واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > تاریخ و عبر



تاریخ و عبر تاریخ و عبر


فاطمہ زھرا (سلام اللہ علیہا) رسالت و عصمت کا نایاب گوہر

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 24-05-11, 04:52 PM   #1
فاطمہ زھرا (سلام اللہ علیہا) رسالت و عصمت کا نایاب گوہر
حیدر Rehan حیدر Rehan آن لائن ہے 24-05-11, 04:52 PM

بسلسلہ ولادت فاطمہ زھرا (س) 20 جمادی الثانی

آپکا نام گرامی فاطمہ اور مشہور لقب زہرا، سیدۃالنساء العالمین، راضیہ، مرضیہ، شافعہ، صدیقہ، طاھرہ،حوریہ، زکیہ، خیر النساء اور بتول ہیں۔

کنیت:
آپ کی مشہور کنیت ام الآئمۃ، ام الحسنین، ام السبطین اور امِ ابیہا ہے۔ ان تمام کنیتوں میں سب سے زیادہ حیرت انگیز ام ابیھا ھے، یعنی اپنے باپ کی ماں، یہ لقب اس بات کا ترجمان ھے کہ آپ اپنے والد بزرگوار کو بے حد چاہتی تھیں، اس قدر محبت و شفقت سے پیش آتی تھیں کہ رسول (س) فاطمہ کو "ام ابیھا" کا لقب دیتے ہیں، اور کمسنی کے باوجود اپنے بابا کی روحی اور معنوی پناہ گاہ تھیں۔ نبی اسلام (ص) نے آپ کو ام ابیھا کا لقب اس لئے دیا۔ کیونکہ عربی میں اس لفظ کے معنی، ماں کے علاوہ اصل اور مبداء کے بھی ھیں یعنی جڑ اور بنیاد۔ لھذا اس لقب ( ام ابیھا) کا ایک مطلب نبوت اور ولایت کی بنیاد اور مبدا بھی ہے۔ کیونکر یہ آپ س ھی کا وجود تھا، جس کی برکت سے شجرہ امامت اور ولایت نے رشد پائی، جس نے نبوت کو نابودی اور نبی خدا(ص) کو ابتریت کے طعنہ سے بچایا۔ تاریخ میں دو خواتین کو باپ کی نسبت سے لقب ملے، ایک جناب فاطمہ اور دوسری ان کی بیٹی حضرت زینب(س) کو، "زینب" یعنی باپ کی زینت۔

آپ کے والد ماجد ختمی مرتبت حضرت محمد مصطفی(ص) اور والدہ ماجدہ حضرت خدیجہ بنت خویلد ہیں۔ باپ وہ جو ختم المرسلین، حبیب خدا اور منجی بشریت ہیں، آپ کے اوصاف و کمالات بیان کرنا انسان کے بس میں نہیں۔ آپ کی والدہ ماجدہ، جناب خدیجہ بنت خویلد جو قبل از اسلام قریش کی سب سے زیادہ باعفت، نیک اور ثروتمند خاتون تھیں۔ وہ عالم اسلام کی سب سے پہلی خاتون تھیں جو حضرت محمد مصطفی(ص) پر ایمان لائیں اور اپنا تمام مال اسلام کی راہ میں خرچ کر دیا۔ حضرت خدیجہ(س) کی نبی اسلام (ص) کے ساتھ وفاداری اور جان و مال کی فداکاری کو ھرگز نہیں بھلایا جا سکتا۔ نبی اکرم ص کی جناب خدیجہ س سے محبت کا اندازہ اس بات سے کریں کہ نبی کریم ص نے ان کی حیات طیبہ میں تقریبا 26 سال تک دوسری شادی نہیں کی .

یہ مقام ہے حضرت فاطمہ زھراء (س) کی والدہ گرامی کا، رسول پاک (ص) فرمایا کرتے تھے "جیسا حسب نسب فاطمہ کا ہے، ویسا میرا ص اور علی ع کا بھی نہیں"۔

حضرت فاطمہ زھرا(ع) کی تاریخ ولادت:
حضرت فاطمہ زھرا(ع) کی تاریخ ولادت کے سلسلہ میں علماء اسلام کے مابین اختلاف ہے۔ لیکن اہل بیت عصمت و طہارت کی روایات کی بنیاد پر آپ س کی ولادت بعثت کے پانچویں سال ۲۰ جمادی الثانی، رسول خدا ص کے گھر میں بروز جمعہ مکہ معظمہ میں ھوئی۔

آپکا بچپن اور تربیت:
حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے اپنے والد حبیب خدا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور اپنی والدہ ماجدہ حضرت خدیجۃ الکبری کے زیر سایہ 9 برس رہیں پھر اپ کی شادی امیر المومنین و مولا علی ع سے ہوئی اور اپنی حیات مبارکہ کے 9 برس گزارے اور کل 18 برس کی زندگی اپ نے دنیا میں گزاری.

نبی اکرم ص کی اخلاقی تربیت کا اثر تھا کہ ان کے نور کی کرنیں ھر طرف پھیل گئیں،جناب سیّدہ سلام اللہ علیہا کو اپنے بچپن سے ہی بہت مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اسلام کے دشمنوں کی طرف سے رسول ص کو دی جانے والی اذیتیں سامنے تھیں۔ کبھی اپنے بابا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے جسم مبارک کو پتھروں سے لہولہان دیکھتیں تو کبھی مشرکوں کا بابا ص کے سر پر کوڑا ڈالنے کا ناگوار منظر، مگر اس کمسنی کے عالم میں بھی سیّدہ نہیں گھبرائیں بلکہ اس چھوٹی سی عمر میں اپنے بزرگ مرتبہ باپ نبی اکرم ص کی مددگار بنی رہیں۔

حضرت فاطمہ زہر علیھا السلام کوئي معمولي شخصيت نہيں ہيں ۔ وہ تاريخ بشريت کي بہترين شخصيات ميں سے ايک ہيں ۔
اگر ہم تمام مخلوقات عالم ميں پوري تاريخ ميں خلق کيے گئے ان کھربوں انسانوں کے درميان اگر انگليوں پر شمار کي جانے والي بہترين شخصيات کو ڈھونڈھنا چاہيں تو ان ميں سے ايک يہي مطہرہ ومنورہ س شخصيت ہے کہ جس کا نام اور ياد و ذکر ہميں عطا کيا گيا ہے ۔ اللہ نے اپنے فضل و احسان کے ذريعے ہميں يہ موقع ديا ہے کہ اپني زندگي کے کچھ حصوں کو اُن کي ياد ميں بسر کريں ، ہم پر ا بہت بڑا لطف و کرم ہے کہ ہم اُن سے متمسک ہيں يعني وہ اتني عظيم المرتبت شخصيت کي مالک ہيں کہ بڑے بڑے مسلمان علما اور مفکرين يہ بحث کرتے تھے کہ کيا حضرت زہرا علیھا السلام کي شخصيت بلند ہے يا امير المومنين علي ابن ابي طالب ٴ کا مقام زيادہ ہے؟

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نبی اکرم (ص) کی نظر میں:
سیدہء عالم کی فضیلت میں پیغمبر کی اتنی احادیث وارد ہوئی ہیں کہ جتنی حضرت علی علیہ السّلام کے سوا کسی دوسری شخصیت کے لیے نہیں ملتیں، ان میں سے اکثر پر علماء اسلام کا اتفاق ہے

کائنات کی سب سے برتر خاتون
1. "وَإِذْ قَالَتِ الْمَلاَئِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللّهَ اصْطَفَاكِ وَطَهَّرَكِ وَاصْطَفَاكِ عَلَى نِسَاء الْعَالَمِينَ" (1)
اور یاد کرو جب فرشتوں نے کہا اے مریم! بلاشبہ اللہ نے تمہیں (اپنے خاص اہداف کے لئے) منتخب کیا ہے اور تمہیں پاک وپاکیزہ بنایاہے اور تمہیں تمام جہانوں کی عورتوں سے منتخب قرار دیا ہے۔

علماء اہلسنت نے اس آیت کی ذیل میں چارعورتوں کی فضیلت میں متعدد روایات نقل کی ہیں۔ یہ روایات ابن عباس، انس، ابی لیلی، ابوہریرہ، عایشہ، عبدالرحمن بن ابی لیلی، جابر بن عبداللّہ ، ابوسعید، حذیفہ، ام سلمہ، ابواسلمی، ابن مسعود، ابن عمر، عمران بن حصین، جابر بن سمرہ، ابی بریدہ اسلمی اور دیگر جیسے اہم راویوں سمیت خود اہل بیت (ع) اور امام علی و حضرت سیدہ فاطمہ (س) اور ان کے فرزندان معصومین سے نقل ہوئی ہیں۔

رسول خدا (ص) نے فرمایا:
«یا فاطمة ألا ترضین أنْ تکونی سیدة نساء العالمین، و سیدة نساء هذه الامة، و سیدة نساء المؤمنین" (2)
اے فاطمہ! کیا آپ خوشنود نہیں ہے کہ آپ جہانوں میں برترین اور افضل ترین خاتون ہوں اور اس امت کی خواتین کی سیدہ اور اور با ایمان خواتین کی سردار ہوں؟" حاکم اور ذہبی نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے (3) بغوی نے کہا ہے: اس حدیث کی صحت پر اتفاق رائے پایا گیا ہے۔ (4)

"اما إنّها سیدة النساء یوم القیامة؛(5)
جان لو کہ وہ قیامت کے روز تمام خواتین کی سیدہ ہیں"۔

أَ ما تَرضِیَنَّ أنْ تکونی سیدة نساء اہل الجنة أو نساء المؤمنین؛
کیا آپ خوشنود نہیں ہوتیں کہ بہشتی خواتین یا با ایمان خواتین کی سیدہ قرار پائیں؟" (6)

بعض روایات میں چار خواتین کی سیادت کی بات ہوئی ہے۔ رسول اللہ (ص) نے فرمایا: "افضل نساء العالمین خدیجة، و فاطمة و مریم و آسیة امرأة فرعون»۔(7) افضل ترین خواتین چار ہیں خدیجہ (ص)، فاطمہ (س)، مریم (س) اور فرعون کی اہلیہ آسیہ۔

"کَمُلَ مِن الرجال کثیر و لم یکمل مِن النساء إلا مریم بنت عمران و آسیه بنت مزاحم (امرأة فرعون) و خدیجة بنت خویلد و فاطمة بنت محمد؛(
یعنی مردوں میں سے بہت سے افراد کامل ہوئے تا ہم خواتین میں سے یہ خواتین کامل ہوئیں: "مریم (بنت عمران) آسیہ (بنت مزاحم زوجہ فرعون) ام المؤمنین سیدہ خدیجہ (بنت خویلد) اور فاطمہ (بنت محمد (ص))"۔

جناب فاطمہ برتر ہیں یا جناب مریم؟!
اس آیت میں ارشاد ہوا ہے: "وَإِذْ قَالَتِ الْمَلاَئِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللّهَ اصْطَفَاكِ وَطَهَّرَكِ وَاصْطَفَاكِ عَلَى نِسَاء الْعَالَمِينَ * يَا مَرْيَمُ اقْنُتِي لِرَبِّكِ وَاسْجُدِي وَارْكَعِي مَعَ الرَّاكِعِينَ" (آل عمران 42 و 43)
اور یاد کرو جب فرشتوں نے کہا اے مریم! بلاشبہ اللہ نے تمہیں (اپنے خاص اہداف کے لئے) منتخب کیا ہے اور تمہیں پاک و پاکیزہ بنایا ہے اور تمہیں تمام جہانوں کی عورتوں سے منتخب قرار دیا ہے * اے مریم ! اپنے پروردگار کی بارگاہ میں خاضع، فروتن اور اطاعت گزار رہو اور سجدہ کرو اور رکوع کرنے والے کے ساتھ رکوع کرتی رہو۔

ان دو آیات میں دو نکتے قابل غور ہیں:
دنیا کی عورتوں پر حضرت مریم (س) کا اصطفاء اور برگزیدگی:
ہوسکتا ہے کہ ابتداء میں ذہن میں یہ بات آئی کہ مریم (س) حضرت فاطمہ (س) اور غیر فاطمہ (س) سمیت تمام عورتوں سے افضل ہیں کیونکہ اللہ نے ارشاد فرمایا ہے کہ "علی نساء العالمین" کہہ کر انہیں فضیلت عطا کی ہے۔

یہ آیت بالکل سورہ بقرہ کی آیت 47 کی مانند ہے جہاں ارشاد ہوتا ہے: "یا بنی اسرائیل اْذکروا نعمتی التی انعمتُ علیکم و إنّی فضَّلتُکم علی العالمین؛ اے بنی اسرائیل میری وہ نعمت یاد کرو جس سے میں نے تمہیں نوازا اور یہ کہ میں نے تمہیں تمام خلائق سے زیادہ عطاکیا"۔ (10) ظاہر ہے کہ بنی اسرائیل اپنی زمانی میں دوسروں کی نسبت افضل امت قرار دیئے گئے ہیں اور تمام امتوں اور تمام اعصار اور ازمنہ میں آنے والی صاحب ایمان قوموں سے افضل نہیں ہیں جیسا کہ اللہ تعالی نے امت اسلامی سے مخاطب ہوکر فرمایا: «کنتم خیر امة» (11) یعنی تم (مسلمان) بہترین امت ہو۔ سب سے خیر، بہتر، برتر اور افضل امت بنی اسرائیل نہیں بلکہ امت مسلمہ ہے۔ [اور یہ بات بھی اس آیت سمیت متعدد قرآنی آیات ہے سے ثابت ہی] اسی طرح حضرت مریم برگزیدہ خاتون ہیں اپنے زمانے کی عورتوں کی نسبت؛ یہی بات روایات سے بھی ثابت ہے۔ اس آیت کی تفسیر میں عبداللہ بن عباس، حسن و ابن جریج نے کہا ہے: "اصطفاءِ مریم سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنے زمانے کی عورتوں کی نسبت افضل اور برگزیدہ تھیں"۔ (12) ابن انباری نے یہی قول اکثر مفسرین و محدثین سے منسوب کی ہے اور کہا ہے کہ مریم اپنے زمانے کی عورتوں سے برتر اور ان کی نسبت پسندیدہ اور برگزیدہ تھیں۔ (13)

اسی طرح کا قول ابن عباس اور سُدَی (14) سمیت دیگر محدثین و مفسرین سے بھی نقل ہوا ہے اور اکثر سنی مفسرین نے یہی قول صحیح اور قابل قبول قرار دیا ہے۔(15)

2ـ رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرنا:
مریم کو امر ہوا ہے کہ "و ارکعی مع الراکعین" (اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرتے رہو) جیسا کہ بنی اسرائیل کو بھی امر ہوا تھا کہ "و اقیموا الصلاة و اتوا الزکوة و ارکعوا مع الراکعین؛(16) اور نماز قائم کرو اور زکاة ادا کرو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کیا کرو"۔

دو آیتوں میں حضرت مریم اور بنی اسرائیل کو حکم ہوا ہے کہ رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کریں۔ اور ان ہی دو آیتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ مریم اور بنی اسرائیل سے بہتر و برتر لوگ بھی ہیں۔ کیونکہ بنی اسرائیل اور حضرت مریم سے کہا گیا ہے کہ رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کیا کریں اور ان کی ہمراہی کریں اور ان کی اقتداء کریں۔ رکوع کرنے والے درحقیقت حضرت مریم اور بنی اسرائیل کے امام و پیشوا ہیں چنانچہ وہ حضرت مریم اور بنی اسرائیل سے افضل ہیں۔

اب ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ خداوند متعال رکوع کرنے والوں کو متعارف کراتا ہے: ارشاد ہوتا ہے: "إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللّهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِينَ آمَنُواْ الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلاَةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ رَاكِعُونَ" ۔(17) تمہارا حاکم و سر پرست بس اللہ ہے اور اس کا پیغمبر اور وہ ایمان رکھنے والے جو نماز ادا کرتے ہیں اور خیرات دیتے ہیں جبکہ وہ رکوع کررہے ہوتے ہیں۔

یعنی یہ کہ رکوع کرنے والے اہل بیت عصمت و طہارت علیہم السلام ہیں بالخصوص ابوالائمہ حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام۔(1

سیدہ فاطمہ (س) فخر مریم (س) ہیں کیونکہ خداوند متعال نے قرآن کی دو سورتیں ان کی مدح و تعریف و تمجید میں نازل فرمائی ہیں۔ 1. سورہ دہر (یا سورة الانسان) اور 2. سورہ کوثر؛ (20) اور اسی طرح آیت تطہیر (21) خاتون جنت کی عصمت و طہارت پر تأکید کرتی ہے۔ یہ آیت اہل بیت (ع) بالخصوص حضرت فاطمہ (س) کے لئے مخصوص ہے۔ (22) آیت مودت (23) میں سیدہ (س) کی مودت کو تمام مسلمانوں پر تا روز قیامت فرض فرمایا گیا ہے۔ (24) سورہ احزاب (25) میں حکم دیا گیا ہے کہ مؤمنین سیدہ (س) کے وجود مبارک پر پیوستہ درود و سلام بھیجنے کا حکم دیا گیا ہے۔ (26) اسی طرح درجنوں آیتیں (27) سیدہ (س) کی فضیلت و برتری پر دلالت کرتی ہیں۔ اتنے سارے فضائل کا حضرت مریم کے لئے کہا پتہ ملتا ہے؟!

سیدہ فاطمہ (س) انسانوں کے لئے اللہ کی حجت ہیں (2 آخرت میں مقام شفاعت کی مالکہ ہیں (29) سیدہ (س) کی مودت 100 مقامات پر انسان کے کام آتی ہے (30) آپ (س) رسول اللہ (ص) کے بدن کا ٹکڑا ہیں (31) اور سیدہ (س) کا غضب اللہ کا غضب اور آپ (س) کی رضا اللہ کی رضا ہے (32) مریم (س) فاطمہ (س) کے ساتھ قابل قیاس ہی نہیں ہیں۔ گو کہ مریم (س) عیسی روح اللہ (ع) کی والدہ ماجدہ اور دنیائے خلقت کی چار عظیم خواتین میں سے ایک ہیں اور ان کا رتبہ بہت بلند ہے اور سنی عالم دین "النسفی" نے کہا ہے کہ مریم (س) کو اس لئے برگزیدہ خاتون قرار دیا گیا ہے کہ انھوں نے حضرت عیسی (ع) کو بغیر باپ کے جنم دیا۔ (33)

اہلسنت علماء کی نگاہ میں سیدہ فاطمہ (س) کی برتری
1ـ آلوسی مفسر:
آلوسی نے سورہ آل عمران کی آیت 42 کے ذیل میں تحریر کیا ہے کہ "اس آیت سے حضرت زہراء سلام اللہ علیہا پر حضرت مریم سلام اللہ علیہا کی برتری اور فضیلت ثابت ہوتی ہے بشرطیکہ اس آیت میں "نساء العالمین" سے مراد تمام زمانوں اور تمام ادوار کی خواتین مراد ہوں مگر چونکہ کہا گیا ہے کہ اس ایت میں مراد حضرت مریم کے زمانے کی عورتیں ہیں لہذا ثابت ہے کہ مریم (س) سیدہ فاطمہ (س) پر فضیلت نہیں رکھتیں"۔

آلوسی لکھتے ہیں: رسول اللہ (ص) نے ارشاد فرمایا ہے: "اِنّ فاطمة البتول أفضل النساء المتقدمات و المتأخرات؛ فاطمہ بتول (س) تمام گذشتہ اور آئندہ عورتوں سے افضل ہیں"۔

آلوسی کے بقول "اس حدیث سے تمام عورتوں پر حضرت سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا کی افضلیت ثابت ہوتی ہے کیونکہ سیدہ (س) رسول اللہ (ص) کی روح و جان ہیں، چنانچہ سیدہ فاطمہ (س) عائشہ ام المؤمنین پر بھی برتری رکھتی ہیں"۔ (34)

2ـ السہیلی:
السہیلی رسول اللہ (ص) کی معروف حدیث "فاطمة بضعة منی" کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں: "میری رائے میں کوئی بھی "بضعةالرسول (ص)" سے افضل و برتر نہیں ہو سکتا"۔ (35)

الزرقانی:
الزرقانی لکھتے ہیں: "جو رائے امام المقریزی، قطب الخضیری اور امام السیوطی نے واضح دلیلوں کی روشنی میں منتخب کی ہے یہ ہے کہ فاطمہ سلام اللہ علیہا حضرت مریم (س) سمیت دنیا کی تمام عورتوں سے افضل و برتر ہیں"۔ (36)

السفارینی:
السفارینی نے تحریر کیا ہے: "فاطمہ ام المؤمنین خدیجہ (س) سے افضل ہیں، لفظ سیادت کی خاطر اور اسی طرح مریم (س) سے افضل و برتر ہیں"۔ (37)

ابن الجکنی:
ابن الجکنی لکھتے ہیں: "صحیح تر قول کے مطابق فاطمہ سلام اللہ علیہا افضل النساء ہیں"۔ (3

شیخ الرفاعی:
الرفاعی لکھتے ہیں: " اسی قول کے مطابق متقدم اکابرین اور دنیا کے علماء و دانشوروں نے صحیح قرار دیا ہے، فاطمہ تمام خواتین سے افضل ہیں"۔ (39)

ڈاکٹر محمدطاہر القادری:
مشہور و معروف سنی عالم دین ڈاکٹر محمد طاہر القادری چار خواتین کی افضلیت سے متعلق احادیث کا حوالہ دیتے ہیں اور لکھتے ہیں: "احادیث میں کسی قسم کا تعارض (تصادم) نہیں ہے کیونکہ دیگر خواتین یعنی: مریم، آسیہ اور خدیجہ (س)، کی افضلیت کا تعلق ان کے اپنے زمانوں سے ہے یعنی وہ اپنے زمانوں کی عورتوں سے بہتر و برتر تھیں لیکن حضرت سیدہ عالمین (س) کی افضلیت عام اور مطلق ہے اور پورے عالم اور تمام زمانوں پر مشتمل [یعنی جہانشمول اور زمانشمول] ہے" (40)

حضرت مریم (س) پر سیدہ فاطمہ (س) کی افضلیت شاعر مشرق جناب علامہ ڈاکٹر محمد اقبال کی نگاہ میں:
مریم از یک نسبت عیسی عزیز
از سه نسبت حضرت زهرا عزیز
مریم عیسی علیہ السلام کے حوالے سے ایک ہی نسبت سے بزرگ و عزیز ہیں؛ جبکہ حضرت زہراء تین نسبتوں سے بزرگ و عزیز ہیں

نور چشم «رحمة للعالمین»
آن امام اولین و آخرین
سیدہ رحمةللعالمین صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نورچشم ہیں؛ جو اولین و آخرینِ عالَم کے امام و رہبر ہیں
آن که جان در پیکر گیتی رسید
روزگار تازه آیین آفرید

وہی جنہوں نے گیتی (کائنات) کے پیکر میں روح پھونک دی؛ اور ایک تازہ دین سے معمور زمانے کی تخلیق فرمائی
بانوی آن تاجدار «هل اتی»
مرتضی مشکل گشا شیر خدا
وہ "ہل اتی" کے تاجدار، مرتضی مشکل گشا، شیرخدا علیہ السلام کی زوجۂ مکرمہ اور بانوئے معظمہ ہیں
پادشاہ و کلبہ ای ایوان او
یک حسام و یک زرہ سامان او
علی علیہ السلام بادشاہ ہیں جن کا ایوان ایک جھونپڑی ہے اور ان کا پورا سامان ایک شمشیر اور ایک زرہ ہے
مادر آن مرکز پرگار عشق
مادر آن کاروان سالار عشق
ماں ہیں ان کے جو عشق کا مرکزی نقطہ اور پرگار عشق ہیں اور وہ کاروان عشق کی سالار
آن یکی شمع شبستان حرم
حافظ جمعیت خیر الأُمَم
وہ دوسرے (امام حسن مجتبی علیہ السلام) شبستان حرم کی شمع اور بہترین امت (امت مسلمہ) کے اجتماع و اتحاد کے حافظ
تا نشینند آتش پیکار و کین
پشت پا زد بر سر تاج و نگین
اس لئے کہ جنگ اور دشمنی کی آگ بجھ جائے آپ (امام حسن) (ع) نے حکومت کو لات مار کر ترک کردیا۔
و آن دگر مولای ابرار جهان
قوّت بازوی احرار جهان
اور وہ دوسرے (امام حسین علیہ السلام)؛ دنیا کے نیک سیرت لوگوں کے مولا؛ اور دنیا کے حریت پسندوں کی قوت بازو
در نوای زندگی سوز از حسین
اهل حق حریت آموز از حسین
زندگی کی نوا میں سوز ہے تو حسین (ع) سے ہے اور اہل حق نے اگر حریت سیکھی ہے تو حسین (ع) سے سیکھی ہے
سیرت فرزندها از اُمّهات
جوهر صدق و صفا از اُمّهات
فرزندوں کی سیرت اور روش زندگی ماؤں سے ورثے میں ملتی ہے؛ صدق و خلوص کا جوہر ماؤں سے ملتا ہے
بهر محتاجی دلش آن گونه سوخت
با یهودی چادر خود را فروخت
ایک محتاج و مسکین کی حالت پر ان کو اس قدر ترس آیا کہ اپنی چادر یہودی کو بیچ ڈالی
مزرع تسلیم را حاصل بتول
مادران را اسوه کامل بتول(41)
تسلیم اور عبودیت کی کھیتی کا حاصل حضرت بتول سلام اللہ ہیں اور ماؤں کے لئے نمونۂ کاملہ حضرت بتول (س)


مریم (س) پر سیدہ فاطمہ (س) کی افضلیت اہلسنت محدثین کی نگاہ میں
اس صحیح روایت کی مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ارشاد فرماتے ہیں:
"یا فاطمة أَلا ترضین أنْ تکونی سیدة نساء العالمین و سیدة نساء هذه الامة و سیدة نساء المؤمنین؛ اے فاطمہ (س)! کیا آپ خوشنود نہیں ہونگی کہ دنیا کی خواتین کی سردار قرار پائیں اور اس امت کی خواتین کی سیدہ قرار پائیں اور با ایمان خواتین کی سیدہ قرار پائیں؟" (42)

حاکم اور ذہبی دونوں اس روایت کو صحیح قرار دیتے ہیں۔ یہ روایت حضرت حوّا ام البشر سے لے کر قیامت تک، دنیا کی تمام عورتوں پر حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی افضلیت کی واضح ترین اور گویا ترین دلیل ہے اور اس روایت نے ہر قسم کی نادرست تصورات کا امکان ختم کرکے رکھ دیا ہے۔
عبداللہ ابن عباس نے ایک طویل حدیث میں رسول اللہ (ص) سے نقل کیا ہے کہ آپ (ص) نے فرمایا: "ابنتی فاطمه فإنّها سیدة نساء العالمین مِن الأوّلین و الآخرین؛(44) میری بیٹی فاطمہ (س)! بے شک اولین سے آخرین تک تمام عالمین کی خواتین کی سردار ہیں"۔

نیز ایک طولانی حدیث کے ضمن میں نبی اکرم (ص) نے فرمایا: "... چوتھی مرتبہ خدا نے نظر ڈالی اور فاطمہ (س) کو پورے عالم کی خواتین پر پسندیدہ اور افضل قرار دیا۔ (45)

ابن عباس نبی اکرم(ص) سے روایت کرتے ہیں: "اربع نسوة سیدات عالمهن۔ مریم بنت عمران، و آسیة بنت مزاحم، و خدیجة بنت خویلد، و فاطمة بنت محمد و افضلهن عالِما فاطمة؛(46)

مآخذ:
1 ـ آل عمران، 42۔
2 ـ حاکم نیشابوری، المستدرک، (بیروت: دارالمعرفۃ)، ج3، ص156۔
3 ـ وہی۔
4 ـ شرح السنۃ، (بیروت: دارالفکر، 199، ج8، ص122۔
5 ـ ابی نعیم اصبهانی، حلیۃ الاولیاء، (بیروت: دارالکتاب العربی، 1987)، ج2، ص42۔
6 ـ محمد بن اسماعیل بخاری، صحیح البخاری، (بیروت: دارالجیل)، ج4، ص248 (کتاب بدءالخلق، باب علامات النبوة فی الاسلام)۔
7 ـ جلال الدین سیوطی، الدر المنثور، (بیروت: دارالفکر، 1993، ج2، ص193۔
8 ـ احمد بن حنبل، المسند، (بیروت: دار صادر)، ج2، ص511؛ ابن صباغ مالکی، الفصول المهمۃ، (بیروت: مؤسسۃ الاعلمی للمطبوعات، 198، ص127۔
9 ـ آل عمران، 43 ـ 42۔
10 ـ بقره، 47۔
11 ـ آل عمران، 110۔
12 ـ عبدالرحمن بن جوزی، زادالمسیر، (بیروت: دارالکتب العلمیۃ، 2001م)، ج1، ص315۔
13 ـ وہی مأخذ
14 ـ جلال الدین سیوطی، الدر المنثور، ج2، ص194؛ اسماعیل بن کثیر دمشقی، تفسیر القران العظیم، (بیروت: دار المعرفۃ 1987)، ج2، ص647۔
15 ـ محمود آلوسی، روح المعانی، (تہران: انتشارات جہان)، ج3، ص138؛ علی خازن، تفسیر الخازن، (بیروت: دار الکتب العلمیۃ)، ج1، ص244؛ حسن بصری، تفسیر الحسن البصری، (قاہرہ: دار الحدیث)، ج1، ص212؛ عتیق بن محمد سورآبادی، تفسیر سورآبادی، (تہران: فرہنگ نشر نو، 1381ش)، ج1، ص281۔
16 ـ بقرہ، 43۔
17 ـ مائدہ، 55۔
18 ـ جلال الدین سیوطی، الدر المنثور، ج3، ص105۔
19 ـ محمود زمخشری، الکشاف، (بیروت: دارالمعرفۃ) ج4، ص167، «شخصیت حضرت زهرا(س) در قرآن از منظر تفاسیر اهل سنت» - محمدیعقوب بشوی ـ بحث سورہ دہر۔
20 ـ تفسیر فخر رازی، (بیروت: دارالفکر، 1985)، ج32، ص124؛ نظام الدین نیشابوری، غرائب القرآن، (بیروت: دار الکتب العلمیه، 1996م)، ج6، ص576؛ ابراهیم بقاعی، نظم الدرر، (بیروت: دارالکتاب العلمیه، 1995م)، ج8، ص549؛ محمد شفیع، معارف القرآن، (کراچی: ادارة المعارف، 1999م)، ج8، ص828۔ «شخصیت حضرت زهرا(س) در قرآن از منظر تفاسیر اهل سنت» - محمدیعقوب بشوی ـ سورہ کوثر کا جائزہ۔
21 ـ احزاب، 33۔
22 ـ محمد بن جریر طبری، جامع البیان، (بیروت: دارالفکر، 988م)، ج12، ص7، «شخصیت حضرت زهرا(س) در قرآن از منظر تفاسیر اهل سنت» - محمدیعقوب بشوی ـ آیۃ التطہیر پر بحث۔
23 ـ شوری، 23۔
24 ـ الدر المنثور، ج7، ص348، «شخصیت حضرت زهرا(س) در قرآن از منظر تفاسیر اهل سنت» - محمدیعقوب بشوی ـ آیت مودت پر بحث۔
25 ـ احزاب، 56۔
26 ـ صحیح البخاری، ج8، ص95، «شخصیت حضرت زهرا(س) در قرآن از منظر تفاسیر اهل سنت» - محمدیعقوب بشوی ـ صلوات پر بحث۔
27 ـ «شخصیت حضرت زهرا(س) در قرآن از منظر تفاسیر اهل سنت» - محمدیعقوب بشوی ـ تمام بحوث میں تلاش کرسکتے ہیں۔
28 ـ ابراهیم جوینی، فرائد السمطین، (بیروت: مؤسسۃ المحمودی للطباعۃ و النشر، 197، ج2، ص آخر؛ سلیمان قندوزی، ینابیع الموده، (قم: منشورات مکتبة بصیرتی، 1966م)، ص787؛ موفق بن احمد خوارزمی، مقتل الحسین، (تهران: مکتبة نینوی الحدیثه)، ج1، ص95۔
29 ـ احمد قرمانی، اخبار الدول و آثار الاول، (بیروت: عالم الکتب)، ص88۔
30 ـ موفق بن احمد خوارزمی، وہی مأخذ، ص59۔
31 ـ حاکم نیشابوری، المستدرک، ج3، ص158۔
32 ـ وہی مأخذ ، ص153۔
33 ـ تفسیر عبداللّه نسفی، (بیروت: دارالکتب العلمیۃ، 1995)، ج1، ص255۔
34 ـ محمود آلوسی، روح المعانی، ج3، ص138۔
35 ـ روض الانف، (مصر: مکتبۃ الکلیات الازهریۃ)، ج1، ص279۔
36 ـ وہی مأخذ ، ص178۔
37 ـ وہی مأخذ ۔
38 ـ وہی مأخذ ۔
39 ـ وہی مأخذ ۔
40 ـ الدرة البیضاء فی مناقب فاطمۃ الزہراء، (لاہور: منہاج القرآن، 2003م)، ص33، کتاب کا حاشیہ۔
41 ـ محمد اقبال، کلیات اشعار اقبال، (لاہور: مطبوعہ نسائی)، ص103۔
42 ـ المستدرک، ج3، ص156۔
43 ـ محمد شوکانی، فتح القدیر، (بیروت: دار المعرفۃ، 1996م)، ج1، ص439۔
44 ـ ابراهیم جوینی، فرائد السمطین، ج2، ص35۔
45 ـ سلیمان قندوزی، ینابیع المودة، ص247، باب 56۔
46 ـ الدر المنثور، ج2، ص194۔

شیعہ حدیث و تفسیر کی کتب میں حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی فضیلت کے سلسلے میں وارد ہونے والی روایات کی تعداد کثیر ہے ..

 
حیدر Rehan's Avatar
حیدر Rehan
Senior Member
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,881
شکریہ: 7,925
2,141 مراسلہ میں 4,913 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 503
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (25-05-11), محمدخلیل (24-05-11), سیپ (24-05-11)
پرانا 24-05-11, 05:03 PM   #2
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,881
کمائي: 51,203
شکریہ: 7,925
2,141 مراسلہ میں 4,913 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

جگر پارہ رسول خدا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم یعنی سورہ کوثر کی تفصیر جناب فاطمہ الزہرہ سلام اللہ علیہا
کے بارے میں مشہور ہے کہ جناب فاطمہ الزہرہ سلام اللہ علیہا
’’اللہ کا ایک عظیم راز ہیں‘‘
حیدر Rehan آن لائن ہے   Reply With Quote
حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا گیا
سیپ (24-05-11)
پرانا 24-05-11, 05:07 PM   #3
Administrator


 
سیپ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: دلِ ویران
مراسلات: 10,064
کمائي: 1,047,211
شکریہ: 5,798
6,278 مراسلہ میں 15,253 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
جزاک اللہ
آپ نے بہت ہی اچھی شئرنگ کی ہے
سیپ آف لائن ہے   Reply With Quote
سیپ کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan (24-05-11)
پرانا 24-05-11, 06:01 PM   #4
Senior Member
 
محمدخلیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: جنڈانوالہ کھاریاں پاکستان
عمر: 26
مراسلات: 10,975
کمائي: 48,856
شکریہ: 7,287
5,956 مراسلہ میں 15,118 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدخلیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدخلیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

کمال کی اچھی شئرنگ ہے بھائی
محمدخلیل آن لائن ہے   Reply With Quote
محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan (24-05-11)
پرانا 24-05-11, 07:06 PM   #5
Senior Member
 
مہتاب's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2010
مراسلات: 2,033
کمائي: 22,538
شکریہ: 862
1,306 مراسلہ میں 2,830 بارشکریہ ادا کیا گیا
مہتاب کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں مہتاب کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : محمدخلیل مراسلہ دیکھیں
کمال کی اچھی شئرنگ ہے بھائی
سپیمنگ ؟؟؟؟؟







مہتاب آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 24-05-11, 07:27 PM   #6
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,851
کمائي: 278,040
شکریہ: 1,151
6,266 مراسلہ میں 14,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلامُ علیکم
جزاک اللہ
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
زارا کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan (24-05-11)
پرانا 25-05-11, 02:28 PM   #7
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,881
کمائي: 51,203
شکریہ: 7,925
2,141 مراسلہ میں 4,913 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

نیز ابن عباس ہے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (ص) نے فرمایا:
"افضل العالمین مِن النساء الأولین و الآخرین فاطمہ؛ (47)
اولین اور آخرین کی خواتین میں سب سے افضل خاتون فاطمہ (س) ہیں"

جناب مریم (س) پر سیدہ فاطمہ زہرہ (س) کی افضلیت شیعہ روایات کی نگاہ میں
نبی اکرم حضرت محمد مصطفی(ص) نے ایک طویل حدیث کے ضمن میں ارشاد فرمایا:

میری بیٹی فاطمہ (س) عالمین کی خواتین کے سردار ہیں؛ کہا گیا کہ: اے رسول خدا (ص)! کیا سیدہ فاطمہ (س) اپنے زمانے کی خواتین کی سردار ہیں؟ حضرت رسول خدا (ص) نے فرمایا: مریم بنت عمران اپنے زمانے کی خواتین کی سردار تھیں لیکن میری بیٹی فاطمہ (س) اولین سے آخرین تک تمام عالمین کی خواتین کی سردار ہیں؛ جب فاطمہ (ع) محراب عبادت میں عبادت کے لئے کھڑی ہوتی ہیں ستر ہزار مقرّب فرشتے ان پر درود و سلام بھیجتے ہیں اور مریم کی مانند انہیں ندا دیتے ہیں: اے فاطمہ! بلاشبہ اللہ نے تمہیں منتخب کیا ہے اور تمہیں پاک وپاکیزہ بنایاہے اور تمہیں تمام جہانوں کی عورتوں سے منتخب قرار دیا ہے۔(4

نیز آپ (ص) نے فرمایا: "میری بیٹی فاطمہ اولین سے آخرین تک تمام خواتین کی سیدہ اور سردار ہیں؛ وہ میرے بدن کا ٹکڑا، میری آنکھوں کا نور اور میرے دل کا پھل ہیں؛ وہ میرے بدن میں میری روح و جان ہیں؛ وہ انسانی حور ہیں جو مجھ سے معرض وجود میں آئی ہیں۔ جب محراب عبادت میں خدا کی بارگاہ میں عبادت کے لئے کھڑی ہوتی ہیں ان کا نور آسمانوں میں مقیم فرشتوں پر چمکتا ہے جس طرح کہ اہل زمین کے لئے آسمان کے فرشتوں کی روشنی چمکتی ہے اور خدائے عزیز و جلیل اپنے فرشتوں سے مخاطب ہوکر فرماتا ہے: میرے فرشتو! میری خادمہ ، میرے خادموں کی سردار فاطمہ کی طرف دیکھو جو میری بارگاہ میں کھڑی ہیں اور ان کے اعضاء و جوارح میرے خوف سے کانپ رہے ہیں۔ اپنے قلب سے میری عبادت کے لئے آئی ہیں؛ میرے فرشتو! گواہ رہو کہ میں نے ان کے پیروکاروں کو دوزخ کی آگ سے امان عطا کی..."۔ (49)

نیز حضور (ص) نے فرمایا: "بے شک آسیہ بنت مزاحم، مریم بنت عمران اور خدیجہ بنت خویلد پردے اور حجاب کی مانند فاطمہ (س) کے آگے آگے جنت کی طرف رواں دواں ہونگی"۔(50)

ایک روایت میں ائمہ علیہم السلام نے فرمایا:
کسی بھی نبی (ص) کی نبوت مکمل نہیں ہوئی جب تک اس نے سیدہ فاطمہ (س) کی فضیلت و محبت کا اقرار نہیں کیا وہ صدیقہ کبری ہیں اور ابتدائی زمانوں کا دارومدار ان کی معرفت پر تھا۔(51)


امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں:
فاطمہ (ع) کی اطاعت خدا کی تمام مخلوقات ـ خواہ وہ انسان ہوں خواہ جن ہوں یا پرندے اور درندے یا حتی انبیاء اور ملائکہ ہوں ـ پر فرض ہے۔(52)

بے شک فاطمہ(ع) عالم امکان میں خدائے سبحان کے اسرار میں سے ایک سِرّ ہیں اور دنیا میں کوئی بھی وجود 11 اماموں کی والدہ جیسا نہیں ہے


47 ـ المناقب المرتضویۃ، ص113، بحوالۂ غلامرضا کسائی، مناقب الزہراء، (قم: مطبعۃ مہر، 1398ه••• )، ص62۔
48 ـ محمدباقر مجلسی، بحارالانوار، (بیروت: مؤسسة الوفاء، 1983م)، ج43، ص24، ح20۔
49 ـ حسین شیخ الاسلامی، مسند فاطمۃ الزہراء، (قم: مرکز انتشارات دفتر تبلیغات اسلامی، 1377)، ص72۔
50 ـ وہی مأخذ ۔
51 ـ محمدفاضل مسعودی، الاسرار الفاطمیۃ، (مؤسسۃ الانوار الفاطمیۃ، 2002م)، ص219۔
52 ـ ابی جعفر محمد بن جریر بن رستم طبری، دلائل الامامۃ، (قم: منشورات الرضی، 1363)، ص28۔
حیدر Rehan آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 25-05-11, 07:12 PM   #8
Senior Member
 
محمد عاصم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,679
کمائي: 52,583
شکریہ: 5,148
1,533 مراسلہ میں 5,930 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ریحان دماغ حاضر رکھ کر لکھا کرو اوپر لکھا تھا کہ
اقتباس:
کائنات کی سب سے برتر خاتون
1. "وَإِذْ قَالَتِ الْمَلاَئِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللّهَ اصْطَفَاكِ وَطَهَّرَكِ وَاصْطَفَاكِ عَلَى نِسَاء الْعَالَمِينَ" (1)
اور یاد کرو جب فرشتوں نے کہا اے مریم! بلاشبہ اللہ نے تمہیں (اپنے خاص اہداف کے لئے) منتخب کیا ہے اور تمہیں پاک وپاکیزہ بنایاہے اور تمہیں تمام جہانوں کی عورتوں سے منتخب قرار دیا ہے۔
اور نیچے اس قرآن کی آیت کے خلاف اپنا عقیدہ پیش کر رہے ہو
کسی کی عقیدت میں غلو مت کرو جس کو اللہ نے جتنا مقام دیا ہے اتنا ہی رکھو گے تو کبھی گمراہ نہیں ہوگے۔

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر Rehan مراسلہ دیکھیں
نیز ابن عباس ہے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (ص) نے فرمایا:
"افضل العالمین مِن النساء الأولین و الآخرین فاطمہ؛ (47)
اولین اور آخرین کی خواتین میں سب سے افضل خاتون فاطمہ (س) ہیں"

جناب مریم (س) پر سیدہ فاطمہ زہرہ (س) کی افضلیت شیعہ روایات کی نگاہ میں
نبی اکرم حضرت محمد مصطفی(ص) نے ایک طویل حدیث کے ضمن میں ارشاد فرمایا:

میری بیٹی فاطمہ (س) عالمین کی خواتین کے سردار ہیں؛ کہا گیا کہ: اے رسول خدا (ص)! کیا سیدہ فاطمہ (س) اپنے زمانے کی خواتین کی سردار ہیں؟ حضرت رسول خدا (ص) نے فرمایا: مریم بنت عمران اپنے زمانے کی خواتین کی سردار تھیں لیکن میری بیٹی فاطمہ (س) اولین سے آخرین تک تمام عالمین کی خواتین کی سردار ہیں؛ جب فاطمہ (ع) محراب عبادت میں عبادت کے لئے کھڑی ہوتی ہیں ستر ہزار مقرّب فرشتے ان پر درود و سلام بھیجتے ہیں اور مریم کی مانند انہیں ندا دیتے ہیں: اے فاطمہ! بلاشبہ اللہ نے تمہیں منتخب کیا ہے اور تمہیں پاک وپاکیزہ بنایاہے اور تمہیں تمام جہانوں کی عورتوں سے منتخب قرار دیا ہے۔(4
__________________

یا اللہ پوری اُمتِ محمد علیہ السلام کو قرآن و سنت پر جمع کر دے آمین
http://muslim-islamicpoint.blogspot.com
محمد عاصم آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (25-05-11), عبداللہ ناصر (26-05-11), غلام خان (13-07-11)
پرانا 25-05-11, 07:18 PM   #9
Senior Member
 
محمد عاصم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,679
کمائي: 52,583
شکریہ: 5,148
1,533 مراسلہ میں 5,930 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں:
فاطمہ (ع) کی اطاعت خدا کی تمام مخلوقات ـ خواہ وہ انسان ہوں خواہ جن ہوں یا پرندے اور درندے یا حتی انبیاء اور ملائکہ ہوں ـ پر فرض ہے۔(52)
یہی تو آپ لوگوں کی دین اسلام میں زیادتی ہے کہ اپنے اماموں کے قول کو بھی دینِ الہٰی کا درجہ دیتے ہو۔
اپنی اس بات کا ثبوت قرآن اور نبیﷺ کی صحیح حدیث سے دے سکتے ہو؟؟؟ قیامت تک بھی نہیں کیونکہ یہ جھوٹ ہے اور جو جھوٹ ہوتا ہے اس کی کوئی دلیل نہیں ہوتی۔
اپنے پاس سے جو مرضی ہے کہتے رہو ہمارے لیئے دین کا درجہ صرف اللہ اور نبیﷺ کی بات ہی رکھتی ہے۔
محمد عاصم آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (25-05-11), مسٹر شیف (26-05-11), عبداللہ ناصر (26-05-11), عبداللہ حیدر (25-05-11), غلام خان (13-07-11)
پرانا 27-05-11, 12:19 PM   #10
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,881
کمائي: 51,203
شکریہ: 7,925
2,141 مراسلہ میں 4,913 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : محمد عاصم مراسلہ دیکھیں
یہی تو آپ لوگوں کی دین اسلام میں زیادتی ہے کہ اپنے اماموں کے قول کو بھی دینِ الہٰی کا درجہ دیتے ہو۔۔

اپ کا جناب سیدہ سلام اللہ علیہا کی عظمت پر شک ہے کہ ان کی اطاعت کس طرح ہم پر واجب ثابت ہوگئی؟

کیا اس بات سے زیادہ اہم بات یہ نہی ہے کہ کس طرح بشمول امام مولا علی ع سے لے کر امام مہدی س تک پر اللہ کی حجت جناب سیدہ سلام اللہ علیہا ہیں ؟

اور یہ کہ اہل تشیع حضرات نے یہ مان کیسے لیا کہ امام علی علیہ سلام پر رسول خدا ص کی بیٹی کی حجب قائم ہوگئی ؟

کیا امام علی علیہ سلام جن کے بارے میں اہل تشیع سے بہت کچھ سنتے ہیں نعوذ باللہ کبھی کبھی اللہ سے بھی بڑھادیتے ہیں اور ایسی قسم کی اور باتیں ۔۔۔۔یعنی امام علی ع پر جناب فاطمہ س کی حجت ؟؟؟ کیسے کس طرح قائم ہوئی ؟؟ اور اہل تشیع مان بھی گئے؟؟
حیدر Rehan آن لائن ہے   Reply With Quote
حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا گیا
غلام خان (13-07-11)
پرانا 06-07-11, 04:25 PM   #11
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,881
کمائي: 51,203
شکریہ: 7,925
2,141 مراسلہ میں 4,913 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

حدیث شریف :
’’حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
ہر ماں کے بیٹوں کا آبائی خاندان ہوتا ہے جس کی طرف وہ منسوب ہوتے ہیں سوائے فاطمہ کے بیٹوں کے، پس میں ہی ان کا ولی ہوں اور میں ہی ان کا نسب ہوں۔‘‘

وَقَالَ الْحَاکِمُ : هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِسْنَادِ.

أخرجہ الحاکم في المستدرک، 3 / 179، الرقم : 4770، وأبو يعلي في المسند 2 / 109، الرقم : 6741، والطبراني في المعجم الکبير، 3 / 44، الرقم : 2631 - 2632.



حدیث شریف:
’’ حضرت عمر ر سے مروی ہے کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سنا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے :

ہر عورت کی اولاد کا نسب اپنے باپ کی طرف ہوتا ہے سوائے اولاد فاطمہ کے کیونکہ میں ہی ان کا نسب اور میں ہی ان کا باپ ہوں۔‘‘

أخرجہ الديلمي في مسند الفردوس، 3 / 234، الرقم : 4787، والهيثمي في مجمع الزوائد، 4 / 224.



حدیث شریف:
’’حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
یقیناً اﷲ تعالیٰ نے ہر نبی کی اولاد اس کی صلب میں رکھی اور بیشک اﷲتعالیٰ نے میری اولاد علی بن ابی طالب کی صلب میں رکھی ہے۔‘‘

أخرجہ الطبراني في المعجم الکبير، 3 / 43، الرقم : 2630، والديلمي في مسند الفردوس، 1 / 172، الرقم : 643، والهيثمي في مجمع الزوائد، 9 / 172، والمناوي في فض القدير، 2 / 223.
حیدر Rehan آن لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
فرض, کراچی, پاک, پسندیدہ, لوگ, نماز, مکہ, مولا علی, متعارف, محمد اقبال, محبت, اہل بیت, ایمان, اللہ, امیر, ابرار, اسلام, اسلامی, اشعار, تلاش, حدیث, خواتین, خدا, علی, صحت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
عافیہ پر دہری شہریت کا الزام لگا نے والوں کو عدالت لے کر جاﺅنگی، عصمت صدیقی گلاب خان خبریں 0 04-02-11 04:38 AM
جنوبی وزیرستان: طالبان کمانڈر عصمت اللہ بیٹنی جھڑپ میں مارا گیا گلاب خان خبریں 0 24-12-10 02:58 AM
حضرت فاطمہ الزھراء (رضی اللہ عنہا) کی فضیلت طارق راحیل تاریخ و عبر 6 01-11-08 07:18 AM
پردہ : عفت و عصمت کا تحفظ میاں شاہد گپ شپ 0 13-06-08 11:09 AM
کچھ عصمت چغتائی کے بارے میں چاچا کمال پطرس بخاری 0 16-06-07 12:46 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 02:12 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger