واپس چلیں   پاکستان کی آواز > میرے پاکستان سے > تاریخ پاکستان




ڈاکٹر عبدالسلام … تصویر کا دوسرا رخ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 22-11-11, 03:25 AM   #1
ڈاکٹر عبدالسلام … تصویر کا دوسرا رخ
بلال الراعی بلال الراعی آف لائن ہے 22-11-11, 03:25 AM

بشکریہ:/www.kitabosunnat.com/forum
محمد متین خالد

شیخ سعدیؒ نے کہا تھا کہ
وہ دشمن جو بظاہر دوست ہو، اس کے دانتوں کا زخم بہت گہرا ہوتا ہے۔
یہ مقولہ نوبیل انعام یافتہ سائنس دان ڈاکٹر عبدالسلام پر پوری طرح صادق آتا ہے جنھوں نے دوستی کی آڑ میں پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔
انھیں 10 دسمبر 1979ء کو نوبل پرائز ملا۔ قادیانی جماعت کے آرگن روزنامہ ’’الفضل‘‘ نے لکھا تھا کہ جب انھیں نوبل انعام کی خبر ملی تو وہ فوراً اپنی عبادت گاہ میں گئے اور اپنے متعلق مرزا قادیانی کی پیشین گوئی پر اظہار تشکر کیا۔ اس موقع پر مرزا قادیانی کی بعض عبارتوں کو کھینچ تان کر ڈاکٹر عبدالسلام پر چسپاں کیا گیا اور فخریہ انداز میں کہا گیا کہ یہ دنیا کا واحد موحد سائنس دان ہے جسے نوبل پرائز ملا ہے حالانکہ اسلام کی رو سے رسالت مآبﷺ کا منکر بڑے سے بڑا موحد بھی کافر ہوتا ہے۔
ڈاکٹر عبدالسلام حضور نبی کریمﷺ کی ختم نبوت کے منکر تھے۔ وہ حضورﷺ کے بعد آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی (جن سے انگریز نے اپنے سیاسی مفادات کے حصول کی خاطر نبوت کا اعلان کروایا تھا) کو اللہ کا آخری نبی مانتے تھے
اور اس طرح وہ اپنے عقائد کی رو سے دنیا کے تمام مسلمانوں کو کافر اور صرف اپنی جماعت کے لوگوں کو مسلمان سمجھتے تھے۔
چونکہ قادیانیت مخبروں اور غداروں کا سیاسی گروہ ہے، لہٰذا اس کی سرپرستی کرتے ہوئے سامراج نے ان کے ایک فرد کو نوبیل پرائز دیا۔ حالانکہ سب جانتے ہیں کہ یہ ایک رشوت ہے جو یہودیوں نے قادیانیت کو اپنے مفادات کے حصول کے لیے دی۔
ڈاکٹر عبدالسلام کو اپنی جماعت کی خدمات پر ’’فرزند احمدیت‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ وہ اپنی جماعت کے سربراہ مرزا ناصر احمد کے حکم پر 1966ء سے وفات تک مجلس افتاء کے باقاعدہ ممبر رہے۔ ان کے ماموں حکیم فضل الرحمن 20 سال تک گھانا اور نائیجریا میں قادیانیت کے مبلغ رہے۔ ان کے والد چوہدری محمد حسین جنوری 1941ء میں انسپکٹر آف سکولز ملتان ڈویژن کے دفتر میں بطور ڈویژنل ہیڈ کلرک تعینات ہوئے۔ قادیانی جماعت کے دوسرے خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود نے انھیں قادیانی جماعت ضلع ملتان کا امیر مقرر کیا جس میں تحصیل ملتان، وہاڑی، کبیر والہ، خانیوال، میلسی، شجاع آباد اور لودھراں کی تحصیلیں شامل تھیں۔
ایک دفعہ انھوں نے خانیوال میں سیرت النبیﷺ کے نام پر قادیانی جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے حضور نبی کریمﷺ اور مرزا قادیانی کا (نعوذ باللہ) موازنہ شروع کیا تو اجتماع میں موجود مسلمانوں میں کہرام مچ گیا اور انھوں نے اشتعال میں آ کر پورا جلسہ الٹ دیا۔ چند نوجوانوں نے چوہدری محمد حسین کو پکڑ کر جوتے بھی مارے۔ پولیس نے چوہدری محمد حسین کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا۔ دو دن بعد ملتان میں ایک قادیانی اعلیٰ پولیس افسر کی مداخلت سے انھیں رہائی ملی۔
10 ستمبر 1974ء کو ڈاکٹر عبدالسلام نے وزیراعظم کے سائنسی مشیر کی حیثیت سے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے سامنے اپنا استعفیٰ پیش کیا۔ اس کی وجہ انھوں نے اس طرح بیان کی:
’’آپ جانتے ہیں کہ میں احمدیہ (قادیانی) فرقے کا ایک رکن ہوں۔ حال ہی میں قومی اسمبلی نے احمدیوں کے متعلق جو آئینی ترمیم منظور کی ہے، مجھے اس سے زبردست اختلاف ہے۔ کسی کے خلاف کفر کا فتویٰ دینا اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔ کوئی شخص خالق اور مخلوق کے تعلق میں مداخلت نہیں کر سکتا۔ میں قومی اسمبلی کے فیصلہ کو ہرگز تسلیم نہیں کرتا لیکن اب جبکہ یہ فیصلہ ہو چکا ہے اور اس پر عملدرآمد بھی ہو چکا ہے تو میرے لیے بہتر یہی ہے کہ میں اس حکومت سے قطع تعلق کر لوں جس نے ایسا قانون منظور کیا ہے۔ اب میرا ایسے ملک کے ساتھ تعلق واجبی سا ہوگا جہاں میرے فرقہ کو غیر مسلم قرار دیا گیا ہو۔‘‘
فروری 1987ء میں ڈاکٹر عبدالسلام نے امریکی سینٹ کے ارکان کو ایک چٹھی لکھی کہ ’’آپ پاکستان پر دباؤ ڈالیں اور اقتصادی امداد مشروط طور پر دیں تاکہ ہمارے خلاف کیے گئے اقدامات حکومت پاکستان واپس لے لے۔‘‘
30 اپریل 1984ء کو قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا طاہر احمد قادیانی آرڈیننس مجریہ 1984ء کی خلاف ورزی پر مقدمات کے خوف سے بھاگ کر لندن چلے گئے۔ رات کو لندن میں انھوں نے مرکزی قادیانی عبادت گاہ ’’بیت الفضل‘‘ سے ملحقہ محمود ہال میں غصہ سے بھرپور جوشیلی تقریر کی۔ اس موقع پر ڈاکٹر عبدالسلام مرزا طاہر کے سامنے صف اوّل میں بیٹھے ہوئے تھے۔ مرزا طاہر احمد نے اپنے خطاب میں صدارتی آرڈیننس نمبر 20 مجریہ 1984ء (جس کی رو سے قادیانیوں کو شعائر اسلامی کے استعمال سے روک دیا گیا تھا) پر سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے اسے حقوق انسانی کے منافی قرار دیا۔
انھوں نے کہا کہ احمدیوں کی بددعا سے عنقریب پاکستان ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا۔ مزید برآں انھوں نے امریکہ اور دوسرے یورپی ممالک سے اپیل کی کہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر پاکستان کی تمام اقتصادی امداد بند کر دیں۔ اپنے خطاب کے آخر میں مرزا طاہر نے ڈاکٹر عبدالسلام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’’صرف آپ میرے دفتر میں ملاقات کے لیے تشریف لائیں۔ آپ سے چند ضروری باتیں کرنا ہیں۔‘‘ ’’فرزند احمدیت‘‘ ڈاکٹر عبدالسلام نے اسے اپنی سعادت سمجھا اور ملاقات کے لیے حاضر ہو گئے۔
اس ملاقات میں مرزا طاہر احمد نے ڈاکٹر عبدالسلام کو ہدایت کی کہ وہ صدر ضیاء الحق سے ملاقات کریں اور انھیں آرڈیننس واپس لینے کے لیے کہیں۔ لہٰذا ڈاکٹر عبدالسلام نے جنرل محمد ضیاء الحق سے پریذیڈنٹ ہائوس میں ملاقات کی اور انھیں جماعت احمدیہ کے جذبات سے آگاہ کیا۔ صدر ضیاء الحق نے بڑے تحمل اور توجہ سے انھیں سنا۔ جواب میں صدر ضیاء الحق اٹھے اور الماری سے قادیانی قرآن ’’تذکرہ‘‘ مجموعہ وحی مقدس و الہامات اٹھا لائے اور کہا کہ یہ آپ کا قرآن ہے اور دیکھیں اس میں کس طرح قرآن مجید کی آیات میں تحریف کی ہے اور ایک نشان زدہ صفحہ کھول کر ان کے سامنے رکھ دیا۔
اس صفحہ پر مندرجہ ذیل آیت درج تھی:
انا انزلنا قریبا من القادیان ترجمہ: ’’(اے مرزا قادیانی) یقینا ہم نے قرآن کو قادیان (گورداسپور بھارت) کے قریب نازل کیا۔‘‘ (نعوذ باللہ) (تذکرہ مجموعہ وحی مقدس و الہامات طبع چہارم ص 59 از مرزا قادیانی)
اور مزید لکھا ہے کہ یہ تمام قرآن مرزا قادیانی پر دوبارہ نازل ہوا ہے۔ ضیاء الحق نے کہا کہ یہ بات مجھ سمیت ہر مسلمان کے لیے ناقابل برداشت ہے۔ اس پر ڈاکٹر عبدالسلام کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا اور وہ بے حد شرمندہ ہوئے اور کھسیانے ہو کر بات کو ٹالتے ہوئے پھر حاضر ہونے کا کہہ کر اجازت لے کر رخصت ہو گئے۔
یہ بات اہل علم سے ڈھکی چھپی نہیں کہ اسرائیل کے معروف یہودی سائنس دان یوول نیمان کے ڈاکٹر عبدالسلام سے دیرینہ تعلقات ہیں۔ یہ وہی یوول نیمان ہیں جن کی سفارش پر تل ابیب کے میئر نے وہاں کے نیشنل میوزیم میں ڈاکٹر عبدالسلام کا مجسمہ یادگار کے طور پر رکھا۔ معتبر ذرائع کے مطابق بھارت نے اپنے ایٹمی دھماکے اسی یہودی سائنس دان کے مشورے سے کیے جو مسلمانوں کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ یوول نیمان امریکہ میں بیٹھ کر براہ راست اسرائیل کی مفادات کی نگرانی کرتا ہے۔
اسرائیل کے لیے پہلا اٹیم بم بنانے کا اعزاز بھی اسی شخص کو حاصل ہے۔ پاکستان اس کی ہٹ لسٹ پر ہے اور اس سلسلے میں وہ بھارت کے کئی خفیہ دورے بھی کر چکا ہے۔ یہ بھی واضح رہے کہ امریکی کانگریس کی بہت بڑی لابی اس وقت یوول نیمان کے لیے نوبیل پرائز کے حصول کے لیے کوشاں ہے۔ اس کی زندگی کا پہلا اور آخری مقصد امت مسلمہ کو نقصان پہنچانا ہے اور وہ اپنے نصب العین کے حصول کے لیے ہر وقت مسلمانوں کے خلاف کسی نہ کسی سازش میں مصروف رہتا ہے۔ دنیا اور اس کے ساتھ ساتھ وہ تل ابیب یونیورسٹی اسرائیل کے شعبہ فزکس کا سربراہ بھی ہے۔ اس سے پہلے یہ شخص اسرائیل کا وزیر تعلیم و سائنس و ٹیکنالوجی بھی رہا۔ پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام پر اس کی خاص نظر ہے۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان ان کی آنکھ میں کانٹا بن کر کھٹکتا ہے۔
اسی طرح ڈاکٹر عبد السلام کے پاکستان دشمن بھارتی لیڈر نہرو کے ساتھ بڑے دوستانہ مراسم تھے۔ ایک دفعہ نہرو نے ڈاکٹر عبدالسلام کو آفر کی تھی کہ آپ انڈیا آ جائیں، ہم آپ کو آپ کی مرضی کے مطابق ادارہ بنا کر دیں گے۔ اس پر ڈاکٹر عبدالسلام نے کہا کہ ’’وہ اس سلسلہ میں اٹلی کی حکومت سے وعدہ کر چکے ہیں لہٰذا میں معذرت چاہتا ہوں لیکن آپ کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے وہاں کے سائنس دانوں سے تعاون کروں گا۔‘‘ یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر عبدالسلام کی بھارتی ’’خدمات‘‘ کے عوض ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ برائے بنیادی تحقیق بمبئی، انڈین نیشنل سائنس اکیڈمی نئی دہلی اور انڈیا اکیڈمی آف سائنس بنگلور کے منتخب رکن رہے۔ گورونانک یونیورسٹی امرتسر (بھارت)، نہرو یورنیورسٹی بنارس (بھارت)، پنجاب یونیورسٹی چندی گڑھ (بھارت) نے انہیں ’’ڈاکٹر آف سائنس‘‘ کی اعزازی ڈگریاں دیں۔ کلکتہ یونیورسٹی نے انہیں سر دیو پرشاد سردادھیکاری گولڈ میڈل اور انڈیشن فزکس ایسوسی ایشن نے شری آرڈی برلا ایوارڈ دیا۔
بھارتی صحافی جگجیت سنگھ کے ساتھ ڈاکٹر عبدالسلام کے ذاتی تعلقات تھے۔ ڈاکٹر عبدالسلام جب بھی بھارت جاتے، جگجیت سنگھ ’’ٹائمز آف انڈیا‘‘ میں ان پر بھر پور فیچر شائع کرتے۔ انہوں نے ڈاکٹر عبدالسلام پر "Abdulsalam a Biography" (سن اشاعت 1992ئ) کے نام سے ایک کتاب لکھی۔ اس کتاب کا ایک باب "The Ahmaddiya Jammat" ہے جس میں جگجیت سنگھ نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیئے جانے والے 7ستمبر 1974ء کو پارلیمنٹ کے متفقہ فیصلہ اور 1984ء کے صدارتی آرڈنینس جس کے تحت قادیانی شعائر اسلامی استعمال نہیں کر سکتے، کی سخت مذمت کی اور قادیانیوں کو ’’مظلوم‘‘ قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف اقدامات کو حقوق انسانی کے منافی قرار دیا۔
ڈاکٹر عبدالسلام کے ایک اور بے تکلف دوست جے سی پولنگ ہارو (J.C.Polking Horue) جو کیمبرج میں سلام کے شاگرد تھے اور بعد میں کیتھولک بشپ بن گئے۔ ڈاکٹر عبدالسلام کی درخواست پر ہر سال قادیانی جماعت کے سالانہ جلسوں میں شرکت کرتے رہے۔ یاد رہے یہ وہی پولنگ ہارو ہیں جو پاکستان میں قانون توہین رسالت 295/C کے خلاف امریکہ میں عیسائی جلوسوں کی قیادت کرتے ہیں۔ جن میں قادیانیوں کی بھی کثیر تعداد شامل ہوتی ہے۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ جب قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا طاہر احمد نے جولائی 1994ء میں بیت الفضل لندن میں توہین رسالت کی سزا کے خلاف تقریر کی تو مسٹر پولنگ ہارو اپنے کئی بشپ دوستوں کے ہمراہ وہاں موجود تھے۔
ڈاکٹر عبدالسلام مسلمانوں کو کیا سمجھتے تھے؟ اس سلسلہ میں معروف صحافی و کالم نویس جناب تنویر قیصر شاہد نے ایک دلچسپ مگر فکر انگیز واقعہ اپنی ذاتی ملاقات میں راقم کو بتایا۔ یہ واقعہ انہی کی زبانی سنئے اور قادیانی اخلاق پر غور کیجیے:
’’ایک دفعہ لندن میں قیام کے دوران بی بی سی لندن کی طرف سے میں اپنے ایک دوست کے ساتھ بطور معاون، ڈاکٹر عبدالسلام کے گھر ان کا تفصیلی انٹرویو کرنے گیا۔ میرے دوست نے ڈاکٹر سام کا خاصا طویل انٹرویو کیا اور ڈاکٹر صاحب نے بھی بڑی تفصیل کے ساتھ جوابات دیئے۔ انٹرویو کے دوران میں بالکل خاموش، پوری دلچسپی کے ساتھ سوال و جواب سنتا رہا۔ دوران انٹرویو انہوں نے ملازم کو کھانا دسترخوان پر لگانے کا حکم دیا۔ انٹرویو کے تقریباً آخر میں عبدالسلام مجھ سے مخاطب ہوئے اور کہاں کہ آپ معاون کے طور پر تشریف لائے ہیں مگر آپ نے کوئی سوال نہیں کیا۔ میری خواہش ہے کہ آپ بھی کوئی سوال کریں۔ ان کے اصرار پر میں نے بڑی عاجزی سے کہا کہ چونکہ میرا دوست آپ سے بڑاجامع انٹرویو کر رہا ہے اور میں اس میں کوئی تشنگی محسوس نہیں کر رہا، ویسے بھی میں، آپ کی شخصیت اور آپ کے کام کو اچھی طرح جانتا ہوں۔ میں نے آپ کے متعلق خاصا پڑھا بھی ہے۔ جھنگ سے لے کر اٹلی تک آپ کی تمام سرگرمیاں میری نظرں سے گزرتی رہی ہیں لیکن پھر بھی ایک خاص مصلحت کے تحت میں اس سلسلہ میں کوئی سوال کرنا مناسب نہیں سمجھتا۔ اس پر ڈاکٹر عبدالسلام فخریہ انداز میں مسکرائے اور ایک مرتبہ اپنے علمی گھمنڈ اور غرور سے مجھے ’’مفتوح‘‘ سمجھتے ہوئے ’’فاتح‘‘ کے انداز میں ’’حملہ آور‘‘ ہوتے ہوئے کہا کہ ’’نہیں… آپ ضرور سوال کریں، مجھے بہت خوشی ہو گی۔‘‘ بالآخر ڈاکٹر صاحب کے پرزور اصرار پر میں نے انہیں کہا کہ آپ وعدہ فرمائیں کہ آپ کسی تفصیل میں گئے بغیر میرے سوال کا دوٹوک الفاظ ’’ہاں‘‘ یا ’’نہیں‘‘ میں جواب دیں گے۔ ڈاکٹر صاحب نے وعدہ فرمایا کہ ’’ٹھیک! بالکل ایسا ہی ہو گا؟‘‘ میں نے ڈاکٹر صاحب سے پوچھا کہ چونکہ آپ کا تعلق قادیانی جماعت سے ہے، جو نہ صرف حضور نبی کریمe کی بحیثیت آخری نبی منکر ہے، بلکہ حضور نبی کریمe کے بعد آپ لوگ (قادیان، بھارت کے ایک مخبوط الحواس شخض) مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی اور رسول مانتے ہیں۔ جبکہ مسلمان مرزا قادیانی کی نبوت کا انکار کرتے ہیں۔ آپ بتائیں کہ مدعی نبوت مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی نہ ماننے پر آپ مسلمانوں کو کیا سمجھتے ہیں؟ اس پر ڈاکٹر عبدالسلام بغیر کسی توقف کے بولے کہ ’’میں ہر اس شخص کو کافر سمجھتا ہوں جو مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی نہیں مانتا۔‘‘ ڈاکٹر عبدالسلام کے اس جواب میں، میں نے انہیں کہا کہ مجھے مزید کوئی سوال نہیں کرنا۔ اس موقع پر انہوں نے اخلاق سے گری ہوئی ایک عجیب حرکت کی کہ اپنے ملازم کو بلا کر دستر خوان سے کھانا اٹھوا دیا۔ پھر ڈاکٹر صاحب کو غصے میں دیکھ کر ہم دونوں دوست ان سے اجازت لے کر رخصت ہوئے۔‘‘
اہل علم بخوبی جانتے ہیں کہ ڈاکٹر عبدالسلام ایک متعصب اور جنونی قادیانی تھے جو سائنس کی آڑ میں قادیانیت پھیلاتے رہے۔ انہوں نے پوری زندگی میں کبھی کوئی ایسی بات نہیں کی جو اسلام اور پاکستان دشمن ممالک کے مقاصد سے متصادم ہو۔ پاکستان کے دفاع کے متعلق بھارت، اسرائیل یا امریکہ کے خلاف ایک لفظ بھی کہنا، ان کی ایمان دوستی کے منافی تھا۔ درحقیقت قادیانیت نقل بمطابق اصل کا ایسا پیکنگ ہے، جس کی ہر زہریلی گولی کو ورق نقرہ میں ملفوف کر دیا گیا ہے۔ انگریز نے اس مذہب کو الہامات و روایات اور کشف و کرامات کے سانچوں میں ڈھال کر پروان چڑھایا۔ یہی وجہ ہے کہ قادیانیوں کے دل و دماغ بلکہ جسم و جان تک انگریزی کی قید میں ہوتے ہیں۔ جسے اس نے ہمیشہ اپنے مفاد کی خاطر استعمال کیا۔

یہ ایک المیہ ہے۔ کہ قادنیوں کے مکرو فریب اور سازشوں کی بھٹیوں میں اسلام مدتوں سے جل رہا ہے اور ہمارے نام نہاد دانشوروں کا ایک خاص گروہ جن کی جبینوں اور عقلوں پر جہالت اور اغراض کے دھندلکوں اور جالوں نے قبضہ کر رکھا ہے۔، قادیانیت کو مضبوط بنانے میں مصروف ہے۔ یہ لوگ چند ٹکوں کی خاطر وطن کی سالمیت اور ناموس سے کھیل جاتے ہیں۔ یہ ایک ایسا سانچہ ہے جسے ایک بے رحم مورخ ہی بے نقاب کر سکتا ہے۔
بڑا مزا ہو تمام چہرے اگر کوئی بے نقاب کر دے
’’گوئبلز نے کہا تھا کہ اتنا جھوٹ بولو، اتنا جھوٹ بولو کہ اس کا سچ پر گمان ہونے لگے‘‘ بالکل یہی فلسفہ ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کے متعلق اپنایا گیا۔ ہمارے نام نہاد صحافیوں اور دانشوروں نے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے اس ’’غدار پاکستان‘‘ کو ہیرو بنا کر پیش کیا جو انتہائی بددیانتی کے زمرے میں آتا ہے۔ ڈاکٹر عبدالسلام کو ہیرو بنا کر پیش کرنے والے ان عقل کے اندھوں سے پوچھنا چاہئے کہ ڈاکٹر عبدالسلام نے تمام تر مراعات حاصل کرنے کے باوجود اپنی پوری زندگی کی ’’تحقیق‘‘ کے نتیجے میں میں عالم اسلام بالخصوص پاکستان کو کیا تحفہ دیا؟ ان کی کون سی ایجاد یا دریافت ہے، جس نے ہمارا سر فخر سے بلند کیا؟ ان کا کون سا کارنامہ ہے، جس سے پاکستان کو کوئی فائدہ پہنچا؟ ان کی کون سی خدمت ہے، جس سے اہل پاکستان کے مسائل میں ذرا سی بھی کمی واقع ہوئی؟ انہوں نے کون سا ایسا تیر مارا، جس پر انہیں نوبل انعام سے نوازا گیا؟ یہ سوالات آج تک تشنہ جوابات ہیں!
معروف صحافی جناب زاہد ملک اپنی شہرۂ آفاق کتاب ’’ڈاکٹر عبدالقدیر اور اسلامی بم‘‘ کے صفحہ 23 پر ڈاکٹر عبدالسلام کی پاکستان دشمنی کے بارے میں حیرت انگیز انکشاف کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’معزز قارئین کو اس انتہائی افسوس ناک بلکہ شرمناک حقیقت سے باخبر کرنے کے لیے کہ اعلیٰ عہدوں پر متمکن بعض پاکستانی کس طرح غیر ممالک کے اشارے پر کہوٹہ بلکہ پاکستان کے مفاد کے خلاف کام کر رہے ہیں، میں صرف ایک اور واقعہ کا ذکر کروں گا اور اس واقعہ کے علاوہ مزید ایسے واقعات کا ذکر نہیں کروں گا۔ اس لیے کہ ایسا کرنے میں کئی ایک قباحتیں ہیں لیکن میں نے ان سنسنی خیز واقعات کو تاریخ وار درج کر کے اس انتہائی اہم قومی دستاویز کی دو نقلیں پاکستان کے باہر دو مختلف شخصیات کے پاس بطور امانت درج کرا دی ہیں اور اس کی اشاعت کب اور کیسے ہو، کے متعلق بھی ضروری ہدایات دے دی ہیں۔ ‘‘
یہ واقعہ نیاز اے نائیک سیکرٹری وزارت خارجہ نے مجھے ڈاکٹر عبدالقدیر کا ذاتی دوست سمجھتے ہوئے سنایا تھا۔ انہوں نے بتلایا کہ وزیر خارجہ صاحبزادہ یعقوب علی خاں نے انہیں یہ واقعہ ان الفاظ میں سنایا:
’’اپنے ایک امریکی دورے کے دوران سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ میں، میں بعض اعلیٰ امریکی افسران سے باہمی دلچسپی کے امور پر گفتگو کر رہا تھا کہ دوران گفتگو امریکیوں نے حسب معمول پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا ذکر شروع کر دیا اور دھمکی دی کہ اگر پاکستان نے اس حوالے سے اپنی پیش رفت فوراً بند نہ کی تو امریکی انتظامیہ کے لیے پاکستان کی امداد جاری رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ ایک سینئر یہودی افسر نے کہا ’’نہ صرف یہ بلکہ پاکستان کو اس کے سنگین تنائج بھگتنے کے لیے تیار رہنا چاہئے۔ جب ان کی گرم سرد باتیں اور دھمکیاں سننے کے بعد میں نے کہا کہ آپ کا یہ تاثر غلط ہے کہ پاکستانی ایٹمی توانائی کے حصول کے علاوہ کسی اور قسم کے ایٹمی پروگرام میں دلچسپی رکھتا ہے تو سی آئی اے کے ایک افسر نے جو اسی اجلاس میں موجود تھا، کہا کہ آپ ہمارے دعویٰ کو نہیں جھٹلا سکتے۔ ہمارے پاس آپ کے ایٹمی پروگرام کی تمام تر تفصیلات موجود ہیں بلکہ آپ کے اسلامی بم کا ماڈل بھی موجود ہے۔ یہ کہہ کر سی آئی اے کے افسر نے قدرے غصے بلکہ ناقابل برداشت بدتمیزی کے انداز میں کہا کہ آئیے میرے ساتھ بازو والے کمرے میں۔ میں آپ کو بتائوں آپ کا اسلامی بم کیا ہے؟ یہ کہہ کر وہ اٹھا۔ دوسرے امریکی افسر بھی اٹھ بیٹھے۔ میں بھی اٹھ بیٹھا۔ ہم سب اس کے پیچھے پیچھے کمرے سے باہر نکل گئے۔ میری سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا کہ سی آئی اے کا یہ افسر، ہمیں دوسرے کمرے میں کیوں لے کر جا رہا ہے اور وہاں جا کر یہ کیا کرنے والا ہے۔ اتنے میں ہم سب ایک ملحقہ کمرے میں داخل ہو گئے۔ سی آئی اے کا افسر تیزی سے قدم اٹھا رہا تھا۔ ہم اس کے پیچھے پیچھے چل رہے تھے۔ کمرے کے آخر میں جا کر اس نے بڑے غصے کے عالم میں اپنے ہاتھ سے ایک پردہ کو سرکایا تو سامنے میز پر کہوٹہ ایٹمی پلانٹ کا ماڈل رکھا ہوا تھا اور اس کے ساتھ ہی دوسری طرف ایک سٹینڈ پر فٹ بال نما کوئی گول سی چیز رکھی ہوئی تھی۔ سی آئی اے کے افسر نے کہا ’’یہ ہے آپ کا اسلامی بم۔ اب بولو تم کیا کہتے ہو۔ کیا تم اب بھی اسلامی بم کی موجودگی سے انکار کرتے ہو؟‘‘ میں نے کہا میں فنی اور تکینکی امور سے نابلد ہوں۔ میں یہ بتانے یا پہچان کرنے سے قاصر ہوں کہ یہ فٹ بال قسم کا گولہ کیا چیز ہے اور یہ کس چیز کا ماڈل ہے۔ لیکن اگر آپ لوگ بضد ہیں کہ یہ اسلامی بم ہے تو ہو گا، میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ سی آئی اے کے افسر نے کہا کہ آپ لوگ تردید نہیں کر سکتے۔ ہمارے پاس ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں۔ آج کی میٹنگ ختم کی جاتی ہے۔ یہ کہہ کر وہ کمرے سے باہر کی طرف نکل گیا اور ہم بھی اس کے پیچھے پیچھے کمرے سے باہر نکل گئے۔ میرا سر چکرا رہا تھا کہ یہ کیا معاملہ ہے؟ جب ہم کا ریڈور سے ہوتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے تو میں نے غیر ارادی طور پر پیچھے مڑ کر دیکھا۔ میں نے دیکھا کہ ڈاکٹر عبدالسلام ایک دوسرے کمرے سے نکل کر اس کمرے میں داخل ہو رہے تھے، جس میں بقول سی آئی اے کے، اس کے اسلامی بم کا ماڈل پڑا ہوا تھا۔ میں نے اپنے دل میں کہا، اچھا! تو یہ بات ہے‘‘۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ ہمارے صاحبان اقتدار نے دانستہ طور پر ڈاکٹر عبدالسلام کی مندرجہ بالا غداریوں او رسازشوں سے مجرمانہ چشم پوشی کی اور ان ’’خدمات‘‘ کے عوض انہیں 1959ء میں ستارہ امتیاز اور تمغہ و ایوارڈ حسن کارکردگی اور 1979ء میں پاکستان کا سب سے بڑا سول اعزاز نشان امتیاز دیا گیا۔
آخر میں ایک اہم بات کا تذکرہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ وفاقی وزارتِ تعلیم اسلامی جمہوریہ پاکستان (شعبہ نصاب) کی چٹھی نمبری F-2-4/2004-AEA (B.S) مورخہ 19 اپریل 2003ء کے مطابق تمام صوبوں، ریاست آزاد کشمیر اور فیڈرل بورڈ کی نویں جماعت کی (طبیعات) فزکس کی کتاب کے باب اوّل میں ’’سائنس کی ترقی میں عالم اسلام اور پاکستانی سائنسدانوں کا حصہ‘‘ کے عنوان کے تحت ایک مضمون دیا گیا ہے۔ جس میں زمانہ قدیم کے اہل علم و فن ابن الہیثم، البیرونی اور الکندی کے ساتھ ساتھ زمانہ حال کے دو پاکستانی سائنسدانوں، محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور نوبل انعام یافتہ قادیانی سائنس دان ڈاکٹر عبدالسلام کا تذکرہ بھی موجود ہے۔ (بلوچستان کی دونوں کتابوں میں صرف قادیانی سائنس دان کا ذکر ہے محسن پاکستان کا نہیں ہے)
سائنسدانوں کے مختصر احوال اور کارناموں کے تذکرے سے قبل تعارفی پیرا گراف میں یہ تاثر دیا گیا ہے کہ اس باب میں ذکر کیے جانے والے تمام سائنس دان مسلمان ہیں: پنجاب اور بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ کی انگلش اور اردو دونوں کتابوں سے اصل عبارات ملاحظہ فرمائیں:
"Let us see what are the achievements of Muslim scientists as we are concerned with Physics in this book, we shall mention those Muslim and Pakistani scientists who achieve greatness in the field of Physics." (Page 6-7)
’’ہم چونکہ اس کتاب میں فزکس کا مضمون پڑھ رہے ہیں، اس لیے ہم یہاں مسلمان اور پاکستانی سائنس دانوں کی فزکس کے حوالے سے سائنس کی ترقی میں مسلمانوں کے کردار کے بارے میں پڑھیں گے۔‘‘
اسی طرح قومی نصاب کے مطابق جنرل سائنس (نویں) میں بھی ڈاکٹر عبدالسلام کا تذکرہ بطور مسلمان سائنس دان موجود ہے۔
افسوسناک امر یہ ہے کہ اہل سنت والجماعت کے تمام مدارس کے بورڈ تنظیم المدارس کے تحت شائع والی جنرل سائنس کی کتاب جو کہ ثانویہ عامہ میں پڑھائی جاتی ہے، میں ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کا تذکرہ بطور مسلمان سائنس دان کیا گیا ہے۔ (صفحہ 79 تا 81)
جس سے بادی النظر میں یہ تاثر ملتا ہے کہ قادیانی مسلمانوں کا ہی ایک حصہ ہیں۔ انا للّٰہ وانا الیہ راجعون۔

سادگی اپنوں کی دیکھ اوروں کی عیاری بھی
__________________
اللّٰھُمَّ صَلِّی عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَماَصَلَّيتَ عَلٰی اِبْرَاھِيمَ وَعَلٰی آلِ اِبْرَاھِيمَ اِنَّكَا حَمِيدُمَّجِيدُُُ --
اَلَّھُمَّ بَارِك عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکتَ عَلٰی اِبرَا ھِيمَ وَعَلٰی آلِ اِبرَاھِيمَ اِنَّكَ حَمِيدُ مَّجِيدُُُ

 
بلال الراعی's Avatar
بلال الراعی
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: Gujrat
عمر: 27
مراسلات: 195
شکریہ: 820
158 مراسلہ میں 526 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 477
Reply With Quote
25 قاری/قارئین نے بلال الراعی کا شکریہ ادا کیا
abrarhussain_73 (14-12-11), dxbgraphics (22-11-11), mama_shalla (23-11-11), shafresha (22-11-11), skjatala (23-11-11), فکری (27-11-11), ہادی (22-11-11), ھارون اعظم (22-11-11), یاسر عمران مرزا (22-11-11), نورالدین (22-11-11), نبیل خان (22-11-11), مرزا عامر (26-11-11), wajee (22-11-11), اویسی (20-02-12), ابوسعد (22-11-11), ابن آدم (22-11-11), احمد نذیر (22-11-11), تبتیلا انجم (23-11-11), حیدر (22-11-11), رضی (27-11-11), شمشاد احمد (22-11-11), شالا (22-11-11), طارق راحیل (28-11-11), عبیداللہ عبید (23-11-11), عبدالقدوس (22-11-11)
پرانا 22-11-11, 05:51 AM   #2
Administrator

 
عبدالقدوس's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
کمائي: 2,346,339
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبدالقدوس کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالقدوس کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالقدوس کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

جہاں‌تک مجھے یاد ہے ہمارے دور میں یہ نصاب پہلی مرتبہ آیا تھا اور میں نے اپنی کلاس میں اپنے استاد صاحب سے گزارش بھی کی تھی کہ سر یہ صاب تو قادیانی ہیں اس پر انہوں نے کہا تھا کہ ہمارا دیا ہوا نصاب گورنمنٹ نے چھاپنے سے انکار کردیا اور یہ سارا نصاب سنگاپور اور ناروے کے ماہر تعلیم افراد کا تیارکردہ ہے
__________________
http://voobuzz.com
it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
عبدالقدوس آف لائن ہے   Reply With Quote
11 قاری/قارئین نے عبدالقدوس کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (22-11-11), mama_shalla (23-11-11), skjatala (23-11-11), ھارون اعظم (22-11-11), یاسر عمران مرزا (22-11-11), نبیل خان (22-11-11), احمد نذیر (22-11-11), حیدر (22-11-11), رضی (27-11-11), شمشاد احمد (22-11-11), عبیداللہ عبید (23-11-11)
پرانا 22-11-11, 10:54 AM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,531
کمائي: 88,119
شکریہ: 5,199
5,040 مراسلہ میں 11,465 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

آئین میں قادنیوں کو کافر اور کتابوں میں مسلم سندھ میں میڑک کی فزکس کی کتابوں میں اسے مسلم سائنسدان کہا گیا ہے
__________________
Life is a gift given to us by Allah.Death is a gift returned to Allah.
wajee آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے wajee کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (22-11-11), یاسر عمران مرزا (22-11-11), نبیل خان (22-11-11), مرزا عامر (26-11-11), حیدر (22-11-11), رضی (27-11-11)
پرانا 22-11-11, 11:08 AM   #4
ذیلی ناظم
 
یاسر عمران مرزا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: جدہ-سعودی عرب
مراسلات: 5,641
کمائي: 86,349
شکریہ: 9,614
4,226 مراسلہ میں 12,046 بارشکریہ ادا کیا گیا
یاسر عمران مرزا کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ایک بہترین مضمون ۔۔۔ بہت عمدہ

ڈاکٹر عبدالسلام کے لیے نوبل انعام حاصل کرنے کےپیچھے ان کی تحقیق سے زیادہ ان کا عقیدہ کارفرما ہے۔
ڈاکٹر عبدالسلام کو اگر پاکستان سے کسی قسم کی محبت ہوتی تو وہ اپنا ریسرچ سینٹر پاکستان میں قائم کرتے۔
ایسے شخص کو ہیرو بنا کر پیش کرنا یقیننا مستقبل کی نسلوں‌کی ساتھ ناانصافی اور دھوکہ دہی ہو گی۔
__________________
عرفی تومیندیش ذغوغائے رقیباں - آواز سگاں کم نہ کند رزق گدارا
میرا بلاگ | yasirimran.wordpress.com
یاسر عمران مرزا آف لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے یاسر عمران مرزا کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (22-11-11), نبیل خان (22-11-11), مرزا عامر (26-11-11), اویسی (20-02-12), حیدر (22-11-11), رضی (27-11-11), شمشاد احمد (22-11-11)
پرانا 22-11-11, 02:57 PM   #5
Senior Member
 
ابوسعد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2010
مقام: فوق الارض
عمر: 36
مراسلات: 456
کمائي: 10,512
شکریہ: 1,763
319 مراسلہ میں 856 بارشکریہ ادا کیا گیا
ابوسعد کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بہت شاندار اور معلوماتی مضمون ۔ان شاء اللہ مدارس میں شامل کتاب کی غلطی کی اصلاح کے لئے پور ی کوشش کریں گے۔
__________________
ہم نے خود پیدا کئے ہیں زندگی میں مسئلے
ورنہ سچی بات یہ ہے مسئلہ کوئی نہیں
ابوسعد آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے ابوسعد کا شکریہ ادا کیا
یاسر عمران مرزا (22-11-11), نبیل خان (22-11-11), بلال الراعی (22-11-11), حیدر (22-11-11), رضی (27-11-11), شمشاد احمد (22-11-11)
پرانا 22-11-11, 09:01 PM   #6
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 2,286
کمائي: 26,481
شکریہ: 8,476
1,586 مراسلہ میں 3,509 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

وزیر خارجہ صاحبزادہ یعقوب علی خاں نے انہیں یہ واقعہ ان الفاظ میں سنایا:
’’اپنے ایک امریکی دورے کے دوران سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ میں، میں بعض اعلیٰ امریکی افسران سے باہمی دلچسپی کے امور پر گفتگو کر رہا تھا کہ دوران گفتگو امریکیوں نے حسب معمول پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا ذکر شروع کر دیا اور دھمکی دی کہ اگر پاکستان نے اس حوالے سے اپنی پیش رفت فوراً بند نہ کی تو امریکی انتظامیہ کے لیے پاکستان کی امداد جاری رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ ایک سینئر یہودی افسر نے کہا ’’نہ صرف یہ بلکہ پاکستان کو اس کے سنگین تنائج بھگتنے کے لیے تیار رہنا چاہئے۔ جب ان کی گرم سرد باتیں اور دھمکیاں سننے کے بعد میں نے کہا کہ آپ کا یہ تاثر غلط ہے کہ پاکستانی ایٹمی توانائی کے حصول کے علاوہ کسی اور قسم کے ایٹمی پروگرام میں دلچسپی رکھتا ہے تو سی آئی اے کے ایک افسر نے جو اسی اجلاس میں موجود تھا، کہا کہ آپ ہمارے دعویٰ کو نہیں جھٹلا سکتے۔ ہمارے پاس آپ کے ایٹمی پروگرام کی تمام تر تفصیلات موجود ہیں بلکہ آپ کے اسلامی بم کا ماڈل بھی موجود ہے۔ یہ کہہ کر سی آئی اے کے افسر نے قدرے غصے بلکہ ناقابل برداشت بدتمیزی کے انداز میں کہا کہ آئیے میرے ساتھ بازو والے کمرے میں۔ میں آپ کو بتائوں آپ کا اسلامی بم کیا ہے؟ یہ کہہ کر وہ اٹھا۔ دوسرے امریکی افسر بھی اٹھ بیٹھے۔ میں بھی اٹھ بیٹھا۔ ہم سب اس کے پیچھے پیچھے کمرے سے باہر نکل گئے۔ میری سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا کہ سی آئی اے کا یہ افسر، ہمیں دوسرے کمرے میں کیوں لے کر جا رہا ہے اور وہاں جا کر یہ کیا کرنے والا ہے۔ اتنے میں ہم سب ایک ملحقہ کمرے میں داخل ہو گئے۔ سی آئی اے کا افسر تیزی سے قدم اٹھا رہا تھا۔ ہم اس کے پیچھے پیچھے چل رہے تھے۔ کمرے کے آخر میں جا کر اس نے بڑے غصے کے عالم میں اپنے ہاتھ سے ایک پردہ کو سرکایا تو سامنے میز پر کہوٹہ ایٹمی پلانٹ کا ماڈل رکھا ہوا تھا اور اس کے ساتھ ہی دوسری طرف ایک سٹینڈ پر فٹ بال نما کوئی گول سی چیز رکھی ہوئی تھی۔ سی آئی اے کے افسر نے کہا ’’یہ ہے آپ کا اسلامی بم۔ اب بولو تم کیا کہتے ہو۔ کیا تم اب بھی اسلامی بم کی موجودگی سے انکار کرتے ہو؟‘‘ میں نے کہا میں فنی اور تکینکی امور سے نابلد ہوں۔ میں یہ بتانے یا پہچان کرنے سے قاصر ہوں کہ یہ فٹ بال قسم کا گولہ کیا چیز ہے اور یہ کس چیز کا ماڈل ہے۔ لیکن اگر آپ لوگ بضد ہیں کہ یہ اسلامی بم ہے تو ہو گا، میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ سی آئی اے کے افسر نے کہا کہ آپ لوگ تردید نہیں کر سکتے۔ ہمارے پاس ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں۔ آج کی میٹنگ ختم کی جاتی ہے۔ یہ کہہ کر وہ کمرے سے باہر کی طرف نکل گیا اور ہم بھی اس کے پیچھے پیچھے کمرے سے باہر نکل گئے۔ میرا سر چکرا رہا تھا کہ یہ کیا معاملہ ہے؟ جب ہم کا ریڈور سے ہوتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے تو میں نے غیر ارادی طور پر پیچھے مڑ کر دیکھا۔ میں نے دیکھا کہ ڈاکٹر عبدالسلام ایک دوسرے کمرے سے نکل کر اس کمرے میں داخل ہو رہے تھے، جس میں بقول سی آئی اے کے، اس کے اسلامی بم کا ماڈل پڑا ہوا تھا۔ میں نے اپنے دل میں کہا، اچھا! تو یہ بات ہے‘‘۔


بہت خوب ۔ اس میں کیا شک ہے کہ مرزا قادیانی کی طرح اس کوماننے والےبھی اسلام اور اہل اسلام کے دشمن اور کفار کے آلہ کار ہیں ۔ انہی بد بختوں میں آنجہانی ڈاکٹر عبدالسلام بھی شامل تھا اور باقی اپنی ڈیوٹی دے رہے ہیں
نبیل خان آف لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے نبیل خان کا شکریہ ادا کیا
skjatala (23-11-11), فکری (27-11-11), یاسر عمران مرزا (22-11-11), مرزا عامر (26-11-11), ابوسعد (29-11-11), بلال الراعی (22-11-11), حیدر (22-11-11)
پرانا 22-11-11, 10:24 PM   #7
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,676
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,138 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
ستم ظریفی یہ ہے کہ ہمارے صاحبان اقتدار نے دانستہ طور پر ڈاکٹر عبدالسلام کی مندرجہ بالا غداریوں او رسازشوں سے مجرمانہ چشم پوشی کی اور ان ’’خدمات‘‘ کے عوض انہیں 1959ء میں ستارہ امتیاز اور تمغہ و ایوارڈ حسن کارکردگی اور 1979ء میں پاکستان کا سب سے بڑا سول اعزاز نشان امتیاز دیا گیا۔
اگر واقعي ايسا ہے تو تو كيا ان غداريوں اور سازشوں كو آج ثابت كر كے بذريعہ آزاد عدليہ يہ قومي اعزازات ايك غدار اور سازشي شخص كےكندھے سے اتارے نہيں جا سكتے۔۔۔۔
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
نبیل خان (23-11-11), مرزا عامر (26-11-11), ابوسعد (29-11-11), حیدر (22-11-11)
پرانا 22-11-11, 11:18 PM   #8
Senior Member
مقبول
 
بلال الراعی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: Gujrat
عمر: 27
مراسلات: 195
کمائي: 5,876
شکریہ: 820
158 مراسلہ میں 526 بارشکریہ ادا کیا گیا
بلال الراعی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شمشاد احمد مراسلہ دیکھیں
اگر واقعي ايسا ہے تو تو كيا ان غداريوں اور سازشوں كو آج ثابت كر كے بذريعہ آزاد عدليہ يہ قومي اعزازات ايك غدار اور سازشي شخص كےكندھے سے اتارے نہيں جا سكتے۔۔۔۔
اتنی قومی غیرت اب کون دیکھاے گا۔بے غیرتوں کا ٹولا اس ملک پر راج کر رہا ہے۔
بلال الراعی آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے بلال الراعی کا شکریہ ادا کیا
mama_shalla (23-11-11), نبیل خان (23-11-11), ابوسعد (29-11-11), حیدر (22-11-11), شمشاد احمد (23-11-11)
پرانا 23-11-11, 05:38 PM   #9
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مقام: پاکستان
مراسلات: 1,761
کمائي: 26,282
شکریہ: 912
1,266 مراسلہ میں 2,890 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبیداللہ عبید کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبیداللہ عبید کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبیداللہ عبید کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اس محمد متین خالد صاحب کا ایک مضمون آج قومی ڈائجسٹ میں پڑھا وہ بھی قادیانیوں کے متعلق معلوماتی اور عمدہ مضمون ہے ۔

اس میں قومی اسمبلی کے موجودہ خاتون اسپیکر فہمیدہ مرزا صاحبہ کے حکم پر 36 سال بعد قادیانیوں کے خلاف قومی اسمبلی کے محفوظ فیصلے کو عام کرنے کا حکم دینے پر مفصل تبصرہ اور اس ضمن میں چشم کشا ثبوت ہیں ۔

اللہ جزائے خیر عطا فرمائے شیر کرنے والے اور لکھنے والے کو ۔
عبیداللہ عبید آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عبیداللہ عبید کا شکریہ ادا کیا
یاسر عمران مرزا (23-11-11), ابوسعد (29-11-11), شمشاد احمد (23-11-11), عبدالقدوس (23-11-11)
پرانا 23-11-11, 07:11 PM   #10
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,676
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,138 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ہمت فرما كر شيئر كر ديں۔۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا گیا
ننھا بچہ (23-11-11)
پرانا 24-11-11, 10:31 AM   #11
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مقام: پاکستان
مراسلات: 1,761
کمائي: 26,282
شکریہ: 912
1,266 مراسلہ میں 2,890 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبیداللہ عبید کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبیداللہ عبید کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبیداللہ عبید کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شمشاد احمد مراسلہ دیکھیں
ہمت فرما كر شيئر كر ديں۔۔
کوشش کروں گا وعدہ نہیں کرسکتا ممکن ہے وفا نہ ہوجائے ۔
عبیداللہ عبید آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 24-11-11, 10:34 AM   #12
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مقام: پاکستان
مراسلات: 1,761
کمائي: 26,282
شکریہ: 912
1,266 مراسلہ میں 2,890 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبیداللہ عبید کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبیداللہ عبید کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبیداللہ عبید کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

" قادیانیوں کا دیرینہ مطالبہ پورا ہوگیا "

محمد متین خالد ص نمبر 104 نومبر 2011 ء ماہنامہ قومی ڈائجسٹ لاہور
عبیداللہ عبید آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 28-11-11, 12:54 AM   #13
Senior Member
 
طارق راحیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: Karachi
عمر: 27
مراسلات: 2,895
کمائي: 31,696
شکریہ: 4,003
1,175 مراسلہ میں 2,379 بارشکریہ ادا کیا گیا
طارق راحیل کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ڈاکٹر عبدلاسلام پر ایک تحریر یہ بھی کچھ ہی عرصہ قبل پڑھی میں نے

شائد آپ لوگوں کی نگاہ سے بھی گذری ہو
__________________
سمجھو تو بہت قابلِ تعظیم ہے لوگوں
اِک دوست کا اِک دوست سے پیار کا رشتہ
www.tariqraheel.blogspot.com
طارق راحیل آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 29-11-11, 10:17 PM   #14
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Nov 2011
عمر: 27
مراسلات: 48
کمائي: 1,203
شکریہ: 3
33 مراسلہ میں 70 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

الحمدللہ! یہ مضمون دیکھ کر بہت خوشی ہوئی ۔ چند دن قبل ایک اردو فورم پر اس قادیانی سائنس دان کی تعریف میں مضمون دیکھا تو بہت کوفت ہوئی اور دل چاہا کہ اس کا جواب دینا اور حقیقت حال واضح کرنا نہایت ضروری ہے لیکن اتفاق سے ذہن میں اس وقت اس حوالے سے سوائے اجمالی باتوں کے اور کچھ نہ تھا ۔ اب اس مضمون کو دیکھ کر اپنی یہ خواہش پوری کر لی ہے ۔ الحمد للہ
خورشیدحسین آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے خورشیدحسین کا شکریہ ادا کیا
اویسی (20-02-12), بلال الراعی (29-11-11), عبیداللہ عبید (30-11-11)
جواب

Tags
pakistani, فنی, کتابوں, گمان, پہچان, پولیس, پاکستان, پاکستانی, واقعات, وزیراعظم, قید, قرآن, نظر, مجید, ایمان, امریکہ, اردو, جھوٹ, ختم نبوت, دوست, دریافت, ذوالفقار علی بھٹو, سائنس, عبادت, صدارتی


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ہم کس کے مجرم ہیں ؟ تصویر کا دوسرا رخ سحر عمومی بحث 7 22-09-11 09:26 PM
بریگیڈئر علی خان کی گرفتاری اور تصویر کا دوسرا رُخ! shafresha خبریں 4 23-06-11 09:58 AM
سانحہ سیالکوٹ تصویر کا دوسرا رخ ایس اے نقوی عمومی بحث 6 23-05-11 12:22 AM
کولمبس – تصویر کا دوسرا رخ طاھر عمومی بحث 4 25-12-09 04:12 PM
تصویر کا دوسرا رخ طاھر گپ شپ 4 07-02-09 01:47 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 02:52 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger