا وہ اسے کھلانا۔ اگر میں اچھا ہو گیا تو مجھے اختیار ہے میں چاہوں گا تو سزا دوں گا اور چاہوں گا تو معاف کردوں گا اور اگر میں دنیا میں نہ رہا اور تم نے اس سے انتقام لینا چاہا تو اسے ایک ہی ضرب لگانا، کیونکہ اس نے مجھے ایک ہی ضرب لگائی ہے اور ہر گز اس کے ہاتھ پاؤں وغیرہ قطع نہ کیے جائیں، اس لیے کہ یہ تعلیم اسلام کے خلاف ہے۔
دو روز تک حضرت علی علیہ السلام بستر بیماری پر انتہائی کرب اور تکلیف کے ساتھ رہےآخر کار زہر کا اثر جسم میں پھیل گیا اور 21 رمضان کو نمازِ صبح کے وقت آپ کی شہادت ہوئی۔آپ کا روضہ مبارک عراق کے شہر نجف اشرف میں مرجع خلائق بنا ہوا ہے۔


اسراراحمد چوہدری بشکریہ ریڈیو تہران بقلم: صفدر ہمدانی
__________________
RADIO WORLD ... UNITY FOR PEACE
اسراراحمد چوہدری آف لائن ہے   Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے اسراراحمد چوہدری کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (22-08-11), پیارا (22-08-11), نیلم خان (06-09-11), محمدخلیل (06-09-11), اویسی (07-09-11), احمد بلال (23-08-11), حیدر Rehan (06-09-11), رضی (11-09-11), غلام خان (24-08-11)
پرانا 06-09-11, 12:11 PM   #2
Senior Member
 
سیفی خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: خاموش آباد
مراسلات: 3,531
کمائي: 44,467
شکریہ: 4,038
2,386 مراسلہ میں 5,928 بارشکریہ ادا کیا گیا
سیفی خان کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں سیفی خان کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
حضرت علی علیہ السلام پہلے مرد تھے جنہوں نے اسلام کا اظہار کیا۔یہ کہنا بڑا ظلم ہے کہ علی بچوں میں سب سے پہلے اسلام لے کر آئے۔
یہ کہنا بالکل درست ہے جناب مردوں میں سب سے پہلے سیدنا ابوبکر صدیق ایمان لائے تھے اور بچوں میں سیدنا علی ایمان لائے تھے ۔ ۔
ریڈیو تہران تو اپنے مزہب کا پرچار کر رہا ہے مگر آپ کو نقل کرتے وقت اس پر دیھان دینا چاہیئے تھا
__________________

میرا بلاگ۔ صدائےقلندرhttp://saifikhan011.blogspot.com/
سیفی خان آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے سیفی خان کا شکریہ ادا کیا
نیلم خان (06-09-11), زبیرافتحار (06-09-11)
پرانا 06-09-11, 12:19 PM   #3
ذیلی ناظم
 
نیلم خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,904
کمائي: 561,067
شکریہ: 25,573
10,451 مراسلہ میں 38,586 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

حضرت علی علیہ السلام پہلے مرد تھے جنہوں نے اسلام کا اظہار کیا۔یہ کہنا بڑا ظلم ہے کہ علی بچوں میں سب سے پہلے اسلام لے کر آئے۔


کیا ہو گیا ہے چوہدری صاحب
__________________
سمندر نے سمندر ،دریا نے دریا جانا مجھے
جسکا جتنا ظرف تھا اتنا ہی پہچانا مجھے
نیلم خان آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے نیلم خان کا شکریہ ادا کیا
اویسی (07-09-11), رضی (11-09-11), سیفی خان (06-09-11)
پرانا 06-09-11, 12:46 PM   #4
Senior Member
 
محمدخلیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: جنڈانوالہ کھاریاں پاکستان
عمر: 26
مراسلات: 10,975
کمائي: 48,858
شکریہ: 7,287
5,956 مراسلہ میں 15,118 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدخلیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدخلیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بہت اچھے بھائی جان خوش رہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محمدخلیل آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا
نیلم خان (06-09-11), حیدر Rehan (06-09-11)
پرانا 06-09-11, 12:49 PM   #5
ذیلی ناظم
 
نیلم خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,904
کمائي: 561,067
شکریہ: 25,573
10,451 مراسلہ میں 38,586 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : محمدخلیل مراسلہ دیکھیں
بہت اچھے بھائی جان خوش رہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کون سے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ ؟؟؟
نیلم خان آف لائن ہے   Reply With Quote
نیلم خان کا شکریہ ادا کیا گیا
سیفی خان (06-09-11)
پرانا 06-09-11, 09:37 PM   #6
Senior Member
 
اسراراحمد چوہدری's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 200
کمائي: 7,231
شکریہ: 146
162 مراسلہ میں 425 بارشکریہ ادا کیا گیا
Cool

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سیفی خان مراسلہ دیکھیں
یہ کہنا بالکل درست ہے جناب مردوں میں سب سے پہلے سیدنا ابوبکر صدیق ایمان لائے تھے اور بچوں میں سیدنا علی ایمان لائے تھے ۔ ۔
ریڈیو تہران تو اپنے مزہب کا پرچار کر رہا ہے مگر آپ کو نقل کرتے وقت اس پر دیھان دینا چاہیئے تھا
محترم
بہت شکریہ آپ کا اس طرف توجہ کروانے کی ۔۔۔ بس ذرا جلدی میں یہ سب ہوا۔معذرت
اسراراحمد چوہدری آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے اسراراحمد چوہدری کا شکریہ ادا کیا
رضی (11-09-11), سیفی خان (06-09-11)
پرانا 06-09-11, 10:14 PM   #7
Senior Member
 
سیفی خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: خاموش آباد
مراسلات: 3,531
کمائي: 44,467
شکریہ: 4,038
2,386 مراسلہ میں 5,928 بارشکریہ ادا کیا گیا
سیفی خان کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں سیفی خان کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اللہ ہم سب کو صحیح بات سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے اٰمین
سیفی خان آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 06-09-11, 11:53 PM   #8
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,881
کمائي: 51,204
شکریہ: 7,930
2,141 مراسلہ میں 4,913 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : اسراراحمد چوہدری مراسلہ دیکھیں
محترم
۔۔ بس ذرا جلدی میں یہ سب ہوا۔معذرت
سلام ان پر جو حق کے طرفدار ہیں

کس بات کی معذرت ۔ ۔ ۔جب اپ نے لکھ دیا کہ "" بشکریہ ریڈیو تہران بقلم: صفدر ہمدانی""
تو پھر کسی کو اپ سے غلطی کی امید کیوں ہے ۔ ۔
اور اگر آپ اسی طرح معذرت کرتے رہےتو پھر یہ لوگ ہر لائن پر دو تین بار معذرت کروائیں گئے ۔

اور دوسری بات یہ کہ
کیا یہ لوگ صفدر ہمدانی کو جانتے ہیں؟
__________________
شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک
حیدر Rehan آن لائن ہے   Reply With Quote
حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 07-09-11, 12:31 PM   #9
Senior Member
 
محمدخلیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: جنڈانوالہ کھاریاں پاکستان
عمر: 26
مراسلات: 10,975
کمائي: 48,858
شکریہ: 7,287
5,956 مراسلہ میں 15,118 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدخلیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدخلیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سیفی خان مراسلہ دیکھیں
اللہ ہم سب کو صحیح بات سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے اٰمین
کیسے سمجھ آئے گی آپ کو؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ جو شہر علم کا دروازہ ہے اس پر یقین نہیں ہے آپ کو ۔۔۔۔
__________________
تم لوگوں کی اس دنیا میں ہر قدم پہ انساں غلط
میں صحیح سمجھ کہ جوبھی کروں تم کہتے ہو غلط
میں غلط ہوں تو پھر کون صحیح؟
محمدخلیل آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا
اویسی (07-09-11), حیدر Rehan (07-09-11)
پرانا 07-09-11, 12:37 PM   #10
Senior Member
 
سیفی خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: خاموش آباد
مراسلات: 3,531
کمائي: 44,467
شکریہ: 4,038
2,386 مراسلہ میں 5,928 بارشکریہ ادا کیا گیا
سیفی خان کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں سیفی خان کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اکیلے دروازے سے شہر مکمل نہیں ہوتا محترم ۔ ۔ ۔ الحمد للہ سیدنا علی میرے ایمان حصہ ہیں اسی طرح جس طرح سیدنا ابوبکر میرے ایمان کا حصہ ہیں ۔ ۔

مجھ میں اور آپ میں فرق اتنا ہے کہ آپ اصحاب پیغمبر کو تاریخی روایات سے پرکھتے ہو اور ہم قرآن وحدیث سے ۔ ۔

اصحابی کاالنجوم ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
سیفی خان آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 07-09-11, 02:26 PM   #11
Senior Member
 
محمدخلیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: جنڈانوالہ کھاریاں پاکستان
عمر: 26
مراسلات: 10,975
کمائي: 48,858
شکریہ: 7,287
5,956 مراسلہ میں 15,118 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدخلیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدخلیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

جناب میرا بھی سب پر ایسے ایمان ہے جیسے حضرت علی ع پر۔

اور عرض کرتا چلوں کہ دروازے کی بھی کوئی حثیت نہیں اگر شہر نہ کہے کہ علی ع اس کا دروازہ ہے۔
جن کو میری بات کی سمجھ آئے گی وہ واہ واہ کریں گے۔
محمدخلیل آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا
جواب

Tags
فرض, پسند, قرآن, قران, لوگ, نماز, نظر, مکہ, مقابلہ, مسائل, مسجد, معلوم, معراج, آدمی, اللہ, اسلام, اسلامی, بے نظیر, بچوں, تعلیم, خدا, رمضان, عورت, علی, غزوہ بدر


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
یوم آزادی ؛ یوم استقلال - 14 اگست 2011 گوہر اپکے کالم 0 14-08-11 11:45 AM
بجلی کے ہر یونٹ پر آج سے 2 فیصد ایکیولائزیشن سرچارج عائد ہوگا گلاب خان خبریں 0 12-03-11 06:19 AM
پنجاب یونیورسٹی کے سینکڑوں طلبہ کا لوڈشیڈنگ کے خلاف PDآفس کا گھیراﺅ ابن جلال خبریں 1 25-10-08 11:56 AM
آئی سی ایل ورلڈ سیریز : انڈین الیون نے ورلڈ الیون کو شکست دیدی عبدالقدوس کھیل اور کھلاڑی 0 13-04-08 09:37 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 07:33 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger