واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > تاریخ و عبر



تاریخ و عبر تاریخ و عبر


دعائے نیم شبی

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 26-10-11, 09:28 PM   #1
دعائے نیم شبی
عبداللہ آدم عبداللہ آدم آن لائن ہے 26-10-11, 09:28 PM

ایک مرتبہ مرشد عام اپنے ساتھیوں کے ساتھ دوردراز دیہاتی علاقوں میں دعوتی دوروں پر گئے۔ایک قصبے میں پورا دن لوگوں کو دعوت دینے میں گزرا۔ بعدنماز مغرب مقامی مسجد میں حسب پروگرام امام البنانے سادہ الفاظ میں دیہاتی بھائیوں سے خطاب کیا اور انھیں اخوان میں شمولیت کی دعوت دی۔کئی لوگوں نے اخوان میں شمولیت کا فیصلہ کیا۔ پچھلی صفوں میں بیٹھے ایک شخص نے سوال پوچھا،آپ لوگ کس کے مہمان ہیں؟ حسن البنا نے جواب دیا:’’ہم اللہ کے مہمان ہیں‘‘۔اس شخص نے رات کے کھانے اور قیام کی دعوت دی، جوقبول کرلی گئی۔وہ علاقے کا ایک بڑا جاگیردار تھا جو محل نما مکان میں رہتا تھا۔

دستر خوان پر میزبان نے امام سے کہا کہ ان کی دعوت بہت اچھی ہے مگر افسوس وہ اس جماعت میں داخل نہیں ہوسکتا۔ استفسار پر اس نے بیان کیا کہ مجھ میں تمام کبائر پائے جاتے ہیں۔ امام حسن البنا نے حدیث پاک کی روشنی میں مختصر جواب دیا کہ :’’عیوب سے پاک صرف اللہ کی ذات ہے۔ہرانسان خطاکار ہے اور خطائوں سے توبہ اللہ کو بہت پسند ہے‘‘( ترمذی، مسند احمد)۔ مجلس برخواست ہوگئی اور لوگ سوگئے۔

رات کے پچھلے پہر امام حسن البنا، اللہ کے سامنے حاضر ہو کر رورو کر دعا کرنے لگے،ان کی ہچکی بندھی ہوئی تھی۔ان کے ساتھیوں کی آنکھ بھی کھل گئی اور وہ خاموشی سے اپنے بستروں سے یہ منظر دیکھتے رہے۔ حسن البنا کی زبان پر جو الفاظ تھے،وہ قرآنی اور مسنون دعائوں کا حسین مرقع تھے۔دردِ دل کی دولتِ بے بہا بھی ان میں شامل تھی:’’اے اللہ! میں تو دلوں پر دستک ہی دے سکتا ہوں، دلوں کو پھیر نہیں سکتا۔ بندوں کے دل تیری انگلیوں کے درمیان ہیں،تو جیسے چاہے ان کو پھیر دے۔ میں نے اپنے میزبان کے دل پر دستک دے دی ہے تو اسے تبدیل کرنے پر قادر ہے۔ اے اللہ! اس کے دل کو اپنے دین کی طرف پھیر دے‘‘۔

ادھرامام حسن البنابہ چشم تر یہ دعا مانگ رہے تھے‘ اُدھر وہ شخص دبے پائوں کمرے میں داخل ہوا اور جا ے نماز کے قریب آکرفرش پر بیٹھ گیا۔یہ دعا سے فارغ ہوئے تو اس نے بے تابی سے کہا:’’آپ ہاتھ بڑھائیے اور مجھے بیعت کیجیے۔بخدا میں رات بھر ایک لمحے کے لیے نہیںسوسکا۔ میں نے دل میں فیصلہ کرلیا ہے کہ اپنی زندگی کو بدل ڈالوں گا اور اس قافلے کا ساتھ دوں گا‘‘۔ ساتھیوں کو رات جس بات پر تعجب ہورہا تھا،اب اس کی حقیقت کھل گئی۔ امام حسن البناکی شہادت کے بعد ابتلاوآزمایش کا طویل دور اخوان نے بڑی عزیمت و استقامت سے بھگتا۔ ہزاروں لوگ ۱۸،۱۹سال تک جیلوں میں بدترین قسم کی تعذیب میں مبتلا رہے۔ زندگی کا نیا ورق الٹنے والا یہ ناز پروردہ شخص بھی انھی میں شامل تھا، مگر اس نے کبھی اخوان کی قیادت سے شکایت نہ کی کہ تم مجھے کہاں لے آئے ہو۔

سامانِ درس:

اس واقعے سے چند اہم امور کی طرف راہ نمائی ملتی ہے۔ دعوت دینے والوں کو،دعوت پہنچانے کے ساتھ ساتھ اس دردِدل ،ہمدردی اور خیرخواہی کا اہتمام بھی کرناچاہیے جو خود داعیِ اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کا طرۂ امتیاز تھا اور جس کی جانب خود قرآن مجید نے اشارات فرمائے ہیں۔ امام حسن البنا اس معاملے میں اسوۂ رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا مکمل اتباع کیاکرتے تھے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ دعوت کے اصل مخاطب وہی لوگ ہیں جو راستہ بھول گئے ہیں۔ ان سے نفرت نہیں پیار کرکے آپ انھیں راہِ راست پہ لا سکتے ہیں۔ یہ طریقِ دعوت انقلابی ہے اور اس کے نتیجے میں دلوں میں انقلابِ حق پیدا ہوتا ہے۔ اس کے اندر یہ سبق بھی پنہاں ہے کہ داعیانِ حق کو اَن جانے اور اجنبی ماحول میں جاکر خلق خدا کو دعوت پہنچانی چاہیے۔محض اپنے جانے پہچانے ماحول اور حلقۂ یاراں تک محدود رہنا ‘کسی بڑے انقلاب کا پیش خیمہ ثابت نہیں ہوسکتا۔ دعوت کا میدان بہت وسیع ہے!
__________________
قال الشيخ محمد نجيب المطيعي - رحمه الله- في تصوير طبيعة طريق المجاهد :
"وإنما يجاهد المؤمن في الله جهاده، إن أخفق فإفادة أو أوذي فإرادة، أو نفي فريادة،
أو سجن فعبادة، أو عاش فقيادة، أو مات فشهادة، فله الحسنى وزيادة"

 
عبداللہ آدم's Avatar
عبداللہ آدم
ذیلی ناظم
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,027
شکریہ: 23,989
4,984 مراسلہ میں 14,700 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 229
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
ہادی (27-10-11), wajee (26-10-11), حیدر (26-10-11), رضی (26-10-11), عبداللہ حیدر (26-10-11)
پرانا 26-10-11, 10:21 PM   #2
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,379
کمائي: 95,570
شکریہ: 52,494
11,159 مراسلہ میں 35,214 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

نہ جانے کس کی تحریر پڑھی تھی کہ مصر میں کوئی بھی شخص اور کسی کو جانتا ہو نہ جانتا ہو ، امام حسن البنا شہید کو ضرور جانتا ہے اور عقیدت رکھتا ہے۔
جس قدر دور ابتلا اس تحریک پر آئے ، جدید دور میں کم ہی تحریکیں اس مقابلہ کر سکتی ہیں۔ لیکن خدا جزائے خیر دے ان مردان حق کو۔ ۔ ۔ انہوں نے ہر مصیبت کو مردانہ وار مقابلہ کیا۔
اللہ امام حسن البنا اور انکے ساتھیوں کے درجات بلند فرمائے۔ آمین
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
wajee (26-10-11), رضی (26-10-11), عبداللہ آدم (26-10-11)
پرانا 26-10-11, 11:02 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,531
کمائي: 88,119
شکریہ: 5,199
5,040 مراسلہ میں 11,465 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اچھی شیرنگ ہے ۔۔۔
۔۔
wajee آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
color, کس, پاک, پسند, نفرت, مکمل, مجید, مسجد, اللہ, اجنبی, بدل, جواب, جانے, حدیث, حسن, خود, دے, دل, دعا, رات, راستہ, زندگی, شخص, علاقے, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 07:52 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger