واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > علوم حدیث > تاریخ حدیث



تاریخ حدیث تاریخ حدیث


Hot مشہور مصنفین جن کی تصنیفات ضعیف اور موضوع حدیث کی حامل ہیں

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 18-02-11, 11:02 PM   #1
Hot مشہور مصنفین جن کی تصنیفات ضعیف اور موضوع حدیث کی حامل ہیں
ابن جمال ابن جمال آف لائن ہے 18-02-11, 11:02 PM


Hot مشہور مصنفین جن کی تصنیفات
ضعیف اور موضوع حدیث کی حامل ہیں


دور حاضر میں جن علماء کی کتابیں لوگ پڑھتے ہیں اور جن پر انکا دارومدار ہے وہ عام طور پر حجۃ الاسلام امام غزالی، ابن جوزی،حافظ منذری، امام نووی، حافظ ذہبی، حافظ ابن حجر ، علامہ سیوطی، حافظ ابن قیم وغیرہ ہیں۔ انہی کی کتابیں عمومی طور پر زیادہ مطالعہ میں رہتی ہیں اور انہی کی کتابوں سے عموماً مصنفین اپنی کتابوں کیلئے مواد لیتے ہیں۔ ان مصنفین نے اپنی کتابوں میں احادیث رسول کو کثرت سے بیان کیا ہے۔ لیکن عمومی طور پر سند ذکر نہیں کی ہے اگر وہ سند ذکر کر دیتے تو اپنے ذمہ اور عہدہ سے بری ہو جاتے لیکن انہوں نے احادیث بغیر سند کے ذکر کی ہیں تو ان پر ذمہ داری زیادہ ہو جاتی ہے کہ وہ صحیح ،حسن یا ضعیف احادیث اگر فضائل کے باب میں ہو تو ذکر کریں۔ لیکن افسوس کہ ایسا نہیں ہے۔ بسا اوقات ایسا بھی ہوا کہ جس محدث یا حافظ نے دوسروں کے موضوع اور شدید ضعیف حدیث کو نقل کرنے پر تنقید کی تھی خود اسی کے مرتکب ہوئے۔

امام غزالی: امام غزالی کی عظمت اور شان اس سے کہیں بلند ہے کہ مجھ جیسا یا کوئی دوسرا ان کی تعریف کماحقہ بیان کرسکے۔ انہوں نے منطق پر ایسی کاری ضرب لگائی کہ سو سال کیلئے اس کا کسی سے کوئی جواب نہ بن پڑا۔ دوسری طرف وہ فقہ کلام اصول سب میں مہارت رکھتے تھے ۔اگر کسی فن میں ان کو کم دسترس حاصل تھی تو وہ حدیث شریف ہے۔ خود انہوں نے بھی اپنی کتاب قانون التاویل (ص16) میں اس کا اعتراف کیاکہ علم حدیث میں میری پونچی مخلوط اور ملی جلی ہے۔ یعنی بہت کم ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ان کی وہ کتب جس میں احادیث رسول کا ذکر ہوں ضعیف اور موضوع حدیثیں کثرت سے اس میں راہ پا جاتی ہیں۔ احیاء علوم الدین ان کی مشہور زمانہ کتاب ہے جس کو اسلامی انسائیکلوپیڈیا بھی کہا جاتا ہے۔ اس میں کثرت سے ضعیف اور موضوع حدیثیں آئی ہیں ۔ شاید ان کا عذر یہ ہوکہ انہوں نے اس سلسلے میں اپنے سے مقدم ابوطالب مکی پر اعتماد کیا اور ان کی کتاب قوت القلوب سے احادیث لیں۔ احیاء علوم الدین میں ضعیف اورموضوع حدیثوں کی کثرت کی وجہ سے محدثین نے اس کی احادیث کی تخریج کی جانب توجہ کی اوراحادیث کے مرتبہ اور مخرج کو بیان کر دیا۔

حافظ عراقی نے احیاء علوم الدین کی احادیث کی تخریج دو کتابوں میں کی۔ امام سبکی نے طبقات الشافعیۃ الکبریٰ میں ایک بڑا فصل احیاء کی ان احادیث کیلئے خاص کردیا جس کی کوئی سند نہیں ہے۔ ان محدثین کی کوششوں کو پایہ تکمیل تک علامہ شیخ مرتضیٰ الزبیدی نے احیاء کی شرح ’اتحاف السادۃ المتقین بشرح اسرار علوم الدین‘‘ پہنچایا۔

علامہ شیخ مرتضیٰ الزبیدی نے اتحاف السادۃ المتقین کے مقدمہ (1/2 میں لکھا ہے۔

’اس کی احادیث کی تخریج حافظ زین الدین عراقی نے دو کتابوں میں کی ہے ایک توبہت بڑی ہے اورکئی جلدوں میں ہے۔ یہ کتابوں نے 751 میں لکھی ہے۔ لیکن چونکہ اس میں ایسی بھی احادیث تھی جس کے بارے میں وہ مطلع نہیں ہوسکے تھے جب ان احادیث پروہ مطلع ہوئے توانہوں نے 760 میں اپنی تصنیف کا اختصار کیا اور اسکا نام المغنی عن حمل الاسفار رکھا اوراس میں حدیث کے طرق، صحابی کا نام، مخرج کا نام، اوراس حدیث کے صحت اورضعف کو واضح کرنے پر اکتفاء کیا۔حافظ عراقی کے بعد ان کے شاگرد حافظ ابن حجر عسقلانی نے ایک جلد میں ان احادیث کااضافہ کیا جس پر حافظ عراقی مطلع نہیں ہوسکے یا وہ ان سے چھوٹ گئیں۔ بعدازاں حافظ قاسم بن قطلوبغا حنفی نے ایک کتاب لکھی’تحفۃ الاحیاء فیمافات من تخریج احادیث الاحیاء، نام سے ہی کتاب کا موضوع واضح ہے۔

حافظ ابن جوزی:حافظ ابن جوزیٌ حافظ حدیث تو ہیں ہی، اسی کے ساتھ ساتھ وہ فقیہ ،واعظ، اصولی، مفسر سب کچھ ہیں۔ اورایک کتاب میں شاید صید الخاطر میں اپنے بارے میں لکھا ہے کہ میرا من چاہتا ہے کہ یہ بن جاؤں وہ جاؤں اس فن میں کمال حاصل کروں ،اور اُس فن میں دسترس حاصل کروں۔ ایک حد تک خدا نے انہیں مختلف فنون میں مہارت اور دستگاہ سے نوازا بھی۔ انہوں نے موضوع حدیثوں پر ایک بڑی کتاب لکھی جس کا نام ہی موضوعات رکھا۔ اس کتاب کی تالیف کا مقصد انہوں نے یہ بتایا کہ علماء اور واعظین موضوع اور شدید ضعیف احادیث جان کر اس سے بچیں اورپرہیز کریں۔

ایک جانب تو انہوں نے اپنی کتاب موضوعات میں اتنی شدت برتی کہ بہت ساری صحیح حدیثوں کو بھی موضوع قرار دے دیا ۔دوسری جانب ایسا تساہل اور ایسی غفلت برتی کہ اپنے مواعظ اور اپنی تصنیفات جیسے تلبیس ابلیس، ذم الہوی، رؤوس القواریر اور تبصرہ وغیرہ میں موضوع احادیث نقل کر دیں۔ حیرت تو اس پر ہے کہ بعض ایسی حدیثیں بھی وہ اپنی تصنیفات میں لائے ہیں جس کو ’موضوعات ‘ میں وہ خود موضوع قرار دے چکے ہیں۔ علامہ ابن تیمیہ نے اپنی تصنیف الرد علی البکری (ص19) میں لکھا ہے کہ ’’ ابونعیم حلیہ میں صحابہ کے فضائل اور زہد کے باب میں عجیب احادیث نقل کی ہیں جن کو وہ (ابونعیم) بھی جان رہے ہیں کہ موضوع ہے۔ اسی طرح خطیب بغدادی (خطیب بغدادی نے تو تاریخ بغداد میں امام ابوحنیفہ کے باب میں توحد ہی کر دی۔ امام ابوحنیفہ کے بارے میں ایسے راویوں سے مثالب نقل کیا ہے جس کے بارے میں تمام محدثین متفق ہیں کہ وہ کذاب اور وضاع ہے۔ روایات چراتے ہیں یا دوسرے محدثین کی کتابوں میں اپنی جانب سے کچھ حذف واضافہ کر دیتے ہیں۔ پتہ نہیں خطیب بغدادی کے پاس اللہ کے ہاں اپنی اس حرکت کا کیا جواب ہو گا) اور ایسے ہی ہین ابن جوزی،ابن عساکر ،ابن ناصر اوردیگر۔ حافظ سخاوی نے بھی شرح الفیہ میں (ص107) میں بیان کیا ہے’ابن جوزی نے اپنی واعظانہ تصنیفات یااس جیسی میں موضوع اوراسی قبیل کی روایات کو جگہ دی ہے۔

حافظ منذری: حافظ منذری کی علم حدیث میں جلالت قدر مسلم ہے اور ان کی تصنیف الترغیب والترہیب اپنے موضوع پر شاید سب سے بہترین کتاب ہے۔ علامہ محمد عبدالحی الکتانی المغربی نے الرحمۃ المرسلہ فی شان حدیث البسملہ(ص15) میں حافظ سیوطی کا قول ایک سوال کے جواب میں نقل کیا ہے کہ ’جب کسی حدیث کے بارے میں یہ معلوم ہو جائے کہ وہ الترغیب والترہیب میں ہے تو اس کو اطمینان قلب کے ساتھ قبول کرو، یعنی کسی تذبذب میں پڑنے کی ضرورت نہیں کہ کیا پتہ یہ حدیث موضوع ہے یا ضعیف ہے۔
اس سے مراد یہ ہے کہ اس میں کوئی حدیث ایسی نہیں ہے جو کہ موضوع ہے ضعیف احادیث تو اس میں بکثرت ہیں۔ لیکن اسی کے ساتھ ساتھ حافظ منذری ضعیف احادیث کے ضعف کی جانب اشارہ بھی کر دیا ہے جیساکہ انہوں نے مقدمہ میں صراحت کر دی ہے۔ بعض حدیثیں اس میں ایسی ضرور ہیں جو کہ انتہائی شدید ضعف کی حامل ہیں بلکہ موضوع کے قریب تک ہیں۔ لیکن چونکہ ترغیب وترہیب کا معاملہ ہے اس لئے اس میں تھوڑی گنجائش ہوسکتی ہے۔

افسوس اس بات پر ہے کہ بعض واعظین اورخطباء جو امام منذری کی اصطلاح سے ناواقف ہیں وہ الترغیب والترہیب میں ہر حدیث کو دیکھ کر اس کو ایسے جزم واطمینان سے بیان کرتے ہیں جیسے بخاری ومسلم کی حدیث ہو۔ جب کہ حافظ منذری نے مقدمہ میں صراحت کر دی ہے کہ ان کے نزدیک جو حدیث صحیح یا حسن ہے یا اس کے قریب ہے تو وہ اس کو عن سے ذکر کرتے ہیں اور جو حدیث ضعف شدید کی حامل ہو اس کا راوی متہم بالکذب ہو، یا اس کے ترک پر محدثیں متفق ہوں، ساقط الاعتبار ہو، اس کی حدیث روی سے ذکر کرتے ہیں۔ اس نکتہ کو الترغیب والترہیب کا مطالعہ کرنے والوں کو ملحوظ رکھنا چاہئے۔

(دور حاضر کے مشہور محدث ناصرالدین الالبانی نے الترغیب والترہیب کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے ۔ صحیح الترغیب والترہیب اور ضعیف الترغیب والترہیب۔ چونکہ احادیث کی تصحیح میں وہ تشدد برتتے ہیں اسلئے اگر وہ کسی حدیث کو صحیح یا حسن قرار دیں تواسے توقبول کرنا چاہئے۔ لیکن اگر وہ کسی حدیث کو ضعیف اور موضوع قرار دیں تو پھر تنہا ان کی رائے پر اعتماد کرنے کے بجائے دیگر علماء حدیث سے بھی دریافت کرنا چاہئے۔

ہذا ماعندی واللہ اعلم بالصواب)

Last edited by کنعان; 19-02-11 at 02:56 AM.. وجہ: Re-Organised

 
ابن جمال's Avatar
ابن جمال
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 165
شکریہ: 266
149 مراسلہ میں 489 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 328
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے ابن جمال کا شکریہ ادا کیا
کنعان (19-02-11), محمد عاصم (19-02-11), مرزا عامر (18-02-11), آبی ٹوکول (18-02-11), عبداللہ آدم (19-02-11), عبداللہ حیدر (19-02-11)
پرانا 18-02-11, 11:05 PM   #2
Senior Member
مقبول
 
ابن جمال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 165
کمائي: 5,060
شکریہ: 266
149 مراسلہ میں 489 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default


امام نووی
:
امام نووی کی ذات اورحدیث اور فقہ کی جامع ہے۔ وہ ان علماء میں سے ایک ہیں جن کو شوق علم نے شادی بیاہ اورگھر بسانے کی مہلت نہ دی۔ بہت کم علماء ایسے ہوتے ہین جو حدیث اور فقہ دونوں کے جامع ہوتے ہیں اگر کوئی حدیث میں رسوخ اور دسترس رکھتا ہے تو فقہ اس کی پہنچ سے باہر ہوتا ہے اور اگر کوئی فقہ میں مہارت رکھتا ہے تو حدیث میں اس کی واقفیت کمتر ہوتی ہے۔ لیکن کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو حدیث اور فقہ دونوں کے مجمع البحرین ہوتے ہیں اور ان کی ہستی ان دونوں علوم شریف کی جامع ہوتی ہے۔

حافظ سیوطی امام نووی کی تصنیفات کے بارے میں لکھتے ہیں ’’جب تمہیں کسی حدیث کے بارے میں معلوم ہو کہ وہ شیخ محی الدین نووی کی تصنیفاتمیں سے کسی میں ہے تو تم اطمینان قلب کے ساتھ اس کی روایت کرو۔
(الرحمۃ المرسلہ 15)

اطمینان قلب سے یہاں حافظ سیوطی کی مراد یہ ہے کہ وہ اپنی تصنیفات میں موضوع حدیث نقل نہیں کرتے ہیں اورجہاں تک بات ضعیف حدیث کی ہے تو اس سے بھی ان کی کتب محفوظ ہیں۔ ہاں صرف ان کی تصنیف الاذکار میں ضعیف حدیث بکثرت آئی ہیں اور شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ جیساکہ ان کا مسلک ہے کہ فضائل اعمال میں ضعیف حدیث پر عمل جائز ہے ۔

ضعیف حدیث پر فضائل اعمال میں عمل کرنا جائز ہے یا نہیں کرنا چاہئے یا نہیں اس پر علماء کے درمیان اختلاف ہے
(انشاء اللہ اگر فرصت ملی تو امام لکنوی کی تحقیق پیش کرنے کی کوشش کروں گا)

امام نووی نے اپنی تصنیف ریاض الصالحین میں اس بات کا اہتمام کیا تھا کہ وہ اس میں صرف صحیح احادیث ہی ذکر کریں گے۔ اور انہوں نے بڑی حد تک اس پابندی کو نبھایا بھی ہے لیکن کہیں کہیں ضعیف حدیثیں آہی گئیں ۔
مثلا الیکس من دان نفسہ ،مااکرم شاب شیخا لسنہ الاقیض اللہ لہ من یکرمہ عندکبرسنہ اورلاتشربوواحداً کشرب البعیر

اس کے علاوہ بھی ڈھونڈنے والوں کو دیگر ضعیف احادیث مل سکتی ہیں۔ شاید اس بارے میں ان کا عذر یہ ہو جیساکہ میں نے پہلے بھی ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ حدیث کی صحت اور ضعف ایک اجتہادی امر ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ایک محدث کسی حدیث کو صحیح سمجھتا ہو جب کہ دوسرے محدث کو اپنے علم وفہم کی روشنی میں وہ حدیث ضعیف معلوم ہوتی ہو۔ تو شاید ان احادیث کو امام نووی نے اپنے اجتہاد وعلم کی روشنی میں صحیح سمجھ کر نقل کیا ہو۔
وفوق کل ذی علم علیم

حافظ ذہبی:
زباں پر بار خدا یہ کس کا نام آیا۔ وہ واقعتاً علم وفن کی دنیا کے شمس تھے۔ وہ صرف سوناہی نہیں بلکہ پارس تھے نہ معلوم کتنے حفاظ اور محدثیں اور فقہاء اور طالب علم اور مورخین ان کی تصنیفات سے فیضیاب ہوئے۔ حافظ الدنیا حافظ ابن حجر عسقلانی نے خدا کے حضور دعا کی تھی کہ انہیں ان کے جیسا حافظہ نصیب ہو۔
لیکن کاش ۔۔۔۔۔۔ واقعتاً خدا کی کاریگری عجیب ہے اور اللہ نے انسان کو سارے کمالات دے کر بھی اسے کچھ کمزوریوں سے نواز دیا تاکہ وہ اپنی حقیقت مستحضر رکھے۔

حافظ ذہبی کی ایک کتاب ’کتاب الکبائر‘ ہے جس میں وہ کثرت سے ضعیف حدیث نقل کی ہے بلکہ حد تو یہ ہے کہ اس کتاب میں چند احادیث ایسی بھی ہیں جو موضوع ہیں ضعیف احادیث کے بارے میں تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ چلو مان لیا ترغیب وترہیب کے باب میں ضعیف حدیث نقل کی جا سکتی ہے لیکن موضوع ، شاید اس باب میں یہی عذر ہو گا کہ ان کو ان احادیث کے موضوع ہونے کا علم نہ ہو یا ان کے اپنے علم وفہم کی روشنی میں وہ احادیث موضوع نہ ہوں۔

1- صفحہ 22 پر نماز چھوڑنے پر وعید کے سلسلے میں ایک بڑی اور طویل حدیث نقل کی ہے جس کا باطل ہونا ہر صاحب علم وبصیرت کو معلوم ہو گا۔ حیرت تو یہ ہے کہ حافظ ذہبی نے خود میران الاعتدال میں محمد بن علی بن عباس العطار کے ترجمہ میں اس حدیث کو موضوع قرار دیا ہے۔ تمام تعریف اور بڑائی اللہ ہی کیلئے اور اسی کی ذات تمام عیبوں سے پاک ہے۔

حافظ ابن حجر نے بھی 5/295 میزان الاعتدال میں اس حدیث کو موضوع قرار دیا ہے۔

2- عقوق والدین گناہ کبیرہ ہے۔ اس کے ضمن میں حسین بن علی سے مرفوعا یہ روایت نقل کی ہے کہ اگر کوئی چیز اف سے بھی کمتر ہوتی تو اللہ اسے سے منع کر دیتا۔

(اشارہ آیت قرآنی ولاتقل لھمااف کی جانب ہے کہ والدین سے اگر کچھ پریشانی اور سرگرانی ہو تو بھی ان کے سامنے اف تک مت کہو)

اس روایت کا ایک راوی ہے اصرم بن حوشب ہے جس کے بارے حافظ ذہبی نے خود میزان الاعتدال 126/1 میں لکھا ہے۔ امام یحیٰ نے اس کو کذاب خبیث کہا ہے اور ابن حبان کا اس کے بارے میں کہنا ہے کہ وہ احادیث وضع کرتا تھا۔

3- ص44-46 میں علقمہ کی ماں کی ناراضگی اور اسکی ماں کا اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت نقل کیا ہے۔

کاش حافظ ذہبی اپنی اس گراں قدر کتاب کو موضوع روایت سے خالی رکھتے تو یہ کتاب اپنے باب میں بہت عمدہ اور نافع ہوتی۔ لیکن جیساکہ کہا جاتا ہے کہ بڑے سے بڑا شہسوار بھی کہین نہ کہیں پھسل جاتا ہے اسی طرح بڑے سے بڑا عالم اور محدث اور فقیہ سے بھی کہیں نہ کہیں لغزش ہو ہی جاتی ہے اور اس کے پاؤں حق اور صواب سے دور جا پڑتے ہیں۔ کیونکہ تمام تر عیب سے پاک ذات تو صرف باری تعالی کی ہے۔

حافظ سیوطی:
اگر کثرت تصنیفات کے اعتبار سے دیکھا جائے تو بلاشبہ حافظ سیوطی کی تصنیفات ایک زندہ کرامت معلوم ہوتی ہیں کہ انہوں نے تن تنہا اتنی ساری مصروفیات اور درس و فتویٰ کی ذمہ داریوں کے باوجود اتنی کتابیں کس طرح لکھ سکے۔ لیکن جیساکہ حضرت شاہ عبدالعزیز ؒ محدث دہلوی کا ارشاد ہے کہ کثرت تصنیفات بذات خود کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ اصل چیز یہ ہے کہ کتاب کی معنوی قدروقیمت کتنی زیادہ ہے اور مصنف نے اس کتاب میں کتنی محنت کی ہے اور علم وفن کی سنگلاخ وادیوں سے کتنے جواہر پارے اور ہیرے موتی سمیٹنے میں کامیاب ہو سکا ہے۔ اس پیمانہ پر دیکھا جائے تو مشہور فقیہ ابن دقیق العید کی کم تصنیفات ہی حافظ سیوطی کی بیشتر تصنیفات پر بھاری ہیں ۔لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ کثرت معلومات میں متاخرین میں حافظ سیوطی کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ وہ تفسیر، حدیث ،فقہ اصول فقہ ،منطق، بلاغت ،علم کلام غرضیکہ بیشتر علوم وفنون میں مہارت رکھتے ہیں۔

حافظ سیوطی کا شمار محدثین کے اس طبقے میں ہوتا ہے جو احادیث پر حکم لگانے میں تساہل برتتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ ان کی بیشتر تصنیفات ضعیف اور موضوع احادیث کی آماجگاہ ہیں۔ خاص طور سے ان کی تصنیف الجامع الصغیر میں تو موضوعات بھی بکثرت موجود ہیں۔ اگرچہ انہوں نے مقدمہ میں کہا ہے کہ میں نے اس میں ایسی احادیث لانی سے گریز کیا ہے جس کی سند میں کوئی کذاب یا وضاع ہو۔ لیکن الجامع الصغیر کے شارح علامہ مناوی جنہوں نے الفیض القدیر نام سے شرح لکھی ہے وہ کہتے ہیں ان کا یہ کہنا محض دعویٰ کی حیثیت رکھتا ہے یا بیشتر احادیث کے اعتبار سے صحیح ہو سکتا ہے کیونکہ انہوں نے سند کی ویسے پرکھ نہیں کی جیسی کہ کرنی چاہئے تھی یہی وجہ ہے کہ اسمیں موضوع احادیث بھی درآئی ہیں۔اس کے باوجود اس میں کلام نہیں یہ کتاب ترتیب اورحسن تنسیق کے اعتبار سے بہت بہتر کتاب ہے۔

تعجب کی بات یہ ہے کہ حافظ سیوطی نے اس میں کچھ ایسی بھی احادیث نقل کی ہیں جس کو وہ اللالی المصوغہ فی الاحادیث الموضوعہ میں موضوع قرار دے چکے ہیں۔ صحیح ہے انسان خطا اور نسیان کا پتلا ہے۔

جامع صغیر میں موضوع احادیث پر مشہور محدث محدث احمد بن صدیق غماری نے ایک خاص کتاب لکھی ہے جس کانام المغیر علی الاحادیث الموضوعۃ فی الجامع الصغیر رکھا ہے۔ اس میں انہوں نے نہایت دقت نظر سے جامع صغیر مین موجود موضوع احادیث کی جانب نشاندہی کی ہے۔ جامع صغیر میں پندرہ احادیث تو ایسی ہیں جس کے بارے میں خود حافظ سیوطی نے ان کے موضوع ہونے کا اللآلی میں اعتراف کیا ہے۔ سات حدیثیں وہ ہیں جس میں وہ موضوع ہونے پر حافظ ابن جوزی کی تائید کرتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود یہ کہے بغیر چارہ کار نہیں ہے کہ محدث غماری نے جس طرح حافظ سیوطی اور علامہ مناوی پر حملے کئے ہیں اوران کے بارے میں الفاظ استعمال کئے ہیں وہ اہل علم کی شان سے بعید ہے۔

حافظ ابن قیم:
حافظ ابن قیم جودت ذہن، اخاذ طبعیت ،فکر کی روانی وسیلانی اور فقہ القرآن والحدیث میں اپنی نظیرآپ ہیں۔لیکن اس کے باوجود حیرت ہے کہ انہوں نے کس طرح اپنی بعض تصنیفات میں ضعیف اور منکر احادیث کو راہ دیا ہے بغیر اس کے کہ حدیث کے ضعف پر متنبہ کریں۔ ان کا ایک خاص وصف یہ بھی ہے کہ جب کوئی حدیث ان کے نظریہ یا مشرب ومسلک کے موافق ہو تو اس کی تائید کی جی توڑ کوشش کرتے ہیں اور اس کو ثابت اور قابل دلیل بنانے کی ہر ممکن جدوجہد کرتے ہیں۔

ایک مثال ملاحظہ ہو
زادالمعاد فی ھدی خیرالعباد میں وفد بن المنتفق پر کلام کرتے ہیں وہ ایک طویل حدیث لائے ہیں جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے۔ ثم تلبثون مالبثتم،ثم تبعت الصائحۃ فلعمرو الھک ماندع علی ظہر ہاشیئاً الامات ،تلبثون مالبثتم،ثم یتوفی نبیکم والملائکۃ الخ
اس حدیث کو ذکر کرنے کے بعد انہوں نے اس حدیث کی عظمت اور شان کو اپنی خداداد فصاحت وبلاغت سے بیان کرنے کی کوشش کی ہے کہ یہ حدیث بہت عظمت اورشان والی ہے اور اس کی یہ شان اور عظمت گواہی دے رہی ہے کہ یہ مشکوۃ نبوت سے نکلا ہے۔ اس حدیث کو اگرچہ صرف عبدالرحمن بن مغیرہ مدنی کے طریق سے جانا جاتا ہے ۔ پھر انہوں نے عبدالرحمن اور جنہوں نے اس سے مرسلاًغریباً روایت کیا ہے اس کی توثیق پر زور صرف کیا ہے۔ حالانکہ باتفاق محدثین یہ حدیث حددرجہ ضعیف اور منکر ہے۔ اور وہ اس کے بارے میں خوب جانتے ہیں لیکن اپنی عادت کے موافق اس حدیث کی تائید میں زور صرف کیا ہے۔ جب کہ حافظ ابن کثیر نے البدایہ اوالنہایہ 80-82/5 میں اس حدیث کو ذکر کرنے کے بعد اس پر حکم لگاتے ہوئے کہا یہ حدیث بہت زیادہ غریب ہے۔ اور اس کے بعض الفاظ میں نکارت ہے۔ اسی طرح حافظ ابن حجر نے تہذیب التہذیب میں عاصم بن لقیط بن عامر بن المنتفق العقیلی57/5 کے ترجمہ میں اس حدیث کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہوحدیث غریب جداً

حد یہ ہے کہ انہوں نے اس حدیث کی تصحیح میں اس قدر مبالغہ سے کام لیا کہ کسی کا یہ قول بھی نقل کر دیا

ولاینکر ھذاالحدیث الاجاحد،اوجاہل،اومخالف للکتاب والسنہ
یعنی اس حدیث کا انکار وہی کرے گا جو منکر ہو گا یا جاہل ہو گا یا کتاب وسنت کا مخالف ہوگا۔

سچ ہے حب الشی یعمی ویصم کسی بھی شئے کی اندھی محبت آدمی کو اندھا اور بہرا بنا دیتی ہے۔ کیا اس سے یہ مراد لیا جائے کہ حافظ ابن کثیر اورحافظ ابن حجر جاحد،جاہل اورکتاب وسنت کے مخالف ہیں۔

نوٹ: زادالمعاد فی ہدی خیرالعباد کے علاوہ بھی حضرت ابن القیم کی کئی کتابیں جس میں وہ ضعیف حتی کہ موضوع حدیث تک ذکر کرتے چلے جاتے ہیں۔ مثلا کتاب الروح ،مدارج السالکین اور دوسری کتابیں۔
الاجوبۃ الفاضلہ،مولف علامہ عبدالحی اللکنوی، محقق شیخ عبدالفتاح ابوغدہ،صفحہ120تا130

Last edited by کنعان; 19-02-11 at 03:25 AM. وجہ: Re-Organised
ابن جمال آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے ابن جمال کا شکریہ ادا کیا
کنعان (19-02-11), محمد عاصم (19-02-11), مرزا عامر (18-02-11), آبی ٹوکول (18-02-11), ابوسعد (19-04-11), عبداللہ آدم (19-02-11)
جواب

Tags
فن, کوششوں, کلام, کمال, کتابوں, لوگ, مخلوط, معلوم, اللہ, اسلامی, بہترین, ترک, جواب, حدیث, دریافت, زمانہ, شاگرد, علی, عراقی, عظمت, غفلت, صحیح, صحابہ, صحابی, صحت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
موسیٰ خیل میں کوئلے کی کان کا تنازع ،آرمی چیف کی ہدایت پرتصفیہ کردیا گیا گلاب خان خبریں 0 02-03-11 04:33 AM
بھارت سے کشمیر پر تصفیہ ہونے والا تھا:پرویز مشرف جاویداسد خبریں 3 10-10-10 06:35 AM
تصمیم میں‌اب نستعلیق اسپورٹ! arifkarim سوفٹ ویرز کے بارے میں آپکی رائے اور سوفٹ ویر کی درخواست 0 18-04-09 02:52 AM
اجمیری مینشن سے متصل16 گھروں کے فرش بھی بیٹھ گئے عبدالقدوس خبریں 2 24-02-09 10:44 AM
مہر جتوئی قبائل تصفیہ، دونوں قبائل پر زخمیوں کا جرمانہ عائد عبدالقدوس خبریں 0 14-04-08 09:28 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 07:39 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger