واپس چلیں   پاکستان کی آواز > میرے پاکستان سے > تاریخ پاکستان > تاریخ کا آئینہ




تحریک پاکستان میں علماء کا روشن کردار اور آج

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات درجہ بندی: موضوع  کی درجہ بندی:  1 ووٹ 4.00 اوسط ظاہری انداز
پرانا 01-12-10, 08:02 PM   #1
تحریک پاکستان میں علماء کا روشن کردار اور آج
sahj sahj آف لائن ہے 01-12-10, 08:02 PM
درجہ بندی: (1 votes - 4.00 average)

تحریک پاکستان میں علماء کا روشن کردار اور آج

1857ء برصغیر کی تاریخ کا وہ اہم سنگ میل ہے، جس نے اس خطے میں مسلمانوں کی ہشت صد سالہ منصف اور عادل حکومت کا آفتاب حسرتوں، مایوسیوں اور شکستہ دلی کے افق میں غروب ہوتے دیکھا۔ سردست امر یہ ہے کہ متحدہ بر صغیر دو مختلف المذہب، جداگانہ معاشرت وثقافت اور الگ الگ فکری ونظریاتی تشخص کی حامل قوموں کا باہم ملاپ اور میل جول دومتوازی خطوں اور لکیروں کی عدم یکجائی کی مانند ناممکن، غیر یقینی اور تصوراتی خواب وخیال سے زیادہ حیثیت نہ رکھتا تھا۔ دو قومی نظریہ کا یہ فرق ، تصادم اور ٹکراؤ اللہ والوں کی دیدہ ٴ بینا سے مخفی اور پوشیدہ ہر گز نہ تھا۔

1857ء کی جنگ آزادی میں انگریزوں کے خلاف ہندو مسلمانوں کے شانہ بشانہ شریک کارزار تھے، لیکن تحریک کی ناکامی پر ہندوؤں نے پینترا بدلا اور مسلمانوں کے درپے آزار ہوگئے۔

یہی وجہ ہے کہ حضرت حکیم الامت رحمہ اللہ نے فرمایا:

”ہندوؤں کی قوم عالی حوصلہ نہیں، ان کے وعدے وعید کا اعتبار نہیں، غدر مسلمانوں اور ہندوؤں کے اتفاق سے ہوا تھا، مگر جب وقت آن پڑا تو حکومت کے سامنے ہاتھ جوڑکر کھڑے ہوگئے اور مخبریاں کراکر ہزاروں رئیسوں اور مسلمانوں کو نذر دار کروادیا۔انگریزوں سے اگر دشمنی کی بنا یہ ہے کہ اسلام کے دشمن ہیں تو ہندو ان سے زیادہ مسلمانوں اور اسلام کے دشمن ہیں۔”

مسلمانوں کی معاشی ترقی کا پہیہ روکنے اور جامد کرنے کے لئے انگریز سرکار نے ایسے قوانین نافذ العمل کئے جن سے تجارت ، زراعت اور مال گزاری جمع کرنے کے شعبوں میں مسلمانوں کا عمل دخل رک گیا۔ نتیجةً بنیئے کو معاشی ترقی ملی ، ہندوؤں کی جانب سے اسی پر اکتفاء نہیں کیا گیا، بلکہ مسلمانوں کی سیاسی، سماجی، مذہبی اور ثقافتی اقدار کو دیس نکالا دینے کے لئے سنیاسی، سنگھٹن اور شدھی جیسی متعصب، متشدد اور قوم پرستی کی مظہر تحریکیں بپاکی گئیں، جس سے مسلمانوں کے دلوں میں علیحدہ اسلامی اور فلاحی ریاست ومملکت کے وجود کی خواہش کو مہمیز ملی ۔

اس موقع پر قومی شعور کی بیداری، عوامی جذبات کی ترجمانی اور مسلمانوں کے لئے الگ نظریاتی مملکت کے قیام کی طرف جن علمائے کرام نے تقریری وتحریری پیش رفت فرمائی، ان میں حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی نور اللہ مرقدہ کا نام گرامی سرفہرست ہے۔ آپ رحمہ اللہ نے ہندوستان کے مسلمانوں کے حقوق کی بحالی میں عملی حصہ لیتے ہوئے دستوری معاملات کا شریعت کے مطابق فیصلہ کرانے کے لئے عدالتوں میں قاضیوں کے تقرر، پنجاب میں مسلمانوں کو شرعی وراثت کا حصہ دلوانے اور 1938ء میں حکومت کے ایماء پر بند کئے جانے والے مدارس کی بحالی ایسی تحریکوں میں بھر پور کردار ادا کیا۔ نیز قیام پاکستان کی جد وجہد کے لئے اپنے تلامذہ اور مسترشدین کی جماعت تیار فرمائی، جس نے آپ کے بعد آپ کی آرزو اور خواب کو حقیقت کا روپ دیا۔

اس امر میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کے حصول کی راہیں ہموار کرنے والی جماعت ”مسلم لیگ“ کے کار پرداز حضرات کی مذہب سے وابستگی اور دل بستگی کا معیار وہ نہیں تھا جو کسی درجہ میں ہونا ضروری اور لابدی تھا، چنانچہ اراکین مسلم لیگ کی دینی، مذہبی اور اصلاحی تربیت وتبلیغ کے پیش نظر مولانا تھانوی قدس سرہ نے تبلیغی وفود روانہ فرمائے۔
سب سے پہلا وفد مولانا شبیر احمد عثمانی کی زیر قیادت 4 جون 1938ء کو بمبئی میں مسلم لیگ کی مجلس عاملہ کے اجلاس کے موقع پر ترتیب دیا گیا۔ (بعد میں کسی عذر کی بنا پر یہ نمائندہ وفد شریک اجلاس نہ ہوسکا)۔ برموقع آداب تکلم کے جن امور کی جانب حضرت نے توجہ دلائی، اس سے قائدین لیگ کے ساتھ حضرت کا خلوص، نیک نیتی اور ہمدردانہ پہلو نمایاں اور واضح ہے۔ وفد کے جمیع ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے آپ نے فرمایا: ”جناح صاحب سے جو باتیں کرنی ہیں وہ میں نے لکھ کر مولانا شبیر احمد عثمانی کو دیدی ہیں۔ گفتگو میں اس بات کا لحاظ رکھنا کہ گفتگو نرم ہو، اختلافی مسائل درمیان میں نہ آئیں۔ اگر مخالف اختلافی مسائل درمیان میں لانا چاہے تو بہ لطائف الحیل اس سے گریز کرنا اور دوسری گفتگو شروع کردینا، اگر مخالف کے کسی عمل سے تنقید کرنا ہو تو وہ تنقید نہ ہو، بلکہ ہمدردانہ اور تبلیغی ہو، الفاظ بھی نرم ہوں جواب ایسا دینا چاہئے کہ مخاطب سمجھ سکے۔

تحریک پاکستان میں حصہ لینے والے دیگر سرکردہ علماء کرام میں مولانا شبیر احمد عثمانی ، مولانا ظفر احمد عثمانی رحمہ اللہ اور مفتی محمد شفیع نور اللہ مرقدہم کے اسماء بطور خاص قابل ذکر ہیں۔ یہ حضرات حضرت تھانوی رحمہ اللہ کے صحبت وتربیت یافتہ اور ہم نوا تھے۔

استقلال وطن کی تحریک میں اثر پیدا کرنے کے لئے اور علماء کی تنظیم کو مزید بہتر بنانے کے لئے 1945ء میں علماء کے ایک بڑے اجتماع میں جمعیت علماء اسلام کا قیام زیر عمل لایا گیا۔ مولانا شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ اس کے پہلے صدر منتخب کئے گئے۔

تقسیم ہند کے فارمولے کے تحت صوبہ سرحد اور مشرق میں سلہٹ کو پاکستان میں شامل کرنے کے لئے یہ شرط عائد کردی گئی تھی کہ ان علاقوں کے باشندگان اپنا حق رائے دہی استعمال کرکے ہندوستان یا پاکستان کے ساتھ اپنا تعلق جوڑ سکتے ہیں۔ طرفہ تماشا یہ کہ سرحد میں کانگریس کا ڈنگہ بج رہا تھا جبکہ سلہٹ میں ہندوؤں کی بڑی جمعیت سکونت پذیر تھی، ان حالات کے تناظر میں مولانا شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ نے محمد علی جناح رحمہ اللہ کی فرمائش پر مسلسل اسفار کرکے رائے عامہ ہموار ، دوقومی نظریہ پر مدلل اظہار خیال اور مسلم لیگ کے موقف کی پر شکوہ وضاحت کرنے پر اہم اور کلیدی کردار ادا کیا۔
دوسری جانب دستور ساز اسمبلی کے ایک ضمنی انتخاب میں نوابزادہ لیاقت علی خان لیگ کے امیدوار کی حیثیت سے کھڑے ہوئے، ان کے مقابلہ پر کانگریس کی طرف سے مولانا ظفر احمد عثمانی رحمہ اللہ کے ایک عزیز سرگرم عمل تھے، اس موقع پر مولانا نے اصولوں کو ترجیح دی اور ”استصواب رائے عامہ“ کے وزن سے لیگ کے پلڑے کو جھکا دیا، جس پر قائد ملت نے شکریہ کا پیغام بھیجا ،جس کا تذکرہ آگے چل کر آئے گا۔

”مطالبہ ٴ پاکستان“ کو قرآن وحدیث اور عبارات فقہیہ سے مزین ومبرہن کرکے ایک مفصل ومدلل فتویٰ کی صورت پیش کرنے کا سہرا مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ کے سرجاتا ہے، آپ کے اس فتویٰ نے (جس کا عنوان ”کانگریس اور مسلم لیگ کے متعلق شرعی فیصلہ“تھا) حصول وطن کی سرگرم تحریک میں فیصلہ کن اور موثر کردار ادا کیا ۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ نے صوبہ سرحد میں مسلم لیگ کی کامیابی کے لئے نتیجہ خیز کاوشیں اور کوششیں سرانجام دیں۔

ان علماء ربانیین کی تگ وتاز کا روشن پہلو14 اگست 1947ءکو قیام پاکستان پر ہی ختم نہیں ہوا۔ جب پاکستان کی دستور ساز اسمبلی نے مارچ 1949 میں ”قرار داد مقاصد“ کے عنوان سے ایک قرار داد منظور کی تو مولانا شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ اور ان کے باہمت رفقائے کار نے اسلام کی بنیادی تعلیمات ، اساسی احکامات اور اہم جزئیات کو آئین کا حصہ بنانے میں پر جوش وپر خلوص انداز میں حصہ لیا۔ بقول ڈاکٹر معین الدین عقیل: ”وزیر اعظم لیاقت علی خان نے اس قرار داد منظوری کو حصول آزادی کے بعد اس ملک کی زندگی کا اہم ترین واقعہ قرار دیا“۔
یہی وجہ ہے ”بانیان پاکستان“ بھی استخلاص وطن کی تحریک میں ان ”درویشان خدامست“ کی تائید وتسوید، کردار وعمل اور درددل کی آمیزیش کے کھل کر معترف وقدردان ہوئے۔ جس کا اظہار مشرقی ومغربی پاکستان میں قائد اعظم کی منشا پر پرچم کشائی کا عمل ان حضرات کے بابرکت ہاتھوں انجام پایا۔ مولانا ظفر احمد عثمانی رحمہ اللہ نے 1945ء کے لیاقت کاظمی الیکشن میں جو کردار ادا کیا، اس پر تشکر وامتنان کے جذبات سے لبریز نوابزادہ لیاقت علی خان کا یہ خط ملاحظہ ہو :
”میں انتہائی مصروفیتوں کے باعث اس سے قبل آپ کو خط نہ لکھ سکا۔ مرکزی اسمبلی کے انتخاب میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں بڑی کامیابی عطا کی ہے۔ اس سلسلے میں آپ جیسی ہستیوں کی جد وجہد بہت باعث برکت ثابت ہوئی۔ آپ حضرات کا اس موقع پر گوشہ ٴ عزلت سے نکل کر میدان عمل میں آنا اور اس سرگرمی سے جد وجہد کرنا بہت موثر ثابت ہوا۔ اس کامیابی پر میں آپ کو مبارک باد دیتاہوں، خصوصا حلقہ انتخاب سے جہاں ہماری جماعت نے مجھے کھڑا کیا تھا۔ آپ کی تحریروں اور تقریروں نے باطل کے اثرات بڑی حد تک ختم کردیئے ہیں… اور آپ کی تحریریں، تقریریں اور مجاہدانہ سرگرمیاں آنے والی منزل کی دشواریوں کو بھی معتدبہ حد تک ختم کردیں گی“۔

آج آزادی کے چھ عشرے بعد وطن عزیز ایک ایسا سفینہ بن چکا ہے جس کے سفر کی سمت ہی معلوم نہیں، بادبانوں کی حالت زار سے لے کر کھیون ہاروں اور مسافروں کی دنیا تک الگ الگ ہے۔ خلق خدا انتشار ذہنی، اضطراب قلبی، معاشی ابتری اور نظریاتی پراگندگی کا شکار ہوچکی ہے۔ قحط ، تنگدستی، خود کشی، بے روزگاری اور ملک کی داخلہ وخارجہ پالیسی کی کمزوری کا عفریت پوری طرح قوم پہ سایہ ٴ فگن ہوچکا ہے۔


ایسے میں خلوص صداقت کی راہوں میں سچائی، تقویٰ، ایمان اور نیک نیتی کی مشعل تھامنے والے انہی ”قافلہ ٴ رفتگاں“ کے جانشین ونائبین ہیں ،جن کی محنتوں کے لہو سے اس گلستان کو سینچا گیا۔ جو ”نظریہ ٴپاکستان“ کی حفاظت وصیانت اور دعوت واشاعت کا مشن نامساعد حالات کے باوصف پوری تندہی، جانفشانی اور جذبہ ٴ حب الوطنی کے ساتھ ادا کررہے ہیں۔

جامعہ علوم اسلامیہ
بنوری ٹاؤن کراچی
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری

 
sahj's Avatar
sahj
Senior Member
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,517
شکریہ: 5,981
1,910 مراسلہ میں 5,629 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 456
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (03-12-10), فیصل ناصر (02-12-10), آبی ٹوکول (01-12-10), حیدر (01-12-10)
پرانا 01-12-10, 08:58 PM   #2
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,368
کمائي: 95,550
شکریہ: 52,468
11,159 مراسلہ میں 35,214 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت شکریہ ساہج بھائی۔ معلومات سے مزین مضمون پیش کرنے کا
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
فیصل ناصر (02-12-10)
پرانا 02-12-10, 09:00 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2008
مراسلات: 665
کمائي: 7,276
شکریہ: 0
371 مراسلہ میں 828 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ان علماء کا ذکر کہاں جو پاکستان کو کافرستان کہتے نہ تھکتے تھے اور ملک بنتے ہی یہاں پر گدی نشین ہو گئے؟
arifkarim آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے arifkarim کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (02-12-10), حیدر (02-12-10)
پرانا 02-12-10, 09:07 PM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,611
کمائي: 31,134
شکریہ: 7,112
2,943 مراسلہ میں 8,721 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

تقریباً تمام ملا ، پاکستان کے خلاف تھے۔۔ جناح صاحب کو کفر قرار دیتے تھے۔ آج ان کو پھر یہ نظر آرہا ہے کہ ممکن ہے کہ ان کا اپنا نظام آہی جائے۔ اس کی واحد وجہ تھی ضیاء الحق اور نواز شریف۔ پاکستان ایک بار پھر بچ گیا۔۔ بہتر نظام سے ملا پریشان
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (02-12-10)
پرانا 02-12-10, 09:56 PM   #5
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,368
کمائي: 95,550
شکریہ: 52,468
11,159 مراسلہ میں 35,214 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جو لوگ موجودہ حکومت کو بہتر نظام کہتے ہیں اُن کو چاہیے کہ اس ملک میں آ کر ذرا اس نظام کے ثمرات سے بہرہ مند بھی ہو لیں،۔ امریکہ کے پر سکون ماحول میں بیٹھ کر پاکستان بھی ہرا ہرا لگتا ہے شاید ۔
ضیا اور نواز سے مخالفت اپنی جگہ۔ لیکن قرآن کا حکم ہے کہ کسی گروہ کی دشمنی تم کو اس بات پر آمادہ نہ کر دے کہ تم نا انصافی کر بیٹھو۔
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (03-12-10), ھارون اعظم (02-12-10), مرزا عامر (02-12-10)
پرانا 02-12-10, 10:35 PM   #6
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,723
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,067 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

پاکستان کے قیام کی وجہ کسی علما یا قائد اعظم کی جدو جہد نہیں بلکہ انگریزوں کی پالیسی کا حصہ ہے ۔ تقسیم کرو اور حکومت کرو۔
ملاوں نے بے وقوف بنا بنا کر حلوہ پھانکا ہے اس خطے میں جسے آپ پاکستان کہتے ہیں فرقہ واریت کا ایسا زہریلا بیج بویا ہے جس کے اثرات تا قیامت ختم ہوتے دکھائی نہیں دیتے۔
وڈیروں اور چودھریوں نے سب سے زیادہ آزادی کی حمایت کی اس کی وجہ ان کی چودھراھٹ اور نوابیت کا مستقل قائم رہنا ہے ۔ یہی لوگ سیاست دان ہوتے ہیں اور خوب بے وقوف بناتے ہیں
۔ پھر آتی ہے فوج جو ہر طرف سے لوٹتی ہے ۔ ملا بھی ان کے ساتھ ہوتے ہیں اور سیا ست دان بھی
اور عوام کو خوش فہمی اتنی کہ اپنے آپ کو آزاد سمجھ بیٹھے ۔ بھائی لاؤڈ اسپیکر پر صبح شام زہر اگلنے کو آزادی نہیں کہتے ۔
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا

Last edited by مرزا عامر; 02-12-10 at 10:43 PM.
مرزا عامر آن لائن ہے   Reply With Quote
مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (02-12-10)
پرانا 02-12-10, 10:51 PM   #7
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,611
کمائي: 31,134
شکریہ: 7,112
2,943 مراسلہ میں 8,721 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : بدرالزمان مراسلہ دیکھیں
جو لوگ موجودہ حکومت کو بہتر نظام کہتے ہیں اُن کو چاہیے کہ اس ملک میں آ کر ذرا اس نظام کے ثمرات سے بہرہ مند بھی ہو لیں،۔ امریکہ کے پر سکون ماحول میں بیٹھ کر پاکستان بھی ہرا ہرا لگتا ہے شاید ۔
ضیا اور نواز سے مخالفت اپنی جگہ۔ لیکن قرآن کا حکم ہے کہ کسی گروہ کی دشمنی تم کو اس بات پر آمادہ نہ کر دے کہ تم نا انصافی کر بیٹھو۔
بدر ۔۔۔ ملا ملا ہے۔ چاہے وہ جنرل ہو یا سیاست دان ، ضیا اور نواز دونوں سعودی امداد پر پلتے رہے۔ میرا کوئی تعلق پیپلز پارٹی سے نہیں۔ نا ہی مسلم لیگ سے ۔ نا ہی میں اس ملک میں ووٹ‌دیتا ہوں۔


جو لوگ سر سید احمد خان کے تعلیمی نظام کے خلاف ہیں‌ان کو چاہئیے کہ اپنی ڈگر، میٹرک کا سرٹیفیکیٹ‌پھاڑیں پھر بات کریں۔ یہی ملا تھے جنہوں‌ نے سر سید کو کافر قرار دیا۔ موجودہ تعلیمی نظام کو کافرانہ ۔ مدرسے کو مندا رستہ قرار دیا۔

جن کو آج کا نظام برا لگتا ہے وہ کوئی نظام کیوں نہیں‌پیش کرتے؟ کس ملک میں ہے ان کا پیش کیا ہوا نظام‌؟

اپنی تاریخ‌ہی دیکھئے کہ ملا نے کا کیا ستم نہیں ڈھائے؟ یہ ملا کا نظام ہی تھا جس کا کفارہ لاکھوں عزتیں لٹوا کر اور لاکھوں جانوں کو جانوروں‌کی طرح خون بہا کر ادا کیا گیا۔ اب بھی دل نہیں‌بھرا ہے ملا کا۔ یہی نظام دوبارہ چاہتا ہے اس ملک میں جس نے ناانصافی کی بد ترین فضا پیدا کی؟؟؟؟؟

والسلام
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا
مرزا عامر (02-12-10)
پرانا 02-12-10, 11:02 PM   #8
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,723
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,067 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اب بھی دل نہیں‌بھرا ہے ملا کا۔ یہی نظام دوبارہ چاہتا ہے اس ملک میں جس نے ناانصافی کی بد ترین فضا پیدا کی؟؟؟؟؟
میں نہیں سمجھتا کہ ملا اس ملک میں اب کوئی حتمی نظام چاہتا ہے ۔ کیونکہ اب کسی ایک رنگ کا ملا ملک میں موجود نہیں ہے بلکہ ملا کا ٹولہ ملٹی کلر اختیار کر چکا ہے ۔ ہر کوئی اپنے کلر کا اسلام چاہتا ہے جو دوسرے کلر کو کبھی بھی گوارہ نہ ہوگا ۔
مرزا عامر آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 02-12-10, 11:03 PM   #9
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,368
کمائي: 95,550
شکریہ: 52,468
11,159 مراسلہ میں 35,214 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

لگ بھگ
2000 کے قریب موجودہ اسبلی کے مطابق کے سیاستدان
دس لاکھ سے اوپر کی مسلح افواج
دس لاکھ ہی چوہدری ،وڈیرے، جاگیر دار، زمیندار اور انکے حواری
اور دس لاکھ کی تعداد ہی لگا لیں سو کالڈ ملاؤں کی
یہ کُل تعداد بنی تیس لاکھ کے لگ بھگ

پاکستان میں ایوریج فیملی سائز میرے اندازے میں کم از کم پانچ افراد کا ہے۔ اگر انتہائی قرینی رشتہ داروں کو ملا لیا جائے یعنی چچا اور ماموں ، و خالہ و پھوپھیاں تو ایوریج فیملے سائز آرام سے 30 افراد کا بن جاتا ہے۔
چناچہ ایک بندے کے ساتھ منسلک ہیں کم و بیش30 افراد جو اُس پر کسی نہ کسی قسم کا اثر رھتی ہیں یا مفادات حاصل کرتی ہیں۔
تومندرجہ بالا خود غرض افراد اور ان سے مفادات رکھنے والے افراد کی تعداد بنتی ہے لگ بھگ 9 کروڑ۔ واہ واہ 9 کروڑ افراد تو حب الوطنی کی لست سے باہر نکل گئے۔ باقی پر بھی کوئیی نا کوئی لیبل لگ ہی جائے گا
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (02-12-10), مرزا عامر (02-12-10)
پرانا 02-12-10, 11:05 PM   #10
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,723
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,067 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : بدرالزمان مراسلہ دیکھیں
جو لوگ موجودہ حکومت کو بہتر نظام کہتے ہیں اُن کو چاہیے کہ اس ملک میں آ کر ذرا اس نظام کے ثمرات سے بہرہ مند بھی ہو لیں،۔
موجودہ حکومت کو بہتر نظام تو اس وقت کہا جائے گا جب نظام اور حکومت کا آپس میں کوئی تعلق ہو۔
مرزا عامر آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 02-12-10, 11:06 PM   #11
ذیلی ناظم
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,248
کمائي: 121,392
شکریہ: 15,089
4,228 مراسلہ میں 12,902 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

آپ لوگوں کو ملا فوبیا ہوگیا ہے شاید۔
ھارون اعظم آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (03-12-10), مرزا عامر (02-12-10)
پرانا 02-12-10, 11:09 PM   #12
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,368
کمائي: 95,550
شکریہ: 52,468
11,159 مراسلہ میں 35,214 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میں ملا بمقابلہ کوئی اور کی بات نہیں کر رہا۔ میں محض اسی نظام کی بات کر رہا ہوں۔ جس کے سائے میں اس وقت میں موجود ہوں۔ وہی نظام جس کی باگ دوڑ آپکے نا پسندیدہ سعودی پروردہ اور سب کے نا پسندیدہ امریکی پروردہ ہیں۔ اگر سامنے کوئی اور نظام نہیں ہے تو بھی اسکا مطلب ہر گز یہ نہیں بنتا کہ موجودہ ظالمانہ نظام کو اسلام سمجھ لو۔ معذرت کے ساتھ اگر آپکی اس بات کو مان لیا جائے تو اُن مقدس بیچین روحوں کی بے چینی پر حرف آتا ہے جو اللہ کو تلاش کرلینے سے قبل بھی نظام ظلم کو پسند نہیں کرتی تھیں۔ اُمید ہے آپ میرا اشارہ سمجھ گئے ہوں گے کہ میں کن مقدس ہستیوں کی بات کررہا ہوں۔ اور اُمید ہے آپ یہ بھی سمجھ گئے ہوں گے کہ جب میں کسی نظام کی مخالفت کر رہا ہوں تو اسکا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ میں کسی دوسرے نظام کی حمایت کر رہا ہوں۔
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
مرزا عامر (02-12-10)
پرانا 02-12-10, 11:10 PM   #13
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,723
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,067 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ھارون اعظم مراسلہ دیکھیں
آپ لوگوں کو ملا فوبیا ہوگیا ہے شاید۔
کاش کہ ملا ایسے ہو جائیں
مرزا عامر آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 02-12-10, 11:18 PM   #14
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,368
کمائي: 95,550
شکریہ: 52,468
11,159 مراسلہ میں 35,214 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : مرزا عامر مراسلہ دیکھیں
موجودہ حکومت کو بہتر نظام تو اس وقت کہا جائے گا جب نظام اور حکومت کا آپس میں کوئی تعلق ہو۔
اب لگتا ہے کہ پہلے ان دونوں میں تعلق سمجھانا پڑے گا۔ کیا کیا کُچھ سمجھانا پڑتا ہے۔

(مجھے ایک مرتبہ کہا گیا کہ دسویں جماعت والوں کو ریاضی سمجھا دیا کروں۔ میں نے بھی حامی بھر لی۔ دو یا تین کلاسیں لی تھیں کہ میں پرنسپل کے کمرے میں واپس پہنچ گیا اور عرض کی کہ اس سے پہلے کہ انکو دسویں کی ریاضی پڑھاؤں ۔مجھے اجازت دیجیے کہ میں انکو کچی (پہلی جماعت) سے اب تک کا سارا ریاضی پڑھا دوں (کیونکہ انکو سادہ ارتھمیٹک بھی نہیں آتی تھی)
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
مرزا عامر (02-12-10)
پرانا 02-12-10, 11:24 PM   #15
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,368
کمائي: 95,550
شکریہ: 52,468
11,159 مراسلہ میں 35,214 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

مجھے ملاؤں سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ لیکن بد قسمتی سے جدید علمادین (نام حذ ف) کے طور طریق اور چال چلن بھی قدیم علما دین جیسے ہی ہیں۔ فرق صرف عمامہ و جبہ اور پینت کوٹ کا ہے۔ اگر کوئی اسکو ذاتی حملہ (ذاتیات) نہ سمجھے تو میں کبھی کوئی مضمون لکھ کر بیان کر سکتا ہوں کہ کہاں کہاں قدیم حلوہ خور ملا اور جدید برگر خور مولوی ایک ہی جیسے طریق پر عمل پیرا ہیں۔ مگر افسوس یہ تبھی ممکن ہو گا جب مجھ پر سے یہ نیلا چولا اتر جائے گا۔
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
ہندو, کراچی, پاکستان, وزیر, قرآن, لیاقت علی خان, موقع, مقابلہ, مسائل, مشعل, معلوم, آج, ایمان, اللہ, اسلام, اسلامی, جواب, حضرات, خلاف, خان, دیس, زندگی, سفر, عزیز, صدر


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
القاعدہ افغانستان میں نہیں ، امریکی فوج پھنسی ہوئی ہے، پاکستان سب سے اہم ہے:امریکی تجزیہ کار جاویداسد خبریں 1 24-10-10 06:52 AM
وزیرستان پر میزائل حملے سے قبل امریکہ نے ہمیں آگاہ نہیں کیا‘حملوں سے تعلقات خراب ہوسکتے ہیں‘ پاکستان ابن جلال خبریں 2 18-09-08 11:51 PM
بھارتی وزیر بغیر ویزا اور سفری دستاویز کے پاکستان میں گھس آیا شیخ ہمدان سیاست 1 19-01-08 08:45 PM
نواز ، بے نظیر کے دھاندلی کے بیانات شکست کی تیاریاں ہیں،پاکستان میں عدم استحکام پیدا کیا گیا تو امر یکا کو بعد میں پشیمانی ہو گی،صد ر پر وی خرم شہزاد خرم خبریں 0 10-12-07 08:36 AM
بلوچستان میں دہشت گردی پھیلانے والوں کا نیٹ ورک افغانستان میں ہے: صوبائی پولیس پاکستانی خبریں 0 15-09-07 03:57 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 03:08 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger