واپس چلیں   پاکستان کی آواز > میرے پاکستان سے > تاریخ پاکستان




ریاستِ سوات - سوات کا جدید دور

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 16-11-10, 10:44 AM   #1
ریاستِ سوات - سوات کا جدید دور
ھارون اعظم ھارون اعظم آن لائن ہے 16-11-10, 10:44 AM

سید اکبر شاہ کی شرعی حکومت

سوات صدیوں سے قبائلی دور سے گزر رہا تھا کہ 1850ء میں اخون صاحبِ سوات(سیدو بابا) نے سوات اور بونیر کے باشندوں کے مشورے سے ستھانہ کے رئیس سید اکبر شاہ کو سوات کا بادشاہ منتخب کیا۔
جدید سوات کی پہلی شرعی حکومت کا دارالخلافہ موضع غالیگی قرار پایا۔ شریعت اسلامیہ کے نام سے حکومت نے کام شروع کیا۔ اس دوران ہندوستان کی جنگِ آزادی 1857ء کا آغاز ہوا۔ اس وقت جب کہ مذکورہ جنگ کی خبریں سرزمینِ سرحد میں پہنچنے لگی تھیں، 11 مئی 1857ء کو سید اکبر شاہ وفات پا گئے۔ان کے انتقال سے اس اولین حکومت کا بھی خاتمہ ہو گیا۔ انگریزوں کو، اس حکومت سے جو خطرہ پیدا ہو رہا تھا، اس کا اندازہ سر ہربرٹ ایڈورڈ کے ان الفاظ سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے ۔ وہ لکھتا ہے کہ " اگر سوات میں شرعی حکومت اور جنگ جُو قبائل کا سربراہ سید اکبر شاہ زندہ ہوتا تو 1857ء کی جنگ کا نقشہ کچھ اور ہوتا۔"

قبائلی دور

سید اکبر شاہ کی شرعی حکومت سے پہلے بھی سوات میں افراتفری کا دور دورہ تھا اور جب سید اکبر شاہ کی شرعی حکومت کا خاتمہ ہوا تو سوات کا قبائلی دور پھر لوٹ آیا۔ سوات ایک بار پھر انتشار کا شکار ہوا۔ ہر طرف افراتفری مچ گئی اور جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے مصداق ہر زور آور کم زور کو دبانے اور ختم کرنے پر تُلا ہوا نظر آتا تھا۔ کسی کو تحفظ حاصل نہیں تھا۔ خان خوانین عام لوگوں کے لئے دردِ سر بنے ہوئے تھے۔ ہر قبیلے کے خان کو اپنے اپنے زیرِ اثر علاقے میں بالا دستی حاصل تھی۔ سارا سوات دو گروہوں میں بٹا ہوا تھا۔ معمولی معمولی باتوں کو وجہِ نزاع بنا کر آئے دن لڑائی جھگڑوں کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔ یہ معلوم کئے بغیر کہ لڑائی کا سبب کیا ہے یا زیادتی کس فریق کی ہے۔ فائرنگ کی آواز سنتے ہی ہر قبیلہ اپنے اپنے حلیف قبیلہ کی مدد کے لئے پہنچ جاتا اور گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ کی لڑائی میں لاشوں کے ڈھیر لگ جاتے۔ شکست خوردہ فریق کو اپنے گھربار اور تیار فصل سے ہاتھ دھونا پڑتے اور کسی اور جگہ اپنے حلیف قبیلہ کے ہاں پنا ہ لینے پر مجبور ہونا پڑتا۔ سوات کے قبائل کی خانہ جنگیوں کے باعث نوابِ دیر کو اپنے توسیعی عزائم کی تکمیل کے لئے ریاستِ دیر سے ملحقہ سوات کے علاقہ نیک پی خیل پر بار بار حملہ کرنے کا حوصلہ ملتا اور لوُٹ مار کر کے واپس چلا جاتا تھا۔ ان حملوں کا دائرہ کبھی کبھی بالائی سوات (مٹہ سب ڈویژن) تک پھیل جاتا۔

اخوند صاحب کا اعلانِ جہاد

1863ء میں اخوند صاحبِ سوات (سیدوبابا) نے انگریزوں کے خلاف جہاد کا اعلان کیا۔ کونڑ،باجوڑ،دیر، جندول، بونیر اور سوات کے لشکر اخون صاحب کے جھنڈے تلے جمع ہو گئے اور انگریزوں پر حملہ کر دیا گیا۔ انگریزوں نے بونیر پر لشکر کشی کی۔ بونیر میں امبیلہ کے مقام پر انگریزی فوج اور مجاہدین کے لشکر کے درمیان خون ریز جنگ ہوئی۔ جنگ کے بعد انگریز امبیلہ سے واپس چلے گئے۔ یہ جنگ امبیلہ کمپین 1863ء کے نام سے مشہور ہے۔

اخوند صاحبِ سوات کے حالاتِ زندگی

حضرت اخوند صاحب سوات کا اصلی نام عبد الغفور اور والد کا نام عبدالواحد تھا۔ آپ کا سلسلۂ نسب مہمندوں کے قبیلہ صافی سے جا ملتا ہے۔ آپ علاقہ شامیزئ (سوات) کے موضع جبڑئ میں 1794ء کو پیدا ہوئے۔ بچپن ہی سے حصولِ علم کا شوق اور زہد و تقویٰ سے رغبت رہی۔ تعلیم کے ابتدائی مدارج طے کرنے کے بعد آپ گھر سے نکل کر گوجر گڑھی (ضلع مردان) میں اس وقت کے مشہور عالم دین مولانا عبدالحکیم سے حصولِ تعلیم کرتے رہے۔ کچھ عرصہ آپ نے چمکنی(پشاور) اور زیارت کاکا صاحب (نوشہرہ) میں گزارا۔ پھر پشاور میں حضرت جی صاحب کی صحبت سے فیض یاب ہوئے اور آخر میں طور ڈھیری (ضلع مردان) میں کچھ عرصہ مولانا محمد شعیب کی خدمت میں گزارا۔ ان کی وفات کے بعد 1816ء میں آپ نے دریائے سندھ کے کنارے موضع بیکی میں قیام کیا اور وہیں عبادت میں مشغول رہے۔ 1828ء میں بیکی سے نکل کرنمل اور پھر موضع سلیم خان پہنچے۔ جہاں انہیں پہلی بار اخوند پکارے جانے کا اعزاز حاصل ہوا۔ سکھوں اور درانیوں کی جنگ میں آپ نے دوست محمد خان فرمان روائے افغانستان کا ساتھ دیا۔ اس طرح اپنی عمر کے چوبیس سال گزارنے کے بعد ستمبر 1835ء میں وہ اپنے وطن کو واپس لوٹ آئے۔ پہلے پہل انہوں نے علاقہ ملوچ (سوات) کی ایک مسجد میں قیام کیا۔ وہاں سے موضع رنگیلا منتقل ہوئے۔پھر سوات کے اوڈی گرام نامی تاریخی گاؤں کے قریب غازی بابا(پیر خوشحال) کے مزار میں قیام پذیر رہے اور بعد ازاں مرغزار کی خوب صورت وادی کی راہ لی۔ وہاں سے مرغزار کے قریب سپل بانڈی نامی گاؤں میں مقیم ہو گئے۔ وہاں شادی کی اور 1845 میں اس جگہ سے نکل کر سیدو میں مستقل سکونت اختیار کر لی۔ جو اس وقت صرف سیدو کے نام سے پہچانا جاتا تھا لیکن ان کے مستقل قیام کی وجہ سے سیدو، سیدو شریف کہلانے لگا۔ سیدو میں مقیم ہو جانے کے بعد آپ نے مخلوقِ خدا کی فلاح و بہبود کی طرف توجہ دی۔آپ نے 12 جنوری1877ء میں داعئ اجل کو لبیک کہا۔ آپ کو سیدو شریف میں سپردِ خاک کیا گیا۔ جہاں ایک بڑی مسجد میں آپ کا عالی شان مزار عوام و خواص کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ آپ کے مزار پر دور دراز کے علاقوں سے آنے والے ہزاروں زائرین کا تانتا بندھا رہتا ہے۔

اخوند صاحب کے بعد

اخوند صاحب(سیدو بابا) کی وفات کے بعد ان کے دونوں بیٹے عبد المنان اور عبد الخالق ایک جنگ کے سلسلہ میں نوابِ دیر کے ساتھ موضع تالاش میں مقیم تھے۔ وفات کی خبر ملتے ہی عبد المنان واپس لوٹ آئے لیکن عبد الخالق کو بروقت اطلاع نہ مل سکی۔ جلدی میں وہاں سے نکل کر عبد المنان نے حصولِ اقتدار کی کوشش کی۔ اگرچہ انہیں یہ اقتدار حکمران کی حیثیت سے نہ مل سکا لیکن اس نے اپنے گرد طاقت جمع کر لی اور ایک قائد یا سردار کی حیثیت سے زندگی بسر کرنے لگا۔ اس کے برعکس عبد الخالق نے اپنے والد کے نقشِ قدم پر چل کر عوام کے دلوں پر قبضہ کر لیا۔ علاقہ بھر میں شریعتِ اسلامیہ کے نفاذ کے سلسلہ میں دورے شروع کئے۔ بڑی تعداد میں مرید اور شیوخ ان کے گرد جمع ہو گئے۔ اس طرح انہیں مذہبی اقتدار حاصل ہو گیا۔ حضرت اخوند کی وفات کے کوئی دس سال بعد ان کے بڑے بیٹے عبد المنان وفات پا گئے۔ 1892ء میں پینتیس سال کی عمر میں عبد الخالق بھی اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔


میاں گل عبدالودود کا ظہور

حضرت اخوند کے بیٹے میاں گل عبد الخالق کی وفات پر ان کے دو کم سن بیٹے رہ گئے تھے۔ بڑے بیٹے میاں گل عبدالودود کی عمر دس سال تھی جبکہ چھوٹا بیٹا میاں گل شیرین جان بہت کم عمر تھا۔ ان دونوں کو ہی باپ کا جانشین تسلیم کر لیا گیا۔ وہ سجادہ نشین کی حیثیت سے دکھائی دینے لگے۔ اس طرح گویا بچپن ہی سے انہیں مذہبی اقتدار حاصل ہو گیا۔ ایک عرصہ تک تو یہ سجادہ نشین اور ان کے دو چچا زاد بھائی یعنی عبد المنان کے بیٹے آپس میں اتحاد و اتفاق سے رہے۔ پھر اختلافات نے سر اٹھایا ۔ دونوں نے اپنی اپنی جماعتیں منظم کرنا شروع کیں۔ کش مکش بڑھنے لگی۔ سازشیں شروع ہوئیں، نتیجتاً حالات اس حد تک بگڑ گئے کہ ایک دن جب یہ دو چچا زاد بھائی راستہ میں ایک دوسرے کے سامنے آئے تو ایک بھائی 1904ء میں گولی کا نشانہ بنا اور دوسرا بھائی 1907ء میاں گل عبدالودود کی گولی سے ہلاک ہوا۔
اب دونوں بھائی میاں گل عبدالودود اور میاں گل شیرین جان اتفاق و اتحاد سے رہنے لگے۔ انہوں نے جائداد تقسیم کر لی۔ اس دوران میاں گل عبدالودود فریضۂ حج ادا کرنے چلے گئے۔ واپسی پر دونوں بھائیوں میں بھی اختلافات پیدا ہوا۔ شیرین جان نے سیدو پر حملہ کر دیا لیکن شکست کھائی۔ پھر میاں گل عبدالودود نے غالیگی پر حملہ کرتے ہوئے اس پر قبضہ کر لیا۔ بعد ازاں دونوں بھائی چھ ماہ تک قمبر کے مقام پر ایک دوسرے کے خلاف صف آراء رہے۔
سوا ت پر نوابِ دیر کا حملہ

1908ء میں نوابِ دیر نے سوات پر حملہ کیا۔ دریائے سوات کو پار کر کے سوات کے بہت سے علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ یہ جنگ سوات میں مقیم دو قبیلوں نیک پی خیل اور شموزئ میں اختلافات کی بناء پر رونما ہوئی۔ کمزور پارٹی نے نوابِ دیر سے امداد طلب کی تھی جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس نے لشکر کشی کی اور نیک پی خیل اور شموزئ کے علاقوں پر قابض ہو گیا۔


سنڈاکئی ملا

سوات کے باشندوں کو جلد ہی اپنی غلطی کا احساس ہوا کہ انہوں نے خواہ مخواہ اپنے گھریلو جھگڑے میں نوابِ دیر کو دعوت دے کر خود ہی اپنی غلامی کی تدبیر کی۔ کچھ عرصہ گزرنے کے بعد "سنڈاکئی ملا" نامی شخص، جو انگریزوں کے خلاف صف آراء تھا، وہ اہلِ سوات کی مدد پر آمادہ ہو گیا اور یوں 1915ء میں سوات کے قبیلوں نے سنڈاکئی ملا( جو تاریخ میں کوہستان ملا کے نام سے بھی مشہور ہیں) کی سر کردگی میں جلد ہی اپنے تمام مقبوضہ علاقے وا گزار کرا لئے۔

جاری ہے۔

ریاستِ سوات ۔ فضل ربی راہی
__________________


http:// haroonazam.wordpress.com

ھارون اعظم کا بلاگ۔

 
ھارون اعظم's Avatar
ھارون اعظم
ذیلی ناظم
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,248
شکریہ: 15,089
4,228 مراسلہ میں 12,902 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 131
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا
shafresha (16-11-10), عامرشہزاد (16-11-10)
جواب

Tags
color, کوشش, قدم, نظر, منتقل, مسجد, معلوم, اکبر, بھائی, بچپن, تعلیم, جس کی لاٹھی اس کی بھینس, خان, خدا, راستہ, سال, سردار, عالم, عبادت, غلطی, غازی, صف, صافی, صدیوں, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
مستقبل کی 10 بہترین سواریاں ابو عمار دلچسپ اور عجیب 15 09-03-11 07:56 AM
ریاستِ سوات - سوات کا قدیم دور ھارون اعظم تاریخ پاکستان 2 27-11-10 08:57 AM
ریاستِ سوات - سوات کا قدیم دور - 1 ھارون اعظم تاریخ پاکستان 0 16-11-10 10:34 AM
ناروا سلوک: پاک فوج کے دستے نے دورہ امریکہ منسوخ کردیا گلاب خان خبریں 0 01-09-10 03:35 AM
::: آئیے اپنے عقیدے کا جائزہ لیں‌ ::: سوال 7 ::: وہ راستہ کون ساہے جو اللہ کی رضا اور خوشنودی تک پہنچاتا ہے اور وہ راستہ کون ساہے جو اللہ تعالیٰ عادل سہیل اسلامی عقیدہ 1 23-06-10 05:13 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 02:36 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger