واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > تاریخ و عبر



تاریخ و عبر تاریخ و عبر


حضرت عبد القادر جیلانی علیہ رحمہ

short url
موضوع بند کر دیا گیا ہے
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 03-06-08, 04:57 PM   #1
حضرت عبد القادر جیلانی علیہ رحمہ
Real_Light Real_Light آف لائن ہے 03-06-08, 04:57 PM

سر تاج الاولیاء مجددِ اعظم محی الدین حضرت عبد القادر جیلانی علیہ رحمہ

جس طر ح عوام النا س نے ربیع الاول کو حضور کا مہینہ قرار دے رکھا ہے با لکل اسی طر ح ربیع الثا نی کو حضرت عبد القاد رجیلا نی علیہ رحمت کا مہینہ قرار دے رکھا ہے اور ا ُس کو با رہ وفات اگر عوامی زبا ن میں کہتے ہیں تو اِس کو گیار ہویں شریف یعنی انکی ولادت کی کا مہینہ کہتے ہیں ۔اور اس طر ح فا ئدہ یہ ہوا کہ ایک کے بجا ئے دو مہینے مل گئے ۔یہ دونو ںمہینے ہی ذکر اور فکر میں گزر نے چا ہیئے ۔مگر ظلم یہ ہے کہ ا س میں بھی سوا ئے ان کی کرا ما ت کے ذکر کے اور کچھ نہیں ہو تا۔

جس کا انہو ں نے کبھی اپنے خطبا ت میں سوا ئے اپنی مخصوص محفلو ں کے ذکر نہیں فر مایا۔وجہ یہ تھی کہ ان کی زندگی کہ کئی پہلو تھے ایک عوام النا س اور علماء کے لیئے ، تو دوسرا طا لبانِ معرفت کے لیئے۔ لہذا انہو ں نے دو نوں کو کبھی گڈ مڈ نہیں کیا ۔

لیکن ان کے بر عکس واعظین کاسا را زور کرامات پر ہی رہتا ہے ۔جس سے عوام الناس کو کو ئی فا ئدہ نہیں پہنچتا ۔اس میں کو ئی شک نہیں کہ وہ صا حبِ کشف و کرا ما ت تھے اور اس کا سب سے بڑا ثبو ت جو ملتا ہے وہ ابنِ کثیرکے یہا ں بھی ہے کہ وہ تحریر فر ما تے ہیں کہ ً عبد القادر جیلا نی کی کرا ما ت اس کثر ت اور تواتر کے سا تھ ملتی ہیں ان کی تر دید نہیں کی جاسکتی اور انہو ں نے سیرت النبی (البدایہ النہایہ ) میں بھی ان کوصاحب کشف بزرگ لکھا ہے، نیز یہ کہ لوگوں نے ان سے بڑا فا ئدہ اٹھا یا ً مگر جیسا کہ ہم پہلے عرض کر چکے ہیں کہ عوا می مجا لس میں انہو ں نے اس کو کبھی مو ضو ع نہیں بنا یا ،عوامی مجا لس میں ان کو مو ضو ع بنا نا با لکل ایسا ہے جیسا کہ کسی پہلے درجہ کے طا لب علم کے سا منے پی ایچ ڈی کا مقا لہ پڑھا جائے ۔


اس کو اقبا ل نے بڑی خو بصو رتی سے اپنے ایک شعر میں سمویا ہے
اقبال یہاں ذکر نہ کر لفظِ خو دی کا
موزوں نہیں مکتب کے لیئے ایسے مقا لا ت



ہما رے ایک دو ست نے اس کو ایک مر تبہ حلقہ تفسیرمیں ،قرآن سے ہی ثا بت کیا کہ یہ عوامی مضمو ن نہیں ہے۔ اس لیئے اس کو عوام کو سمجھنے کی تکلیف نہ دی جا ئے، ورنہ وہ را ستہ بھٹک جا ئیں گے۔ اور اس کی مثا ل انہو ں نے حضرت مو سٰی علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام کے قصے سے دی ۔

ان کا استد لا ل وہ تھا جو حضرت خضر نے حضرت مو سٰی سے فر ما یا کہ ً آپ چپ کیسے رہ سکتے تھے ۔جب جا نتے ہی نہیں تھے کہ میں نے یہ تمام افعال اللہ کی مر ضی کے مطا بق انجام دیئے ً تو یہا ں بھی صورت حا ل یہ ہی ہے کہ جو منکر ہیں۔ ان کی سمجھ میں ہی نہیں آسکتا ،اور جو عوام ہیں، یہ مسا ئل ان کی سمجھ سے یو نہیں با ہر ہیں۔ اور وہ مو جو دہ دور کے سجا دہ نشینو ں کو ان پر قیا س کر کے ان کو بھی کو ئی گو شہ نشین اور مر یدو ں کے نذرا نو ں پر گزر کر نے والا سجا دہ نشینوں جیساقیا س کر لیتے ہیں ۔اور اس کا م پر پردہ پڑجا تا ہے، جس کی بنا پر وہ محی الدین کہلا ئے یعنی ً دین کو زند ہ کر نے والے ًاور یہ مہینہ بھی اسی کشمکش کا شکا ر ہو جا تا ہے۔ بجا ئے استفا دہ حاصل کر نے کے ،جو منکر ہیں اتنا حد سے تجا وز کر جا تے ہیں کہ اسے شرک کہتے ہیں اور دوسروں کااس مہینہ میںسا را زور اسی پر ہو تا ہے کہ ان کی کرا ما ت کیا تھیں ؟

جبکہ وہ خود اپنی کتاب غنیۃ الطا لبین میں اس کو پا نچو یں در جہ کی چیز فر ما تے ہیں ۔اور یہ کہ یہ اللہ اور بندے کے در میا ن پردے کا دور ہو تا ہے جب وہ اس سے بھی گزر جا تا ہے تب اسے عرفا ن حا صل ہو تا ہے ۔ جبکہ دوسرا گروہ اس کو منا نے ان کے نام پر نذرونیا ز اور جا نور پا لنے اور ذبح کر نے کو شرک قرار دیتا ہے اور بہ زعمِخود تقویٰ کی بنا پر ایسی با توں پر لب کشا ئی کر تا ہے،جن کا اس کو علم نہیں ہے اور ان تما م غلط کا ریو ں کا جو عوام ان کے نا م پر کر تے ہیں ذمہ دا ر قرار دے کر اپنے آپ تہمت لگانے کا مر تکب ہوتا ہے ۔

اور اس پر ظلم یہ کہ استدلال کے لیئے سورہ بقر کی وہ آیت جس میں ۔۔ مااھل بہ لغیر اللہ ۔۔ کا ذکر آیا ہے پیش کرتا ہے ۔ اس آیت کی تفسیر حضرت عبدا للہ ابنِ مسعود نے فرمائی ہے ما ذبح للطوا غیت ۔۔۔ یعنی جو جانور طاغو توں کے نام پر ذبح کیا جا ئے وہ حرام ہے ۔اس تفسیر کی روشنی میں کو ئی کہہ سکتا ہے کہ کو ئی مسلمان کسی طا غوت (کسی شیطا نی طا قت )یعنی دیوی دیو تا وغیرہ کے نام پر ذبح کر سکتا ہے ؟ با لا خر یہ اگر پا لے ان کے نام پر گئے تھے تو بھی ان کو یہ مقام اسلام کے اتبا ع، رسول اور وحدانیت کی بنا پر ملا نہ کہ( نعوذباللہ) طاغوت کی پیرو ی کی بناپر۔اورنہ ہی ان کے ما ننے والے ایسے سمجھے جاسکتے ہیں ! لہذا یہ اللہ ہی کی محبت میں پا لے جا تے ہیں اور اللہ ہی کے نا م پر ذبح کیئے جا تے ہیں ۔ اور پھر اگر بیچ میں یہ لغزش مان بھی لی جا ئے، تو اس حدیث کی بنا پرجو اہلِ دوزخ اور جنت کے بار ے میں ہے ۔ ۔۔۔وانماالاعما ل بخواتیمھا ۔ (کہ ثواب کا دارومدار عمل کے مرتبہ نتا ئج پر ہے ) اگر انکے نا م پر بکرا پالا بھی تھا تو بھی آخری نتیجہ یہ ہے کہ وہ ذبح اللہ ہی کہ نام پر ہوا ۔

اور یہ دو نوں طرف لا علمی ہے ۔جو ایسا کرا تی ہے اگر دو نوں عقیدت یا تعصب کی عینک اتا ر کر دیکھیں، تو ان کا نو را نی چہرہ نظر آ جائیگا ۔جنہوں نے بگڑی ہو ئی امت کو سنبھا لنے کی کو شش کی اور آج تک ان کا صحیح اتبا ع کر نے والے سا ت سو سال سے فیض پاتے آرہے ہیں ۔جس کی وجہ سے وہ محی الدین کہلا نے کے مستحق بنے ۔ہم آپ کو وہ روا یتی با تیں سنا نے کے بجا ئے جو آپ پہلے ہی بہت سن چکے ہیں، ان کی زند گی کی اصل شبیہ پیش کر رہے ہیں ۔جس کے لیئے اللہ تعا لیٰ نے انہیں اسوقت بھیجا تھا ۔

پہلے تو ہم آپ کو اس دور کے با رے میں بتا نا چا ہیںگے کہ جب انہو ں نے آنکھ کھو لی تو وہ دو ر تھا جس میں سلجو قیوں نے ابو بہ کو شکست دے کر عبا سی سلطنت دو با رہ قا ئم کر لی تھی ۔مگر پور اعا لمِ اسلام آج کی طر ح سیکڑوں با د شا ہتو ں میں بٹا ہوا تھا اور سب ایک دو سرے سے جو ع الا رض میں مبتلا ہو نے کی سبب دست بہ گر یبا ں تھے۔ جبکہ خلیفہ کاکا م اتنا رہ گیا تھا کہ جو جیت جا ئے اس کو سندِ با د شا ہی عطا کر دے ۔گو اس وقت جو خلیفہ تھا وہ دیندا ر تھا اور جو علما ء اور صو فیاء دو نوں کا احترام کر تاتھا۔ اور سا تھ لے کر چلنے کی کو شش بھی کر تا تھا ، مگر عوام اور رؤسا ء گمرا ہ ہو چکے تھے لہذا وہ ہر ایک کے کنٹرول سے با ہر اور سا زشو ں میں مصروف تھے۔ اور آج کی طرح ہر باد شا ہ ان کو را ضی رکھنے اور اپنے تخت کو بچا نے میں مصروف رہتا ۔

ایک طر ف شا م پر عیسا ئی حملہ آور تھے تو دوسری طر ف با طنی فر قہ کے سر برا ہ حسن بن صبا ح کے معتقدین تبا ہی مچا ئے ہو تھے ۔ جو منہ کھو لتا، چا ہے وہ عا لم ہو یا با د شاہ اور سردار، وہ اپنے فدا ئین سے اسے قتل کروا دیتے اسی دوران انہوں نے ظلم یہ کیا کہ نظا م الملک طو سی کو جو کہ بہت بڑا صا حب علم اور بہترین منتظم تھا قتل کرا دیا۔ اس طر ح سلجو قی سلطنت بھی انتشار کا شکا ر ہو گئی ۔ایسے میں عبد القادر جیلا نی کی پیدا ئش ایک انتہا ئی بزرگ گھرا نے میں ہو ئی اور بچپن سے ہی ان کے جو ہر کھلنے لگے ۔آخر جب انہو ںؒ نے دیکھا کہ وہ چھو ٹا سا قصبہ ان کی جو لا نگا ہ کے لیئے چھو ٹا ہے تو وہ حصو ل علم کے لیئے بغداد تشریف لے گئے اور راستہ میں اپنی سچا ئی کی بنا پر ڈا کو ؤ ں کو مطیع کر تے ہو ئے بغداد اس طر ح پہو نچے کہ اس واقعہ کے شا ہد اور شہرت ان سے پہلے پہنچ چکی تھی۔

یہاں آنے کے بعد انہوں نے پہلے تو حضرت حماد بن مسلم دبا س جو اس دور کے نامور عارف تھے، کی خدمت میں حا ضر دی ، جنہو ں نے انہیں ہا تھو ں ہا تھ لیا۔مگر تھوڑے دنو ں بعد انہیں یہ محسوس ہوا کہ صرف علم با طنی کا فی نہیں ہے لہذ اس وقت کے عظیم فقیہ حضرت قاضی ابو سعید المبا رک کی خدمت میں حا ضرہو ئے اور ان سے علم القر آن حدیث اور فقہ وغیرہ حا صل کیئے اور جب انہو ں نے یہ کہہ کر ان کو فا رغ کر دیا کہ ً اےعبد القادر ہم تو تم کو الفا ظِ حدیث کی سند دے رہے ہیں ورنہ حدیث کے معنی میں تو ہم تم سے استفا دہ کر تے ہیں۔کیو نکہ بعض احا دیث کے جو تم نے معنی بیا ن کیئے ہیں ان تک ہما ری فہم کی رسا ئی نہیں تھی ً اس کے بعد بھی ان کا ابھی شا ید علم و عرفا ن تشنہ تھا جس لیئے وہ تخلیق کیئے گئے تھے۔

لہذا وہ صحرا نوردی کر تے رہے اور جب عرفان حاصل ہو گیا تو ان کو تبلیغ کا حکم مل گیا اور وہ اسی مدرسہ با ب الازج میں درس دینے لگے وہا ں یہ عالم ہو گیا کہ رضا کا ر اور مخیر حضرات دن را ت اس کے حدود بڑھا تے رہے پھر بھی یہ مد رسہ شا ئقین علم کی کثرت کی بنا پر با زار اور سڑکو ں کو بندکر نے لگا۔ تو آپ نے عید گا ہ میں درس دینا شروع کر دیا جس میں بہ یک وقت ستر ہزا ر سا معین تک درس میں شامل ہو تے تھے اور چا ر سو دوا تیں اور قلم قلمبند کر نے کے لیئے گنی گئیں ۔مگر کما ل یہ تھا کہ آپ کی آواز بغیر کسی مکبر کے ہر کو نے میں پہونچتی تھی اور سیکڑوں آدمی روزانہ مسلمان ہو تے اور بقیہ اپنے دین کو درست کر نے کی کو شش کر تے ۔اپنی تقا ریر میں آپ مسلما نو ں کے ہر طبقے کو بری طر ح لتاڑتے جس میں امرا ء علما ء اور گدی نشین سبھی شا مل تھے ۔

گو کہ آپ نے کئی خلفاء کا دور دیکھا مگر نہ تو کسی خلیفہ کی ہا تھ ڈا لنے کی جرا ء ت ہو ئی نہ کسی اور کی جبکہ فدا ئین ہی با ت با ت پر علما ء کو قتل کر رہے تھے ۔یہ بھی ایک زندہ کرا مت تھی۔ جبکہ آپ کبھی نہ در با ر میں تشریف لے گئے نہ ااپنے یہا ں امرا ء یا خلیفہ کا آنا پسند فر ما یا ۔

یاد رہے ان سے پہلے لا تعداد علما ء انہیں جا بر خلفاء کے ظلم کا شکا ر ہو ئے جن میں فقہ حنبلی کے با نی حضرت امام احمد حنبل بھی تھے جن کے فقہ کو انہو ں نے دو با رہ زندہ کیا۔ جس کی وجہ سے آپ کا لقب محی الدین پڑا، حضرت امام حنبل بے انتہا مظا لم کا شکا ر ہو ئے اور اپنی جا ن اللہ کے سپر د کی ۔ لیکن اس کے با وجود بھی حضرت عبد القادر جیلانی اپنی تقاریر میں انہیں بری طر ح مخا طب فر ما تے تھے،اس کے چند نمو نے ہم آگے پیش کر رہے ہیں۔ آپ کا زمانہ تا تا ری عذاب مسلما نوں پر نا زل ہو نے سے پہلے کا زما نہ تھا۔ چو نکہ اللہ تعا لیٰ کی سنت رہی رہی ہے کہ وہ ہر عذا ب سے پہلے کو ئی نبی ضرورمبعوث فر ما تا تھا ۔مگر حضو ر کے بعد کو ئی نبی نہیں آنا تھا ۔لہذا پہلا مجدد چھٹی صدی ہجری میں اتما م حجت کے لیئے ان کوبنا کر بھیجا اور جب وہ کسی کو کہیں بھیجتا ہے تو کرا ما ت سے بھی مسلح فرما دیتا ہے اور علم سے بھی، نیز اس کی حفا ظت بھی خو د فر ما تا ہے۔

اس تمہید سے جو بڑی طویل ہے آپ نے اندا زہ لگا لیا ہو گا کہ وہ کس معیا ر کے بزرگ تھے اور ان کا مشن کیا تھا جس میں انہیں تا ئید غیبی حا صل رہی ،تو تعجب کی با ت کیا ہے ؟ لہذا انہیں ما ننے والوں کے غلو کوبنیا دبناکر ان کومطعون کر نا خو د اپنی عاقبت خراب کرنا ہے۔ اب ہم چند خطبا ت کے مختصر اقتبا سات پیش کر کے کر اس مضمو ن کو ختم کر رہے ہیں ۔ با شند گا ن بغداد سے خطاب ۔

اے بغداد کے رہنے والو! تمہا رے اندر نفاق زیا دہ اور اخلا ص کم ہو گیا ہے اور اقوال بلا اعما ل بڑھ گئے ہیں اور عمل کے بغیر قول کسی کا م کا نہیں ،تمہا رے اعما ل کا بڑا حصہ جسمِ بے روح ہے کیو نکہ روح ِاخلا ص تو حیدوسنتِ رسول اللہ پر قا ئم ہے ،غفلت مت کرو ،اپنی حالت کوپلٹوتا کہ تمہیں راہ ملے ۔
جاگ اٹھو اے سو نے والو ! اے غفلت شعارو بیدار ہو جا ؤ؛اے سو نے والو !جاگ اٹھو( اس با طل نظریہ سے با ز آؤ)کہ جس پر ابھی تم نے اعتما د کیا ( عقیدہ بنا رکھا ہے )وہ تمہارا معبود ہے اور اس سے توقع کرو کے اس کے ہا تھ میں حق تعا لیٰ نے تمہا را نفع نقصان دے رکھا ہے۔ جبکہ نفع اور نقصان پہنچا نے وا لا تمہارا معبو د اللہ ہے ۔ (اے غافلوں )عنقریب تمہیں تمہارا انجا م نظر آجا ئے گا

( اور وہ ڈراوا، یا پیشنگو ئی پو ری ہو کر رہی ان کی رحلت کے تھو ڑے ہی دنو ں بعد تا تا ریوں نے بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ۔شمس) ً در با ری علما زہا د، فقیوں ، صوفیوں، اور سلا طین سے خطا ب ً اے علم و عمل میں خیا نت کر نے والو!تم کو ان سے کیا نسبت ،اے اللہ اور اس کے رسول کے دشمنو ! اے اللہ کے بندوں پر ڈا کہ ڈا لنے والو!تم کھلے ظلم ،کھلے نفا ق میں مبتلا ہو ،یہ نفا ق کب تک ؟ عا لمو ں اور زاہدو!با دشا ہوں اور سلطا نوں کے لیئے تم کب تک منا فق بنے رہو گے؟ کہ تم ان سے زر و ما ل شہوات (خو اہشا ت)و لذات حا صل کر تے ہو ۔

تم اور اکثر با د شا ہا ن وقت اللہ کے ما ل اور اس کے بندوں کے با رے میں ظا لم ،اور خیا نت کر نے والے ہو! اے الٰہی ، منا فقوں کی شو کت کو تو ڑ دے اور ان کو ذلیل فر مایا، ان کو توبہ کی تو فیق عطافر ما اور ظا لم کا قلع قمع فر ما دے ، زمین کو ان سے پا ک فر ما دے یا ان کی اصلا ح فر ما دے ( آمین ) ً تم رمضان میں اپنے نفسوں کو پا نی سے رو کتے ہو اور جب افطار کا وقت آتا ہے تو مسلما نوں کے خون سے افطار کرتے ہو، ان پر ظلم کر کے جو مال حا صل کیا گیا ہے اس کو نگلتے ہو ،اے لو گوں تم سیر ہو کر کھا تے ہو اورتمہا رے پڑوسی بھوکوں مر تے ہیں۔پھردعویٰ کر تے ہو ہم مو من ہیں ۔

تمہارا ایمان صحیح نہیں ہے۔ دیکھو !ہما رے نبی اصلواۃ والسلام اپنے ہا تھ سے سا ئل کو دیا کرتے تھے ،اپنی اونٹنی کو چا رہ ڈا لتے تھے ،اس کا دودھ دو ہتے ۔اپنا کرتا سیا کر تے ۔تم ان کی متا بعت کا دعویٰ کیسے کر سکتے ہو جبکہ افعال میں ان کی مخا لفت کر تے ہو،تم میں کوئی بھی نہیں ہے جس پر توبہ واجب نہ ہو۔(حضرت عبد القادر جیلانی کی کتاب فتوح الغیب سے اقتبا سات)اب فیصلہ میں آپ پر چھو ڑتاہوں ۔کہ ان میں سے کو نسا پیغام خلا ف شرع ہے ؟یا یہ بزرگ اس آیت کی تفسیر ہیں۔ تر جمہ ً جنہیں ہم نے پیداکیا ان میںکچھ لو گ ہیں جو حق کی طرف راہ دکھلاتے ہیںاور اسی کے مطا بق انصاف کر تے ہیں ً ( 7:181)

Attached Images
    

Attached Images
File Type: bmp abdul qadir jilaani 1.bmp (47.5 KB, 7 views)

__________________
پھوٹا تھا جو کبھی کسی نیزے کی نوک سے،ہر عہد پر محیط وہی انقلاب ہے
ہر دَور میں‌حُسین ع نے ثابت یہ کر دیا،ہر دور کےیزید کا خانہ خراب ہے

 
Real_Light's Avatar
Real_Light
Senior Member
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Islamic Republic of Pakistan
مراسلات: 3,203
شکریہ: 3,117
988 مراسلہ میں 1,962 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 308
3 قاری/قارئین نے Real_Light کا شکریہ ادا کیا
مفتی (31-12-11), ملک اظہر (31-12-11), شعبان نظامی (23-01-12)
پرانا 03-06-08, 10:39 PM   #2
Senior Member
 
The Great's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: لوگوں کے دل میں
عمر: 20
مراسلات: 5,772
کمائي: 82,786
شکریہ: 2
2,019 مراسلہ میں 3,246 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: حضرت عبد القادر جیلانی علیہ رحمہ

اچھا لکھا ھے اپ نے جناب۔۔
The Great آف لائن ہے  
The Great کا شکریہ ادا کیا گیا
مفتی (31-12-11)
پرانا 04-06-08, 11:22 PM   #3
Senior Member
 
Real_Light's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Islamic Republic of Pakistan
مراسلات: 3,203
کمائي: 17,176
شکریہ: 3,117
988 مراسلہ میں 1,962 بارشکریہ ادا کیا گیا
Real_Light کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں Real_Light کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: حضرت عبد القادر جیلانی علیہ رحمہ

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : The Great مراسلہ دیکھیں
اچھا لکھا ھے اپ نے جناب۔۔
بہت شکریہ محترم
Real_Light آف لائن ہے  
Real_Light کا شکریہ ادا کیا گیا
مفتی (31-12-11)
پرانا 31-12-11, 05:47 PM   #4
Senior Member
 
مفتی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2010
مراسلات: 540
کمائي: 7,067
شکریہ: 489
308 مراسلہ میں 689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اچھی شیئرنگ پر ہم آپ کے مشکور ہیں
مفتی آف لائن ہے  
پرانا 31-12-11, 11:15 PM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2011
مراسلات: 257
کمائي: 5,574
شکریہ: 444
124 مراسلہ میں 510 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جزاک اللہ خیرا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ملک اظہر آن لائن ہے  
ملک اظہر کا شکریہ ادا کیا گیا
مفتی (31-12-11)
موضوع بند کر دیا گیا ہے

Tags
پسند, نظر, محبت, آج, آدمی, ایمان, اللہ, اسلام, بہترین, بچپن, تاج, جیت, حکم, حدیث, حسن, حضرات, خون, دیکھو, رمضان, راستہ, زندگی, زمانہ, شعر, عبد القادر جیلانی, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 07:50 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger