| تاریخ و عبر تاریخ و عبر |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 390
|
||||
| 5 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا | shafresha (19-12-11), کنعان (20-12-11), یاسر عمران مرزا (26-12-11), wajee (19-12-11), اویسی (03-01-12) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,169
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بلبل ہزار داستان
ایک تھا بادشاہ ہمارا تمہارا خدا بادشاہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرے لئے یہ چاروں ہی عظیم ہستیاں ہیں ابوبکر ،عمر ، عثمان اور علی مجھے ان میں کسی کو کسی پر فضیلت دینے کا نا اختیار ہے اور نا اس کی کوئی ضرورت مجھے محسوس ہوتی ہے ان کی عظمت کی یہی دلیل کافی ہے کے اللہ نے انہیں رسول اللہ کے جانثار ساتھیوں کا درجہ بخشا
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں |
|
|
|
| 9 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا | dxbgraphics (19-12-11), shafresha (19-12-11), کنعان (20-12-11), یاسر عمران مرزا (26-12-11), مسٹر شیف (20-12-11), wajee (19-12-11), ابرارحسین (20-12-11), احمد نذیر (20-12-11), حیدر Rehan (20-12-11) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 439
کمائي: 10,419
شکریہ: 340
435 مراسلہ میں 1,429 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جی فیصل بھائی،
آپ کی بات بالکل بجا ہے۔ الحمدللہ ہمارے نزدیک تو چاروں ہی خلفائے راشدین ہیں، اور افضلیت و غیر افضلیت بس اجتہادی معاملہ ہے۔ لیکن ہمارے ان بھائیوں کی کوئی خاص سائیکی ہے۔ جس طرح کے عجیب و غریب جوابات اس قصہ میں دئے گئے ہیں، ایسے سوالات و جوابات ہم بھی پیدا کر کے خلفائے ثلاثہ کی فضیلت حضرت علی رضی اللہ عنہ پر ثابت کر سکتے ہیں، لیکن بات وہی ہے کہ ہمیںایسی کوئی ضرورت محسوس نہیںہوتی اور نہ ہی یہ ہمارے ایمان کا معاملہ ہی ہے۔ خیر، حیدر ریحان صاحب، آپ سے درخواست ہے کہ اس قصہ کا کچھ اتا پتا بھی بتا دیںکہ کس کتاب میں پایا جاتا ہے؟ اور اس کی صحت کی توثیق کسی نے کی ہے یا نہیں؟ یا آپ خود ہی اس مکالمہ کے وقت موجود تھے وہاں؟
__________________
نہیں، اے محمدؐ، تمہارے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں،پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی نہ محسوس کریں، بلکہ سر بسر تسلیم کر لیں۔ [النساء: 65] |
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا | shafresha (19-12-11), یاسر عمران مرزا (26-12-11), نبیل خان (19-12-11), ملک اظہر (19-12-11), wajee (19-12-11), حیدر Rehan (20-12-11) |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2011
مراسلات: 257
کمائي: 5,574
شکریہ: 444
124 مراسلہ میں 510 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
امام جعفر صادق کا شاگرد ہو دنیا جسے امام اعظم کے نام سے جانتی ہو کوئی فضال آکر اسے لاجواب کر جائے واہ بھئی کسی جنتری میں یہ قصہ پڑھا ھو گا
__________________
یکے آنکہ در خویش خود بیں مباش دوم آنکہ در غیر بد بیں مباش |
|
|
|
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 2,286
کمائي: 26,481
شکریہ: 8,476
1,586 مراسلہ میں 3,509 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جناب اپنی تحریر کو وزنی بنائیں دلائل کے ساتھ
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے نبیل خان کا شکریہ ادا کیا | قاسمی (20-12-11), حیدر Rehan (20-12-11) |
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() |
سلام ان پر جو حق کے طرفدار ہیں ۔ ۔ ۔
اللہ نےمحمد ص و آل محمد ع کے زریعے ہر دور میں حجت تمام کی اور مختلف کام لئے ۔جب امام حعفر صادق ع کی زندگی میں امن کا زمانہ آیا تو اس امن کے زمانے میں آل محمد ع ہونے اور اللہ کے ولی ہونے کی زمہ داری نبھائی اور علم کے سمندر بہا دئے اور علم و حکمت کے خزانے کھول دئے جو کہ دراصل اللہ ہی کی حکم کی تعمیل تھی ۔یہاں حجت خدا یہ ہے کہ جب امت میں لوگوں نے قتل و غارت سے ہاتھوں کو روکا اور فتنہ و فساد اور سازشوں میں کچھ کمی ائی اور عام لوگوں تک علم کے پہچنے کا جب جب جسقدر راستہ ملا تو اللہ نے اس امن کے دور میں علم و حکمت کو روکنے نہ دیا تا کہ کوئی یہ نہ کہہ سکئے کہ جنگ و جدال و فتنہ فساد کے ایام نے تو سب کو ہی پریشان حال کرکے رکھ دیا تھا ایسے میں کون راہ کو پاتا اور کون علم و حکمت کی قدر کرتا۔۔ اس واقعہ کی صحت اور اس مکالمے کہ ہونے یہ نہ ہونے کی کچھ دلیلیں تو اسی مراسلے میں سے مل جائیں گئی۔ پہلی بات : اس واقعہ سے ظاہر ہے کہ جناب ابو حنیفہ ابھی مختصر لوگوں کو ہی تعلیم دے رہے ہیں یعنی فضال بن حسن اتنے قریب آ کر بیٹھ گیا ہے یا بیٹھ سکتا ہے کہ جہاں اتنا رش نہ ہو یا فضال کو واپسی پر روکنے کے لیے زرا سی مشکل پیش ائی۔۔ دوسری بات ۔۔ پچھلے ہی دنوں جناب ڈاکٹر اسرار احمد کی ایک ویڈیو دیکھی جس میں امام حعفر صادق ع نے ابو حنیفہ رح کو اپنے پاس والوایا تو ابو حنیفہ رح امام حعفر صادق ع سے گویا ہوئے اے فرزند رسول کیا مجھے سے کوئی غلط بات ہوئی ہے ؟ امام حعفر صادق ع نے فرمایا کہ ہم تک خبر پہچی ہے کہ تم سنت رسول ص ہر رائے و قیاس کو ترجیح دیتے ہو؟ ابو حنیفہ رح نے کہا کہ ایسا نہی ہے یعنی میں قیاس نہی کرتا ۔ ۔ ۔اگر مجھے قیاس یا اپنی راے کو ہی ترجیح دینا ہوتی تو میں ۔ ۔ ۔یہ کہتا اور یہ کہتا ۔ ۔ ۔ ۔۔ خیر اس قسم کی باتیں تاریخ میں اج بھی اہلسنت و الجماعت کے علمائے اکرم جانتے ہیں۔۔ |
|
|
|
|
|
#10 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
لیکن اگر فیصلہ بدلا ہے تو اس بدلے ہوئے فیصلے پر سوال کرنے کے لیے بھی تو کوئی فضال بن حسن آئے گا ؟ آپ سب کو برابر سمجھتے ہیں مگر قران تو کچھ اور کہہ رہا ہے ۔ تقوی کا دارمدار علم پر ہے یعنی تقوی بھی کسی حد تک علم کا محتاج اس لیے زیادہ عالم زیادہ متقی ہوتا ہوگا اور متقی سب سے افضل ہے یعنی کوئی کسی سے برتر نہی مگر تقوی کے لحاظ سے ۔ ۔ دوسری بات کہ عالم و جاہل کبھی برابر نہی ہوسکتے ۔ ۔ اگر تمام سوا لاکھ اصحاب رسول ص میں سے یہ چار عظیم اصحاب اکرم رض ہیں اور سب سے عظیم و برتر ہیں تو ان میں سے ایک ایسا ضرور ایسا ہونا چاہیے جس کے لیے یہ آیت اتری ۔ ۔ قُلْ کَفَی بِاللهِ شَہِیدًا بَیْنِی وَبَیْنَکُمْ وَمَنْ عِنْدَہُ عِلْمُ الْکِتَابِ >(11) اے رسول آپ ) کہہ دیجئے کہ ہمارے اور تمہارے درمیان رسالت کی گواہی کے لئے اللہ کافی ہے اور وہ شخص کافی ہے جس کے پاس پوری کتاب کا علم ہے “۔ اب بھی اگر نہ سمجھیں ۔ ۔ ۔ تو اپکی مرضی ۔ ۔ |
|
|
|
|
| حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا گیا | ملک اظہر (20-12-11) |
|
|
#11 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2011
مراسلات: 1,133
کمائي: 12,504
شکریہ: 3,416
697 مراسلہ میں 1,606 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
کہتے ہیں
|
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے بنت حوا کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#12 |
|
Senior Member
![]() |
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ڈپلیکیٹ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Last edited by حیدر Rehan; 23-12-11 at 01:57 PM. |
|
|
|
|
|
#13 |
|
Senior Member
![]() |
بنت حوا ۔۔یہ تمھاری محبت و عقیدت ہے ، جو کہ محدود عقل اور معلومات کے ساتھ ہے
کہ کسی شخص کا رسول اللہ ص کو چادر کا سایہ کرنے پر اور گود میں سر رکھ کر سلانے اور ایک مصلی دے دینے پر اللہ نے ایک عظیم ایت اس شخص کے نام کردی ۔۔ اتنے سے عمل کی توقع تو کوئی غیرمسلم بھی کسی عام صحابیِ رسول ص سے بھی کر سکتا ہے ۔تو کیا کوئی بھی آیت کسی کہ لیے بھی یا کسی کے ساتھ مخصوص کی جاسکتی ہے ؟ اتنی سی بات پر تو کوئی صرف ہاتھ بھی نہی پکڑاتا ۔ یعنی اپنی مرضی بھی کسی دوسرے کے حوالے نہی کرتا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اتنی سی امید تو ہر شخص سے کی جاسکتی ہے ۔۔کیا ہر شخص کو ہاتھ تھمایا جاسکتا ہے ؟مختصر یہ کہ یہ آیت بہت اہم ہے اور اس کے ساتھ ایک ایت اور بھی ہے اور وہ اتنی اہم ہے کہ اس پر بولنا مشکل ہے۔ یہ مندرجہ زیل ایک آصف بن برخیا جو کہ حضرت سلمان علیہ سلام کے وزیر تھے ان کے لیے قران میں موجود ہے قَالَ الَّذِي عِندَهُ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتَابِ أَنَا آتِيكَ بِهِ قَبْلَ أَن يَرْتَدَّ إِلَيْكَ طَرْفُكَ فَلَمَّا رَآهُ مُسْتَقِرًّا عِندَهُ قَالَ هَذَا مِن فَضْلِ رَبِّي لِيَبْلُوَنِي أَأَشْكُرُ أَمْ أَكْفُرُ وَمَن شَكَرَ فَإِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ رَبِّي غَنِيٌّ كَرِيمٌ 27:40 اور اس شخص نے کہا جس کے پاس کتاب کا کچھ علم تھا میں اسے آپ کے پاس لے آؤں گا اس سے پہلے کہ آپ کی آنکھ جھپکے پھر جب سلیمان نے اسے اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا تو کہا کہ یہ میرے پروردگار کا فضل و کرم ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ میں اس کا شکر ادا کرتا ہوں یا ناشکری کرتا ہوں اور جو کوئی شکر کرتا ہے تو وہ اپنے فائدہ کیلئے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو وہ (اپنا نقصان کرتا ہے) میرا پروردگار بے نیاز اور کریم ہے۔ الکتاب میں سے علم ہونا ۔۔یعنی ’کچھ‘ علم ہونا ایک نبی ع کے وصی ع پر اللہ کا فضل کسقدر ظاہر کرتی ہے تو الکتاب کا علم ہونا ۔۔ یعنی ’پورا‘ علم ہونا ایک نبی ص کے وصی ع پر اللہ کا فضل کتنا اور کس قدر ظاہر کرئے گا؟ سب سے اہم بات اس آیت میں یہ ہے کہ گواہی دینے کے لیے دنیا کی ہر عدالت میں کچھ اصول طے شدہ ہیں۔ تو جب اللہ کہہ رہا ہے کہ وہ گواہ ہے تو پھر کوئی بھی اس رتبہ و مقام تک پہنچ ہی نہی سکتا ان سب اصولوں کے باوجود جو کہ ایک کسی بھی گواہی کے لیے لازم ہیں اس کے بعد بھی اگر گواہی دینے والہ ہوسکتاہے کہ کسی بھی مجبوری و بیماری و خوف و غیر موجودگی کی وجہ سے نہ دے سکئے تو جس بات کی گواہی کے لیے طلب کیا گیا ہے وہ کام ادھورا رہ جائے گا اور فیصلہ کسی دوسرے کے حق میں قرار پا سکتا ہے ۔ Last edited by حیدر Rehan; 23-12-11 at 01:59 PM. |
|
|
|
|
|
#14 | ||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2011
مراسلات: 1,133
کمائي: 12,504
شکریہ: 3,416
697 مراسلہ میں 1,606 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میں نے تفسیر کہاں کی بھیا اس کی ۔ ۔
ویسے آپ اپنے مراسلے کی ترمیم کر لیں تو بہتر ہے اقتباس:
باقی آپ نے کہا کہ یہ عام بات ہے تو پھر خاص کیا ہے یہ بھی بتاتے جائیں؟ اگر اتنا کہنے سے عام بات ہو جاتی ہے تو پھر آپ خاص کہاں سے لائیں گے ۔ ۔؟ ویسے ایک بات ہے سوچنے کی سوچئیے گا ضرور بغض صحابہ کو دل سے نکال کے ۔ ۔ کہ نبی کی امانتیں سیدناعلی کے حوالے اور اللہ کی امانت ( نبی مکرم ( سیدنا ابوبکر کے ہی حوالے کیوں ؟سیدناابوبکر کو بستر پر اور سیدنا علی کو ساتھ کیوں نہ بھیجا ؟کچھ تو اس میں خاص ہے؟ اقتباس:
کے نام کی ہیں بس ذرا پٹی اتار کے دیکھیں
|
||
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے بنت حوا کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#15 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
بغض صحابہ رض کی بات تو اس وقت ائے گی جب ہم ہر آس پاس رہنے والے شخص کو اصحاب رسول ص سمجھیں گئے اور پھر بعد میں ان سے بغض رکھنے یا نہ رکھنے کی بات ہوگی ۔ بغض صحابہ رض کے بارے میں لوگوں میں یہ تاثر غلط ہی پھیلایا گیا ہے اور یہ اہل تشع پر الزام کے سوا کچھ نہی ہے ۔ سوال اگر ہونا چاہئے تو یہ ہونا چاہئے کہ پہلے ، دوسرے ، یا تیسرے یا کچھ اور حکمرانوں کو اہل تشیع ’اصحاب رسول ص‘ کیوں نہی سمجھتے ؟ خیر جو ایت میں نے پیش کی تھی اہلسنت والجماعت اسے دو اصحاب رسول ص سے منصوب کرتےہیں عبداللہ ابن عباس اور عبداللہ ابن سلام جن کے نام اہلسنت والجماعت کی نظر میں چار عظیم اصحاب رسول ص میں شامل نہی ہے اس لیے میرا آیت کا پیش کرنا تھا جس پر خاموشی اختیار کی گئی ۔ ۔ ۔ اور تمھاری بے کار کی باتوں سے ،موضوع ہی بدلے گا یا پھر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔۔ لکھا ہوا نظر ائے گا مراسلہ بند ہے ۔ |
|
|
|
|
![]() |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| کراچی میں فائرنگ، گھروں دکانوں بسوں سے شہری اغوا، مزید 28 افراد قتل، گاڑیوں سے لاشیں پھینکی گئیں | گلاب خان | خبریں | 0 | 19-08-11 03:17 AM |
| اسامہ بن لادن کے کمپاوئنڈ سے پاکستانی سیکیورٹی اہلکاروں نےلاشوں کی تصویریں روئٹرز کو فروخت کی ہیں | ناصحی | خبریں | 5 | 07-05-11 12:28 AM |
| بھارت میں " بعض " کھلاڑی کنٹر ول میں نہیں تھے،ڈسپلن توڑنے والوں کو آئندہ قو می ٹیم میں جگہ نہیں ملے گی،نسیم اشر ف | خرم شہزاد خرم | کرکٹ | 0 | 17-12-07 02:50 PM |
| ڈرا کیلئے نہیں صرف جیت کیلئے میدان میں اتریں گے،یونس خان،کپتانی سے بھاگتا ہوں یہ میرا پیچھا نہیں چھوڑتی | خرم شہزاد خرم | کرکٹ | 0 | 08-12-07 08:13 AM |
| وکلاء تنظیموں نے پی سی او ججوں کے سوشل بائیکاٹ کا اعلان کر دیا،ملک بھر کے وکلاء،ماتحت عدالتوں میں روزانہ ایک گھنٹے ہڑتال کر یں گے | خرم شہزاد خرم | خبریں | 0 | 06-12-07 09:00 AM |