واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > تاریخ و عبر



تاریخ و عبر تاریخ و عبر


شیخ المشائخ، حضرت خواجہ حسن بصری

short url
موضوع بند کر دیا گیا ہے
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 03-06-08, 05:09 PM   #1
شیخ المشائخ، حضرت خواجہ حسن بصری
Real_Light Real_Light آف لائن ہے 03-06-08, 05:09 PM

شیخ المشائخ، حضرت خواجہ حسن بصری
ہمیں اس کرئہ ارض پر قربِ خداوندی کی دولت سے سر فرازانبیائے کرام اور اولیائے کرام نظر آتے ہیںکیونکہ انبیاء و رسل نبی نوع انسان کی رہبری کے لئے اس دنیائے فانی میں جلوہ گرہوتے رہے ہیں اور دلوں کی معرفت الہی کے چراغوں سے منور فر ما تے رہے ہیں ،لوگوں کو حقیقی مقصد حیات بتاتے اور سمجھاتے رہے ہیں اورکافر و مشرکین کو''وحدہ لا شریک'' کا عابد بناتے رہے نبی اکرم ۖ چونکہ خاتم النبین ہیں اور آپۖ پر نازل ہو نے والی کتاب خاتم الکتب ہے نبی اکرم ۖکی تعلیمات اور پیغامات اہل علم لوگوں تک جلوہ افروز ہو کر خدا شناس اور خود شناسی کے موتیوں سے بند گانِ خدا کے تہی دامن کو بھرتے رہے ہیں اللہ تعالی نے حضور ۖپر سلسلہ نبوت ختم کر دیا ہے حضورۖ کے بعد اصلاح قوم کا بیڑا صحابہ نے، صحابہ کے بعد تابعین نے ، تابعین کے بعد تبع تابعین نے اور تبع تابعین کے بعد اولیاء کرام نے یہ فریضہ انجام دیا ہر دور میں دُنیا کے مختلف خطوں میں اللہ تعالی ایسی عظیم ہستیوں کو بھیجتا رہا جنہوںنے بھٹکی ہوئی انسانیت کی اصلاح کا کام کیا اس عظیم المرتبت ہستی کا تذکرہ اس مختصر مضمون میں تحریر کر نا ناچیز فقیر اور خاکپائے مرشد کی بس کی بات نہیں یہ میری خوش نصیبی ہے او رمیرے پیر و مرشد سید مستان شاہ سرکار حق بابا جی دامت بر کاتہم کی مجھ پر خاص نگاہ کرم ہے کہ مجھے آج ایک مستند معتبر اور اہم ہستی کا ذکر جمیل سپرد قلم کرنے کی سعادت حاصل ہو رہی ہے

قطب الاقطاب حضرت خواجہ حسن بصری کی کنیت ابو محمد تھی اور بعض لوگوں کے نزدیک ابو سعید اور ابی النصر تھی آپ کو صوفیائے مابعد نے مخزن ،سخا و علم ، گنجینہ حیا ء و حلم اور راز داں الفقر ء فخری کے القاب سے مخاطب کیا ہے حضرت خواجہ حسن بصری کی ولادت حضرت عمر کے زمانہ خلافت میں ہوئی آپ کی والدہ ماجدہ اُم المومنین اُم سلمیٰ کی خادمہ تھیں اس وجہ سے آپ کی پرورش حضرت اُ م المومنین کی آغوش بابرکت میں ہوئی اور کبھی کبھی حضرت اُم سلمیٰ آپ کو دودھ بھی پلا دیتی تھیں جس کی برکت سے آپ کی زبان سے حقائق و معارف کے دربار بہہ نکلے نیز بچپن میں آپ کبھی کبھی حضور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مشکیزہ کو منہ لگا کر پانی بھی پی لیتے تھے جہاں آنحضرت ۖ خود منہ مبارک لگایا کرتے تھے یہ برکت بھی آپ کے قلب و روح میں سرائیت کر گئی تھی آپ کا شمار اُمت کے تابعین میں ہوتا ہے آپ نے تقریباً ایک سو تیس اصحاب رسول کی زیارت کی جن میں سے ستر اصحاب بدر تھے جو سب کے سب بوجہ زہد و تقویٰ اونی لباس پہنتے تھے اس وجہ سے آپ شیخ المشائخ اور امام الاولیاء ہیں

آپ اکثر حضرت امام حسن ابن علی سے مسائل دریافت کیا کرتے تھے خاص طور پر آپ نے حضرت امام حسن سے مسئلہ قضاء و قدر کی حقیقت دریافت کی اور جواب باصواب پاکر مطمئن ہوئے آپ حضرت علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ کے جید خلفا ء میں تھے آپ کو خرقہ فقر وارادت حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے ملا تھا اور یہ کمبل کا وہ خرقہ تھا جو معراج کی رات حضور محبوب رب العالمین حضرت محمد مصطفٰی ۖکو بارگاہ ایزدی سے عطا ء ہوا تھاخواجہ حسن بصری ناصرف سلسلہ عالیہ چشتیہ کے شیخ الشیوخ ہیں بلکہ سلسلہ عالیہ قادریہ اور سہروردیہ کے بھی شیخ الشیوخ ہیں سلسلہ عالیہ چشتیہ، قادریہ اور سہروردیہ کے تمام مشائخ عظام حضرت خواجہ حسن بصری سے مستفیض ہوئے ہیں آپ باعمل عالم بھی تھے او ر زاہد و متقی بھی ،سنتِ نبوی ۖ پر سختی سے عمل کر تے اور ہمیشہ خداوندِتعالی سے ڈرتے رہتے تھے آپ یکتائے روزگار بزرگوں میں سے ہوئے ہیں آپ کو حضرت حسن بن علی سے شرف بیعت حاصل تھا ابتدائی دور میں آپ جواہرات کی تجارت کر تے تھے جس کی وجہ سے آپ کا نام حسن موتی بیچنے والا پڑ گیا مشہور ہے کہ ستر سال تک آپ ہمہ وقت با وضو رہے اور اپنے ہم عصر بزرگوں میں ممتاز ہوئے کسی شخص نے ایک بزرگ سے دریافت کیا کہ حسن بصری ہم سے زیادہ افضل کیوں ہیں ؟

انہوں نے جواب دیا کہ حسن کے علم کی ہر فرد کو ضرورت ہے اور اس کو سوائے خدا کے کسی کی حاجت نہیں ہفتہ میں ایک مرتبہ آپ وعظ فرمایا کرتے تھے مگر جب تک حضرت رابعہ بصری شریک نہ ہو تیں تو وعظ نہیںفرماتے لوگوں نے عرض کیا کہ آپ کے وعظ میں تو بڑے بڑے بزرگ حاضرہوتے ہیں پھر آپ صرف ایک بوڑھی عورت کے نہ ہونے سے وعظ کیوں ترک کر دیتے ہیں ؟ فر ما یا کہ ہاتھی کے برتن کا شربت چیونٹیوں کے برتن میں کیسے سما سکتا ہے ؟ اور جب آپ کو دوران وعظ جوش آجا تا تو رابعہ بصری سے فر ما تے کہ یہ تمہارے ہی جوش و گرمی کا اثر ہے ایک مرتبہ کسی جنازہ کے ہمراہ قبرستان تشریف لے گئے تدفین کے بعد آپ قبر کے سرہانے پر بیٹھ کر خوب روئے ، پھر فر ما یا اے لوگو! خبر دار ہو جائو دنیا کی انتہا اور آخرت کی ابتداء یہی قبر ہے ان کی یہی بات ایک حدیث شریف میں کچھ اس طرح سے بتائی گئی ہے کہ '' قبر آخرت کی منزلوں میں سے ایک منزل ہے لہذا ایسی دنیا سے کیوں محبت رکھتے ہو جس کا انجام یہ قبر ہے اور اس قیامت سے کیوں نہیں ڈرتے جس کی ابتداء یہ قبر ہے''

آپ کی یہ نصیحت کچھ ایسے درد بھرے الفاظ میں تھی کہ سارا ہی مجمع رونے لگاآپ فر ما یا کر تے تھے کہ جب کوئی شخص مر جا تا ہے اور اس کے گھر والے رونا شروع کرتے ہیںتوملک الموت اس مکان کے دروازے پر کھڑے ہو کر کہتے ہیں کہ یہ اپنی روزی ختم کر چکا تھا میں نے اس کی عمر کم نہیں کی مجھے تو اس گھر میں پھر آناہے اور بار بار آنا ہے اتنے تک کہ سب ختم نہ ہو جائیں پھر فر ما یا خدا کی قسم اگر گھر والے اس وقت اس فرشتہ کو دیکھ لیں اور اس کی سب باتیں سن لیں تو مردہ کو بھول کراپنی فکر میں پڑ جائیں ۔ ایک مرتبہ لوگوں نے سوال کیا کہ آپ اپنے وعظ میں کثیر لوگوں کے اجتماع سے خوش ہو تے ہیں ؟ فر ما یا کہ میں تو اس وقت مسرور ہو تا ہوں جب کوئی عشق الہی میں دل جلاآجاتا ہے کسی نے سوال کیا کہ اسلام کیا ہے اورمسلمان کس کو کہتے ہیں ؟ فر ما یا کہ کتاب میں ہے جب آپ سے دین کی اساس کے متعلق سوال کیا گیا تو فر ما یا کہ تقویٰ دین کی اساس ہے اور لالچ تقوی کو ضائع کر دیتا ہے، پوچھا گیا کہ جنت عدن کا کیا مفہوم ہے اس میں کون داخل ہو گا ! فر ما یا کہ اس میں سونے کے محلات ہیں اورسوائے نبی کریم ۖ،صدیقین و شہدا ء ، عادل بادشاہ اور دیگر انبیائے کرام کے کوئی داخل نہیں ہو سکتا ،سوال کیا گیا کہ کیا روحانی طبیب کسی دوسرے کا علاج کر سکتا ہے ؟ فر ما یا ''اس وقت تک نہیں جب تک خود اپنا علاج نہ کر لے'' لوگوں نے


عرض کیا کہ ہمارے قلوب تو سوئے ہوئے ہیں ان پر آپ کا وعظ کیا اثر انداز ہو گا ؟ فر ما یا کہ'' خوابیدہ قلوب کو تو بیدار کیا جا سکتا ہے البتہ مردہ دلوں کی بیداری ممکن نہیں '' آپ کے ایک ارادت مند کی یہ کیفیت تھی کہ آیات قرآنی سن کر بیہوش ہو جا تا تھا آپ نے فر ما یا کہ اپنے فعل میں اس امر کو ملحوظ رکھا کرو کہ آواز نہ نکلنے پائے کیونکہ آواز نکلنے سے ریاکاری محسوس ہو نے لگتی ہے جو انسان کے لئے باعث ہلاکت ہے اور اگرکسی پر حالت طاری نہ ہو بلکہ وہ قصداً طاری کرے اور کوئی نصیحت بھی اس پر کار گر نہ ہو تو وہ گنہگار ہے اور جو شخص قصداً رو تا ہے اس کا رونا شیطان کا رونا ہے ۔ ایک مرتبہ دوران وعظ حجاج بن یوسف برہنہ شمشیر اپنی فوج کے ہمراہ وہاں پہنچا اسی محفل میں ایک بزرگ نے اپنے دل میں یہ خیال کیا کہ آج حسن بصری کا امتحان ہے کہ یہ تعظیما ً کھڑے ہوتے ہیں یا وعظ میں مشغول رہتے ہیں چنانچہ آپ نے حجاج کی آمد پر کوئی توجہ نہیں کی اور اپنے وعظ میں مشغول رہے چنانچہ اس بزرگ نے یہ تسلیم کر لیا کہ واقعی آپ اپنی خصلتوں کے اعتبار سے اسم بامسمی ہیں کیونکہ احکام خداوندی بیان کرتے وقت آپ کسی کی پرواہ نہیں کر تے تھے اختتام وعظ کے بعد حجاج نے دست بوسی کر تے ہوئے لوگوں سے کہا کہ اگر تم مرد خدا سے ملنا چاہتے ہو تو حسن بصری کو دیکھ لو پھر بعض لوگوں نے انتقال کے بعد حجاج کو خواب میں دیکھا کہ میدان حشر میں کسی کی تلاش میں ہے اور جب اس سے پوچھا گیا کہ کس کی جستجو میں ہو ؟ تو کہنے لگا کہ میں اس جلوہ خداوندی کا متلاشی ہوں جس کو موحدین تلاش کیا کرتے ہیں لوگ کہتے ہیں کہ وقت مرگ حجاج کی زبان پر یہ کلمات تھے کہ ''اللہ تو غفار ہے اور تجھ سے بر تر کوئی دوسرا نہیں لہذا اپنی غفاری ایک کم حوصلہ مشت خاک پر بھی ظاہر کر کے اپنے فضل سے میری مغفرت فر ما دے کیونکہ پورا عالم یہی کہتا ہے کہ اس کی بخشش ہرگز نہیں ہو سکتی اور یہ عذاب میں گرفتار رہے گا لیکن اگر تو نے مجھے بخش دیا تو سب کو معلوم ہو جائے گا کہ یقینا تیری شان فَعَالُ ِلّمَا یُرِیْد ترجمعہ:اللہ تعالی جس کا ارادہ کرتے ہیں وہ کرتے ہیں

جب حسن بصری نے یہ واقعہ سنا تو فر ما یا کہ یہ بدخصلت حصول آخرت بھی اپنی مرضی سے کرنا چاہتا ہے ۔ حضرت علی جب وارد بصرہ ہوئے تو وعظین کو وعظ گوئی سے منع کرتے ہوئے فر ما یا کہ تمام منبروں کو توڑ کر پھینک دو لیکن جب حسن بصری کی مجلس وعظ میں پہنچے تو ان سے پوچھا کہ تم عالم ہو یا طالب علم ؟ آپ نے جواب دیا کہ میں تو کچھ بھی نہیں ہوں البتہ جو کچھ احادیث نبوی ۖ سے سنا ہے وہ لوگوں تک پہنچا دیتا ہوں یہ سن کر حضرت علی نے فر ما یا کہ آپ کو وعظ گوئی کی اجازت ہے اورجب حسن بصری کو یہ معلوم ہوا کہ وہ حضرت علی تھے تو ان کی جستجو میں نکل کھڑے ہوئے اور ایک جگہ جب ان سے ملاقات ہوگئی تو عرض کیا کہ مجھے وضو کا طریقہ سکھا دیجئے چنانچہ ایک طشت میں پانی منگوا کر حضرت علی نے آپ کو وضو کا طریقہ سکھا یا اور اسی وجہ سے اس جگہ کا نام با الطشت پڑ گیا ۔ آپ ہمیشہ مصروف گریہ رہتے اور کسی نے کبھی آپ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ نہیں دیکھی ۔ایک مرتبہ آپ پوری رات مصروف گریہ رہے اور جب لوگوں نے پوچھا کہ آپ کا شمار تو صاحب تقویٰ لوگوں میں ہو تا ہے پھر آپ اس قدرگریہ وزاری کیوں کرتے ہیں ؟ فر ما یا'' کہ میں تو اس دن کے لئے روتاہوں جس دن مجھ سے کوئی ایسی خطا ہوگئی ہو کہ اللہ تعالی باز پرس کر کے یہ فرماوے کے اے حسن ! ہماری بارگاہ میں تمہاری کوئی وقعت نہیں اورہم تمہاری پوری عبادت کورد کر تے ہیں ''۔

کچھ بزرگ آپ کے ہمراہ بغرض حج روانہ ہوئے اور ان میں سے بعض لوگوں کو شدت سے پیاس لگی چنانچہ راستہ میں ایک کنواں نظر آیا لیکن اس پر رسی اور ڈول کچھ نہ تھا اور جب حضرت حسن بصری سے صورت حال بیان کی گئی تو فر ما یا کہ جب میں نماز میں مشغول ہو جائوں تو تم پانی پی لینا چنانچہ جب آپ نماز کے لئے کھڑے ہوئے تو اچانک کنوئیں میں سے پانی خود بخود اُبل پڑا اور سب لوگوں نے اچھی طرح پیاس بجھائی لیکن ایک شخص نے احتیاطاً کچھ پانی ایک کوزے میں رکھ لیا اس حرکت سے کنویں کا جوش ایک دم ختم ہو گیا اور آپ نے فر ما یا کہ تم نے خدا پر بھروسہ نہیں کیا یہ اسی کا نتیجہ ہے پھر آگے روانہ ہوئے تو راستہ میں کچھ کھجوریں اٹھا کر لوگوں کو دیں جن کی گٹھلیاں سونے کی تھیں اور جن کو فروخت کر کے لوگوں نے سامان خورد و نوش خریدا اور صدقہ بھی کیا حضرت خواجہ حسن بصری سماع کو بہت عزیز رکھتے تھے

آپ فرماتے تھے وجد ایک بھید ہے جو دل میں آتا ہے اُسے محرک کردیتا ہے اور سماع جو حق سے سنتا ہے وہ ''حق رسیدہ ''ہوجاتا ہے اور جونفس سے سنتا ہے وہ ''زندیق''ہوجاتا ہے ۔جب حضرت خواجہ حسن بصری کا وصال ہوا تو غیب سے آواز آئی ''اِنّ اللّٰہَ اصْطَفٰی آدَمَ وَ نُوحًا وَ آلِ اِبْرَاھِیْمَ وَ آلِ حَسَنْ'' ترجمعہ: اللہ نے حضرت آدم علیہ السلام ، حضرت نوح علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام اورحسن آل اولاد کو درجہ مقبولیت بخشا ''آپ دمِ مرگ مسکراتے ہوئے فر ماتے رہے کہ کونسا گناہ ، کونسا گناہ اور یہی کہتے کہتے روح پرواز کر گئی پھر کسی بزرگ نے خواب میں دیکھ کر پوچھا کہ عالم نزع میں آپ مسکرا کیوں رہے تھے اور کونسا گناہ بار بار کیوں کہہ رہے تھے ۔ فر ما یا کہ دم نزع مجھے یہ ندا سنائی دی کہ اے ملک الموت سختی سے کام لے کیونکہ ایک گناہ باقی رہ گیا ہے چنانچہ اسی خوشی میں مسرور ہو کر میں بار بار کونسا گناہ کہہ رہا تھا وفات کی شب میں کسی بزرگ نے خواب دیکھا کہ آسمان کے دریچے کھلے ہوئے ہیں اور ندا کی جارہی ہے کہ حسن بصری اپنے مولی کے پاس حاضر ہو گئے اور اللہ ان سے راضی ہے حضرت خواجہ حسن بصری کا وصال 5

رجب یا4محرم الحرام110یا 111 ھ کوہوا آپ کے مزار شریف سے فیوض و برکات کا سلسلہ آج بھی جاری ہے اور آپ کا مزار پاک بصرہ سے تین کوس یعنی چھ میل پر واقع ہے اور عقیدت مندوں کے لئے مرجع خلائق ہے ۔
__________________
پھوٹا تھا جو کبھی کسی نیزے کی نوک سے،ہر عہد پر محیط وہی انقلاب ہے
ہر دَور میں‌حُسین ع نے ثابت یہ کر دیا،ہر دور کےیزید کا خانہ خراب ہے

 
Real_Light's Avatar
Real_Light
Senior Member
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Islamic Republic of Pakistan
مراسلات: 3,203
شکریہ: 3,117
988 مراسلہ میں 1,962 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 399
Real_Light کا شکریہ ادا کیا گیا
ملک اظہر (31-12-11)
پرانا 03-06-08, 10:37 PM   #2
Senior Member
 
The Great's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: لوگوں کے دل میں
عمر: 20
مراسلات: 5,772
کمائي: 82,786
شکریہ: 2
2,019 مراسلہ میں 3,246 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: شیخ المشائخ، حضرت خواجہ حسن بصری

اچھا لکھا ھے اپ نے جناب۔۔
The Great آف لائن ہے  
پرانا 06-06-08, 06:25 PM   #3
Senior Member
 
Real_Light's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Islamic Republic of Pakistan
مراسلات: 3,203
کمائي: 17,176
شکریہ: 3,117
988 مراسلہ میں 1,962 بارشکریہ ادا کیا گیا
Real_Light کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں Real_Light کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: شیخ المشائخ، حضرت خواجہ حسن بصری

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : The Great مراسلہ دیکھیں
اچھا لکھا ھے اپ نے جناب۔۔
تھریڈ پسند کرنے اور حوصلہ افزائی کا بہت شکریہ
Real_Light آف لائن ہے  
پرانا 31-12-11, 05:45 PM   #4
Senior Member
 
مفتی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2010
مراسلات: 540
کمائي: 7,067
شکریہ: 489
308 مراسلہ میں 689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اچھی شیئرنگ پر ہم مشکور ہیں
مفتی آف لائن ہے  
موضوع بند کر دیا گیا ہے

Tags
فروخت, قرآنی, نماز, نظر, ممکن, محبت, مسائل, معلوم, معراج, آج, اللہ, انسان, امتحان, اسلام, تلاش, حدیث, حسن, خواجہ حسن بصری, دریافت, راستہ, عورت, عبادت, عشق, صحابہ, صدقہ


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 07:56 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger