واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > تاریخ و عبر



تاریخ و عبر تاریخ و عبر


امام احمد رضا اور عشق مصطفٰی

short url
موضوع بند کر دیا گیا ہے
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 27-07-07, 12:59 PM  
امام احمد رضا اور عشق مصطفٰی
خرم شہزاد خرم خرم شہزاد خرم آف لائن ہے 27-07-07, 12:59 PM

چودھویں صدی ہجری میں اہلسنت و جماعت کے جن علماء نے مذہب حق کی تائید و تشہیر میں زندگی وقف کر دی ان میں اعلٰی حضرت امام اہلسنت مولانا شاہ احمد رضا خاں قادری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی ذات ستودہ صفات کافی نمایاں ہے۔ انھوں نے اپنی تحریروں سے نہ صرف مذہب مخالف کے سیل رواں پر بند باندھا ہے بلکہ مذہب مخالف کے ہر فتنہ کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے میں ہی عافیت سمجھی اس کے لئے انھیں کافی جدوجہد کرنی پڑی۔ تمام مذہب مخالفین کا پامردی کے ساتھ دلائل و براہین کی روشنی میں دنداں شکن جواب دیا جس سے وہ سب مبہوت ہو گئے۔ لیکن ان کے حوارئین جن کی تعداد اس وقت ہر شعبہ حیات میں کچھ کم نہ تھی ہاتھ دھو کرکے پیچھے پڑ گئے مگر وہ بطل جلیل جو صرف اور صرف احقاق حق اور ابطال باطل ہی کے لئے پیدا ہوا تھا۔ باطل کے آگے جھکنا تو درکنار اسے خاطر میں بھی نہ لایا۔ خود ہی فرماتے ہیں،
کیا دبے جس پہ حمایت کا ہو پنجہ تیرا
شیر کو خطرہ میں لاتا نہیں کتا تیرا
ان مخالفین کی مخالفتوں کا سرا کہیں نہ کہیں جا کر عظمت نبوت و ناموس رسالت سے متصادم ہوتا تھا۔ اس لئے انھوں نے کبھی نرمی نہیں برتی۔ دشمنان دین حق کے لئے شمشیر براں بنے رہے آپ کا اعلان عام تھا،
دشمن احمد پہ شدت کیجئے
ملحدوں سے کیا مروت کیجئے
دشمنان دین حق کے ساتھ ان کی سختی اس لئے تھی کہ وہ سچے عاشق رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم تھے۔ نبی اور دین نبی پر کسی قسم کی ادنٰی گستاخی بھی ان کے نزدیک بڑے جرم کے مترادف تھی۔ وہ چاہتے تھے کہ جس طرح مجھے اپنے نبی سے پیار ہے اسی طرح ہر امتی کو اپنے نبی سے پیار و محبت ہونی چاہئیے۔ کیونکہ
محمد سے محبت دین حق کی شرط اول ہے
اسی میں ہے اگر خامی تو سب کچھ نا مکمل ہے
اسی وجہ سے امام اہلسنت کو سرکار ابد قرار صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے والہانہ عشق تھا۔ ان کی پوری زندگی اتباع رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے ہی عبارت ہے۔ نہ آپ نے سنت مصطفوی کے خلاف کبھی کچھ کیا اور نہ ہی کسی کو اس کے خلاف کچھ کرنے کی اجازت دی۔ سچا عاشق وہ ہوتا ہے جس کی نظر ہمیشہ اپنے محبوب کی مرضی پر ٹکی ہو اور جس امتی کی یہ خوبی ہو اس کے لئے سوائے اس کے اور کیا کہا جا سکتا ہے۔
یہ رتبہ بلند ملا جس کو مل گیا
عاشقان نبوت کے دعویداروں کی ہر دور میں بہتات رہی ہے۔ ماضی اور حال کی صدیوں کا اگر جائزہ لیا جائے تو ایسے نام نہاد عاشقان نبوت کی طویل فہرست مل جائے گی۔ جنہیں ایک طرف تو اپنے نبی و رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے الفت و محبت کا دعوٰی بھی تھا اور دوسری طرف اپنے اس نبی کے تعلق سے عقیدہ یہ تھا کہ
(1) آپ (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ کے بعد بھی کوئی نبی پیدا ہو جائے تب بھی خاتمیت محمدیہ میں کوئی فرق نہ آئے گا۔ (مولوی قاسم نانوتوی)
(2) شیطان اور ملک الموت کو تمام روئے زمین کا علم ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے لئے وسعت علم پر کوئی نص نہیں لٰہذا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے لئے ایسا علم ماننا شرک ہے۔ (مولوی اشرف علی تھانوی)
(3) نماز میں زنا کے وسوسے سے بیوی کے ساتھ مجامعت کے خیال کو بہتر اور حضور علیہ السلام کی طرف توجہ لگانے کو گدھے اور بیل کے خیال میں مستغرق ہو جانے کے مقابلہ میں بدتر قرار دیا گیا ہے۔ (شاہ محمد اسماعیل دہلوی)
اسی طرح اور بھی نام نہاد مدعیان عاشقان رسول ہیں جن کی اسی طرح نازیبا تحریریں ہیں جن کے نقل کرنے کی قلم میں نہ تو طاقت ہے اور نہ ہی قلم کار میں اتنی جسارت۔ عشق کا پیمانہ اپنے محبوب کے ساتھ یکساں ہونا چاہئیے جس لفظ سے محبوب کی شان میں ادنٰی گستاخی کا شائبہ ہو منشائے قرآنی کے مطابق عاشق کے لئے اس سے بچنا ضروری ہو جاتا ہے۔
فاضل بریلوی نے اپنا دامن اس قسم کے شکوک و شہبات سے ہمیشہ پاک و صاف رکھا۔ اور اپنے قلب و جگر کا نذرانہ اپنے نبی کی بارگاہ میں پیش کرنے کے لئے ہمہ دم تیار نظر آئے اور اسی کو انھوں نے اپنی زندگی کا حاصل سمجھا۔ چنانچہ وہ خود فرماتے تھے
دل ہے وہ دل جو تری یاد میں معمور رہا
سر ہے وہ سر جو ترے قدموں پہ قربان گیا
یہی وہ جذبہ عشق رسول ہے جس نے آپ کو اپنے اور بیگانوں کے درمیان ممتاز کر دیا۔ اور یہ انتہائی حیرت کی بات ہے کہ تصنیف و تالیف، رشد و ہدایت، وعظ و تبلیغ، افتاء و قضاء، درس و تدریس، ریسرچ و تحقیق اور مخالفین و معاندین کے فتنوں کے قلع قمع کرنے کی بے پناہ مصروفیتوں کے باوجود آپ نے اپنے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی شان میں والہانہ انداز میں جس طرح عشق کے نغمے الاپے ہیں اس کی مثال اس صدی میں صرف اور صرف آپ ہی کے یہاں ملتی ہے۔ جس کی طرف اختصار کے ساتھ اشارہ مولانا نجم القادری نے اپنی تحقیقی کتاب “امام احمد رضا اور عشق مصطفٰی“ میں ان لفظوں میں کیا ہے۔
“ امام احمد رضا فاضل بریلوی علیہ الرحمۃ الرضوان پر ہندوستان میں بیسویں صدی کے ربع آخر میں جو تحقیقی سلسلہ شروع ہوا ہے تو وہ بحمدہ تعالٰی بغیر کسی رکاوٹ کے جاری و ساری ہے۔ حیرت کی بات تو یہ ہے جتنی ہی ان کی زندگی اور ان کے کارنوں پر تحقیق ہوتی ہے اتنی ہی ان کی زندگی کے نئے نئے گوشے نئے تقاضوں سے آراستہ ہوکر نگاہوں کے سامنے آتے ہیں۔ فاضل بریلوی کے علمی کارناموں پر مختلف جہتوں سے برصغیر میں صرف نہیں بلکہ عالم اسلام میں کام ہوا اور ہو رہا ہے۔ لیکن میری معلومات کے مطابق جو انھیں اپنے محبوب سے والہانہ لگاؤ تھا اس سے جہاں ایک طرف اپنے نبی پاک صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے تعلق سے جذبہ عشق سمجھنے میں مدد ملے گی وہیں دوسری طرف ایک امتی کو اور وہ بھی جو وفادار ہو اس کو اپنے نبی سے کس طرح محبت کرنی چاہئیے اس کا شعور بھی حاصل ہو گا۔ ایک مومن کی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی یہی ہے کہ اس کے دل میں اپنے خدا اور رسول سے محبت کا سچا جذبہ ہو۔ مجھے امید ہے کہ اس تعلق سے تمام امت متابعت کے لئے اعلٰی حضرت کی تعلیمات مشعل راہ ہی صرف نہیں بلکہ خضر راہ بھی ثابت ہو گی۔
محققین نے یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ جو عشق رسول میں اپنے آپ کو فنا کر دیتا ہے وہ ہمیشہ کے لئے امر ہو جاتا ہے۔
بقول مولانا نجم القادری، “وہ چھپ گئے مگر جلوہ نما ہیں وہ چلے گئے مگر موجودگی کا احساس چھوڑ گئے، بظاہر وہ اب ہم میں نہیں مگر علم و فن کا وقار اور عشق و اخلاص کا خمار بانٹ رہے ہیں، ایمان و اعتقاد کی زلف برہم کے لئے آج بھی ان کے بنائے ہوئے نقوش رحمت کونین کا پتہ دے رہے ہیں۔“
یہ حضرت بریلوی کا فیضان محبت ہے کہ جدھر دیکھئے ادھر ہی ان کے پیغام کے پھریرے لہرا رہے ہیں خصوصاً برصغیر کی دینی، علمی، روحانی، فضا، مدرسہ، مسجد، خانقاہ ان کے ذکر و اذکار کے جاں بخش ترانوں سے گونج رہی ہے۔“
ان کے جذبہ عشق کی یہ شہرت کیا کم ہے ان کا دیوانہ دنیا کے کسی گوشہ اور کسی ملک میں کیوں نہ ہو مگر اس کے وارفتگی شوق کا عالم یہ ہے کہ وہ اپنے کو بریلوی لکھ رہا ہے اور بات صرف اتنی سی ہے ہے کہ بریلی کی دھرتی سے ایک شخص نے اپنے نبی کے تعلق سے جو سچا عشق عملی طور پر پیش کیا اس نے اپنے تمام مداحوں کو فکری طور سے اپنا ہم نوا اور ہم وطن بنا ڈالا ایمان و عقیدے کی پختگی اور جذبہ عشق و محبت کی وارفتگی کی اس سے بہتر مثال اور کیا ہو سکتی ہے۔ اللہ تعالٰی ہم سب کو اپنے نبی سے سچا عشق کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
( یہ مضمون ڈاکٹر غلام یحٰیی انجم نے لکھا ہے)
__________________
ہمارے لیے دعا کریں ہمیں دعاؤں کی بہت ضرورت ہے پلیز پلیز پلیز

 
خرم شہزاد خرم's Avatar
خرم شہزاد خرم
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 1245
9 قاری/قارئین نے خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا
compaq (31-12-11), کنعان (01-01-12), پاکستانی (20-01-12), ننھا بچہ (18-01-12), مفتی (31-12-11), ملک اظہر (31-12-11), ملک زوالفقار (01-01-12), محمدعدنان (31-12-11), عرفان حیدر (18-06-08)
پرانا 21-01-12, 11:21 AM   #91
Senior Member
 
مفتی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2010
مراسلات: 540
کمائي: 7,067
شکریہ: 489
308 مراسلہ میں 689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

نئی فلم ۔۔۔۔۔ ایک نیا جھوٹ
مفتی آف لائن ہے  
پرانا 21-01-12, 11:21 AM   #92
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Dec 2011
مراسلات: 37
کمائي: 1,069
شکریہ: 140
34 مراسلہ میں 112 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
حضرت عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ فر ماتے ہیں مشائخ نفلوں کو بھی فرضوں کی سی اہمیت دیتے ہیں بندہ مومن نوفلوں کے ذریعہ خدا کا محبوب بنتا ہے
(کتاب الفتح الربانی مجلس61 ص 446(
لیکن امام احمد رضا صاحب اپنے بارے میں تحریر کرتے ہیں میں اپنی حالت وہ پاتا ہوں جس میں فقہا کرام نے لکھا ہے کہ سنتیں بھی ایسے شخص کو معاف ہیں لیکن الحمد للہ سنتیں کبھی نہیں چھوڑیں نفل البتہ اسی روز سے چھوڑ دے ( ملفوظات اعلی حضرت ص385 ج4 فرید بک سٹال اردو بازار لاہور(
آپ کے اس کوٹ کا بھی شکریہ اس سے اعلٰحضرت علیہ رحمہ کے ایمان کی پختگی ظاہر ہوری ہے
اللہ والے تو رات عبادت میں گزار دیتے ہیں حضرت نوفل چھوڑ کر فقہا کے سر الزام لگادیا ،،،،یوں کہو حضرت
عبادت میں سسست تھے ،،،سنا ہے ایک بار ان کے انگرکھے کا بندھن حرکت نفس سے نماز میں ٹوٹ گیا تھا
کیا پختگی ایمان ہے،،،،،،،،،کیا خیال ہے حضور صل اللہ علیہ وسلم نوفل نہ
چھوڑے صحابہ نوفلوں پہ حریص رہے اور اعلی جضرت چھوڑ دیں ،، کیا صحابہ اس مقام پہ فائز نہ ہو سکے
ہاں ؤہ سب حضرت کہلاتے تھے اور اما رضا کی ڈگری اونچی ہے وہ حضرت ،،،اور یہ اعلی حضرت
کیا نوفل چھوڑنا ایمان کی پختگی ہے ،،،،،،،،
سوچو کس کی وکالت کر رہے ہو
بٹ جی آف لائن ہے  
3 قاری/قارئین نے بٹ جی کا شکریہ ادا کیا
نبیل خان (21-01-12), حسن قادری (21-01-12), شھزادباجوہ (22-01-12)
پرانا 21-01-12, 11:22 AM   #93
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Dec 2011
مراسلات: 37
کمائي: 1,069
شکریہ: 140
34 مراسلہ میں 112 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
نئی فلم ۔۔۔۔۔ ایک نیا جھو
خرم شہزاد والی ،،،،،،،،،
بٹ جی آف لائن ہے  
2 قاری/قارئین نے بٹ جی کا شکریہ ادا کیا
نبیل خان (21-01-12), حسن قادری (21-01-12)
پرانا 21-01-12, 12:45 PM   #94
Senior Member
 
مفتی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2010
مراسلات: 540
کمائي: 7,067
شکریہ: 489
308 مراسلہ میں 689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

عبادت و تبلیغ کا بیان
خانقاہ گنگوہ کے بھرے مجمع میں مولانا گنگوہی کا مولانا نانوتوی سے لپٹنے کی فرمائش مولانا گنگوہی کا ان سے چپکنا اور مولانا نانوتوی کا انکار کرتے ہوئے جگ ہنسائی سے ڈرانا ۔ اس پر مولانا گنگوہی کا جواب کہ لوگ کہیں گے کہنے دو ۔
( پرواہ نہیں جب کوئی خدا سے بندوں سے پرواہ کرنا کیا )
دن دھاڑے گنگوہ کی خانقاہ میں اکابر دیوبند کے معاشقہ کی ٹریننگ :
ایک دفعہ گنگوہ کی خانقاہ میں مجمع تھا حضرت گنگوہی ، حضرت نانوتوی کے مرید و شاگرد سب جمع تھے اور یہ دونوں حضرات بھی وہیں مجمع میں تشریف فرما تھے کہ حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی نے حضرت مولانا قاسم نانوتوی سے محبت آمیز لہجے میں فرمایا ۔ یہاں ذرا سا لیٹ جاؤ ۔
حضرت نانوتوی کچھ شرما سے گئے مگر حضرت گنگوہی نے پھر فرمایا تو بہت ادب کے ساتھ چت لیٹ گئے اور مولانا قاسم نانوتوی کی طرف کروٹ لے کر اپنا ہاتھ اُن کے سینہ پر رکھ دیا جیسے کوئی عاشق صادق اپنے قلب کو تسکین دیا کرتا ہے ۔ مولانا قاسم نانوتوی ہر چند فرماتے رہے کہ میاں کیا کر رہے ہو ۔ یہ لوگ کیا کہیں گے ۔ حضرت ( گنگوہی) نے فرمایا لوگ کہیں گے کہنے دو ۔
( ارواح ثلٰثہ ص289 )
__________________
کعبے کے بَدرُالدّجٰی تم پہ کروڑوں درود ♥ شافع روزِ جزا تم پہ کروڑوں درود
اور کوئی غیب کیا تم سے نہاں ہو بھلا ♥ جب نہ خدا ہی چُھپا تم پہ کروڑوں درود

صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ واصحابہ وسلم
مفتی آف لائن ہے  
2 قاری/قارئین نے مفتی کا شکریہ ادا کیا
Ferozi (21-01-12), اجمل (21-01-12)
پرانا 21-01-12, 07:30 PM   #95
Senior Member
 
حسن قادری's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2011
مراسلات: 1,635
کمائي: 32,131
شکریہ: 3,022
1,410 مراسلہ میں 4,199 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
ایک دفعہ گنگوہ کی خانقاہ میں مجمع تھا حضرت گنگوہی ، حضرت نانوتوی کے مرید و شاگرد سب جمع تھے اور یہ دونوں حضرات بھی وہیں مجمع میں تشریف فرما تھے کہ حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی نے حضرت مولانا قاسم نانوتوی سے محبت آمیز لہجے میں فرمایا ۔ یہاں ذرا سا لیٹ جاؤ ۔
حضرت نانوتوی کچھ شرما سے گئے مگر حضرت گنگوہی نے پھر فرمایا تو بہت ادب کے ساتھ چت لیٹ گئے اور مولانا قاسم نانوتوی کی طرف کروٹ لے کر اپنا ہاتھ اُن کے سینہ پر رکھ دیا جیسے کوئی عاشق صادق اپنے قلب کو تسکین دیا کرتا ہے ۔ مولانا قاسم نانوتوی ہر چند فرماتے رہے کہ میاں کیا کر رہے ہو ۔ یہ لوگ کیا کہیں گے ۔ حضرت ( گنگوہی) نے فرمایا لوگ کہیں گے کہنے دو ۔
( ارواح ثلٰثہ ص289 )
ان کےتقدس سے ساری دنیاوقف ہے اور اعلی حضرت نماز عصر میں بندھن تڑوا بیٹھے ،،،،،،، اور تذکرہ غوثیہ میں آپ کے صوفیا ء عظام کا کارنامہ ذکر ہے میاں صاحب اور گدھی سمھج گے ہوں گے آپ،،،،،،،کیا روپ ہے تصوف کے دربارکی کنیز ،،اب دیر کاہے کی حاجت پوری کر یہ ہے آپ کے بزرگوں کی تصویر جو درباروں میں کرواتے ہیں ۔۔،،ذرا آینے میں یہ بھی دیکھ لینا،،،،،،
حسن قادری آف لائن ہے  
پرانا 21-01-12, 07:47 PM   #96
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2011
مراسلات: 269
کمائي: 5,527
شکریہ: 190
213 مراسلہ میں 503 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حسن قادری مراسلہ دیکھیں
کیا خیال ہے پھر علماء دیوبند کی عبارات کے بارے میں اس شعر کی تشریح کے لئے آپ آگے پیچھے دیکھنے کا حکم لگا رہے ہیں ،،،،،یہ حکم علماء دیوبند کی عبارات پر بھی لگا کر دیکھیں ان شاء اللہ مسئلہ سمھج آجاے گا ،،،،،مگر یہ اصول آپ کا صرف اپنے گھر کی صفائی کے لئے ہے
اس شعر کامعنی وہ نہیں ہے جو آپ نے لکھا ہے ذرا لفظی تر جمہ کرکے دیکھو مفھوم وہ ہی ہے جو فکری صاحب نے لکھا ہے آپ کو اس کا ترجمہ ہی نہیں آتا ویسے ہے ایک فر ضی معنی کر دیا ہے۔۔،،،،،،،، الفاظ پہ غور کرو۔،،یہاں الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے،،،،،،،،،
میں نا مانوں اور ضد کا میرے پاس کوئی علاج نہیں

قادری صاحب آپ نے کہا کہ میں نے جو معنی کیا وہ صحیح نہیں ہے اور آپ کو فکری صاحب کا من گھڑت ترجمعہ ہی صحیح لگتا ہے
پہلے تو آپ جواب دیں کہ لکھی گئی رباعی کا صرف ایک حصہ لکھنا کہاں کا انصاف ہے ؟ جب کہ آپ بھی جانتیں ہیں کہ رباعی کا ایک مصرے کا دوسرے مصرے سے گہرا ربط ہوتا ہے
لیکن اب چونکہ آپ کے پاس کوئی ٹھوس اعتراض نا تھا تو آپ لوگوں نے رباعی کے دو ٹوٹے کر ڈالے اور خود بھی بہتان کا شکار ہوئے اور لوگوں میں بھی غلط نظریات پروان چڑھائے

پھر آپ جھے لفظی ترجمعہ کا کہہ رہے ہیں تو
اس طرح کریں لفظی ترجمعہ آپ ہی کر دیں لیکن یاد رہے مکمل رباعی کاکریں

برواحدت او رابع عبدالقادر
یک شاہد ودو سابع عبد القادر
انجام وے آغاز رسالت باشد
اینک گو ہم تابع عبد القادر

اس رباعی میں پہلے شعر کا مکمل ترجمعہ کریں
اور دوسرا شعر جو آپ کو کھٹکتا ہے اس میں مجھے بتائیں کہ کہ "انجام وے" اور '' اینک گو'' کے کیا معنی ہے ؟

دوسرا آپ نے کہا کے علما دیوبند کے بارے میں یہ اصول کیوں نہیں اپنایا جاتا کہ اگے پیچھے سے بھی دیکھ لیا کریں
حسن قادری صاحب آپ خود ہی یہ کام کیوں نہیں کرتے جن کو آپ کی گستاخانہ عبارات کا علم ہو ان کو آپ اگے پیچھے سے دکھا دیں میں اور میرے جیسے بہت سے منتظر بیٹھے ہیں دیکھنے کے لیے لیکن فکری سمیت آپ لوگ صرف جارحیت سے کام چلا رہے ہیں جس کا کوئی فائدہ نہیں
اجمل آن لائن ہے  
2 قاری/قارئین نے اجمل کا شکریہ ادا کیا
Ferozi (21-01-12), مفتی (31-01-12)
پرانا 21-01-12, 07:57 PM   #97
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2011
مراسلات: 269
کمائي: 5,527
شکریہ: 190
213 مراسلہ میں 503 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : نبیل خان مراسلہ دیکھیں
جناب یہ تو آپ بھی جانتے ہیں کہ یہ فہرست اعلی حضرت نے اپنے بارے میں تحریر فرمائی تھی ۔ یہاں غریبوں کا کوئی تذکرہ نہیں اگر ایسا ہوتا تو آپ کا مرید بوقت دفن دودھ کا برف خانہ ساز: جو وصیت میں مزکور تھا قبر میں لے کر نہ آتا:
حاشیہ وصایا شریف :
اگر تعصب کو جشمہ اتار کر دیکھیں گے تو معلوم ہو جائے گا کہ فقرا کے لیے ہی کھانوں کی لسٹ بنوائی تھی
آپ نے وصایا شریف کا صرف وہ حصہ دیکھا ہے جو آپ کو آپ کے جان سے پیارے اکابرین نے خیانت سے دکھائی ہیں
دوسرا آپ نے کہا کہ وصیت کے حاشیہ میں لکھا ہے کہ کوئی قبر پر دودھ کا برف خانہ ساز لے آیا تو وہ کیوں لایا ؟

جناب آپ پہلے یہ طے کر لیں کے آپ کا اعتراض اعلیٰ حضرت کی وصیت پر ہے یا ان کے چاھنے والوں پر ؟

میں اب کو وصایا شریف کا سکین دکھاتا ہوں لیکن دیکھنے سے پہلے تعصب کی عینک اتار لیجیے گا شکریہ




fakri.jpg
یہ اپ کے مولوی نے لکھا ہے نا اس لیے قابل اعتراض نہیں ؟
کیا پیٹ بھڑ کر کھانا ایمان کی سلامتی ہے ؟ اور عاقبت بخیر ہو کیا پاخانہ آجائے یہ اآپ لوگوں کی عاقبت بخیر ہے ؟

Last edited by اجمل; 21-01-12 at 09:34 PM. وجہ: Add questions
اجمل آن لائن ہے  
2 قاری/قارئین نے اجمل کا شکریہ ادا کیا
Ferozi (21-01-12), مفتی (31-01-12)
پرانا 21-01-12, 09:51 PM   #98
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2011
مراسلات: 269
کمائي: 5,527
شکریہ: 190
213 مراسلہ میں 503 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حسن قادری مراسلہ دیکھیں
اتنی جلدی آپ نے ایک اپنے عالم کا انکار کر دیا،،، ابھی آپ اعلی حضرت کا انکار کر دیں گے ،،،، اس پہ جناب عبید الرضامولوی حشمت علی خان قادری برکاتی جو آپ کے مناظر اسلام تھے ان کی تقریظ ہے ،،، مفتی شہر پیلی بھیت محمد ضیا ء الدین قادری رضوی ان کے القاب میں حامی اسلام وسنیت ماحی بدمذھبی و لا مذہبیت
اور ماحی الفتن اولاد رسول محمد میاں صاحب قادری سجادہ نشین قادریہ بر کا تیہ سر کار کلاں مارہرہ مطہرہ
ان سب کی تصدیق ہے اس کتاب پر ،،، جناب بوگس کہنے سے نہیں توبہ کرنے سے بات بنے گی،،،،

بے شک اس کا تعلق اہل سنت سے نہیں بریلویوں سے ہے آپ کو کس نے اہل سنت کہدیا
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : بٹ جی مراسلہ دیکھیں
اپنوں کے ہی منکر بن رہے ہو ،،،،،،، ،،،،،،کیا بات ہے ایک معتبر کتاب کو آپ
بوگس کہ رہے ہیں کہیں جذبات میں آکر ،،،،حضرت کو بھی،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، ،،،
جو کتاب ہمارے عقاید کی ہی نہیں اسے کیسے ہم اپنی کتاب مان لیں ؟
اگر کتاب کا نام میں اہل سنت آرہا ہے تو اس کا مطلب یہ کیسے ہو گیا کہ یہ کتاب ہماری ہی ہے ؟ جناب صرف نام سے کسی چیز کی ملکیت ثابت نہیں ہوتی اسے لیے بطور ثبوت آپ کو میں اعلیٰ حضرت رحمۃ پر 150 اعتراضات کے جوابات سے اس کتاب کا سٹیٹس دکھا دیتا ہوں

150-jawab.jpg
اجمل آن لائن ہے  
2 قاری/قارئین نے اجمل کا شکریہ ادا کیا
Ferozi (21-01-12), مفتی (31-01-12)
پرانا 21-01-12, 10:02 PM   #99
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2011
مراسلات: 269
کمائي: 5,527
شکریہ: 190
213 مراسلہ میں 503 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فکری مراسلہ دیکھیں
حصرت تو اپنے دین مذھب کو اپنی کتابوں والا کہ رہے ہیں ،،،،،،
اور جو وصیت میں شریعت کی اتباع کرنے کا کہا اس بارے کیا خیال ہے ؟

اعلیٰ حضرت کی تمام کتابوں میں بھی تو دین اسلام کی وضاحت و تشریح ہے
اور ازروئے قرآن و حدیث کے مخلتف مسائل پر روشنی ڈالی گئی ہے

خیر اگر دوسری طرف دیکھا جائے تو تذکرۃ الرشید کے صفحہ نمبر 113
پے لکھا ہے کہ " مولانا تھانوی کے پاوں دھو کر پینا اخروی نجات کا سبب ہے"

اب کیا آپ لوگ بتانا پسند فرمائے گے کہ آپ لوگوں کو اخروی نجات نا قرآن میں ملی نا سنت رسول میں ملی تو تھانوی کے پاوں دھو کر پینے میں کہاں سے مل گئی ؟
دوسرے لفظوں میں اگر کسی کو تھانوی کے پاوں دھلا پانی کھٹا لگے تو اس پر تو تھانوی صاحب کی اطاعت ہی پاوں دھو کر پینا شمار ہو گا کیا ؟
اجمل آن لائن ہے  
2 قاری/قارئین نے اجمل کا شکریہ ادا کیا
مفتی (31-01-12), اعجازلاثانی (04-02-12)
موضوع بند کر دیا گیا ہے

Tags
پاک, قرآنی, نماز, نظر, مکمل, مقابلہ, محبت, مشعل, آج, ایمان, اللہ, اسلام, جواب, جرم, حال, خلاف, خدا, زندگی, زمانہ, شخص, عالم, عشق, صدی, صدیوں, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 07:40 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger