واپس چلیں   پاکستان کی آواز > میرے پاکستان سے > تاریخ پاکستان




16دسمبر: ایک سانحہ عظیم

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات درجہ بندی: موضوع  کی درجہ بندی:  1 ووٹ 5.00 اوسط ظاہری انداز
پرانا 10-12-10, 09:10 PM   #1
16دسمبر: ایک سانحہ عظیم
ALI-OAD ALI-OAD آن لائن ہے 10-12-10, 09:10 PM
درجہ بندی: (1 votes - 5.00 average)


یہ ایک سوگوار شام تھی۔ ڈھاکہ کے ریس کورس میں آج عجیب ہی منظر تھا۔ سینہ پھلائے اور گردن کو غرور کا خم دے کر جنرل جگجیت سنگھ اروڑہ نے جنرل نیازی کے تمغے اور رینک سرعام نوچ ڈالے۔
ذلت ورسوائی، بے بسی و بےچارگی کا یہ منظر چرخ نیلی فام نے شاید ہی کبھی دیکھا ہوگا۔ اس سانحہ عظیم پر ہزاروں آنکھیں اشکبار تھیں۔ دل غم سے معمور تھے، سینہ درد کی شدت سے پھٹ پھٹنے کو تھا۔ پاکستان کہلانے والے کرڑوں افراد چیخ چیخ کر رونے لگے۔ اسی دن طاقت کے نشے سے سرشار بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ”یہ فتح جو ہمیں حاصل ہوئی ہے یہ ہماری افواج کی فتح نہیں بلکہ ہمارے نظریے کی فتح ہے۔ ہم نے ان (پاکستانی مسلمانوں) سے کہا تھا کہ ان کا نظریہ باطل ہے اور ہمارا نظریہ برحق ہے لیکن وہ نہ مانے اور ہم نے ثابت کردیا کہ ان کا نظریہ باطل تھا۔ ہم نے ان کا نظریہ بحرہند میں غرق کردیا۔“
16دسمبر کے دن ہر اس شخص کا دل.... جو پاکستان اور خصوصاً مسلمانوں کی سلامتی کے لیے دھڑکتا ہے۔ مضطرب رہتا ہے۔ خیالات کا سیل رواں کسی طوفانی دریا کے مانند بہہ رہا ہے۔ خیال کی لہریں دماغ کے ساحل پر اس زور سے سر پٹختی ہیں کہ دماغ کی چولیںہل جاتی ہیں۔ ہر صاحب علم شخص یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ پاکستان کا ٹوٹ جانا بڑا المیہ تھا یا اندلس کا عیسائی بادشاہ فرڈی نینڈ اور اس کی ملکہ ازابیلا کے قبضے میں چلا جانا بڑا سانحہ تھا۔ کیوں کہ دونوں واقعات نے دنیا کی تاریخ میں تغیر پیدا کیا۔ سقوط ڈھاکہ کا سانحہ نہ صرف علیحدگی پسند تحریکوں کے لیے سنگ میل ثابت ہوئی بلکہ پاکستان میں بھی اٹھنے والی ہر علاقائی تحریک لاشعوری طور پر مشرقی پاکستان کے نقش قدم پر چلنے لگی۔
مشرقی پاکستان کے المیے پر کالم نگاروں تجزیہ نگاروں، مصنفوں اور عسکری دانشوروں سمیت سبھی اس بات پر متفق ہیں کہ سقوط ڈھاکہ میں فوجی حکمرانوں کی بے حسی اور عوام کی بے بسی دونوں کا دخل تھا۔ ڈاکٹر صفدر محمود اپنی کتاب ”پاکستان کیوں ٹوٹا؟“ میں سیاست دانوں کو مورد الزام ٹہراتے ہوئے لکھتے ہیں: ”حزب اختلاف کے رہنماﺅں کے اندرونی اختلافات، مجیب الرحمن کے چھ نکات پر اصرار، بھاشانی اور بھٹو کے عدم تعاون کے رویے کے نتیجے میں گول میز کانفرنس کو ناکامی کاسامنا کرنا پڑا اور اس کے ساتھ ہی پر امن اقتدار کی آخری کوشش دم توڑ گئی۔ گول میز کانفرنس کی ناکامی گھمبیر سیاسی حالات کا پیش خیمہ ثابت ہوئی اور اس نے پاکستان کی تاریخ کا دھارا بدل کر رکھ دیا۔ اگر سیاست دان پرامن انتقال اقتدار کی راہ میں حائل نہ ہوتے اور ایوب خان کے پارلیمانی نظام براہ راست انتخابات کے مطالبے کو تسلیم کرتے، آئندہ انتخابات میں امیدوار نہ بننے کی پیش کش قبول کرلیتے تو شاید ہمیں 1971ءکے المیہ کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔“
زمانے کی نبض ہمارے ہاتھ میں تھی بیماری کا علم ہوتے ہوئے بھی ہم مرض کی تشخیص نہیں کرپارہے تھے۔ عقل کے دریچے اس وقت ”وا“ ہوئے جب ہم بہت کچھ کھوچکے تھے۔ خطرہ آہستہ آہستہ کسی عفریت کی مانندہمارا تعاقب شروع کرچکا تھا۔ گلی گلی اور قریہ قریہ اس نعرے کی گونج تھی۔
خون دیا چھی....خون لے چھی
آمارا بانگلا....تومارابانگلا
بانگلادیش
1965ءکی جنگ والا وہ جوش وجذبہ سرد پڑ چکا تھا۔ سب ایک بار پھر اس انتظار میں تھے کہ کب ہمارا کمانڈر کہے گاکہ” مکتی باہنی اور بھارت کو نہیں معلوم کہ انہوں نے کس قوم کے سپوتوں کو للکارا ہے۔ “مگر اب کی بار ایک نیا جملہ سننے کو ملا۔
Gentalmen, Cease fire, we re Losers
بھرم کا بت پاش پاش ہوگیا۔ مرد کازیور ہتھیاربے وقعتی کے احساس سے زمین میں سماگیا۔ سمجھ نہیں آتا اس وقت آسمان کیسے سلامت رہ گیا؟ زمین شق کیوں نہ ہوئی؟ پہاڑوں نے اپنی جگہ کیوں نہیں چھوڑی؟ سمندروں میں ہلچل کیوں نہیں مچی؟ صحراﺅں کی ریت بدمست ہواﺅں کے دوش پر اڑتے کیوں نہیں؟


[IMG] Uploaded with ImageShack.us[/IMG]

آہ.... ایسا لگا جیسے کسی نے عین دل پر چرکہ مارا ہو۔ آنسوووں اور آہوں کاایک سیلاب تھا جورکنے میں نہیں آتا تھا۔ صدیق سالک کہتے ہیں کہ ”التوائے اجلاس کا جونہی اعلان ہوا ڈھاکہ میں اشتعال کی لہر دوڑ گئی۔ اعلان کے آدھ گھنٹے کے اندر عوام لاٹھیاں اور لوہے کی سلاخیں لے کر بازاروں میں نکل آئے، وہ مخالفانہ نعرے بلند کررہے تھے اور گالیاں دے رہے تھے۔ ویسے تو سینکڑوں وجوہات ایسی ہیں جو مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا سبب بنے۔ چند کا ذکر یہاں ناگزیر ہے کیوں کہ اب پاکستان ایک بار پھر سازشوں کے دوراہے پر کھڑا ہے۔
1:۔ مغربی پاکستان کی سیاست پر جاگیرداروں کا تسلط تھا جب کہ مشرقی پاکستان کے سیاست دانوںکی بڑی تعداد وکلائ، اساتذہ اور ریٹائرڈ سرکاری ملازمین پر مشتمل تھی۔ دونوں جانب کے عوامی نمائندوں کے نظریات و عزائم متضاد تھے اور ان کے لیے تیار نہیں تھی۔
2:۔ سیاسی جماعتیں انتشار کا شکار تھیں جبکہ اکثریت صوبائیت سے بالاتر ہو کر سوچنے کے لیے تیار نہیں تھیں۔
3:۔ صوبے کی معیشت اور تعلیم پر ہندوﺅں کا قبضہ تھا۔ یہی نہیں بلکہ قومی دولت پر اسی فیصد ہندو قابض تھے۔
4:۔ مشرقی پاکستان میں موجود 1290 اسکول اور 47 کالجوں کے 95فیصد پر بھی ہندوﺅں کا کنٹرول تھا۔ جہاں ہندو اساتذہ نے بنگالی نوجوانوں کو مغربی پاکستان کے خلاف بھڑکانے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ اساتذہ طلبہ کے لیے جو کتب تجویز کرتے ان میں سے بیشتر نظریہ پاکستان کے خلاف مواد پر مشتمل ہوتیں۔
5:۔ بھارت سے پاکستان دشمن لٹریچر اسمگل ہو کر مشرقی پاکستان آنا شروع ہوا۔ اس کے علاوہ مشرقی پاکستان کے دانشوروں میں ایک طبقہ ایسا تھا جس کی ہمدردیاں بھارت کے ساتھ تھیں۔
6:۔ کئی خفیہ تنظیمیں راتوں رات پیدا ہوگئیں اور پاکستان اور پاکستانی فوج کے خلاف اشتہار بانٹنے لگیں۔ (اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ عوامی لیگ کی ایک ذیلی تنظیم ”پور بوبنگلہ شرامک اندولس“ نے یہ اشتہارہر جگہ تقسیم کیا: ”مشرقی بنگال کی قومی آزادی کی تحریک شروع ہوچکی ہے، اس کو جنگل کی آگ کی طرح گھر گھر پہنچادو، وطن پرست اور انقلاب پسند لوگو ہتھیار اٹھالو دشمن فوج کا مقابلہ کرو اور اسے ختم کردو۔“
7:۔ ملک کے مختلف حصوں میں صوبائیت، رجحانات منظر عام پر آنے لگے جس کی وجہ سے مغربی اور مشرقی پاکستان کے درمیان خلیج بڑھتی گئی۔ بائیں بازو کے سیاست دانوں نے صوبائی خود مختاری سے فائدہ اٹھایا جس کا نتیجہ بنگال بنگالیوں کا پر منتج ہوا۔ عوامی جلوسوں میں مغربی پاکستان کے خلاف اشتعال انگیز نعرہ بازی کی گئی جس سے صوبائیت کی آگ مزید تیز ہوگی۔
8:۔ بنگالی کو سرکاری زبان قرار دینے کے مطالبے لسانی تنازع کھڑا کردیا جو بالآخر تحریک کی شکل اختیار کرگیا۔
9:۔ حکومت مخالف ریلیوں اور جلوسوںسے بھارت نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ سینکڑوں ہندوﺅں کو مشرقی پاکستان میں داخل کردیا گیا۔ جنہوں نے ان جلوسوں میں نہ صرف اشتعال انگیز نعرے بازی کی بلکہ بندے ماترم اور اکھنڈ بھارت کے نعرے بھی لگائے۔
10:۔ کمیو نسٹوں نے تحریک کو ہوا دینے کے لیے خوب تعاون کیا۔ چین، برما اور بھارت سے درآمد کیا جانے والا سستاکمیونسٹ لٹریچر صوبے میں چائے خانوں، عام مقامات، ریستورانوں، اسکولوں، ریلوے بک اسٹالوں غرض ہر جگہ پایا جاتا تھا۔
11:۔ یہ بات زبان زد عام تھی کہ یحییٰ خان نے مظاہرین اور ایوب خان کے خلاف عناصر کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ جس طرح چاہیں کھیل کھیلیں، فوج مداخلت نہیں کرے گی۔ چنانچہ جب تک اقتدار یحییٰ خان کے حوالے نہ کر دیا گیا، فوج تماشائی کی طرح ملکی سالمیت کو داﺅ پر لگا دیکھتی رہی۔
12:۔ عوامی لیگ کی خونریز بغاوت کو کچلنے اور پاکستان کا اقتدار اعلیٰ بحال کرنے کے لیے ”فوجی کارروائی کا آغاز 25 اور 26 مارچ 1971ءکی درمیانی شب کو ہوا۔ جب پہلا دھماکہ ریڈیو پاکستان ڈھاکہ میں ہوا تو شیخ مجیب نے بنگلہ دیش کے قیام کا اعلان کردیا۔
یہ چند وہ چیدہ چیدہ نکات ہیں جنہوں نے پاکستان کی سالمیت کو داﺅ پر لگا دیا تھا۔ اس کے علاوہ اس وقت مغربی پاکستان کی سیاست پر ایسے مفاد پرست لیڈر چھائے ہوئے تھے جو مشرقی پاکستان کو اپنے عزائم کی راہ میں رکاوٹ سمجھتے تھے جن کا خیال تھا کہ اگر انہوں نے مشرقی پاکستان کو مغربی پاکستان سے علیحدہ کیا تو مشرقی پاکستان کے بھوکے ننگے لوگ مغربی پاکستان کے سرمایہ داروںکے لیے مشکلات کا باعث بنیں گے۔ چنانچہ ان لوگوں نے مشرقی پاکستان کے رہنماﺅں کو تاﺅ دلایا جس کے نتیجے میں بنگلہ دیش ہم سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جدا ہوگیا۔
بھارت نے اس وقت مکتی باہنی کو تربیت دے کر 1965ءکی ہزیمت بھی چکانی تھی، بھارت نے ہر قسم کے تعاون کے ساتھ پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی قسم کھارکھی تھی۔ بھارت 1965ءمیں اپنی ذلت آمیز شکست نہیں بھولاتھا۔ اسے یہ موقع جنرل نیازی کی بے تدبیریوں اور بزدلی نے فراہم کردیا تھا۔ تمام ثبوتوں کے باوجود ہم آج بھی مشرقی پاکستان کی تاریخ کھنگالتے ہیں تو اپنے لوگوں کی بزدلی کا ذکر ضرور کرتے ہیں مگر بھارت کی ریشہ دوانیوں سے صرف نظر کرجاتے ہیں۔ زمانے میں اگرچہ تغیر آچکا ہے مگر بھارت اپنی روش نہیں بدلا۔ امریکی طوطا چشموں سے اس دنیا کا بچہ بچہ واقف ہے۔ ان تمام باتوں کا علم ہوتے ہوئے بھی ہم مصلحت کے نام پر بے غیر تی کی چادر او ڑھ رکھی ہے۔
نجانے کیوں تاریخ ایک بار پھر اپنے آپ کو دہرارہی ہے۔ 1971ءمیں بھارت دھیرے دھیرے مشرقی پاکستان کی طرف بڑھ رہا تھا اور اب 2010ءمیں بھارت دھیرے دھیرے کشمیر، سوات اور بلوچستان کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم وہ بدقسمت قوم ہیں جو ایک غلطی کئی بار دہراتے ہیں۔
حدیث شریف کا مفہوم ہے: ”مومن ایک سوراخ سے دوبارہ نہیں ڈسا جاتا۔“ دنیا کایہ اصول رہا ہے جنگوں میں ہار جیت ہوتی رہتی ہے۔ لیکن جو قومیں اپنی غلطیاں بار بار ہراتی ہیں وہ دنیا کے نقشے سے مٹ جاتی ہیں اور اکثر وبیشتر تاریخ کے صفحات میں جگہ بھی پانے میں ناکام ٹہرتی ہیں۔


16دسمبر: ایک سانحہ عظیم
__________________
"اگرحق کونہیں پہچان سکتے،تو باطل کےتیروں پر نظررکھو،جہاں پرلگ رہے ہوں وہی حق ہے///شیخ الاسلام،،،امام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ. (حافظ سعید زندہ باد)

 
ALI-OAD's Avatar
ALI-OAD
Senior Member
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,692
شکریہ: 1,514
1,088 مراسلہ میں 3,339 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 626
Reply With Quote
11 قاری/قارئین نے ALI-OAD کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (11-12-10), فیصل ناصر (10-12-10), ھارون اعظم (10-12-10), نورالدین (13-12-10), مرزا عامر (10-12-10), بلال اویسی (10-12-10), حیدر (10-12-10), رضی (15-12-10), عبدالقدوس (11-12-10), عبداللہ آدم (11-12-10), عروج (04-01-11)
پرانا 10-12-10, 09:51 PM   #2
Senior Member
 
فرحان دانش's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: پاکستان
عمر: 28
مراسلات: 2,783
کمائي: 41,157
شکریہ: 2,662
1,639 مراسلہ میں 3,768 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جنرل نیازی بے غیرت تھا اگر اس میں جنگ لڑنے کا جذبہ ہوتا تو اپنا پستول جنرل جگجیت سنگھ اروڑہ کے حوالے کرنے کی بجائے اس سے اپنے سر میں گولی مار لیتا ۔اور قوم آج تک اس کی بہادری کے گیت گاتی۔
__________________
http://farhandanish.blogspot.com
http://farhandanish.tk
فرحان دانش آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے فرحان دانش کا شکریہ ادا کیا
پاکستان دوست (16-12-10), ھارون اعظم (10-12-10), مرزا عامر (10-12-10), حیدر (10-12-10), عروج (22-02-11)
پرانا 10-12-10, 09:59 PM   #3
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,723
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,067 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

16 دسمبر 1971 بنگلہ دیش کی آزادی کا دن۔ بنگلہ دیشیوں کو 40 ویں جشن آزادی کی پیشگی مبارک باد۔

یہ وہ دن تھا جس دن تحریک پاکستان کا آغاز کرنے والی قوم کو مغربی پاکستان کے ظلم و ستم سے نجات ملی ۔
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
مرزا عامر آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
فرحان دانش (16-12-10), ھارون اعظم (10-12-10), نورالدین (13-12-10), حیدر (10-12-10), عبدالقدوس (11-12-10)
پرانا 10-12-10, 10:01 PM   #4
ذیلی ناظم
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,248
کمائي: 121,392
شکریہ: 15,089
4,228 مراسلہ میں 12,902 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ہمیں اپنے بھائیوں کی جدائی پر آج تک افسوس ہے۔
ھارون اعظم آن لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (11-12-10), فرحان دانش (16-12-10), مرزا عامر (10-12-10), حیدر (10-12-10), عبداللہ آدم (10-12-10), عروج (22-02-11)
پرانا 10-12-10, 10:05 PM   #5
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,723
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,067 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ھارون اعظم مراسلہ دیکھیں
ہمیں اپنے بھائیوں کی جدائی پر آج تک افسوس ہے۔
بھائیوں کو نہ کبھی عزت دی اور نا ہی کبھی ساتھ رکھا جدا تو وہ ہمیشہ سے ہی تھے ۔ ان سے جدا ہونے کا افسوس ہے یا انہیں خود مختاری ملنے کا۔
مرزا عامر آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (13-12-10), حیدر (10-12-10), عبدالقدوس (11-12-10), عروج (22-02-11)
پرانا 10-12-10, 10:11 PM   #6
ذیلی ناظم
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,248
کمائي: 121,392
شکریہ: 15,089
4,228 مراسلہ میں 12,902 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : مرزا عامر مراسلہ دیکھیں
بھائیوں کو نہ کبھی عزت دی اور نا ہی کبھی ساتھ رکھا جدا تو وہ ہمیشہ سے ہی تھے ۔ ان سے جدا ہونے کا افسوس ہے یا انہیں خود مختاری ملنے کا۔
میں نے لکھا تو ہے، جدائی پر افسوس ہے۔
ھارون اعظم آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (10-12-10), حیدر (10-12-10), عروج (22-02-11)
پرانا 10-12-10, 10:22 PM   #7
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,723
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,067 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ھارون اعظم مراسلہ دیکھیں
میں نے لکھا تو ہے، جدائی پر افسوس ہے۔
ہم افسوس کر رہے ہیں اور بنگلہ دیشی جشن کی تیاری میں مصروف ہیں ہمیں اپنا افسوس ختم کرکے کھلے دل سے ان کی خوشیوں میں شریک ہونا چاہیئے ۔
ویسے ایک عمومی سوال ہے کہ اگر کوئی بنگلہ دیشی آپ کو آزادی کے اس جشن میں مدعو کرتا ہے تو آپ کیا کریں گے ۔ ہارون بھائی یہ سوال سب سے ہے ۔
مرزا عامر آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (10-12-10), ھارون اعظم (11-12-10), حیدر (10-12-10), عبدالقدوس (11-12-10), عروج (22-02-11)
پرانا 10-12-10, 10:26 PM   #8
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,027
کمائي: 99,929
شکریہ: 23,989
4,984 مراسلہ میں 14,698 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

یہ اس تا ریی پروپیگندے ا نتیجہ تھا جس سے بنگالی اور اب ہمارے بھائی بھی متاثر ہیں................

چند سطور کے بعد پڑھا نہیں گیا یہ مضمون..............

نیازی نے فوج کے ڈسپلن و نہیں توڑا اگرچہ بحیثیت ایک مسلمان ے اسے اس وقت یہی کرنا چاہیے تھا..........اور لال مسجد پر فاسفورس بم مارنے والے سپاہیوں نے بھی دسپلن نہیں توڑا اگرچہ بحیثیت مسلمان انہیں یہ نہیں کرنا چاہیے تھا.................

اسی لیے تو فوج و برطانیہ میں پہلی پوزیشن ملی ہے کہ آڈر آگیا ہے تو اب...............مسلمان اور بھائی وائی کوئی چیز نہیں ہے....................!!!

اسلام کا تصور اطاعت اس سے قطعا مختلف ہے.

یہ حقائق ہیں..................تلخ لگے ہوں تو معذرت

والسلام
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
ALI-OAD (11-12-10), فیصل ناصر (10-12-10), مرزا عامر (10-12-10), حیدر (10-12-10), عبدالقدوس (11-12-10)
پرانا 10-12-10, 10:31 PM   #9
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,169
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اسلام کا تصور اطاعت اس سے قطعا مختلف ہے
کس دھن میں کہہ گئے ہو عبداللہ بھائی
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (10-12-10), حیدر (10-12-10), عبداللہ آدم (11-12-10)
پرانا 10-12-10, 11:31 PM   #10
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,368
کمائي: 95,550
شکریہ: 52,468
11,159 مراسلہ میں 35,214 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : مرزا عامر مراسلہ دیکھیں
ویسے ایک عمومی سوال ہے کہ اگر کوئی بنگلہ دیشی آپ کو آزادی کے اس جشن میں مدعو کرتا ہے تو آپ کیا کریں گے ۔ ہارون بھائی یہ سوال سب سے ہے ۔
باوجود اس کے کہ مجھے اس دن یونہی محسوس ہوتا ہے گویا دس محرم ہو ۔ لوگ شراب پی کر غم مٹانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ میں اس دن کو بھُلا کر بھلانے کی کوشش کرتا ہوں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے کوئی پسلیاں چیر کر دل نکال کر لے گیا ہو۔ اس کے باوجود اگر کبھی مجھے موقع ملا تو میں انتہائی فخر کے ساتھ انکے جشن آزادی میں شرکت کروں گا۔ اُسی خوشی کے ساتھ جیسی خوشی 14 اگست کو ہوتی ہے۔


عامر بھائی مجھے اکثر اپکے سوالات سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ آپ ہم میں سے اکثر کو غلط لیتے ہیں۔ اگر ہم میں سے کوئی کسی مذہبی مسئلہ پر اختلاف کرتا ہے تو اسکا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ ہم اسکو اپنا دشمن تصور کر لیتے ہیں۔ اختلاف والا جوش اپنی جگہ۔ اسلامی بھائی چارہ کی محبت اپنی جگہ
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (11-12-10), ھارون اعظم (10-12-10), نورالدین (13-12-10), مرزا عامر (16-12-10), شمشاد احمد (11-12-10), عبدالقدوس (11-12-10), عبداللہ آدم (11-12-10)
پرانا 10-12-10, 11:35 PM   #11
ذیلی ناظم
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,248
کمائي: 121,392
شکریہ: 15,089
4,228 مراسلہ میں 12,902 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : مرزا عامر مراسلہ دیکھیں
ہم افسوس کر رہے ہیں اور بنگلہ دیشی جشن کی تیاری میں مصروف ہیں ہمیں اپنا افسوس ختم کرکے کھلے دل سے ان کی خوشیوں میں شریک ہونا چاہیئے ۔
ویسے ایک عمومی سوال ہے کہ اگر کوئی بنگلہ دیشی آپ کو آزادی کے اس جشن میں مدعو کرتا ہے تو آپ کیا کریں گے ۔ ہارون بھائی یہ سوال سب سے ہے ۔
میں ان کی خوشیوں میں شریک ہونگا۔ لیکن اس خوشی کی بنیادوں میں نظریہ پاکستان دفن ہے۔ ایسے میں یہ خوشی مصنوعی ہوگی۔ مشرقی پاکستان میں پاکستانی فوج کی شکست پر اگر کسی کو افسوس نہیں تو یہ بھارت کی شاطرانہ جیت پر خوشی کے مترادف ہے۔
__________________


http:// haroonazam.wordpress.com

ھارون اعظم کا بلاگ۔
ھارون اعظم آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (11-12-10), مرزا عامر (16-12-10), حیدر (11-12-10), شمشاد احمد (11-12-10), عروج (04-01-11)
پرانا 11-12-10, 12:37 AM   #12
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,027
کمائي: 99,929
شکریہ: 23,989
4,984 مراسلہ میں 14,698 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
کس دھن میں کہہ گئے ہو عبداللہ بھائی
کچھ غلط کہا کیا؟؟.......................
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (11-12-10), مرزا عامر (16-12-10)
پرانا 11-12-10, 12:46 AM   #13
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,368
کمائي: 95,550
شکریہ: 52,468
11,159 مراسلہ میں 35,214 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

"علی بھائی۔ ۔ ۔ چونکہ آپ نے اپنا پی ایم وصولی بند کی ہوئی ہے اس لیے میں آپکو رپلائی نہیں کر پا رہا۔ اس لیے ادھر ہی جواب دے رہا ہوں آپکے پی ایم کا۔
جی۔ ۔ ۔ میرا تعلق کراچی سے ہی ہے۔
لیکن صرف محبت کرنے کی حد تک
رہایش نہیں ہے اُدھر کی۔ اورنگی میں ایک کلاس فیلو رہتا تھا۔ اس لیے اورنگی سے صرف اتنا تعلق ہے۔
کسی اور فورم پر کوئی دو سال قبل کبھی ممبر رہا ہوں تو رہا ہوں۔
ابھی تو جب سے پاکنیت پر آیا ہوں ۔ ۔ ۔ صرف ادھر کا ہی ہوں۔ کسی اور فورم کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوئی۔
میں بیوی اور فورم ایک ہی رکھنے کا قائل ہوں۔ کہ انہی پر اپنی توجہ دے لو ۔ وہی کافی ہے۔
فورم تو ہے۔ ۔ ۔بیوی نہیں ہے۔ "
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
ALI-OAD (11-12-10), ھارون اعظم (11-12-10), نورالدین (13-12-10), شمشاد احمد (11-12-10), عبداللہ آدم (11-12-10)
پرانا 11-12-10, 12:56 AM   #14
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,169
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ آدم مراسلہ دیکھیں
کچھ غلط کہا کیا؟؟.......................
جس پیرا ئے میں آپ نے کہا میں متفق ہوں
لیکن یار لوگوں کا اعترض اس پر آسکتا ہے
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (11-12-10), عبداللہ آدم (11-12-10)
پرانا 11-12-10, 01:18 AM   #15
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,027
کمائي: 99,929
شکریہ: 23,989
4,984 مراسلہ میں 14,698 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ویکھی جائے گی.............
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
php, پاکستان, پاکستانی, پسند, واقعات, وزیر, قدم, مقابلہ, معلوم, آج, الزام, اعلیٰ, تعلیم, خلاف, خان, دھماکہ, دل, ریڈیو پاکستان, سیاست, شام, شخص, عقل, غم, غرور, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 02:53 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger