واپس چلیں   پاکستان کی آواز > میرے پاکستان سے > تاریخ پاکستان




نہرو رپورٹ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 11-10-07, 09:47 AM   #1
نہرو رپورٹ
خرم شہزاد خرم خرم شہزاد خرم آف لائن ہے 11-10-07, 09:47 AM

نہرو رپورٹ

1927ء میں حکومت برطانیہ نے شاہی فرمان کے تحت ہندوستان کے لیے سائمن کمیشن کا تقرر کیا گیا۔ جس کا مقصد آئینی اصلاحات کا جائزہ لینا تھا۔ ہندوستان بھر میں اس کمیشن کا بائیکاٹ کیا گیا اور جلسے جلوس ہوئے۔ اس کمیشن کی سفارشات کو بھی یکسر مسترد کر دیا گیا۔


نہرو رپورٹ
سائمن کمیشن کے بائیکاٹ کے بعد 19 مئی 1928ء کو مقامی سیاسی پارٹیوں کی ایک کانفرنس منعقد کی گئی۔ اس آل پارٹیز کانفرنس میں موتی لعل نہرو کی سربراہی میں ایک نو رکنی کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا ۔ دیگر اراکین میں سر علی امام ، شعیب قریشی ، ایم ۔ ایس ۔ این ۔ ، ایم ۔ آر ۔ جے کار ، جی ۔ آر ۔ پرتان ، سردار مینگل سنگھ ، سرتارج بہادر سپرو اور ایم جوشی کے نام شامل ہیں۔ کمیٹی کا مقصد ہندوستان کے لیے ہندوستانیوں کے ذریعے ایک ایسے آئینی ڈھانچے کو تشکیل دینا تھا جو ہندوستان میں آباد تمام قومیتوں کے لیے قابل قبول ہو ، یا جس کو کم از کم کانفرنس میں شریک تمام پارٹیوں کی حمایت حاصل ہو۔ اس کمیٹی نے جو آئینی رپورٹ تیار کی ہے۔ ہندوستان کی تاریخ میں اسے نہرو رپورٹ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ رپورٹ اگست 1928ء میں شائع ہوئی ۔


نکات
نہرو رپورٹ میں مسلمانوں کا کوئی لحاظ نہیں رکھا گیا ۔ جن شقوں سے مسلمانوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کی گئی۔ وہ مندرجہ ذیل ہیں

1۔ جداگانہ طریقہ انتخابات کو منسوخ کرنے کے لیے کہا گیا ۔

2۔ ہندوستان کے لیے وفاقی طرز حکومت کی بجائے وحدانی طرز حکومت کی سفارش کی گئی

3۔ مکمل آزادی کی بجائے نوآبادیاتی طرز آزادی کے لیے کہا گیا

4۔ ہندی کو ہندوستان کی سرکاری زبان بنانے کا مطالبہ کیا گیا۔


ان سفارشات کو دیکھتے ہوئے کمیٹی کے جانبدارانہ رویے کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ کیونکہ معاہدہ لکھنو 1916ء میں کانگریس نے مسلم لیگ کے جن مطالبات کو منظور کیا تھا، نہرو رپورٹ میں ان ہی سے انحراف کیا گیا۔

دسمبر 1928ء میں نہرو رپورٹ کے باقاعدہ اور باضابطہ منظوری حاصل کرنے کے لیے ایک آل پارٹیز کنونشن دہلی میں طلب کیا گیا ۔ مسلم لیگ نے 23 اراکین پر مشتمل ایک نمائندہ کمیٹی قائداعظم کی سربراہی میں اس مقصد کے لیے قائم کر دی ۔ تاکہ مجوزہ کنونشن میں شامل سیاسی جماعتوں کو مسلم لیگ کے مؤقف سے آگاہ کیا جائے۔ قائداعظم نے مذکورہ کنونشن میں نہرو رپورٹ کو مسلم لیگ کے لیے قابل قبول بنانے کے لیے ایک تین نکاتی فارمولہ پیش کیا۔ جسے کنونشن میں شامل تمام سیاسی پارٹیوں نے یکسر مسترد کیا۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے قائداعظم نے فرمایا

“ This is nothing but parting of the ways”

بعد میں آل پارٹیز کانفرنس جو 31 دسمبر 1928ء کو سر آغا خان کی زیر صدارت دہلی میں شروع ہوئی ۔ نے نہرو رپورٹ کو باضابطہ طور پر مسترد کر دیا ۔


نتائج
ہندوستان کی سیاسی تاریخ میں نہرو رپورٹ کو خصوصی اہمیت اس لیے حاصل ہے کہ اس کے بہت بڑے اور تاریخی نتائج برآمد ہوئے ۔ اس رپورٹ کے ذریعے ہندوؤں نے اپنے عزائم کا برملا اظہار کیا۔ ان کی ذہنیت کھل کر سامنے آئی اور اس کے ذریعے مسلمانوں کے سیاسی اور آئینی حقوق کو پامال کرنے کی حتی الامکان کوشش کی گئی ۔ یہی وجہ تھی کہ اس رپورٹ نے مسلمانوں میں متعدد خدشات کو جنم دیا۔ کئی ایک سوال ان کے ذہنوں میں ابھرنے لگے۔ مولانا محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی نے سخت الفاظ میں نہرو رپورٹ کی مذمت کرتے ہوئے کانگریس سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اپنا رشتہ توڑ دیا۔

ڈاکٹر محمد علامہ اقبال نے ہندوؤں کی ذہنیت ، سوچ اور سیاست کے جواب میں خطبہ آلہ آباد صادر فرمایا اور مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے پہلی بار آپ نے ہندوستان کی تقسیم کی پیش گوئی کر دی ۔ آپ نے فرمایا

’’ ہندوستان کے مسلمانوں کا آخری مقدر یہ ہوگا کہ وہ اپنے لیے ایک علیحدہ مملکت کا قیام عمل میں لائیں گے۔‘‘

قائداعظم محمد علی جناح نے نہرو رپورٹ کے جواب میں مشہور زمانہ چودہ نکات پیش کیے ، جن کے ذریعے مسلمانوں کے مطالبات کا احاطہ احسن طریقے سے کیا گیا۔ یہی وہ وقت تھا جب مسلم لیگ اور کانگریس کے درمیان ایک آئینی تعطل پیدا ہوا۔ یہ تعطل 1947ء تک برقرار رہا، جس کے نتیجے میں بالآخر ہندوستان تقسیم ہوا۔

حقیقت یہ ہے کہ ہندووستان کی سیاسی پیش رفت میں جوں جوں کانگریسی پنڈت اور ہندو مہا سبا کے انتہا پسند ہندو تنگ نظر ہوتے گئے، بالکل اسی مناسبت اور رفتار سے مسلم لیگی لیڈر شپ کی سیاسی بصرت میں وسعت پیدا ہوتی گئی۔ اور یوں کانگریس اور مسلم لیگ کے درمیان لڑا جانے والا سیاسی کھیل Actionاور Reactionکے مختلف مراحل سے گزرتا ہوا اپنے منطقی انجام Logical Consequenceکی طرف گامزن دکھائی دیتا ہے۔ اس رپورٹ نے ہندو مسلم اتحاد کے تابوت میں آخری کیل کا کردار ادا کیا۔
__________________
ہمارے لیے دعا کریں ہمیں دعاؤں کی بہت ضرورت ہے پلیز پلیز پلیز

 
خرم شہزاد خرم's Avatar
خرم شہزاد خرم
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 530
Reply With Quote
جواب

Tags
پسند, قائداعظم, نظر, مکمل, جواب, خان, خصوصی, رفتار, زمانہ, سیاست, سردار, علی, صدارت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
پوائینٹ ہی پوائینٹس حاصل کریں ایس اے نقوی خاص آفرز اور اعلانات 227 29-05-11 11:43 PM
یہ نگاہ شرم جھکی جھکی، یہ جبینِ ناز دھواں دھواں عبدالقدوس اقبال عظیم 16 11-12-10 07:00 AM
بھوشن کمار اپادھے ، پولیس کمشنر شعلہ پور، اسلام کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔ فاروق سرورخان اسلام اور عصر حاضر 6 22-10-10 11:11 PM
عدم کارکردگی پر پورٹ آف سنگاپورکو گودارپورٹ سے نکال سکتے ہیں بابر غوری جاویداسد خبریں 5 05-10-10 06:07 AM
تم اپنے شکوے کی باتیں نہ کھود کھود کے پوچھو The Great شعر و شاعری 4 15-09-09 09:44 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 02:47 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger