واپس چلیں   پاکستان کی آواز > میرے پاکستان سے > تاریخ پاکستان




پرویزی دو قومی نظریہ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 17-11-11, 08:54 PM   #1
پرویزی دو قومی نظریہ
حیدر حیدر آن لائن ہے 17-11-11, 08:54 PM

ذیل میں دو قومی نظریہ سے متعلق غلام احمد پرویز کے ایک آرٹیکل کے اقتباسات پیش کر رہا ہوں۔ تاریخ سے دلچپسی رکھنے والے حضرات کے لیے مفید ہوں گے۔یہ انکے مضمون دو قومی نظریہ سے لیے گئے ہیں۔

1971 کی جنگ کے بعد باقی ماندہ پاکستان پر اُمنڈتے زاغوں کے سائے اور انکے بیانات
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ھاکہ یونیورسٹی کے (اس زمانے کے) ایم اے فاضل کے ایک طالبِ علم عزیز الرحمٰن کے اس خط سے لگ سکتا ہے جو روزنامہ Dainic Pakistan کی اشاعت بابت ۷؍ مئی ۱۹۶۹ء میں شائع ہوا تھا۔ اس میں اس نے لکھا تھا کہ ہم سے جو کہا جاتا ہے کہ ہم، مذہب کی بناء پر ہندوؤں سے الگ قوم ہیں تو اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ

"ہم شری چیتیا، خودی رام، سبھاش بوس، بیجائے سنگھ جیسے اپنی قومی ہیروز کو فراموش کر بیٹھے، اور ان کی جگہ خالد، طارق، موسیٰ اور علیؓ جیسوں کو اپنا ہیرہ سمجھنے لگ گئے۔ ہم نے اپنے دیس کے بھگوان کو بھلا دیا، اور اس کی جگہ ایک غیر ملکی خدا، یعنی اللہ کو اپنا معبود تصور کر لیا۔ ہم اپنے بچوں کے نام اپنی زبان کے بجائے ایک اجنبی زبان میں رکھنے میں خوشی محسوس کرنے لگے۔ ہم نوراللہ اور خلیل اللہ جیسے ناموں پر ریجھ گئے اور ناگنی، کھاگنی جیسے سیدھے سادھے ناموں کو تیاگ دیا۔"

اس کے بعد اس نے لکھا تھا۔

"اب ہمارا بنگالی جذبہ آہستہ آہستہ بیدار ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اس اسلامی قومیت کے بند ڈھیلے پڑ جائیں گے اور علاقائی قومیت کے رشتے مضبوط ہوتے جائیں گے۔ مغربی پاکستان میں ہمارے سندھی بھائی سبھی بیدار ہو رہے ہیں۔ انہوں نے بھی یہ سمجھنا سیکھ لیا ہے کہ ہم راجہ داہر کی اولاد ہیں اور پہلے سندھی اور اس کے بعد کچھ اور ہیں۔"

71 کی جنگ کے بعد، سقوطِ ڈھاکہ کے جگر خراش المیہ پر شادیانے بجاتے ہوئے بنگلہ دیش کے اس وقت کے قائم مقام صدر، مسٹر نذر الاسلام نے اعلان فرمایا تھا کہ

"ہماری یہ فتح نہ کسی فوج کی فتح ہے، نہ کسی ملک کی، یہ فتح ہے حق کی باطل پر، یہ فتح ہے، ایک صحیح نظریہ کی غلط نظریہ پر۔ تقسیمِ ہند سے پہلے سر پھرے مسلمانوں نے یہ دعویٰ کیا کہ قومیت کا مدار مذہب کا اشتراک ہے، وطن کا اشتراک نہیں اور حکومت کی بنیاد مذہب پر ہے، سیکولر نہیں۔ وہاں ان لوگوں کو لاکھ سمجھایا گیا کہ یہ نظریہ غلط ہے اور نا ممکن العمل، اس پر اصرار نہ کرو۔ لیکن وہ نہ مانے اور اپنے غلط مفروضہ کی بنیاد پر ایک جداگانہ قوم بن کر ایک الگ مملکت کے بانی بن گئے ۔ لیکن چوبیس سالہ تجربے نے ثابت کر دیا کہ جو نظریہ یہ لوگ پیش کر رہے تھے وہ باطل تھا اور حق وہی تھا جو ان کے مخالفین پیش کر رہے تھے۔ سقوطِ ڈھاکہ نے اس حقیقت پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی۔ اب یہ شہادت تاریخ کے صفحات پر ہمیشہ کے لئے منقوش رہے گی۔ ہم ان راہ گم کردہ لوگوں سے اب بھی کہیں گے کہ وہ اس باطل نظریہ کو ترک کر کے وطن کے اشتراک کی بناء پر پھر سے ہندوستانی قوم کا جزو بن جائیں اور مذہب کو سیاست میں گھسیٹنے کی کوشش نہ کریں ورنہ جو حشر مشرقی پاکستان کا ہوا ہے، وہی کل مغربی پاکستان کا بھی ہوگا۔ حقائق کسی کے جھٹلائے جھوٹے ثابت نہیں ہو جایا کرتے۔"

ادھر تقسیمِ ہند کے سب سے شدید مخالف خان عبدالجبار خان بھی اس قسم کے نظریات عام کرنے میں برابر مصروف ہیں۔ انہوں نے ۱۹۷۳ء میں " ٹائمز آف انڈیا" کے نمائندے، مسٹر دلیپ کمار مکر جی کو انٹرویو دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ

"چند سال پہلے کا پاکستان اب مر چکا ہے۔ مغربی پاکستان میں چار قومیتوں کے درمیان رشتہ کے لئے اسلام کافی نہیں رہے گا۔ اس کے لئے سیکولر بنیادوں پر رشتے کی تعمیر کرنی ہو گی۔"

انہوں نے یہ بات کوئی پہلی مرتبہ نہیں کہی۔ وہ جب ۱۹۶۹ء میں کابل سے بھارت گئے تھے تو انہوں نے وہاں کہا تھا کہ

"میں نے دو قومی نظریہ کبھی تسلیم کیا نہ ہی کبھی ایسا کروں گا۔ مذہب قومیت کا معیار کس طرح ہو سکتا ہے؟ میں افغانستان کے باشندوں کو بھی کہتا رہا ہوں اور دوسرے لوگوں کو بھی کہ اسلام دنیا میں انسان کے بعد آیا ہے۔ جب اسلام یا کوئی اور مذہب دنیا میں نہیں آیا تھا اس وقت بھی تو یہاں انسان بستے تھے۔ ان کی کوئی نہ کوئی قومیت تو تھی ہی، لہٰذا میں اسے کس طرح تسلیم کر لوں کہ قومیت کا معیار مذہب ہو سکتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ ہماری اکثر مشکلات کا سبب یہ ہے کہ مذہب کو قومیت کے ساتھ ملا دیتے ہیں۔"

(سٹیٹس مین ۱۶؍ اکتوبر ۱۹۶۹ء بحوالہ پاکستان ٹائمز۱۹؍ مارچ ۱۹۷۳ء)

ادھر والدِ بزرگوار یہ فرما رہے تھے اور ادھر ان کے صاحبزادے خان عبدالولی خان یہ اعلان کر رہے تھے۔

"دو قومی نظریہ ختم ہو چکا ہے اسلام کی باتیں ڈیڑھ ہزار سال پرانی اور فرسودہ ہیں۔ پچّیس سال کے تجربہ نے ثابت کر دیا ہے کہ نظریۂ پاکستان غلط تھا۔"

(نوائے وقت ۱۳؍ اکتوبر ۱۹۷۲ء)

کراچی سے شائع ہونے والے روزنامہ "حریت" کی اشاعت بابت ۴؍ نومبر ۱۹۶۸ء میں ایک سندھی طالبہ مس نسیم تھل کا ایک خط چھپا جس میں اس نے کہا تھا کہ

"وہ اسلام اور پاکستان، جو ہم سے ہمارا سندھ اور سندھی زبان چھینے، ایسے اسلام اور پاکستان کو ہم اپنا بد ترین دشمن سمجھتے ہیں۔ یہ جھوٹ ہے کہ سندھ صرف اسلام اور اسلامی فلسفہ کی وجہ سے عظیم ہے۔ سندھ کی عظمت، سندھ کے سادہ لوح بہادر عوام ہیں۔ سندھ موہنجوڈارو، کوٹ ڈی جان کے آثارِ قدیمہ اور لطیف، سچل، ایاز، جی ایم سید کی طرح کے شاعروں اور دانشوروں کی وجہ سے عظیم ہے۔ وہ اپنی تہذیب کی وجہ سے عظیم ہے۔ (نہ کہ اسلام کی وجہ سے)۔"

(طلوعِ اسلام دسمبر ۱۹۶۸ء)

مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد وہاں کے بہاری (یعنی غیر بنگالی) مسلمانوں پر جو قیامت ٹوٹی (اور ان پر مصائب وآلام کا جو سلسلہ ابھی تک جاری ہے) اس پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے سندھ کی ایک اور بیٹی، غزالہ بلوچ کا ایک خط اخبار "ڈیلی نیوز" کراچی کی ۱۹؍ اگست ۱۹۷۲ء کی اشاعت میں شائع ہوا تھا۔ جس میں اس نے لکھا تھا۔

"اگر مشرقی پاکستان کے بہاری، پاکستانی فوج اور مرکزی حکومت کے بجائے بنگالی علیحدگی پسندوں کی حمایت کرتے تو وہ آج بڑی پر مسرت حالت میں ہوتے لیکن انہوں نے سخت حماقت کی اور پاکستان۔ ایک پاکستان کے ساتھ وفاداری پر اصرار کرتے رہے اور اب اپنی حماقت کی قیمت، اپنی اور اپنے بال بچوں کی جانوں کی شکل میں ادا کررہے ہیں ۔ بہاریوں کی بد قسمتی دراصل اس دن شروع ہوئی تھی جب انہوں نے ۴۷۔۱۹۴۶ میں پاکستان کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ اگر بہاری مسلمان ہندوستان کے ہندوؤں کے اندر جذب ہو جاتے تو آج بہاری آرام اور چین سے زندگی کے دن گزار رہے ہوتے۔ ہندوؤں کے اندر جذب ہونے کے لئے انہیں صرف اس قدر کرنا پڑتا کہ اسلام چھوڑ کر ہندو دھرم اختیار کر لیتے۔ اگر وہ ایسا کر لیتے تو دو قومی نظریہ کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا۔ ہندوستان میں ایک ہندو قوم ہوتی۔ اب بھی پاکستان میں رہنے والے مہاجرین کے سامنے دو راستے کھلے ہیں یا تو وہ ہندو دھرم اختیار کر کے ہندوستان واپس چلے جائیں اور وہاں ایک عظیم ترقی پذیر قوم کا جزو بن کر رہیں اور یا پاکستان میں سندھی بن کر رہیں جس کا مطلب یہ ہو گا کہ وہ ایک بہت چھوٹی سی قوم کا جزو بن جائیں گے۔"

(طلوعِ اسلام اکتوبر ۱۹۷۲ء صفحہ نمبر ۴۳)
سندھ سے آگے بڑھ کر بلوچستان کی طرف آئیے۔ وہاں کے (اس زمانے کے) وزیرِ اعلیٰ سردار عطا اللہ خان مینگل نے ۱۹۷۲ء میں کہا تھا کہ

"جس دو قومی نظریہ کی اساس پر پاکستان حاصل کی گیا تھا وہ خلیجِ بنگال میں غرق ہو چکا ہے۔"

(نوائے وقت ۱۸؍ اکتوبر ۱۹۷۲ء)

 
حیدر's Avatar
حیدر
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,368
شکریہ: 52,468
11,159 مراسلہ میں 35,214 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 344
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (17-11-11), ھارون اعظم (17-11-11), ننھا بچہ (17-11-11), مرزا عامر (18-11-11), احمد نذیر (17-11-11)
پرانا 17-11-11, 09:08 PM   #2
Senior Member
 
ننھا بچہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2010
مقام: جہانِ فانی میں
مراسلات: 4,506
کمائي: 52,383
شکریہ: 5,864
3,220 مراسلہ میں 6,929 بارشکریہ ادا کیا گیا
ننھا بچہ کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔
چھوڑیں حیدر بھائی
نقار خانے میں طوطیوں کی کون سُنتا ہے

Last edited by ننھا بچہ; 18-11-11 at 09:54 AM.
ننھا بچہ آن لائن ہے   Reply With Quote
ننھا بچہ کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (17-11-11)
پرانا 17-11-11, 09:24 PM   #3
Senior Member
 
رضی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,537
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بک مارک ۔
رضی آف لائن ہے   Reply With Quote
رضی کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (17-11-11)
پرانا 17-11-11, 10:07 PM   #4
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,661
کمائي: 254,735
شکریہ: 53,117
7,704 مراسلہ میں 22,599 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اس تھریڈ‌کے عنوان سے اختلاف ہے!!!
بیان کیئے ذیادہ تر جملے غلام احمد پرویز مرحوم کے نہیں‌ہیں!!!
shafresha آف لائن ہے   Reply With Quote
shafresha کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (18-11-11)
پرانا 17-11-11, 11:03 PM   #5
Senior Member
مقبول
 
بلال الراعی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: Gujrat
عمر: 27
مراسلات: 195
کمائي: 5,876
شکریہ: 820
158 مراسلہ میں 526 بارشکریہ ادا کیا گیا
بلال الراعی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

جب اکثریت دو قومی نظریہ کے قائل ھوں۔تو ان چند لوگوں کے کچھ کہنے سے کیا ھو گا۔آج بھارت کے مسلمانوں کا اور بنگلہ دیش کے مسلمانوں کا موازنہ کر کے دیکھ لیں،پاکستان کے مسلمان بہت حد تک بہتر زندگی گزار رہے ہیں۔بے شک پاکستان میں دہشت گردی بھی ہے لاقانونیت بھی ھے ،لیکن پاکستان کا مسلمان ان دونوں ممالک کے مسلمانوں سے زیادہ حوشحال ہے۔
__________________
اللّٰھُمَّ صَلِّی عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَماَصَلَّيتَ عَلٰی اِبْرَاھِيمَ وَعَلٰی آلِ اِبْرَاھِيمَ اِنَّكَا حَمِيدُمَّجِيدُُُ --
اَلَّھُمَّ بَارِك عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکتَ عَلٰی اِبرَا ھِيمَ وَعَلٰی آلِ اِبرَاھِيمَ اِنَّكَ حَمِيدُ مَّجِيدُُُ
بلال الراعی آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے بلال الراعی کا شکریہ ادا کیا
ننھا بچہ (18-11-11), نبیل خان (18-11-11), حیدر (18-11-11)
پرانا 18-11-11, 06:55 AM   #6
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,368
کمائي: 95,550
شکریہ: 52,468
11,159 مراسلہ میں 35,214 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : shafresha مراسلہ دیکھیں
اس تھریڈ‌کے عنوان سے اختلاف ہے!!!
بیان کیئے ذیادہ تر جملے غلام احمد پرویز مرحوم کے نہیں‌ہیں!!!
زیادہ تر نہیں بلکہ کوئی بھی جملہ غلام احمد پرویز کا نہیں ہے۔ ایک حصہ پوسٹ کرنے کے بعد لنک ڈاؤن ہو گیا تھا۔ جس کی وجہ سے باقی ماندہ آرٹیکل پوسٹ نہیں کر پایا۔
وہ ابھی کر رہا ہوں انشا اللہ۔

سبھی علم کے تشنگان کے لیے پرھنے کے قابل ہے۔
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 18-11-11, 07:06 AM   #7
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,368
کمائي: 95,550
شکریہ: 52,468
11,159 مراسلہ میں 35,214 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جب اِس کرۂ ارض پر انسانوں نے پہلے پہل مل جل کر رہنا شروع کیاتو وہ (مختصر ہی سہی) لا محالہ ایک جماعت ، ایک گروہ ، ایک معاشرہ تھا جس میں کسی قسم کی تفریق اور تقسیم نہیں تھی۔ اِس کے بعد ان میں تفریق پیدا ہونی شروع ہوئی۔ قرآن کریم کے الفاظ میں:-

وَمَا كَانَ النَّاسُ إِلاَّ أُمَّةً وَّاحِدَةً فَاخْتَلَفُواْ 10:19))

ابتداء میں نوعِ انسان ایک ہی امت تھی۔ پھر ان میں اختلافات پیدا ہو گئے۔

ان اختلافات کو مٹا کر انسانوں کو پھر سے امتِ واحدہ بنانے کے لئے انبیاء کرامؑ کا سلسلہ شروع ہوا۔ ارشاد ہے۔

كَانَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً فَبَعَثَ اللّهُ النَّبِيِّينَ مُبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ وَأَنزَلَ مَعَهُمُ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ لِيَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ فِيمَا اخْتَلَفُواْ فِيهِ (2:213)

‘‘نوعِ انسان شروع میں ایک ہی امت کے افراد تھے۔ پھر ان میں اختلافات پیدا ہونے شروع ہو گئےتو اللہ تعالیٰ نے مبشرین اور منذرین انبیاء کرام کا سلسلہ شروع کیااور ان کے ساتھ ضابطۂ قوانین بھی نازل کیا تاکہ وہ اس کے ذریعہ ان کے اختلافات کو مٹا کر (انہیں پھر سے امتِ واحدہ بنا دیں۔)’’

نوعِ انسان کی امتِ واحدہ ’سب سے پہلے خاندانوں میں تقسیم ہوئی۔ خاندان بڑھے تو اس تفریق نے قبائل کی شکل اختیار کر لی۔ قبائل دامن دراز ہوئے تو نسلی امتیازات کی تفریق پیدا ہو گئی۔ اور اب اس دور میں’ اس تقسیم نے قومیت کی شکل اختیار کر لی ہے۔ اس تفریق کے لئے کرۂ ارض پر لکیریں کھینچی گئیں اور ان سے مختلف ممالک وجود میں آ گئے اور ایک ملک کی چار دیواری کے اندر بسنے والے انسان ایک قوم کے افراد قرار پا گئے۔ اس طرح خدا کی وسیع و عریض زمین مختلف ملکوں کی حدود میں بٹ گئی اور انسانوں کی عالمگیر برادری نے متعدد قوموں کی شکل اختیار کر لی۔ چنانچہ اب کوئی انسان محض انسان ہونے کی نسبت سے پہچانا نہیں جاتا۔ وہ متعارف ہوتا ہے وطن یا قوم کی نسبت سے

آپ نے دیکھا کہ یہ تفریق، خون، رنگ، نسل، زبان، وطن کی بنیادوں پر پیدا ہوئی۔ حضراتِ انبیاء کرام ؑ نے (وحی خداوندی کی رو سے) کہا کہ یہ معیارِ تفریق باطل ہے۔حقیقی معیارِ تقسیم، فکر و نظر (آئیڈیالوجی) کی ہم آہنگی ہے۔ زندگی کا ایک تصور مستقل اقدارِ خداوندی کی رو سے متشکل ہوتا ہے۔جو لوگ اس تصورِ حیات میں ہم آہنگ ہوں’وہ رنگ’نسل’ زبان اور وطن کے اختلاف کے باوجود ایک برادری کے افراد ہیں۔ جو اس تصور کہ تسلیم نہ کریں وہ دوسری برادری کے افراد۔ قرآن کریم میں ہے۔

هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ فَمِنكُمْ كَافِرٌ وَمِنكُم مُّؤْمِنٌ (64:2)

‘‘خدا نے تم سب کو پیدا کیا۔ پھر تم میں سے ایک گروہ نے بلند انسانیت کی زندگی سے انکار کر دیا، دوسرے گروہ نے اسے تسلیم کر لیا۔’’

اور یوں نوعِ انسان دو گروہوں میں بٹ گئی۔ بلند سطحِ زندگی سے انکار کرنے والوں کو اصطلاح میں کافر کہتے ہیں۔ حقیقی زندگی کے تسلیم کرنے والوں کو مومن۔ کافر کے معنی انکار کرنے والا ہیں اور مومن کے معنی مان لینے والا۔ قرآن کریم کی رو سے’تفریقِ انسانیت کا یہی معیار ہے جس کے مطابق دنیا میں دو قومیں بستی ہیں مومن اور کافر۔ یا مسلم اور غیرمسلم۔

حضرات انبیاء کرام ؑنے اس معیارِ تفریق کو محض نظری طور پر پیش نہیں کیا۔ اپنی زندگی میں اس پر عمل پیرا ہو کر دکھا بھی دیا۔ سلسلۂ وحی کا آغاز حضرت نوح ؑسے ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں ہے کو جب ان کے زمانے میں’ ان کی اپنی قوم میں’اس معیار کے مطابق تفریق پیدا ہوئی تو حضرت نوح ؑ ایک طرف تھے اور ان کا حقیقی بیٹا دوسری طرف’ کیونکہ وہ مبنی بر وحی نظریۂ حیات میں ان سے ہم آہنگ نہیں تھا۔ اسی طرح جب حضرت ابراہیم علیہ اسلام کے باپ نے اس صحیح روشِ زندگی کو اختیار کرنے سے انکار کر دیا تو آپ نے نہ صرف باپ سے بلکہ پوری قوم سے یہ کہہ کر قطع تعلق کر لیا کہ

وَأَعْتَزِلُكُمْ وَمَا تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ (19:4

‘‘میں تم سے اور جنہیں تم خدا کے سوا پکارتے ہو سب سے الگ ہوتا ہوں۔’’

اور اتنا ہی نہیں’ بلکہ ان سے کہہ دیا کہ

إِنَّا بُرَاء مِنكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ (60:4)

‘‘ہم تم سے اور ان سے جن کی تم خدا کو چھوڑ کر عبودیت اختیار کئے ہو ، سب سے یکسر بے تعلق ہیں۔’’ كَفَرْنَا بِكُمْ ‘‘ہم تم سے ہر رشتے کا انکار کرتے اور بیزاری کا اعلان کرتے ہیں۔’’ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَاء أَبَدًا(60:4) ‘‘تم میں اور ہم میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے کھلی کھلی عداوت اور نفرت رہے گی۔’’اگر تم چاہتے ہو کہ ہم سے تعلق پیدا کرو’اور یہ عداوت محبت سے اور یہ نفرت رفاقت میں بدل جائےتو اس کا ایک ہی طریق ہے’اور وہ یہ کہ تم بھی اس راستے کی سچائی پر یقین کر لو جو اللہ نے ہم سب کے لئے مقرر کیا ہے۔ حَتَّى تُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَحْدَهُ (60:4) اس لئےکہ اس عالگیر اصولِ زندگی کی رو سے اپنوں اور بیگانوں کا معیار’خون یا وطن کا رشتہ نہیں’معیار یہ ہے کہفَمَن تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي (14:36)‘‘جو شخص میرے پیچھے پیچھےچلتا ہے (وہ کسی قبیلہ کا فرد اور کسی وطن کا باشندہ ہو) وہ میرے اپنوں میں سے ہے’’ اور میرے ‘‘اپنے’’ جو کسی دوسری راہ پر چلتے ہیں وہ میرے غیر ہیں۔ یہی معیار تھا وہ معیار جس کے مطابق حضرت لوطؑ کی بیوی کے متعلق کہہ دیا گیا کہ وہ اپنوں میں سے نہیں بلکہ غیروں میں سے تھی اس لئے اس کا حشر انہی کے ساتھ ہوا(66:10-11)قومیت کی تقسیم و تفریق کا یہی معیار تھا جو نوعِ انسانی کی وسعتوں کے ساتھ ساتھ آگے بڑھتا چلا آیا۔

قومِ رسولِ ہاشمؐی

تا آنکہ دنیا کے سامنے وہ دور آ گیا جب وحی کی تکمیل ہو گئی اور اس کے مطابق نبی اکرمؐ کے مقدس ہاتھوں’ ایک ایسی قوم کی تشکیل ہوئی جس نے ساری دنیا پر روزِ روشن کی طرح واضح کر دیا کہ قومیت کا صحیح معیار کیا ہے۔ اس تشکیلِ قومیت کے مطابق حبش کا بلال۔ فارس کا سلمان ۔اور روم کا صہیبؓ محمدِؐ عربی کی ‘‘اپنی قوم" کے افراد تھے اور مکہ کا ابو جہل اور (حقیقی چچا) ابو لہب‘‘غیر قوم’’ کے افراد۔ قومیت کی اس تقسیم کا عملی مظاہرہ بدر کے میدان میں نکھر کر سامنے آ گیا جب آسمان کی آنکھ نے یہ نظارہ دیکھا کہ حضرت ابوبکرؓ ایک طرف اور ان کا بیٹا دوسری طرف۔ حضرت حذیفہؓ ادھر تھے تو ان کا باپ عتبہ دوسری طرف’حضرت عمرؓ اس طرف تھے تو ان کا ماموں اس طرف۔ حضرت علیؓ ادھر تھے تو ان کا بھائی عقیل ادھر۔نہیں’ اور آگے بڑھئے۔ادھر خود محمدؐ تھے تو ان کے مدِّ مقابل آپؐ کے حقیقی چچا عباس اور داماد ابوالعاص۔ یہ تھی وہ تقسیمِ انسانیت ’جو وطن’ رنگ’ زبان’نسل ’اور رشتہ داری کے تمام حدود و ثغور سے بلند ہو کر’ خالص ایمان اور کفر کے معیار پر وجود میں آئی تھی۔ یہ تھی وہ امتِ محمدیہؐ۔وہ ملتِ اسلامیہ۔وہ جماعتِ مومنین جو دنیا کے مختلف حصوں کے ان انسانوں پر مشتمل تھی جب میں وجۂ اشتراک صرف ایمان تھا۔ یہی تھی وہ تقسیم جس کے متعلق کہہ دیا کہ مومنین کی جماعت کے افراد بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاء بَعْضٍ(8:72) ‘‘ایک دوسرے کے دوست اور چارہ ساز ہیں۔’’ اور ان کے مقابلہ میں’ نہ ماننے والوں (کفار) کی قوم بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاء بَعْضٍ (8:73)‘‘ایک دوسرے کے دوست اور چارہ ساز’’۔ اس کے بعد اس قومِ مومنین کو تاکید کر دی کہ

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ لاَ تَتَّخِذُواْ بِطَانَةً مِّن دُونِكُمْ (3:117)

‘‘اے جماعتِ مومنین! تم اپنے سوا اور کسی کو اپنے رازوں میں شریک نہ کرو۔’’
یہ ہے قرآن کی تعلیم مسلم اور غیر مسلم کے باہمی تعلقات کی بابت۔ پھر چونکہ یہ قوم (مومنین) خانقاہ نشین راہبوں کی جماعت یا تارک الدنیا زاہدوں کا گروہ نہیں تھی’ بلکہ وہ قوم تھی جس کے دین کے متمکن (Establish) ہونے کے لئے حکومت لا ینفک تھی(دیکھئے24:55) اس لئے ان سے واضح الفاظ میں کہہ دیا کہ ’تم نے اپنی حکومت میں تمام فیصلے احکامِ خداوندی کے مطابق کرنے ہیں۔فَاحْكُم بَيْنَهُم بِمَا أَنزَلَ اللّهُ (5:4 جو ایسا نہیں کرے گا وہ مومن نہیں کافر ہے (5:44) قرآن کے ان اصولوں کی روشنی میں تمہیں جو فروعی قوانین مرتب کرنے پڑیں انہیں آپس میں ایک دوسرے کے مشورے سے طے کیا کرو۔ وَأَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ (42:3 ان میں کسی غیر کو شریک نہ کیا کرو۔ جو ان مستقل اقدار کی صداقت پر یقین ہی نہیں رکھتا وہ تمہارے امور مملکت میں شریک و دخیل کیسے ہو سکتا ہے؟ چنانچہ آپ کو نہ رسول اللہؐ کی مجلسِ شوریٰ میں کوئی غیر مومن دکھائی دے گا نہ خلفائے راشدینؓ کی پارلیمان میں کوئی غیر مسلم۔ ان کی حکومت خالصتاً جماعتِ مومنین پر مشتمل تھی اور غیر مسلم اس مملکت میں ایک ایسی اقلیت کی حیثیت سے رہتے تھے جن کی حفاظت کی ذمہ داری ان کے سر پر تھی۔ وہ ‘‘قومِ مسلم’’ کے افراد نہیں تھے۔

صدرِ اول کے بعد

اسلام کے صدرِ اول کے بعد’ جب دین’مذہب میں بدل گیا تو اس کے دیگر مہماتِ اصول کی طرح’ قومیت کا نظریہ بھی نگاہوں سے اوجھل ہو گیا اور مسلمان بھی’ دیگر قوموں کی طرح’ نسل اور وطن کی تفریق سے مختلف قوموں میں بٹ گئے۔ صدیوں سے ہماری یہی حالت چلی آ رہی تھی کہ ہم میں اقبالؒ جیسا مفکر پیدا ہو گیا جس نے اپنی قرآنی بصیرت کی رو سے (دین کی دیگر اساسات کی طرح) اس فراموش کردہ حقیقت کی بھی از سرِ نو یاد دہانی کرائی کہ امتِ محمدیہؐ کا نسلوں اور وطنوں کی تفریق سے مختلف قوموں میں بٹ جانا’ اسلام کی بنیادی حقیقت کے خلاف ہے۔ یہ پوری امت’ایمان کے اشتراک کی بنا پر امتِ واحد ہے۔ فکرِ اقبالؒ کے عام ہونے کی وجہ سے آج ہمارے لئے یہ سمجھنا کہ اسلامی قومیت کا یہی معیار ہے، چنداں تعجب انگیز نہیں لیکن خود اقبالؒ کا اس قرآنی حقیقت تک پہنچنا بڑا تعجب انگیز تھا۔وہ 1905 ء میں (جب اس کی عمر تیس بتیس سال سے زیادہ نہ تھی) حصولِ تعلیم کے لئے یورپ گیا اور تین سال تک وہاں رہا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب اقوامِ یورپ میں نیشنلزم کی مدح و ستائش کے غلغلے بلند ہو رہے تھے۔ دانایانِ مغرب اس کئے جا رہے تھے۔ ان حالات میں ایک ایسے نوجوان طالبِ علم کو جو پہلے ہی سے نیشنلزم سے متاثر ذہن لے کر یورپ گیا ہو، متشدّد نیشنلسٹ ہو جانا چاہیے تھا۔ لیکن مورخ کی نگاہ یہ دیکھ کر محوِ حیرت رہ جاتی ہے کہ اس طالبِ علم کے قلب و نگاہ میں ایک عجیب انقلاب رونما ہوا۔ وہ گیا تھا تو یہ کہتے ہوئے کہ

ہندی ہیں ہم ’ وطن ہے ہندوستاں ہمارا

اور واپس آیا تو یہ گاتا ہوا کہ

چین و عرب ہمارا’ ہندوستاں ہمارا
مسلم ہیں ہم ’ وطن ہے سارا جہاں ہمارا

وہ گیا تھا تو یہ گنگناتا ہوا کہ

خاکِ وطن کا مجھ کو ہر ذرہ دیوتا ہے!

اور وہ واپس آیا تو یہ الاپتا ہوا کہ

ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے
جو پیرہن اس کا ہے وہ مذہب کا کفن ہے!

وہ گیا تھا تو یہ سندیش دیتا ہوا کہ

سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا
ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا

اور آیا تو یہ اعلان کرتا ہوا کہ

نرالا سارے جہاں سے اس کو عرب کے معمار نے بنایا
بنا ہمارے حصارِ ملت کی اتحادِ وطن نہیں ہے

چونکہ یہ نظریہ اسلامی نظامِ زندگی کی اصل اور بنیاد تھا، اس لئے علامہؒ نے اس کی تبلیغ کو اپنی زندگی کا مشن قرار دے لیا۔ وہ اسے کس شدّ و مد سے پیش کرتے تھے’ اس کا اندازہ اس نظم سے لگائیے جو بانگِ درا میں‘‘وطنیت’’کے عنوان سے درج ہے اور اس میں وہ کہتے ہیں۔

اس دور میں مے اور ہے جام اور ہے جم اور
ساقی نے بنا کی روشِ لطف و ستم اور
مسلم نے بھی تعمیر کیا اپنا حرم اور
تہذیب کے آذر نے ترشوائے صنم اور
ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے
جو پیرہن اس کا ہے وہ مذہب کا کفن ہے
یہ بت کہ تراشیدۂ تہذیبِ نوی ہے
غارت گرِ کاشانۂ دینِ نبویؐ ہے

بازو ترا توحید کی قوت سے قوی ہے
اسلام ترا دیس ہے ، تو مصطفویؐ ہے
نظارۂ دیرینہ زمانے کو دکھا دے!
اے مصطفویؐ ! خاک میں اس بت کو ملا دے

اس نظریہ کی مخالفت

میں نےاپنے مقالہ (شائع شدہ نوائے وقت، بابت 17؍ اکتوبر 1980ء) میں یہ بتایا تھا کہ جب قائدِ اعظم نے سیکولر سٹیٹ کے خلاف اسلامی مملکت کا نظریہ پیش کیا تو اس کی سب سے زیادہ مخالفت نیشنلسٹ علماء کی طرف سے ہوئی تھی۔ اسی طرح اقبالؒ کے پیش کردہ نظریۂ قومیت کی شدید ترین مخالفت بھی انہی کی طرف سے ہوئی۔ اس کا ٹیپ کا بند ان کی وہ بحث ہے جو (مولانا) حسین احمد مدنی (مرحوم) کے ساتھ ہوئی۔

شروع 1938ء کی بات ہے۔ مولانا مرحوم نے دہلی کے ایک جلسۂ عام میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ۔۔۔ ‘‘قومیں اوطان سے بنتی ہیں’ مذہب سے نہیں’’۔۔۔ ہندوستان کے سب سے بڑے دارالعلوم، دیو بند، کے شیخ الحدیث کی طرف سے اس قسم کا اعلان’کوئی ایسا حادثہ نہیں تھا جسے آسانی سے برداشت کیا جا سکتا۔ علامہ اقبالؒ اس زمانے میں یوں کہئے کہ مرض الموت میں مبتلا تھے۔ جب انہوں نے اس خلافِ اسلام نعرہ کو سنا تو ان کے دلِ صد چاک سے ایک آہ اُبھری’جو ان الفاظ کی شکل میں فضا کو چیرتی ہوئی آں سوئے افلاک تک جا پہنچی کہ

عجم ہنوز نداند رموزِ دیں ورنہ
ز دیو بند حسین احمد ایں چہ بو العجبی است
سرود بر سرِ منبر کہ ملت از وطن است
چہ بے خبر ز مقامِ محمدِؐ عربی است
بمصطفیٰ برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست
اگر باو نرسیدی تمام بو لہبی است

ان اشعار میں ‘‘بمصطفیٰ برساں خویش را’’ کے الفاظ گہرے غور و فکر کے متقاضی اور ایک عظیم حقیقت کے عکاس ہیں۔ دین خدا کی طرف سے ملتا ہے، لیکن امت کی تشکیل اس رسول کی نسبت سے ہوتی ہے جو اس دین کو انسانوں تک پہنچاتا اور اس کے مطابق ایک معاشرہ کی تشکیل کرتا ہے۔ اسی نسبت سے اسلام کے پیرو’امتِ محمدیہؐ کہلاتے ہیں۔ اگر قومیت کی اساس وطن یا نسل قرار پا جائے تو رسولؐ سے نسبت ختم ہو جائے اور جب رسولؐ سے نسبت منقطع ہو جائے تو پھر اسلام بھی باقی نہیں رہتا۔

إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُواْ دِينَهُمْ وَكَانُواْ شِيَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ (6:160)

جو لوگ اپنے دین میں تفرقہ پیدا کر لیں اور اس طرح الگ الگ فرقے’ پارٹیاں’قومیں بن جائیں’ اے رسولؐ تیرا ان سے کوئی واسطہ نہیں۔

یعنی اگر قومیت کی اساس’ اسلام کی طرف نسبت کی بجائے کوئی اور قرار دے لی جائےتو ایسے لوگوں کا رسولؐ سے تعلق منقطع ہو جاتا ہے۔ اسی بنا پر علامہ اقبالؒ نے کہا کہ وطن کو قومیت کی اساس قرار دینے سے رسول اللہؐ سے رشتہ منقطع ہو جاتا ہے۔ اگر تم مسلمان رہنا چاہتے ہو تو اپنی قومیت کی نسبت’ وطن کے بجائے’ حضور نبی اکرمؐ کی طرف کرو۔ بمصطفیٰ برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست۔ اگر باو نرسیدی ۔۔۔ اگر تم نے اپنی نسبت حضورؐ کی طرف نہ کی تو ۔۔۔ تمام بو لہبی است۔ ۔۔پھر دین باقی نہیں رہتا، بو لہبی رہ جاتی ہےجس میں قومیت کی نسبت وطن یا نسل کی طرف کی جاتی ہے۔ اس اصولی حقیقت کی وضاحت کرتے ہوئے علامہؒ نے کہا۔

اگر وطنیت کا جذبہ ایسا ہی قابلِ قدر اور اہم تھا تو رسول اللہؐ کے بعض اقارب’ہم نسلوں اور ہم قدموں کو آپ سے پرخاش کیوں ہوئی۔ کیوں نہ رسول اللہؐ نے اسلام کو ایک ہمہ گیر ملت سمجھ کر بلحاظِ قوم یا قومیت’ابو جہل اور ابو لہب کو اپنائے رکھا اور ان کی دلجوئی کرتے رہے۔ بلکہ کیوں نہ عرب کے سیاسی امور میں ان کے ساتھ قومیتِ وطنی قائم رکھی۔ محمدؐ (فداہ ابی وامی) کی قوم آپ کی بعثت سے پہلے ایک قوم تھی اور آزاد تھی’ لیکن جب محمدؐ کی امت بننے لگی تو اب قوم کی حیثیت ثانوی رہ گئی۔جو لوگ رسول اللہؐ کی متابعت میں آ گئے وہ خواہ ان کی قوم میں تھے یا دیگر اقوام سے’ وہ سب امتِ مسلمہ یا ملتِ محمدیہؐ بن گئے۔ پہلے وہ ملک و نسب کے گرفتار تھے’ اب ‘‘ملک و نسب’’ ان کا گرفتار ہو گیا۔
لیکن ابھی اس نظریہ کا ایک رُخ باقی ہے۔ جیسا کہ میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں’ دین تو خدا کی طرف سے ملتا ہے لیکن امت کی تشکیل اس نبی کی طرف نسبت سے ہوتی ہے جس کی وساطت سے وہ دین ہم تک پہنچتا ہے۔ میں اس حقیقت کہ اس سے پہلے بھی متعدد بار واضح کر چکا ہوں’ لیکن موضوع کی اہمیت کے پیشِ نظر’اِسے آج پھر دہرانا ضروری سمجھتا ہوں کہ امت کی یہ تشکیل اس رسول کی طرف نسبت سے ہوتی ہے جسے سلسلۂ انبیاء کرام کی آخری کڑی تسلیم کیا جائے۔ مثلاً ایک عیسائی’حضرت عیسیٰؑ کو اس سلسلہ کی آخری کڑی سمجھتا ہے’ یعنی نبوت کو حضرت عیسیٰؑ کی ذات پر ختم قرار دیتا ہے’ اس لئے وہ امتِ حضرتِ عیسیٰؑ کا فرد (یعنی عیسائی) کہلاتا ہے۔ لیکن جونہی وہ حضرت عیسیٰؑ کے بعد ایک اور نبی (یعنی محمد رسول اللہؐ) پر ایمان لے آتا ہے وہ امتِ عیسیٰؑ سے کٹ کر ایک نئی امت(یعنی محمدیہؐ ) کا فرد قرار پا جاتا ہے۔اسی اصول کی رو سے اگر کوئی شخص’محمد رسول اللہؐ کے بعد کسی اور نبی پر ایمان لاتا ہے تو وہ امت محمدیہ ؐ سے کٹ کر ایک نئی امت کا فرد قرار پا جاتا ہے۔ علامہ اقبالؒ نے اپنے بیان میں اس حقیقت کہ بھی واضح کر دیا کہ جس طرح رسول اللہؐ کے بعد کسی کو نبی تسلیم کرنے والے کا رشتہ امتِ محمدیہؐ سے کٹ جاتا ہے، اسی طرح وطن یا نسل کو قومیت کی اساس قرار دینے سے بھی امتِ محمدیہؐ کے ساتھ رشتہ باقی نہیں رہتا۔ انہوں نے کہا کہ

حقیقت یہ ہے کہ مولانا حسین احمد یا ان کے دیگر ہم خیالوں کے افکار میں نظریۂ وطنیت ایک معنی میں وہی حیثیت رکھتا ہے جو قادیانی افکار میں‘‘انکارِ خاتمیت’’ کا نظریہ۔وطنیت کے حامی بالفاظِ دیگر یہ کہتے ہیں کہ امتِ مسلمہ کے لئے ضروری ہے کہ وقت کی مجبوریوں کے سامنے ہتھیار ڈال کر اپنی اس حیثیت کے علاوہ جس کو قانونِ الٰہی ابد الاباد تک متعین و متشکل کر چکا ہے’کوئی اور حیثیت بھی اختیار کرے۔ جس طرح قادیانی نظریہ’ایک جدید نبوت کی اختراع سے قادیانی افکار کو ایسی راہ پر ڈال دیتا ہے کہ اس کی انتہا نبوتِ محمدیہؐ کے کامل و اکمل ہونے سے انکار ہے۔ بعینہِ اسی طرح وطنیت کا نظریہ بھی امتِ مسلمہ کی بنیادی سیاست کے کامل ہونے سے انکار کی راہ کھولتا ہے۔
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (18-11-11), احمد نذیر (18-11-11)
پرانا 18-11-11, 07:11 AM   #8
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,368
کمائي: 95,550
شکریہ: 52,468
11,159 مراسلہ میں 35,214 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اگر دو قومی نظریہ کو پرویزی نقطہ نظر سے بخوبی سمجھ لیا جائے تو الگ ریاست کا قیام ناگزیر ہو جاتا ہے۔ کیونکہ ان کا استدلال اس پیرا گراف پر بنیاد کر رہا ہے

‘‘اے جماعتِ مومنین! تم اپنے سوا اور کسی کو اپنے رازوں میں شریک نہ کرو۔’’
یہ ہے قرآن کی تعلیم مسلم اور غیر مسلم کے باہمی تعلقات کی بابت۔ پھر چونکہ یہ قوم (مومنین) خانقاہ نشین راہبوں کی جماعت یا تارک الدنیا زاہدوں کا گروہ نہیں تھی’ بلکہ وہ قوم تھی جس کے دین کے متمکن (Establish) ہونے کے لئے حکومت لا ینفک تھی(دیکھئے24:55) اس لئے ان سے واضح الفاظ میں کہہ دیا کہ ’تم نے اپنی حکومت میں تمام فیصلے احکامِ خداوندی کے مطابق کرنے ہیں۔فَاحْكُم بَيْنَهُم بِمَا أَنزَلَ اللّهُ (5:4 جو ایسا نہیں کرے گا وہ مومن نہیں کافر ہے (5:44) قرآن کے ان اصولوں کی روشنی میں تمہیں جو فروعی قوانین مرتب کرنے پڑیں انہیں آپس میں ایک دوسرے کے مشورے سے طے کیا کرو۔ وَأَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ (42:3 ان میں کسی غیر کو شریک نہ کیا کرو۔ جو ان مستقل اقدار کی صداقت پر یقین ہی نہیں رکھتا وہ تمہارے امور مملکت میں شریک و دخیل کیسے ہو سکتا ہے؟ چنانچہ آپ کو نہ رسول اللہؐ کی مجلسِ شوریٰ میں کوئی غیر مومن دکھائی دے گا نہ خلفائے راشدینؓ کی پارلیمان میں کوئی غیر مسلم۔ ان کی حکومت خالصتاً جماعتِ مومنین پر مشتمل تھی اور غیر مسلم اس مملکت میں ایک ایسی اقلیت کی حیثیت سے رہتے تھے جن کی حفاظت کی ذمہ داری ان کے سر پر تھی۔ وہ ‘‘قومِ مسلم’’ کے افراد نہیں تھے۔

لیکن ساتھ ہی یہ سوال بھی پیدا ہو جاتا ہے کہ پھر پاکستان کے موجودہ نظام پارلیمان کی وہ کس طرح حمایت کرتے تھے؟ کیونکہ اس میں تو ایک واضح تعداد میں غیر مسلم بھائیوں کو پارلیمان میں نشستیں دی جاتی ہیں ۔
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
مرزا عامر (18-11-11)
پرانا 18-11-11, 02:06 PM   #9
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,531
کمائي: 88,119
شکریہ: 5,199
5,040 مراسلہ میں 11,465 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
"اگر مشرقی پاکستان کے بہاری، پاکستانی فوج اور مرکزی حکومت کے بجائے بنگالی علیحدگی پسندوں کی حمایت کرتے تو وہ آج بڑی پر مسرت حالت میں ہوتے لیکن انہوں نے سخت حماقت کی اور پاکستان۔ ایک پاکستان کے ساتھ وفاداری پر اصرار کرتے رہے اور اب اپنی حماقت کی قیمت، اپنی اور اپنے بال بچوں کی جانوں کی شکل میں ادا کررہے ہیں ۔ بہاریوں کی بد قسمتی دراصل اس دن شروع ہوئی تھی جب انہوں نے ۴۷۔۱۹۴۶ میں پاکستان کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ اگر بہاری مسلمان ہندوستان کے ہندوؤں کے اندر جذب ہو جاتے تو آج بہاری آرام اور چین سے زندگی کے دن گزار رہے ہوتے۔ ہندوؤں کے اندر جذب ہونے کے لئے انہیں صرف اس قدر کرنا پڑتا کہ اسلام چھوڑ کر ہندو دھرم اختیار کر لیتے۔ اگر وہ ایسا کر لیتے تو دو قومی نظریہ کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا۔ ہندوستان میں ایک ہندو قوم ہوتی۔ اب بھی پاکستان میں رہنے والے مہاجرین کے سامنے دو راستے کھلے ہیں یا تو وہ ہندو دھرم اختیار کر کے ہندوستان واپس چلے جائیں اور وہاں ایک عظیم ترقی پذیر قوم کا جزو بن کر رہیں اور یا پاکستان میں سندھی بن کر رہیں جس کا مطلب یہ ہو گا کہ وہ ایک بہت چھوٹی سی قوم کا جزو بن جائیں گے۔"
آج یہی مہاجرین ( مجھے مہاجر لفظ سے چڑھ ہے ) پورے پاکستان کی آنکھوں میں کھٹکتا ہے ۔ ہم پاگل ہے کہ اپنی شناخت بدل لیں۔آزادی سے پہلے ہمیں آوازیں دیتے ہیں کہ ہمارے راجہ داہر سے بچاو آج سندھی بننے کا کہتے ہیں بنگلہ دیش میں بھی ہم نے ہی پاکستان کا ساتھ دیا آج پاکستان انکو قبول کرنے کو تیار نہیں۔اگر زبان کا مسئلہ نہ بنتا تو پاکستان کبھی نہیں بنتا اردو ہندی بولنے میں تو ایک لیکن لکھائی میں الگ یہی سے مسئلہ اٹکا
__________________
Life is a gift given to us by Allah.Death is a gift returned to Allah.
wajee آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے wajee کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (18-11-11), حیدر (18-11-11)
پرانا 18-11-11, 02:20 PM   #10
Senior Member
مقبول
 
بلال الراعی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: Gujrat
عمر: 27
مراسلات: 195
کمائي: 5,876
شکریہ: 820
158 مراسلہ میں 526 بارشکریہ ادا کیا گیا
بلال الراعی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

دلچسپی سے بھرپور موضوع ہے۔
بلال الراعی آف لائن ہے   Reply With Quote
بلال الراعی کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (18-11-11)
پرانا 18-11-11, 04:48 PM   #11
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,723
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,067 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

موضوع تو واقعی دلچسپ ہے لیکن دو تین بار پڑھنا پڑے گا ۔
مرزا عامر آن لائن ہے   Reply With Quote
مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (18-11-11)
جواب

Tags
pakistan, پاکستان, پاکستانی, نیوز, چین, ممکن, اللہ, انسان, اجنبی, اسلامی, اعلیٰ, بھائی, بچوں, ترک, حضرات, خان, دیس, رشتے, زندگی, سیاست, سردار, عزیز, صحیح, صدر،, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ایم کیوایم کے کارنامے دستاویزی شکل میں راشد احمد سیاست 0 10-09-11 02:14 PM
تنقید و اختلاف از معین اختر ۔ ایک دستاویزی پروگرام نورالدین فن و فنکار 11 26-04-11 02:28 PM
وکی لیکس آج پھر پینٹا گون کو دستاویزی ”پھینٹی “ لگائے گی جاویداسد خبریں 0 16-10-10 09:24 PM
ذوالفقار علی بھٹو پر دستاویزی فلم Real_Light فن و فنکار 0 12-06-08 04:11 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 02:51 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger