واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > تاریخ و عبر



تاریخ و عبر تاریخ و عبر


مشاجرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں اہل السنۃ والجماعۃ کا موقف

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 04-10-09, 03:39 PM   #1
مشاجرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں اہل السنۃ والجماعۃ کا موقف
sahj sahj آف لائن ہے 04-10-09, 03:39 PM

صحابہ رضی اللہ عنہم

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین روئے زمین کا افضل طبقہ


مشاجرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں اہل السنۃ والجماعۃ کا موقف


حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت کے بعد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے درمیان اختلافات رونما ہوئے ، جن کا تعلق عقیدے اور نظریہ ، اسلام اور کفر سے ہر گز نہ تھا ، بلکہ سیاسی اور اجتہادی قسم کا تھا ۔

بادی النظر میں انسان ان نفوس قدسیہ کے فضائل و اوصاف اور ان اندوہناک واقعات میں تقابل کرتا ہے تو محو حیرت رہ جاتا ہے کہ افراد انسانی کے اس طبقے نے اسلام کی راہ میں سب سے قیمتی سرماے ، جان و مال اور رشتہ داروں کو تج کیا اور شدید ترین تکالیف برداشت کیں ، وہ اپنے سیاسی اختلافات میں صبر و ثبات کا مظاہرہ کیوں نہ کر سکے ؟

اس کا سادہ سا جواب یہ ہے :
اللہ تعالیٰ نے ایسا ہی مقدر کر دیا تھا اور اللہ تعالیٰ کا فیصلہ نافذ ہو کر ہی رہتا ہے وکان امر اللہ قدرا مقدورا ( الاحزاب : 38 ) حتیٰ کہ اس قسم کی پیشگوئیاں خود رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ملتی ہیں ۔ ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے متعلق فرمایا : ” میرا یہ بیٹا سردار ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے دو بڑے مسلمان گروہوں کے درمیان صلح کرائے گا ۔ “
( بخاری ، کتاب الصلح ) صلح تبھی ہو گی جب آپس میں تنازعہ ہو گا ۔


صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین خود بھی پریشان تھے ۔ اس لیے بہت سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے ان فتنوں سے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی ۔ اور حصہ لینے والے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی ایک دوسرے کی خوب تعظیم و تکریم کرتے تھے ۔ ایک دوسرے کے پیچھے نماز پڑھتے اور خیر خواہی سے پیش آتے ۔ ایک دوسرے کی شہادت پر رحم کی دعا کرتے تھے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جنگ جمل میں حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کی شہادت پر انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا اور فرمایا : ( ( واللہ لقد کنت کارھا لھذا ) ) ” اللہ کی قسم! آپ اس ( جنگ ) کو پسند کرنے والے نہیں تھے ۔ “ پھر آپ گھوڑے سے اترے اور اس کے ماتھے سے گردوغبار پونچھتے ہوئے یہی آیت پڑھنے لگے : وکان امر اللہ قدرا مقدورا ( رسالۃ الثقلین ، ایران عدد 35 ص 124 ) اور حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں برسر عام عقیدت و احترام کے جذبات کا اعتراف کیا اور جنگ میں ایک دوسرے سے حاصل کردہ مال کو غنیمت بنایا نہ قیدیوں کو غلام ۔ اور آپ رضی اللہ عنہا کو اپنے بھائی محمد کے ساتھ باعزت مدینہ منورہ بھیج دیا ۔ ( مشجر الاولیاءص 65 )

جناب امیر المومنین علی رضی اللہ عنہ امرائے امصار کی طرف بھیجے گئے ایک مکتوب گرامی میں جنگ صفین میں مخالف کے ساتھ پیش آنے والے واقعات بیان کرتے ہوئے اپنے موقف کا اظہار ان الفاظ میں کرتے ہیں : ” وکان بدو امرنا ان التقینا والقوم من اھل الشام والظاھر ان ربنا واحد ونبینا واحد ودعوتنا فی الاسلام واحدة ولا نستزیدھم فی الایمان باللہ والتصدیق برسولہ ولا یستزیدوننا ، الامر واحد الا ما اختلفنا فیہ من دم عثمان ونحن منہ براء “ ہمارے معاملے کا آغاز اس طرح ہوا کہ ہم اور اہل شام آپس میں الجھ گئے ، یہ چیز بالکل عیاں تھی کہ ہم سب کا رب ایک ، نبی ایک اور دعوت ایک تھی ۔ ہم ان سے اللہ پر ایمان لانے اور رسول اللہ کی تصدیق میں اضافے کا مطالبہ نہیں کر رہے تھے ، نہ وہ ہم سے ایسا مطالبہ کر رہے تھے ۔ دونوں کا معاملہ ایک تھا ، سوائے اس کے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خون ناحق کے بارے میں ہم میں اختلاف پیدا ہوا ، جبکہ ہم ان کے خون سے بری الذمہ ہیں ۔ ( نھج البلاغۃ ص : 448 )

ایک ہی ماں باپ کے بیٹوں کے خیالات و سلوک میں بسا اوقات بعد المشرقین ہوتا ہے ۔ فطرة اللہ التی فطر الناس علیھا لا تبدیل لخلق اللہ ( الروم : 30 ) صحابہ کرام رضی اللہ عنہ بھی آدم زاد ہی تو تھے ، کوئی ماورائی مخلوق نہیں تھے کہ اپنے دور اور معاشرے کے ہیجان انگیز واقعات اور نظریات سے اثر انداز نہ ہوں ۔ دیکھئے خود بنو ہاشم کے نظریات و خیالات ایک جیسے نہ تھے ۔ یہ عباسی ہے تو وہ علوی ، آغاز تحریک میں ساتھ تھے مگر کامیابی کے بعد دونوں کے راستے جدا ہو گئے ۔ عباسی دور حکومت چند کمزوریوں کو چھوڑ کر اسلامی تاریخ کا ایک درخشاں عہد ہے ۔ مگر مسلمانوں کا ایک طبقہ انہیں غیر شرعی اور ظالم قرار دینے میں ادھار کھائے بیٹھا ہے ۔ ( ماھنامہ تدریس القرآن ، کراچی / مئی 2007 )

پھر خود عباسیوں کے اندر اکھاڑ پچھاڑ کا ایک لامتناہی سلسلہ جاری ہوا ۔ خود جناب عقیل رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روٹھ کر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس شام چلے گئے‘ جہاں انہیں خوب پذیرائی ملی ۔ جناب حسن رضی اللہ عنہ نے اپنے والد محترم رضی اللہ عنہ کی روش کے برخلاف حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کی اور مسلک اثنا عشریہ مکتب فکر کے مطابق امام کا عمل حجت ہوتا ہے ۔ پھر آپ کے بھائی جناب ابو عبداللہ الحسین رضی اللہ عنہ نے بھی اپنے بھائی کی مصالحت کو برقرار رکھا ۔ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد اہالیان کوفہ کی بے وفائی کے نتیجے میں خود دعوے داران محبت اہل بیت کے ہاتھوں مظلومانہ شہادت کے اعزاز سے سرفراز ہوئے ۔ اس کے بعد باقی ماندہ ائمہ اہل بیت عظام رضی اللہ عنہ نے اپنی ساری توجہ علوم نبوت کی نشر و اشاعت اور اصلاح نفس میں صرف کی اور حصول سلطنت و جہاں بانی کے تصور کو خیرباد کہہ دیا ۔ یہاں تک کہ امام باقر رحمہ اللہ نے فرمایا : ” جو بھی میرے خاندان کے قائم ( امام مہدی رحمہ اللہ ) سے پہلے خروج کرے گا ، وہ ایسا چوزہ ہو گا جو اڑ گیا ہو اور بچوں کو کھلونا بنا گیا ہو ۔ “ ( بحار الانوار ، ضرب مومن دسمبر 2004 )

امام زید بن علی رضی اللہ عنہ نے 121 ھ میں اموی خلیفہ ہشام کے خلاف خروج کیا تو امام جعفر صادق رحمہ اللہ نے خروج سے شدید منع کیا ۔ اسی طرح جناب محمد نفس زکیہ رحمہ اللہ نے 145 ھ میں خلیفہ منصور عباسی کے خلاف خروج کیا تو حضرت امام جعفر صادق رحمہ اللہ وغیرہ الگ تھلگ رہے ۔ امام حسن عسکری رحمہ اللہ کے ایک بھائی جعفر کو ” الکذاب “ قرار دیا گیا ۔۔ ( رسالۃ الثقلین عدد 166/37 )

خود مسئلہ امامت جیسے اہم موضوع پر اختلاف آج تک موجود ہے کہ آیا یہ متبرک دروازہ قیامت تک کھلا ہے یا بند ہو چکا ہے ؟ اثنا عشریہ کے نزدیک یہ سلسلہ امام جعفر صادق رحمہ اللہ کے بیٹے امام موسیٰ الکاظم رحمہ اللہ کی اولاد میں جا کر امام حسن عسکری رحمہ اللہ کے بیٹے امام مہدی تک پہنچ کر ختم ہو چکا ہے اور وہ آج تک زندہ ہے ۔ ایک خیال کے مطابق سر من رآی کے غار میں چھپا ہوا ہے ، جبکہ ایک اور رائے کے مطابق لوگوں میں گھل مل کے رہتا ہے ۔ باقاعدہ حج کے لیے آتا ہے ، دوسروں کو دیکھتا ہے ، دوسرے اسے نہیں دیکھ پاتے اور روئے زمین پر خدم و ہشم کے ساتھ گھومتا پھرتا ہے ، مگر کسی کو پہچان نہیں ہوتی ۔
” ( ماہنامہ پیام زینب 56 ، ص : 26 ماہ ستمبر 2006 بحوالہ اصول کافی کتاب الحجة باب فی الغیبۃ ، کشف الغمۃ 3/283 )

جبکہ اسماعیلیہ کا خیال ہے کہ امامت امام جعفر صادق رحمہ اللہ کے دوسرے بیٹے اسماعیل کی اولاد میں منتقل ہوئی ہے ۔ اسماعیلی چھ اماموں کے بعد زندہ اور حاضر امام کے قائل ہیں ۔
( رسالۃ الثقلین عدد 37 ص92 )
جبکہ زید یہ منصب کا حقدار امام زید رحمہ اللہ بن زین العابدین رحمہ اللہ کو قرار دیتے ہیں ۔ اور دونوں کے نزدیک کوئی غیر فاطمی بھی امام بن سکتا ہے ۔ یہی کچھ داستان الم خوارج کے ساتھ بھی بیتی ۔ نور بخشیہ روش ہمدانیہ بھی بارہ ائمہ کے قائل نہیں ، بلکہ سلسلۃ الذھب امام علی رضا رحمہ اللہ کے بعد ان کے شاگرد معروف کرخی رحمہ اللہ کی طرف منتقل ہوتا ہے ، جو ایک پابند سنت ہستی تھے ۔ ( مشجر الاولیاء )

پیالہ و ساغر جیسی فکر رکھنے والی امامیہ پارٹی سے مرور زمانہ کے ساتھ متضاد خیالات کی حامل پارٹیاں منصہ شہود پر آئیں ۔ صرف یہی نہیں بلکہ ہر امام کے دور میں بہت سے فرقے وجود میں آئے ، جو ایک دوسرے کے امام کی امامت سے انکاری تھے ۔ اس کے عشر عشیر بھی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں اختلاف نہیں تھا ۔
( فرق الشیعۃ بختی ص : 113 ، الملل والنحل للشھر ستانی ، الارشاد للاربلی ص : 285 اعلان الوریٰ ص : 367 المعارف لابن قتیبہ )

جب ہم انسانی معاشرے میں رونما ہونے والے اختلافات کو دیکھتے ہیں تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مابین پیش آمدہ اختلافات کو سمجھنے میں دقت نہیں لگتی ۔ اس وقت حالات ہی ایسے ہو چکے تھے کہ ایک عام فرد کے لیے فیصلہ کرنا مشکل تھا کہ کون مکمل طور پر حق بجانب ہے اور کون اس سے دور ؟ لہٰذا اس وقت کے معروضی حالات کا جائزہ آج کے تناظر میں لینا کسی طور قرین انصاف نہیں ۔ خصوصا بعض تاریخی حکایات و واقعات باہم متعارض بھی ہیں اور واقعات کے نقل میں ناقلین کے فہم و ذکاوت اور حفظ و صلاحیت سے کہیں بڑھ کر سیاسی وابستگیوں اور ذاتی رجحانات وغیرہ عوامل و محرکات کا دخل رہا ہے ۔

حضرت ابووائل رحمہ اللہ کہتے ہیں : جب حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ جنگ صفین سے لوٹے تو ہم خبر پوچھنے گئے.... انہوں نے کہا : ( وما وضعنا اسیافنا علی عواتقنا لامر یفظعنا الا اسھلن بنا الی امر نعرفہ قبل ھذا الامر مانسد خصما الا تفجر علینا خصم ما ندری کیف ناتی لہ ) ” اس واقعے ( صفین ) سے پہلے ہمیں خوفزدہ کرنے والے معاملے سے نمٹنے کے لیے ہم نے جب بھی تلواریں اٹھائیں تو وہ ہمیں ایسے بہتر نتیجے تک لے گیا جسے ہم اچھی طرح جانتے تھے ۔ اب ( صفین میں ) ہم ایک سمت کو بند کرتے ہیں تو دوسری سمت پھٹ پڑتی ہے ۔ ہم نہیں جانتے کہ کس طرح پیش آئیں ۔ “ حضرت ابووائل رحمہ اللہ خود کہتے ہیں ” میں بھی صفین میں حاضر ہوا ہوں ، مگر صفین کتنا برا تھا!! “
( بخاری ، الجزیۃ والموادعۃ ح3181 ، مغازی باب غزوۃ الحدیبیۃ ح 4189 ، الاعتصام باب ما یذکر من دم الرای وتکلف القیاس ح 7318 )
نیک دل صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تین مہینے تک حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے مابین صلح و صفائی کی کوشش میں لگے رہے ۔
( مختصر تاریخ اسلام ص 126 مھر )


اگر آج ایسے حالات پیش آجائیں تو انتہائی نقاد اور مخلص لوگ بھی ایک رائے پر اتفاق نہ کر سکیں گے ، بلکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بھی زیادہ اختلافات کے شکار ہو جائیں گے ۔

ان تاریخی حقائق کے ادراک کی روشنی میں ہمیں چاہئے کہ ان نفوس قدسیہ رضوان اللہ علیہم اجمعین سے متعلق بداعتقادی اور بدکلامی کے ذریعے ان جنگوں کو نظریاتی طور پر ہوا دینے سے بچیں ، اور تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے متعلق اچھا گمان رکھیں ، ان سب سے درجہ بدرجہ محبت کریں اور ان کے اختلافات کی ریہرسل کر کے ایک دوسرے کی جان ، مال اور آبرو کے لیے خطرہ بننے کے بجائے اپنی تمام تر صلاحیتیں ایمان اور عمل صالح کا توشہ آخرت جمع کرنے میں صرف کریں
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری

 
sahj's Avatar
sahj
Senior Member
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,517
شکریہ: 5,981
1,910 مراسلہ میں 5,629 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 215
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا
shafresha (04-10-09), عبداللہ آدم (19-08-10), عبداللہ حیدر (04-10-09)
جواب

Tags
کراچی, گمان, پہچان, پسند, واقعات, لوٹے, نماز, مکمل, منتقل, ماں, محبت, آج, اہل بیت, ایران, اللہ, انسان, امیر, اسلام, اسلامی, اسلامی تاریخ, بھائی, بچوں, دعا, غار, صحابہ


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
جامعۃ الازہر میں نقاب پر پابندی احمدنواز عمومی بحث 22 15-10-09 05:13 AM
لاہور نعیمیہ اور نوشہرہ مسجد میں خود کش حملے ایس اے نقوی خبریں 21 15-06-09 03:41 AM
ڈاکٹر سرفراز نعیمی (خبریں) خرم شہزاد خرم خبریں 5 15-06-09 03:37 AM
صحیح اور ضعیف احادیث کی قسمیں sahj مطالعہ حدیث 0 09-06-09 11:00 AM
جمعۃ المبارک فضائل Real_Light نماز 0 20-09-08 02:31 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 02:15 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger