واپس چلیں   پاکستان کی آواز > میرے پاکستان سے > تاریخ پاکستان




ایک دکھ بھرا قصّہ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 25-12-10, 11:28 PM   #1
ایک دکھ بھرا قصّہ
ALI-OAD ALI-OAD آن لائن ہے 25-12-10, 11:28 PM

ہمارے کچھ قبائل میں ایک رسم ہے کہ جب کوئی قبیلے کا نیا سردار چنا جاتا ہے تو تمام لوگ مل کر دعا مانگتے ہیں کہ ”یا اللہ قبیلے کو بزدل سردار سے بچانا“ دلیر سردار اگر ظلم بھی کر لے تو لوگ بخوشی برداشت کر لیتے ہیں کیونکہ وہ قبیلے کو دوسروں کے سامنے شرمندہ نہیں ہونے دیتا لیکن بزدل سردار ہمیشہ قبیلے کو ذلت اور رسوائی تک لے جاتا ہے‘ اس لئے باغیرت لوگ ذلت و رسوائی سے پہلے موت گلے لگانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ بہادر آدمی ہمیشہ ذلت کی زندگی کی نسبت بہادری کی موت پر فخر کرتا ہے۔

ٹیپو سلطان جیسا حکمران بھی یہ کہے بغیرنہ رہ سکا کہ ”شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے “ پشتو کے مشہور شاعر خوشحال خان خٹک نے بھی اپنے قبیلے کو یہی درس دیا ”وہ قوم قوم ہی نہیں جو اپنی عزت کیلئے مرنا نہیں جانتی۔“ مشرقی پاکستان کا سانحہ بھی کچھ اسی قسم کا تھا جو ہماری قومی غیرت کیلئے چیلنج ثابت ہوا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ پوری قوم سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جاتی لیکن کسی وجہ سے ایسا نہ ہو سکا۔ بدنامی اور بے شرمی کی کالک تمام قوم کے چہرے پر ملی گئی۔ تاریخ میں شاید یہ پہلی شکست تھی جو مسلمانوں نے ایک عورت سے کھائی تھی۔ غلطی جس کی بھی تھی اس کا فیصلہ تاریخ نے کر دیا ہے۔ بدنامی پوری قوم اور ہماری آنے والی نسلوںکے نام لکھ دی گئی ہے۔ اس بدنامی پر ہر پاکستانی دکھی تھااور آج تک دکھی ہے۔ ہمارے ایک بلوچ بزرگ سردار کا ردِ عمل توجہ کا حامل ہے جو قارئین کے گوش گزار ہے۔

1973ءمیں ہمارے گاﺅں کے کچھ فوجی جو جنگی قیدی تھے جب واپس آئے تو لوگوںنے اپنے اپنے طریقے سے خیرات بانٹی۔ گاﺅں کی مسجد میں نوافل ادا کئے گئے۔ شام کو لوگ جب گاﺅں کے واحد ڈیرے پر اکٹھے ہوئے تو خیرات کے چاول ڈیرے پر بیٹھے تمام لوگوں کو بھیجے گئے۔ لا محالہ بات مشرقی پاکستان کی طرف چلی گئی۔ میں اس وقت نیا نیا میجر بنا تھا اور گاﺅں چھٹی پر آیا ہوا تھا۔ گاﺅں کا ایک بزرگ جو تھا تو بالکل ان پڑھ لیکن تھا بڑا غیرت مند اور بہادر انسان۔ ساری عمر سر اٹھا کر گزاری تھی۔ قبیلے کی نوجوان نسل کے لئے وہ مثالی شخصیت تھی۔ اسے ہم سب عزت سے بڈھا بلوچ یا بڈھا سردارکے نام سے پکارتے تھے۔ جب چاول بانٹے گئے تو بابا جی ڈیرے پر موجود تھے۔ بابا جی نے حقے کا کش لیا اور میری طرف متوجہ ہو کر پوچھا:

”پتر اس جنگ میں کتنے جرنیل مارے گئے ہیں؟“ ”جرنیل تو کوئی نہیں لیکن بہت سے آفیسرزاور جوان شہید ہوئے ہیں“ جو مجھے یاد تھا۔ میں نے جواب دیا۔
”کتنے مولوی اور سیاستدان جہاد پر گئے تھے یا شہید ہوئے ہیں“۔ بابا جی نے مزید پوچھا۔
”میری اطلاع کے مطابق کوئی نہیں“ میں نے جواب دیا۔
اس پر بابا جی نے ایک قصہ سنایا۔کہنے لگا:
” ایک دفعہ چند مکھیاں پروانوں کے پاس گئیں اور کہا کہ ہم آپ سے رشتہ داری کرنا چاہتی ہیں۔ ہمیں بھی اپنے گروپ میں شامل کر لیں۔ پروانوں کے بزرگ نے جوا ب دیا کہ اچھا ہم سوچ کر جواب دیں گے۔ شام کے وقت جب لوگ دئیے جلاتے ہیں تو پروانوں کے بزرگ نے مکھیوں کو بلا کر کہا کہ جاﺅ گاﺅں میں دیکھ آﺅ کتنے دئیے جل رہے ہیں۔ مکھیاں چلی گئیں اور کچھ دیر بعد واپس آکر بتایا کہ کتنے دئیے جل رہے ہیں۔ یہ سن کر بزرگ پروانے نے کہا کہ تم لوگ چلے جاﺅ۔ آپ اور ہماری رشتہ داری نہیں ہو سکتی۔
”کیوں؟ “ مکھیوں نے حیران ہو کر پوچھا۔
بزرگ پروانے نے جواب دیا ”پروانوں کا کام ہوتا ہے شمع پر جل مرنا۔ اگر تم ہماری رشتہ دار ہوتیں تو ادھر ہی جل کر مر جاتیں ہمیں بتانے کیلئے واپس نہ آتیں۔“

بابا جی نے حقے کا ایک اور لمبا کش لیا اور گھمبیر آواز میں کہا ”پتر ہم سب مکھیاں ہیں مکھیاں، اگر ہم صحیح پاکستانی ہوتے تو وہاں مرجاتے واپس کیوں آتے؟ میں نے پاکستان بنتے دیکھا ہے پروانہ تو محض ایک ہی شخص تھا اور وہ شخص تھا قائد اعظم جو چلا گیا۔ اب تو ہمارے سیاستدان۔ مولوی اور جرنیل سب ایسے ہی ہیں۔ اگریہ پروانے ہوتے تو یوں پاکستان نہ ٹوٹتا۔ اٹھا لو میرے سامنے سے یہ خیرات کے چاول۔ ملک دے کر اور عزت لٹا کر آنے والے عزت دار نہیں کہلا سکتے اور ہم پیچھے بیٹھنے والے پاکستان کی عزت کے محافظ کیسے بن بیٹھے ہیں؟ فوج قوم کے بل بوتے پر لڑتی ہے ہم تو انہیں محاذِ جنگ پر بھیج کر ان کیلئے کچھ بھی نہ کر سکے۔ فوج کے جرنیل جن کا کام تھا فوج کو لڑانا۔ انہوں نے ہتھیار ڈال دئیے۔ ہر وقت گرج چمک کے ساتھ شور مچانے والے سیاستدان اور مولوی حضرات بھی قوم کی سرداری نہ سنبھال سکے تو اب خیرات کے چاول بانٹنے کا کیا فائدہ؟ جو قوم اپنی غیرت کی حفاظت نہ کر سکے وہ کیسی قوم ہے“

محفل پر سناٹا چھا گیا۔ خیرات کے چاول بابا جی کے سامنے سے اٹھا کر خواتین اور بچوں میں تقسیم کر دئیے گئے۔ بابا جی کے چہرے پر دو موٹے موٹے آنسو آکر داڑھی کے بالوں میں رک گئے۔ قید سے واپس آنے والوں میں ایک بابا جی کا عزیز بھی تھا۔ بابا جی بقیہ زندگی اس سے نہیں بولے۔ ہمیشہ دکھ سے کہتے تھے میرا خون اتنا بے غیرت کیوں ہوگیا ہے؟

ہم سب نے بابا جی کو بہت سمجھایا کہ یہ تو میڈیکل کور میں تھا۔ سی ایم ایچ میں ڈیوٹی دے رہا تھا۔ اس نے تو کوئی بزدلی نہیں دکھائی۔ لیکن بابا جی کا ایک ہی جواب تھا: ”پاکستان فوج میں تو تھا۔ وردی بھی پاکستان کی پہنی ہوئی تھی۔ پھر یہ بزدل کیوں نہیں لڑا؟“ پھر ایک دن بیٹھے بیٹھے کہنے لگے۔ ”اگر ہم پاکستان کی حفاظت نہیں کر سکتے تھے تو پاکستان بنایا کیوں تھا؟“

جب آخری وقت باباجی بیمار ہوئے تو ان کا یہ عزیز حکیم صاحب کو لے آیا۔ باباجی کی طبیعت کو جانتے ہوئے اسے ہم نے دروازے پر روک لیا لیکن بابا جی کی نظر پڑ گئی۔ باباجی نے منہ دوسری طرف کر لیا۔ آہستہ سے ہونٹ ہلے ہمارا خیال تھا کہ باباجی کلمہ پڑھ رہے ہیں لیکن ساتھ بیٹھے مولوی صاحب نے بتایا کہ باباجی کے منہ سے نکلا تھا ”بزدل“ اس کے بعد کلمہ پڑھا اور روح قفسِ عنصری سے پرواز کر گئی۔
کیا موجودہ18کروڑ پاکستانیوں میں سے کوئی بھی اس روح کو سکون دے سکتا ہے؟


ایک دکھ بھرا قصّہ (سکندر بلوچ)
__________________
"اگرحق کونہیں پہچان سکتے،تو باطل کےتیروں پر نظررکھو،جہاں پرلگ رہے ہوں وہی حق ہے///شیخ الاسلام،،،امام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ. (حافظ سعید زندہ باد)

 
ALI-OAD's Avatar
ALI-OAD
Senior Member
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,692
شکریہ: 1,514
1,088 مراسلہ میں 3,339 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 563
Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے ALI-OAD کا شکریہ ادا کیا
shafresha (26-12-10), فیصل ناصر (27-12-10), یاسر عمران مرزا (26-12-10), منتظمین (26-12-10), ام حازم (04-01-11), تانیہ رحمان ستارہ (27-12-10), شمشاد احمد (25-12-10), عبداللہ آدم (27-12-10), عروج (04-01-11)
پرانا 25-12-10, 11:38 PM   #2
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,676
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,138 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
موجودہ18کروڑ پاکستانیوں میں سے کوئی بھی اس روح کو سکون دے سکتا ہے؟
اگر اس روح کو سکون دینے کا مطلب یہ ہے کہ بنگلا دیش کو دوبارہ پاکستان کا حصہ بنا دیا جائے۔۔۔۔ تو میرا خیال ہے ایسا اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک درمیان میں بھارت اور اس کے جنونی ہندوں ہیں۔
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
ALI-OAD (25-12-10), shafresha (26-12-10), ام حازم (04-01-11)
پرانا 26-12-10, 09:50 AM   #3
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,614
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,595 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سرورق کے لیے پیش کریں۔
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
ام حازم (04-01-11), عبداللہ آدم (27-12-10)
پرانا 26-12-10, 10:24 AM   #4
Senior Member
 
مسافر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: Lahore, Pakistan
مراسلات: 2,069
کمائي: 34,307
شکریہ: 1,693
1,085 مراسلہ میں 2,456 بارشکریہ ادا کیا گیا
مسافر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

غیرت اور بے غیرتی میں فرق تو صرف سمجھ ہی کا تو ہے۔
میری قوم نے بےغیرت اور بزدل لوگوں کو اپنا لیڈر بنا لیا ہے،
مگر میری قوم کو سمجھ ابھی تک نہیں آئی،
کوئی بوڑھے بلوچ کی قبر پر امید کے چراغ کو روشن
کرنے کی سبیل کرے بھی تو کیسے کہ ہم تو تلاش معاش میں بھٹک رہے ہیں۔
مسافر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے مسافر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (27-12-10), ام حازم (04-01-11)
پرانا 27-12-10, 05:55 PM   #5
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,027
کمائي: 99,929
شکریہ: 23,989
4,984 مراسلہ میں 14,698 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

رلا دیا یار.................اللہ ہمیں غیور بنا دے.............

لیکن یہ تبھی ہو گا جب ہم خود ہمت ریں گے................
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا گیا
ام حازم (04-01-11)
پرانا 27-12-10, 06:07 PM   #6
Senior Member
 
تانیہ رحمان ستارہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2008
مراسلات: 1,302
کمائي: 30,789
شکریہ: 1,240
1,047 مراسلہ میں 3,049 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت اچھی جزبات سے بھر پور تحریر ہے ۔۔۔ لیکن جو ہو چکا سو ہو چکا ۔۔۔ ایک عورت سے ہار کھائی ۔۔۔ اس میں غیرت یا بے غیرت ہونے کی کوئی بات نہیں ہے جنگ میں کیا عورت اور کیا مرد ۔۔۔ اب اصل وقت ہے ۔ اپنے ملک کو بچانے کا ۔۔۔ اب میری ان تمام بزرگوں سے درخواست ہے ۔۔۔ کہ پانی پر لکھا چھوڑ دیں ۔۔۔ آگے کیا کرنا ہے ۔۔۔ اور کیا ہو سکتا ہے ۔۔۔ پروانے کیوں جلتے ہیں اس لیے نہیں کہ وہ شمع پو عاشق ہوتے ہیں ۔ وہ روشنی کے پیچھے آتے ہیں ۔ اور جان دے دیتے ہیں بچارے ۔۔۔
تانیہ رحمان ستارہ آف لائن ہے   Reply With Quote
تانیہ رحمان ستارہ کا شکریہ ادا کیا گیا
ام حازم (04-01-11)
پرانا 27-12-10, 06:14 PM   #7
ذیلی ناظم
 
یاسر عمران مرزا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: جدہ-سعودی عرب
مراسلات: 5,641
کمائي: 86,349
شکریہ: 9,614
4,226 مراسلہ میں 12,046 بارشکریہ ادا کیا گیا
یاسر عمران مرزا کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

جزاک اللہ خیر۔شئرنگ کرنے کا شکریہ۔
یاسر عمران مرزا آف لائن ہے   Reply With Quote
یاسر عمران مرزا کا شکریہ ادا کیا گیا
ام حازم (04-01-11)
پرانا 04-01-11, 01:58 PM   #8
Senior Member
 
ALI-OAD's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,692
کمائي: 29,776
شکریہ: 1,514
1,088 مراسلہ میں 3,339 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

شکریہ ،
ALI-OAD آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 04-01-11, 02:15 PM   #9
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,220
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بنگلہ دیش دوبارہ نہیں جوڑا جا سکتا مگر باقی ملک تو بچایا جا سکتا ھے،سازشیوں سےخود غرضوں سے اورغلام ذھنیت رکھنے والے۔۔۔۔۔۔۔ سے۔
عروج آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 24-06-11, 02:13 AM   #10
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,676
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,138 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

نئے ساتھيوں كے لئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
php, پاکستان, پاکستانی, قصہ, لوگ, نظر, موت, موجودہ, مسجد, آج, آدمی, اللہ, بچوں, جواب, حضرات, خون, خواتین, خان, داڑھی, دعا, زندگی, شور, شام, عورت, عزت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 02:30 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger