واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > تاریخ و عبر



تاریخ و عبر تاریخ و عبر


ہندوستان میں اسلام کی آمد : - حصہ دوئم

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات درجہ بندی: موضوع  کی درجہ بندی:  1 ووٹ 4.00 اوسط ظاہری انداز
پرانا 06-03-09, 08:29 PM   #1
ہندوستان میں اسلام کی آمد : - حصہ دوئم
طارق راحیل طارق راحیل آف لائن ہے 06-03-09, 08:29 PM
درجہ بندی: (1 votes - 4.00 average)

ہندوستان میں اسلام کی آمد : - حصہ دوئم
محمود غزنوی : -
حالانکہ ہماری مسخ شدہ تاریخ میں یہی رقم ہے کہ محمود غزنوی ہندوستان پر صرف مال و دولت کے لیے حملہ آور ہوتا تھا اور مال و دولت لوٹ کر وآپس چلا جاتا تھا اور اِس کے ثبوت میں کہا جاتا ہے کہا وہ ہر بار فتح کے بعد پھر غزنی لوٹ جاتا تھا اور مفتوحہ علاقے پر اپنا قبضہ برقرار نہیں رکھتا تھا اسی لیے اُس نے ہندوستان پر سترہ بار حملہ کیا تھا ۔
مگر جب ہم تاریخ کے اوراق پلٹتے ہیں تو حیرت ہوتی ہے اور کچھ نہایت ہی تلخ حقیقتیں منکشف ہوتی ہیں ہندوستان پر حملہ کرنے میں محمود غزنوی نے پہل نہیں کی تھی ۔ برہمن ہمیشہ سے مہا بھارت کا خواب دیکھ رہے ہیں ہندوؤں کے مطابق فرات کے کناروں سے لیکر مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ تک کی سرزمین مہا بھارت کی حصہ تھی اور اب جسے وہ دوبارہ حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اُس وقت بھی ہندوؤں کی یہی خواہش اور کوشش تھی اور اِس خواہش کو پورا کرنے میں صرف ایک ہی مشکل تھی اور وہ تھا محمود غزنوی کا باپ سلطان سپگتین جو نہایت ہی بہادر اور شیر دل حکمران تھا ، ہندوؤں نے لاھور کے راجہ جے پال کی زیر کمان ایک بہت ہی بڑا لاؤں لشکر تیار کیا اور غزنی پر حملہ آور ہوئے سلطان سپگتین نے نہایت ہی بہادر سے اُن کا مقابلہ کیا اور اُنہیں شکست دی اِس جنگ سے پہلے پنڈتوں نے راجی جے پال کی فتح کی پیشنگوئیاں کی تھی نوجوان محمود غزنوی اِس جنگ میں باپ کے ساتھ تھا شکست کے بعد جب راجہ لاھور پہنچا تو ہر طرف صفِ ماتم بچھ گیا ہندوؤں کے رواج کے مطابق اگر کوئی راجہ کسی جنگ میں شکست کھاتا ہے تو وہ اپنے جانشین کے حق مین تخت سے دستبردار ہوجاتا ہے تھا مگر راجہ کے بیٹے نے باپ کو ایک اور موقع دیا راجہ ایک بار پھر بھرپور تیاریوں اور اپنے کالی دیوی کے سامنے کئی انسانوں کی قربانی دینے کے بعد غزنی پر حملہ آور ہوا مگر اِس بار بھی اُسے منہ کی کھانی پڑی شکست خوردہ فوج لاہور پہنچی تو راجہ نے خود کشی کر لی اور اُسکا بیٹا تخت نشین ہوتے ہی ایک بار پھر جنگ کی تیاریاں کرنے لگا اُدھر غزنی میں بھی سلطان سبگتین کا انتقال ہو گیا محمود غزنوی اُس وقت غزنی سے دور کسی صوبے کا گورنر تھا محمود کا چھوٹا اور سوتیلا بھائی مسعود غزنی کے تخت پر قابض ہو گیا وہ کم سن تھا اِس لیے نا تجربے کار تھا اور چاپلوس قسم کے مصاحبوں کے دام میں جلد آگیا اور اپنے بھائی محمود کو باغی قرار دیا مھمود غزنوی نے صلح کی بہت کوشش کی مگر وہ نہ مانا آخر دونون بھائیون کے مابین جنگ ہوئی اور محمود غالب آیا مرنے سے پہلے کبھی سبگتین نے محمود کو نصیحت کی تھی کہ ہندوؤں کو چین سے مت بیٹھنے دینا ورنہ وہ تمہین چین سے نہیں بیٹھنے دینگے تخت نشینی کے بعد محمود غزنوی کو ہندوؤں کے ارادے کا علم ہوا تو وہ فوج لیکر خود ہندوستان پر حملہ آور ہوا مگر اُسکی غیر موجودگی میں کئی علاقوں میں بغاوت پھوٹ پڑی اُسے وآپس لوٹنا پڑا اور پھر ایسا ہر بار ہوا وہ جب بھی ہندوستان پر حملہ کرتا کوئی نہ کوئی مسلمان حکمران اُسکی پیٹ پر حملہ کردیتا اور اُسے وآپس لوٹنا پڑتا اور یہی سبب تھا کہ وہ سترہ بار حملہ آور ہوا اور اُس نے ہر بار مختلف علاقوں پر حملہ کیا آخری حملہ سومنات (دیبل - کراچی) پر کیا تھا کہا جاتا ہے کہ سومنات کے مندر میں جو بت تھا وہ سونے کا تھا حالانکہ یہ غلط ہے وہ کوئی بت نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک بہت بڑی چٹان کو مردانہ عضوِ مخصوص کی شکل میں تراش کر بنایا گیا تھا البتہ اُس پر سونے کے پترے چڑھے ہوئے تھے محمود غزنوی نے اُس پتھر کر پاش پاش کر دیا تھا اور غزنی کے میدان مین لاکر گھوڑوں کے سموں تلے روندا تھا ۔
محمود کے بعد مدتوں کسی حکمران کو ہندوستان جانے کی فرصت ہی نہ ملی کیونکہ وہ سب آپس میں ہی دست و گریباں تھے ۔
پھر محمد غور کو قوت ملی اور کئی معرکہ آرئیون کے بعد فتح ملی اور وہ اپنی حکومت بنانے میں کامیاب ہوا ۔
ہندوستان مین مغلوں کی آمد : -
ہندوستان پر باضابطہ حکومت بنانے والا پہلا مسلمان حکمران ظہیر الدین بابر ہی تھا بابر خود بہت اچھا شاعر تھا اُسکی لکھی ہوئی کتاب تزکِ بابری آج بھی تاجکستان کی یونیورسٹیو ں میں پڑھائی جاتی ہے بابر نہایت ہی نفیس طبیعت کا مالک تھا اُس نے ہندوستان کی حالت دیکھی تو حیران رہ گیا اُسکے الفاظ (کم و بیش ) میں پہلے لکھ چکا ہوں بابر نے اپنی قلم رو میں کئی ترجیحات کی کئی نظام مربوط کئے اُسے عمارتیں تعمیر کرنے کا جنون تھا اُس نے کئی خوبصورت عماراتیں تعمیر کروائیں بابر کے بعد اُسکا بیٹا ہمایوں تخت نشین ہوا ہمایوں بھی باپ کی طرح تھا اُسکے دور میں فرید خان سور نامی ایک چھوٹا سا جاگیردار اچانک طاقتور ہونے لگا حتی کے اُس نے مغلوں کو ایک بار پھر کابل میں دھکیل دیا اور شیر شاہ سوری کے نام سے تخت نشین ہوا ۔
شیر شاہ سوری : -
شیر شاہ سوری کا اصل نام فرید خان سور تھا اُسکا باپ اسماعیل خان سور بابر کے زمانے میں ہندوستان آیا تھا اور دربار بابری سے ایک چھوٹی سے جاگیر حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا فرید خان سور نہایت ہی قابل نوجوان تھا مگر اُسکی اپنے باپ سے کبھی نہ بنی باپ نے اُسے گھر سے نکال دیا شیر شاہ سوری کچھ عرصہ ایک مدرسے میں تعلیم حاصل کرتا رہا باپ کے انتقال کے بعد اپنی جاگیر مین لوٹ آیا کچھ عرصہ بعد اتنی طاقت حاصل کر لی کہ مغل شہنشاہوں کو مقابل جا کھڑا ہوگیا ۔ شیر شاہ سوری بھی نہایت ہی ذہین شخص تھا اُس نے بھی عوام کی فلاح کے لیے کئی کام کئے سڑکیں تعمیر کروائی مہمان خانے اور سرائے تعمیر کروائے آج کل جو پورے برصغیر میں جی ٹی روڈ سے مشہور سڑکیں ہیں یہ سب شیر شاہ کی ہی یادگار ہے ۔
ہمایوں : -
شیر شاہ سوری کو جلد ہی ذوال آگیا اُسکے جانشین بھی کمزور نکلے اور بابر کا بیٹا ہمایوں اپنے بھائی کامران کی مدد سے ایک بار پھر ہندوستان پر قابض ہوگیا اُسکے بعد اکبر کا دور آیا جلال الدین اکبر کے دور میں تو ہندوستانی تہزیب نے اپنی انتہاؤں کو چھولیا مگر خود اکبر بے دین ہوگیا اکبر کے بعد جہانگیر تخت نشین ہوا پھر شاہجہاں ، مشہور زمانہ تاج محل شاہجہاں ہی کی محبت کی نشانی ہے، شاہجہاں کے بعد اورنگ زیب عالمگیر تخت نشین ہوئے اورنگ زیب عالمگیر نہایت ہی سخت اور سادہ طبیعت کا مالک تھا اُس نے حکومت بھی اپنے بھائیوں کو قتل اور باپ کو زندان میں ڈال کر حاصل کی مگر پھر اُسکے بعد ساری عمر ٹوپیاں سی کر سادگی سے گزار دی ہندوستانی مورخین اُس پر اسلامی انتہا پسند ہونے کا الزام لگاتے ہیں اورکہتے ہیں کہ اُس نے ہندوؤن پر بہت ظلم کیا تھا وہ ہندوؤں‌ کو زبردستی مسلمان بنایا کرتا تھا اور اُس نے ہندوؤں کے کئی مقدس مندر گرا کر وہاں مسجدیں تعمیر کروائی تھی کچھ ہمارے لوگ بھی دبی دبی زبان میں اِس کا اقرار کرتے ہیں مگر ہم جب تاریخ کے اوراق پلتتے ہین تو پتہ چلتا ہے کہ اورنگ زیب عالمگیر نے جہاں مندر گرائے وہان کچھ مسجدیں بھی شہید کی اور یہ سب اُس نے اپنے خلاف بغاوت کرنے والے لوگوں کے خلاف کیا باغی اُن مندروں اور مساجد میں بیٹھ کر یا چھپ کر اُس کے خلاف سازشیں کرتے تھے ۔
پنڈت جواہر لال نہرو اپنی کتاب تلاشِ ہند میں لکھتا ہے ۔
ہندوستان میں اسلام اور اِن مختلف قوموں کی آمد نے جو اپنے ساتھ نئے خیالات اور زندگی کے مخلتف طرز لیکر آئے یہان کے عقائد اور ہیت اجتماعی کو متاثر کیا بیرونی فتح خواہ کیسی ہی برائیان لیکر آئے اِسکا ایک فائدہ ضرور ہوتا ہے کہ یہ عوام کی ذہنی افق میں وسعت پیدا کر دیتی ہے اُنہیں مجبور کر دیتی ہے کہ وہ اپنے ذہنی حصار سے باہر نکلیں وہ یہ سمجھنے لگتے ہین کہ دنیا اِس سے کئی گنا بری اور بوقلموں ہے جیسی وہ سمجھ رہے تھے ۔ بلکل اِسی طرح افغان فتح نے ہندوستان پر اثر ڈالا اور بہت سی تبدیلیاں وجود میں آگئی اِس سے زیادہ تبدیلیاں اُس وقت وجود میں آئی جب مغل ہندوستان میں داخل ہوئے کیونکہ یہ افغانیوں سے زیادہ شائستہ اور ترقی یافتہ تھے اُنہون نے خصوصیت کے ساتھ ہندوستان میں اُس نفاست اور صفائی کو پھیلایا جو اِس سے پہلے صرف ایران کا خآسہ تھی ۔ تلاشِ ہند ص 219 و ہندستانی مسلمان ص 30 ۔
مسلمان چونکہ صفائی پسند اور نفاست پسند تھے اِس لیے اُنہوں نے ہندوستان بھر میں صفائی اور نفاست کا انتظام کیا ہندو ہمیشہ سے کھدر پہنتا آیا تھا اُسے اطلس و ریشم سے روشناس کروایا، پاٹ شالائیں جو کبھی مندروں کا خاصہ تھی جہان صرف اونچی ذات کے لوگ ہی جا سکتے تھے مسلمانوں نے مدارس کی بنیاد رکھی اور اُن کے دروازے ہر کس و ناکس کے لیے کھول دئیے تجارت کے لیے طویل شاہرائیں بنوائیں راہ میں حفاظی چوکیاں اور مہمان خانے بنوائے شہرون میں صفائی کے محکمہ بنایا ، نظام عدل جو کہ ہندوستان میں کبھی رائج ہی نہ رہا تھا اُسے رائج کیا صنعتیں لگوائیں کارخانے لگوائے ہر چیز کا مکمل نظام مربوط کیا ۔
اگر ہندوستان میں مسلمان قدم نہ رکھتے تو ہم آج بھی برہمنی سامراج کے پنچے میں جھکڑے باقی دنیا سے ہزاروں نوری سال کے فاصلے پر ہوتے اور اِس کی واضع مثال آج بھی بہار اور اڑیسہ جیسی ریاستون میں چھوٹی ذات کے ہندوؤں کے ساتھ ہونے والے مظالم ہیں رہی بار مسلمانوں اور دوسری اقلیتون پر ہونے والے مظالم تو وہ اِن کے سوا ہیں ۔
(باقی آئیندہ )
تحقیق : آصف احمد بھٹی
__________________
سمجھو تو بہت قابلِ تعظیم ہے لوگوں
اِک دوست کا اِک دوست سے پیار کا رشتہ
www.tariqraheel.blogspot.com

 
طارق راحیل's Avatar
طارق راحیل
Senior Member
تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: Karachi
عمر: 27
مراسلات: 2,895
شکریہ: 4,003
1,175 مراسلہ میں 2,379 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 319
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے طارق راحیل کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (02-12-10), نیلم خان (03-12-10), ماسٹر مقسود (08-03-09), آصف وسیم (21-09-10)
پرانا 02-12-10, 11:45 PM   #2
ذیلی ناظم
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,248
کمائي: 121,392
شکریہ: 15,089
4,228 مراسلہ میں 12,902 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اچھی شئیرنگ ہے ۔
ھارون اعظم آن لائن ہے   Reply With Quote
ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا گیا
نیلم خان (03-12-10)
پرانا 03-12-10, 12:20 AM   #3
ذیلی ناظم
 
نیلم خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,903
کمائي: 560,423
شکریہ: 25,573
10,399 مراسلہ میں 38,458 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اچھی شئیرنگ ہے ۔
نیلم خان آن لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
کراچی, پسند, قدم, لوگ, چین, مکہ, مکمل, مقابلہ, محبت, آج, اکبر, ایران, الزام, اسلام, اسلامی, بھائی, تعلیم, جلد, خلاف, خان, دل, زندگی, زمانہ, سوری, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
عربی انقلاب کی ہندوستان میں گونج گلاب خان دیس ہوئے پردیس 2 27-02-11 10:22 AM
6اگست کو شب برأت پر مساجد میں محافل ذکر و شب بیداری ہوگی، مولانا بوستان خرم شہزاد خرم خبریں 3 06-08-09 12:42 AM
ہندوستان میں اسلام کی آمد : - حصہ اول طارق راحیل تاریخ و عبر 0 06-03-09 08:27 PM
متنازعہ فلم دوستانہ کو پاکستان میں نمائش کی اجازت محمدعدنان فلمی دنیا 0 12-11-08 07:19 AM
ہندوستان:ہاکی میں رشوت کا الزام محمدعدنان ہاکی 0 22-04-08 12:17 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 02:24 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger