واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > تاریخ و عبر



تاریخ و عبر تاریخ و عبر


گلستان دیوبند کے چند پھولوں کی خوشبو

short url
موضوع بند کر دیا گیا ہے
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 19-01-12, 06:08 PM   #1
گلستان دیوبند کے چند پھولوں کی خوشبو
بنت حوا بنت حوا آف لائن ہے 19-01-12, 06:08 PM

الله رب العزت کے دربار اقدس میں عزت ومرتبہ دلانے والی صفت، صفت عبدیت ہے، جو خاصہ ہے تو اضع کا اور اسی دربار میں ذلیل ورسوا کرنے والی چیز تکبر ہے، اسی خصلت رذیلہ کی وجہ سے ابلیس لعین راندہٴ درگاہ ہوا اور ہمیشہ کے لیے لعنت خداوندی کا مستحق ٹھہرا، اعاذنا الله منہ․

اگر اخلاص، تواضع او رعبدیت کے کمالات حسنہ سے اپنے کو مزین کر لیا جائے تو پھر ایسے شخص کے لیے اطاعت خداوندی اور تقرب عندالله کے راستے کھلتے چلے جاتے ہیں، اس کی تھوڑی سی خدمت بھی حق تعالیٰ شانہ کے یہاں بہت زیادہ وزنی او رمقبول ہوتی ہے اور دنیا میں بھی اس کے دور رس اور گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

افضل البشر، خدائے بزرگ وبرتر کے بعد سب سے بزرگ ہستی، خاتم الرسل، حضرت محمد صلی الله علیہ وسلم کی تواضع کا یہ عالم تھا کہ آپ صلی الله علیہ وسلم کے خادم خاص حضرت انس رضی الله عنہ فرماتے ہیں :

آپ صلی الله علیہ وسلم زمین پر بیٹھ جاتے، بکری کا دودھ دوہ لیتے اور غلام کی دعوت بھی قبول فرمالیتے او رارشاد فرماتے: اگر مجھے ایک دست گوشت کی طرف دعوت دی جائے تو اسے بھی قبول کر لوں گا او راگر بکری کا ایک پایہ ہدیہ کیا جائے تو وہ بھی قبول کر لوں گا۔“ (شرح السنة للبغوی)

ایک مرتبہ کسی سفر میں چند صحابہ نے ایک بکری ذبح کرنے کا ارادہ فرمایا او راس کا کام تقسیم فرمایا، ایک نے اپنے ذمہ ذبح کرنا لیا ، دوسرے نے کھال نکالنا، کسی نے پکانا، حضور صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ پکانے کے لیے لکڑی اکٹھی کرنا میرے ذمہ ہے۔ صحابہ نے عرض کیا ،یا رسول الله! یہ کام ہم خود کر لیں گے ، حضور صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا یہ تو میں بھی سمجھتا ہوں کہ تم لوگ اس کو بہ خوشی کر لو گے، لیکن مجھے یہ بات پسند نہیں کہ میں مجمع میں ممتاز رہوں اور الله جل شانہ بھی اس کو پسند نہیں فرماتے۔ (الرحیق المختوم)

حضرت عائشہ رضی الله عنہا سے سوال کیا گیا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم گھر میں کیا کرتے تھے ؟ آپ نے جواب میں ارشاد فرمایا ”رسول الله صلی الله علیہ وسلم بھی انسانوں میں ایک انسان تھے، اپنے کپڑے میں خود جوں تلاش کر لیتے ( کہ کسی کے کپڑوں سے نہ آگئی ہو ) بکری کا دودھ دوہ لیتے تھے ، اپنا کپڑا سی لیتے اپنا کام خود کرتے ، اپنا جوتا گانٹھ لیتے اور وہ تمام کام سر انجام دیتے جو مرد اپنے گھروں میں انجام دیتے ہیں او رگھر والوں کی خدمت کرتے ، جب مؤذن کی آواز سنتے تو نماز کے لیے تشریف لے جاتے۔“ ( سنن الترمذی)

یہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے اخلاق حسنہ کی ایک ادنی سی جھلک ہے ، آپ صلی الله علیہ وسلم کی ایک ایک ادا سے تواضع، عاجزی اور عبدیت کا ظہور ہوتا ہے۔ آپ صلی الله علیہ وسلم کی یہ مبارک ادائیں سینہ بہ سینہ منتقل ہوتی ہوئی ساڑھے تیرہ سو سال کے بعددیوبند کے فرزندوں میں پوری طرح روشن چمکتے ہوئے ستاروں کی طرح دمکتی ہوئی نظر آتی ہیں،

سنت نبوی صلی الله علیہ وسلم کا پورے کا پورا نمونہ ان قدسی صفات سے منور نفوس میں پوری طرح نظر آتا ہے ، آپ صلی الله علیہ وسلم کے اخلاق کریمانہ کی ہر خصلت کو ان حضرات نے سینے سے لگایا اور ثابت کر دکھایا کہ عاشق رسول کون ہے اور گستاخ رسول کون ہے۔

دیوبند کے پروانوں میں سے جس پر بھی انگلی رکھ دی جائے وہی بے مثال نظر آتا ہے ، جب حضرت العلام مولانا محمد انور شاہ صاحب کشمیری کی وفات ہوئی تو لاہور میں ان کی یاد میں ایک تعزیتی جلسہ منعقد کیا گیا، جس میں خطاب کرتے ہوئے شاعر مشرق نے کیا خوب کہا #

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پے روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
پھر کہا کہ اسلام کی آخری پانچ سو سالہ تاریخ علامہ انور شاہ کشمیری کی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہے، ایسا بلندپایہ عالم او رفاضل جلیل اب پیدا نہ ہو گا۔

جب کہ حقیقت یہ ہے کہ شاعر مشرق کی اس بات کا مصداق صرف حضرت کشمیری ہی نہ تھے، بلکہ حضرت کے اساتذہ ، تلامذہ، ہم عصر سب ہی دُریکتا تھے۔

ذیل میں گلستان دیوبند کے چند پھولوں کی تھوڑی تھوڑی خوش بو بطور نمونہ پیش کی جائے گی، ضرورت ہے کہ ان حضرات کی سوانح کا مستقل مطالعہ کرتے ہوئے اپنے لیے راہ عمل کو منتخب کیا جائے کہ ان نفوس قدسیہ کی قوت عمل سامنے ہونے کے بعد ہمارے لیے راہ عمل سے فرار ممکن نہیں رہ جاتا۔

حضرت مولانا مملوک علی صاحب نانوتوی رحمہ الله

حضرت اقدس، مولانا محمدیعقوب نانوتوی کے والد ماجد اور حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی وحضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمہم الله کے استاذ تھے، بڑے ہی منکسر مزاج، صاحب مروت، خوش اخلاق، متقی، عبادت گزار اور سادہ طبیعت انسان تھے، ایسا معلوم ہوتا تھا کہ نفسانیت ان کے قریب بھی نہیں پھٹکی، ان کا ایک واقعہ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب رحمہ الله نے ”قصص الاکابر“ میں لکھا ہے کہ ” مولانا مملوک علی ہمیشہ دہلی آتے اورجاتے، جب کاندھلہ سے گزرتے تو باہر سڑک پر گاڑی چھوڑ کر ملنے آتے، مولانا مظفر حسین صاحب اول یہ پوچھتے کہ کھانا کھا چکے یا کھاؤ گے؟ اگر کہتے ”کھا چکا“ تو پھر کچھ نہیں او راگر نہ کھائے ہوئے ہوتے تو کہہ دیتے کہ میں کھاؤں گا ۔تو مولانا پوچھتے کہ رکھا ہوا لا دوں یاتازہ پکوا دوں؟ چناں چہ ایک مرتبہ یہ فرمایا کہ رکھا ہوا لادو اس وقت صرف کھچڑی کی کھرچن تھی اسی کو لے آئے اور فرمایا کہ رکھی ہوئی تو یہی تھی انہوں نے کہا بس! یہی کافی ہے۔ پھر جب رخصت ہوتے تو مولانا مظفر حسین صاحب ان کو گاڑی تک پہنچانے جاتے تھے، یہی ہمیشہ کا معمول تھا۔“ ( سیرت یعقوب ومملوک ص:35,34)

سبحان الله! سادگی، بے تکلفی، حسن معاشرت کی کیسی جیتی جاگتی تصویر ہے، مولانا مظفر حسین کاندھلوی کا خلوص اور بغیر کسی تصنع کے کھرچن کا پیش کرنا او رمولانا مملوک علی صاحب کا اسے بغیر کسی ناگواری کے بے حد خندہ پیشانی سے قبول کرنا، کتنی بہترین زندگی کی طرف راہ دکھاتا ہے، جس میں سکون ہی سکون ہے۔

حضرت مولانا مظفر حسین صاحب کاندھلوی رحمہ الله

آپ حضرت مولانا شاہ محمد اسحاق صاحب رحمہ الله کے شاگرد اورحضرت شاہ عبدالغنی صاحب محدث دہلوی رحمہ الله کے ہم سبق تھے۔

”آپ ایک مرتبہ تشریف لے جارہے تھے کہ راستہ میں ایک بوڑھا ملا، جو بوجھ لیے جارہا تھا، بوجھ زیادہ تھا او روہ بمشکل چل رہا تھا، حضرت مولانا مظفر حسین صاحب نے یہ حال دیکھا تو اس سے وہ بوجھ لے لیا اور جہاں وہ لے جانا چاہتا تھا وہاں پہنچا دیا ، اس بوڑھے نے اس سے پوچھا، اجی ! تم کہاں رہتے ہو ؟ انہوں نے کہا کہ بھائی میں کاندھلہ میں رہتا ہوں ، اس نے کہا ” وہاں مولوی مظفر حسین بڑے ولی ہیں“ اور یہ کہہ کر ان کی بڑی تعریفین کیں، مگر مولانا نے فرمایا”[COLOR="rgb(160, 82, 45)"] اور تو اس میں کوئی بات نہیں ہے ، ہاں! نماز تو پڑھ لیتا ہے[/COLOR] “ اس نے کہا واہ میاں ! تم ایسے بزرگ کو ایسا کہو؟ مولانا نے فرمایا میں ٹھیک کہتا ہوں، وہ بوڑھا ان کے سر ہو گیا، اتنے میں ایک اور شخص آیا، جو مولانا کو جانتا تھا، اس نے بوڑھے سے کہا، بھلے مانس ! مولوی مظفر حسین یہی ہیں، اس پر وہ بوڑھا مولانا سے لپٹ کر رونے لگا۔“ (اکابر دیوبند کیا تھے؟ :100 ارواح ثلاثہ:14

حجة الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی رحمہ الله


آپ بہت خوش مزاج او رعمدہ اخلاق تھے، مزاج تنہائی پسند تھا، اکثر خاموش رہتے، اس لیے ہر کسی کو کچھ کہنے کا حوصلہ نہ ہوتا تھا، تعظیم سے نہایت گھبراتے تھے، بے تکلف ہر کسی کے ساتھ رہتے، اپنے کو مولوی کہلانے سے خوش نہیں ہوتے تھے، کوئی نام لے کر پکارتا تو خوش ہوتے۔( بیس بڑے مسلمان:117)

ایک بار حضرت نانوتوی جارہے تھے، ایک جولا ہے نے بوجہ سادگی کے، اپنا ہم قوم سمجھ کر آپ سے پوچھا” صوفی جی! آج کل سوت کا کیا بھاؤ ہے؟“ حضرت نے ذرا بھی ناگواری کا اظہار کیے بغیر فرمایاکہ ”بھائی! آج بازار جانا نہیں ہوا، اس لیے معلوم نہیں کہ کیا بھاؤ ہے۔“ (اصلاحی مضامین:52)

مولوی امیر الدین صاحب نے فرمایا کہ ایک مرتبہ بھوپال سے مولانا کی طلبی آئی اور پانچ سو روپیہ ماہوار تنخواہ مقرر کی ، میں نے کہا ” اے قاسم! تو کیوں نہیں جاتا“؟ تو فرمایا کہ ” وہ مجھے صاحب کمال سمجھ کر بلاتے ہیں او راسی بنا پر وہ پانچ سو روپے دیتے ہیں، مگر اپنے اندر میں کوئی کمال نہیں پاتا، پھر کس بنا پر جاؤں؟“ میں نے بہت اصرار کیا مگر نہیں مانے۔ ( اصلاحی مضامین:159)

حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب نانوتوی

حضرت کا ایک واقعہ ہے
کہ ایک صاحب نے آپ کو کھانے کی دعوت دی، آپ نے قبول فرمالی، اس شخص کا گاؤں فاصلے پر تھا، لیکن اس نے سواری کا کوئی انتظام نہیں کیا، جب کھانے کا وقت آیا تو آپ پیدل ہی روانہ ہو گئے،
دل میں یہ خیال بھی نہیں آیا کہ ان صاحب نے سواری کا کوئی انتظام نہیں کیا، سواری کا انتظام کرنا چاہیے تھا،
بہرحال اس کے گھر پہنچے، کھانا کھایا، کچھ آم بھی کھائے، اس کے بعد جب واپس چلنے لگے تو اس وقت بھی اس نے سواری کا کوئی انتظام نہیں کیا، بلکہ الٹا یہ غضب کیا کہ بہت سارے آموں کی گٹھڑی بنا کر حضرت کے حوالے کر دی کہ حضرت! یہ کچھ آ م گھر کے لیے لیتے جائیں۔ اس الله کے بندے نے یہ نہ سوچا کہ اتنی دور جانا ہے اور سواری کا کوئی انتظام بھی نہیں ہے، کیسے اتنی بڑی گٹھڑی لے کر جائیں گے؟ مگر اس نے وہ گٹھڑی مولانا کو دے دی اور مولانا نے وہ قبول کر لی اور اٹھا کر چل دیے۔ اب ساری عمر مولانا نے کبھی اتنا بوجھ اٹھایا نہیں، شہزادوں جیسی زندگی گزاری، اب اس گٹھڑی کو کبھی ایک ہاتھ میں اٹھاتے، کبھی دوسرے ہاتھ میں اٹھاتے ، چلے جارہے ہیں ، یہاں تک کہ جب دیوبند قریب آنے لگا تو دونوں ہاتھ تھک کر چور ہو گئے، نہ اس ہاتھ میں چین، نہ اس ہاتھ میں چین، آخر کار اس گٹھڑی کو اٹھا کر اپنے سر پر رکھ لیا، جب سر پرر کھا تو ہاتھوں کو کچھ آرام ملا تو فرمانے لگے، ہم بھی عجیب آدمی ہیں، پہلے خیال نہیں آیا کہ اس گٹھڑی کو سر پر رکھ دیں، ورنہ اتنی تکلیف نہ اٹھانی پڑتی۔ او راب مولانا اس حالت میں دیوبند میں داخل ہو رہے ہیں کہ سر پر آموں کی گٹھڑی ہے اب راستے میں جو لوگ ملتے وہ آپ کو سلام کر رہے ہیں، آپ سے مصافحہ کر رہے ہیں، آپ نے ایک ہاتھ سے گٹھڑی سنبھال لی اور دوسرے ہاتھ سے مصافحہ کرتے رہے ، اسی حالت میں آپ اپنے گھر پہنچ گئے اور آپ کو ذرا برابر بھی یہ خیال نہیں آیا کہ یہ کام میرے مرتبے کے خلاف ہے اور میرے مرتبے سے فروتر ہے، بہرحال! انسان کسی بھی کام کو اپنے مرتبے سے فروتر نہ سمجھے، یہ ہے تواضع کی علامت۔ (اصلاحی خطبات:43/3)

حضرت حاجی امداد الله مہاجر مکی رحمہ الله

حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ الله نے ارشاد فرمایا کہ ایک مرتبہ حضرت حاجی صاحب رحمہ الله کے پاس ایک شخص آئے اور عرض کیا ایسا وظیفہ بتلا دیجیے کہ خواب میں حضور صلی الله علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہو جائے، حضرت نے فرمایا کہ آپ کا بڑا حوصلہ ہے! ہم تو اس قابل بھی نہیں کہ روضہ مبارک کے گنبد شریف ہی کی زیارت نصیب ہو جائے۔

الله اکبر! کس قدر شکستگی وتواضع کا غلبہ تھا، اس پر حضرت والا (تھانوی صاحب رحمہ الله) نے فرمایا کہ یہ سن کر ہماری آنکھیں کھل گئیں، حضرت کی عجیب شان تھی، اس فن کے امام تھے ہر بات میں شانِ محققیت وحکمت ٹپکتی تھی، یہی وجہ ہے کہ حضرت کے خادموں میں سے کوئی محروم نہیں رہا، ہر شخص کی اصلاح وتربیت اس کی حالت کے مطابق فرماتے تھے۔ (ملفوظات حکیم الامت:92/1)

ایک سلسلہ گفت گو میں ( حضرت تھانوی رحمہ الله) نے فرمایا کہ مولانا محمد حسین صاحب الہ آبادی سے کسی نے پوچھا تھا کہ آپ نے حاجی صاحب رحمة الله علیہ میں کیا دیکھا کہ جس کی وجہ سے خادمانہ تعلق رکھ لیا؟ فرمایا اسی وجہ سے تو تعلق قائم کیا کہ وہاں کچھ نہیں دیکھا، مطلب یہ تھا کہ کوئی تصنع کی بات نہیں دیکھی تھی، خوب ہی جواب دیا، واقعی بات تو یہ ہے کہ اپنے بزرگوں میں ایسی باتوں کا نام ونشان نہ تھا، بہت سادہ وضع اور متبع سنت تھے، دوسروں کی کسی قسم کا ڈھونگ نہ تھا، پس یہی طرز قابل پسند ہے۔ ( ملفوظات حکیم الامت:336/2)

امام ربانی حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمہ الله

شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا صاحب رحمہ الله فرماتے ہیں:”حضرت گنگوہی نورا لله مرقدہ کے متعلق مولانا عاشق الہی صاحب لکھتے ہیں کہ سچی تواضع او رانکسار نفس جتنا امام ربانی میں دیکھا گیا دوسری جگہ کم نظر سے گزرے گا، حقیقت میں آپ اپنے آپ کو سب سے کم تر سمجھتے تھے، بحیثیت تبلیغ جو خدمات عالیہ آپ کے سپرد کی گئیں تھیں یعنی ہدایت وراہ بری، اس کو آپ انجام دیتے، بیعت فرماتے، ذکر وشغل بتلاتے، نفس کے مفاسد وقبائح بیان فرماتے او رمعالجہ فرماتے تھے،مگر بایں ہمہ اس کا کبھی وسوسہ بھی آپ کے قلب پر نہ گذرتا تھا کہ میں عالم ہوں او ریہ جاہل، میں پیر ہوں اور یہمرید، میں مطلوب ہوں اور یہ طالب، مجھے ان پر فوقیت ہے ، میرا درجہ ان کے اوپر ہے ، کبھی کسی نے نہ سنا ہو گا کہ آپ نے اپنے خدام کو خادم یا مستوسل یا منتسب کے نام سے یاد فرمایا ہو، ہمیشہ اپنے لوگوں سے تعبیر فرماتے اور دعا میں یاد رکھنے کی اپنے لیے طالبین سے بھی زیادہ ظاہر فرماتے تھے

، ایک مرتبہ تین شخص بیعت کے لیے حاضر آستانہ ہوئے، آپ نے ان کو بیعت فرمایا اور یوں ارشاد فرمایا کہ :” تم میرے لیے دعا کرو، میں تمہارے لیے دعا کروں گا، اس لیے کہ بعض مرید بھی پیر کو تیرا لیتے ہیں۔“۔ ( آپ بیتی:241/2، بحوالہ تذکرہ الرشید:2/174)

بریلی کے مولوی احمد رضا خان صاحب نے اکابر دیوبند کی تکفیر اور ان پرسب وشتم کا جو طریقہ اختیار کیا تھا وہ ہر پڑھے لکھے انسان کو معلوم ہے، ان فرشتہ صفت اکابر پر گالیوں کی بوچھاڑ کرنے میں انہوں نے کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی، لیکن حضرت گنگوہی رحمہ الله نے جو اس دشنام طرازی کا سب سے بڑا نشانہ تھے، ایک روز اپنے شاگرد رشید حضرت مولانا محمدیحییٰ کاندھلوی صاحب سے فرمایا:” اجی! دور کی گالیوں کا کیا ہے ؟ پڑی ( یعنی بلا سے ) گالیاں ہوں، تم سناؤ، آخر اس کے دلائل تو دیکھیں، شاید کوئی معقول بات ہی لکھی ہو تو ہم ہی رجوع کریں۔“ (ارواح ثلاثہ:211)

الله اکبر! حق پرستوں کا شیوہ کہ مخالفین، بلکہ دشمنوں کی باتیں بھی ان کی دشنام طرازیوں سے قطع نظر، اس نیت سے سنی جائیں کہ اگر اس سے اپنی کوئی غلطی معلوم ہو تو اس سے رجوع کر لیا جائے۔ ( اکابر دیوبند کیا تھے؟114)

شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی صاحب

مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ الله لکھتے ہیں:
”میری عمر پندرہ سولہ سال کی ہو گی کہ دارالعلوم کی قدیم عمارت نودرہ کے عقب میں ایک عظیم الشان دارالحدیثتعمیر کرنے کی تجویز ہوئی ، اس کے لیے بڑی گہری بنیادیں نودرہ کی عمارت سے متصل کھودی گئیں، اتفاقِ وقت سے بڑی تیز بارش ہوئی او رکافی دیر تک رہی ، یہ زمین کچھ نشیب میں تھی ، بارش کے پانی سے ساری بنیادیں لبریز ہو گئیں، دارالعلوم کی قدیم عمارت کو خطرہ لاحق ہو گیا، فائز بریگیڈئیر انجنوں کا زمانہ نہیں تھا اور ہوتا بھی تو ایک قصبہ میں کہاں؟

حضرت شیخ الہند رحمہ الله کو اس صورت حال کی اطلاع ملی تو اپنے گھر میں جتنی بالٹیاں اور ایسے برتن تھے، جن سے پانی نکالا جاسکے، سب جمع کرکے حضرت کے مکان پر جو طالب علم او ردوسرے مریدین جمع رہتے تھے، ان کو ساتھ لے کر ان پانی سے بھری گہری بنیادوں پر پہنچے اور بدست خود بالٹی سے پانی نکال کر باہر پھینکنا شروع کیا، شیخ الہند رحمہ الله کے اس معاملہ کی خبر پورے دارالعلوم میں بجلی کی طرح پھیل گئی، پھر کیا پوچھنا، ہر مدرس اور ہر طالب علم اور ہر آنے جانے والا اپنے اپنے برتن لے کر اس جگہ پہنچ گیا اور بنیادوں کا پانی نکالنا شروع کیا، احقر بھی اپنی قوت وحیثیت کے مطابق اس میں شریک تھا، میں نے دیکھا کہ چند گھنٹوں میں یہ سارا پانی بنیادوں سے نکل کر کیچڑ رہ گیا تو اس کو بھی بالٹیوں سے صاف کیا گیا۔ اس کے بعد ایک قریبی تالاب پر تشریف لے گئے اور طلبہ سے کہا کہ اس میں غسل کریں گے ، حضرت رحمہ الله اول عمر سے سپاہیانہ زندگی رکھتے تھے، پانی میں تیراکی کی بڑی مشق تھی، حضرت کے ساتھ طلبہ بھی جو تیرنا جانتے تھے وہ درمیان میں پہنچ گئے، مجھ جیسے آدمی جو تیرنے والے نہ تھے کنارے پر کھڑے ہو کر نہانے لگے ، یہ واقعہ تو خود احقر نے دیکھا او ر سیرو شکار میں طلبہ کے ساتھ بے تکلف دوڑنا بھاگنا، تالابوں میں تیرنا یہ عام معمول زندگی تھا، جس کے بہت سے واقعات دوستوں اور بزرگوں سے سنے ہیں، دیکھنے والے یہ نہ پہچان سکتے تھے کہ ان میں کون استاد اور کون شاگرد؟ “( چند عظیم شخصیات:11)

مفتی اعظم دارالعلوم دیوبند حضرت مولانا مفتی عزیز الرحمان صاحب رح
:

حضرت مولانا محمد منظور احمد نعمانی صاحب تحریر فرماتے ہیں:
”حضرت مفتی صاحب منصب اور عہدہ کے لحاظ سے دارالعلوم دیوبند کے مفتی اکبر ( بعد کی اصطلاح میں صدر مفتی) تھے، تفسیر یا حدیث کا کوئی سبق بھی پڑھا دیتے تھے، اس کے ساتھ وہ نقش بندی مجددی طریقہ کے صاحب ارشاد شیخ بھی تھے، حضرت شاہ عبدالغنی مجددی رحمہ الله کے خلیفہ حضرت مولانا شاہ رفیع الدین کی راہ نمائی اور تربیت میں راہ سلوک طے کی تھی اوران ہی کے مجاز تھے،
وہ دارالعلوم کے اس وقت کے اکابر واساتذہ میں سب سے بڑے، بلکہ سب کے بڑے تھے اور سب ہی ان کا بڑا احترام کرتے ہیں، حضرت مفتی صاحب میں جو کمال بہت ہی نمایاں تھا، جس کو ہم جیسے صرف ظاہری آنکھیں رکھنے والے بھی دیکھتے تھے، وہ ان کی انتہائی بے نفسی تھی، معلوم ہوتا تھا کہ الله کے اس بندہ کے اندر وہ چیز ہے ہی نہیں جس کا نام نفس ہے، یہ بات عام طور پر مشہور تھی کہ گھروں کے جو کام نوکروں اور نوکرانیوں کے کرنے کے ہوتے ہیں، حضرت مفتی صاحب عند الضرورت وہ سب کام ( جیسے گھر میں جھاڑو دینا، برتنوں کا دھونا، مانجھنا وغیرہ) یہ سب بے تکلف، بلکہ بشاشت اور خوشی کے ساتھ کر لیتے ہیں ، آس پاس کے غریب گھرانوں کے پیسے پیسے ، دو دو پیسے کا سودا بھی خرید کے بازار سے لادیتے ہیں، دوسروں کے پھٹے جوتے لے جاکر ان کی مرمت کرالیتے ہیں۔

راقم سطور شہادت دے سکتا ہے کہ بے نفسی کا ایسا کوئی دوسرا نمونہ اس عاجز نے نہیں دیکھا۔“( تحدیث نعمت:ص127)

امام العصر حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیری

حضرت مولانا محمد یوسف بنوری فرماتے ہیں کہ طلاق کے ایک مسئلہ میں کشمیر کے علماء میں اختلاف ہو گیا، فریقین نے حضرت شاہ صاحب کو حَکَم بنایا، حضرت شاہ صاحب نے دونوں کے دلائل غور سے سنے، ان میں سے ایک فریق اپنے موقف پر ”فتاویٰ عمادیة“ کی ایک عبارت سے استدلال کر رہا تھا، حضرت شاہ صاحب نے فرمایا:” میں نے دارالعلوم کے کتب خانہ میں فتاوی عمادیہ کے ایک صحیح قلمی نسخے کا مطالعہ کیا ہے ، اس میں یہ عبارت ہر گز نہیں ہے ، لہٰذا یا توان کا نسخہ غلط ہے، یا یہ لوگ کوئی مغالطہ انگیزی کر رہے ہیں۔“

ایسے علم وفضل اور ایسے حافظے کا شخص اگر بلند بانگ دعوے کرنے لگے تو کسی درجہ میں اس کو حق پہنچ سکتا ہے ، لیکن حضرت شاہ صاحب اس قافلہٴ رشدوہدایت کے فرد تھے جس نے”من تواضع لله“ کی حدیث کا عملی پیکر بن کر دکھایا تھا، چنا ں چہ اسی واقعہ میں جب انہوں نے حضرت بنوری کو اپنا فیصلہ لکھنے کا حکم دیا تو انہوں نے حضرت شاہ صاحب الحبر البحر(عالم متبحر) کے دو تعظیمی لفظ لکھ دیے، حضرت شاہ صاحب نے دیکھا تو قلم ہاتھ سے لے کر زبردستی خود یہ الفاظ مٹائے اور غصہ کے لہجے میں مولانا بنوری سے فرمایا:

”آپ کو صرف مولانا محمد انور شاہ لکھنے کی اجازت ہے۔“

پھر ایسا شخص جو ہمہ وقت کتابوں ہی میں مستغرق رہتا ہو ، اس کا یہ جملہ ادب وتعظیم کتب کے کس مقام کی نشان دہی کرتا ہے کہ:

” میں مطالعہ میں کتاب کو اپنا تابع کبھی نہیں کرتا، بلکہ ہمیشہ خود کتاب کے تابع ہو کر مطالعہ کرتاہوں“۔

چناں چہ حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب رحمہ الله فرماتے ہیں کہ:
” سفر وحضر میں ہم لوگوں نے کبھی نہیں دیکھا کہ لیٹ کر مطالعہ کر رہے ہوں یا کتاب پر کہنی ٹیک کر مطالعہ میں مشغول ہوں، بلکہ کتاب کو سامنے رکھ کر مؤدب انداز سے بیٹھتے ، گویا کسی شیخ کے آگے بیٹھے ہوئے استفادہ کر رہے ہوں۔“

اور یہ بھی فرمایا کہ:
” میں نے ہوش سنبھالنے کے بعد اب تک دینیات کی کسی کتاب کا مطالعہ بے وضونہیں کیا۔“( اکابر دیوبند کیا تھے:97)

حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب

مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی محمد شفیع صاحب فرماتے ہیں کہ :

”حقیقت یہ ہے کہ علمائے دیوبند کا جو خاص امتیاز ہے وہ یہ تھا کہ اپنے آپ کو مٹانا، اپنے آپ کو کچھ نہ سمجھتا، جب میں تھانہ بھون میں حاضر ہوا، حضرت رحمة الله علیہ کو الله تعالیٰ نے ایک شان جلال او رایک رعب اور وجاہت عطا فرمائی تھی، چہرہ مبارک بڑا وجیہ تھا، اگر وہ اپنی وجاہت کو چھپانا بھی چاہیں تو نہیں چھپا سکتے، لیکن ان سب باتوں کے باوجود طالب علموں اور دوسرے لوگوں میں ملے جلے رہتے تھے، ایک مرتبہ میں نے مغرب کے بعد آپ کو دیکھا کہ ایک صاحب کرتا اتار ے ہوئے، صرف پائجامہٴ پہنے ہوئے، حوض کے پاس چٹائی پر لیٹے ہوئے ہیں، میں اِدھر اُدھر گھوم رہا تھا او رمجھے پتہ بھی نہیں کہ یہ حضرت والا لیٹے ہوئے ہیں او رپاس میں طلبہ بھی تھے، بعد میں پتہ چلا کہ حضرت والا لیٹے ہوئے ہیں۔

اس طرح ان حضرات کی خاص شان تھی، یہ چیز دنیا میں شاذونادر ہی ملتی ہے ،یہ خصوصی وصف الله تعالیٰ نے ان بزرگوں کو دیا تھا، افسوس! اب ہمیں پاس بزرگوں کی صحبت حاصل نہیں رہی، صرف مدارس اورکتابیں رہ گئی ہیں ، الله تعالیٰ ہمارے اندر بھی یہ وصف پیدا فرما دے، آمین۔“ ( مجالس مفتی اعظم:526)

حضرت تھانوی رحمہ الله کے معمولات میں یہ بات لکھی ہے کہ آپ نے یہ عام اعلان کر رکھا تھا کہ کوئی شخص میرے پیچھے نہ چلے، میرے ساتھ نہ چلے، جب میں تنہا کہیں جار ہاہوں تو مجھے تنہا جانے دیا کرو، حضرت فرماتے کہ یہمقتدا کی شان بنانا کہ جب آدمی چلے تو دو آدمی اس کے دائیں طرف اور دو آدمی اس کے بائیں طرف چلیں، میں اس کو بالکل پسند نہیں کرتا، جس طرح ایک عام انسان چلتا ہے ، اسی طرح چلنا چاہیے۔

ایک مرتبہ یہ اعلان فرمایا کہ اگر میں اپنے ہاتھ میں کوئی سامان اٹھا کر جارہا ہوں تو کوئی شخص آکر میرے ہاتھ سے سامان نہ لے ، مجھے اسی طرح جانے دے، تاکہ آدمی کی کوئی امتیازی شان نہ ہو اور جس طرح ایک عام آدمی رہتا ہے اس طریقے سے رہے۔ ( اصلاحی خطبات:32/5)

شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی صاحب

مولانا سید عطاء الله شاہ بخاری سے روایت ہے کہ یوپی کی ایک جگہ میری تقریر تھی ، رات کو تین بجے تقریر سے فارغ ہو کر لیٹ گیا، نیند اور بیداری کے درمیان تھاکہ مجھ کو محسوس ہوا کہ کوئی میرے پاؤں دبا رہا ہے ، میں نے کہا کہ لوگ اس طرح دباتے رہتے ہیں، کوئی مخلص ہو گا۔ مگر اس کے ساتھ یہ معلوم ہورہا تھا کہ یہ مُٹھی تو عجیب قسم کی ہے باوجود راحت کے نیند رخصت ہوتی جارہی تھی، سر اٹھایا تو دیکھا کہ حضرت مدنی ہیں! فوراً پھڑک کر چار پائی سے اتر پڑا اور ندامت سے عرض کیا، حضرت! کیاہم نے اپنے لیے جہنم جانے کا خود سامان پہلے سے کم کر رکھا ہے کہ آپ بھی ہم کو دھکا دے کر جہنم بھیج رہے ہیں ؟! شیخ نے جواب دیا کہ آپ نے دیر تک تقریر کی تھی، آرام کی ضرورت تھی اور آپ کی عادت بھی تھی اور مجھ کو سعادت کی ضرورت۔ ساتھ ہی نماز کا وقت بھی قریب تھا میں نے خیال کیا کہ آپ کی نماز ہی نہ چلی جائے، تو بتائیے حضرت میں نے کیا غلط کیا ہے؟ ( بیس بڑے مسلمان:515)

مولانا عبدالله فاروقی حضرت رائے پوری رحمہ الله سے بیعت تھے، لاہور دہلی مسلم ہوٹل میں برسہا برس خطیب رہے ، ان کا بیان ہے کہ میں مدینہ منورہ حاضر ہوا اور مولانا مدنی رحمہ الله کے ہاں قیام کیا، ایک روز جب مولانا کے ساتھ مسجد نبوی میں نماز پڑھنے گیا تو میں نے مولانا کا جوتا اٹھالیا، مولانا اس وقت تو خاموش رہے، دوسرے وقت جب ہم نماز پڑھنے کے لیے گئے، تو مولانا نے میرا جوتا اٹھاکر سر پر رکھ لیا، میں پیچھے بھاگا، مولانا نے تیز چلنا شروع کر دیا، میں نے کوشش کی کہ جوتالے لوں، نہیں لینے دیا، میں نے کہا کہ خدا کے لیے سر پر تونہ رکھیے، فرمایا! عہد کرو کر آئندہ حسین احمد کا جوتا نہ اٹھاؤ گے۔ میں نے عہد کر لیا، تب جوتا سر سے نیچے اتار کر رکھا۔ ( بیس بڑے مسلمان:516)

یہ چند شخصیات کا ادنیٰ سا او رمختصر سا نمونہ پیش کیا گیا ہے ورنہ اکابر علماء دیوبند کا چمنستان ایسا وسیع، خوش بو دار اور پھل دار ہے کہ پوری دنیا اس سے فیض حاصل کر رہی ہے اور کرتی رہے گی، یہ حضرات نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے علوم واعمال کو اپنے سینوں میں اتارنے والے، شب وروز میں انجام پانے والے ہر ہر عمل سے متعلق سنت نبوی صلی الله علیہ وسلم کو اپنانے والے اور ہر ہر فرد تک اسے پہنچانے والے تھے۔ اس گلستان کے ہر ہر پھول کی تاریخ پر کتب تک لکھی جاسکتی ہیں اور لکھی گئیں، ضرورت ہے کہ ان حضرات کی سوانح کو مستقل مطالعہ میں رکھ کر ان کی صفات قدسیہ کو اپنایا جائے۔

الله رب العزت ہم سب کو ان اکابرین کی صفات کو اپنانے کی اور ان کو پھیلانے کی توفیق عطا فرمائے۔

گلستان دیوبند کے چند پھولوں کی خوشبو

Last edited by بنت حوا; 19-01-12 at 06:23 PM..

بنت حوا
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2011
مراسلات: 1,133
شکریہ: 3,416
697 مراسلہ میں 1,606 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 455
10 قاری/قارئین نے بنت حوا کا شکریہ ادا کیا
compaq (22-01-12), dxbgraphics (20-01-12), فاروقی (24-01-12), نبیل خان (20-01-12), ایکسٹو (20-01-12), بٹ جی (21-01-12), حیدر (20-01-12), حسن قادری (21-01-12), راجہ اکرام (20-01-12), شمشاد احمد (20-01-12)
پرانا 20-01-12, 06:43 AM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 2,286
کمائي: 26,481
شکریہ: 8,476
1,586 مراسلہ میں 3,509 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جزاک اللہ خیرا۔ ۔ ۔ بہت شکریہ جناب ۔ ۔ ۔ علماء دیوبند حقیقت میں ایسے ہی تھے ۔ اور علماء حق کی یہ نشانی ہے کہ جب بھی باطل نے سر اٹھایا وہ اس کے مقابلہ میں ڈٹ گئے ۔ الحمدلِلہ علماء دیوبند میں یہ صفتِ خاصہ موجود تھی ۔۔۔ باطل جس روپ میں بھی آیا علماء دیوبند اس کے سامنے ڈٹ گئے اور کسی قسم کی قربانی دینے سے بھی دریغ نہ کیا ۔ ۔ ۔ جب برطانیہ نے اپنے منحوس قدم ہندوستان میں رکھے تو علماء دیوبند نے قلمی ، مالی اور جانی جہاد کا علم بلند کیا اور برطانیہ سے ٹکرا گئے شاملی کے میدان میں حافظ ضامن انگریز سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے اور اس لڑائی میں مجاہدین کی قیادت مولانا قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کے ہاتھ میں تھی جنہیں مشاورت سے سپاہ سلار مقرر کیا گیا تھا ۔ اور کمال کی بات ہے جب علماء حق نے ہندوستان کو دارالحرب قرار دیا اور انگریز کے خلاف علم جہاد بلند کیا تو انہی دنوں میں مولانا احمد رضاخان بریلوی نے فتوٰی دیا کہ ہندوستان دارالاسلام ہے اور انگریز کی حکومت میں ہمیں امن و سکون حاصل ہے لہٰزا انگریز کے خلاف خروج حرام ہے ۔ علماء حق لڑائی میں مصروف ہیں اور اعلٰی حضرت خان صاحب فتوٰی دے رہے ہیں کہ انگریز کی حکومت میں ہندوستان دارالاسلام ہے ۔ ۔ ۔ اور یہ علماء حق ہی ہے جنہں قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑ رہی ہیں مولانا جعفر تھانسری کو کالا پانی کی سزا ہوتی ہے اور جب انگریز کی طرف سے یہ ہیام ملتا ہے کہ جعفر صبح تمہیں پھانسی ہو گی تو مولانا جعفر تھانیسری وہ رات بڑی خوشی سے گزارتے ہیں ۔ انگریز حیران ہے کہ یہ مولوی خوش کیوں ہے تحقیق کی تو مولانا نے فرمایا صبح رہائی کا دن ہے اور کتنا مبارک دن ہے کہ کل اللہ کے محبوب کی زیارت ہوگی ۔انگریز نے کہا مولوی ہم تمہیں کسی حال میں بھی خوش نہیں ہونے دیں گئے مشورہ کیا اور اعلان کیا کہ ہم تمہیں پھانسی نھہں دیں گے اور یہ کہ کر مولانا کی داڑھی مونڈ دی ۔ مولانا جعفر تھانیسری بڑے غم زدہ بیٹھے ہیں کسی نے کہا حضرت جی آپ بڑے پریشان بیتھے ہیں ۔ آپ نے فرمایا۔
مستحقِ دار کو حکم نظر بندی ملا
میں کیا کہوں کیسے رہائی ہوتے ہوتے رہ گئی ۔
شیخ الہند مولانا محمودالحسن دیوبندی رحمۃ اللہ علیہ کو ”مالٹا “ کے جزیرے میں قیدوبند کی سزا سنائی گئی ۔مولانا محمودالحسن دیوبندی نے ” تحریکِ رشمی رومال “ شروع کی تھی جس میں آپ کے شاگرد اور مرید مولانا عبیداللہ سندھی کو آپ نے دوسرے ممالک میں سفیر بنا کر بھیجاجس میں روس بھی شامل ہے تاکہ انگریز کے خلاف بھر پور طاقت سے وار کیا جائے جس سے انگریز کو ہر حال میں یہاں سے بھاگنا پڑے ۔ ۔۔ مگر اس تحریکی کی ناکامی پر شیخ الہند کو گرفتار کر کے مالٹا کے جزیرے میں قید کر دیا گیا تو آپ نے قید کے دوران ایک عظیم کانامہ انجام دیا اور صرف اپنے حافظہ سے قرآن کریم کی تفسیر لکھی جو آج بھی تفسیر عثمانی کے نام سے عام ملتی ہے اور ایک امت اس سےاستفادہ حاصل کر رہی ہے ۔
حضرت حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ کو گرفتار کر کے انگریز نے جج کے سامنے پیش کیا ۔ اور جج نے پوچھا مولوی تم نے یہ فتوٰی دیا ہے کہ انگریز کی فوج میں بھرتی ہونا حرام ہے اور انگریز کی مالی معاونت کرنا حرام ہے ۔ ۔۔ کراچی کے خالق دینا حال میں مولانا مدنی نے انگریز کو مخاطب کرکے فرمایا فتوٰی دیا کیا ہوتا ہے میں تو اب بھی یہی کہتا ہوں اور جب تک زندہ ہوں کہتا رہوں گا کہ انگریز کو چندہ اور بندہ دینا دونوں حرام ہیں مولانا محمد علی جوہر نے حضرت مدنی کے پاؤں پکڑ لئے کہ حضرت فتوٰی بدل دیں ہندوستان کو آپ کی بہت ضرورت ہے آپ نے فرمایا جوہر اگر آج میں نے فتوٰی بدل دیا تو لوگوں کے دل بدل جائیں گئے ۔ جج نے کہا مولوی جانتے ہو اس کی سزا کیا ہے آپ نے اپنی بغل سے کپڑا نکال کر عدالت میں لہراتے ہوئے فرمایا اے انگریز سن جب میں دیوبند سے چلا تھا تو اپنا کفن ساتھ لایا تھا ۔۔ ۔ ۔
اب یارلو ان قدسی صفات علماء سے بغض و عداوت رکھیں تو اس میں کیا کہا یا کیا جا سکتا ہے بس اللہ سے دعا ہے کہ اللہ کریم ہمیں صراط مستقیم پہ چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین اور علما حق کے نقشِ قدم پہ چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

Last edited by نبیل خان; 20-01-12 at 06:56 AM.
نبیل خان آف لائن ہے  
7 قاری/قارئین نے نبیل خان کا شکریہ ادا کیا
compaq (22-01-12), dxbgraphics (20-01-12), فکری (21-01-12), ایکسٹو (20-01-12), بٹ جی (21-01-12), بنت حوا (20-01-12), حسن قادری (21-01-12)
پرانا 20-01-12, 08:05 AM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Oct 2011
مراسلات: 1,133
کمائي: 12,504
شکریہ: 3,416
697 مراسلہ میں 1,606 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اٰمین ۔
بنت حوا آف لائن ہے  
4 قاری/قارئین نے بنت حوا کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (20-01-12), ایکسٹو (20-01-12), بٹ جی (21-01-12), حسن قادری (21-01-12)
پرانا 20-01-12, 08:05 AM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Oct 2011
مراسلات: 1,133
کمائي: 12,504
شکریہ: 3,416
697 مراسلہ میں 1,606 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اٰمین ۔
بنت حوا آف لائن ہے  
4 قاری/قارئین نے بنت حوا کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (20-01-12), ایکسٹو (20-01-12), بٹ جی (21-01-12), حسن قادری (21-01-12)
پرانا 20-01-12, 06:16 PM   #5
Senior Member
 
ایکسٹو's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 766
کمائي: 12,963
شکریہ: 1,216
532 مراسلہ میں 1,580 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جزاک اللہ
اللہ تعالیٰ سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے
سر بکف سر بلند
ایکسٹو آف لائن ہے  
4 قاری/قارئین نے ایکسٹو کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (20-01-12), فکری (21-01-12), بٹ جی (21-01-12), حسن قادری (21-01-12)
پرانا 20-01-12, 07:41 PM   #6
Senior Member
مقبول
 
اعجازلاثانی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2010
مراسلات: 199
کمائي: 2,500
شکریہ: 276
125 مراسلہ میں 228 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میں نے جب یہ عنوان پڑھا تو بہت متاثر ہوا شاید مضمون نگار نے گلوں اور خوشبوؤں کا ذکر کیا ہوگا مگر جس کا شک تھا ہو پڑھ کے یقین میں بدل گیا کہ یہاں گلستاں اور وہ بھی ۔۔۔۔۔۔
ایک صالح ، فخر عالم علیہ السّلام کی زیارت سے خواب میں مشرف ہوئے تو آپ کو اردو میں کلام کرتے دیکھ کر پوچھا کہ آپ کو یہ کلام کہاں سے آگئی آپ تو عربی ہیں ؟
فرمایا کہ جب علمائے مدرسہ دیوبند سے ہمارا معاملہ ہوا ہم کو یہ زبان آگئی ۔ سبحان اللہ اس سے رُتبہ مدرسہ کا معلوم ہوا ۔
( براہین قاطعہ مصنفہ مولانا خلیل احمد انبیٹھی ص 30 )
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : بنت حوا مراسلہ دیکھیں
آپ صلی الله علیہ وسلم کی یہ مبارک ادائیں سینہ بہ سینہ منتقل ہوتی ہوئی ساڑھے تیرہ سو سال کے بعددیوبند کے فرزندوں میں پوری طرح روشن چمکتے ہوئے ستاروں کی طرح دمکتی ہوئی نظر آتی ہیں،
آپ کی بات درست ہے مگر اس سے دو سوال پیدا ہوتے ہیں
1۔ساڑھے تیرہ سو سال کے بعد پتہ نہیں کیسی معلومات پہنچی ہوں گی اور اولڈ سورس کی بیس پر کیسا دین مرتب کیا ہوگا۔
2۔ساڑھے تیرہ سو سال کے بعددیوبند کے فرزندوں کو روشن ہونا اور چمکنا یاد آیا کیا ان سے پہلے والوں کو روشن ہونا یا چمکنا نہیں آتا تھا یا ساڑھے تیرہ سو سال بھٹکے رہے تو اب روشن ہونا اور چمکنا یاد آیا

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : بنت حوا مراسلہ دیکھیں
اور ثابت کر دکھایا کہ عاشق رسول کون ہے ۔۔۔۔۔۔
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : بنت حوا مراسلہ دیکھیں
دیوبند کے پروانوں میں سے جس پر بھی انگلی رکھ دی جائے وہی بے مثال نظر آتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔
اوپر دیئے گئے اقتباسات میں تضاد کیوں ہے؟ پہلے لکھا "اور ثابت کر دکھایا کہ عاشق رسول کون ہے" بعد میں لکھا "دیوبند کے پروانوں میں سے جس پر بھی انگلی رکھ دی جائے وہی بے مثال نظر آتا ہے" دوسرے بیان سے ثابت ہوا کہ وہ عاشقِ دیوبند تھے ناکہ محبان سرکارِ دوعالم (صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم)

اقتباس:
جب حضرت العلام مولانا محمد انور شاہ صاحب کشمیری کی وفات ہوئی تو لاہور میں ان کی یاد میں ایک تعزیتی جلسہ منعقد کیا گیا، جس میں خطاب کرتے ہوئے شاعر مشرق نے کیا خوب کہا #

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پے روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
استغفراللہ اتنی دروغ گوئی ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کا کوئی حوالہ/دلیل دیں کہ یہ شعر ان کیلئے ہی کہا گیاتھا

اقتباس:
ایک مرتبہ یہ فرمایا کہ رکھا ہوا لادو اس وقت صرف کھچڑی کی کھرچن تھی اسی کو لے آئے اور فرمایا کہ رکھی ہوئی تو یہی تھی انہوں نے کہا بس! یہی کافی ہے۔ پھر جب رخصت ہوتے تو مولانا مظفر حسین صاحب ان کو گاڑی تک پہنچانے جاتے تھے، یہی ہمیشہ کا معمول تھا۔“ ( سیرت یعقوب ومملوک ص:35,34)

سبحان الله! سادگی، بے تکلفی، حسن معاشرت کی کیسی جیتی جاگتی تصویر ہے، مولانا مظفر حسین کاندھلوی کا خلوص اور بغیر کسی تصنع کے کھرچن کا پیش کرنا او رمولانا مملوک علی صاحب کا اسے بغیر کسی ناگواری کے بے حد خندہ پیشانی سے قبول کرنا، کتنی بہترین زندگی کی طرف راہ دکھاتا ہے، جس میں سکون ہی سکون ہے۔
آج کل سارا پاکستان نااہل حکمرانوں کی بدولت انہیں کے روشن اور چمکدار طریق اپنائے ہوئے ہے

اقتباس:
ان فرشتہ صفت اکابر پر گالیوں کی بوچھاڑ کرنے ۔۔۔۔۔۔۔
صرف "جولاہے کو جولاہا بن کے دکھانا، ناتواں ہونے کے باجود آم کی ٹوکری اٹھائے پھرنا، بنیادوں سے پانی نکالنا، تالاب میں طالبعلموں کے ساتھ نہانا، نوکروں اور نوکرانیوں کے کرنے کے کام ( جیسے گھر میں جھاڑو دینا، برتنوں کا دھونا، مانجھنا وغیرہ) ،کرتا اتار ے ہوئے، طالبعلموں کے درمیان صرف پائجامہٴ پہننے سے (جبکہ مرد کا ستر پاؤں سے ناف تک ہے۔ اور اس کو خاص شان سمجھا جا رہا ہے)، سر پر جاتا رکھ کر دوڑنے سے " فرشتہ صفت ہونا ہے ؟ واہ رے عقل ۔۔۔۔۔

اقتباس:
بریلی کے مولوی احمد رضا خان صاحب نے اکابر دیوبند کی تکفیر اور ان پرسب وشتم کا جو طریقہ اختیار کیا تھا وہ ہر پڑھے لکھے انسان کو معلوم ہے،
پڑھا لکھا وہی ہے جو گستاخانہ عبارتوں کو بھی ایمان کا حصہ سمجھے؟ حضور(صلی اللہ علیہ وسلم) کے علم سے شیطان کا علم زیادہ مانے؟
"شیطان اور ملک الموت کو تمام روئے زمین کا علم ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے لئے وسعت علم پر کوئی نص نہیں لٰہذا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے لئے ایسا علم ماننا شرک ہے"۔ (مولوی اشرف علی تھانوی)
ارواح ثلاثہ صفحہ 289 کا بھی ،مطالعہ کرلیں کیونکہ وہاں جو لکھا ہے مجھے لکھتے ہوئے شرم آتی ہے اور پاک نیٹ بھی شاید اجازت نہ دے
یہ میں نے جو کچھ لکھا ایک تھریڈ (جو میں نے آج ہی دیکھا) کو دیکھ کر لکھ رہا ہوں کہ اتنا لکھنے کی اجازت ہے تبھی تو لکھا گیا

Last edited by اعجازلاثانی; 20-01-12 at 08:51 PM. وجہ: ?
اعجازلاثانی آف لائن ہے  
2 قاری/قارئین نے اعجازلاثانی کا شکریہ ادا کیا
compaq (22-01-12), مفتی (21-01-12)
پرانا 20-01-12, 07:55 PM   #7
Senior Member
مقبول
 
اعجازلاثانی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2010
مراسلات: 199
کمائي: 2,500
شکریہ: 276
125 مراسلہ میں 228 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : کنعان مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم

گزارش کے طور پر لکھ رہا ہوں، اگر کوئی ممبر اپنے آئیڈیل پر کوئی تھریڈ بناتا ھے تو اس پر صبر کرنا چاہئے، مخالفین کا اسطرح اس میں منفی پہلو تلاش کرنا اس میں نقصان کس کا ہوتا ھے اس پر تھوڑی توجہ دیں تو بات سمجھ آ جاتی ھے۔

اس دھاگہ میں جنہوں نے منفی پہلو تلاش کئے وہ بھی اپنے آئیڈیلز بمعہ مسلک کو نہیں بچا پائے۔ اس پر اگر تیسری قوت مداخلت کرے تو اسے منکر حدیث کہا جائے گا۔

اپنی قوت اچھے کاموں میں استعمال کریں۔ شکریہ

والسلام
جناب کنعان صاحب آپ کی بات درست ہے یہاں بھی اتفاق سے ایسا ہوگیا
اعجازلاثانی آف لائن ہے  
اعجازلاثانی کا شکریہ ادا کیا گیا
مفتی (21-01-12)
پرانا 21-01-12, 07:37 AM   #8
Senior Member
مقبول
 
فکری's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2011
مراسلات: 185
کمائي: 3,102
شکریہ: 504
155 مراسلہ میں 421 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
ایک صالح ، فخر عالم علیہ السّلام کی زیارت سے خواب میں مشرف ہوئے تو آپ کو اردو میں کلام کرتے دیکھ کر پوچھا کہ آپ کو یہ کلام کہاں سے آگئی آپ تو عربی ہیں ؟
فرمایا کہ جب علمائے مدرسہ دیوبند سے ہمارا معاملہ ہوا ہم کو یہ زبان آگئی ۔ سبحان اللہ اس سے رُتبہ مدرسہ کا معلوم ہوا ۔
( براہین قاطعہ مصنفہ مولانا خلیل احمد انبیٹھی ص 3
اور اس کے بارے میں کیا راے ہیے مولوی سید امیراحمد خواب میں زیارت اقدس حضور صل اللہ علیہ وسلم سے مشرف ہوے کہ گھوڑے پر تشریف لے جاتے ہیں عرض کی یارسول اللہ حضور کہاں تشریف لے جاتے ہیں ،،فرمایا بر کات احمد کے جنازے کی نماز پڑھنے ،،الحمد للہ یہ جنازہ مبارکہ میں نے پڑھایا
،،،،، بتاے حضور صل اللہ علیہ وسلم مقتدی اعلی حضرت امام ،،،،،،،، کیا بات ہے تیرے عشق کی،،،،،،،،

Last edited by فکری; 21-01-12 at 07:45 AM.
فکری آف لائن ہے  
2 قاری/قارئین نے فکری کا شکریہ ادا کیا
بٹ جی (21-01-12), حسن قادری (21-01-12)
پرانا 21-01-12, 07:42 AM   #9
Senior Member
مقبول
 
فکری's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2011
مراسلات: 185
کمائي: 3,102
شکریہ: 504
155 مراسلہ میں 421 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
صرف "جولاہے کو جولاہا بن کے دکھانا، ناتواں ہونے کے باجود آم کی ٹوکری اٹھائے پھرنا، بنیادوں سے پانی نکالنا، تالاب میں طالبعلموں کے ساتھ نہانا، نوکروں اور نوکرانیوں کے کرنے کے کام ( جیسے گھر میں جھاڑو دینا، برتنوں کا دھونا، مانجھنا وغیرہ) ،کرتا اتار ے ہوئے، طالبعلموں کے درمیان صرف پائجامہٴ پہننے سے (جبکہ مرد کا ستر پاؤں سے ناف تک ہے۔ اور اس کو خاص شان سمجھا جا رہا ہے)، سر پر جاتا رکھ کر دوڑنے سے " فرشتہ صفت ہونا ہے ؟ واہ رے عقل ۔۔۔۔۔
کیا آپ نے دیکھا تھا کہ ناف ننگی تھی،،،،،، حضور صل اللہ علیہ وسلم بھی اپنے گھر کے کام کرتے ،،، یہ کوئی اعتراض نہیں مگر اعلی حضرت کی زریت جو ہوئی ،،،،،،،چپ نہ شود
فکری آف لائن ہے  
2 قاری/قارئین نے فکری کا شکریہ ادا کیا
بٹ جی (21-01-12), حسن قادری (21-01-12)
پرانا 21-01-12, 07:44 AM   #10
Senior Member
مقبول
 
فکری's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2011
مراسلات: 185
کمائي: 3,102
شکریہ: 504
155 مراسلہ میں 421 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
والسلام کے لئے ایسا علم ماننا شرک ہے"۔ (مولوی اشرف علی تھانوی)
ارواح ثلاثہ صفحہ 289 کا بھی ،مطالعہ کرلیں کیونکہ وہاں جو لکھا ہ
ذرا تزکرہ غوثیہ میں میاں صاحب اور گدھی کاواقعہ پڑھ لینا مجھے بھی شرم آتی ہے لکھتے ہوے،،،،،
فکری آف لائن ہے  
2 قاری/قارئین نے فکری کا شکریہ ادا کیا
بٹ جی (21-01-12), حسن قادری (21-01-12)
پرانا 21-01-12, 09:43 AM   #11
Senior Member
 
مفتی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2010
مراسلات: 540
کمائي: 7,067
شکریہ: 489
308 مراسلہ میں 689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فکری مراسلہ دیکھیں
کیا آپ نے دیکھا تھا کہ ناف ننگی تھی،،،،،، حضور صل اللہ علیہ وسلم بھی اپنے گھر کے کام کرتے ،،، یہ کوئی اعتراض نہیں مگر اعلی حضرت کی زریت جو ہوئی ،،،،،،،چپ نہ شود
صرف پاجامہ پہن کر کیا ننگا ہوتا ہے ؟
مفتی آف لائن ہے  
پرانا 21-01-12, 09:51 AM   #12
Senior Member
 
مفتی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2010
مراسلات: 540
کمائي: 7,067
شکریہ: 489
308 مراسلہ میں 689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جھوٹ لکھتے ہوئے تو شرم نہیں آتی نا؟ کیونکہ "ان" کو بھی نہیں آتی تھی ۔۔

خانقاہ گنگوہ کے بھرے مجمع میں مولانا گنگوہی کا مولانا نانوتوی سے لپٹنے کی فرمائش مولانا گنگوہی کا ان سے چپکنا اور مولانا نانوتوی کا انکار کرتے ہوئے جگ ہنسائی سے ڈرانا ۔ اس پر مولانا گنگوہی کا جواب کہ لوگ کہیں گے کہنے دو ۔
( پرواہ نہیں جب کوئی خدا سے بندوں سے پرواہ کرنا کیا )
دن دھاڑے گنگوہ کی خانقاہ میں اکابر دیوبند کے معاشقہ کی ٹریننگ :
ایک دفعہ گنگوہ کی خانقاہ میں مجمع تھا حضرت گنگوہی ، حضرت نانوتوی کے مرید و شاگرد سب جمع تھے اور یہ دونوں حضرات بھی وہیں مجمع میں تشریف فرما تھے کہ حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی نے حضرت مولانا قاسم نانوتوی سے محبت آمیز لہجے میں فرمایا ۔ یہاں ذرا سا لیٹ جاؤ ۔
حضرت نانوتوی کچھ شرما سے گئے مگر حضرت گنگوہی نے پھر فرمایا تو بہت ادب کے ساتھ چت لیٹ گئے اور مولانا قاسم نانوتوی کی طرف کروٹ لے کر اپنا ہاتھ اُن کے سینہ پر رکھ دیا جیسے کوئی عاشق صادق اپنے قلب کو تسکین دیا کرتا ہے ۔ مولانا قاسم نانوتوی ہر چند فرماتے رہے کہ میاں کیا کر رہے ہو ۔ یہ لوگ کیا کہیں گے ۔ حضرت ( گنگوہی) نے فرمایا لوگ کہیں گے کہنے دو ۔
( ارواح ثلٰثہ ص289 )
،،،،،،،چپ نہ شود
__________________
کعبے کے بَدرُالدّجٰی تم پہ کروڑوں درود ♥ شافع روزِ جزا تم پہ کروڑوں درود
اور کوئی غیب کیا تم سے نہاں ہو بھلا ♥ جب نہ خدا ہی چُھپا تم پہ کروڑوں درود

صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ واصحابہ وسلم

Last edited by مفتی; 21-01-12 at 12:53 PM.
مفتی آف لائن ہے  
مفتی کا شکریہ ادا کیا گیا
Ferozi (21-01-12)
پرانا 21-01-12, 10:32 AM   #13
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Dec 2011
مراسلات: 37
کمائي: 1,069
شکریہ: 140
34 مراسلہ میں 112 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

[QUOTE]جھوٹ لکھتے ہوئے تو شرم نہیں آتی نا؟ کیونکہ "ان" کو بھی نہیں آتی تھی ۔۔
الحمد للہ جھوٹ نہیں ہے ذرا پڑھ لیجے گا،،،،
بٹ جی آف لائن ہے  
بٹ جی کا شکریہ ادا کیا گیا
حسن قادری (21-01-12)
پرانا 21-01-12, 10:35 AM   #14
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Dec 2011
مراسلات: 37
کمائي: 1,069
شکریہ: 140
34 مراسلہ میں 112 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
خانقاہ گنگوہ کے بھرے مجمع میں مولانا گنگوہی کا مولانا نانوتوی سے لپٹنے کی فرمائش مولانا گنگوہی کا ان سے چپکنا اور مولانا نانوتوی کا انکار کرتے ہوئے جگ ہنسائی سے ڈرانا ۔ اس پر مولانا گنگوہی کا جواب کہ لوگ کہیں گے کہنے دو ۔
( پرواہ نہیں جب کوئی خدا سے بندوں سے پرواہ کرنا کیا )
دن دھاڑے گنگوہ کی خانقاہ میں اکابر دیوبند کے معاشقہ کی ٹریننگ :
ایک دفعہ گنگوہ کی خانقاہ میں مجمع تھا حضرت گنگوہی ، حضرت نانوتوی کے مرید و شاگرد سب جمع تھے اور یہ دونوں حضرات بھی وہیں مجمع میں تشریف فرما تھے کہ حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی نے حضرت مولانا قاسم نانوتوی سے محبت آمیز لہجے میں فرمایا ۔ یہاں ذرا سا لیٹ جاؤ ۔
حضرت نانوتوی کچھ شرما سے گئے مگر حضرت گنگوہی نے پھر فرمایا تو بہت ادب کے ساتھ چت لیٹ گئے اور مولانا قاسم نانوتوی کی طرف کروٹ لے کر اپنا ہاتھ اُن کے سینہ پر رکھ دیا جیسے کوئی عاشق صادق اپنے قلب کو تسکین دیا کرتا ہے ۔ مولانا قاسم نانوتوی ہر چند فرماتے رہے کہ میاں کیا کر رہے ہو ۔ یہ لوگ کیا کہیں گے ۔ حضرت ( گنگوہی) نے فرمایا لوگ کہیں گے کہنے دو ۔
( ارواح ثلٰثہ ص289 )

،،،،،،،چپ نہ شود
دونوں ہی بزرگ تھے اور ان کی پارسائی کا زمانہ گواہ
ادھر حضرت اعلی فر ماتے ہیں جوان لڑکی کو میں نے دیکھا ماں کا دودھ پی رہی تھی ،،،اب معلوم نہیں ،،،کس کو دیکھا یہ تو رضا خانی ہی بتا سکتے ہیں
بٹ جی آف لائن ہے  
بٹ جی کا شکریہ ادا کیا گیا
حسن قادری (21-01-12)
پرانا 21-01-12, 10:37 AM   #15
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Dec 2011
مراسلات: 37
کمائي: 1,069
شکریہ: 140
34 مراسلہ میں 112 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
صرف پاجامہ پہن کر کیا ننگا ہوتا ہے ؟
یہ تو اعلی حضرت کی ڈکشنری میں دیکھیں ،، ننگا کون ہوتا ہے،،،،،،،،،،
بٹ جی آف لائن ہے  
بٹ جی کا شکریہ ادا کیا گیا
حسن قادری (21-01-12)
موضوع بند کر دیا گیا ہے


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ہاکی کے ”گلابوں “ کا پیر محل میں منوں پھولوں سے استقبال جاویداسد خبریں 1 20-12-10 06:51 PM
وکی لیکس: پاکستانی لیڈروں نے امریکا کے سامنے خود کو ننگا کیا گلاب خان خبریں 5 03-12-10 03:26 PM
پاکستان رینجرز نے غلطی سے بھارت جانیوالے بچوں کو والدین کے حوالے کردیا عبدالقدوس خبریں 0 19-04-08 03:58 AM
اورنگی ٹاؤن:سفاک ٹرک ڈرائیور کی غفلت ،4 پھول جیسے بچوں کی زندگی کا چراغ گل خرم شہزاد خرم خبریں 0 01-01-08 10:31 AM
الیکشن کا نعر ہ لگا کر وطن آنیوالے سیاستدانوں کو انتخابی بائیکاٹ نہیں کر نا چاہیئے،نگراں وزیر اعظم خرم شہزاد خرم خبریں 0 06-12-07 09:04 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 02:21 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger