واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > تاریخ و عبر



تاریخ و عبر تاریخ و عبر


حضرت عثمان ذوالنورین رضی اللہ تعالٰی عنہ ۔۔۔18ذلحج یوم شہادت

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 05-12-09, 12:15 PM   #1
حضرت عثمان ذوالنورین رضی اللہ تعالٰی عنہ ۔۔۔18ذلحج یوم شہادت
sahj sahj آف لائن ہے 05-12-09, 12:15 PM

امیرالمُومنِین حضرت عثمان ذوالنورین رضی اللہ تعالٰی عنہ -


”جب تک میں اپنے ساتھی کے قتل کا بدلہ نہ لے لوں گا یہاں سے حرکت نہیں کروں گا اور وہیں کیکر کے درخت کے نیچے، جس کے سایہ میں تشریف فرما تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین سے جان نثاری کی بیعت لینی شروع کر دی کہ: ’’جب تک جان میں جان ہے، کافروں سے جہاد و قتال کریں گے، مرجائیں گے، مگر بھاگیں گے نہیں‘‘۔ یہ ساتھی حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ تھے۔ جنہیں رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سفیر مقرر کرکے اہلِ مکہ کی طرف بھیجاتھا کہ ابو سفیان اور دیگرسردارانِ مکہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام پہنچادیں کہ:’’ہم لڑنے کے ارادے سے نہیں آئے۔ ہمارا مقصود صرف زیارتِ کعبہ سے مشرف ہونا اور قربانی ادا کرنا ہے‘‘ آپ رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ پیغام پہنچایا تو سب نے بالاتفاق جواب دیا کہ اس سال تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل نہیں ہوسکتے۔ تم اگر چاہو تو تنہا طواف کرسکتے ہو۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بغیرکبھی طواف نہیں کروں گا۔ قریش نے یہ سن کر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو روک لیا۔ اُدھر مسلمانوں میں یہ خبر مشہور ہو گئی کہ عثمان غنی رضی اللہ عنہ شہید کر دئے گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پریہ خبر بہت گراں گزری اور دلی صدمہ پہنچا۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کا حکم لے کر اُترے کہ آپ اصحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین سے بیعت لیں۔ بعد میں یہی بیعت ’’بیعت رضوان‘‘ کے نام سے مشہور ہوئی اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی بیعت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شان سے فرمائی کہ ’’اپنا ایک ہاتھ پھیلایا اور پھر اپنا دایاں ہاتھ بلند کرکے فرمایا اے لوگو! دیکھ لو! یہ عثمان کی بیعت ہے اور اپنے دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر مارا اور جس طرح بیعت میں ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ سے پکڑا جاتا ہے، اسی طرح اپنے ہاتھ سے دوسرا دستِ مبارک پکڑا‘‘۔ جلیل القدر صحابی حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’خدا کی قسم ہم سب کی بیعت سے افضل اور بڑھ کر عثمان رضی اللہ عنہ کی بیعت تھی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے ہاتھ کو عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ کے قائم مقام بنایا‘‘یہ عظیم الشان واقعہ 6ھ میں پیش آیا۔

آپ رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی رشتہ دار تھے۔ باپ کی طرف سے آپ رضی اللہ عنہ کا نسب چوتھی پشت پر جاکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتا ہے اور آپ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بھتیجے ہوتے ہیں اور والدہ کی طرف سے آپ رضی اللہ عنہ کا نسب دوسری پشت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مل جاتا ہے اور آپ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بھانجے ہوتے ہیں۔

آپ رضی اللہ عنہ میانہ قامت، خوش رو تھے۔ چہرے پر کسی قدر چیچک کے آثار تھے، بڑی ڈاڑھی تھی، سر میں بال زیادہ تھے۔ بازو چوڑے تھے، پنڈلیاں گوشت سے بھری ہوئیں تھیں اور رنگ گندمی تھا۔

بچپن میں آپ رضی اللہ عنہ نے لکھنا پڑھنا سیکھا۔ کچھ دنوں تک اونٹ چرانے کی خدمت بھی عرب کے رسم کے مطابق انجام دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی ترغیب پر مشرف باسلام ہوئے۔ یوں آپ رضی اللہ عنہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، حضرت علی رضی اللہ عنہ اور اُم المُومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بعد اسلام قبول کرنے والے چوتھے شخص تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ خود اکثر فرمایا کرتے تھے:’’میں اسلام کا چوتھا شخص ہو ں، میری ذات سے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی چوتھی عدد پوری فرمائی‘‘۔

آپ رضی اللہ عنہ کو فطرت سلیمہ ودیعت کی گئی تھی۔ جس کی وجہ سے آپ رضی اللہ عنہ زمانۂ جاہلیت میں بھی فسق وفجور، کذب وافتراء، زنا، چوری اور شراب جیسی جاہلیت کی اکثر عادات واطوار سے دُور رہے۔ استیعاب میں ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور آپ رضی اللہ عنہ نے زمانۂ جاہلیت میں اپنے اوپر شراب حرام کر لی تھی جبکہ عرب کا ہر بچہ بادۂ گلگوں میں مست تھا۔ آپ کی زبان اسکے ذائقہ سے بھی نا آشنا تھی، صحبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے اِن اوصاف و کمالات پر اور چار چاند لگا دئیے تھے۔

آپ رضی اللہ عنہ محاسنِ اخلاق، حلم و وقار، شرم و حیاء، تقوی وطہارت اورحسنِ عشرت کے مجسمہ تھے، صلہ رحمی و قبیلہ پروری کا خاص شیوہ تھا۔ مسلمان ہونے کے بعد آپ رضی اللہ عنہ روزانہ غسل فرماتے، آپ رضی اللہ عنہ کثرت کے ساتھ روزے رکھنے والے، تہجد گذار اور لوگوں پر احسان کرنے والے تھے، اسلام قبول کرنے کے بعد آپ رضی اللہ عنہ کا معمول تھا کہ ہر جمعہ کو ایک غلام آزاد کیا کرتے، اگر کبھی اس میں ناغہ ہوجاتا تو آئندہ جمعہ کو دو غلام آزاد کرتے۔ آپ رضی اللہ عنہ کاتبین وحی میں سے تھے، آپ رضی اللہ عنہ عشرہ مبشرہ میں سے تھے، آپ رضی اللہ عنہ اکثر ایک رکعت میں قرآن ختم کرتے تھے۔ متعدد قرآنی آیات آپ رضی اللہ عنہ کی شان میں نازل ہوئیں۔ آپ رضی اللہ عنہ قرآنی آیات کے شانِ نزول کے ماہر تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ مسائلِ حج کے بہت ماہر تھے، دورِ نبوی میں جن صحابہ رضی اللہ عنہما کو فتوی دینے کی اجازت تھی آپ رضی اللہ عنہ اُن میں سے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ کی حیا ضرب المثل تھی، حتٰی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی، آپ رضی اللہ عنہ سے حیا کرتے تھے۔ ایک موقعہ پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہما کی ایک مجلس میں تشریف فرما تھے، حضرات شیخین بھی تشریف فرماتھے ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پنڈلی مبارک سے کپڑا ھٹا ہوا تھا، اچانک حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ بھی تشریف لے آئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً اپنے پاؤں سمیٹ لیے اور پنڈلیاں بھی چھپالیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ کیا میں ایسے آدمی سے حیا نہ کروں؟ جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہوں”۔

آپ رضی اللہ عنہ نے دو ہجرتیں کیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے حبشہ کی طرف ہجرت کی، جس میں آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی اور آپ رضی اللہ عنہ کی بیوی، حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا بھی آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھیں۔ یوں آپ رضی اللہ عنہ حضرت لوط وحضرت ابراہیم کے بعد پہلے شخص ہیں، جنہوں نے اپنے اہل و عیال کے ساتھ ہجرت کی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ ہی کی نسبت حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو مخاطب کر کے ارشاد فرمایا تھا: ’’اے ابوبکر رضی اللہ عنہ حضرت لوط و حضرت ابراہیم کے بعد سب سے پہلے انہی دو نے ہجرت کی ہے‘‘۔

جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کرکے مدینہ تشریف لے آئے تو آپ رضی اللہ عنہ بھی اپنی اہلیہ کے ساتھ حبشہ سے ہجرت کر کے مدینہ آ گئے۔ آپ رضی اللہ عنہ کو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو بیٹیاں حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا و حضرت کلثوم رضی اللہ عنہا یکے بعد دیگرے آپ رضی اللہ عنہ کے نکاح میں آئیں۔

حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کے انتقال کے بعد سرورِدو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کو مغموم دیکھا تو فرمایا کہ:’’جبرئیل علیہ السلام نے مجھے اللہ کا یہ پیغام پہنچایا ہے کہ میں رقیہ کی بہن کلثوم کا نکاح، اُسی مہر کے ساتھ، اُسی طرح آپ کے ساتھ کر دوں‘‘ پھر جب حضرت کلثوم رضی اللہ عنہا کا بھی انتقال ہوگیا توحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’اگر میری اور لڑکی ہوتی تو میں اس کا نکاح بھی عثمان سے کر دیتا‘‘۔ ایک روایت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اگر میری چالیس لڑکیاں بھی ہوتیں تو میں یکے بعد دیگرے عثمان سے عقد کرتا جاتا، یہاں تک کہ اُن میں سے ایک بھی باقی نہ رہتی‘‘۔ اسی وجہ سے آپ رضی اللہ عنہ کو ذی النورین کے لقب سے یاد کیاجاتا ہے۔

آپ رضی اللہ عنہ کے نمایاں اوصاف میں سے ایک وصف سخاوت و فیاضی تھا۔ جس سے قریش کے ہر چھوٹے بڑے، امیر فقیر، سب نے خوب فائدہ اٹھایا۔ اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ آپ رضی اللہ عنہ نے فیاضی کا جو معاملہ کیا وہ آپ رضی اللہ عنہ کی ثروت و دریا دِلی کی بے مثل نظیر ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا جب حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے نکاح طے ہوا توحضرت علی رضی اللہ عنہ کے مَہر کی رقم آپ رضی اللہ عنہ نے ہی فراہم کی تھی۔ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کو پچاس ہزار درہم قرض معاف کر دیا تھا، بعض دیگر صحابہ رضی اللہ عنہما کو اِس سے بھی زیادہ قرض معاف کیا۔ آپ رضی اللہ عنہ اپنے زمانہ خلافت میں ہر سال حج کے لئے تشریف لے جاتے اور مقام منٰی میں اپنا خیمہ نصب کرواتے، جب تک حُجاج کوکھانا نہ کِھلا لیتے، لَوٹ کر اپنے خیمہ میں نہ آتے تھے، یہ سارا انتظام اپنی خاص جیب سے کرتے، بیت المال سے اس کا کوئی تعلق نہیں تھا۔

غزوۂ تبوک میں کھانے پینے کی جو تکلیف مسلمانوں کو ہوئی، اِس سے پہلے کسی غزوہ میں نہ ہوئی تھی، آپ رضی اللہ عنہ کو جب اِس کا عِلم ہوا تواِس قدر غلہ، روٹیاں اور کھانے پینے کی دیگر چیزیں خرید کر اُونٹوں پر لاد کر لے گئے کہ تبوک کے تمام شرکاء کو کافی ہوگیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا تناول فرمانے کے بعد آسمان کی طرف ہاتھ اُٹھا کر آپ رضی اللہ عنہ کو دعا دیتے ہوئے فرمایا:’’اے اللہ!میں عثمان سے خوش ہوگیا ہوں تُو بھی اِس سے راضی ہوجا‘‘۔

جیش العسرہ میں کل لشکر کاسروسامان آپ رضی اللہ عنہ نے ہی مہیا کیا تھا۔ حضرت عبدالرحمٰن بن خباب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر سے اُترتے ہوئے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے:’’آج کے بعد عثمان جو کریں گے سب معاف ہے‘‘۔

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ایک مرتبہ اہلِ بیت نبوی کو چار روز تک کھانے پینے کو کچھ میسر نہ آیا۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا تو آپ رضی اللہ عنہ نے کئی اُونٹ آٹا، گیہوں، کھجوریں، سالم بکرا اور تین سو درہم کی ایک تھیلی لاکر پیش کی اور کہا اِسے تیار ہونے میں دیر لگے گی، میں تیار کھانا لاتا ہوں، چنانچہ تھوڑی دیر میں بُھناگوشت اور روٹیاں لائے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو ہاتھ اُٹھا کر دعا دیتے ہوئے فرمایا: ’’اے اللہ! میں عثمان سے راضی ہوگیا ہوں تو بھی راضی ہوجا‘‘۔

مدینہ منورہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کے بعد ایک چھوٹی سی مسجد بنائی گئی تھی، جو کچھ ہی عرصہ میں چھوٹی پڑ گئی تھی، ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ میں ارشاد فرمایا: ’’جوشخص فلاں فلاں اشخاص کے مکان خرید کر ہماری مسجد میں شامل کرے گا، اللہ تعالٰی اُس کے لئے جنت میں مکان بنائے گا اور اُس کے گناہ معاف کردے گا‘‘ آپ رضی اللہ عنہ نے اجازت لے کر ان مکانات کو بیس یا پچیس ہزار اشرفی میں خرید کر مسجد نبوی میں شامل کردیا۔

مدینہ منورہ میں میٹھے پانی کا ایک ہی کنواں تھا، جس کا مالک ایک یہودی تھا، جو پانی مہنگا بیچتا تھا، جس کی وجہ سے نادار صحاب کو کھاری پانی پینا پڑتا تھا، رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن خطبہ میں پانی کی اِس تنگی کا ذکر فرمایا، آپ رضی اللہ عنہ نے پنتیس ہزار میں کنواں خرید کر وقف کر دیا۔

صدیق اکبررضی اللہ عنہ نے آپ رضی اللہ عنہ کو اپنا معتمدِ خاص مقرر کر رکھا تھا۔ صدیق اکبررضی اللہ عنہ تمام اہم معاملات آپ رضی اللہ عنہ سے تحریر کرواتے، حتٰی کہ اپنی وصیت، جس میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو اپنا جان نشین نامزد کیا، آپ رضی اللہ عنہ سے تحریر کروائی تھی۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں بھی آپ رضی اللہ عنہ نے نمایاں خدمات انجام دیں اور فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ بھی تمام اہم امور میں آپ رضی اللہ عنہ سے مشاورت کرتے تھے اور آپ رضی اللہ عنہ کو اپنی مجلس شورٰی کا رکن بنا رکھا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ کے مشورہ سے ہی حضرت عمررضی اللہ عنہ نے بیت المال کا شعبہ قائم کیا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے زمانہ تک مسجد نبوی کی چھت کھجور کے پتوں اور لکڑیوں سے بنی ہوئی تھی، صحن کچا تھا۔ بارش کے دنوں میں دو دن تک مسجد نبوی کی چھت سے پانی ٹپکتا رہتا تھا، نمازیوں کو سخت تکلیف ہوتی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے مرمت کی درخواست کی۔ انہوں نے منع کر دیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں ذاتی خرچہ سے مسجد نبوی کی چھت، صحن اور دیواروں کو پختہ کروایا، مسجد حرام(حرمِ مکی)کی توسیع بھی آپ رضی اللہ عنہ نے کروائی۔ مکہ مکرمہ کی بندرگاہ جدہ مقرر کی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے زمانۂ خلافت میں لوگوں میں وظائف تقسیم کرنے کے دن مقرر کر رکھے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ کا منادی لوگوں میں اعلان کر دیتا کہ صبح روزینہ، کپڑے، گھی اور شہد لینے آجانا تو لوگ صبح کو جاکر مطلوبہ اشیاء لے آتے۔

آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں چوکیاں، سرائے(مسافرخانہ)، پُل، سڑکیں، چشمے، نہریں، مہمان خانے، مساجداورمدارس بکثرت تعمیر کروائے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِخلافت میں مدینہ کے گرد سیلاب کو روکنے کیلئے بند بندھوایا۔ پولیس کا محکمہ آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے مقرر کیا۔ تجارت، صنعت و حرفت اور زراعت کوفروغ دلوایا۔ آپ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں جب نمازیوں کی کثرت ہوئی تو آپ رضی اللہ عنہ نے جمعہ سے قبل دو آذانیں دینے کا حکم دیا۔ جبکہ پہلے صرف ایک آذان، امام کے منبر پر بیٹھنے کے وقت دی جاتی تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں میں اتفاق و اتحاد کی فضاکو عام کیا اور احیاء علوم کی طرف توجہ کرتے ہوئے قرآن مجید کے بہت سے نسخے تیار کروا کے تمام بلاد اسلامیہ میں بھجوائے، تاکہ امت اختلاف سے محفوظ رہے۔ حضرات شیخین کی طرح آ پ رضی اللہ عنہ بھی روایتِ حدیث میں بہت احتیاط کرتے تھے، آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے ذریعے 146احادیث اُمت تک پہنچیں۔

آپ رضی اللہ عنہ کے زمانۂ خلافت میں جو علاقے فتح ہوئے اُن میں سے چند کے نام یہ ہیں، طرابلس الشام، افریقہ، اندلس، جزیرۂ قبرص، جزیرۂ روڈس، قسطنطنیہ، آرمینیا، فارس، خراسان، سرخس، بیہق، ترکستان، کابل، زابلستان، سیستان، کرمان، ہرات، طالقان، فاریاب اور طبرستان، نیز آپ رضی اللہ عنہ کے شاندار کارناموں میں سے ایک روشن کارنامہ بحری جنگوں کا آغاز بھی ہے۔

آپ رضی اللہ عنہ کی تواضع وانکساری کا یہ عالم تھا کہ آپ رضی اللہ عنہ ایامِ خلافت میں مسجد نبوی میں عام لوگوں کی طرح سر کے نیچے چادر رکھ کر سو جاتے تھے، کسی نے کوئی بات کرنی ہوتی تو وہیں آپ رضی اللہ عنہ کو بیدار کر کے پوچھ لیتا اور آپ رضی اللہ عنہ اُس کا جواب دیکر پھر وہیں لیٹ جاتے، بسا اوقات آپ رضی اللہ عنہ بیدار ہوتے تو چٹائی کے نشان آپ رضی اللہ عنہ کے جسم پر نمایاں ہوتے۔ سادگی کا یہ عالم کہ گھر میں بیسیوں لونڈیاں اور غلام تھے، مگر آپ رضی اللہ عنہ اپنے ذاتی کام خود انجام دیتے، اُ ن میں سے کسی کو نہ فرماتے۔ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ہر نبی کا کوئی نہ کوئی جنت کا ساتھی ہے اور میرا جنت کاساتھی عثمان بن عفان ہے‘‘۔ حضرت جابر بن عطیہ رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ خطبہ میں فرمایا:’’اے عثمان! اللہ نے تیرے گناہ بخش دیئے، جو تونے پہلے کئیے اور جو تو بعد میں کریگا، جو تونے چھپا کر کئیے اور تو نے ظاہر کئیے اور جو گناہ قیامت تک ہونے والا ہے‘‘۔

ابو قلابہ کہتے ہیں کہ میں نے شام میں کسی شخص کے چلانے کی آواز سنی جو کہہ رہا تھا، ہائے آ گ ! ہائے آگ! میں اُ س کے پاس گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک شخص کراہ رہا ہے، جس کے دونوں ہاتھ اور پیر کٹے ہوئے ہیں اور آنکھوں سے بھی اندھا ہے، میں نے پوچھا تم اس حالت پر کس طرح پہنچے؟ اس نے کہا کہ میں مصریوں کے ساتھ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر حملہ کرنے کے ارادہ سے گیا تھا۔ جب میں آپ رضی اللہ عنہ پر حملہ کرنے کے لئے آگے بڑھا، توآپ رضی اللہ عنہ کی بیوی نے خوف زدہ ہوکر چیخ ماری، میں نے اُس کے چہرے پر زوردار تھپڑ کھینچ مارا، یہ دیکھ کر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے مجھ پر بد دعا کی کہ ’’اللہ تیرے ہاتھ پاؤں کاٹ دے، تیری آنکھیں اندھی ہو جائیں اور تو جہنم واصل ہو‘‘ آپ رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد، میں وہاں سے نکلا تو بجلی کی کڑک مجھ پر چھا گئی، جس سے اس حال کو پہنچا جو تم دیکھ رہے ہو، اب میرے لئے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی بددعا میں سے اتنی کسر رہ گئی ہے کہ دوزخ میں داخل کیا جاؤں۔ میں نے کہا دور ہو، خدا تجھے ذلیل کرے۔

آپ رضی اللہ عنہ بارہ دن کم بارہ سال منصب خلافت پر فائز رہے، اس دوران آپ رضی اللہ عنہ نے اپنی بارہ سالہ خدماتِ خلافت کا معاوضہ (تنخواہ) بھی وصول نہیں کیا، بلکہ مسلمانوں کے مصارف میں خرچ کر دیا۔ آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی مظلومانہ شہادت کی پیشین گوئی حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرما چکے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے بیاسی سال کی عمر میں 18ذی الحجہ35ھ بروز جمعہ عصر کے وقت شہادت پائی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اپنی زندگی میں آٹھ شادیاں کیں، جن سے آپ رضی اللہ عنہ کی اولاد میں نو لڑکے اورسات لڑکیاں ہوئیں، لڑکوں میں سے چار لڑکے عمرو، ابان، عمراور سعید بڑے ہوکر نامور ہوئے۔

آپ رضی اللہ عنہ نے بیعت خلافت لینے کے بعد پہلے خطبہ میں ارشاد فرمایا’’یاد رکھو! دنیا سراپا فریب ہے، پس دنیا کی پُرفریب زندگی تمہیں غلط فہمیوں کی بھول بھلیوں میں نہ ڈال دے اور شیطان کے پنجۂ اغوا میں گرفتار نہ کردے۔ عمر فانی کی مہلت بہت کچھ گذر چکی اور کچھ تھوڑی سی باقی ہے ایسی غیر یقینی کی حالت میں کیا عجب ہے کہ کسی شخص کوصبح یا شام ہی کو پیام اجل آجائے اور وہ سخت بے بسی کی حالت میں قبر میں سُلا دیا جائے۔ اُن لوگوں کے واقعات سے عبرت پکڑو جو تم سے پہلے گذر چکے اور نیک یا برے اعمال کے سوا اپنے ساتھ کچھ نہ لے جا سکے۔ پس اپنی طرف سے آخرت کا سرمایہ جمع کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھوا اور غفلت کی عادت چھوڑ دو‘‘ نیز آپ نے اپنے آخری خطبہ میں فرمایا ’’اللہ تعالٰی نے تم لوگوں کو دنیا اس غرض سے دی ہے کہ اس کے ذریعہ آخرت کو طلب کرو”۔


محمد ابوسفیان ملک
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری

 
sahj's Avatar
sahj
Senior Member
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,517
شکریہ: 5,981
1,910 مراسلہ میں 5,629 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 112
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا
منتظمین (05-12-09), wajee (05-12-09), طاھر (06-12-09), طارق راحیل (06-12-09)
پرانا 05-12-09, 02:51 PM   #2
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,616
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,595 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سرورق کے لیے پیش کریں۔
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 06-12-09, 11:13 AM   #3
Senior Member
 
طارق راحیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: Karachi
عمر: 27
مراسلات: 2,895
کمائي: 31,696
شکریہ: 4,003
1,175 مراسلہ میں 2,379 بارشکریہ ادا کیا گیا
طارق راحیل کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بہت خوب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
طارق راحیل آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 06-12-09, 01:06 PM   #4
Senior Member
 
طاھر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,817
کمائي: 46,566
شکریہ: 2,080
1,944 مراسلہ میں 6,506 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم

بہت خوب - اچھی معلومات شئیر کرنے پر شکریہ - جزاک اللہ

والسلام

طاہر
طاھر آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
پولیس, واقعات, قرآن, قرآنی, لڑکی, مکہ, مجید, مسجد, مسجد نبوی, معلوم, آدمی, اللہ, اغوا, جواب, حکم, حدیث, خوش, خبر, دعا, زندگی, عقد, صحابہ, صحابی, صدمہ, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
یوم ثقافت ، سندھ میں عام تعطیل ہوگی گلاب خان خبریں 3 04-12-10 07:43 PM
حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یوم ِ شہادت سیپ دلچسپ اسلامی تاریخی واقعات 3 25-11-10 06:13 AM
یونس عارف کا تعارف عارف اقبال تعارف 16 31-01-10 02:49 PM
بینظیر کی برسی پر یومِ تعطیل محمدعدنان خبریں 2 18-12-08 09:34 PM
پاکستانی خواب کی تعبیر,,,,جیون خان خرم شہزاد خرم خبریں 0 29-10-07 10:24 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 07:51 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger