بدھ مت کے آثارِ قدیمہ اور چینی سیاحوں کی آمد
سوات نے عہدِ قدیم میں اس وقت نمایاں ترقی کی، جب یہاں بدھ مت کو عروج حاصل تھا۔ چینی سیاح ہیون سانگ نے اس وقت اس علاقہ کا رقبہ پانچ ہزار لی ظاہر کیا ہے جو اندازاً 833 میل کے برابر بنتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ علاقہ اس وقت موجودہ سوات کے علاوہ دریائے سندھ کے مغرب کی طرف کی پہاڑیوں اور درد(انڈس کوہستان) کے علاقوں تک پھیلا ہوا تھا۔ دوسرے چینی سیاح فاہیان 400 عیسوی کے مطابق اس علاقے میں بدھ کے پانچ سو معبد پجاریوں سے بھرے ہوئے نظر آتے ہیں اور پھر جب 630ء میں ہیون سانگ نے بدھ مت کے دور زوال میں اس علاقہ کو دیکھا تو اس کی چودہ سو خانقاہیں(جن میں اٹھارہ ہزار بھکشو رہائش پذیر تھے) ویران دکھائی دیتی ہیں۔ بُدھ مت کے جس قدر آثار سوات میں ملے ہیں، اتنے آثار پاکستان کے کسی اور علاقہ میں نہیں ملے ہوں گے۔ بدھ مت دور کے بہت سے آثار دریافت کئے گئے ہیں جب کہ ان سے کہیں بڑھ کر زمین کے سینے میں پوشیدہ ہیں۔ 1956ء میں ریاستِ سوات میں اٹلی کے مشہور ماہر آثار قدیمہ ڈاکٹر ٹوچی کی زیر نگرانی ایک پوری جماعت نے سوات کے آثارِ قدیمہ کی کھدائی کی تھی جس میں بہت سے آثار ظاہر ہوئے اور ان سے بے شمار قیمتی نوادرات برآمد ہوئے۔جن میں کچھ نوادرات تو معاہدہ کے مطابق حکومتِ اٹلی کودے دیئے گئے اور کچھ نوادرات کوسوات میوزیم میں محفوظ کر لیا گیا۔سوات میں بُدھ مت کے مشہور آثار بٹ کڑا، نجی گرام، اوڈی گرام، بری کوٹ اور جہان آباد وغیرہ کے مقامات پر دریافت ہوئے ہیں۔
ہندو شاہیہ
بدھ مت کا زوال شروع ہوا تو ساتویں صدی کے وسط میں ہندوؤں نے بڑے منظم طریقہ پر ہندو دھرم کی تبلیغ شروع کر دی اور بُدھ مت کو مٹا دینے میں کوئی کسر باقی نہ رہنے دی گئی۔ سفید ہن(جنہوں نے بدھ مت کے آثار بڑی بے دردی سے مٹا دیئے تھے) کی آمد کے بعد یعنی اندازاً 500ء سے 1000ء تک پھر کسی بیرونی حملہ آور کا پتہ نہیں چلتا۔
ہندوؤں نے مختلف علاقوں میں اپنی راجدھانیاں قائم کر لیں۔ گندھارا کے علاقہ پر وقتاً فوقتاً اقتدار بدلتا رہا۔ کبھی یہ علاقہ بالکل آزاد رہا اور کبھی کسی طاقت ور حکمران کے زیرِ اقتدار دکھائی دینے لگتا۔ بالآخر دسویں عیسوی میں ہندو شاہیہ نے اس علاقہ پر اپنا پرچم لہرایا تو اس کا اقتدار موجودہ صوبہ سرحد سے نکل کر سوات اور لغمان (افغانستان) تک دکھائی دینے لگا۔ چناں چہ بری کوٹ (سوات) سے جو ایک کتبہ دریافت ہوا ہے اس پر سنسکرت زبان میں مرقوم ہے کہ :
"فرمان روائے اعلیٰ شاہانِ عظمیٰ کے بلند مرتبہ شاہ اور مختارِ اعلیٰ سری جیپا لا دیوا"
جیپا لادیوا سے مراد راجہ جے پال ہے۔درحقیقت یہی ایک آخری ہندو خاندان تھا، جس نے گندھارا پر حکومت کی تھی۔ اس سے قبل یا اس کے بعد کسی وقت بھی کوئی ہندو حکومت اس علاقہ پر حکمران دکھائی نہیں دیتی اور اس آخری ہندو حکومت کا چراغ بھی سلطان محمود غزنوی کے ہاتھوں گل ہو گیا تھا۔
سلطان محمودِ غزنوی کی افواج کا حملہ
گیارھویں صدی کے آغاز میں جب سلطان محمود غزنویؒ نے افغانوں کی لشکر کی مدد سے ہندوستان پر حملے شروع کئے تو افغانوں کے لشکر کے سردار پیر خوشحال نے سوات کے غیر مسلم بادشاہ گیرا کو شکست فاش دی اور سوات میں اسلام کی ابدی روشنی پھیلائی۔اس جنگ میں پیر خوشحال خود بھی شہید ہوئے جن کا مزار سوات کے مشہور تاریخی گاؤں اوڈی گرام میں آج بھی مرجعِ خلائقِ عام ہے۔
خاندانِ مغلیہ کے الغ بیگ کو یوسف زئیوں کی مدد و اعانت سے تختِ افغانستان نصیب ہوا تھا لیکن بعد میں جب اس کی نیت میں فتور آیا تو اس نے یوسف زئی اور دوسرے افغان قبیلہ گیگیانیوں میں اختلاف پیدا کر دیا اور خود گیگیانیوں کا حمایتی بن کر مقابلہ پر اُتر آیا لیکن کامیابی حاصل نہ کر سکا تو یوسفزئیوں سے ایک سازش کے تحت صلح کر لی اور یوسفزئی سرداروں کو ایک دعوت میں بلا کر قتل کر دیا گیا۔ ان حالات میں قبیلہ کے ایک نوجوان ملک احمد خان نے قیادت سنبھالی اور پندرھویں صدی عیسوی کے اوّل نصف میں افغانستان سے پشاور ہجرت کی۔ دلہ زاکوں سے پشاور میں رہائش کی درخواست کی تو انہوں نے یوسفزئیوں کو دوآبہ (پشاور) میں مقیم کر دیا۔ بعد ازاں یوسفزئیوں نے مردان، دیر، باجوڑ اور سوات میں سکونت اختیار کر لی۔ یوسفزئیوں نے سوات کا علاقہ "سلطان اویس" سے بزور شمشیر قبضہ کیا تھا۔
سوات کے قدیم باشندے جو سواتی پٹھان کہلاتے تھے، سوات سے کوچ کرتے ہوئے ضلع ہزارہ میں بس گئے تھے جو اب بھی وہاں آباد ہیں۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سلطان محمود غوری کے دورِ حکومت میں یہاں آباد ہوئے تھے۔
مغل بادشاہ بابر کی پیش قدمی
1516ء میں مغل بادشاہ بابر جب افغانستان سے ہندوستان پر حملہ کرنے کی غرض سے جا رہا تھا تو راستہ میں کئی قبائل مزاحم نظر آئے۔ وہ جب خیبر پہنچا تو اسے اس کے اندازوں کے برعکس ایسے لوگوں سے واسطہ پڑا جو جواں مردی اور بہادری میں اپنے علاقہ کے تحفظ کے لئے سب کچھ قربان کر دینے پر آمادہ تھے۔ انہوں نے بابر کو اپنے علاقوں سے گزرنے کی اجازت نہ دی اور سدِّ راہ بنے رہے۔
بابر جیسا حکمران بھی سر تسلیم خم کرنے والا نہ تھا، اس نے وقتی طور پر ہندوستان پر حملہ کرنے کا ارادہ ملتوی کیا اور پہلے قبائلیوں سے دو دو ہاتھ کر لینے کا فیصلہ کیا۔ اس سلسلہ میں پہلے پہل اس کی نظر یوسف زئیوں پر پڑی۔ لیکن وہ یوسفزئیوں کو مکمل طور پر زیر نہ کر سکا۔ چنانچہ یوسفزئیوں کے سردار شاہ منصور کی بیٹی بی بی مبارکہ سے شادی کے بعد یوسفزئیوں اور بابر کے درمیان مفاہمت ہوئی اور یوسفزئی قبیلہ کے بہت سے جنگ جو بابر کے لشکر میں شامل ہوئے ۔
اس طرح بابر یہاں سے ہوتا ہوا ہندوستان فتح کرنے میں کامیاب ہوا۔
بابر کے مرنے کے بعد بادشاہ ہمایوں نے سوات کو بزورِ شمشیر فتح کرنا چاہا لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکا۔
تحریکِ روشنائی
شاہ منصور کے انتقال کے بعد بایزید انصاری پیر روشن نے وزیر ستان ، تیراہ، پشاور،دیر،بونیر اور سوات میں مذہبی رنگ میں اقتدار حاصل کیا۔ اس نے اپنے مریدوں کا باقاعدہ لشکر بنایا۔ لشکر کے اخراجات پورا کرنے کے لئے بیت المال بنایا ۔ اپنے مریدوں سے باقاعدہ عشر و زکواۃ وغیرہ لے کر اس بیت المال میں جمع کرتا تھا۔ اس نے پشتو زبان میں "خیرالبیان" نامی کتاب لکھی جس میں زیادہ تر اس کے عقائد تھے۔
ہندوستان کے مغل بادشاہ اکبر اعظم نے جب نیا مشرب دینِ الٰہی کے نام سے بنایا توبایزید انصاری (پیر روشن) نے اکبر کے خلاف پراپیگنڈہ مہم شروع کی۔ بایزید کی زندگی میں سیدعلی ترمذی عرف"پیر بابا" بونیر آئے اور "پاچا کلی" میں مقیم ہو کر حق و صداقت کی روشنی پھیلانے لگے۔ ہزاروں کی تعداد میں اس خطہ کے باشندوں نے انہیں اپنا مُرشد بنایا۔ ان کے مریدوں میں اخون درویزہ بابا کا نام قابلِ ذکر ہے۔ بایزید انصاری (پیر روشن) اور اخون درویزہ بابا کے درمیان مذہبی اختلافات رو نما ہوئے۔ دونوں کے درمیان مذہبی مناظرے ہوئے اور اخون درویزہ نے بایزید پیر روشن اور اس کے مریدوں پر کفر کا فتویٰ لگایا۔ پیر روشن کو پیرِ تاریکی کا لقب دیا اور اخون درویزہ کے مرید پیرِ روشن کو پیرِ تاریک کہنے لگے۔جب کہ بایزید انصاری کے پیروکار بایزید کو پیر روشن کے نام سے پکارنے لگے۔
مغل بادشاہ اکبر اعظم اور سوات
1585ء میں جب اکبر اعظم کی فوج مان سنگھ کی سر کردگی میں کابل جا رہی تھی۔ اس وقت دریائے سندھ اور کابل کے درمیان کے خطوں کے قبائلی اکبر کے سخت خلاف ہو گئے تھے۔ جب شاہی لشکر پشاور پہنچ گیا تو یوسفزئی اور مندڑ قبیلوں نے دریائے کابل کے شمالی طرف سے اور بایزید روشن نے دریائے سندھ کے مغرب کی طرف سے شاہی قافلہ اور لشکر پر حملہ کیا۔ اس حملے میں شاہی لشکر اور قافلے کے آٹھ ہزار افراد میں سے کچھ مقتل کئے گئے اور کچھ مجروح ہوئے اور ان کا مال و اسباب قبائلی لوٹ کر لے گئے۔
1585ء کے آخر میں جب پیرِ روشن تیراہ چلا گیا تو اکبر کے صوبیدار محسن خان نے کابل کی طرف سے بایزید پیرِ روشن پر فوج کشی کی ۔ پیر روشن نے مغل لشکر کا مقابلہ کیا۔لڑائی کے دوران وہ بیمار ہو گیا۔بیماری کی حالت میں تیراہ سے بھاگ کر بونیر چلا گیا اور وہیں انتقال کیا۔ بایزید کے مرنے کے بعد اس کا بیٹا جلالہ اپنے باپ کے مریدوں کا مرشد بن گیا اور مغلوں کے خلاف جنگ جاری رکھی۔ 1586ء میں اکبر اعظم نے زین خان اور بیربل کی سر کردگی میں ایک بڑی فوج یوسف زئیوں کو مطیع کرنے کی مہم پر بھیجی۔ اکبر کے لشکر نے بونیر پر حملہ کیا ۔ اس حملہ میں شاہی فوج کو سوات اور بونیر کے یوسف زئی قبیلوں اور جلالہ نے شکست فاش دی۔ اکبر کا مشہور درباری راجہ بیربل بھاگتا ہوا مارا گیا۔ اس کے علاوہ آٹھ ہزار سپاہی قتل ہوئے۔
اورنگزیب کے عہد سے لے کر 1748ء تک سوات، بونیر اور باجوڑ مکمل طور پر آزاد رہے اور اپنے دستور (پشتو) کے مطابق زندگی بسر کرتے رہے۔
درانی ،سکھ اور انگریز
1749ء میں جب افغانستان کا بادشاہ احمد شاہ درانی ہندوستان میں مغل سلطنت کو مرہٹوں سے بچانے کے لئے دہلی جا رہا تھا تو سوات، بونیر وغیرہ کے قبیلوں نے اپنی مرضی سے احمد شاہ درانی کی بیعت کی اور جنگ میں ان کے ساتھ شامل ہوئے۔
1823ء میں جب سردار عظیم خان گورنر کشمیر نے سکھوں پر حملہ کیا تو یوسف زئی قبیلوں کے لشکر نے درانی لشکر کی معیت میں اس کا ساتھ دیا۔
اس جنگ کے بعد امیر دوست محمد خان کے بھائیوں کے درمیان تختِ کابل کے سلسلے میں کش مکش پیدا ہو گئی جن کی وجہ سے کشمیر اور پشاور پر سکھ قابض ہو گئے۔ یوسفزئی قبیلے کابل کے سرداروں سے بد ظن ہو کر خود مختار ہو گئے اور سکھوں کے خلاف صف آراء رہے۔
درانیوں کے چلے جانے کے بعد پشاور میں شہید سید احمد بریلویؒ بر سرِ اقتدار آ گئے ۔انہوں نے سکھوں کے خلاف لڑائی کا اعلان کیا۔ پشاور اور مردان میں لوگ ہزاروں کی تعداد میں ان کی حلقۂ ارادت میں آ گئے۔ انہوں نے اپنے مریدوں کا با قاعدہ لشکر بنایا اور سکھوں پر بڑے زور و شور سے حملے شروع کر دیئے۔ یوسفزئی قوم کا لشکر سید احمد بریلویؒ کے ساتھ مل گیا لیکن بد قسمتی سے سید احمد بریلویؒ کے ساتھ مذہبی عقائد میں اختلاف کی وجہ سے سوات کے قبیلوں نے سید احمد بریلوی سے علاحدگی اختیار کر لی ۔ ان کے متعلق یہ مشہور ہو گیا کہ وہ و ہابی ہیں۔ سید احمد بریلویؒ کے شہید ہونے کے بعد سوات اور بونیر میں اخون صاحب (سیدو بابا) کا تسلط قائم ہو گیا۔
1839ء میں جب مہاراجہ رنجیت سنگھ مرگیا تو سکھوں پر یک دم زوال آنا شروع ہوا۔ ان میں اتنی طاقت نہ تھی کہ سوات پر حملہ کر سکتے۔
1849ء میں جب سکھ شاہی ختم ہو گئی اور انگریز قابض ہو گئے تو سوات کی اُتمان خیل قوم نے انگریزوں پر حملہ کیا۔
1852ء میں اتمان خیل اور سوات کے "رانڑی زی" قبیلوں نے درہ ملاکنڈ سے انگریزوں پر دوبارہ حملہ کیا۔ اس حملہ کا جواب انگریزوں نے سختی سے دیا۔ جس کی تاب مقامی کا لشکر نہ لا سکا۔
جاری ہے
ریاستِ سوات - فضل ربی راہی