|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 362
|
||||
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 2,286
کمائي: 26,481
شکریہ: 8,476
1,586 مراسلہ میں 3,509 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے دور حکومت میں : فدک : کا کیا کیا ؟ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی اولاد میں فدک کی میراث تقسیم کی یا نہیں ؟
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے نبیل خان کا شکریہ ادا کیا | dxbgraphics (03-11-11), shafresha (05-11-11), ارشد کمبوہ (03-11-11), بنت حوا (05-11-11), سیفی خان (06-11-11) |
|
|
#4 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
" ظلم سے چھینی گئی چیز ہم واپس نہی مانگتے" ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نوٹ اس جواب کا باطن کوئی غیر مومن نہی جان سکتا۔ |
|
|
|
|
| حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا گیا | shafresha (05-11-11) |
|
|
#5 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2010
مقام: Bhawal Pur
مراسلات: 1,478
کمائي: 19,791
شکریہ: 4,532
893 مراسلہ میں 2,297 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
کیوں علی المرتضی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر جھوٹ باندھ رہے ہو۔ |
|
|
|
|
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 2,286
کمائي: 26,481
شکریہ: 8,476
1,586 مراسلہ میں 3,509 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت خوب حیدر صاحب عجیب منطق ہے آپکی ایک طرف تو آپ حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کو مشکل کشا مانتے ہیں اور دوسری طرف کہتے ہیں کہ ان کی بیوی حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو میراث میں ملی ہوئی جائداد پہ غیروں نے قبضہ کر لیا ۔۔۔ عجیب منطق ھے جناب
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے نبیل خان کا شکریہ ادا کیا | ارشد کمبوہ (06-11-11), سیفی خان (06-11-11) |
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,676
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,138 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
حيدر ريحان بھائي كيا خيال ہے ان غير ضروري مباحث ميں خود اور دوسروں كو الجھانے كے بجائے اصل مدعا پر بات كيوں نہ كر لي جائے۔۔۔
يہي كہ مسلمانوں اور مومنوں ميں آخر وہ كيا حقيقي اختلاف ہے جس كي وجہ سے يہ تفريق ہے دونوںميں؟؟؟ كيا سمجھے؟؟؟
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔ Last edited by شمشاد احمد; 06-11-11 at 10:04 AM. |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا | ننھا بچہ (05-11-11), نبیل خان (08-11-11), ارشد کمبوہ (06-11-11), رضی (07-11-11), سیفی خان (06-11-11) |
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2011
مراسلات: 257
کمائي: 5,574
شکریہ: 444
124 مراسلہ میں 510 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اول یہ کہ مذکورہ آیت (فاتِ ذَا القُربیٰ حَقّہُ) کے بجائے وَآتِ ذَا الْقُرْبَى حَقَّهُ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَلاَ تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا ہے
دوم وہ مقدس ہستیاں جو کہ ناصرف ساری زندگی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ہمراہ ہم رکاب رہی ہوں بلکہ رحلت کے بعد بھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ہمراہ محواستراحت ہوں . اور جنہوں نے اپنی اور اپنی اولاد کی بھوک کی پر دوسرے لوگوں کی ضرورت کو ترجیح دی اور خود تین روز تک روزہ دار ہونے کے باوجود صرف نمک سے روزہ افطار کیا ہو یہاں تک کی ان کی سخاوت کی شان میں قرآن کی آیات نازل ہوگئ ہوں ، وہ شخصیات آپس میں ایک معمولی باغ کی ملکیت پر نبروآزما تھیں؟ سوم در منثور کی جو روایت پیش کی گئی اسکی کوئی سند نہیں اور یہ ضعیف ہے در منثور کے حاشیہ میں یہ لکھا ہے کہ یہ روایت کشف الاستار اور مسند ابی یعلی میں بھی مرقوم ہے اس روایت میں ایک راوی عطیۃالعوفی ہے جو کہ متروک اور ضعیف ہے اب دیکھتے ھیں کہ اس روای کے بارے میں اھل سنت علماء رجال کا کیا کہنا ھے۔ اسم الراوي : عطية بن سعد بن جنادة اسم الشهرة : عطية بن سعد العوفي المذهب : الشيعة الرتبة : ضعيف الحديث ابن عدي : مع ضعفه يكتب حديثه وكان يعد من شيعة الكوفة البيهقي : ضعيف أبو حاتم : ضعيف أبو دواد : ليس بالذي يعتمد عليه أحمد بن حنبل : ضعيف الحديث النسائي : ضعيف الدارقطني : ضعيف الذهبي : ضعفوه سفيان الثوري : يضعف حديثه يحيى القطان : ضعيف ابن حجر العسقلاني : كان شيعيا مدلسا لہذا ، درج بالا تمام حوالاجات اور علماء رجال کے اقوال سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچی کہ یہ راوی "عطية العوفي" نہ صرف متروک الحدیث ، شیعہ ، بلکہ ضعیف بھی ھے۔ نیز کہ "فاطمہ الزہرہ (ر) کو باغ فدک کے ہبہ کئے جانے" کی یہ روایات "ضعیف" ھیں۔ اللہ سبحان و تعالیٰ ، شیعوں کو حق سمجھنے اور قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، آمین۔ آخر میں ایک دلچسپ واقعہ بھی پیش کرتا چلوں سفاح نے خلیفہ ہونے کے بعد پہلا خطبہ "عباسیہ" کے مقام پر دیا۔ خطبہ دیتے وقت اس نے کلمہ شہادت پڑھا: اشھد ان لا الہ الا اللہ واشھد ان محمد عبدہ ورسولہ تو ایک شخص اٹھ کر کھڑا ہوا۔ وہ آل ابی طالب میں سے تھا۔ اس نے کہا "میں تجھے اس کا واسطہ دے کر کہتا ہوں جس کا تو نے ابھی خطبے میں نام لیا تو میرا انصاف کر دے۔" سفاح نے کہا "تجھ پر کس نے ظلم کیا؟" بولا "ابو بکر نے" سفاح نے پوچھا "کیا ظلم کیا؟" جواب دیا کہ "ابو بکر نے حضرت فاطمہ کو باغ فدک نہیں دیا۔" یہ دعوی سن کر سفاح نے کہا "ابو بکر کے بعد کوئی اور بھی ہوا؟" اس نے کہا "ہاں۔" پوچھا کون؟" اس نے جواب دیا "عمر" سفاح نے کہا "عمر اس ظلم پر قائم رہے اور تمہارے ساتھ انصاف نہیں کیا؟" بولا "جی ہاں!" پوچھا "عمرکے بعد کوئی اور بھی ہوا؟" اس نے جواب دیا "عثمان" سفاح نے کہا "عثمان بھی اس ظلم پر قائم رہے اور تمہارے ساتھ انصاف نہیں کیا؟" بولا "جی ہاں۔" سفاح نے پھر پوچھا "عثمان کے بعد کوئی اور ہوا؟" اس نے کہا "ہاں" پوچھا کون؟" اس نے جواب دیا "علی" سفاح نے کہا "علی بھی اس ظلم پر قائم رہے اور انھوں نے بھی تمہارے ساتھ انصاف نہیں کیا؟" اب وہ شخص چپ ہو گیا اور لگا بغلیں جھانکنے۔ اب سفاح نے اسے ڈانٹا اور کہا "خدا کی قسم! خلیفہ ہونے کے بعد یہ میرا پہلا موقع نہ ہوتا تو تیرا سر جسم سے الگ کرا دیتا۔ بیٹھ اور خطبہ سن۔"ییی
__________________
یکے آنکہ در خویش خود بیں مباش دوم آنکہ در غیر بد بیں مباش Last edited by ملک اظہر; 07-11-11 at 07:54 PM. |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے ملک اظہر کا شکریہ ادا کیا | نبیل خان (08-11-11), ملک زوالفقار (07-11-11) |
![]() |
| Tags |
| color, گئی, وقت, واقعات, نشیں, نظر, میراث, محبت, اہل بیت, اللہ, اسلامی, توجہ, تحریر, جلد, حدیث, حصہ, شخص, طلب, عنوان, عائشہ, عباس, عبرت, صلح, صحیح, صدر |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|