واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > تاریخ و عبر



تاریخ و عبر تاریخ و عبر


دنیا کی بساط لپٹنے کو ہے

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 28-10-10, 11:24 AM   #1
دنیا کی بساط لپٹنے کو ہے
sahj sahj آف لائن ہے 28-10-10, 11:24 AM

دنیا کی بساط لپٹنے کو ہے



جس طرح ایک شخص ایک عرصہ سے بیمار ہو تو آخری وقت میں اس کی حالت انتہائی خراب ہوجاتی ہے،اور بالآخر یہ شخص دنیا سے رخصت ہوجاتاہے، اسی طرح موجودہ دور میں جو انتشار اور پریشانی کی حالت ہے، یہ اس بات کا پیش خیمہ ہے کہ اس دنیا کی بساط لپٹنے کو ہے اور اس کے چل چلاؤ کی خبر خالق کائنات نے ہمیں بذریعہ قرآن شریف اور اپنے محبوب ا کی زبان اطہر سے دی ہے۔

قرآن شریف میں اس دنیا کے انجام آخر کو ”قیامۃ، قارعۃ، غاشۃ، ساعۃ، حاقۃ اور واقعۃ،، کے نام دیئے ہیں،جبکہ آنحضرت ا نے قیامت کے آنے سے پہلے کی علامتوں کا ذکر فرماکر امت پر احسان فرمایاہے۔ ایک حدیث میں آیاہے کہ ”قیامت کی نشانیاں دوسوسال کے بعد ظاہر ہوں گی،،۔
(ابن ماجہ، مشکوٰة باب اشراط الساعۃ)

علماء نے اس کے دو مطلب بیان کئے ہیں: ایک یہ کہ قیامت کی عمومی علامات دوسوسال کے بعد ظاہر ہوں گی۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ قیامت کی بڑی نشانیاں ہزار سال کے بعد ظاہر ہوں گی۔ ان دونوں اقوال میں تطبیق یوں ہے کہ قیامت کی عمومی نشانیاں دوسوسال کے بعد سے ہزار سال کے عرصہ میں یعنی بارہ سوسال کے عرصہ میں مکمل ہوجائیں گی اور بارہ سوسال کے بعد بڑی نشانیاں ظاہر ہوں گی۔
(بحوالہ مظاہر حق:مشکوٰة)
علماء نے ایک حدیث کی تشریح کے ذیل میں لکھا ہے کہ اسلام میں بدعات کی ابتداء دو سو بیس سال کے عرصہ میں ہوئی ہے، جس سے آپ ا کے قول کی وضاحت ہوتی ہے اور اس وقت چودہ سوتیس ہجری سال کا عرصہ گذر چکا ہے، اس لحاظ سے دنیا دو سوتیس سال کا زائد عرصہ گذار چکی ہے اور قریب ہے کہ قیامت کی بڑی نشانیوں کا ظہور ہوجائے۔ در منثور کی ایک روایت میں جوقیامت کی عمومی نشانیاں بیان کی گئی ہیں، ان کی تعداد بہتر (72) ہے (درمنثور ص:52، ج:6) جو اپنی کثرت کے ساتھ تکمیل کو پہنچ چکی ہیں، یہاں نقل کی جانے والی نشانیاں درمنثور کی روایت اور دوسری احادیث کا مجموعہ ہیں:
1…نمازیں ضائع کی جائیں گی۔
2…نمازوں میں حقیقت (جان) نہ ہوگی۔
3…احکام الٰہی کی رعایت نہ کی جائے گی۔
4…لوگ قرآن شریف پڑھیں گے لیکن اس کی افہام وتفہیم سے قاصر ہوں گے۔
5…قرآن شریف کو نغمہ سرائی کے انداز سے پڑھا جائے گا، قرآن کریم کے نسخوں کو خوب آراستہ کیا جائے گا۔
6…جہالت عام ہوگی۔
7…علماء کی قلت ہوگی۔
8…اہل علم کی اتباع نہ کی جائے گی۔
9…علم اٹھالیا جائے گا یعنی اہل علم کی قدر نہ ہوگی اور ان کا قتل عام ہوگا۔
10…زکوٰة تاوان بن جائے گی۔
11…نظام عدل ختم ہوجائے گا۔
12…قاضی بکنے والے لوگ ہوں گے۔
13…شرعی سزائیں معطل ہوجائیں گی۔
14… بلاوجہ جھوٹی گواہی دینے کا معمول بن جائے گا۔
15…دین کو دنیا کے عوض بیچا جائے گا۔
16… دینی علوم کا حصول دنیا حاصل کرنے کے لئے ہوگا، آخرت کے کاموں سے دنیا کمائی جائے گی۔
17… امن کم ہوگا۔
18…لوٹ مار عام ہوگی۔
19…بیت المال ذاتی ملک سمجھا جائے گا۔
20…ہرج (قتل وغارت گری) عام ہوگی، قاتل کو معلوم نہیں ہوگاکہ کیوں قتل کررہا ہوں اور مقتول کو معلوم نہیں ہوگاکہ کیوں قتل کیا جارہا ہوں۔
21…پولیس والوں کی کثرت ہوگی (اور یہ کثرت بجائے حفاظت کے، غیر حفاظتی امور کی انجام دہی کے لئے ہوگی)۔
22…دنیا سے عشق ہوگا، موت سے کراہت ہوگی۔
23…دلوں میں لالچ ہوگا۔
24…مال ودولت کی فراوانی ہوگی۔
25…سوال کرنے (بھیک مانگنے) والے زیادہ ہوں گے، عطا کرنے والے (دینے والے) کم ہوں گے۔
26… مالدار لوگ بخیل اور خواہش پرست ہوں گے۔
27…سود کھانا عام ہوگا۔
28… حلال روزی کا حصول مشکل ہو جائے گا۔
29… خرید وفروخت کم ہو جائے گی۔
30… سونا (دھات) عام ہوگا۔
31… مسجدوں میں نقش ونگار کئے جائیں گے، جبکہ لوگ گناہوں کے عادی ہوں گے۔
32…بدکار لوگوں کی آوازیں مسجدوں میں بلند ہوں گی (جیساکہ آج کل موبائل کی گھنٹی میں گانا،موسیقی کی آوازیں مساجد میں عام سنی جاتی ہیں)۔
33…شریف آدمی کا جینا مشکل ہوگا۔
34…مؤمن بکری کے بچے سے زیادہ ذلیل ہوگا۔
35…کمینوں کے ٹھاٹھ ہوں گے۔
36… غیبت پھیل جائے گی۔
37…تہمت درازی عام ہوگی۔
38… سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ جانا جائے گا اور جھوٹ بولنے کو فن سمجھا جائے گا۔
39… جھوٹے کوسچا اور سچے کو جھوٹا جانا جائے گا۔
40…امین خیانت کرنے والے ہوں گے۔
41… نیک اعمال کم ہوں گے۔
42…تقریریں لمبی اور نمازیں مختصر ہوں گی۔
43…خواہشات نیک اعمال پر مقدم ہوں گی۔
44…نیک کاموں کے کرنے کا حکم اور برے کاموں سے منع کرنا چھوڑ دیا جائے گا۔
45…برے کاموں کو اچھا اور اچھے کاموں کو برا سمجھا جائے گا۔
46…غیر اللہ کی قسمیں کھائی جائیں گی۔
47…امانت ضائع کی جائے گی یعنی نااہل لوگوں کو عہدے، منصب اور اہم امور سونپے جائیں گے۔
48…چاند میں اختلاف ہوگا کہ یہ پہلی تاریخ کا ہے یا دوسری تاریخ کا ہے۔
49…شفاعتِ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ، عذاب قبر، جہنم اور دجال کے خروج کا انکار کیا جائے گا۔
50…صرف جاننے والوں کو سلام کیا جائے گا۔
51…آپس میں نفرت اور کدورت عام ہوگی۔
52…قطع رحمی (کہ رشتوں کا توڑنا) عام ہوگا۔
53…اولاد ماں باپ سے خادموں جیسا سلوک کرے گی۔
54…بیوی کی اطاعت کی جائے گی۔
55…دوست محبوب ہوں گے۔
56…فتنوں کی کثرت ہوگی ،ایسے اندھے فتنے ہوں گے جو دوزخ کی طرف بلانے والے ہوں گے۔
57…ایسے لوگ دینی پیشوا بننے کی کوشش کریں گے جن کی بات کا ماننا جہنم میں ڈالے گا۔
58…امت کے آخری لوگ پہلے وقت کے لوگوں کو طعن کریں گے اور خود کو ان سے دین کے اعتبار سے بہتر جانیں گے۔
59…یہود اور نصاریٰ کی قدم بقدم اتباع کی جائے گی۔
60…آدمی کا اکرام اس کے شرسے بچنے کے لئے ہوگا۔
61…شراب اور زنا کی کثرت ہوگی۔
62…گانا بجانا عام ہوگا۔
63…آلات موسیقی کو سنبھال کر رکھیں گے۔
64…سازباجوں کا دور ہوگا۔
65۔گانا بجانے والیوں کی تعظیم ہوگی۔
66…حکمران گھٹیااور نااہل لوگ ہوں۔
67…قوم کا رہنما گمراہ شخص ہوگا۔
68…کم عقل اور کم عمر لوگ (نوجوان) حکمران ہوں گے۔
69…سردار ظالم لوگ ہوں گے۔
70…امور سلطنت میں عورتیں شامل ہوں گی اور ان سے مشورے ہوں گے۔
71…عورتوں کی کثرت ہوگی۔
72…عورتیں سرکش ہوں گی۔
73…معاملات اور معاشرت میں عورتیں مردوں کے شانہ بشانہ چلیں گی۔
74…عورتیں مردوں کی اور مرد عورتوں کی نقالی کریں گے۔ (اور دونوں پر اللہ اور رسول اللہ ا کی لعنت ہوگی)۔
75…طلاقوں کی کثرت ہوگی۔
76… اولاد سے کراہت کی جائے گی یعنی شرعی عذر کے بغیر خاندانی منصوبہ بندی کرائی جائے گی۔
77… ٹڈیاں (کیڑا) پیدانہ ہوں گی۔
78…بارشیں بے وقت ہوں گی۔
79…بارشوں کے ہونے کے باوجود گرمی ہوگی۔
80…وقت کے گذرنے میں تیزی آجائے گی۔ یعنی سال مہینے کے اور مہینہ ہفتے کے اور ہفتہ دن کے، اور دن گھڑی کے برابر ہوجائے گا۔
81… ہرآنے والا وقت گذشتہ وقت سے بدتر ہوگا۔
82… ناگہانی موت عام ہوگی کہ آدمی ٹھیک ٹھاک تھا اور حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے موت واقع ہوگی۔
83…بلند وبالا عمارتیں تعمیر کی جائیں گی اور تعمیرات کی کثرت ہوگی۔
84… غیر مسلم، مسلمانوں کو ختم کرنے کے لئے متحد ہوجائیں گے اور مسلمان باوجود کثرت کے سیلاب کے کوڑے کرکٹ کی طرح بے جان ہوجائیں گے، کیونکہ ان میں وھن پیدا ہوجائے گا یعنی موت سے کراہت اور دنیا سے محبت پیدا ہوجائے گی۔
85… عراق پر غیر مسلموں کا قبضہ ہوگا۔
86…اہل روم (مغرب والے) مسلم ممالک (عراق، شام اور مصر) کی معیشت کو تنگ کردیں گے۔
87…عرب کی ناکہ بندی کی جائے گی اور اہل مدینہ کا محاصرہ کردیا جائیگا۔
88… دریائے فرات پر سونے کے حصول کے لئے جنگ ہوگی تو ایسی صورت میں انتظار کیا جائے۔
89…تیز آندھیوں کا۔
90…زلزلوں کا۔
91…زمین میں دھنسنے کا۔
92…شکلوں کے مسخ ہونے کا۔
93…آسمان سے پتھروں کے برسنے کا ۔
94…یکے بعد دیگرے مسلسل آنے والی پریشانیوں اور مصائب کا،،۔۔۔۔۔۔
۔
چند احادیث

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ عُمَارَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُثَنَّی بْنِ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ جَدِّهِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْآيَاتُ بَعْدَ الْمِائَتَيْنِ
حسن بن علی خلال، عون بن عمارہ، عبد اللہ بن مثنی، ثمانہ بن عبد اللہ بن انس، انس بن مالک، حضرت ابوقتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا قیامت کی نشانیاں دو سو سال کے بعد ہی ظاہر ہوں گی (جب بھی ہوں دو صدی سے قبل کوئی بڑی نشانی ظاہر نہ ہوگی)


حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبَّادٍ الْأَزْدِيُّ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ حَدَّثَتْنِي طَلْحَةُ أُمُّ غُرَابٍ عَنْ عَقِيلَةَ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ مَوْلَاةٍ لَهُمْ عَنْ سَلَامَةَ بِنْتِ الْحُرِّ أُخْتِ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ الْفَزَارِيِّ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يَتَدَافَعَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ لَا يَجِدُونَ إِمَامًا يُصَلِّي بِهِمْ
ہارون بن عباد، مروان، طلحہ، ام غراب، عقیلہ خرشتہ بن حرفزاری کی بہن سلامہ بنت حر سے روایت ہے کہ میں نے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے کہ قیامت کی نشانیوں میں سے یہ نشانی یہ بھی ہے کہ اہل مسجد آپس میں لڑیں گے اور ان کو کوئی نماز پڑھانے والا نہیں ملے گا۔


حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّهُ قَالَ أُحَدِّثُکُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُحَدِّثُکُمْ أَحَدٌ بَعْدِي أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ وَيَظْهَرَ الْجَهْلُ وَيَفْشُوَ الزِّنَا وَتُشْرَبَ الْخَمْرُ وَيَکْثُرَ النِّسَائُ وَيَقِلَّ الرِّجَالُ حَتَّی يَکُونَ لِخَمْسِينَ امْرَأَةٍ قَيِّمٌ وَاحِدٌ قَالَ أَبُو عِيسَی وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي مُوسَی وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ
محمود بن غیلان، نضر بن شمیل، شعبہ، قتادة، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا اور یہ حدیث میرے بعد کوئی ایسا شخص بیان نہیں کرے گا جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا قیامت کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ علم اٹھ جائے گا جہالت ظاہر و غالب ہو جائے گی زنا رواج پکڑ جائے گا شراب بکثرت استعمال ہوگی عورتوں کی کثرت ہوگی اور مرد کم ہو جائیں گے یہاں تک کہ پچاس عورتوں کا نگران ایک ہی مرد ہوگا اس باب میں حضرت ابوموسی اور ابوہریرہ سے بھی احادیث منقول ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے


حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ أَبِي حَيَّانَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا بَارِزًا لِلنَّاسِ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَی السَّاعَةُ فَقَالَ مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنْ السَّائِلِ وَلَکِنْ سَأُخْبِرُکَ عَنْ أَشْرَاطِهَا إِذَا وَلَدَتْ الْأَمَةُ رَبَّتَهَا فَذَاکَ مِنْ أَشْرَاطِهَا وَإِذَا کَانَتْ الْحُفَاةُ الْعُرَاةُ رُئُوسَ النَّاسِ فَذَاکَ مِنْ أَشْرَاطِهَا وَإِذَا تَطَاوَلَ رِعَائُ الْغَنَمِ فِي الْبُنْيَانِ فَذَاکَ مِنْ أَشْرَاطِهَا فِي خَمْسٍ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا اللَّهُ فَتَلَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ الْآيَةَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، اسماعیل بن علیہ، ابی حیان، ابی زرعہ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں میں باہر تشریف رکھتے تھے کہ ایک مرد نے حاضر خدمت ہو کر عرض کیا اے اللہ کے رسول قیامت کب قائم ہوگی؟ فرمایا جس سے قیامت کے متعلق پوچھا گیا ہے اسے پوچھنے والے سے زیادہ علم نہیں۔ البتہ میں تمہیں قیامت کی کچھ علامات اور نشانیاں بتادیتا ہوں جب باندی اپنے مالک کو جنے (بیٹی ماں کے ساتھ باندیوں کا سلوک کرے) تو یہ قیامت کی ایک نشانی ہے اور جب ننگے پاؤں ننگے بدن والے (گنوار اور مفلس) لوگوں کے حکمران بن جائیں تو یہ بھی قیامت کی نشانی ہے اور جب بکریاں چرانے والے ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر عمارتیں بلند کرنے لگیں تو یہ بھی قیامت کی نشانی ہے اور قیامت کا علم ان پانچ امور میں سے ہے جن کو اللہ تعالی کے علاوہ کوئی بھی نہیں جانتا اسکے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت پڑھی إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ الْآيَةَ (ترجمہ) بلاشبہ اللہ ہی کے پاس ہے قیامت کا علم اور وہی نازل فرماتا ہے بارش اور اسی کو (بیک وقت) معلوم ہے جو کچھ سب رحموں میں ہے (اسکی پوری تفصیل کے ہونے والے بچہ کی عمر کتنی ہوگی رزق کتنا ہوگا وہ سعادت مند ہوگا یا بدبخت) آخرتک۔


حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو الزِّنَادِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّی يُقْبَضَ الْعِلْمُ وَتَکْثُرَ الزَّلَازِلُ وَيَتَقَارَبَ الزَّمَانُ وَتَظْهَرَ الْفِتَنُ وَيَکْثُرَ الْهَرْجُ وَهُوَ الْقَتْلُ الْقَتْلُ حَتَّی يَکْثُرَ فِيکُمْ الْمَالُ فَيَفِيضَ
ابوالیمان، شعیب، ابوالزناد، عبدالرحمن، ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک علم اٹھا نہ لیا جائے گا، اور زلزلے کثرت سے ہوں گے، اور زمانہ ایک دوسرے کے قریب ہوگا، اور فتنہ وفساد ظاہر ہوگا، اور ہرج کی کثرت ہوگی، ہرج سے مراد قتل ہے قتل، یہاں تک کہ تم میں مال بہت زیادہ ہوجائے گا اس طرح کہ بہتا پھرے گا، اور لینے والا کوئی نہ ہوگا۔



حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ أَلَا أُحَدِّثُکُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُحَدِّثُکُمْ بِهِ أَحَدٌ بَعْدِي سَمِعْتُهُ مِنْهُ إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ وَيَظْهَرَ الْجَهْلُ وَيَفْشُوَ الزِّنَا وَيُشْرَبَ الْخَمْرُ وَيَذْهَبَ الرِّجَالُ وَيَبْقَی النِّسَائُ حَتَّی يَکُونَ لِخَمْسِينَ امْرَأَةً قَيِّمٌ وَاحِدٌ
محمد بن بشار، محمد بن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ، حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے (ایک مرتبہ) فرمایا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وہ حدیث نہ سناؤں جو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی (اس کی خصوصیت یہ ہے کہ) میرے بعد کوئی بھی تمہیں وہ حدیث نہ سنائے گا میں نے آپ کو یہ فرماتے سنا قیامت کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ علم اٹھ جائیگا جہالت پھیل جائیگی بدکاری عام ہوگی شراب پی جائے گی مرد کم رہ جائیں گے عورتیں زیادہ ہو جائیں گی یہاں تک کہ پچاس عورتوں کا انتظام ایک مرد کرے گا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ عَنْ عَمْرِو بْنِ تَغْلِبَ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ تُقَاتِلُوا قَوْمًا عِرَاضَ الْوُجُوهِ کَأَنَّ وُجُوهَهُمْ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ وَإِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ تُقَاتِلُوا قَوْمًا يَنْتَعِلُونَ الشَّعَرَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، اسود بن عامر، جریر بن حازم، حسن، عمر بن تغلب سے روایت ہے میں نے سنا آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے قیامت کی نشانیوں میں سے ہے یہ کہ تم ایسے لوگوں سے لڑو گے جن کے منہ چوڑے ہیں گویا ان کے منہ سپریں ہیں تہ برتہ اور قیامت کی نشانیوں میں سے ہے یہ کہ تم ایسے لوگوں سے لڑو گے جن کے جوتے بالوں کے ہوں گے۔


آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لونڈی اپنے آقا کو مالک کو جنے گی اور برہنہ پا، برہنہ جسم مفلس و فقیر اور بکریاں چرانے والوں کو تم عالی شان مکانات و عمارت میں فخر وغرور کی زندگی بسر کرتے دیکھو گے۔


قَالَ فَإِذَا ضُيِّعَتْ الْأَمَانَةُ فَانْتَظِرْ السَّاعَةَ قَالَ کَيْفَ إِضَاعَتُهَا قَالَ إِذَا وُسِّدَ الْأَمْرُ إِلَی غَيْرِ أَهْلِهِ فَانْتَظِرْ السَّاعَةَ
آپ نے فرمایا جس وقت امانت ضائع کردی جائے تو قیامت کا انتظار کرنا، اس نے پوچھا کہ امانت کا ضائع کرنا کس طرح ہوگا؟ آپ نے فرمایا جب کام نا اہل (لوگوں) کے سپرد کیا جائے، تو تو قیامت کا انتظار کرنا

حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مَيْسَرَةَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ عَنْ أَنَسِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ وَيَثْبُتَ الْجَهْلُ وَيُشْرَبَ الْخَمْرُ وَيَظْهَرَ الزِّنَا
عمر ان بن میسرہ، عبدالوارث، ابوالتیا ح، انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا قیامت کی علامتوں میں ایک یہ علامت بھی ہے کہ علم اٹھ جائے گا اور جہل قائم ہوجائے گا اور شراب نوشی ہونے لگے گی اور زنا اعلانیہ ہونے لگے گا۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَسْعَدُ النَّاسِ بِشَفَاعَتِکَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ ظَنَنْتُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ أَنْ لَا يَسْأَلُنِي عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ أَحَدٌ أَوَّلُ مِنْکَ لِمَا رَأَيْتُ مِنْ حِرْصِکَ عَلَی الْحَدِيثِ أَسْعَدُ النَّاسِ بِشَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ خَالِصًا مِنْ قَلْبِهِ أَوْ نَفْسِهِ
عبد العزیز بن عبد اللہ ، سلیمان، عمرو بن ابی عمرو، سعید بن ابی سعید مقبری ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا یا رسول اللہ قیامت کے دن سب لوگوں سے زیادہ حصہ آپ کی شفاعت سے کس کو ملے گا؟ رسول اللہ نے فرمایا کہ مجھے یقینی طور پر یہ خیال تھا کہ ابوہریرہ تم سے پہلے کوئی یہ بات مجھ سے نہ پوچھے گا، کیونکہ میں نے تمہاری حرص حدیث پر دیکھ لی تھی، سب سے زیادہ فیض یاب میری شفاعت سے قیامت کے دن وہ شخص ہوگا جو صدق دل سے یا اپنے خالص جی سےلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کہہ دے۔


حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ النِّدَائَ اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي وَعَدْتَهُ حَلَّتْ لَهُ شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ
علی بن عباس، شعیب بن ابی حمزہ، محمد بن منکدر، جابر بن عبداللہ ، روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اذان سنتے وقت یہ دعا پڑھے اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي وَعَدْتَهُ تو اس کو قیامت کے دن میری شفاعت نصیب ہو گی۔

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ مِنْ بَلَدٍ إِلَّا سَيَطَؤُهُ الدَّجَّالُ إِلَّا مَکَّةَ وَالْمَدِينَةَ لَيْسَ لَهُ مِنْ نِقَابِهَا نَقْبٌ إِلَّا عَلَيْهِ الْمَلَائِکَةُ صَافِّينَ يَحْرُسُونَهَا ثُمَّ تَرْجُفُ الْمَدِينَةُ بِأَهْلِهَا ثَلَاثَ رَجَفَاتٍ فَيُخْرِجُ اللَّهُ کُلَّ کَافِرٍ وَمُنَافِقٍ
ابراہیم بن منذر، ولید، ابوعمرو، اسحاق، انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کوئی شہر ایسا نہیں ہے جس کو دجال پامال نہ کرے گا مگر مدینہ اور مکہ کہ وہاں داخل ہونے کے جتنے راستے ہیں ان پر فرشتے صف بستہ ہوں گے اور ان کی نگرانی کریں گے۔ پھر مدینہ کی زمین مدینہ والوں تین بار کانپے گی اللہ تعالی ہر کافر اور منافق کو وہاں سے باہر کردے گا۔


حَدَّثَنَا عَبْدَانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ يُونُسَ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ سَالِمٌ وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ فَأَثْنَی عَلَی اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ ذَکَرَ الدَّجَّالَ فَقَالَ إِنِّي لَأُنْذِرُکُمُوهُ وَمَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا أَنْذَرَهُ قَوْمَهُ لَقَدْ أَنْذَرَ نُوحٌ قَوْمَهُ وَلَکِنِّي أَقُولُ لَکُمْ فِيهِ قَوْلًا لَمْ يَقُلْهُ نَبِيٌّ لِقَوْمِهِ تَعْلَمُونَ أَنَّهُ أَعْوَرُ وَأَنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِأَعْوَرَ
عبدان عبداللہ یونس زہری سالم حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں میں کھڑے ہو کر پہلے اللہ کی ایسی تعریف کی جس کا وہ مستحق تھا پھر دجال کا ذکر کر کے فرمایا کہ میں تمہیں اس سے ڈراتا ہوں اور ہر نبی نے اپنی قوم کو اس سے ڈرایا ہے اور نوح نے بھی اپنی قوم کو ڈرایا ہے لیکن میں تمہیں ایک ایسی بات بتاتا ہوں جو کسی نبی نے اپنی قوم کو نہیں بتائی (اور وہ یہ ہے) کہ بیشک دجال کانا ہے اور اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے۔


حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيُوشِکَنَّ أَنْ يَنْزِلَ فِيکُمْ ابْنُ مَرْيَمَ حَکَمًا عَدْلًا فَيَکْسِرَ الصَّلِيبَ وَيَقْتُلَ الْخِنْزِيرَ وَيَضَعَ الْجِزْيَةَ وَيَفِيضَ الْمَالُ حَتَّی لَا يَقْبَلَهُ أَحَدٌ حَتَّی تَکُونَ السَّجْدَةُ الْوَاحِدَةُ خَيْرًا مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ وَاقْرَئُوا إِنْ شِئْتُمْ وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْکِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَکُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا
اسحاق یعقوب بن ابراہیم ان کے والد صالح ابن اشہاب سعید بن مسیب ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ عنقریب ابن مریم تمہارے درمیان نازل ہوں گے انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنے والے ہوں گے صلیب توڑ ڈالیں گے خنزیر کو قتل کر ڈالیں گے جزیہ ختم کر دیں گے (کیونکہ اس وقت سب مسلمان ہوں گے) اور مال بہتا پھرے گا حتیٰ کہ کوئی اس کا لینے والا نہ ملے گا اس وقت ایک سجدہ دنیا و مافیھا سے بہتر سمجھا جائے گا پھر ابوہریرہ کہتے ہیں اگر اس کی تائید میں تم چاہو تو یہ آیت پڑھو کہ اور کوئی اہل کتاب ایسا نہیں ہوگا جو عیسیٰ کی وفات سے پہلے ان پر ایمان نہ لے آئے اور قیامت کے دن عیسیٰ ان پر گواہ ہوں گے۔


حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَيْرٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ يُونُسَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ نَافِعٍ مَوْلَی أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا نَزَلَ ابْنُ مَرْيَمَ فِيکُمْ وَإِمَامُکُمْ مِنْکُمْ تَابَعَهُ عُقَيْلٌ وَالْأَوْزَاعِيُّ
ابن بکیر لیث یونس ابن شہاب نافع جو ابوقتادی انصاری کے آزاد کردہ غلام ہیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تمہارا اس وقت کیا حال ہوگا جب ابن مریم تم میں نازل ہوں گے اور تمہارا امام تمہیں میں سے ہوگا اس کے متابع حدیث عقیل اوزاعی نے روایت کی ہے۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ مِينَائَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ لَيَنْزِلَنَّ ابْنُ مَرْيَمَ حَکَمًا عَادِلًا فَلَيَکْسِرَنَّ الصَّلِيبَ وَلَيَقْتُلَنَّ الْخِنْزِيرَ وَلَيَضَعَنَّ الْجِزْيَةَ وَلَتُتْرَکَنَّ الْقِلَاصُ فَلَا يُسْعَی عَلَيْهَا وَلَتَذْهَبَنَّ الشَّحْنَائُ وَالتَّبَاغُضُ وَالتَّحَاسُدُ وَلَيَدْعُوَنَّ إِلَی الْمَالِ فَلَا يَقْبَلُهُ أَحَدٌ
قتیبہ بن سعید، لیث، سعید بن ابی سعید، عطاء بن میناء، ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ کی قسم حضرت عیسیٰ ابن مریم ضرور اتریں گے وہ انصاف کرنے والے حاکم ہوں گے وہ صلیب توڑ ڈالیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے اور جزیہ موقوف کریں گے اور جوان اونٹنیاں چھوڑیں گے مگر ان پر کوئی متوجہ نہیں ہوگا یعنی ان سے بار برداری کے لئے کام نہیں لے گا لوگوں کے دلوں سے کینہ بغض اور حسد ختم ہو جائے گا اور وہ لوگوں کو مال کی طرف بلائیں گے مگر کوئی بھی مال قبول نہیں کرے گا۔


(بخاری ومسلم، ابوداؤد، درمنثور:۶،مسند احمد، ج:۲، ترمذی ج:۲، جمع الفوائد، الاشاعة، الفتن نعیم بن حماد ج:۲،السنن الواردة، صحیح ابن حبان، جمع الفوائد)
جب کہ ان نشانیوں سے متعلق احادیث کی تشریحات اور تفاصیل اردو کی مترجم کتب: مظاہر حق ج:۴،۵ باب الفتن وعلامات القیامة معارف الحدیث ج:۸، باب الفتن، بکھرے موتی ج:۲ اور فضائل علم وعلماء (از مولانا محمد اسماعیل)

اور یہ مذکورہ نشانیاں اب دنیا بھر میں اور ہمارے معاشرے میں عام نظر آرہی ہیں اور ابن حبان کی روایت میں بیان کی گئی مدت بھی مکمل ہوچکی ہے اور ایسی صورت ان نشانیوں کے ظاہر ہونے کے بعد سے حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور تک دنیا ایسے مصائب اور پریشانیوں کا مسکن بن جائے گی ،جس سے دنیا کی رونقیں ختم ہوجائیں گی، گویا کہ قیامت سے پہلے ایک قیامت صغریٰ ہوگی، اور علماء نے لکھا ہے کہ لوگ عیش وعشرت کی زندگی کی وجہ سے ان نشانیوں کو بطور علامات قیامت ماننے سے انکار اس لئے کریں گے کہ یہ علامات پہلے بھی دنیا میں موجود تھیں، اب ان کا ہونا کونسی نئی بات ہے، تو اس کا جواب یہ ہے کہ اگرچہ یہ علامات پہلے بھی موجود تھیں مگر ان کی کثرت نہیں تھی، اب ان کی کثرت ہوچکی ہے اور ان کی کثرت ہی علامات قیامت بننے کا سبب ہے۔
(مظاہر حق: باب علامات القیامت)

روایت کے آخری الفاظ کہ انتظار کروایسی نشانیوں کا جو یکے بعد دیگرے آنے والی ہیں۔ اس میں اشارہ ہے ان بڑی پریشانیوں کی طرف جو قیامت کے بالکل قریبی زمانہ میں ظاہر ہوں گی، جس میں ظلم وستم ، قتل وغارت کی انتہاء ہوجاے گی، دنیا میں تین بڑے خسوف (زمین میں دھنسنا) مشرق، مغرب اور عرب میں ہوں گے، جس سے دنیا کی آبادی سمٹ کررہ جائے گی ۔
( مشکوٰة)

پھر اس کے ساتھ ساتھ حضرت امام مہدی علیہ السلام کا ظہور، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول، دجال کا خروج، دھواں جو زمین پر چالیس دن تک رہے گا، سورج کا مغرب سے نکلنا، جس کے بعد توبہ کے دروازے بند ہوجائیں گے، دابۃ الارض کا نکلنا، ہوا کا آنا جو ہرایمان والے کی روح قبض کرلے گی اوراس کے بعد دنیا کے بدترین لوگوں پر قیامت قائم ہوگی۔

خلاصہ ان احوال کا یہ کہ ان حالات میں بھی ان لوگوں کو نجات ملے گی جو دین پر ثابت قدمی سے جمے رہیں اور نیک اعمال کرتے رہیں اور فتنوں سے دور رہیں اور مصائب پر صبر سے کام لیتے رہیں گے اور ان میں بھی وہ شخص افضل ہوگا جو خود بھی دین پر ثابت قدمی سے جما رہے اور لوگوں کو بھی دین کی طرف متوجہ کرتا رہے۔
(صحیح بخاری ومسلم ابوداؤد، ترمذی)

ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ناامید ہونے کے بجائے دین کی اشاعت اور اس کی بقاء کے لئے کمربستہ ہوجائیں، جس طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمٰعین نے تمام تر پریشانیوں اور مصائب کے باوجود دین کی نشونما اور آبیاری کے لئے اپنا سب کچھ لگادیا اور اپنی جانیں تک قربان کردیں اور ان کی اتباع میں ہم بھی بنی نوع انسان کے خیر خواہ بن کر اعلاء کلمۃ اللہ اور اشاعت دین متین کو اپنی زندگی کا مقصد اصلی بنائیں اور اپنی تمام تر صلاحیتوں کو اس پر لگا کر ”کنتم خیر امۃ،، کا مصداق بن جائیں۔ (آمین)

ماہنامہ بینات
اپریل 2010
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری

 
sahj's Avatar
sahj
Senior Member
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,517
شکریہ: 5,981
1,910 مراسلہ میں 5,629 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 400
Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (07-03-11), proiub (28-10-10), shafresha (28-10-10), فیصل ناصر (28-10-10), محمد عاصم (08-03-11), مرزا عامر (28-10-10), رضی (28-10-10)
پرانا 28-10-10, 11:34 AM   #2
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,661
کمائي: 254,736
شکریہ: 53,117
7,704 مراسلہ میں 22,599 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بہت بہت شکریہ بھائی جان!!!!!!!!!!
shafresha آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا
sahj (12-03-11), مرزا عامر (28-10-10)
پرانا 28-10-10, 02:11 PM   #3
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,851
کمائي: 278,041
شکریہ: 1,151
6,266 مراسلہ میں 14,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اسلام علیکم

آنیوالا ہر لمحہ ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے

آپکا بہت بہت شکریہ
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا
sahj (12-03-11), مرزا عامر (28-10-10)
پرانا 06-03-11, 11:39 PM   #4
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,724
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,067 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

واقعی دنیا کی بساط لپٹنے کو ہے ۔ اوپر دی گئی نشانیوں میں سے زیادہ تر واضع ہو ہی چکی ہیں ۔ یعنی گناہوں سے اپنے آپ کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کرنے کی ضرورت ہے ۔ خصوصاً لقمہ حرام سے حفاظت اور نگاہ کی حفاظت کی ضرورت ہے۔
اور مساجد کو رنگ برنگی روشنیوں سے زیادہ سجدوں سے سجانے کی ضرورت ہے ۔
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
sahj (12-03-11), محمد عاصم (08-03-11)
جواب

Tags
فن, قرآن, نفرت, نظر, مکہ, موبائل, موت, موجودہ, منافق, منصوبہ, ماں, محبت, معلوم, آبادی, آج, ایمان, اردو, حدیث, دیکھو, دجال, زہری, عیسیٰ, عقل, عشق, صحابہ


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ہربیماری سے نپٹنے کی فوری انتہائی آسان ترکیب ۔ سر درد ، بے خوابی کا فوری علاج گوہر دلچسپ اور عجیب 5 24-08-11 07:44 PM
کرایہ دار نے نصف شب کو مالک مکان کا دروازہ کھٹکٹایا The Great قہقہے ہی قہقے 0 16-10-09 11:43 AM
ایک ٹرین چلتے ہوئے پٹڑی سے اتر گئی The Great قہقہے ہی قہقے 1 08-09-09 07:34 PM
بھٹکی ہوئی نیکی میاں شاہد جوش 0 05-07-08 12:38 PM
ابنِ آدم نے مجھے جھٹلایا میاں شاہد حدیث‌قدسی 2 19-05-08 11:29 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 07:52 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger