واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > تاریخ و عبر



تاریخ و عبر تاریخ و عبر


سیدنا امام زین العابدین علی بن حسین

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 20-09-08, 02:04 AM   #1
سیدنا امام زین العابدین علی بن حسین
Real_Light Real_Light آف لائن ہے 20-09-08, 02:04 AM

سیدنا امام زین العابدین علی بن حسین

تحریر: شیخ الاسلام پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہرالقادری

آپ کا نام علی، ابوالحسن کنیت اور زین العابدین لقب تھا، آپ حضرت امام حسین کے فرزند اصغر اور ریاض نبوت کے گل تر تھے۔

آپ فرماتے تھے کہ مجھے اس مغرور اور فخر کرنے والے پر تعجب ہوتا ہے جو کل حقیقت میں ایک نطفہ تھا اور کل مردار ہوجائے گا، آپ فرماتے ہیں کہ کچھ لوگ خوف سے خدا کی عبادت کرتے ہیں اور یہ غلاموں کی عبادت ہے کچھ (جنت میں جانے کی) طمع میں عبادت کرتے ہیں یہ تاجروں کی عبادت ہے کچھ خالص رضاءِ الہٰی میں عبادت کرتے ہیں یہی آزاد لوگوں کی عبادت ہے۔

آپ کا دل خشیت الہٰی سے لبریز رہتا تھا اور اکثر آپ خوف الہٰی سے بے ہوش ہو جایا کرتے تھے، ابن عینیہ کا بیان ہے کہ حضرت امام علی بن حسین حج کے لئے احرام باندھنے کے بعد جب سواری پر بیٹھے تو خوف سے ان کا رنگ زرد پڑ گیا اور ایسا لرزہ طاری ہوا کہ زبان سے لبیک تک نہ نکل سکا، لوگوں نے کہا آپ لبیک کیوں نہیں کہتے، فرمایا ڈر لگتا ہے ایسا نہ ہو کہ میں لبیک کہوں اور ادھر کہیں سے جواب ملے لالبیک، تیری حاضری قبول نہیں، لوگوں نے کہا مگر لبیک کہنا تو ضروری ہے، لوگوں کے اصرار پر کہا مگر جیسے ہی زبان سے لبیک نکلا بیہوش ہوکر سواری سے گر پڑے اور حج کے دن تک یہی کیفیت طاری رہی۔

آپ ہر روز ایک ہزار رکعت نوافل ادا کرتے تھے اور وفات تک اس معمول میں فرق نہ آیا، اس عبادت کی وجہ سے زین العابدین لقب سے ملقب ہوئے، قیام الیل میں سفر و حضر کی کسی بھی حالت میں ناغہ نہ ہوتا تھا۔ اخلاص فی العبادت اور خشیت الہٰی کا یہ حال تھا کہ حضوری کے وقت سارے بدن میں لرزہ طاری ہوجاتا تھا، حضرت عبداللہ بن سلیمان کا بیان ہے کہ جب آپ نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو سارے بدن پر لرزہ طاری ہوجاتا لوگوں نے پوچھا آپ کو یہ کیا ہوجاتا ہے، فرمایا لوگ کیا جانیں؟ میں کس کے حضور میں کھڑا ہوتا ہوں اور کس سے سرگوشی کرتا ہوں۔

محویت کا یہ عالم تھا کہ نماز کی حالت میں کچھ بھی ہوجائے آپ کو خبر نہ ہوتی تھی، ایک مرتبہ آپ سجدہ میں تھے کہ کہیں پاس ہی آگ لگ گئی لوگوں نے آپ کو بھی پکارا، اے ابن رسول! آگ لگ گئی اے ابن رسول! آگ لگ گئی لیکن آپ نے سجدہ سے سر نہ اٹھایا، تاآنکہ آگ بجھ گئی، لوگوں نے پوچھا کہ آپ کو آگ کی جانب اس قدر بے پرواہ کس چیز نے کردیا تھا فرمایا دوسری آگ نے جو آتش دوزخ ہے۔ انفاق فی سبیل اللہ، فیاضی اور دریا دلی آپ کا خاص وصف تھا، آپ خدا کی راہ میں بے دریغ دولت لٹاتے تھے، فقراء اور اہل حاجت کی دستگیری کے لئے ہمیشہ آپ کا دست کرم دراز رہتا تھا، مدینہ کے معلوم نہیں کتنے غریب گھرانے آپ کی ذات سے پرورش پاتے تھے اور کسی کو خبر نہ ہونے پائی، آپ کی وفات کے بعد معلوم ہوا کہ خفیہ طور پر مستقل سو گھرانوں کی کفالت کیا کرتے تھے۔

لوگوں سے چھپانے کے لئے بہ نفس نفیس خود راتوں کو جا کر ان کے گھروں پر صدقات پہنچا آتے تھے، مدینہ میں بہت سے لوگ ایسے تھے جن کی معاش کا کوئی ظاہری وسیلہ نہ ہوتا تھا، آپ کی وفات کے بعد معلوم ہوا کہ آپ رات کی تاریکی میں خود جاکر ان کے گھروں پر دے آتے تھے۔ غلہ کے بڑے بڑے بورے اپنی پیٹھ پر لاد کر غریبوں کے گھر پہنچاتے تھے۔ وفات کے بعد جب غسل دیا جانے لگا تو جسم مبارک پر نیل کے داغ نظر آئے، تحقیق سے معلوم ہوا کہ آٹے کی بوریوں کے بوجھ کے داغ ہیں، جنہیں آپ عمر بھر راتوں کو لاد کر غرباء کے گھر پہنچاتے رہے۔ آپ کی وفات کے بعد اہل مدینہ کہتے تھے کہ خفیہ خیرات حضرت امام زین العابدین کے دم سے تھی، سائلین کا بڑا احترام کرتے تھے، جب کوئی سائل آتا تو فرماتے میرے توشہ کو آخرت کی طرف لے جانے والے مرحبا پھر اس کا استقبال کرتے، سائل کو خود اٹھ کر دیتے تھے اور فرماتے تھے، صدقات سائل کے ہاتھوں میں جانے سے پہلے خدا کے ہاتھ میں جاتے ہیں۔

عمر میں دو مرتبہ اپنا کل مال ومتاع آدھا آدھا خدا کی راہ میں دے دیا۔ پچاس پچاس دینار کی قیمت کا لباس صرف ایک موسم میں پہن کر فروخت کرتے اور اس کی قیمت خیرا ت کر دیتے تھے۔ کسی نے آپ سے دریافت کیا کہ کون شخص دنیا و آخرت میں سب سے زیادہ نیک بخت اور سعید ہے؟ تو آپ نے فرمایا وہ شخص کہ جب راضی ہو تو اس کی رضا اسے باطل پر آمادہ نہ کرے اور جب ناراض ہو تو اس کی ناراضگی اسے حق سے نہ نکالے۔

امام زین العابدین فرماتے تھے کہ ایک رات حضرت یحییٰ بن زکریا علیہ السلام جوکی روٹی سے سیر ہوکر سوگئے اور معمولی شب قضاء ہوگئی، اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی فرمائی کہ اے یحییٰ! اگر تو جنت الفردوس کی طرف ایک مرتبہ بھی جھانک لے تو تمہارا جسم اس کے شوق میں گھل جائے اور تو اتنا روئے کہ آنسو ختم ہوجانے کے بعد تیری آنکھوں سے پیپ بہنے لگے اور تو ا سکی طلب میں اتنی ریاضت و مشقت کرے کہ ٹاٹ کا لباس بھی چھوڑ کر لوہا پہن لے۔
__________________
پھوٹا تھا جو کبھی کسی نیزے کی نوک سے،ہر عہد پر محیط وہی انقلاب ہے
ہر دَور میں‌حُسین ع نے ثابت یہ کر دیا،ہر دور کےیزید کا خانہ خراب ہے

 
Real_Light's Avatar
Real_Light
Senior Member
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Islamic Republic of Pakistan
مراسلات: 3,203
شکریہ: 3,117
988 مراسلہ میں 1,962 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 484
Reply With Quote
Real_Light کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 20-09-08, 07:35 AM   #2
Senior Member

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,222
کمائي: 77,430
شکریہ: 9,129
3,023 مراسلہ میں 11,135 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: سیدنا امام زین العابدین علی بن حسین

جزاک اللہ خیرا۔ ۔ ۔ ۔۔ ،۔ ۔۔
عبداللہ حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 20-09-08, 12:57 PM   #3
Senior Member
 
محمدخلیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: جنڈانوالہ کھاریاں پاکستان
عمر: 26
مراسلات: 10,975
کمائي: 48,858
شکریہ: 7,287
5,956 مراسلہ میں 15,118 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدخلیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدخلیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: سیدنا امام زین العابدین علی بن حسین

جزاک اللہ جزاک اللہ جزاک اللہ جزاک اللہ جزاک اللہ
محمدخلیل آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 20-09-08, 09:56 PM   #4
Senior Member
 
Real_Light's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Islamic Republic of Pakistan
مراسلات: 3,203
کمائي: 17,176
شکریہ: 3,117
988 مراسلہ میں 1,962 بارشکریہ ادا کیا گیا
Real_Light کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں Real_Light کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: سیدنا امام زین العابدین علی بن حسین

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
جزاک اللہ خیرا۔ ۔ ۔ ۔۔ ،۔ ۔۔
اللہ تعالٰی آپ کے دعائیہ کلمات کو اپنی بارگاہ میں مستجاب فرمائے۔ الٰہی آمین
Real_Light آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 20-09-08, 09:58 PM   #5
Senior Member
 
Real_Light's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Islamic Republic of Pakistan
مراسلات: 3,203
کمائي: 17,176
شکریہ: 3,117
988 مراسلہ میں 1,962 بارشکریہ ادا کیا گیا
Real_Light کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں Real_Light کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: سیدنا امام زین العابدین علی بن حسین

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : خلیل مراسلہ دیکھیں
جزاک اللہ جزاک اللہ جزاک اللہ جزاک اللہ جزاک اللہ
شکریہ آپ کا یہ انداز مجھے بہت پسند ہے یہی دنیا اور آخرت دونوں کے لئے پوائنٹس میں اضافہ کرتے ہیں۔ شکریہ
Real_Light آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 20-09-08, 10:59 PM   #6
Senior Member

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,222
کمائي: 77,430
شکریہ: 9,129
3,023 مراسلہ میں 11,135 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: سیدنا امام زین العابدین علی بن حسین

ہشام بن عبدالملک حج کے لیے گیا تو حرم مکی میں رش کی وجہ سے حجر اسود کو بوسہ نہ دے سکا۔ تھوڑی دیر بعد نواسہ رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے عظیم فرزند علی بن حسن زین العابدین تشریف لائے اور حجر اسود کی طرف بڑھے۔ انہیں دیکھ کر لوگ ادب و احترام کے جذبات سے کائی کی طرح چھٹ گئے اور انہوں نے بغیر کسی دقت کے اسے بوسہ دیا۔ وقت کا بادشاہ ہشام حیران رہ گیا اور کہنے لگا "یہ کون ہیں"؟۔ اس سوال کا جواب فرزدق شاعر نے اشعار کی صورت دیا جس کے چند اشعار یہ ہیں:
ھذا الذی تعرف البحاء و طئتہ
والبیت یعرفہ والحل و الحرم
"یہ وہ ہیں جن کے قدموں سے روندے جانے سے بطحاء کی سرزمین آشنا ہے اور بیت اللہ انہیں جانتا ہے اور حرم اور حرم سے باہر کا علاقہ بھی انہیں پہنچانتا ہے۔" تو اے ہشام تیرا یہ کہنا کہ "یہ کون ہے" ان کی عزت میں کوئی کمی نہیں لاتا، اس لیے کہ عرب و عجم سب انہیں جانتے ہیں۔
یہ ان صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا بیٹا ہے جو مخلوق میں سب سے بہتر ہیں
یہ تقی، نقی، پاک و ستھرا اور سردار ہے
اگر تو نہیں جانتا تو جان لے کہ یہ فاطمہ (رضی اللہ عنہا( کا لخت جگر ہے اور ان کے دادا وہ ہیں جن پر نبوت ختم ہو گئی
جب قریش نے انہیں دیکھا تو ان میں سے ایک کہنے والا کہنے لگا "اس شخص کے اخلاق پر جود و کرم کی انتہا ہو جاتی ہے
وہ حیا سے اپنی نگاہیں نیچی رکھتے ہیں اور دوسرے لوگ ان کے رعب کی وجہ سے ان کے سامنے آنکھ نہیں اٹھا سکتے پس ان سے اسی وقت بات کی جاتی ہے جب وہ متبسم ہوں۔
اس مبارک گروہ میں سے ہیں جن کی محبت ایمان کا حصہ اور جن سے بغض کرنا کفر ہے۔ "
عبداللہ حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
Real_Light (23-10-08), عرفان حیدر (23-10-08)
پرانا 20-09-08, 10:59 PM   #7
Senior Member

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,222
کمائي: 77,430
شکریہ: 9,129
3,023 مراسلہ میں 11,135 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: سیدنا امام زین العابدین علی بن حسین

ہشام بن عبدالملک حج کے لیے گیا تو حرم مکی میں رش کی وجہ سے حجر اسود کو بوسہ نہ دے سکا۔ تھوڑی دیر بعد نواسہ رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے عظیم فرزند علی بن حسن زین العابدین رحمۃ اللہ علیہ تشریف لائے اور حجر اسود کی طرف بڑھے۔ انہیں دیکھ کر لوگ ادب و احترام کے جذبات سے کائی کی طرح چھٹ گئے اور انہوں نے بغیر کسی دقت کے اسے بوسہ دیا۔ وقت کا بادشاہ ہشام حیران رہ گیا اور کہنے لگا "یہ کون ہیں"؟۔ اس سوال کا جواب فرزدق شاعر نے اشعار کی صورت دیا جس کے چند اشعار یہ ہیں:
ھذا الذی تعرف البحاء و طئتہ
والبیت یعرفہ والحل و الحرم
"یہ وہ ہیں جن کے قدموں سے روندے جانے سے بطحاء کی سرزمین آشنا ہے اور بیت اللہ انہیں جانتا ہے اور حرم اور حرم سے باہر کا علاقہ بھی انہیں پہنچانتا ہے۔" تو اے ہشام تیرا یہ کہنا کہ "یہ کون ہے" ان کی عزت میں کوئی کمی نہیں لاتا، اس لیے کہ عرب و عجم سب انہیں جانتے ہیں۔
یہ ان صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا بیٹا ہے جو مخلوق میں سب سے بہتر ہیں
یہ تقی، نقی، پاک و ستھرا اور سردار ہے
اگر تو نہیں جانتا تو جان لے کہ یہ فاطمہ (رضی اللہ عنہا( کا لخت جگر ہے اور ان کے دادا وہ ہیں جن پر نبوت ختم ہو گئی
جب قریش نے انہیں دیکھا تو ان میں سے ایک کہنے والا کہنے لگا "اس شخص کے اخلاق پر جود و کرم کی انتہا ہو جاتی ہے
وہ حیا سے اپنی نگاہیں نیچی رکھتے ہیں اور دوسرے لوگ ان کے رعب کی وجہ سے ان کے سامنے آنکھ نہیں اٹھا سکتے پس ان سے اسی وقت بات کی جاتی ہے جب وہ متبسم ہوں۔
اس مبارک گروہ میں سے ہیں جن کی محبت ایمان کا حصہ اور جن سے بغض کرنا کفر ہے۔ "

Last edited by عبداللہ حیدر; 13-10-08 at 04:30 AM.
عبداللہ حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
Real_Light (21-09-08), تفسیر حیدر (20-09-08)
پرانا 20-09-08, 11:06 PM   #8
Senior Member
 
تفسیر حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: Gujrat
مراسلات: 1,716
کمائي: 24,792
شکریہ: 1,293
980 مراسلہ میں 1,851 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: سیدنا امام زین العابدین علی بن حسین

جزاک اللہ خیرا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تفسیر حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 21-09-08, 02:27 AM   #9
Senior Member
 
Real_Light's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Islamic Republic of Pakistan
مراسلات: 3,203
کمائي: 17,176
شکریہ: 3,117
988 مراسلہ میں 1,962 بارشکریہ ادا کیا گیا
Real_Light کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں Real_Light کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: سیدنا امام زین العابدین علی بن حسین

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
ہشام بن عبدالملک حج کے لیے گیا تو حرم مکی میں رش کی وجہ سے حجر اسود کو بوسہ نہ دے سکا۔ تھوڑی دیر بعد نواسہ رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے عظیم فرزند علی بن حسن زین العابدین تشریف لائے اور حجر اسود کی طرف بڑھے۔ انہیں دیکھ کر لوگ ادب و احترام کے جذبات سے کائی کی طرح چھٹ گئے اور انہوں نے بغیر کسی دقت کے اسے بوسہ دیا۔ وقت کا بادشاہ ہشام حیران رہ گیا اور کہنے لگا "یہ کون ہیں"؟۔ اس سوال کا جواب فرزدق شاعر نے اشعار کی صورت دیا جس کے چند اشعار یہ ہیں:
ھذا الذی تعرف البحاء و طئتہ
والبیت یعرفہ والحل و الحرم
"یہ وہ ہیں جن کے قدموں سے روندے جانے سے بطحاء کی سرزمین آشنا ہے اور بیت اللہ انہیں جانتا ہے اور حرم اور حرم سے باہر کا علاقہ بھی انہیں پہنچانتا ہے۔" تو اے ہشام تیرا یہ کہنا کہ "یہ کون ہے" ان کی عزت میں کوئی کمی نہیں لاتا، اس لیے کہ عرب و عجم سب انہیں جانتے ہیں۔
یہ ان صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا بیٹا ہے جو مخلوق میں سب سے بہتر ہیں
یہ تقی، نقی، پاک و ستھرا اور سردار ہے
اگر تو نہیں جانتا تو جان لے کہ یہ فاطمہ (رضی اللہ عنہا( کا لخت جگر ہے اور ان کے دادا وہ ہیں جن پر نبوت ختم ہو گئی
جب قریش نے انہیں دیکھا تو ان میں سے ایک کہنے والا کہنے لگا "اس شخص کے اخلاق پر جود و کرم کی انتہا ہو جاتی ہے
وہ حیا سے اپنی نگاہیں نیچی رکھتے ہیں اور دوسرے لوگ ان کے رعب کی وجہ سے ان کے سامنے آنکھ نہیں اٹھا سکتے پس ان سے اسی وقت بات کی جاتی ہے جب وہ متبسم ہوں۔
اس مبارک گروہ میں سے ہیں جن کی محبت ایمان کا حصہ اور جن سے بغض کرنا کفر ہے۔ "



-----احسنتم جزاک اللہ-----
Real_Light آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
فروخت, پاک, لوگ, نماز, نظر, محبت, معلوم, ایمان, اللہ, امام زین العابدین, اشعار, جواب, حسن, خبر, خدا, دل, دریافت, سفر, سیر, سردار, شخص, علی, عبادت, عزت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
متاثرین سیلاب کی خدمت زیادہ افضل عمل ہے (تجزیہ) جاویداسد خبریں 3 29-08-10 03:21 PM
مجموعہ کلمات امام علی بن الحسین زین العابدین علیہما السلام۔ محمدخلیل تاریخ و عبر 5 20-03-09 06:38 PM
آصف زرداری الطاف حسین سے ملاقات کیلئے لندن جانا چاہتے ہیں، شازیہ مری عبدالقدوس خبریں 0 14-04-08 09:19 AM
ناکام سیاسی پناہ گزین این ایچ ایس سے علاج کراسکتے ہیں،عدالت عبدالقدوس خبریں 0 13-04-08 09:27 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 07:55 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger