واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > تاریخ و عبر



تاریخ و عبر تاریخ و عبر


صبرواستقامت کے پیکر....علامہ زاہدالکوثری ؒ

short url
موضوع بند کر دیا گیا ہے
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 21-01-12, 09:12 PM   #1
صبرواستقامت کے پیکر....علامہ زاہدالکوثری ؒ
خورشیدحسین خورشیدحسین آف لائن ہے 21-01-12, 09:12 PM

تحریر:مولانا مدثر جمال تونسوی

اسلامی تاریخ جن درخشندہ ابواب سے مزین ہے اُن میں ایک اہم باب ان محنتوں اور مشقتوں کا ہے جو اکابر اسلام نے حصول علم کی خاطر برداشت کیں۔ یہ امت محمدیہ کا وہ اعجاز و خصوصیت ہے جس میں یہ منفرد ہے اور کوئی دوسری امت اس کے شریک حال نہیں ۔ اس امت کے اہل علم نے قرآن و سنت اور دیگر علوم دینیہ اور وراثت نبوی کی حفاظت و اشاعت اور نشر و تبلیغ کےلئے اپنی زندگیاں وقف کیں، گھر بار اور خویش و اقارب سے دوری اختیار کی ،مال و دولت کی بڑی سے بڑی پیش کش کو ٹھکرایا مگر اس علم کی حفاظت اور حصول کےلئے اٹھنے والے قدم کبھی پیچھے نہ ہٹے، آج کے مسلم نوجوان کو اپنی تاریخ کے آئینے میں یہ بات دکھلانے اور اس کے شوق و ولولے کو برانگیختہ کرنے کےلئے ضروری ہے کہ اسے اپنے اکابر کے ان مجاہدانہ کارناموں سے واقف کرایا جائے اور بتایا جائے کہ ہماری ترقی کن علوم سے وابستہ ہے اورہماری محنتو ں کے میدان کیا ہیں؟
اکابر اسلام میں ایک روشن نام علامہ محمد زاہد الکوثریؒ کا ہے۔ آپ کی جلالت شان کےلئے اتنا ہی کافی ہے کہ قریبی عرصے میں عالم عرب میں ان سے بڑھ کر کوئی حنفی عالم نہیں گزرا۔ ترکی میں خلافت عثمانیہ کے زمانہ میں شیخ الاسلام کے سیکرٹری کے منصب پر فائز تھے پھر اپنے دین کو بچانے کی خاطر بعض شرعی مجبوریوں کی وجہ سے ترکی سے ہجرت کر کے قاہرہ چلے آئے تھے، عمر بھر علم و تحقیق میں مشغول رہے اپنے دور میں عرب و عجم کے مرجع علماءتھے۔ آپ کے ایک نامور شاگرد اور عرب کے معروف عالم دین علامہ عبدالفتاح ابو غدہ نے اپنی کتاب ”صفحات من صبر العلمائ....“ میں اپنے استاد کی تنگ دستی و ناداری کے باوجودحصول علم کاشوق اوربے پناہ لگن کے جو واقعات نقل کئے ہیں ،وہ ہمارے لئے اورتمام طلبہ علم وفن کے لئے سبق اور نشان منزل ہیں۔ حصول کامیابی و کامرانی اور ترقیات کےلئے ان تکلیف دہ مراحل کو پورے صبر و ہمت سے برداشت کرنا چاہئے تب عظمتیں ٹوٹ کر برستی ہیں۔ شیخ عبدالفتاح ابوغدہ ؒنے انہی کی زبانی اپناایک واقعہ نقل کیا ہے کہ :
”میں دمشق میں تھا اور پابندی کے ساتھ ”ظاہریہ لائبریری“ میں تقریباً ایک سال تک کتابوں کا مطالعہ کرتا رہا۔ شروع میں جب میں وہاں پہنچا تو ایک سرائے میں ٹھہرا جب خرچہ کے پیسے کم پڑ گئے تو میں چھت کے اوپر ایک معمولی سے کمرے میں آ گیا، ترکی کا ایک پردیسی آدمی بھی اسی میں آ گیا اور ہم نے کرایہ کے پیسوں کو آپس میں مشترک طور پر بانٹ لیا۔ پھر ایک دفعہ میں بالکل مفلس و قلاش ہو گیا میرے کمرے کا ساتھی باوجود اپنی غربت کے میری ہمدردی کرتا، اور اپنے تھوڑے سے پیسوں میں سے کچھ لاتا، جسے ہم مل کر کھا پی لیتے، کچھ دنوں کے بعد وہ بھی میری طرح مفلس و قلاش ہو گیا اور روزی تلاش کرنے کےلئے چلا گیا۔
صبح ہوئی تو بہت ہی سخت بھوگ لگی ہوئی تھی اور میرے پاس کھانے کےلئے ایک درہم بھی بچا ہوا نہیں تھا۔ میں اسی حال میں بغیر کچھ کھائے، اپنے معمول کے مطابق ”ظاہریہ“ پہنچا، وہاں سے لوٹا اور پھر اگلے دن جیسا بھوکا سویا تھا ویسا ہی اٹھ گیا ۔ میں پھر ”ظاہریہ“ گیا اور وہاں سے لوٹا تو بھوک کے مارے برا حال ہو رہا تھا، اگلی صبح تک کمرے ہی میں بیٹھا رہا، اور تیسرے دن باوجود سخت ترین بھوک کے میں پھر”ظاہریہ“ چلا گیا۔ اس لئے کہ کمرے میں بیٹھنے سے بھوک کی تکلیف اور بڑھتی تھی اور علمی مشغلہ میں اس کا احساس کچھ نہ کچھ کم ہو جاتا تھا۔
میں جب ظہر کے بعد کمرے آیا تو محلہ کا گھی فروش، راستہ میں ملا ،میں نے خط و کتابت کےلئے اسی کا پتہ دے رکھا تھا، اس نے بتایا کہ: ڈاکیہ تمہارا ایک رجسٹری خط لیکر آیا تھا لیکن اس نے مجھے دینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ ” میں اپنے ہاتھ سے تمہاے حوالے کروں گا۔“
میں یہ سنکر سخت بھوک و پیاس اور تکلیف کی حالت میں گرتا پڑتا، کسی طرح ڈاکخانہ پہنچا، دیکھا تو وہ شیخ رشید حواصلی دمشقی کا خط تھا، جسے انہوں نے چار ماہ پیشتر، میرے پاس استنبول سے قاہرہ بھیجا تھا، لفافہ میں تین پونڈ کا میرے نام ایک ڈرافٹ بھی تھا۔ اس پوری مدت میں خط مع ڈرافٹ استنبول اور قاہرہ کے درمیان چکر کاٹتا رہا ۔وجہ یہ تھی کہ میں اس وقت دمشق میں تھا، قاہرہ میں میرا سرے سے وجود ہی نہ تھا، اور نہ وہاں کوئی میرا پتہ جاننے والا تھا۔ یہ خط شدید بھوک و پیاس کے تیسرے دن مجھے ملا میں نے ڈرافٹ لیا اور اس کی رقم سے ایک عرصہ تک، اپنی اور اپنے ساتھی کی ضروریات پوری کیں۔
بعد میں، جب صدیقِ محترم شیخ حواصلی سے قاہرہ میں ملاقات ہوئی، تو انہوں نے پونڈ بھیجنے کا سبب بتایا اور کہا کہ ایک روز گھر آتے ہوئے ،بہت ہی عمدہ مچھلی خرید کر لایا، اور اسی سے دوپہر کا کھانا کھایا، اچانک تم یاد آئے، اور مجھے خیال آیا کہ تم اپنے گھر اور وطن سے دور ہو، کوئی کام یا آمدنی کا ذریعہ بھی نہیں( میں بس اپنے تن کے کپڑوں کو لے کر ملک سے نکلا تھا) یہ سب یاد آیا تو انہوں نے ڈرافٹ کو کئی مہینے پہلے میرے پاس روانہ کیا ۔لیکن خدا کو یہ منظور تھا کہ وہ نہایت مناسب وقت پر مجھے ملے اس کے بے پایاں لطف و کرم اور حسن تدبیر پر بندہ اس کی بارگاہ میں حمد و ثنا کے کلمات پیش کرتا ہے۔
شیخ فرماتے ہیں میں دمشق ہی میں ایک مرتبہ اور مفلس و قلاش ہو گیا، دو یا تین دن بغیر کھائے گزر گئے، جب تیسرا دن ہوا تو راستے میں ایک فلسطینی شخص ملا میں نے اسے کسی دینی مجلسمیں دیکھا تھا، جس میں دمشق کے چند علماءکے ساتھ مجھے بھی شریک کیا گیا تھا۔ اس نے ایک معقول رقم میری طرف بڑھائی اور لینے پر بہت ہی اصرار کرنے لگا، میں نے اس کے اصرار اور اپنی شدید بھوک اور فاقہ کشی کی وجہ سے وہ رقم لے لی لیکن مجھے آج تک نہ اس کا نام معلوم ہوا اور نہ اس کا پتہ۔ کہ میں اس کے احسان کا کچھ بدلہ اتار سکوں“۔
یہ واقعہ ذکرکرنے کے بعدشیخ ابوغدہ ؒ اپنی چشم دیدگواہی اورتبصرہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ”ہمارے شیخ کوثری مرحوم سے جو لوگ واقف ہیں وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ موصوف اپنے نام کی طرح واقعی ”زاہد“ اور خدارسیدہ انسان تھے، ان کا شمار ان لوگوں میں تھا جو کچھ ملنے پر ایثار اور نہ ملنے پر صبر و شکر سے کام لیتے ہیں ۔خدا اُن کو اپنی رحمت کاملہ سے نوازے اور صابرین میں بلند و بالا مقام عطا فرمائے“۔ آمین

خورشیدحسین
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Nov 2011
عمر: 27
مراسلات: 48
شکریہ: 3
33 مراسلہ میں 70 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 127
2 قاری/قارئین نے خورشیدحسین کا شکریہ ادا کیا
نبیل خان (22-01-12), حسن قادری (22-01-12)
پرانا 22-01-12, 09:07 PM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 2,286
کمائي: 26,482
شکریہ: 8,476
1,586 مراسلہ میں 3,509 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت شکریہ مفید پوسٹ ئے
جزاک اللہ خیرا
نبیل خان آف لائن ہے  
موضوع بند کر دیا گیا ہے

Tags
زاہد،الکوثری،مدثر،جمال


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
وکی لیکس کا بم پھٹ گیا ، آہستہ آہستہ سفارتی تباہی شروع ، پہلا نشانہ سعودی عرب بنا جاویداسد خبریں 10 29-11-10 07:51 PM
جعلی ایجوکیشن کنسلٹنٹ طلبا کے مستقبل سے کھیل رہے ہیں کنعان تعلیم و تربیت 3 08-11-10 06:06 AM
عدالت نے ناانصافی کی، تشدد اور تصادم کا راستہ اختیار نہ کیا جائے، عافیہ صدیقی کی اپیل گلاب خان خبریں 0 24-09-10 02:55 AM
بہترمستقبل کیلئے انڈین لیگ ضرورکھیلیں ،پاکستانی کرکٹرز کو میانداد کا مشورہ خرم شہزاد خرم کرکٹ 0 07-08-07 09:36 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 07:56 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger