|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 344
|
||||
| 5 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | shafresha (17-11-11), ھارون اعظم (17-11-11), ننھا بچہ (17-11-11), مرزا عامر (18-11-11), احمد نذیر (17-11-11) |
|
|
#5 |
|
Senior Member
مقبول
|
جب اکثریت دو قومی نظریہ کے قائل ھوں۔تو ان چند لوگوں کے کچھ کہنے سے کیا ھو گا۔آج بھارت کے مسلمانوں کا اور بنگلہ دیش کے مسلمانوں کا موازنہ کر کے دیکھ لیں،پاکستان کے مسلمان بہت حد تک بہتر زندگی گزار رہے ہیں۔بے شک پاکستان میں دہشت گردی بھی ہے لاقانونیت بھی ھے ،لیکن پاکستان کا مسلمان ان دونوں ممالک کے مسلمانوں سے زیادہ حوشحال ہے۔
__________________
اللّٰھُمَّ صَلِّی عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَماَصَلَّيتَ عَلٰی اِبْرَاھِيمَ وَعَلٰی آلِ اِبْرَاھِيمَ اِنَّكَا حَمِيدُمَّجِيدُُُ -- اَلَّھُمَّ بَارِك عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکتَ عَلٰی اِبرَا ھِيمَ وَعَلٰی آلِ اِبرَاھِيمَ اِنَّكَ حَمِيدُ مَّجِيدُُُ |
|
|
|
|
|
#6 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,368
کمائي: 95,550
شکریہ: 52,468
11,159 مراسلہ میں 35,214 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
وہ ابھی کر رہا ہوں انشا اللہ۔ سبھی علم کے تشنگان کے لیے پرھنے کے قابل ہے۔ |
|
|
|
|
|
|
#7 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,368
کمائي: 95,550
شکریہ: 52,468
11,159 مراسلہ میں 35,214 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جب اِس کرۂ ارض پر انسانوں نے پہلے پہل مل جل کر رہنا شروع کیاتو وہ (مختصر ہی سہی) لا محالہ ایک جماعت ، ایک گروہ ، ایک معاشرہ تھا جس میں کسی قسم کی تفریق اور تقسیم نہیں تھی۔ اِس کے بعد ان میں تفریق پیدا ہونی شروع ہوئی۔ قرآن کریم کے الفاظ میں:-
وَمَا كَانَ النَّاسُ إِلاَّ أُمَّةً وَّاحِدَةً فَاخْتَلَفُواْ 10:19)) ابتداء میں نوعِ انسان ایک ہی امت تھی۔ پھر ان میں اختلافات پیدا ہو گئے۔ ان اختلافات کو مٹا کر انسانوں کو پھر سے امتِ واحدہ بنانے کے لئے انبیاء کرامؑ کا سلسلہ شروع ہوا۔ ارشاد ہے۔ كَانَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً فَبَعَثَ اللّهُ النَّبِيِّينَ مُبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ وَأَنزَلَ مَعَهُمُ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ لِيَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ فِيمَا اخْتَلَفُواْ فِيهِ (2:213) ‘‘نوعِ انسان شروع میں ایک ہی امت کے افراد تھے۔ پھر ان میں اختلافات پیدا ہونے شروع ہو گئےتو اللہ تعالیٰ نے مبشرین اور منذرین انبیاء کرام کا سلسلہ شروع کیااور ان کے ساتھ ضابطۂ قوانین بھی نازل کیا تاکہ وہ اس کے ذریعہ ان کے اختلافات کو مٹا کر (انہیں پھر سے امتِ واحدہ بنا دیں۔)’’ نوعِ انسان کی امتِ واحدہ ’سب سے پہلے خاندانوں میں تقسیم ہوئی۔ خاندان بڑھے تو اس تفریق نے قبائل کی شکل اختیار کر لی۔ قبائل دامن دراز ہوئے تو نسلی امتیازات کی تفریق پیدا ہو گئی۔ اور اب اس دور میں’ اس تقسیم نے قومیت کی شکل اختیار کر لی ہے۔ اس تفریق کے لئے کرۂ ارض پر لکیریں کھینچی گئیں اور ان سے مختلف ممالک وجود میں آ گئے اور ایک ملک کی چار دیواری کے اندر بسنے والے انسان ایک قوم کے افراد قرار پا گئے۔ اس طرح خدا کی وسیع و عریض زمین مختلف ملکوں کی حدود میں بٹ گئی اور انسانوں کی عالمگیر برادری نے متعدد قوموں کی شکل اختیار کر لی۔ چنانچہ اب کوئی انسان محض انسان ہونے کی نسبت سے پہچانا نہیں جاتا۔ وہ متعارف ہوتا ہے وطن یا قوم کی نسبت سے آپ نے دیکھا کہ یہ تفریق، خون، رنگ، نسل، زبان، وطن کی بنیادوں پر پیدا ہوئی۔ حضراتِ انبیاء کرام ؑ نے (وحی خداوندی کی رو سے) کہا کہ یہ معیارِ تفریق باطل ہے۔حقیقی معیارِ تقسیم، فکر و نظر (آئیڈیالوجی) کی ہم آہنگی ہے۔ زندگی کا ایک تصور مستقل اقدارِ خداوندی کی رو سے متشکل ہوتا ہے۔جو لوگ اس تصورِ حیات میں ہم آہنگ ہوں’وہ رنگ’نسل’ زبان اور وطن کے اختلاف کے باوجود ایک برادری کے افراد ہیں۔ جو اس تصور کہ تسلیم نہ کریں وہ دوسری برادری کے افراد۔ قرآن کریم میں ہے۔ هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ فَمِنكُمْ كَافِرٌ وَمِنكُم مُّؤْمِنٌ (64:2) ‘‘خدا نے تم سب کو پیدا کیا۔ پھر تم میں سے ایک گروہ نے بلند انسانیت کی زندگی سے انکار کر دیا، دوسرے گروہ نے اسے تسلیم کر لیا۔’’ اور یوں نوعِ انسان دو گروہوں میں بٹ گئی۔ بلند سطحِ زندگی سے انکار کرنے والوں کو اصطلاح میں کافر کہتے ہیں۔ حقیقی زندگی کے تسلیم کرنے والوں کو مومن۔ کافر کے معنی انکار کرنے والا ہیں اور مومن کے معنی مان لینے والا۔ قرآن کریم کی رو سے’تفریقِ انسانیت کا یہی معیار ہے جس کے مطابق دنیا میں دو قومیں بستی ہیں مومن اور کافر۔ یا مسلم اور غیرمسلم۔ حضرات انبیاء کرام ؑنے اس معیارِ تفریق کو محض نظری طور پر پیش نہیں کیا۔ اپنی زندگی میں اس پر عمل پیرا ہو کر دکھا بھی دیا۔ سلسلۂ وحی کا آغاز حضرت نوح ؑسے ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں ہے کو جب ان کے زمانے میں’ ان کی اپنی قوم میں’اس معیار کے مطابق تفریق پیدا ہوئی تو حضرت نوح ؑ ایک طرف تھے اور ان کا حقیقی بیٹا دوسری طرف’ کیونکہ وہ مبنی بر وحی نظریۂ حیات میں ان سے ہم آہنگ نہیں تھا۔ اسی طرح جب حضرت ابراہیم علیہ اسلام کے باپ نے اس صحیح روشِ زندگی کو اختیار کرنے سے انکار کر دیا تو آپ نے نہ صرف باپ سے بلکہ پوری قوم سے یہ کہہ کر قطع تعلق کر لیا کہ وَأَعْتَزِلُكُمْ وَمَا تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ (19:4 ![]() ‘‘میں تم سے اور جنہیں تم خدا کے سوا پکارتے ہو سب سے الگ ہوتا ہوں۔’’ اور اتنا ہی نہیں’ بلکہ ان سے کہہ دیا کہ إِنَّا بُرَاء مِنكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ (60:4) ‘‘ہم تم سے اور ان سے جن کی تم خدا کو چھوڑ کر عبودیت اختیار کئے ہو ، سب سے یکسر بے تعلق ہیں۔’’ كَفَرْنَا بِكُمْ ‘‘ہم تم سے ہر رشتے کا انکار کرتے اور بیزاری کا اعلان کرتے ہیں۔’’ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَاء أَبَدًا(60:4) ‘‘تم میں اور ہم میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے کھلی کھلی عداوت اور نفرت رہے گی۔’’اگر تم چاہتے ہو کہ ہم سے تعلق پیدا کرو’اور یہ عداوت محبت سے اور یہ نفرت رفاقت میں بدل جائےتو اس کا ایک ہی طریق ہے’اور وہ یہ کہ تم بھی اس راستے کی سچائی پر یقین کر لو جو اللہ نے ہم سب کے لئے مقرر کیا ہے۔ حَتَّى تُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَحْدَهُ (60:4) اس لئےکہ اس عالگیر اصولِ زندگی کی رو سے اپنوں اور بیگانوں کا معیار’خون یا وطن کا رشتہ نہیں’معیار یہ ہے کہفَمَن تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي (14:36)‘‘جو شخص میرے پیچھے پیچھےچلتا ہے (وہ کسی قبیلہ کا فرد اور کسی وطن کا باشندہ ہو) وہ میرے اپنوں میں سے ہے’’ اور میرے ‘‘اپنے’’ جو کسی دوسری راہ پر چلتے ہیں وہ میرے غیر ہیں۔ یہی معیار تھا وہ معیار جس کے مطابق حضرت لوطؑ کی بیوی کے متعلق کہہ دیا گیا کہ وہ اپنوں میں سے نہیں بلکہ غیروں میں سے تھی اس لئے اس کا حشر انہی کے ساتھ ہوا(66:10-11)قومیت کی تقسیم و تفریق کا یہی معیار تھا جو نوعِ انسانی کی وسعتوں کے ساتھ ساتھ آگے بڑھتا چلا آیا۔ قومِ رسولِ ہاشمؐی تا آنکہ دنیا کے سامنے وہ دور آ گیا جب وحی کی تکمیل ہو گئی اور اس کے مطابق نبی اکرمؐ کے مقدس ہاتھوں’ ایک ایسی قوم کی تشکیل ہوئی جس نے ساری دنیا پر روزِ روشن کی طرح واضح کر دیا کہ قومیت کا صحیح معیار کیا ہے۔ اس تشکیلِ قومیت کے مطابق حبش کا بلال۔ فارس کا سلمان ۔اور روم کا صہیبؓ محمدِؐ عربی کی ‘‘اپنی قوم" کے افراد تھے اور مکہ کا ابو جہل اور (حقیقی چچا) ابو لہب‘‘غیر قوم’’ کے افراد۔ قومیت کی اس تقسیم کا عملی مظاہرہ بدر کے میدان میں نکھر کر سامنے آ گیا جب آسمان کی آنکھ نے یہ نظارہ دیکھا کہ حضرت ابوبکرؓ ایک طرف اور ان کا بیٹا دوسری طرف۔ حضرت حذیفہؓ ادھر تھے تو ان کا باپ عتبہ دوسری طرف’حضرت عمرؓ اس طرف تھے تو ان کا ماموں اس طرف۔ حضرت علیؓ ادھر تھے تو ان کا بھائی عقیل ادھر۔نہیں’ اور آگے بڑھئے۔ادھر خود محمدؐ تھے تو ان کے مدِّ مقابل آپؐ کے حقیقی چچا عباس اور داماد ابوالعاص۔ یہ تھی وہ تقسیمِ انسانیت ’جو وطن’ رنگ’ زبان’نسل ’اور رشتہ داری کے تمام حدود و ثغور سے بلند ہو کر’ خالص ایمان اور کفر کے معیار پر وجود میں آئی تھی۔ یہ تھی وہ امتِ محمدیہؐ۔وہ ملتِ اسلامیہ۔وہ جماعتِ مومنین جو دنیا کے مختلف حصوں کے ان انسانوں پر مشتمل تھی جب میں وجۂ اشتراک صرف ایمان تھا۔ یہی تھی وہ تقسیم جس کے متعلق کہہ دیا کہ مومنین کی جماعت کے افراد بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاء بَعْضٍ(8:72) ‘‘ایک دوسرے کے دوست اور چارہ ساز ہیں۔’’ اور ان کے مقابلہ میں’ نہ ماننے والوں (کفار) کی قوم بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاء بَعْضٍ (8:73)‘‘ایک دوسرے کے دوست اور چارہ ساز’’۔ اس کے بعد اس قومِ مومنین کو تاکید کر دی کہ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ لاَ تَتَّخِذُواْ بِطَانَةً مِّن دُونِكُمْ (3:117) ‘‘اے جماعتِ مومنین! تم اپنے سوا اور کسی کو اپنے رازوں میں شریک نہ کرو۔’’ یہ ہے قرآن کی تعلیم مسلم اور غیر مسلم کے باہمی تعلقات کی بابت۔ پھر چونکہ یہ قوم (مومنین) خانقاہ نشین راہبوں کی جماعت یا تارک الدنیا زاہدوں کا گروہ نہیں تھی’ بلکہ وہ قوم تھی جس کے دین کے متمکن (Establish) ہونے کے لئے حکومت لا ینفک تھی(دیکھئے24:55) اس لئے ان سے واضح الفاظ میں کہہ دیا کہ ’تم نے اپنی حکومت میں تمام فیصلے احکامِ خداوندی کے مطابق کرنے ہیں۔فَاحْكُم بَيْنَهُم بِمَا أَنزَلَ اللّهُ (5:4 جو ایسا نہیں کرے گا وہ مومن نہیں کافر ہے (5:44) قرآن کے ان اصولوں کی روشنی میں تمہیں جو فروعی قوانین مرتب کرنے پڑیں انہیں آپس میں ایک دوسرے کے مشورے سے طے کیا کرو۔ وَأَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ (42:3 ان میں کسی غیر کو شریک نہ کیا کرو۔ جو ان مستقل اقدار کی صداقت پر یقین ہی نہیں رکھتا وہ تمہارے امور مملکت میں شریک و دخیل کیسے ہو سکتا ہے؟ چنانچہ آپ کو نہ رسول اللہؐ کی مجلسِ شوریٰ میں کوئی غیر مومن دکھائی دے گا نہ خلفائے راشدینؓ کی پارلیمان میں کوئی غیر مسلم۔ ان کی حکومت خالصتاً جماعتِ مومنین پر مشتمل تھی اور غیر مسلم اس مملکت میں ایک ایسی اقلیت کی حیثیت سے رہتے تھے جن کی حفاظت کی ذمہ داری ان کے سر پر تھی۔ وہ ‘‘قومِ مسلم’’ کے افراد نہیں تھے۔صدرِ اول کے بعد اسلام کے صدرِ اول کے بعد’ جب دین’مذہب میں بدل گیا تو اس کے دیگر مہماتِ اصول کی طرح’ قومیت کا نظریہ بھی نگاہوں سے اوجھل ہو گیا اور مسلمان بھی’ دیگر قوموں کی طرح’ نسل اور وطن کی تفریق سے مختلف قوموں میں بٹ گئے۔ صدیوں سے ہماری یہی حالت چلی آ رہی تھی کہ ہم میں اقبالؒ جیسا مفکر پیدا ہو گیا جس نے اپنی قرآنی بصیرت کی رو سے (دین کی دیگر اساسات کی طرح) اس فراموش کردہ حقیقت کی بھی از سرِ نو یاد دہانی کرائی کہ امتِ محمدیہؐ کا نسلوں اور وطنوں کی تفریق سے مختلف قوموں میں بٹ جانا’ اسلام کی بنیادی حقیقت کے خلاف ہے۔ یہ پوری امت’ایمان کے اشتراک کی بنا پر امتِ واحد ہے۔ فکرِ اقبالؒ کے عام ہونے کی وجہ سے آج ہمارے لئے یہ سمجھنا کہ اسلامی قومیت کا یہی معیار ہے، چنداں تعجب انگیز نہیں لیکن خود اقبالؒ کا اس قرآنی حقیقت تک پہنچنا بڑا تعجب انگیز تھا۔وہ 1905 ء میں (جب اس کی عمر تیس بتیس سال سے زیادہ نہ تھی) حصولِ تعلیم کے لئے یورپ گیا اور تین سال تک وہاں رہا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب اقوامِ یورپ میں نیشنلزم کی مدح و ستائش کے غلغلے بلند ہو رہے تھے۔ دانایانِ مغرب اس کئے جا رہے تھے۔ ان حالات میں ایک ایسے نوجوان طالبِ علم کو جو پہلے ہی سے نیشنلزم سے متاثر ذہن لے کر یورپ گیا ہو، متشدّد نیشنلسٹ ہو جانا چاہیے تھا۔ لیکن مورخ کی نگاہ یہ دیکھ کر محوِ حیرت رہ جاتی ہے کہ اس طالبِ علم کے قلب و نگاہ میں ایک عجیب انقلاب رونما ہوا۔ وہ گیا تھا تو یہ کہتے ہوئے کہ ہندی ہیں ہم ’ وطن ہے ہندوستاں ہمارا اور واپس آیا تو یہ گاتا ہوا کہ چین و عرب ہمارا’ ہندوستاں ہمارا مسلم ہیں ہم ’ وطن ہے سارا جہاں ہمارا وہ گیا تھا تو یہ گنگناتا ہوا کہ خاکِ وطن کا مجھ کو ہر ذرہ دیوتا ہے! اور وہ واپس آیا تو یہ الاپتا ہوا کہ ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے جو پیرہن اس کا ہے وہ مذہب کا کفن ہے! وہ گیا تھا تو یہ سندیش دیتا ہوا کہ سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا اور آیا تو یہ اعلان کرتا ہوا کہ نرالا سارے جہاں سے اس کو عرب کے معمار نے بنایا بنا ہمارے حصارِ ملت کی اتحادِ وطن نہیں ہے چونکہ یہ نظریہ اسلامی نظامِ زندگی کی اصل اور بنیاد تھا، اس لئے علامہؒ نے اس کی تبلیغ کو اپنی زندگی کا مشن قرار دے لیا۔ وہ اسے کس شدّ و مد سے پیش کرتے تھے’ اس کا اندازہ اس نظم سے لگائیے جو بانگِ درا میں‘‘وطنیت’’کے عنوان سے درج ہے اور اس میں وہ کہتے ہیں۔ اس دور میں مے اور ہے جام اور ہے جم اور ساقی نے بنا کی روشِ لطف و ستم اور مسلم نے بھی تعمیر کیا اپنا حرم اور تہذیب کے آذر نے ترشوائے صنم اور ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے جو پیرہن اس کا ہے وہ مذہب کا کفن ہے یہ بت کہ تراشیدۂ تہذیبِ نوی ہے غارت گرِ کاشانۂ دینِ نبویؐ ہے بازو ترا توحید کی قوت سے قوی ہے اسلام ترا دیس ہے ، تو مصطفویؐ ہے نظارۂ دیرینہ زمانے کو دکھا دے! اے مصطفویؐ ! خاک میں اس بت کو ملا دے اس نظریہ کی مخالفت میں نےاپنے مقالہ (شائع شدہ نوائے وقت، بابت 17؍ اکتوبر 1980ء) میں یہ بتایا تھا کہ جب قائدِ اعظم نے سیکولر سٹیٹ کے خلاف اسلامی مملکت کا نظریہ پیش کیا تو اس کی سب سے زیادہ مخالفت نیشنلسٹ علماء کی طرف سے ہوئی تھی۔ اسی طرح اقبالؒ کے پیش کردہ نظریۂ قومیت کی شدید ترین مخالفت بھی انہی کی طرف سے ہوئی۔ اس کا ٹیپ کا بند ان کی وہ بحث ہے جو (مولانا) حسین احمد مدنی (مرحوم) کے ساتھ ہوئی۔ شروع 1938ء کی بات ہے۔ مولانا مرحوم نے دہلی کے ایک جلسۂ عام میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ۔۔۔ ‘‘قومیں اوطان سے بنتی ہیں’ مذہب سے نہیں’’۔۔۔ ہندوستان کے سب سے بڑے دارالعلوم، دیو بند، کے شیخ الحدیث کی طرف سے اس قسم کا اعلان’کوئی ایسا حادثہ نہیں تھا جسے آسانی سے برداشت کیا جا سکتا۔ علامہ اقبالؒ اس زمانے میں یوں کہئے کہ مرض الموت میں مبتلا تھے۔ جب انہوں نے اس خلافِ اسلام نعرہ کو سنا تو ان کے دلِ صد چاک سے ایک آہ اُبھری’جو ان الفاظ کی شکل میں فضا کو چیرتی ہوئی آں سوئے افلاک تک جا پہنچی کہ عجم ہنوز نداند رموزِ دیں ورنہ ز دیو بند حسین احمد ایں چہ بو العجبی است سرود بر سرِ منبر کہ ملت از وطن است چہ بے خبر ز مقامِ محمدِؐ عربی است بمصطفیٰ برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست اگر باو نرسیدی تمام بو لہبی است ان اشعار میں ‘‘بمصطفیٰ برساں خویش را’’ کے الفاظ گہرے غور و فکر کے متقاضی اور ایک عظیم حقیقت کے عکاس ہیں۔ دین خدا کی طرف سے ملتا ہے، لیکن امت کی تشکیل اس رسول کی نسبت سے ہوتی ہے جو اس دین کو انسانوں تک پہنچاتا اور اس کے مطابق ایک معاشرہ کی تشکیل کرتا ہے۔ اسی نسبت سے اسلام کے پیرو’امتِ محمدیہؐ کہلاتے ہیں۔ اگر قومیت کی اساس وطن یا نسل قرار پا جائے تو رسولؐ سے نسبت ختم ہو جائے اور جب رسولؐ سے نسبت منقطع ہو جائے تو پھر اسلام بھی باقی نہیں رہتا۔ إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُواْ دِينَهُمْ وَكَانُواْ شِيَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ (6:160) جو لوگ اپنے دین میں تفرقہ پیدا کر لیں اور اس طرح الگ الگ فرقے’ پارٹیاں’قومیں بن جائیں’ اے رسولؐ تیرا ان سے کوئی واسطہ نہیں۔ یعنی اگر قومیت کی اساس’ اسلام کی طرف نسبت کی بجائے کوئی اور قرار دے لی جائےتو ایسے لوگوں کا رسولؐ سے تعلق منقطع ہو جاتا ہے۔ اسی بنا پر علامہ اقبالؒ نے کہا کہ وطن کو قومیت کی اساس قرار دینے سے رسول اللہؐ سے رشتہ منقطع ہو جاتا ہے۔ اگر تم مسلمان رہنا چاہتے ہو تو اپنی قومیت کی نسبت’ وطن کے بجائے’ حضور نبی اکرمؐ کی طرف کرو۔ بمصطفیٰ برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست۔ اگر باو نرسیدی ۔۔۔ اگر تم نے اپنی نسبت حضورؐ کی طرف نہ کی تو ۔۔۔ تمام بو لہبی است۔ ۔۔پھر دین باقی نہیں رہتا، بو لہبی رہ جاتی ہےجس میں قومیت کی نسبت وطن یا نسل کی طرف کی جاتی ہے۔ اس اصولی حقیقت کی وضاحت کرتے ہوئے علامہؒ نے کہا۔ اگر وطنیت کا جذبہ ایسا ہی قابلِ قدر اور اہم تھا تو رسول اللہؐ کے بعض اقارب’ہم نسلوں اور ہم قدموں کو آپ سے پرخاش کیوں ہوئی۔ کیوں نہ رسول اللہؐ نے اسلام کو ایک ہمہ گیر ملت سمجھ کر بلحاظِ قوم یا قومیت’ابو جہل اور ابو لہب کو اپنائے رکھا اور ان کی دلجوئی کرتے رہے۔ بلکہ کیوں نہ عرب کے سیاسی امور میں ان کے ساتھ قومیتِ وطنی قائم رکھی۔ محمدؐ (فداہ ابی وامی) کی قوم آپ کی بعثت سے پہلے ایک قوم تھی اور آزاد تھی’ لیکن جب محمدؐ کی امت بننے لگی تو اب قوم کی حیثیت ثانوی رہ گئی۔جو لوگ رسول اللہؐ کی متابعت میں آ گئے وہ خواہ ان کی قوم میں تھے یا دیگر اقوام سے’ وہ سب امتِ مسلمہ یا ملتِ محمدیہؐ بن گئے۔ پہلے وہ ملک و نسب کے گرفتار تھے’ اب ‘‘ملک و نسب’’ ان کا گرفتار ہو گیا۔ لیکن ابھی اس نظریہ کا ایک رُخ باقی ہے۔ جیسا کہ میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں’ دین تو خدا کی طرف سے ملتا ہے لیکن امت کی تشکیل اس نبی کی طرف نسبت سے ہوتی ہے جس کی وساطت سے وہ دین ہم تک پہنچتا ہے۔ میں اس حقیقت کہ اس سے پہلے بھی متعدد بار واضح کر چکا ہوں’ لیکن موضوع کی اہمیت کے پیشِ نظر’اِسے آج پھر دہرانا ضروری سمجھتا ہوں کہ امت کی یہ تشکیل اس رسول کی طرف نسبت سے ہوتی ہے جسے سلسلۂ انبیاء کرام کی آخری کڑی تسلیم کیا جائے۔ مثلاً ایک عیسائی’حضرت عیسیٰؑ کو اس سلسلہ کی آخری کڑی سمجھتا ہے’ یعنی نبوت کو حضرت عیسیٰؑ کی ذات پر ختم قرار دیتا ہے’ اس لئے وہ امتِ حضرتِ عیسیٰؑ کا فرد (یعنی عیسائی) کہلاتا ہے۔ لیکن جونہی وہ حضرت عیسیٰؑ کے بعد ایک اور نبی (یعنی محمد رسول اللہؐ) پر ایمان لے آتا ہے وہ امتِ عیسیٰؑ سے کٹ کر ایک نئی امت(یعنی محمدیہؐ ) کا فرد قرار پا جاتا ہے۔اسی اصول کی رو سے اگر کوئی شخص’محمد رسول اللہؐ کے بعد کسی اور نبی پر ایمان لاتا ہے تو وہ امت محمدیہ ؐ سے کٹ کر ایک نئی امت کا فرد قرار پا جاتا ہے۔ علامہ اقبالؒ نے اپنے بیان میں اس حقیقت کہ بھی واضح کر دیا کہ جس طرح رسول اللہؐ کے بعد کسی کو نبی تسلیم کرنے والے کا رشتہ امتِ محمدیہؐ سے کٹ جاتا ہے، اسی طرح وطن یا نسل کو قومیت کی اساس قرار دینے سے بھی امتِ محمدیہؐ کے ساتھ رشتہ باقی نہیں رہتا۔ انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ مولانا حسین احمد یا ان کے دیگر ہم خیالوں کے افکار میں نظریۂ وطنیت ایک معنی میں وہی حیثیت رکھتا ہے جو قادیانی افکار میں‘‘انکارِ خاتمیت’’ کا نظریہ۔وطنیت کے حامی بالفاظِ دیگر یہ کہتے ہیں کہ امتِ مسلمہ کے لئے ضروری ہے کہ وقت کی مجبوریوں کے سامنے ہتھیار ڈال کر اپنی اس حیثیت کے علاوہ جس کو قانونِ الٰہی ابد الاباد تک متعین و متشکل کر چکا ہے’کوئی اور حیثیت بھی اختیار کرے۔ جس طرح قادیانی نظریہ’ایک جدید نبوت کی اختراع سے قادیانی افکار کو ایسی راہ پر ڈال دیتا ہے کہ اس کی انتہا نبوتِ محمدیہؐ کے کامل و اکمل ہونے سے انکار ہے۔ بعینہِ اسی طرح وطنیت کا نظریہ بھی امتِ مسلمہ کی بنیادی سیاست کے کامل ہونے سے انکار کی راہ کھولتا ہے۔ |
|
|
|
|
|
#8 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,368
کمائي: 95,550
شکریہ: 52,468
11,159 مراسلہ میں 35,214 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اگر دو قومی نظریہ کو پرویزی نقطہ نظر سے بخوبی سمجھ لیا جائے تو الگ ریاست کا قیام ناگزیر ہو جاتا ہے۔ کیونکہ ان کا استدلال اس پیرا گراف پر بنیاد کر رہا ہے
‘‘اے جماعتِ مومنین! تم اپنے سوا اور کسی کو اپنے رازوں میں شریک نہ کرو۔’’ یہ ہے قرآن کی تعلیم مسلم اور غیر مسلم کے باہمی تعلقات کی بابت۔ پھر چونکہ یہ قوم (مومنین) خانقاہ نشین راہبوں کی جماعت یا تارک الدنیا زاہدوں کا گروہ نہیں تھی’ بلکہ وہ قوم تھی جس کے دین کے متمکن (Establish) ہونے کے لئے حکومت لا ینفک تھی(دیکھئے24:55) اس لئے ان سے واضح الفاظ میں کہہ دیا کہ ’تم نے اپنی حکومت میں تمام فیصلے احکامِ خداوندی کے مطابق کرنے ہیں۔فَاحْكُم بَيْنَهُم بِمَا أَنزَلَ اللّهُ (5:4 جو ایسا نہیں کرے گا وہ مومن نہیں کافر ہے (5:44) قرآن کے ان اصولوں کی روشنی میں تمہیں جو فروعی قوانین مرتب کرنے پڑیں انہیں آپس میں ایک دوسرے کے مشورے سے طے کیا کرو۔ وَأَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ (42:3 ان میں کسی غیر کو شریک نہ کیا کرو۔ جو ان مستقل اقدار کی صداقت پر یقین ہی نہیں رکھتا وہ تمہارے امور مملکت میں شریک و دخیل کیسے ہو سکتا ہے؟ چنانچہ آپ کو نہ رسول اللہؐ کی مجلسِ شوریٰ میں کوئی غیر مومن دکھائی دے گا نہ خلفائے راشدینؓ کی پارلیمان میں کوئی غیر مسلم۔ ان کی حکومت خالصتاً جماعتِ مومنین پر مشتمل تھی اور غیر مسلم اس مملکت میں ایک ایسی اقلیت کی حیثیت سے رہتے تھے جن کی حفاظت کی ذمہ داری ان کے سر پر تھی۔ وہ ‘‘قومِ مسلم’’ کے افراد نہیں تھے۔ لیکن ساتھ ہی یہ سوال بھی پیدا ہو جاتا ہے کہ پھر پاکستان کے موجودہ نظام پارلیمان کی وہ کس طرح حمایت کرتے تھے؟ کیونکہ اس میں تو ایک واضح تعداد میں غیر مسلم بھائیوں کو پارلیمان میں نشستیں دی جاتی ہیں ۔ |
|
|
|
| حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | مرزا عامر (18-11-11) |
|
|
#9 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,531
کمائي: 88,119
شکریہ: 5,199
5,040 مراسلہ میں 11,465 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
__________________
Life is a gift given to us by Allah.Death is a gift returned to Allah.
|
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| pakistan, پاکستان, پاکستانی, نیوز, چین, ممکن, اللہ, انسان, اجنبی, اسلامی, اعلیٰ, بھائی, بچوں, ترک, حضرات, خان, دیس, رشتے, زندگی, سیاست, سردار, عزیز, صحیح, صدر،, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| ایم کیوایم کے کارنامے دستاویزی شکل میں | راشد احمد | سیاست | 0 | 10-09-11 02:14 PM |
| تنقید و اختلاف از معین اختر ۔ ایک دستاویزی پروگرام | نورالدین | فن و فنکار | 11 | 26-04-11 02:28 PM |
| وکی لیکس آج پھر پینٹا گون کو دستاویزی ”پھینٹی “ لگائے گی | جاویداسد | خبریں | 0 | 16-10-10 09:24 PM |
| ذوالفقار علی بھٹو پر دستاویزی فلم | Real_Light | فن و فنکار | 0 | 12-06-08 04:11 PM |