واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > تاریخ و عبر



تاریخ و عبر تاریخ و عبر


مجموعہ کلمات امام علی بن الحسین زین العابدین علیہما السلام۔

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 20-03-09, 06:35 PM   #1
مجموعہ کلمات امام علی بن الحسین زین العابدین علیہما السلام۔
محمدخلیل محمدخلیل آن لائن ہے 20-03-09, 06:35 PM

اللہ تجھ پر اپنی رحمت نازل کرے۔ جان لو کہ تیرے اوپر اللہ کے کئی حقوق ہیں جوتیری ہر اختیاری حرکت، تیرے اختیاری سکون کے لمحات، منزلوں پر تیرے نزول اور تیرے اعضا و جوارح کی اختیاری حرکات کو محیط ہیں نیز ان آلات و وسائل کو بھی شامل ہیں جن کو تم استعمال کرتے ہو۔ ان میں سے کچھ حقوق دیگر حقوق سے بڑے ہیں۔

تیرے اوپر اللہ کا سب سے بڑا حق وہ ہے جواللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے لیے تجھ پر واجب قرار دیا ہے۔ اس کا تعلق اللہ کے اس حق سے ہے جو تمام حقوق کی بنیاد ہے۔

باقی حقوق اسی سے نکلتے ہیں۔ پھر اس نے تیرے مختلف اعضا و جوارح کے بشمول تیرے سر سے لے کر پاؤں تک، اسے تیرے اوپر تیرے لیے واجب قرار دیا۔

پس اس نے تیرے اوپر تیری نظر کے حق، تیرے کان کے حق، تیری زبان کے حق، تیرے ہاتھ کے حق، تیرے پاؤں کے حق، تیرے پیٹ کے حق اور تیری شرمگاہ کے حق کو واجب قرار دیا۔

یہ وہ سات اعضا ہیں جن کے ذریعے افعال و اعمال انجام پاتے ہیں۔ پھر اللہ عز و جل نے تیرے اوپر تیرے افعال کے کچھ حقوق مقرر کیے۔

پس اس نے تیرے اوپر تیری نماز کا ایک حق، تیرے روزے کا ایک حق، تیرے صدقے کا ایک حق، تیری قربانی کا ایک حق اور تیرے افعال و اعمال کا ایک حق مقرر کیا۔

تیرے حقوق کے بعد تیرے اوپر ان لوگوں کے حقوق لازم ٹھہرتے ہیں جن کے حقوق کی ادائیگی تیرے اوپر واجب ہے۔

ان حقوق میں سب سے زیادہ ضروری تیرے اماموں (رہنماؤں) کے حقوق، پھر تیرے ماتحتوں کے حقوق پھر تیرے قرابتداروں کے حقوق ہیں۔

یہ وہ حقوق ہیں جن سے کچھ دیگر حقوق نکلتے ہیں۔

پس تیرے پیشواؤں کے حقوق تین ہیں، ان میں سے تیرے اوپر سب سے ضروری حق تیرے حکمران پیشوا کا حق ہے، پھرتیرے علمی پیشوا (استاد) کا حق ہے پھر تیرے مالک پیشوا کا حق ہے

اور ہر منتظم و مہتمم کو امام (رہنما) کہا جاتاہے۔

پھر تیرے ماتحتوں کے تین حقوق ہیں۔ ان میں تیرے اوپر سب سے ضروری حق تیرے ان ماتحتوں کا ہے جن کے تم حاکم ہو۔

پھر تیرے ان ماتحتوں کا جن کی تعلیم تیرے ذمے ہے۔ کیونکہ جاہل، عالم کا ماتحت شمار ہوتا ہے۔

پھر تیرے ان ماتحتوں کا حق ہے جن کے تم مالک ہو یعنی تیری ازواج اور مملوکوں کا حق۔

اور تیرے رشتہ داروں کے حقوق زیادہ ہیں۔ یہ حقوق قرابت میں نزدیکی کے لحاظ سے زیادہ ہو جاتے ہیں۔

پس تمہارے اوپر ان میں سب سے زیادہ اہم حق تیری ماں کا حق ہے پھر تیرے باپ کا حق ہے، پھر تیرے بھائی کا حق ہے، پھر سلسلہ وار جو زیادہ نزدیک تر یازیادہ حقدار ہو اس کا حق ہے۔

پھر تیرے مالک کا حق ہے جو تمہارا ولی نعمت ہے، پھر اس آزاد شدہ غلام کا حق ہے جس کے ولی نعمت تم ہو، پھر اس کا حق ہے جس نے تیرے ساتھ نیکی کی ہے۔

پھر تیری نماز کے موٴذن کا حق ہے، پھر تیرے پیش امام کا حق ہے، پھر تیرے ہمنشین کا حق ہے، پھر تیرے ہمسایہ کا حق ہے، پھر تیرے ساتھی کا حق ہے، پھر تیرے شریک کار کا حق ہے۔

اس کے بعد تیرے مال کا حق ہے، پھر تیرے مقروض کا حق ہے، پھر تجھے قرض دینے والے کا حق ہے۔

پھر تیرے ساتھ گھل مل جانے والے کا حق ہے، پھر تیرے برخلاف دعویٰ کرنے والے مدعی کا حق ہے۔

پھر تیرے اس مخالف کا حق ہے، جس کے خلاف تم مدعی ہو۔

پھر تجھ سے مشورہ لینے والے کا حق، پھر تجھے مشورہ دینے والے کا حق ہے،

پھر تجھ سے نصیحت طلب کرنے والے کا حق ہے، پھر تجھے نصیحت کرنے والے کا حق ہے،

پھر تم سے بڑے کا حق ہے، پھر تم سے چھوٹے کا حق ہے۔

پھر تجھ سے مانگنے والے کا حق ہے، پھر اس کا حق ہے جس سے تم مانگتے ہو

پھر اس کا حق ہے جس کے قول و فعل سے تمہیں کوئی برائی پہنچے یا جس کے ارادی یا غیر ارادی قول و فعل سے تمہیں کوئی خوشی حاصل ہو،

پھر تمہارے سب اہل مذہب کا حق ہے، پھر ذمیوں کا حق ہے،

پھر وہ حقوق ہیں جو مختلف احوال و اسباب کے حساب سے وجود میں آتے ہیں۔

مبارک ہے اس کے لیے جس کی مدد اللہ نے کی تاکہ اللہ نے اس پر اپنے جو حقوق واجب کئے ہیں وہ انہیں ادا کرے نیز اس کے لیے جسے اللہ نے توفیق دی اور راہ راست کی طرف اس کی رہنمائی کی۔

 
محمدخلیل's Avatar
محمدخلیل
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: جنڈانوالہ کھاریاں پاکستان
عمر: 26
مراسلات: 10,975
شکریہ: 7,287
5,956 مراسلہ میں 15,118 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 152
Reply With Quote
پرانا 20-03-09, 06:36 PM   #2
Senior Member
 
محمدخلیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: جنڈانوالہ کھاریاں پاکستان
عمر: 26
مراسلات: 10,975
کمائي: 48,856
شکریہ: 7,287
5,956 مراسلہ میں 15,118 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدخلیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدخلیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: مجموعہ کلمات امام علی بن الحسین زین العابدین علیہما السلام۔

الف۔ اللہ کا حق

۱۔ حق اللہ

تیرے اوپر اللہ کا سب سے بڑا حق یہ ہے کہ تو اس کی عبادت کرے اور کسی چیز کو اس کا شریک نہ بنائے۔

پس جب تو اخلاص کے ساتھ ایسا کرے تو وہ تیرے لیے اپنے اوپر لازم قرار دے گا کہ وہ تیرے دنیوی اور اخروی امور کی کفایت کرے اور ان دونوں میں تجھے جو کچھ پسند ہو تیرے لیے اس کی حفاظت کرے۔

ب۔ اعضا کے حقوق

۲۔ جان کا حق

تیری جان کا حق یہ ہے کہ تو اسے مکمل طور پر اللہ کی اطاعت میں لگا دے۔

پس تو اپنی زبان کو اس کا حق دے، اپنے کان کو اس کا حق دے، اپنی آنکھ کو اس کا حق دے، اپنے ہاتھ کو اس کا حق دے، اپنے پاؤں کو اس کا حق دے، اپنے پیٹ کو اس کا حق دے اور اپنی شرمگاہ کو اس کے حق سے نوازے۔ اس سلسلے میں ہم اللہ سے مدد چاہتے ہیں۔

۳۔ زبان کا حق

رہا زبان کا حق تو وہ یہ ہے کہ اسے بدزبانی سے محفوظ رکھا جائے اور اسے نیکی کا خوگر بنایا جائے،

بے فائدہ اور غیر ضروری باتوں کو ترک کیا جائے، لوگوں کے ساتھ نیکی کی جائے اور ان کے بارے میں اچھی بات کی جائے،زبان کو ادب سکھایا جائے، جہاں ضرورت نہ ہو اور دین و دنیا کا فائدہ نہ ہو وہاں اسے لگام دی جائے،

اسے ان قلیل الفائدہ زائد باتوں سے محفوظ رکھا جائے جن سے نقصان کا اندیشہ ہو، جن کا فائدہ کم ہو اور ان پر مضبوط عقلی دلیل نہ ہو۔عاقل کی عقل اس کے لیے تب باعث زینت ہے جب وہ اپنی زبان کا صحیح استعمال کرے۔

کوئی قدرت اور طاقت نہیں مگر اللہ کے ساتھ۔

۴۔ کان کا حق

کان کا حق یہ ہے کہ اسے غیبت سننے سے پاک رکھا جائے اور ان چیزوں کو سننے سے محفوظ رکھا جائے جن کو سننا جائز نہیں۔

اسے پاک رکھنے کا طریقہ یہ ہے کہ تو اسے دل تک رسائی کا راستہ قرار نہ دے مگر کسی پسندیدہ زبان کے لیے جو تیرے دل میں کوئی اچھائی پیدا کرے۔ کیونکہ کان بات کو دل تک پہنچانے کا دروازہ ہے۔ یہ مختلف معانی و مفاہیم کو دل تک پہنچاتی ہے، خواہ ان میں اچھائی ہو یا برائی۔

اور نہیں کوئی قدرت اور طاقت مگر اللہ کے ساتھ۔

۵۔ آنکھ کا حق

آنکھ کا حق اسے ان چیزوں سے بچانا ہے جو تیرے لیے حلال نہ ہوں نیز اسے ان جگہوں سے دور رکھنا ہے جہاں عبرت کا سامان نہ ہو، ایسی عبرت جو تیری آنکھ کھول دے یا تجھے کسی علم سے آشنا کرے کیونکہ آنکھ حصول عبرت کا دروازہ ہے۔

۶۔پیروں کا حق

تیری دونوں ٹانگوں کا حق یہ ہے کہ تو ان دونوں کے ذریعے ایسی جگہ مت جائے جو تیرے لیے حلال نہ ہو، کیونکہ ان دونوں کے ذریعے تو صراط پر کھڑا ہو جائے گا۔

پس یہ خیال رکھ کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ دونوں پھسل کر تجھے گرا دیں پھر تو جہنم میں لڑھک جائے۔

۷۔ ہاتھ کا حق

ہاتھ کا حق یہ ہے کہ تو اسے ناجائز چیز کی طرف دراز نہ کرے تاکہ جس چیز کی طرف توہاتھ بڑھائے اس کی وجہ سے تجھے آخرت میں خدا کا عقاب سہنا پڑے اور اس دنیا میں لوگوں کی ملامت سے دوچار ہونا پڑے۔

اللہ نے ہاتھ پر جو کچھ واجب کیا ہے اس سے ہاتھ مت روک،

بلکہ اس ہاتھ کا احترام برقرار رکھ، اس پر حرام بہت سی چیزوں سے اسے روک کر اور (بہتر امور) جو (اگرچہ) اس پر واجب نہ ہوں کی طرف زیادہ سے زیادہ ہاتھ بڑھا کر۔

پس جب ہاتھ پابند ہو جائے تو دنیا میں اس کی توقیر ہو گی اور آخرت میں اسے اللہ کی طرف سے اچھا بدلہ ضرور ملے گا۔

۸۔ پیٹ کا حق

پیٹ کا حق یہ ہے کہ تو اسے حرام کا ظرف قرار نہ دے، خواہ وہ حرام کم ہو یا زیادہ ۔

پیٹ کے معاملے میں حلال امور میں میانہ روی اختیار کر۔ اسے تقویت بدن کی حد سے نکال کر رسوائی اور بے عزتی کی حد تک نہ لے جا کیونکہ وہ شکم پری جو کھانے والے کومست اور مدہوش کر دے، عقل کی کمزوری اور بے علمی کی باعث ہے نیز آدمیت اور غیرت کو ختم کرتی ہے۔

۹۔ شرمگاہ کا حق

تیری شرمگاہ کا حق یہ ہے کہ تو اسے زنا سے بچائے، اپنے اوپر حرام امور سے اسے محفوظ رکھے اور اسے قابو میں رکھنے کے لیے اپنی نگاہ کو حرام امور سے روکے، کیونکہ یہ سب سے بڑی مددگار ہے،

نیز اس کی خواہش کو لگام دے، بھوک اور پیاس کے ذریعے، کثرت سے موت کو یاد کر کے، نفس کو اللہ سے ڈرا کر اور اس (شرمگاہ کے شر) سے خوف دلا کر۔

حفاظت اور مدد اللہ ہی کے ذریعے ہیں

اور نہیں کوئی قدرت اور حرکت مگر اللہ کے ذریعے۔

ج۔ افعال و اعمال کے حقوق

۱۰۔ نماز کا حق

نماز کا حق یہ ہے کہ تو اسے اللہ کی بارگاہ میں حاضری اور روانگی جانے اور تویہ سمجھے کہ نماز کے وقت تو اللہ کے سامنے کھڑاہے۔

پس جب تم یہ سمجھو گے تو تم نماز میں اس کے سامنے ایک ایسے ذلیل ومتواضع بندے کی طرح کھڑے ہونے کے قابل ہو جاؤ گے جس کا دل اللہ کی طرف ہو، جو اس سے ڈرتا اور خوف کھاتا ہو، جس کی امید اللہ سے وابستہ ہو، اس کے آگے خود کو فقیر و مسکین سمجھتا ہو، اس کے آگے عاجزی سے دعا کرتا ہو اور جس کے آگے کھڑا ہے، اس کی تعظیم کرتا ہو، سکون کے ساتھ، سر جھکا کر، آنکھیں نیچی کر کے، پہلوؤں کو ڈھیلا چھوڑ کر، انکساری سے اور اللہ کے ساتھ اچھے انداز میں باطنی راز و نیاز کے ساتھ۔

اور طلب کرو اللہ سے کہ وہ تیری گردن کو آزاد کر دے جسے تیری خطاؤں نے ڈھانپ رکھا ہے اور تیرے گناہوں نے اسے ہلاک کر دیا ہے۔

اور نہیں کوئی قوت مگر اللہ کی بدولت۔
محمدخلیل آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 20-03-09, 06:36 PM   #3
Senior Member
 
محمدخلیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: جنڈانوالہ کھاریاں پاکستان
عمر: 26
مراسلات: 10,975
کمائي: 48,856
شکریہ: 7,287
5,956 مراسلہ میں 15,118 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدخلیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدخلیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: مجموعہ کلمات امام علی بن الحسین زین العابدین علیہما السلام۔

۔ روزے کا حق

روزے کا حق یہ ہے کہ تم جان لے کہ یہ ایک پردہ ہے جسے اللہ نے تیری زبان، تیرے کان، تیری آنکھ، تیری شرمگاہ اور تیرے پیٹ کے سامنے لٹکا دیا ہے تاکہ وہ اس پردے کے ذریعے تجھے آگ سے بچائے۔

پس اگر تو روزہ ترک کرے گا تو گویا تم نے اللہ کے اس پردے کو چاک کیا۔ حدیث میں یوں آیا ہے:

روزہ جہنم سے بچنے کی ڈھال ہے۔

پس اگر تیری آنکھیں اپنے حجاب کی اوٹ میں پرسکون رہیں تو امید ہے کہ تو پردے کے اندر محفوظ رہے گا۔

لیکن اگرتو انہیں پردے کے اندر مضطرب و بے چین رکھے گا کہ وہ پردے کے کناروں کو اوپر اٹھاتی رہیں تو وہ ناشائستہ چیزوں کو دیکھیں گی، شہوت آمیز نگاہ کے ساتھ اور خوف خدا کی حدوں سے خارج قوت کے ساتھ ۔اس صورت میں خطرہ ہے کہ تو پردے کو چاک کر کے اس سے خارج ہو جائے۔

۱۲۔ حج کا حق

حج کا حق یہ ہے کہ تم اسے اللہ کی بارگاہ میں حاضری اور اپنے گناہوں سے بھاگ کر اس کے پاس پناہ ڈھونڈنے کی کوشش سمجھو۔

اور یہ جان لو کہ اس کے باعث تمہاری توبہ قبول ہو گی اور وہ فرض ادا ہو گا جو اللہ نے تم پر واجب کیا ہے۔

۱۳۔ صدقے کا حق

صدقے کا حق یہ ہے کہ تو جان لے کہ وہ اللہ عز و جل کے پاس تیرا محفوظ ذخیرہ ہے اور وہ امانت ہے جس پر کسی کو گواہ ٹھہرانے کی ضرورت نہیں۔

جب تجھے اس بات کا یقین ہو جائے تو تیرا عتماد اس امانت پر جسے تو نے چھپا کر دیا ہے زیادہ ہو گا، بہ نسبت اس امانت کے جسے تو نے اعلانیہ دیا ہے۔

اور (اس کا ایک حق) یہ ہے کہ تجھے اس بات کا یقین ہو جائے کہ صدقہ دنیا میں تجھ سے بلاؤں اور بیماریوں کو نیز آخرت میں تجھ سے آگ کو دور رکھتا ہے۔

پھر کسی پر اس کا حسان نہ جتا، کیونکہ یہ تیرے لیے ہے۔

اگرتو اس کا احسان جتائے گا توتو اس بات سے محفوظ نہیں کہ اس منت جتانے کی وجہ سے خود تیری تحقیر ہو جائے ،

کیونکہ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ تونے صدقہ کے ذریعے اپنی بھلائی نہیں چاہی۔

اگر تو اس کے ذریعے اپنی بھلائی کا طلبگار ہوتا تو تو کسی پر اس کا احسان نہ جتاتا۔

۱۴۔ قربانی کا حق

قربانی کا حق یہ ہے کہ تو اس کے ذریعے اللہ کے ساتھ اپنا ارادہ خالص کرلے ، سچے دل سے اس کی رحمت و قبولیت کے طالب ہو جائے اوراللہ کے علاوہ کسی کے لیے دکھاوے کی خواہش نہ کرے۔

جب تیری یہ حالت ہو جائے تو پھر نہ تجھے ظاہربرداری کی زحمت اٹھانا ہو گی نہ تصنع اور دکھاوے کی ضرورت پیش آئے گی اورتیرا مقصود صرف اللہ ہو گا۔

جان لو کہ اللہ تک رسائی کا ذریعہ آسان ہے، مشکل نہیں۔ جس طرح وہ اپنی مخلوق کے لیے آسانی چاہتا ہے، صعوبت نہیں، اسی طرح فروتنی و عاجزی چودھراہٹ سے بہتر ہے، کیونکہ چودھراہٹ میں مشقت اور زحمت ہے۔

اس کے برعکس عاجزی و فقر کا راستہ اختیار کرنے میں کوئی زحمت نہیں اور نہ کچھ خرچ ہوتا ہے کیونکہ یہ دونوں فطری ہیں اور انسان کی طبیعت کا حصہ ہیں۔

نہیں کوئی طاقت مگر اللہ کی بدولت۔

د۔ پیشواؤں کے حقوق

۱۵۔ حکمران کا حق

حکمران کا حق یہ ہے کہ تویہ جان لے کہ تجھے اس کے لیے آزمائش قرار دیا گیا ہے

اور یہ کہ اللہ نے اسے اقتدار دے کر تیرے ذریعے آزمایا ہے

اور یہ کہ تو اخلاص کے ساتھ اس کو نصیحت کروے،

اور یہ کہ تو اس کے ساتھ جھگڑا نہ کرے کیونکہ اسے تیرے اوپر تسلط حاصل ہے،

پس یہ تیری اور اس کی ہلاکت کا سبب بن سکتا ہے۔

تو فروتنی اور خاکساری کا اظہار کر تاکہ وہ تجھ سے خوش ہو اور یہ رویہ اس (کے شر) کو تجھ سے باز رکھے اور تیرے دین کو نقصان نہ پہنچائے۔

پھر تو اس امرمیں اس کے خلاف اللہ سے مدد طلب کر۔

تو اس کے ساتھ مخاصمت اور دشمنی نہ کر، کیونکہ اگر تو ایسا کرے گا تو یہ اس کے اور تیرے لئے استخفاف کا باعث ہو گا۔

اس طرح تو اپنی جان کو سختی میں اور اسے اپنے ذریعے ہلاکت میں ڈالے گا۔ یہ خود تیرے خلاف تیری طرف سے اس کی مدد ہو گی اور (اس کے ذریعے) تجھے پہنچنے والی برائی میں تو اس کا شریک ہوجائے گا۔

کوئی طاقت نہیں مگر اللہ کی بدولت۔

۱۶۔ معلم کا حق

تیرے معلم کا حق یہ ہے کہ اس کی تعظیم کی جائے، اس کی محفل کا احترام ملحوظ رکھاجائے اور اس کی بات اچھی طرح سنی جائے

اور یہ کہ تو اس کے پاس اپنی آواز بلند نہ کرے نیز جب کوئی شخص استاد سے کوئی سوال کرے جس کا جواب استاد نے دینا ہے تو اس سائل کو تو جواب نہ دے۔

اس کے پاس کسی کی غیبت نہ کر۔ جب تیرے پاس اس کی برائی بیان کی جائے تو تو اس کی صفائی پیش کر۔

تم اس کے عیوب کو چھپاؤ، اس کی اچھائیوں کو ظاہر کرو، اس کے دشمن سے میل جول مت رکھو اور اس کے دوست سے عداوت مت رکھو۔

جب تم ایسا کرو گے تو اللہ کے فرشتے تمہارے حق میں گواہی دیں گے کہ تم نے اللہ عز و جل کی خاطر اس کا ارادہ کیا ہے اور اس سے علم حاصل کیا ہے نہ کہ لوگوں کی خاطر۔

ِِِِِِ۱۷۔ مالک کا حق

رہا تیرے مالک کا حق تو وہ تیرے حکمران سے مشابہ ہے مگر یہ کہ مالک کو وہ اختیار حاصل ہے جو حکمران کو حاصل نہیں۔

ہر چھوٹے بڑے معاملے میں تجھ پر اس کی اطاعت لازم ہے مگر یہ کہ وہ تجھے اللہ کے واجب حق کے دائرے سے خارج کرے،

یعنی وہ ایک طرف سے تیرے حق اور دوسری طرف سے اللہ کے حق یا بندوں کے حقوق کے درمیان حائل ہو جائے۔

پس جب تو پہلے اسے (اللہ کے واجب حق کو) ادا کرلے تو اس کے بعد اس (مالک) کے حق کی طرف پلٹ اور اسے انجام دے۔

کوئی قوت نہیں مگر اللہ کی بدولت سے۔

ھ۔ ماتحتوں کے حقوق

۱۸۔ ماتحتوں کا حق

تمہارے ان ماتحتوں (جن کے تم حاکم ہو) کا حق یہ ہے کہ تم یہ جان لو کہ وہ اپنی کمزوری اورتمہاری قوت کے باعث تمہارے ماتحت بنے ہیں۔

پس یہ واجب ہے کہ تم ان کے درمیان عدل سے کام لو اور ان کے لیے رحمدل باپ کی طرح بن جاؤ۔

ان کی غیر معقول باتوں سے درگزر کرو، ان کو سزا دینے میں جلدی نہ کرو

اور اللہ نے تمہیں ان پر جوغلبہ عطا کیا ہے اس پر اللہ کا شکر ادا کرو۔

۱۹۔ شاگردوں کا حق

تمہارے شاگردوں کا حق یہ ہے کہ تم جان لو کہ اللہ نے تمہیں جو علم عطا کیا ہے اس میں اللہ نے تمہیں ان کا خزانچی بنایا ہے اور تمہیں خزانہ حکمت کی ذمہ داری سونپی ہے۔

پس اگر تم نے اس علمی ذمہ داری کو جو اللہ نے تمہیں سونپی ہے اچھی طرح سے نبھایا اورتم نے اس کے ذریعے ان کے لیے ایک ایسے خرانچی کا کردار ادا کیا جو اپنے آقا کے لیے اس کے غلاموں کے معاملے میں شفیق، خیر خواہ، صابر اور قانع ہو اور جب کسی محتاج کو دیکھے تو اپنے پاس موجود اموال میں سے اسے دے دیتا ہو،

تو پھر تم راہ راست کے راہی قرار پاؤ گے نیز تم اس کے متمنی اور معتقد ہو جاؤ گے۔

اگر ایسا نہ ہوا تو تم اس کے خائن اور اس کی مخلوق پر ظلم کرنے والے بن جاؤ گے۔

(پھر اللہ تعالیٰ پر لازم ہو گا کہ وہ تمہارا علم اور اس کی عمدگی چھین لے اور دلوں سے تمہارے مرتبہ و مقام کو ختم کر دے۔)

۲۰۔ بیوی کا حق

بیوی کا حق یہ ہے کہ تم یہ جان لو کہ اللہ عز و جل نے اسے تمہارے لیے رحمت و سکون کا باعث قرار دیاہے

اور یہ جان لو کہ یہ تمہارے حق میں اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت ہے تاکہ تم اس کا احترام برقرار رکھو اور اس سے نرمی و مہربانی برتو اگرچہ اس کے اوپر تمہارا حق زیادہ اہم اور واجب ہے۔

اسے تمہارے اوپر یہ حق حاصل ہے کہ تم اس پر رحم کرو، کیونکہ وہ تمہارے ہاں اسیر ہے

اور یہ کہ تم اسے خوراک اور لباس فراہم کرو اور جب اس سے کوئی نادانی ہو جائے تو اسے معاف کر دو۔
محمدخلیل آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 20-03-09, 06:37 PM   #4
Senior Member
 
محمدخلیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: جنڈانوالہ کھاریاں پاکستان
عمر: 26
مراسلات: 10,975
کمائي: 48,856
شکریہ: 7,287
5,956 مراسلہ میں 15,118 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدخلیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدخلیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: مجموعہ کلمات امام علی بن الحسین زین العابدین علیہما السلام۔

غلام کا حق

تمہارے غلام کا حق یہ ہے کہ تم جان لو کہ اسے بھی تمہارے رب نے بنایا ہے،

وہ تمہارے ہی باپ اور ماں(آدم و حوا) کا بیٹا ہے، وہ تمہارا ہی گوشت اور خون ہے،

تم اس کے مالک اس لیے نہیں ہوئے کہ اسے خدا نے نہیں بلکہ تم نے بنایا ہو،

تم نے اس کے اعضا و جوارح میں سے کسی ایک کو بھی نہیں بنایا اور نہ تم نے اس کے لیے کسی قسم کے رزق کا اہتمام کیا

بلکہ اللہ عزوجل نے تمہارے لیے اس کا بندوبست فرمایا پھر اسے تمہارے اختیار میں دے دیا۔ تمہیں اس کا امین بنایااور اسے تمہاری امانت میں دے دیا تاکہ وہ تمہارے ان اموال کی حفاظت کرے جنہیں تم نے اس کے حوالے کیا ہو۔

پس اس کے ساتھ نیکی کرو، جس طرح اللہ نے تمہارے ساتھ نیکی کی ہے۔

اگر تمہیں وہ ناپسند ہو تو اسے تبدیل کر دو اور اللہ عز و جل کی مخلوق کو سزا و تکلیف نہ دو۔

و۔ رشتہ داروں کے حقوق

۲۲۔ ماں کا حق

تیری ماں کا حق یہ ہے کہ تو یہ جان لے کہ اس نے تجھے (اپنے بطن میں) اٹھایا جس طرح کوئی کسی کو نہیں اٹھاتا اور اس نے تجھے اپنے دل کے ثمر سے وہ غذا کھلائی جو کوئی کسی کو نہیں کھلاتا۔

اس نے اپنے کان، اپنی آنکھ، اپنے ہاتھ، اپنے پاؤں، اپنے بال، اپنی کھال اور اپنے تمام اعضا و جوارح کے ذریعے ہنسی خوشی تیری حفاظت کی۔

اس نے اس سلسلے میں پیش آنے والی مشکلات، تکالیف، سنگینیوں اور غموں کو برداشت کیا، یہاں تک کہ دست قدرت نے تجھے اس سے جدا کر دیا اور تجھے (اس کے پیٹ سے) نکال کر زمین پر پہنچا دیا۔

پس وہ اس بات پر خوش رہی کہ تو سیر رہے اور وہ بھوکی، تجھے لباس پہنائے، لیکن خودبے لباس رہے، تجھے سیراب کرے اور خود پیاسی رہے، تجھے سایہ فراہم کرے لیکن خود دھوپ کھائے، خود سختی برداشت کرے تاکہ تجھے آسودہ حال رکھے اورخود بیدار رہے تاکہ تجھے نیند کی لذت فراہم کرے۔

اس کا پیٹ تیری رہائش گاہ تھی، اس کی گود تیری پناہ گاہ تھی، اس کا پستان تیرے لیے (مشروب کا) مشکیزہ بن گیااور وہ خود تیرے لیے حفاظت کا ذریعہ بنی۔

وہ تیری خاطر اور تیرے آگے دنیا بھر کی سردی گرمی برداشت کرتی رہی۔

پس تجھے چاہیے کہ اسی حساب سے اس کی قدردانی کرے اور یہ تیرے بس میں نہیں مگر اللہ کی مدد اور اس کی توفیق سے۔

۲۳۔ باپ کا حق

تیرے باپ کا حق یہ ہے کہ تو جان لے کہ اگر وہ نہ ہوتا تو تو بھی نہ ہوتا۔

پس جب بھی تو اپنے اندر کوئی ایسی چیز دیکھے جو تجھے پسند ہو تو جان لے کہ اس معاملے میں تیرا ولی نعمت تیرا باپ ہے۔

پس اللہ کی تعریف کر اور اس نعمت کے حساب سے اس کا شکر ادا کر۔

اورنہیں کوئی قوت مگر اللہ کی بدولت۔

۲۴۔ بیٹے کا حق

تیرے بیٹے کا حق یہ ہے کہ تو جان لے کہ وہ تجھ سے ہے اور اس دنیا میں وہ اپنی (تمامتر) اچھائیوں اور برائیوں کے ساتھ تجھ سے منسوب ہے

اوریہ کہ تو اس کو اچھا ادب سکھانے اور اس کے رب عز و جل کی پہچان کرانے اور اللہ کی اطاعت کے معاملے میں اس کی مدد کرنے کا ذمہ دار اور مسئول ہے۔

پس اس کے معاملے میں اس شخص کی طرح عمل کر جو یہ جانتا ہو کہ اسے بیٹے کے ساتھ نیکی کا اچھا بدلہ ملے گا اور اس کے ساتھ برائی کرنے پر سزا ملے گی۔

۲۵۔ بھائی کا حق

تیرے بھائی کا حق یہ ہے کہ تو جان لے کہ وہ تیرا ہاتھ ہے جسے تو پھیلاتا ہے، وہ تیری پشت ہے جس کا تو سہارا لیتا ہے،

وہ تیری عزت ہے جس پر تو بھروسہ کرتا ہے اور وہ تیری قوت ہے جس کے سہارے تو حملہ کرتا ہے۔

پس اللہ کی نافرمانی میں اس سے مدد نہ لے اور اسے خلق خدا پر ظلم کا ذریعہ نہ بنا۔

اس کے نفس (امارہ) کے مقابلے میں اس کی مدد کرنے سے، اس کے دشمن کے مقابلے میں اس کی نصرت کرنے سے، اس کے اور اس کے شیاطین کے درمیان رکاوٹ بننے سے، اپنی خیرخواہی سے اسے بہرہ مند کرنے سے، اور اللہ کی خاطر اس کی طرف توجہ کرنے سے پہلو تہی نہ کر۔

پس اگر وہ اپنے رب کی فرمانبرداری کرے اور اس کے حکم کی خوب تعمیل کرے تو ٹھیک وگرنہ تیرے نزدیک اس کے مقابلے میں اللہ کی اہمیت اور تعظیم زیادہ ہونی چاہیے۔

ز۔ حقوق الناس

۲۶۔ ولی نعمت کا حق

اور اب تیرے ولی نعمت کا حق یہ ہے کہ تجھے اس بات کا احساس ہو کہ اس نے تجھ پر اپنا مال خرچ کیاہے اور تجھے غلامی کی ذلت و وحشت سے نجات دے کر آزادی کی عزت اور سکون سے ہمکنار کیا ہے۔

پس اس نے تجھے ملکیت کی قید سے نجات دی، غلامی کی زنجیروں سے آزاد کیا، عزت کی خوشبوسے نوازا اور جبر کے زندان سے رہا کیا ہے۔

اس نے تجھ سے سختی کو دور کیا ہے، تیرے لیے انصاف کی زبان کشادہ کی ہے، پوری دنیا کو تیرے لیے مباح ٹھہرایا ہے،

تجھے اپنی جان کامالک بنایا ہے، تجھے قید سے آزاد کیاہے، تجھے تیرے رب کی عبادت کے لیے فرصت و فراغت فراہم کی ہے اور اس وجہ سے مالی نقصان برداشت کیا ہے۔

پس تجھے جاننا چاہیے کہ وہ تیری زندگی میں اور تیری زندگی کے بعد تیرے خونی رشتہ داروں کے بعد تمام لوگوں میں سب سے زیادہ تجھ پر حق رکھتا ہے۔

وہ تمام لوگوں میں سب سے زیادہ تیری نصرت و مدد اور تیرے تعاون کا حقدار ہے اور اللہ کے معاملے میں تیری مساعدت کا سزاوار ہے۔

پس جب وہ تیرا محتاج ہو تو اس پر اپنے آپ کو ترجیح نہ دینا۔

۲۷۔ آزادکردہ غلام کا

حق جس کا تو ولی نعمت ہے

رہا تیرے اس آزاد کردہ مملوک کا حق جس کا توولی نعمت ہے تو یہ جان لے کہ اللہ نے تجھے اس کا محافظ، نگہبان، مددگار اور جائے پناہ بنایا ہے، جب کہ اسے تیرے لیے ایک ذریعہ اور وسیلہ قرار دیا ہے تیرے اور اپنے درمیان۔

پس سزاوار ہے کہ (اس کے ساتھ تیری نیکیوں کی وجہ سے) وہ تجھے آگ سے بچانے کا باعث بن جائے۔ پس یہ اس کی طرف سے آخرت میں ایک جزائے خیر ہو گی۔

علاوہ ازیں اگر اس کا کوئی رشتہ دار نہ ہو تووہ اسی دنیامیں اپنی میراث تیرے حوالے کرے گا، اس بات کی جزا کے طور پرکہ تو نے اس پر اپنا مال خرچ کیا۔

جب تو اس پر اپنا مال خرچ کر چکے تو اس کے بعد اس کا حق ادا ہو جائے گا۔

اگرتو اس کے حق کی پاسبانی نہ کرے تو خطرہ ہے کہ تیرے لیے اس کی میراث مبارک ثابت نہ ہو۔

نہیں کوئی قوت مگر اللہ کی مشیت سے۔

۲۸۔ نیکی کرنے والے کا حق

تمہارے ساتھ نیکی کرنے والے کا تمہارے اوپر یہ حق ہے کہ تم اس کی قدردانی کرو، اس کی اچھائیوں کا ذکر کرو، اس کے بارے میں اچھی بات پھیلاؤ،

نیز اپنے اور اللہ (سبحانہ) کے درمیان اس کے لیے خلوص سے دعا کرو، کیونکہ جب تم ایسا کرو گے تو یہ تمہاری طرف سے پوشیدہ اور اعلانیہ طور پر اس کی قدردانی ہو گی۔

پھر اگر کسی دن اس کی نیکی کا بدلہ دینا تمہارے لیے ممکن ہوا تو اسے بدلہ دو، لیکن اگر ممکن نہ ہوا تو تم اس (کا بدلہ چکانے) کے منتظر رہو اور اپنے نفس کو اس کے لیے آمادہ رکھو ۔

۲۹۔موٴذن کا حق

موٴذن کا حق یہ ہے کہ تم جان لو کہ وہ تمہیں اللہ عز و جل کی یاد دلاتا ہے اور تمہیں اپنے حصہ و نصیب کی طرف بلاتا ہے اور تیرے اوپر خدا کی طرف سے جو فرض ہے اس کی ادائیگی میں وہ تمہارا مددگار ہے۔

پس اس بات پر اس کی قدر دانی کرو جس طرح تم اس شخص کی قدر دانی کرتے ہو جو تمہارے ساتھ نیکی کرے۔

۳۰۔پیش امام کا حق

تمہاری نماز کے امام کا حق یہ ہے کہ تم یہ جان لو کہ اس نے تمہارے اور تمہارے رب عز و جل کے درمیان رابطے کی ذمہ داری سنبھال رکھی ہے۔

وہ تمہای جگہ بات(قرائت) کرتا ہے لیکن تم اس کی جگہ بات نہیں کرتے، وہ تمہارے لیے دعا کرتا ہے لیکن تم اس کے لیے دعا نہیں کرتے، وہ(تمہارے لیے) طلب کرتا ہے (لیکن تم اس کے لیے طلب نہیں کرتے) وہ اللہ کے آگے (نماز میں) کھڑا ہونے کے خوف سے تمہیں بچاتا ہے۔

پس اگر اس کی نماز میں کوئی کمی رہ جائے تو اس کا ذمہ دار وہ ہے تم نہیں ہو، لیکن اگر درست ہو تو (ثواب میں) تم اس کے شریک ہو اور اسے تم پر کوئی برتری حاصل نہیں۔

پس اس نے اپنے ذریعے تمہاری حفاظت کی اور اپنی نماز کے ذریعے تمہاری نماز کی حفاظت کی۔ پس تمہیں چاہیے کہ اسی حساب سے اس کی قدر دانی کرو۔
محمدخلیل آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 20-03-09, 06:37 PM   #5
Senior Member
 
محمدخلیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: جنڈانوالہ کھاریاں پاکستان
عمر: 26
مراسلات: 10,975
کمائي: 48,856
شکریہ: 7,287
5,956 مراسلہ میں 15,118 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدخلیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدخلیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: مجموعہ کلمات امام علی بن الحسین زین العابدین علیہما السلام۔

ہمنشین کا حق

تیرے ہمنشین کا یہ حق ہے کہ تو اس کے ساتھ نرمی برتے، گفتگو میں اس کے ساتھ انصاف کرے اور اس کی اجازت کے بغیر اپنی نشست سے نہ اٹھے۔

البتہ تو جس کے پاس بیٹھے وہ تیری اجازت کے بغیر اٹھ کر جا سکتا ہے۔

تو اس کی لغزشوں کو بھلا دے اور اس کی بھلائیوں کو یاد رکھ۔ تو اسے اچھی باتوں کے علاوہ کچھ نہ سنا۔

۳۲۔ہمسائے کا حق

تیرے ہمسائے کا حق یہ ہے کہ تو اس کی غیر موجودگی میں اس کی حفاظت کرے، اس کی موجودگی میں اس کی تکریم کرے، جب اس پر ظلم ہو تو اس کی مدد کرے نیز اس کی پوشیدہ باتوں اور عیوب کے پیچھے نہ پڑے۔

اگرتجھے اس کی کسی برائی کا علم ہو تو اس کی پردہ پوشی کر۔

اگرتجھے پتہ چلے کہ وہ تیری نصیحت قبول کرے گا تو اپنے اور اس کے مابین اسے نصیحت کر۔

اسے مشکلات کے حوالے نہ کر، اس کی خطاؤں سے درگزر کر، اس کے ساتھ احترام آمیز میل جول رکھ۔

جب وہ تیرے ساتھ کوئی احمقانہ سلوک کرے تو اس وقت صبر سے دریغ نہ کر ۔ اس کے ساتھ صلح سے اجتناب نہ کر اور لوگوں کی گالی گلوچ کو اس سے دفع کر۔

اس کی خیر خواہی کا دم بھرنے والے (دھوکہ بازوں) کی چال کو خاک میں ملا دے۔

اور نہیں کوئی قدرت اور طاقت مگر اللہ کی مشیت سے۔

۳۳۔ ساتھی کا حق

ساتھی کا حق یہ ہے کہ تم لطف و مہربانی اور انصاف کے ہمراہ اس کے ساتھ رہو اور اس کی تکریم کرو، جس طرح وہ تمہاری تکریم کرتا ہے۔

اسے کرم کرنے میں سبقت کرنے نہ دو اور اگر وہ سبقت کرے تو تم اس کا بدلہ دو۔

تم اسے اس طرح چاہو جس طرح وہ تمہیں چاہتا ہے۔ وہ جس گناہ کا ارادہ کرے تم اسے اس سے روکو۔

اس کے لیے باعث رحمت بنو، باعث عذاب نہ بنو۔

نہیں کوئی قوت مگر اللہ کی مشیت سے۔

۳۴۔ شریک کا حق

شریک کا حق یہ ہے:

اگر وہ غائب ہو تو تم اس (کے امور) کی کفایت کرو ۔

اگر وہ حاضر ہو تو تم اس کا خیال رکھو۔

اس کے فیصلے کے برخلاف کوئی فیصلہ نہ کرو۔

اس کا نقطہ نظر معلوم کیے بغیر اپنی رائے سے کوئی کام نہ کرو۔

اس کے مال کی حفاظت کرو

اور اس کے چھوٹے بڑے تمام امور میں اس سے خیانت نہ کرو۔ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا دست شفقت اس وقت تک دونوں شریکوں کے اوپر ہوتا ہے جب تک وہ ایک دوسرے سے خیانت نہ کریں۔

اور کوئی قوت نہیں سوائے اللہ کی طاقت کے

۳۵۔ مال کا حق

تیرے مال کا یہ حق ہے کہ:

تو اسے صرف حلال طریقے سے حاصل کرے،

صرف درست مصارف میں خرچ کرے،

اس کے صحیح موارد سے اس کو ادھر ادھرنہ کرے،

اسے اس کے اصل سے دور نہ کرے،

اورجب وہ اللہ کی طرف سے ہو تو اسے صرف اسی کی طرف لوٹا دے اور اللہ ہی کی طرف وسیلہ قرار دے۔

مال کے معاملے میں اس شخص کو اپنے اوپر ترجیح نہ دے جو تیری تعریف (قدرشناسی) نہیں کرتا۔

پس اس کے ذریعے اطاعت الہٰی کی کوشش کر۔

مال میں کنجوسی نہ کر، وگرنہ بعد میں نقصان کے ساتھ ساتھ افسوس اور ندامت کا سامنا ہو گا۔

نہیں کوئی قوت مگر اللہ کے ساتھ۔

۳۶۔ قرض خواہوں کا حق

تمہارے قرض خواہ کا حق یہ ہے:

اگر تمہاری مالی حالت ٹھیک ہو تو اسے (اس کا قرض) واپس کرو، اسے محروم نہ لوٹاؤ اور ٹال مٹول نہ کرو، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے:

مالدار کا (قرض کی ادائیگی میں) ٹال مٹول سے کام لینا ظلم ہے

لیکن اگر تم تنگدست ہو تو اسے اچھی باتوں کے ساتھ راضی کرو اور اچھے انداز میں اس کی طرف راغب ہو جاؤ اور اس سے اچھے انداز میں جان چھڑاؤ۔ اسے مالی نقصان کے ساتھ برے سلوک سے بھی دوچار نہ کرو، کیونکہ یہ ایک پست عمل ہے۔

نہیں کوئی قوت مگر اللہ کی مشیت سے۔

۳۷۔ میل جول رکھنے والے کا حق

میل جول رکھنے والے کا حق یہ ہے :

تم اس کے ساتھ دھوکہ، فریب اور مکر سے کام نہ لو، اس کے معاملے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو،

اسے نہ جھٹلاؤ، اسے غافل قرار مت دو اور اس دشمن کی طرح اس کی عیب جوئی نہ کرو جو اپنے ساتھی پر رحم نہیں کرتا۔

اگر اسے تمہارے اوپر اطمینان اور بھروسہ ہو تو اس کے حق میں بھرپور زحمت اٹھاؤ اور تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ بھروسہ کرنے والے کو دھوکہ دینا حرام ہے۔

۳۸۔ مدعی کا حق

تیرے خلاف دعویٰ کرنے والے مخالف فریق کا حق یہ ہے کہ اگر تیرے خلاف اس کا دعویٰ درست ہے تو تو خود اپنے خلاف اس کے حق میں شہادت دے۔

اس پر ظلم نہ کر اور اسے اس کا پورا حق دے۔ لیکن اگر اس کا دعویٰ باطل ہو تو اس کے ساتھ نرمی کر اور اس کے معاملے میں (نرمی کے علاوہ کوئی رویہ اختیار) نہ کر۔

اور نہیں کوئی قوت مگر اللہ کی مشیت سے۔

۳۹۔ مدعا علیہ کا حق

رہا تیرے مدعی علیہ کا حق تو وہ یہ ہے کہ اگر تیرا دعویٰ برحق ہو تو اچھے طریقے سے اس کے ساتھ بحث کر اور اس کے حق کا انکار نہ کر۔

لیکن اگر تیرا دعویٰ غلط ہو تو تو اللہ سے ڈر، اس کے حضور توبہ کر اور دعوے سے دستبردار ہو جا کیونکہ دعویٰ مدعا علیہ کی سماعت پر گراں گزرتا ہے

تو اپنی دلیل نرمی سے پیش کر، اسے مہلت دینے میں ملائمت سے کام لے، اپنا بیان واضح انداز میں بیان کر، لطف و مہربانی سے کام لے اور اس کے ساتھ قیل و قال اور جھگڑا کر کے اپنی دلیل سے اعراض نہ کر، وگرنہ تیری دلیل ضائع ہو گی اورتجھے اس سے حاصل کچھ نہ ہو گا۔

۴۰۔ مشورہ لینے والے کا حق

رائے لینے والے کا حق یہ ہے کہ اگر تیرے پاس اس کے لیے کوئی مفید رائے ہو تواسے یہ سمجھتے ہوئے اس بات کا مشورہ دے کہ اگر تو اس کی جگہ ہوتا تو اس بات پر عمل کرتا۔

اس بارے میں تجھے نرمی اور مہربانی کا مظاہرہ کرنا چاہیے، کیونکہ نرمی اجنبیت کو محبت میں بدلتی ہیجبکہ سختی انس و محبت کو اجنبیت میں تبدیل کرتی ہے۔

لیکن اگر تیرے ذہن میں اس کے لیے کوئی مفید مشورہ نہ ہو، مگر تجھے کسی اور کا پتہ ہو جس کی رائے پر تجھے اطمینان ہو اور توخود اپنے لیے اس (کی رائے) سے راضی ہو تو اس کی طرف اس (رائے لینے والے) کی رہنمائی کر۔

اس صورت میں نہ تو نے اس کے ساتھ بھلائی میں کوتاہی کی اور نہ ہی اس کی نصیحت میں بخل سے کام لیا۔

اور نہیں کوئی قوت مگر اللہ کی مشیت سے
محمدخلیل آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 20-03-09, 06:38 PM   #6
Senior Member
 
محمدخلیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: جنڈانوالہ کھاریاں پاکستان
عمر: 26
مراسلات: 10,975
کمائي: 48,856
شکریہ: 7,287
5,956 مراسلہ میں 15,118 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدخلیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدخلیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: مجموعہ کلمات امام علی بن الحسین زین العابدین علیہما السلام۔

مشورہ دینے والے کا حق

تجھے مشورہ دینے والے کا حق یہ ہے کہ جب وہ تجھے مشورہ دے اور تجھے اس کی رائے راس نہ آئے تو اسے الزام نہ دے، کیونکہ آراء و نظریات میں لوگ مختلف انداز سے سوچتے ہیں۔ پس جب تجھے اس کی رائے کے بارے میں بدگمانی ہو تو اپنی مرضی کے مطابق عمل کر۔

اگروہ تیری نظر میں مشورے کا اہل ہو تو (مشورہ لینے کے بعد) اسے الزام نہ دینا۔

اگر تجھے اس کی رائے درست اور اس کا مشورہ صائب نظر آئے تو اس کا شکریہ ادا کرنے سے پہلوتہی نہ کر۔

اگر وہ تجھے راس آئے تو اللہ کی حمد بجا لا اور اسے اپنے بھائی سے شکریے کے ساتھ قبول کر اور اسے اسی قسم کا بدلہ دینے کا ارادہ رکھ، اگر وہ تیری مدد طلب کرے۔

اور نہیں کوئی قوت مگر اللہ کے سہارے سے

۴۲۔ نصیحت خواہ کا حق

نصیحت طلب کرنے والے کا حق یہ ہے کہ تم اسے نصیحت کرو، اس کے ساتھ مہربانی اور شفقت کا سلوک کرو اوراس کے ساتھ اس کی عقل کی گنجائش کے مطابق بات کرو، کیونکہ ہر عقل کے لیے کلام کا ایک خاص درجہ ہوتا ہے، جسے وہ پہچانتا ہے یا اس سے اجتناب کرتا ہے۔

۴۳۔نصیحت کرنے والے کا حق

نصیحت کرنے والے کا حق یہ ہے کہ تو اس کے سامنے فروتنی اختیار کرے اور اس کی بات کان لگا کر سنے۔

پس اگر اس کا مشورہ صائب ہو تو تو اللہ عز و جل کی حمد کر،

لیکن اگر موافق نہ آئے تو اس کے ساتھ مہربانی کر اور اس پر الزام نہ لگا اور یہ جان لے کہ اس سے غلطی ہو گئی ہے۔

تو اس سے موٴاخذہ نہ کر، مگر یہ کہ وہ الزام کا مستحق ہو تو اس کے معاملے میں کسی قسم کی ہرگز کوئی پرواہ نہ کر۔

اور نہیں کوئی قوت مگر اللہ کی مشیت سے

۴۴۔ بڑوں کا حق

بڑے کا حق یہ ہے :

تم اس کی عمر کے پیش نظر اس کی تکریم کرو،

اسلام میں تم پر اس کی سبقت کے پیش نظر اس کی تعظیم کرو،

جھگڑے کی صورت میں اس کا مقابلہ نہ کرو،

راستہ چلتے ہوئے اور اس سے آگے نہ بڑھو ،

اس پر سبقت نہ کرو،

اسے جاہل نہ سمجھو،

اگر وہ تمہارے ساتھ اجڈپن کرے تو تم اس پر صبر کرو

اوراسلام کے حق اور حرمت کے پیش نظر اس کی تکریم کرو، کیونکہ یہ عمر کاحق ہے اسلام کے مطابق۔

اور نہیں کوئی قوت مگر اللہ کی۔

۴۵۔ چھوٹوں کا حق

(تجھ سے) چھوٹے کا حق یہ ہے :

اس کی تعلیم و تربیت میں شفقت سے کام لیا جائے،

اس سے درگزر کیا جائے،

اس کی پردہ پوشی کی جائے،

اس سے نرمی برتی جائے،

اس کی مدد کی جائے اور اس کی نوجوانی کے جرائم کو چھپایا جائے، کیونکہ یہ توبہ کا باعث ہے

نیز اس کے ساتھ نرمی و مدارات سے کام لیا جائے

اور اس سے جھگڑا نہ کیا جائے کیونکہ یہ اسے راہ راست پر لانے کے لیے زیادہ کارگر ہے۔

۴۶۔سائل(مانگنے والے) کا حق

سائل کا حق یہ ہے:

اس کی ضرورت کے مطابق اسے دینا،

اس پر نازل ہونے والی مصیبت میں اس کے لیے دعا کرنا

اور اس کے مانگنے پر اس کی مدد کرنا۔

اگر تجھے اس کی صداقت میں شک ہو، بدگمانی آڑے آئے اور تیرا مدد کرنے کا ارادہ نہ بنے تو خطرہ ہے کہ کہیں یہ کوئی شیطانی چال نہ ہو تاکہ وہ تجھے تیرے فائدے سے روکے اور وہ تیرے اور تیرے رب کی رضامندی کے درمیان حائل ہو جائے۔

(نہ دینے کی صورت میں) تو اس کی پردہ پوشی کے ساتھ اس سے جدا ہو جا اور اسے اچھے طریقہ سے لوٹا دے،

لیکن اگر اس کے معاملے میں تو اپنے نفس کو شکست دے اور اس کے بارے میں تیرے دل میں پیدا ہونے والے گمان کے باوجود تو اسے عطا کرے تو یہ ہمت کے کاموں میں سے ہے۔

۴۷۔ مسئول کا حق

مسئول (جس سے مانگا جائے)کا حق (مانگنے والے پر) یہ ہے:

جب وہ کچھ دے تو شکریے کے ساتھ قبول کیا جائے،

اور اس کی مہربانی کا احساس کیا جائے،

اگر وہ نہ دے تو نہ دینے کی وجہ پوچھی جائے۔

تم اس کے ساتھ حسن ظن رکھو اور یہ جان لو کہ اگر اس نے نہیں دیا تو اس نے اپنا مال نہیں دیا اور اس کے اپنے مال (سے نہ دینے پر) اس کی مذمت نہیں ہو سکتی اور اگر وہ ظالم ہے تو بے شک انسان بہت ہی بے انصاف اور ناشکرا ہے۔

۴۸۔ تجھے مسرت دینے والے کا حق

اللہ تعالیٰ کی خاطر تجھے خوش کرنے والے کا حق یہ ہے کہ پہلے تو اللہ

عز و جل کی تعریف کرے پھر اس (نیکی) کا بدلہ چکاتے وقت اسی کے برابر اس کی قدر دانی کرے اور نیکی میں اس کی سبقت کی فضیلت کا بدلہ دے۔ اگر وہ (فی الحال) بدلہ قبول نہ کرے تو (بعد میں) اچھا بدلہ دینے کا ارادہ رکھ۔

اگر وہ بدلہ قبول کرنے کا ارادہ نہ کرے تو تو پہلے اللہ کی مدح کر، پھر اس شخص کا شکریہ ادا کر اور یہ جان لے کہ یہ اس کی طرف سے تیرے اوپر خصوصی احسان ہے۔

اگر یہ تجھ پر اللہ کی نعمتوں کے اسباب میں سے کوئی سبب ہو اور تجھے اس کے بعد بھلائی کی امید ہو توتجھے اسے پسند کرنا چاہیے کیونکہ نعمتوں کے اسباب باعث برکت ہیں، خواہ وہ کہیں بھی ہوں۔

۴۹۔ غلط فیصلہ کرنے والے کا حق

جس شخص کے قولی یا عملی فیصلے سے تجھے کوئی برائی پہنچی ہو اس کا یہ حق ہے:

اگر اس نے عمداً ایسا کیا ہے تو عفو کرنا تمہارے لیے زیادہ سزاروار ہے۔ کیونکہ یہ اس (فیصلہ کرنے والے) اور اس کی طرح کے بہت سے لوگوں کی تذلیل کا باعث ہے اور ان کے لیے ایک اچھا سبق ہے۔ کیونکہ اللہ فرماتا ہے:

اور جو کوئی مظلوم واقع ہونے کے بعد بدلہ لے، پس ایسے لوگوں پر کوئی ملامت نہیں ہے۔ ملامت تو ان لوگوں پر ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق زیادتی کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے دردناک عذاب ہے۔ البتہ جس نے صبر کیا اور درگذر سے کام لیا تو یہ یقینا ہمت کے کاموں میں سے ہے۔

نیز ارشاد فرماتا ہے:

اور اگر تم بدلہ لینا چاہو تو اسی قدر بدلہ لو جس قدر تم کو تکلیف پہنچائی گئی ہے،لیکن اگر تم صبر سے کام لو تو یہ صبر کرنے والوں کے حق میں بہتر ہے۔

یہ تو تھا جان بوجھ کر غلط فیصلہ کرنے کی صورت میں۔ لیکن اگر عمداً ایسا نہ کیا ہو تو تم بھی جان بوجھ کر انتقام کی خاطراس پر ظلم نہ کرو۔ یہ ایسا ہو گا گویا آپ نے اس سے اس کی ارادی غلطی کا بدلہ لیا ہو۔

تم اس سے نرمی کرو اور اس کا جواب حتی المقدور مہربانی سے دو۔

اور نہیں کوئی قوت مگر اللہ کی مشیت سے۔

۵۰۔ ہم مذہب لوگوں کا حق

تمہارے ہم مذہب لوگوں کا حق یہ ہے :

ان کی سلامتی اور ان پر مہربانی کا ارادہ کیا جائے،

ان میں سے جو برا کرے اس کے ساتھ نرمی و مہربانی کی جائے،

ان سے محبت برتی جائے،

ان کی اصلاح کی کوشش کی جائے،

ان میں سے اچھے لوگوں کا شکریہ ادا کیا جا ئے

اور ان سے تکالیف کو دور رکھا جائے۔

تم ان کے لیے وہی چاہو جو تم اپنے لیے چاہتے ہو

اور ان کے لیے وہ چیز پسند نہ کرو جو تم اپنے لیے پسند نہیں کرتے۔

پس اپنی دعا میں ان سب کو شامل کرو، ان سب کی مدد کرو اور ان سب کو ان کا مناسب مقام دو۔

ان میں سے جو بڑے ہیں وہ باپ کی حیثیت رکھتے ہیں، جو چھوٹے ہیں وہ بیٹے کی اور جو درمیانے ہیں وہ بھائی کی طرح ہیں۔

(پس جو تیرے پاس آئے اس کے ساتھ لطف و کرم کا برتاؤ کرو) اور اپنے بھائی کے ساتھ اس طرح نیکی کرو جس طرح ایک بھائی کو دوسرے بھائی کے ساتھ ضرور کرنی چاہیے۔

۵۱۔ذمیوں کا حق

ذمیوں کا حق یہ ہے:

اللہ نے ان سے جو کچھ قبول فرمایا ہے وہی تم بھی ان سے قبول کرو

اور جب تک وہ اللہ عز و جل کے ساتھ اپنے عہد کو پورا کرتے ر ہیں تب تک تم ان پر ظلم نہ کرو،

اللہ نے اپنی طرف سے ان کے لیے جو امان اور عہد قرار دیا ہے اس کی پاس داری کرو،

اور انہوں نے اپنی طرف سے جو کچھ طلب کیا ہے اس میں تم انہیں ان کے حال پر چھوڑ دو۔

تمہارے اور ان کے باہمی معاملات میں اللہ کی طرف سے تم پر لازم شدہ حکم کے تحت ان کے بارے میں فیصلہ کرو۔

اہل ذمہ کو اللہ کی طرف سے حاصل امان کی پاسداری نہ کر کے نیز اللہ اور رسول کے عہد کو توڑ کر ان پر ظلم نہ کرو۔ کیونکہ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ آنحضرت نے فرمایا ہے:

جو شخص کسی ذمی پر ظلم کرے وہ میرا دشمن ہے۔

پس اللہ سے ڈرو۔

اور نہیں کوئی قدرت اور قوت مگر اللہ کے ساتھ۔
محمدخلیل آن لائن ہے   Reply With Quote
محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا گیا
جواب

Tags
پاک, پسند, پسندیدہ, چین, نماز, نظر, مکمل, موت, ماں, اللہ, استاد, بھائی, ترک, تعلیم, حدیث, خدا, دعا, روزہ, راستہ, علی, عالم, عبادت, صحیح, صدقہ, صراط


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
متاثرین سیلاب کی خدمت زیادہ افضل عمل ہے (تجزیہ) جاویداسد خبریں 3 29-08-10 03:21 PM
قائداعظم کو منظوم خراج تحسین وعقیدت champion_pakistani قائد اعظم (RA) 8 06-08-09 12:23 AM
سیدنا امام زین العابدین علی بن حسین Real_Light تاریخ و عبر 8 21-09-08 02:27 AM
آصف زرداری الطاف حسین سے ملاقات کیلئے لندن جانا چاہتے ہیں، شازیہ مری عبدالقدوس خبریں 0 14-04-08 09:19 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 02:14 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger