| تاریخ حدیث تاریخ حدیث |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 328
|
||||
| 6 قاری/قارئین نے ابن جمال کا شکریہ ادا کیا | کنعان (19-02-11), محمد عاصم (19-02-11), مرزا عامر (18-02-11), آبی ٹوکول (18-02-11), عبداللہ آدم (19-02-11), عبداللہ حیدر (19-02-11) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 165
کمائي: 5,060
شکریہ: 266
149 مراسلہ میں 489 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
امام نووی: امام نووی کی ذات اورحدیث اور فقہ کی جامع ہے۔ وہ ان علماء میں سے ایک ہیں جن کو شوق علم نے شادی بیاہ اورگھر بسانے کی مہلت نہ دی۔ بہت کم علماء ایسے ہوتے ہین جو حدیث اور فقہ دونوں کے جامع ہوتے ہیں اگر کوئی حدیث میں رسوخ اور دسترس رکھتا ہے تو فقہ اس کی پہنچ سے باہر ہوتا ہے اور اگر کوئی فقہ میں مہارت رکھتا ہے تو حدیث میں اس کی واقفیت کمتر ہوتی ہے۔ لیکن کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو حدیث اور فقہ دونوں کے مجمع البحرین ہوتے ہیں اور ان کی ہستی ان دونوں علوم شریف کی جامع ہوتی ہے۔ حافظ سیوطی امام نووی کی تصنیفات کے بارے میں لکھتے ہیں ’’جب تمہیں کسی حدیث کے بارے میں معلوم ہو کہ وہ شیخ محی الدین نووی کی تصنیفاتمیں سے کسی میں ہے تو تم اطمینان قلب کے ساتھ اس کی روایت کرو۔ (الرحمۃ المرسلہ 15) اطمینان قلب سے یہاں حافظ سیوطی کی مراد یہ ہے کہ وہ اپنی تصنیفات میں موضوع حدیث نقل نہیں کرتے ہیں اورجہاں تک بات ضعیف حدیث کی ہے تو اس سے بھی ان کی کتب محفوظ ہیں۔ ہاں صرف ان کی تصنیف الاذکار میں ضعیف حدیث بکثرت آئی ہیں اور شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ جیساکہ ان کا مسلک ہے کہ فضائل اعمال میں ضعیف حدیث پر عمل جائز ہے ۔ ضعیف حدیث پر فضائل اعمال میں عمل کرنا جائز ہے یا نہیں کرنا چاہئے یا نہیں اس پر علماء کے درمیان اختلاف ہے (انشاء اللہ اگر فرصت ملی تو امام لکنوی کی تحقیق پیش کرنے کی کوشش کروں گا) امام نووی نے اپنی تصنیف ریاض الصالحین میں اس بات کا اہتمام کیا تھا کہ وہ اس میں صرف صحیح احادیث ہی ذکر کریں گے۔ اور انہوں نے بڑی حد تک اس پابندی کو نبھایا بھی ہے لیکن کہیں کہیں ضعیف حدیثیں آہی گئیں ۔ مثلا الیکس من دان نفسہ ،مااکرم شاب شیخا لسنہ الاقیض اللہ لہ من یکرمہ عندکبرسنہ اورلاتشربوواحداً کشرب البعیر اس کے علاوہ بھی ڈھونڈنے والوں کو دیگر ضعیف احادیث مل سکتی ہیں۔ شاید اس بارے میں ان کا عذر یہ ہو جیساکہ میں نے پہلے بھی ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ حدیث کی صحت اور ضعف ایک اجتہادی امر ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ایک محدث کسی حدیث کو صحیح سمجھتا ہو جب کہ دوسرے محدث کو اپنے علم وفہم کی روشنی میں وہ حدیث ضعیف معلوم ہوتی ہو۔ تو شاید ان احادیث کو امام نووی نے اپنے اجتہاد وعلم کی روشنی میں صحیح سمجھ کر نقل کیا ہو۔ وفوق کل ذی علم علیم حافظ ذہبی: زباں پر بار خدا یہ کس کا نام آیا۔ وہ واقعتاً علم وفن کی دنیا کے شمس تھے۔ وہ صرف سوناہی نہیں بلکہ پارس تھے نہ معلوم کتنے حفاظ اور محدثیں اور فقہاء اور طالب علم اور مورخین ان کی تصنیفات سے فیضیاب ہوئے۔ حافظ الدنیا حافظ ابن حجر عسقلانی نے خدا کے حضور دعا کی تھی کہ انہیں ان کے جیسا حافظہ نصیب ہو۔ لیکن کاش ۔۔۔۔۔۔ واقعتاً خدا کی کاریگری عجیب ہے اور اللہ نے انسان کو سارے کمالات دے کر بھی اسے کچھ کمزوریوں سے نواز دیا تاکہ وہ اپنی حقیقت مستحضر رکھے۔ حافظ ذہبی کی ایک کتاب ’کتاب الکبائر‘ ہے جس میں وہ کثرت سے ضعیف حدیث نقل کی ہے بلکہ حد تو یہ ہے کہ اس کتاب میں چند احادیث ایسی بھی ہیں جو موضوع ہیں ضعیف احادیث کے بارے میں تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ چلو مان لیا ترغیب وترہیب کے باب میں ضعیف حدیث نقل کی جا سکتی ہے لیکن موضوع ، شاید اس باب میں یہی عذر ہو گا کہ ان کو ان احادیث کے موضوع ہونے کا علم نہ ہو یا ان کے اپنے علم وفہم کی روشنی میں وہ احادیث موضوع نہ ہوں۔ 1- صفحہ 22 پر نماز چھوڑنے پر وعید کے سلسلے میں ایک بڑی اور طویل حدیث نقل کی ہے جس کا باطل ہونا ہر صاحب علم وبصیرت کو معلوم ہو گا۔ حیرت تو یہ ہے کہ حافظ ذہبی نے خود میران الاعتدال میں محمد بن علی بن عباس العطار کے ترجمہ میں اس حدیث کو موضوع قرار دیا ہے۔ تمام تعریف اور بڑائی اللہ ہی کیلئے اور اسی کی ذات تمام عیبوں سے پاک ہے۔ حافظ ابن حجر نے بھی 5/295 میزان الاعتدال میں اس حدیث کو موضوع قرار دیا ہے۔ 2- عقوق والدین گناہ کبیرہ ہے۔ اس کے ضمن میں حسین بن علی سے مرفوعا یہ روایت نقل کی ہے کہ اگر کوئی چیز اف سے بھی کمتر ہوتی تو اللہ اسے سے منع کر دیتا۔ (اشارہ آیت قرآنی ولاتقل لھمااف کی جانب ہے کہ والدین سے اگر کچھ پریشانی اور سرگرانی ہو تو بھی ان کے سامنے اف تک مت کہو) اس روایت کا ایک راوی ہے اصرم بن حوشب ہے جس کے بارے حافظ ذہبی نے خود میزان الاعتدال 126/1 میں لکھا ہے۔ امام یحیٰ نے اس کو کذاب خبیث کہا ہے اور ابن حبان کا اس کے بارے میں کہنا ہے کہ وہ احادیث وضع کرتا تھا۔ 3- ص44-46 میں علقمہ کی ماں کی ناراضگی اور اسکی ماں کا اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت نقل کیا ہے۔ کاش حافظ ذہبی اپنی اس گراں قدر کتاب کو موضوع روایت سے خالی رکھتے تو یہ کتاب اپنے باب میں بہت عمدہ اور نافع ہوتی۔ لیکن جیساکہ کہا جاتا ہے کہ بڑے سے بڑا شہسوار بھی کہین نہ کہیں پھسل جاتا ہے اسی طرح بڑے سے بڑا عالم اور محدث اور فقیہ سے بھی کہیں نہ کہیں لغزش ہو ہی جاتی ہے اور اس کے پاؤں حق اور صواب سے دور جا پڑتے ہیں۔ کیونکہ تمام تر عیب سے پاک ذات تو صرف باری تعالی کی ہے۔ حافظ سیوطی: اگر کثرت تصنیفات کے اعتبار سے دیکھا جائے تو بلاشبہ حافظ سیوطی کی تصنیفات ایک زندہ کرامت معلوم ہوتی ہیں کہ انہوں نے تن تنہا اتنی ساری مصروفیات اور درس و فتویٰ کی ذمہ داریوں کے باوجود اتنی کتابیں کس طرح لکھ سکے۔ لیکن جیساکہ حضرت شاہ عبدالعزیز ؒ محدث دہلوی کا ارشاد ہے کہ کثرت تصنیفات بذات خود کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ اصل چیز یہ ہے کہ کتاب کی معنوی قدروقیمت کتنی زیادہ ہے اور مصنف نے اس کتاب میں کتنی محنت کی ہے اور علم وفن کی سنگلاخ وادیوں سے کتنے جواہر پارے اور ہیرے موتی سمیٹنے میں کامیاب ہو سکا ہے۔ اس پیمانہ پر دیکھا جائے تو مشہور فقیہ ابن دقیق العید کی کم تصنیفات ہی حافظ سیوطی کی بیشتر تصنیفات پر بھاری ہیں ۔لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ کثرت معلومات میں متاخرین میں حافظ سیوطی کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ وہ تفسیر، حدیث ،فقہ اصول فقہ ،منطق، بلاغت ،علم کلام غرضیکہ بیشتر علوم وفنون میں مہارت رکھتے ہیں۔ حافظ سیوطی کا شمار محدثین کے اس طبقے میں ہوتا ہے جو احادیث پر حکم لگانے میں تساہل برتتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ ان کی بیشتر تصنیفات ضعیف اور موضوع احادیث کی آماجگاہ ہیں۔ خاص طور سے ان کی تصنیف الجامع الصغیر میں تو موضوعات بھی بکثرت موجود ہیں۔ اگرچہ انہوں نے مقدمہ میں کہا ہے کہ میں نے اس میں ایسی احادیث لانی سے گریز کیا ہے جس کی سند میں کوئی کذاب یا وضاع ہو۔ لیکن الجامع الصغیر کے شارح علامہ مناوی جنہوں نے الفیض القدیر نام سے شرح لکھی ہے وہ کہتے ہیں ان کا یہ کہنا محض دعویٰ کی حیثیت رکھتا ہے یا بیشتر احادیث کے اعتبار سے صحیح ہو سکتا ہے کیونکہ انہوں نے سند کی ویسے پرکھ نہیں کی جیسی کہ کرنی چاہئے تھی یہی وجہ ہے کہ اسمیں موضوع احادیث بھی درآئی ہیں۔اس کے باوجود اس میں کلام نہیں یہ کتاب ترتیب اورحسن تنسیق کے اعتبار سے بہت بہتر کتاب ہے۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ حافظ سیوطی نے اس میں کچھ ایسی بھی احادیث نقل کی ہیں جس کو وہ اللالی المصوغہ فی الاحادیث الموضوعہ میں موضوع قرار دے چکے ہیں۔ صحیح ہے انسان خطا اور نسیان کا پتلا ہے۔ جامع صغیر میں موضوع احادیث پر مشہور محدث محدث احمد بن صدیق غماری نے ایک خاص کتاب لکھی ہے جس کانام المغیر علی الاحادیث الموضوعۃ فی الجامع الصغیر رکھا ہے۔ اس میں انہوں نے نہایت دقت نظر سے جامع صغیر مین موجود موضوع احادیث کی جانب نشاندہی کی ہے۔ جامع صغیر میں پندرہ احادیث تو ایسی ہیں جس کے بارے میں خود حافظ سیوطی نے ان کے موضوع ہونے کا اللآلی میں اعتراف کیا ہے۔ سات حدیثیں وہ ہیں جس میں وہ موضوع ہونے پر حافظ ابن جوزی کی تائید کرتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود یہ کہے بغیر چارہ کار نہیں ہے کہ محدث غماری نے جس طرح حافظ سیوطی اور علامہ مناوی پر حملے کئے ہیں اوران کے بارے میں الفاظ استعمال کئے ہیں وہ اہل علم کی شان سے بعید ہے۔ حافظ ابن قیم: حافظ ابن قیم جودت ذہن، اخاذ طبعیت ،فکر کی روانی وسیلانی اور فقہ القرآن والحدیث میں اپنی نظیرآپ ہیں۔لیکن اس کے باوجود حیرت ہے کہ انہوں نے کس طرح اپنی بعض تصنیفات میں ضعیف اور منکر احادیث کو راہ دیا ہے بغیر اس کے کہ حدیث کے ضعف پر متنبہ کریں۔ ان کا ایک خاص وصف یہ بھی ہے کہ جب کوئی حدیث ان کے نظریہ یا مشرب ومسلک کے موافق ہو تو اس کی تائید کی جی توڑ کوشش کرتے ہیں اور اس کو ثابت اور قابل دلیل بنانے کی ہر ممکن جدوجہد کرتے ہیں۔ ایک مثال ملاحظہ ہو زادالمعاد فی ھدی خیرالعباد میں وفد بن المنتفق پر کلام کرتے ہیں وہ ایک طویل حدیث لائے ہیں جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے۔ ثم تلبثون مالبثتم،ثم تبعت الصائحۃ فلعمرو الھک ماندع علی ظہر ہاشیئاً الامات ،تلبثون مالبثتم،ثم یتوفی نبیکم والملائکۃ الخ اس حدیث کو ذکر کرنے کے بعد انہوں نے اس حدیث کی عظمت اور شان کو اپنی خداداد فصاحت وبلاغت سے بیان کرنے کی کوشش کی ہے کہ یہ حدیث بہت عظمت اورشان والی ہے اور اس کی یہ شان اور عظمت گواہی دے رہی ہے کہ یہ مشکوۃ نبوت سے نکلا ہے۔ اس حدیث کو اگرچہ صرف عبدالرحمن بن مغیرہ مدنی کے طریق سے جانا جاتا ہے ۔ پھر انہوں نے عبدالرحمن اور جنہوں نے اس سے مرسلاًغریباً روایت کیا ہے اس کی توثیق پر زور صرف کیا ہے۔ حالانکہ باتفاق محدثین یہ حدیث حددرجہ ضعیف اور منکر ہے۔ اور وہ اس کے بارے میں خوب جانتے ہیں لیکن اپنی عادت کے موافق اس حدیث کی تائید میں زور صرف کیا ہے۔ جب کہ حافظ ابن کثیر نے البدایہ اوالنہایہ 80-82/5 میں اس حدیث کو ذکر کرنے کے بعد اس پر حکم لگاتے ہوئے کہا یہ حدیث بہت زیادہ غریب ہے۔ اور اس کے بعض الفاظ میں نکارت ہے۔ اسی طرح حافظ ابن حجر نے تہذیب التہذیب میں عاصم بن لقیط بن عامر بن المنتفق العقیلی57/5 کے ترجمہ میں اس حدیث کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہوحدیث غریب جداً حد یہ ہے کہ انہوں نے اس حدیث کی تصحیح میں اس قدر مبالغہ سے کام لیا کہ کسی کا یہ قول بھی نقل کر دیا ولاینکر ھذاالحدیث الاجاحد،اوجاہل،اومخالف للکتاب والسنہ یعنی اس حدیث کا انکار وہی کرے گا جو منکر ہو گا یا جاہل ہو گا یا کتاب وسنت کا مخالف ہوگا۔ سچ ہے حب الشی یعمی ویصم کسی بھی شئے کی اندھی محبت آدمی کو اندھا اور بہرا بنا دیتی ہے۔ کیا اس سے یہ مراد لیا جائے کہ حافظ ابن کثیر اورحافظ ابن حجر جاحد،جاہل اورکتاب وسنت کے مخالف ہیں۔ نوٹ: زادالمعاد فی ہدی خیرالعباد کے علاوہ بھی حضرت ابن القیم کی کئی کتابیں جس میں وہ ضعیف حتی کہ موضوع حدیث تک ذکر کرتے چلے جاتے ہیں۔ مثلا کتاب الروح ،مدارج السالکین اور دوسری کتابیں۔ الاجوبۃ الفاضلہ،مولف علامہ عبدالحی اللکنوی، محقق شیخ عبدالفتاح ابوغدہ،صفحہ120تا130 Last edited by کنعان; 19-02-11 at 03:25 AM. وجہ: Re-Organised |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| فن, کوششوں, کلام, کمال, کتابوں, لوگ, مخلوط, معلوم, اللہ, اسلامی, بہترین, ترک, جواب, حدیث, دریافت, زمانہ, شاگرد, علی, عراقی, عظمت, غفلت, صحیح, صحابہ, صحابی, صحت |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| موسیٰ خیل میں کوئلے کی کان کا تنازع ،آرمی چیف کی ہدایت پرتصفیہ کردیا گیا | گلاب خان | خبریں | 0 | 02-03-11 04:33 AM |
| بھارت سے کشمیر پر تصفیہ ہونے والا تھا:پرویز مشرف | جاویداسد | خبریں | 3 | 10-10-10 06:35 AM |
| تصمیم میںاب نستعلیق اسپورٹ! | arifkarim | سوفٹ ویرز کے بارے میں آپکی رائے اور سوفٹ ویر کی درخواست | 0 | 18-04-09 02:52 AM |
| اجمیری مینشن سے متصل16 گھروں کے فرش بھی بیٹھ گئے | عبدالقدوس | خبریں | 2 | 24-02-09 10:44 AM |
| مہر جتوئی قبائل تصفیہ، دونوں قبائل پر زخمیوں کا جرمانہ عائد | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 14-04-08 09:28 AM |