| تاریخ و عبر تاریخ و عبر |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 647
|
||||
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: لوگوں کے دل میں
عمر: 20
مراسلات: 5,772
کمائي: 82,786
شکریہ: 2
2,019 مراسلہ میں 3,246 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اچھا لکھا ھے اپ نے جناب۔
|
|
|
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: پاک نیٹ
مراسلات: 11,127
کمائي: 192,970
شکریہ: 9,954
7,882 مراسلہ میں 16,018 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
شکریہ
|
|
|
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() |
اچھا لکھا ھے اپ نے جناب۔
بہت ہی اچھا |
|
|
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2010
مراسلات: 540
کمائي: 7,067
شکریہ: 489
308 مراسلہ میں 689 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت اچھی تحریر ہے عزیزم
|
|
|
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2011
مراسلات: 257
کمائي: 5,574
شکریہ: 444
124 مراسلہ میں 510 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ابو حنیفہ النعمان بن ثابت بن زُوْطیٰ ولادت۸۰ھ وفات۱۵۰ھ
شجرہ نسب مورخ ابن خلکان نے امام اعظم علیہ الرحمہ کا شجرۂ نسب اس طرح نقل کیا ہے ابو حنیفہ النعمان بن ثابت بن زُوْطیٰ بن ماہ اورزوطیٰ کو زاء کے پیش اورطا کے زبر اورآخر میں یاء مقصورہ کے ساتھ ضبط کیا ہے،لیکن امام صاحب کے پوتے نے جو شجرۂ نسب اپنے دادا کا خو دبیان کیا ہے وہ اس طرح ہے اسمعیل بن حماد بن النعمان بن ثابت بن النعمان بن المرزبان ہمارے نزدیک نام ونسب کے فیصلہ کے لیے نسب سے زیادہ معتبر شہادت خود اہل خاندان ہی کی ہوسکتی ہے لہذا یہاں اسمعیل کے بیان کے خلاف جو بیانات بھی ہیں وہ سب مرجوح یا قابلِ توجہ ہوں گے،اسمعیل یہ بھی نقل فرماتے ہیں کہ ہمارے پردادا ثابت زمانہ طفولیت میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے آپ نے اُن کے اوران کی اولاد کے حق میں دعاء برکت فرمائی تھی اورہمیں امید ہے کہ ان کی یہ دعاء ہمارے حق میں ضرور قبول ہوئی وہ کہتے ہیں کہ ثابت کے والد نعمان وہی ہیں جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ھدیہ لیکر حاضر ہوئے تھے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امام اعظم کے خاندان کو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ہمیشہ خاص تعلق رہا ہے اوراسی بنا پر انہوں نے ثابت اوران کی اولاد کے لیے خصوصیت سے دعافرمائی اسمعیل یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ ہم فارسی النسل ہیں۔ تلامذہ حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اﷲ علیہ کے ایک ہزار کے قریب شاگرد تھے جن میں چالیس افراد بہت ہی جلیل المرتبت تھے اور وہ درجۂ اجتہاد کو پہنچے ہوئے تھے۔ وہ آپ کے مشیرِ خاص بھی تھے۔ ان میں سے چند کے نام یہ ہیں : امام ابو یوسف رحمۃ اﷲ علیہ امام محمد بن حسن شیبانی رحمۃ اﷲ علیہ امام حماد بن ابی حنیفہ رحمۃ اﷲ علیہ امام زفر بن ہذیل رحمۃ اﷲ علیہ امام عبد اﷲ بن مبارک رحمۃ اﷲ علیہ امام وکیع بن جراح رحمۃ اﷲ علیہ امام داؤد بن نصیررحمۃ اﷲ علیہ علاوہ ازیں قرآن حکیم کے بعد صحیح ترین کتاب صحیح بخاری کے مؤلف امام محمد بن اسماعیل بخاری اور دیگر بڑے بڑے محدثین کرام رحمہم اﷲ آپ کے شاگردوں کے شاگرد تھے۔ اہم تصانیف آپ کی چند مشہور کتب درج ذیل ہیں : الفقه الأکبر الفقه الأبسط العالم والمتعلم رسالة الإمام أبي حنيفة إلی عثمان البتی وصية الامام أبي حنيفة المقصود فی علم التصریف کتاب الوصیۃ لجمیع الامۃ الوصیۃ لعثمان السبتی کتاب الوصیۃ لابی یوسف الوصیۃ لاصحابہ الکبار الرسالہ الی نوح بن مریم
__________________
یکے آنکہ در خویش خود بیں مباش دوم آنکہ در غیر بد بیں مباش Last edited by ملک اظہر; 31-12-11 at 11:08 PM. |
|
|
| 4 قاری/قارئین نے ملک اظہر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#7 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Sep 2011
مراسلات: 45
کمائي: 853
شکریہ: 179
24 مراسلہ میں 64 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت عمدہ لکھا ہے جناب
|
|
|