واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > تاریخ و عبر



تاریخ و عبر تاریخ و عبر


واقعہ فدک کیا ہے؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 03-11-11, 03:16 PM   #1
واقعہ فدک کیا ہے؟
حیدر Rehan حیدر Rehan آن لائن ہے 03-11-11, 03:16 PM

تحریر آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی

''فدک '' اطراف مدینہ میں تقریباً ایک سو چالیس کلو میٹر کے فاصلہ پر خیبر کے نزدیک ایک آباد قصبہ تھا۔
جب سات ہجری میں خیبر کے قلعے یکے بعد دیگرے اسلامی فو جو ں نے فتح کرلئے اور یہودیوں کی مرکزی قوت ٹوٹ گئی تو فدک کے رہنے والے یہودی صلح کے خیال سے خدمتِ رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم میں سرتسلیم خم کرتے ہوئے آئے اور انہوں نے اپنی نصف زمینیں اور باغات آنحضرت ۖ کے سپرد کردئیے اور نصف اپنے پاس رکھے رہے۔
اس کے علاوہ انہوں نے آنحضرت ۖ کے حصہ کی زمینوں کی کاشتکاری بھی اپنے ذمہ لی، اپنی کاشتکاری کی زحمت کی اجرت وہ آنحضرت ۖ سے وصول کرتے تھے،(سورۂ حشر ، آیت ٧)کے پیش نظر یہ زمینیں رسول اکرم ص کی ملکیت تھیں ، ان کی آمدنی کو آپۖ اپنے مصرف میں لاتے تھے یا ان مقامات میں خرچ کرتے تھے جن کی طرف سورہ حشر ، آیت نمبر٧ میں اشارہ ہوا ہے ۔
رسول اکرم ص نے یہ ساری زمینیں اپنی بیٹی حضرت فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیہا کوعنایت فرمادیں، یہ ایسی حقیقت ہے جسے بہت سے شیعہ اور اہل سنت مفسرین نے صراحت کے ساتھ تحریر کیا ہے، منجملہ دیگر مفسرین کے تفسیر در منثور میں ابن عباس سے مروی ہے :

جس وقت آیت (فاتِ ذَا القُربیٰ حَقّہُ)(١) نازل ہوئی تو رسول اکرم ص نے جناب فاطمہ س کو فدک عنایت فرمایا:(اقطَعَ رَسُول اﷲ فا طمةَ فَدَکاً)(٢)
کتا ب کنزالعمال، جو مسند احمد کے حاشیہ پر لکھی گئی ہے،میں صلہ رحم کے عنوان کے تحت ابوسعید خدری سے منقول ہے کہ جس وقت مذکورہ بالاآیت نازل ہوئی تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فاطمہ سلام اللہ علیہا کو طلب کیا اور فرمایا:

'' یا فاطمہ لکِ فدک''''اے فاطمہ فدک تمہاری ملکیت ہے''۔ (٣)

حاکم نیشاپوری نے بھی اپنی تاریخ میں اس حقیقت کو تحریرکیا ہے۔(٤)

ابن ابی الحدید معتزلی نے بھی نہج البلاغہ کی شرح میں داستان فدک تفصیل کے ساتھ بیان کی ہے اور اسی طرح بہت سے دیگر مورخین نے بھی۔(٥)
لیکن وہ افراد جو اس اقتصادی قوت کو حضرت علی علیہ السلام کی زوجہ محترمہ کے قبضہ میں رہنے دینا اپنی سیاسی قوت کے لئے مضر سمجھتے تھے،انہوں نے مصمم ارادہ کیا کہ حضرت ع کے یاور وانصار کو ہر لحاظ سے کمزور اور گوشہ نشیں کردیں، ایک جعلی حدیث (نَحْنُ مُعَاشَرَ الأنْبِیَائِ لَا نُورِّث) (ہم گروہ انبیاء میراث نہیں چھوڑتے) کے بہانے انہوں نے اسے اپنے قبضہ میں لے لیا اور باوجود یہ کہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا قانونی طور پر اس پر متصرف تھیں اور کوئی شخص ''ذوالید''(جس کے قبضہ میں مال ہو)سے گواہ کا مطالبہ نہیں کرتا،جناب سیدہ سلام اللہ علیہا سے گواہ طلب کئے گئے ، بی بی نے گواہ پیش کئے کہ رسول اکرم ص نے خود انہیں فدک عطا فرمایا ہے لیکن انہوں نے ان تمام چیزوں کی کوئی پرواہ نہیں کی، بعد میں آنے والے خلفا میں سے جو کوئی اہل بیت علیہم السلام سے محبت کا اظہار کرتا تو وہ فدک انہیں لوٹا دیتا تھا لیکن زیادہ دیر نہیں گزرتی تھی کہ آنے والہ دوسرا خلیفہ اسے چھین لیتا تھا اور دوبارہ اس پر قبضہ کرلیتا تھا، خلفائے بنی امیہ اور خلفائے بنی عباس نے بارہا ایسا ہی کیا

(١)سورۂ روم ، آیت ٣٨. (٢)در منثور ، جلد ٤صفحہ ١٧٧.
(٣)کنز العمال ، جلد ٢صفحہ ١٥٨. (٤) دیکھئے: کتاب فدک صفحہ ٤٩ کی طرف .
(٥)شرح ابن ابی الحدید ، جلد ١٦، صفحہ ٢٠٩ اور اس کے بعد .

واقعہ فدک اور اس سے متعلق مختلف واقعات جو صدر اسلام میں اور بعد میں پیش آئے،زیادہ دردناک اورغم انگیز ہیں اور وہ تاریخ اسلام کا ایک عبرت انگیز حصہ بھی ہیں جو محققانہ طور پر مستقل مطالعہ کا متقاضی ہے تا کہ تاریخ اسلام کے مختلف واقعات نگاہوں کے سامنے آسکیں۔
قابل توجہ بات یہ ہے کہ اہل سنت کے نامور محدث مسلم بن حجاج نیشاپوری نے اپنی مشہور و معروف کتاب ''صحیح مسلم'' میں جناب فاطمہ (سلام اللہ علیہا) کا خلیفہ اول سے فدک کے مطالبہ کا واقعہ تفصیل سے بیان کیا ہے، اور جناب عائشہ ر کی زبانی نقل کیا ہے کہ جب خلیفۂ اول نے جناب فاطمہ کو فدک نہیں دیا تو بی بی ان سے ناراض ہوگئیں اور آخر عمر تک ان سے کوئی گفتگو نہیں کی۔
(صحیح مسلم، کتاب جہاد ، جلد ٣ ص١٣٨٠ حدیث ٥٢)۔۔۔۔۔


دیگر تفصیل ۔ ۔
تفسیر نمونہ ، جلد ٢٣، صفحہ ٥١٠.

 
حیدر Rehan's Avatar
حیدر Rehan
Senior Member
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,881
شکریہ: 7,925
2,141 مراسلہ میں 4,913 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 362
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا
shafresha (05-11-11), عروج (03-11-11)
پرانا 03-11-11, 04:16 PM   #2
Senior Member
 
محمدخلیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: جنڈانوالہ کھاریاں پاکستان
عمر: 26
مراسلات: 10,975
کمائي: 48,856
شکریہ: 7,287
5,956 مراسلہ میں 15,118 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدخلیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدخلیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

واللہ و عالم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔
محمدخلیل آن لائن ہے   Reply With Quote
محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (05-11-11)
پرانا 03-11-11, 04:27 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 2,286
کمائي: 26,481
شکریہ: 8,476
1,586 مراسلہ میں 3,509 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے دور حکومت میں : فدک : کا کیا کیا ؟ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی اولاد میں فدک کی میراث تقسیم کی یا نہیں ؟
نبیل خان آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے نبیل خان کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (03-11-11), shafresha (05-11-11), ارشد کمبوہ (03-11-11), بنت حوا (05-11-11), سیفی خان (06-11-11)
پرانا 05-11-11, 02:27 PM   #4
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,881
کمائي: 51,203
شکریہ: 7,925
2,141 مراسلہ میں 4,913 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : نبیل خان مراسلہ دیکھیں
حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے دور حکومت میں : فدک : کا کیا کیا ؟ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی اولاد میں فدک کی میراث تقسیم کی یا نہیں ؟
مولا علی علیہ سلام سے ،، جب باغ فدک کے بارے میں یہی سوال ہوا تو مولا نے جواب دیا ۔۔

" ظلم سے چھینی گئی چیز ہم واپس نہی مانگتے" ۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
نوٹ
اس جواب کا باطن کوئی غیر مومن نہی جان سکتا۔
حیدر Rehan آن لائن ہے   Reply With Quote
حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (05-11-11)
پرانا 05-11-11, 02:31 PM   #5
Senior Member
 
ارشد کمبوہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2010
مقام: Bhawal Pur
مراسلات: 1,478
کمائي: 19,791
شکریہ: 4,532
893 مراسلہ میں 2,297 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر Rehan مراسلہ دیکھیں
مولا علی علیہ سلام سے ،، جب باغ فدک کے بارے میں یہی سوال ہوا تو مولا نے جواب دیا ۔۔

" ظلم سے چھینی گئی چیز ہم واپس نہی مانگتے" ۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
نوٹ
اس جواب کا باطن کوئی غیر مومن نہی جان سکتا۔
اس بات کا کوئی حوالہ ثبوت؟
کیوں علی المرتضی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر جھوٹ باندھ رہے ہو۔
ارشد کمبوہ آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے ارشد کمبوہ کا شکریہ ادا کیا
shafresha (05-11-11), نبیل خان (05-11-11), بنت حوا (05-11-11), سام (05-11-11)
پرانا 05-11-11, 10:11 PM   #6
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 2,286
کمائي: 26,481
شکریہ: 8,476
1,586 مراسلہ میں 3,509 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر Rehan مراسلہ دیکھیں
مولا علی علیہ سلام سے ،، جب باغ فدک کے بارے میں یہی سوال ہوا تو مولا نے جواب دیا ۔۔

" ظلم سے چھینی گئی چیز ہم واپس نہی مانگتے" ۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
نوٹ
اس جواب کا باطن کوئی غیر مومن نہی جان سکتا۔
بہت خوب حیدر صاحب عجیب منطق ہے آپکی ایک طرف تو آپ حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کو مشکل کشا مانتے ہیں اور دوسری طرف کہتے ہیں کہ ان کی بیوی حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو میراث میں ملی ہوئی جائداد پہ غیروں نے قبضہ کر لیا ۔۔۔ عجیب منطق ھے جناب
نبیل خان آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے نبیل خان کا شکریہ ادا کیا
ارشد کمبوہ (06-11-11), سیفی خان (06-11-11)
پرانا 05-11-11, 10:36 PM   #7
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,676
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,138 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

حيدر ريحان بھائي كيا خيال ہے ان غير ضروري مباحث ميں خود اور دوسروں كو الجھانے كے بجائے اصل مدعا پر بات كيوں نہ كر لي جائے۔۔۔

يہي كہ مسلمانوں اور مومنوں ميں آخر وہ كيا حقيقي اختلاف ہے جس كي وجہ سے يہ تفريق ہے دونوںميں؟؟؟
كيا سمجھے؟؟؟
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔

Last edited by شمشاد احمد; 06-11-11 at 10:04 AM.
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
ننھا بچہ (05-11-11), نبیل خان (08-11-11), ارشد کمبوہ (06-11-11), رضی (07-11-11), سیفی خان (06-11-11)
پرانا 06-11-11, 11:45 PM   #8
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2011
مراسلات: 257
کمائي: 5,574
شکریہ: 444
124 مراسلہ میں 510 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اول یہ کہ مذکورہ آیت (فاتِ ذَا القُربیٰ حَقّہُ) کے بجائے وَآتِ ذَا الْقُرْبَى حَقَّهُ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَلاَ تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا ہے
دوم وہ مقدس ہستیاں جو کہ ناصرف ساری زندگی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ہمراہ ہم رکاب رہی ہوں بلکہ رحلت کے بعد بھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ہمراہ محواستراحت ہوں . اور جنہوں نے اپنی اور اپنی اولاد کی بھوک کی پر دوسرے لوگوں کی ضرورت کو ترجیح دی اور خود تین روز تک روزہ دار ہونے کے باوجود صرف نمک سے روزہ افطار کیا ہو یہاں تک کی ان کی سخاوت کی شان میں قرآن کی آیات نازل ہو‎گئ ہوں ، وہ شخصیات آپس میں ایک معمولی باغ کی ملکیت پر نبروآزما تھیں؟
سوم در منثور کی جو روایت پیش کی گئی اسکی کوئی سند نہیں اور یہ ضعیف ہے در منثور کے حاشیہ میں
یہ لکھا ہے کہ یہ روایت کشف الاستار اور مسند ابی یعلی میں بھی مرقوم ہے اس روایت میں ایک راوی عطیۃالعوفی ہے جو کہ متروک اور ضعیف ہے اب دیکھتے ھیں کہ اس روای کے بارے میں اھل سنت علماء رجال کا کیا کہنا ھے۔
اسم الراوي : عطية بن سعد بن جنادة
اسم الشهرة : عطية بن سعد العوفي
المذهب : الشيعة
الرتبة : ضعيف الحديث
ابن عدي : مع ضعفه يكتب حديثه وكان يعد من شيعة الكوفة
البيهقي : ضعيف
أبو حاتم : ضعيف
أبو دواد : ليس بالذي يعتمد عليه
أحمد بن حنبل : ضعيف الحديث
النسائي : ضعيف
الدارقطني : ضعيف
الذهبي : ضعفوه
سفيان الثوري : يضعف حديثه
يحيى القطان : ضعيف
ابن حجر العسقلاني : كان شيعيا مدلسا
لہذا ، درج بالا تمام حوالاجات اور علماء رجال کے اقوال سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچی کہ یہ راوی "عطية العوفي" نہ صرف متروک الحدیث ، شیعہ ، بلکہ ضعیف بھی ھے۔ نیز کہ "فاطمہ الزہرہ (ر) کو باغ فدک کے ہبہ کئے جانے" کی یہ روایات "ضعیف" ھیں۔ اللہ سبحان و تعالیٰ ، شیعوں کو حق سمجھنے اور قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، آمین۔
آخر میں ایک دلچسپ واقعہ بھی پیش کرتا چلوں
سفاح نے خلیفہ ہونے کے بعد پہلا خطبہ "عباسیہ" کے مقام پر دیا۔ خطبہ دیتے وقت اس نے کلمہ شہادت پڑھا: اشھد ان لا الہ الا اللہ واشھد ان محمد عبدہ ورسولہ تو ایک شخص اٹھ کر کھڑا ہوا۔ وہ آل ابی طالب میں سے تھا۔ اس نے کہا "میں تجھے اس کا واسطہ دے کر کہتا ہوں جس کا تو نے ابھی خطبے میں نام لیا تو میرا انصاف کر دے۔" سفاح نے کہا "تجھ پر کس نے ظلم کیا؟" بولا "ابو بکر نے" سفاح نے پوچھا "کیا ظلم کیا؟" جواب دیا کہ "ابو بکر نے حضرت فاطمہ کو باغ فدک نہیں دیا۔"
یہ دعوی سن کر سفاح نے کہا "ابو بکر کے بعد کوئی اور بھی ہوا؟" اس نے کہا "ہاں۔" پوچھا کون؟" اس نے جواب دیا "عمر" سفاح نے کہا "عمر اس ظلم پر قائم رہے اور تمہارے ساتھ انصاف نہیں کیا؟" بولا "جی ہاں!" پوچھا "عمرکے بعد کوئی اور بھی ہوا؟" اس نے جواب دیا "عثمان" سفاح نے کہا "عثمان بھی اس ظلم پر قائم رہے اور تمہارے ساتھ انصاف نہیں کیا؟" بولا "جی ہاں۔" سفاح نے پھر پوچھا "عثمان کے بعد کوئی اور ہوا؟" اس نے کہا "ہاں" پوچھا کون؟" اس نے جواب دیا "علی" سفاح نے کہا "علی بھی اس ظلم پر قائم رہے اور انھوں نے بھی تمہارے ساتھ انصاف نہیں کیا؟" اب وہ شخص چپ ہو گیا اور لگا بغلیں جھانکنے۔ اب سفاح نے اسے ڈانٹا اور کہا "خدا کی قسم! خلیفہ ہونے کے بعد یہ میرا پہلا موقع نہ ہوتا تو تیرا سر جسم سے الگ کرا دیتا۔ بیٹھ اور خطبہ سن۔"ییی
__________________
یکے آنکہ در خویش خود بیں مباش
دوم آنکہ در غیر بد بیں مباش

Last edited by ملک اظہر; 07-11-11 at 07:54 PM.
ملک اظہر آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ملک اظہر کا شکریہ ادا کیا
نبیل خان (08-11-11), ملک زوالفقار (07-11-11)
جواب

Tags
color, گئی, وقت, واقعات, نشیں, نظر, میراث, محبت, اہل بیت, اللہ, اسلامی, توجہ, تحریر, جلد, حدیث, حصہ, شخص, طلب, عنوان, عائشہ, عباس, عبرت, صلح, صحیح, صدر


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 02:19 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger