| تاریخ و عبر تاریخ و عبر |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 350
|
||||
|
|
#2 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,340
کمائي: 52,076
شکریہ: 4,383
1,826 مراسلہ میں 6,818 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
جہاں تک بات سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی تو آپکی حیات مبارکہ کہ کس کس پہلو سے خود کو متعارف نہ کروایا جائے ساری حیات ہی مینارہ نور ہے آپ تو وہ قافلہ سالار عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں کہ جنکی حیات کا لمحہ لمحہ بلکہ ہر ساعت ہر پل ہر گھڑی عشق رسالت میں گندھ کر کشتہ عشق رسالت صلی اللہ علیہ وسلم بن چکی تھی اسی لیے آپکو رمز شناس رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مزاج آشناء رسول صلی اللہ علیہ وسلم کہا جاتا ہے ۔ ذیل میں ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کی کتاب القول الوثیق فی مناقب صدیق سے چند اقتباسات بطور تبریک پیش خدمت ہیں أوّل من أسلم من الرجال (بالغ مردوں ميں سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے ) . عن عائشة عن عمر بن الخطّاب قال کان أبو بکر أحبّنا إلٰي رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم و کان خيرنا و سيّدنا ذکر البيان بأنّ أبا بکر الصّدّيق رضي الله عنه أوّل من أسلم من الرّجال. ’’حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے کہ حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہم سب سے زیادہ محبوب تھے، اور ہم سے بہتر اور ہمارے سردار تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ گفتگو کرتے رہے یہاں تک کہ فرمایا : مردوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے حضرت ابو بکر تھے۔‘‘ 1. ابن حبان، الصحيح، 15 : 279. 278، رقم : 6862 2. هيثمي، موار دالظمآن، 1 : 532، رقم : 2199 3. بزار، المسند، 1 : 373، رقم : 251 عن ابن عمر قال أوّل من أسلم أبوبکر. ’’حضرت عبداللہ بن عمر رضي اللہ عنھما سے روایت ہے کہ جس شخص نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا وہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں۔‘‘ 1 طبراني، المعجم الاوسط، 8 : 190، رقم : 8365 2. هيثمي، مجمع الزوائد، 9 : 43 3. واسطي، تاريخ واسط، 1 : 254 عن عمرو بن مرة عن إبراهيم قال أبو بکر أوّل من أسلم مع رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم. ’’عمرو بن مرہ نے ابراہیم سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے کہا : حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ پرسب سے پہلے اسلام لانے والے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ ہیں۔‘‘ 1. احمد بن حنبل، فضائل الصحابه، 1 : 224، رقم : 262، 263 2. احمد بن حنبل، فضائل الصحابه، 1 : 225، رقم : 265 3. ابن ابي شيبه، المصنف، 7 : 336، رقم : 36583 4. طبري، تاريخ الامم والملوک، 1 : 540 عن عبداﷲ بن الحصين التّميميّ أنّ رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم قال مادعوت أحدا إلٰي الإسلام إلاّ کانت عنده کبوة و تردّد و نظر إلا أبابکر ما عکم عنه حين ذکرته ولا تردّد فيه. ’’عبداللہ بن حصین تمیمی سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں نے جس کسی کو اسلام کی دعوت دی اس نے کچھ نہ کچھ تردد، ہچکچاہٹ اور تامل کا اظہار ضرور کیا سوائے ابوبکر کے کہ اس نے بغیر کسی تردد و تامل کے فوراً میری دعوت قبول کر لی۔‘‘ 1. ابن کثير، البداية والنهاية، 3 : 27 2. ابن هشام، السيرة النبوية، 2 : 91 3. ابن کثير، تفسير القرآن العظيم، 2 : 444 4. حلبي، السيرة الحلبيه، 1 : 442 5. ابن عساکر، تاريخ دمشق، 30 : 44 6. محب طبري، الرياض النضرة، 1 : 415 عن عائشة : أنّ أبا بکر دخل علٰي رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم فقال : ’’انت عتيق اﷲ من النّار،‘‘ فيومئذ سمّي عتيقا. ’’اُمُّ المؤمنین عائشہ صدِّیقہ رضی اﷲ عنھا سے روایت ہے : حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ’’تم اﷲ رب العزت کی طرف سے آگ سے آزاد ہو۔‘‘ پس اُس دن سے آپ رضی اللہ عنہ کا نام ’’عتیق‘‘ رکھ دیا گیا۔ 1. ترمذي، الجامع الصحيح 5 : 616، ابواب المناقب، رقم : 3679 عن أبي يحيٰی سمع عليّا يحلف : لأنزل اﷲ إسم أبي بکر رضي الله عنه من السّمآء صدّيقا. ’’حضرت ابو یحیٰی سے روایت ہے انہوں نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو قسم اُٹھا کر کہتے ہوئے سُنا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا لقب ’’صدیق‘‘ اﷲ تعالیٰ نے آسمان سے نازل فرمایا. 1. حاکم، المستدرک، 3 : 65، کتاب معرفة الصحابه، رقم : 4405 ’’امّ المؤمنین عائشہ صدِّیقہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے آپ رضی اﷲ عنہا نے فرمایا : جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مسجد اقصیٰ کی طرف سیر کرائی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صبح لوگوں کو اس کے بارے بیان فرمایا توکچھ ایسے لوگ بھی اس کے منکر ہو گئے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لا چکے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصدیق کر چکے تھے۔ وہ دوڑتے ہوئے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے اور کہنے لگے : کیا آپ اپنے صاحب کی تصدیق کرتے ہیں جو یہ گمان کرتے ہیں کہ انہیں آج رات بیت المقدس تک سیر کرائی گئی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے؟ انہوں نے کہا، ہاں ! تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ’’اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے تو یقیناً سچ فرمایا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا، کیا آپ اُنکی تصدیق کرتے ہیں کہ وہ آج رات بیت المقدس تک گئے بھی ہیں اور صبح ہونے سے پہلے واپس بھی آگئے ہیں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ’’ہاں! میں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصدیق اُس خبر کے بارے میں بھی کرتا ہوں جو اس سے بہت زیادہ بعید از قیاس ہے، میں تو صبح و شام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آسمانی خبروں کی بھی تصدیق کرتا ہوں۔‘‘ پس اس تصدیق کی وجہ سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ’’الصدیق‘‘ کے نام سے موسوم ہوئے۔‘‘ 1۔حاکم نے ’المستدرک ( 3، 65 رقم : 4407)‘ ميں کہا ہے کہ يہ حديث صحيح الاسناد ہے۔ 2. عبدالرزاق، المصنف، 5 : 328 3. قرطبي، الجامع لاحکام القرآن، 1 : 283 4. طبري، جامع البيان، 15 : 6 5. ابن کثير، تفسير القرآن العظيم، 3 : 12 6. مقدسي، فضائل بيت المقدس، 1 : 83، رقم : 53
__________________
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پیکرِ دلرُبا بن کے آیا ،روحِ ارض و سما بن کے آیا سب رسولِ خُدا بن کے آئے ،وہ حبیبِ خُدا بن کے آٰیا |
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() |
سیرت حلبیہ میں لکھا ہے کہ سفر ہجرت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پنجوں کے بل چل رہے تھے کہ کہیں دشمن نشان ہاے قدم کے ذریعے ہمارا تعاقب نہ کرلے اس وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں مبارک چھل گئے اور زخمی ہو گئے ۔ جب سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے دیکھا تو آپ سے برداشت نہ ہوا اور عرض کی یا رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ میرے کندھوں پہ سوار ہو جائیں چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر صدیق کے کندھوں پر سوار ہو گئے
آپ ر ضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غار ثور تک پنہچا دیا ۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سبحان اللہ پیغمبر آخر زمان کی سواری بننے کا شرف بھی اگر انسانوں میں سے کسی کو حاصل ہوا ہے تو وہ سیدنا صدیق اکبر کو ہی حاصل ہوا ہے ۔ اللہ اللہ قربان جائیے صدیق اکبر کی شان ِ اقدس کے کہ جن کے کندھوں پہ خاتم الانبیاء سوار ہیں اس سواری کی سعادت کو تو آسمان کے فرشتے بھی حسرت سے دیکھ رہے ہوں گے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ایں سعادت بزور بازو نیست ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ Last edited by سیفی خان; 23-05-11 at 08:46 PM. |
|
|
|
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,169
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
آپ کا نام عبداللہ لقب صدیق اور ابو بکر آپ کی کنیت ہے۔ آپ کے والد کا نام ابو قحافہ اور آپ کی والدہ کا نام ام الخیر سلمٰی ہے۔ آپ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے تقریباً 2 سال چھوٹے ہیں۔ آپ کا سلسلہ نسب ساتویں پشت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سلسلہ نسب سے مل جاتا ہے۔
ایک مرتبہ حضرت عُمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اُمت میں سب سے افضل ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس اُمت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے بہتر حضرت ابو بکر اور عُمر رضی اللہ عنھم ہیں۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مردوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کیا۔ آپ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بے انتہا محبت فرماتے تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ لوگ اپنے ایمان کو چھپاتے تھے مگر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنے ایمان کو علی الاعلان ظاہر فرماتے تھے
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں |
|
|
|
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() |
جامع ترمذی میں امام ترمذی نے اور تاریخ الخلفاءمیں امام سیوطی رحمہ اللہ نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا یہ قول نقل کیا ہے ۔ کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہم سب کے سردار اور ہم سب سے بہتر ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہم سب سے زیادہ پیارے تھے ۔ غزوہ تبوک رجب9 ہجری میں پیش آیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس غزوہ کے لئے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے چندہ کی اپیل کی ۔ ہر صحابی نے اپنی طاقت کے مطابق اس غزوہ کے لئے مالی تعاون کیا ۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ : جس وقت غزوہ تبوک کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مالی تعاون کی اپیل کی ۔ اس وقت میرے پاس بہت مال تھا ۔ میں نے اپنے دل میں کہا کہ اگر ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بڑھ سکتا ہوں تو وہ یہی موقع ہے ۔ چنانچہ میں گھر گیا ۔ اور اپنا نصف مال لا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا ۔ عمر رضی اللہ عنہ ! اپنے اہل و عیال کے لئے کیا چھوڑ آئے ہو ؟ میں نے عرض کیا ۔ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نصف مال آپ کی خدمت اقدس میں پیش کر دیا ہے ۔ اور نصف مال اپنے اہل و عیال کے لئے چھوڑ آیا ہوں ۔ اس کے بعد حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ تشریف لائے ۔ ان کے پاس جو کچھ تھا ۔ وہ سب لا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں پیش کر دیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنے اہل و عیال کے لئے کیا چھوڑ آئے ہو ؟ تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : میں نے ان کے لئے اللہ اور اس کے رسول کو چھوڑا ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے یقین ہو گیا کہ میں ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کبھی بھی بازی نہیں لے جا سکتا ۔ علامہ اقبال نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے اس قول کو اس شعر میں نظم کیا ہے ۔ پروانے کو چراغ ہے بلبل کو پھول بس صدیق رضی اللہ عنہ کے لئے ہے خدا کا رسول بس Last edited by سیفی خان; 23-05-11 at 09:35 PM. |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| فصل, کوئی, پوری, یوم, وفات, ویسے, واقعہ, قابل, لکھیں, اکبر, ایسا, اللہ, امام, اراکین, بلا, تمام, خلیفہ, دعوت, رکھنے, رسول, رضی, زندگی, سیدنا, غار, صدیق |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| بارہ مئی کو یوم سیاہ منانے کا اعلان | ارشد کمبوہ | خبریں | 0 | 12-05-11 05:04 AM |
| یکم محرم یوم شہادت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ | سیپ | دلچسپ اسلامی تاریخی واقعات | 15 | 10-12-10 09:13 AM |
| یکم محرم الحرام۔۔۔۔یوم شہادت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ | راجہ اکرام | تاریخ و عبر | 7 | 20-12-09 08:09 AM |
| بجٹ کےموقع پر یوم سیاہ کا اعلان | محمدعدنان | خبریں | 1 | 05-06-08 10:39 PM |
| آئی سی ایل ورلڈ سیریز : انڈین الیون نے ورلڈ الیون کو شکست دیدی | عبدالقدوس | کھیل اور کھلاڑی | 0 | 13-04-08 09:37 AM |