|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 2785
|
||||
| 9 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا | Farrukh (10-05-10), فیصل ناصر (25-04-10), فائزہ (27-11-10), وقاص احمد ضیاء (15-05-10), حیدر (20-04-10), راجہ اکرام (20-04-10), طلحہ (09-05-10), طارق اقبال (14-05-10), عبداللہ آدم (19-04-10) |
|
|
#2 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
ذریعہ معاش
والد کے انتقال کے بعد اس چھوٹی سی عمر میں پہلی بار سید مودودی کو بھی احساس ہوا کہ دنیا میں عزت کےساتھ زندگی بسرکرنےکےلئےاپنے پاؤں پر کھڑا ہونا ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں لکھنے کی زبردست قابلیت عنایت فرمائی تھی چنانچہ انہوں نے ارادہ کرلیا کہ قلم کے ذریعے ہی اپنے خیالات کو لوگوں تک پہنچائیں گے اور اسی کو ذریعہ معاش بھی بنائیں گے۔ اس طرح ایک تو مسلمانوں کی بھلائی اور اسلام کی خدمت کاکام ہوگا اور دوسرے معاش کا وسیلہ بھی ہوجائے گاچنانچہ ایک صحافی کی حیثیت سے انہوں نے اپنے کیرئیرکاآغاز کیا اور پھر متعدد اخبارات میں ایڈیٹر کی حیثیت سے کام کیاجن میں اخبار" مدینہ" بجنور(یوپی)"تاج" جبل پور اور جمعیت علماء ہند کا روزنامہ "الجمعیۃ"دہلی خصوصی طور پر شامل ہیں۔ ایک بارمولانا محمد علی جوہر نے بھی سید مودودی کو اپنے اخبار"ہمدرد" میں کام کرنے کی دعوت دی تھی مگر"الجمعیۃ" والوں سے آپ کے پرانے تعلقات تھے،اس لیے آپ مولانا محمد علی جوہرکی پیش کش کو قبول نہ کرسکے۔اگرچہ سیاسی اختلافات کی بنا پر انہیں بعد میں روزنامہ الجمعیۃ کوبھی چھوڑنا پڑا۔ سیاسی تصورات میں سید مودودیؒ مولانا جوہر کے خیالات سےزیادہ ہم آہنگ تھے۔ بچپن میں آپ نے سب سے پہلے علامہ اقبالؒ کی مشہور نظم"شکوہ"پڑھی تھی۔ والد محترم سید احمد حسن صاحب نے آپ کو ہندوستان کی سیاسی تاریخ بھی پڑھا دی تھی۔چنانچہ جب وہ صحافی بنےتوا نہوں نے ملکی حالات کا براہِ راست مطالعہ کیا۔ ویسے بھی ان کا گھرانہ بہت تعلیم یافتہ اور باشعور تھا۔ خاص طور پر انگریزوں سے نفرت تو اس گھر میں بہت زیادہ تھی۔ان وجوہات کی بنا پر اس زمانے میں ہندوستان میں انگریزوں کے خلاف جو تحریکیں اٹھیں مثلاً تحریکِ خلافت، تحریک ستیہ گرہ اور تحریک ترک موالات وغیرہ، سید مودودیؒ نے مسلمانوں کی بھلائی کے خیال سے ان میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیا۔ انہوں نے ترک مسلمانوں کی حمایت میں انگریزوں کے خلاف بڑے پُرجوش مضامین لکھے، ہندی مسلمانوں میں جو اخلاقی برائیاں پائی جاتی تھیں انہیں واضح کیا اور اس کے ساتھ ہی مسلمان لیڈروں کی سیاسی غلطیوں سے بھی آگاہ کیا۔ مسلمانوں کی اصلاح اور ترقی کےلیےبہت سے مفید اور قابلِ عمل مشورے دیےاور ہمیشہ مسلمانوں کی اصلاح کےلیےکام کیا۔ اخبار نویسی کے زمانے میں سید مودودی نے اپنی ذاتی کوشش سے انگریزی بھی سیکھ لی اور جدید علوم پڑھنے کے ساتھ ساتھ مختلف اساتذہ سے عربی ادب،تفسیر،حدیث،فقہ، منطق اور فلسفے کی کتابیں بھی پڑھیں۔ اس طرح ان کی علمی قابلیت میں بہت اضافہ ہوگیا اوروہ قدیم اور جدید علوم میں ماہر ہوگئے۔ ہندی مسلمانوں کے حالات سید مودودی کے لیے بہت تکلیف دہ تھے. وہ ان کی بدحالی، بے بسی اور بےحسی پر بہت کڑھتے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ وہ اسلام کے سچے پیروکار بن کر دنیا میں حقیقی اسلامی زندگی کا نمونہ پیش کریں۔ اس زمانے میں انہوں نے ایک مضمون لکھا کہ آج جتنی کمزوریاں بھی مسلمانوں میں پیدا ہوگئی ہیں صرف اس لیے ہیں کہ ان میں سے اسلامی روح نکل گئی ہے اور وہ بھول گئے ہیں کہ مسلمان ہونے کی حیثیت سے وہ کیا ہیں۔ اگر مسلمان اسلام کی پیروی کریں تو ساری دنیا کو مسلمان بناسکتے ہیں اور دنیا میں سب سے زیادہ طاقتور ہوسکتے ہیں۔ چنانچہ وہ مسلمانوں کی بھلائی کی مختلف تدبیروں پر اکثر غور کیاکرتے۔ اسی اثناء میں 1925ء میں جب جمعیت علماء ہند نے کانگرس کے ساتھ اشتراک کا فیصلہ کیا تو سید مودودی نے بطور احتجاج اخبار"الجمعیت" کی ادارت چھوڑ دی اور اس سے الگ ہوگئے۔ اس لیے کہ وہ متحدہ قومیت کے سخت مخالف تھے اور کانگرس کومسلمانوں کے مفادات کے خلاف جماعت سمجھتے تھے۔ پہلی تصنیف جس زمانے میں سید مودودی"الجمعیۃ" کے ایڈیٹر تھے۔ ایک شخص سوامی شردھانند نے شدھی کی تحریک شروع کی جس کا مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کو ہندو بنالیا جائے۔ چونکہ اس تحریک کی بنیاد نفرت، دشمنی اور تعصب پر تھی اور اس نے اپنی کتاب میں حضورﷺ کی توہین کی تھی جسے کوئی مسلمان برداشت نہیں کرسکتااس لیے کسی مسلمان نے غیرت ایمانی میں آکر سوامی شردھانند کو قتل کردیا۔ اس پر پورے ہندوستان میں ایک شور برپا ہوگیا۔ ہندو دینِ اسلام پر حملے کرنے لگے اور اعلانیہ یہ کہا جانے لگا کہ اسلام تلوار اور تشدد کا مذہب ہے۔ سید مودودی اس صورتِ حال پر بہت رنجیدہ تھے۔ ان کے دل میں اسلام کی محبت اور مسلمانوں کا درد بھرا ہوا تھا۔ اسلام کی خدمت کرنے کے لیے ان کے دل میں بہت اضطراب تھا۔ انہی دنوں مولانا محمد علی جوہر نے دہلی کی جامع مسجد میں تقریر کی جس میں بڑی دردمندی کے ساتھ انہوں نے اس ضرورت کا اظہار کیا کہ کاش کوئی شخص اسلام کے مسئلہ جہاد کی پوری وضاحت کرے تاکہ اسلام کے خلاف جو غلط فہمیاں آج پھیلائی جارہی ہیں وہ ختم ہوجائیں۔ اس پر سید مودودی کو خیال آیا کہ کیوں نہ میں ہی یہ کام کروں۔ چنانچہ انہوں نے "الجہاد فی الاسلام" کے نام سے ایک کتاب لکھی۔اس وقت سید مودودی کی عمر24برس تھی۔ اس چھوٹی سی عمر میں ایسی معرکۃ الآراکتاب آپ کا ایک حیرت انگیز اور عظیم الشان کارنامہ تھا جس پر ہر طرف سے آپ کو داد ملی۔ اس کتاب کے بارے میں علامہ اقبال نے فرمایاتھا:۔ "اسلام کے نظریہ جہاد اور اس کے قانونِ صلح و جنگ پر یہ ایک بہترین تصنیف ہے اور میں ہر ذی علم آدمی کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ اس کا مطالعہ کرے" |
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا | Farrukh (10-05-10), فیصل ناصر (25-04-10), حیدر (20-04-10), راجہ اکرام (20-04-10), طارق اقبال (14-05-10), عبداللہ آدم (19-04-10) |
|
|
#3 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
اصلاحِ قوم کاعزم
سید مودودی کے دل میں اسلام کا بہت درد تھا اور وہ اس کے لیے دن رات سوچتے رہتے تھے۔ ان دنوں ہندوستان میں مسلمانوں کی حالت آج سے بھی زیادہ خراب تھی۔ سید مودودی مسلمانوں کی اصلاح کرنا چاہتے تھےچنانچہ روزنامہ الجمعیت جو کانگرسی مسلمانوں کا اخبار بن گیا تھا اس کی ادارت اور اخبار نویسی چھوڑکر سید مودودی حیدرآباد دکن چلے گئے۔ حیدرآباد میں قیام کے زمانے میں سید مودودی نے مختلف کتابیں لکھیں، اس کے ساتھ ہی وہ ہندوستان کے سیاسی حالات اور مسلمانوں کی حالت کا بھی گہرا مطالعہ کرتے رہے ، اس دوران وہ قوم کے اصلاحِ احوال کی مختلف تدبیروں پر بھی مسلسل غور کرتے رہے۔ آخر کار انہوں نے اصلاحِ قوم کے مقصد کے لیے 1932 میں حیدرآباد سے رسالہ"ترجمان القرآن"جاری کیا۔ مسلمانوں کی بھلائی کےلیے وہ جو کام کرنا چاہتے تھے ان کے ذہن میں اس کی ترتیب یہ تھی کہ پہلے مسلمانوں کے ذہنوں سے مغربی قوموں کی نقالی اور مرعوبیت،یورپ کے خیالات اور ان کے طور طریقوں کازور توڑا جائے پھر ان کے ذہنوں میں یہ بات بٹھائی جائے کہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو زندگی کے ہر مسئلے میں انسان کی رہنمائی کرتا ہے۔ چنانچہ 1935ء میں آپ نے "پردہ" کے نام سے اسلامی پردے کی حمایت میں ایک شاندار کتاب لکھ کر ان لوگوں کا منہ بند کردیا جو اسلامی پردے پر یورپ سے مرعوب ہوکر طرح طرح کے اعتراض کیا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ "تنقیحات" اور"تفہیمات" کے مضامین لکھے جن کے ذریعے انہوں نے تعلیم یافتہ مسلمانوں میں سے فرنگی تہذیب کی مرعوبیت ختم کردی۔ اسلامی قومیت کا نقیب 1938ء میں کانگرس کی سیاسی تحریک اس قدر زور پکڑ گئی کہ بہت سے مسلمان اور خود علماء کرام کی ایک بہت بڑی تعداد بھی ہند وؤں کے ساتھ مل گئی۔ کانگرس یہ کہتی تھی کہ ہندوستان کے مسلمان اور ہندو سب مل کر ایک قوم ہیں۔ یہ ایک ایسی خطرناک بات تھی کہ اگر اسے مان لیا جاتاتو ہندوستان میں مسلمانوں کی علیحدہ حیثیت بالکل ختم ہوجاتی اور ان کا دین بھی خطرے میں پڑ جاتا۔ کانگرس کے اس نظریہ کو "متحدہ قومیت" یا "ایک قومی نظریہ" کانام دیا جاتا تھا۔ سید مودودی نے اس خطرے کی شدت کو محسوس کرتے ہوئے اس کے خلاف بہت سے مضامین لکھے جو کتابوں کی صورت میں "مسئلہ قومیت" اور "مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش" حصہ اول و دوم کے ناموں سے شائع ہوئے۔ ان مضامین میں سید مودودی نے زور دار دلائل سے ثابت کردیا کہ مسلمان اور ہندو دو الگ الگ قومیں ہیں کیونکہ دونوں کا تصور خدا ، مذہبی عقیدہ، رہن سہن اور طور طریقے سب جدا جدا ہیں۔ انہیں ایک قوم کہنا بالکل غلط بات ہے۔ 1940ء کی قرار داد پاکستان کے بعد مسلمانوں کے بڑےبڑے رہنما اور مسلم لیگ کے دوسرے لیڈر بھی یہی بات کہنے لگے ۔ اسے"دو قومی نظریہ"کہاجاتا ہے۔ سید مودودی نے مسلمانوں کی علیحدہ قومیت کے نظریے کو اتنے اچھے اور عمدہ طریقے سے پیش کیا کہ اس خوبی کے ساتھ اب تک کوئی اور شخص مسلمانوں کے علیحدہ قومی تصور کی مدلل وکالت نہیں کرسکا تھا۔ سید مودودی نے قرآن و حدیث سے دلائل دیے۔ تمام مسلمان لیڈر سید مودودی کی ان کتابوں پر بہت خوش ہوئے اور مسلم لیگ نے انہیں بار بار چھپوا کر عام مسلمانوں میں خوب پھیلایا۔ ان مضامین سے مسلم لیگ کے علیحدہ پاکستان کے مطالبے کو بہت مدد ملی۔ اس طرح سید مودودی پہلے شخص تھےجنہوں نےنظریہ پاکستان کو علمی سطح پر دلائل کے ساتھ پیش کیااور پاکستان کے حق میں دو قومی نظریہ کے لیے زبردست عقلی اور اسلامی دلائل فراہم کے۔ ان دلائل کا کانگرس کے ساتھ وابستہ علماء کے پاس بھی کوئی جواب نہ تھا۔ اس کے بعد پاکستان کا تصور مسلمانوں میں پختہ ہوگیا اورمسلم لیگ کے علیحدہ اسلامی اور قومی وطن کی مہم کو سید مودودی کے ان دلائل سے زبردست تقویت ملی۔ اب یہ مضامین"تحریک آزادی ہند اور مسلمان" کے نام سے چھپ چکے ہیں۔ پاکستان کے حق میں سید مودودی کی یہ زبردست خدمت ہے جو انہوں نے علمی میدان میں سرانجام دی ۔ اصلاحِ ملت کے لیےجماعت اسلامی کا قیام 1935ء سے 1947ء کے درمیانی دور میں ہندوستان کے حالات بہت نازک تھے۔ خصوصاً مسلمان بہت پریشان تھے۔ مسلمانوں کے مقابلے میں ہندؤں کی تعداد زیادہ تھی اور ان کی طاقت اوراثرورسوخ بھی مسلمانوں سے کہیں زیادہ بڑھا ہوا تھا، دوسری طرف ہندوستان کی آزادی کے لیے بھی کوشش ہورہی تھی،اگر انگریز ہندوستان کو اکثریت کے حوالے کر کے جاتے اوروہاں ہندوؤں کی حکومت بن جاتی تو پھر مسلمانوں کی قابلِ رحم حالت کا اندازہ لگانا کچھ زیادہ مشکل نہ تھا،اگر انگریز مسلم لیگ کے مطالبے کو مان لیتے اور پاکستان بن جاتا، تو سوال یہ تھا کہ ہندوؤں کے ماتحت ہندوستان میں رہ جانے والے تقریباً ایک تہائی مسلمانوں کی حالت کیا ہوگی اور وہ کس طرح زندگی بسر کریں گے اور ان کا سیاسی سہارا کون ہوگا۔ اس کے علاوہ پاکستان میں ایک اسلامی حکومت کے قائم ہونے کی کیا امید تھی کیونکہ جولوگ پاکستان کی تحریک چلا رہے تھے ان میں چند لوگوں کو چھوڑ کر باقی سب وہ تھے جو اپنی عملی زندگی میں اسلام کے بنیادی فرائض بھی پورے نہیں کرتے تھے۔ اس لیے ایسی کسی ٹیم کے ذریعے پاکستان میں اسلامی نظام کا قیام ممکن نظر نہ آتا تھا۔ چنانچہ سید مودودیؒ کے اس اندیشے کوبعد کے زمانے نے سو فیصدی سچا بھی ثابت کردیا۔ ان حالات کی روشنی میں مسلمانوں کو ایک ایسی جماعت کی اشد ضرورت تھی جو انہیں آنے والے خطرات اور مشکلات کا مقابلہ کرنےکےلیے تیار کرے۔ جو تقسیم کے بعد ہندوستان میں مسلمانوں کو سنبھالے اور جو پاکستان بن جانے کے بعد وہاں اسلامی حکومت قائم کرنے کی کوشش کرے اور اگر ملک تقسیم نہ ہوتومسلم لیگ کی ناکامی کے بعد مسلمانوں کی دوسری دفاعی لائن ثابت ہوسکے۔ چنانچہ سید مودودی نے ترجمان القرآن کے ذریعے ایک پابندِ اسلام جماعت کے قیام کی تجویز پیش کی اور اس سلسلے میں ترجمان القرآن میں مضامین بھی شائع کیے۔ جو لوگ اس تجویز سے اتفاق رکھتے تھے وہ 26 اگست 1941 ء کولاہور میں جمع ہوئے اور"جماعت اسلامی" قائم کی گئی، جس کامقصد قرآن پاک کے الفاظ میں یہ تھا۔ ان اقیمو الدین ولَاتتفرّقُوا فیہ "یعنی آپس میں اکٹھے ہوکراللہ کے دین کو قائم کرو" جس وقت جماعت اسلامی قائم ہوئی تو اس میں پورے ہندوستان میں سے صرف 75 آدمی شامل ہوئے تھے۔ اس اجتماع میں سید مودودی کو جماعت کا سربراہ منتخب کیاگیا۔ |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (25-04-10), حیدر (20-04-10), راجہ اکرام (20-04-10), طارق اقبال (14-05-10), عبداللہ آدم (19-04-10) |
|
|
#4 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
جزاک اللہ یا اخی ھارون۔
بارک اللہ فی عمرک و عملک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا | ھارون اعظم (19-04-10), حیدر (20-04-10), راجہ اکرام (20-04-10), طارق اقبال (14-05-10), عبداللہ حیدر (19-04-10) |
|
|
#5 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
یہ کیا ![]() مولوی مودودی ھوئے نا پھر یہ ابوالاعلٰی کیسے ھو گئے؟ |
|
|
|
|
|
|
#6 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
ابوالاعلیٰ ان کا نام تھا۔
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() |
|
|
|
|
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() |
السلام علیکم، میرے پاس تفہیم القرآن کا ایک نسخہ ہے جو مودودی صاحبٌنے اپنے دستخطوں کے ساتھ میرے ابا جی (نانا جی) کو دیا تھا۔ کم از کم اس پر تو انہوں نے اپنا نام یہی لکھا ہے۔
|
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | sahj (13-05-10), فیصل ناصر (25-04-10), اخترحسین (09-05-10), حیدر (28-04-10), راجہ اکرام (25-04-10), طارق اقبال (14-05-10), عبداللہ آدم (09-05-10) |
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() |
ترجمان القرآن“جلد ۸۵ شمارہ اپریل ۱۹۷۶ء میں بعنوان
”اسلام کس چیز کا علمبردار ہے“ مودودی صاحب کا مقالہ مطالعہ کیجئے‘ ص:۳۰ پر : ”وہ (یعنی رسول اللہ ا) نہ فوق البشر ہے‘ نہ بشری کمزوریوں سے بالاتر ہے“۔ کس جاہل نے کہا ہے کہ وہ فوق البشرہے؟ ہاں تمام اولین وآخرین اور حق تعالیٰ جو خالق الانبیاء والمرسلین ہیں‘ ان کا فیصلہ ہے کہ وہ اتقی البشر ہیں‘ سید البشر ہیں‘ تمام نسلِ انسانی میں سب سے بڑھ کر متقی اور کامل ترین افرادِ بشر میں سے ہیں‘ آفتابِ عالمتاب اور بدرِ منیر کے انوار کو ان کے انوار سے کیا نسبت؟ آسمان ہو یا زمین‘ چاند ہو یا سورج حتی کہ عرشِ رحمن بھی آپ کی منزلت سے قاصر ہے‘ تمام مخلوقاتِ خداوندی میں افضلیت وکمال کا تاج آپ ہی کے سرباندھا گیا ہے۔ ” سبحان اللہ
|
|
|
|
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() |
1: انبیاء کرام سے قصور بھی ہوجاتے تھے اور انہیں سزا تک دی جاتی تھی۔ (رسالہ ترجمان القرآن صفحہ158 مئی 1955ء)
2: عصمت انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے لوازم ذات سے نہیں۔ (مودودی صاحب کا مطلب یہ ہے کہ: انبیاء کرام کا گناہوں سے پاک ہونا ضروری نہیں۔) (تفہیمات حصہ دوم صفحہ57 ایڈیشن 17) 3: نبی ہونے سے پہلے تو حضرت موسی علیہ السلام سے بھی ایک بہت بڑا گناہ ہوگیا تھا کہ انہوں نے ایک انسان کو قتل کردیا۔ (رسائل و مسائل حصہ اول صفحہ 22۔ ایڈیشن29) 4: حضرت داؤد علیہ السلام کے فعل میں خواہش نفس کا کچھ دخل تھا۔ (تفہیم القرآن صفحہ 327 جلد4 سورہ ص) 5: حضرت داؤد علیہ السلام نے اپنے عہد (زمانہ) کی اسرائیلی سوسائٹی کے عام رواج سے متاثر ہوکر اوریا سے طلاق کی درخواست کی تھی۔ (تفہیمات حصہ دوم صفحہ 56۔ ایڈیشن 17) 6: حضرت یونس علیہ السلام سے فریضہ رسالت کی ادائیگی میں کچھ کوتاہیاں ہوگئی تھیں۔ غالباً انہوں نے بےصبر ہوکر قبل از وقت اپنا مستقر بھی چھوڑ دیا تھا۔ (تفہیم القرآن صفحہ312 جلد2 تیسرا ایڈیشن) 1: حضرت عثمان جن پر اس کار عظیم (خلافت) کا بار رکھا گیا تھا ان خصوصیات کے حامل نہ تھے جو ان کے جلیل القدر پیشرؤں کو عطا ہوئی تھیں۔ (تجدید و احیاء دین صفحہ 23) 2: لیکن ان کے بعد جب حضرت عثمان جانشین ہوئے تو رفتہ رفتہ وہ اس پالیسی سے ہٹتے چلے گئے۔ انہوں نے پے درپے اپنے رشتہ داروں کو بڑے بڑے اہم عہدے عطا کیے اور ان کے ساتھ دوسری ایسی رعایات کیں جو عام طور پر لوگوں میں ہدف اعتراض بن کر رہیں۔ (خلافت و ملوکیت صفحہ 106) 3: مثال کے طور پر انہوں نے (یعنی حضرت عثمان نے) افریقہ کے مال غنیمت کا پورا خمس (پانچ لاکھ دینار) مروان کو بخش دیا۔ (خلافت و ملوکیت،حاشیہ بر صفحہ 106) ایک اور نہایت مکروہ بدعت حضرت معاویہ کے عہد میں یہ شروع ہوئی کہ وہ خود اور ان کے حکم سے ان کے تمام گورنر خطبوں میں برسرمنبر حضرت علی پر سب و شتم (گالیوں) کی بوچھاڑ کرتے تھے۔حتی کہ مسجد نبوی میں منبر رسول پر عین روضہ نبوی کے سامنے حضور کے محبوب ترین عزیز کو گالیاں دی جاتی تھیں اور حضرت علی کی اولاد اور ان کے قریب ترین رشتہ داراپنے کانوں سے یہ گالیاں سنتے تھے۔ کسی کے مرنے کے بعد اس کو گالیاں دینا شریعت تو درکنار انسانی اخلاق کے بھی خلاف تھا اور خاص طور پر جمعہ کے خطبہ کو گندگی سے آلودہ کرنا دین و اخلاق کے لحاظ سے سخت گھناؤنا فعل تھا۔ (خلافت و ملوکیت صفحہ 174) (ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ اور ام المؤمنین حضرت حفصہ): وہ دونوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں کچھ زیادہ جری ہوگئیں تھیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے زبان درازی کرنے لگی تھیں۔ (ہفت روزہ ایشیا لاھور،19 نومبر1976ء) میں نہ مسلک اہل حدیث کو اس کی تمام تفصیلات کے ساتھ صحیح سمجھتا ہوں اور نہ حنفیت یا شافعیت کا پابند ہوں۔ (رسائل و مسائل صفحہ 149 حصہ اول،طبع 29) سبحان اللہ کیا بات ھے قبلہ ابوالاعلٰی مودودی کی ![]()
|
|
|
|
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() |
”اسلام آباد (آئی این پی) اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مسعود نے کہا ہے کہ اسلام مکمل ضابطہٴ حیات نہیں ہے‘ یہ مولانا مودودی کی فکر تھی‘ اسلام صرف مکمل دین ہے‘ اسلام میں چہرے کا پردہ ہے نہ سرکا‘ یہ محض معاشرتی رواج ہے‘ حجاب صرف نبی کی ازواج کے لئے تھا‘ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز ایک خصوصی انٹرویو میں کیا‘ ڈاکٹر خالد مسعود کا کہنا تھا کہ اگرچہ داڑھی سنت ہے‘ تاہم حضور اکے دور میں مسلمان اور غیر مسلم دونوں داڑھی رکھتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ توہین رسالت کے قانون میں کمزو ریاں ہیں‘ ان کمزوریوں کو دور کیا جانا چاہئے‘ اسلامی قانون کے مطابق اگر کسی کے منہ سے توہین پر مبنی الفاظ نکل گئے ہیں تو اسے توبہ کا موقع ملنا چاہئے‘ لیکن ہمارے یہاں ایسا نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ حدود اللہ کا کوئی تصور قرآن میں موجود نہیں‘ یہ تصور فقہاء حضرات کا ہے کہ مخصوص سات جرائم کو حدود اللہ کہا جائے“۔ (روز نامہ نوائے وقت کراچی، ۷ /نومبر ۲۰۰۷ء ص:۸)
|
|
|
|
|
|
#12 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
خالد مسعود۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔چہ پدی کا شوربہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور مودودی صاحب کا دفاع کرنے والے یہاں کم نہیں ہیں۔
ماشاء اللہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بس آتے ہی ہوں گے۔ پیغمبروں والی بات تو ٹھیک ہے انکی کہ ان سے غلطیاں ہو جاتے تھیں لیکن عصمت کا مطلب یہ ہے کہ انہیں فورا آگاہ کر کے درستگی کروا لی جاتے تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔قرآن میںاس کے کئے ایک دلائل ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ باقی جو صحابہ کے باہم اختلافات ہیں انہیں مشاجرات صحابہ کہا جاتا ہے اور اس میں اہلسنت کا شروع سے موقف ہے کہ سکوت اختیار کیا جائے اور سب صحابہ سے جب اللہ راضی ہے تو ہم کون ہوتے ہیں ان پر حکم لگانے والے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟اور اس بارے میں مودوی صاحب سے غلطی کا ہو جانا خارج از امکان نہیں ہے،جن پر علماء نے گرفت بھی کی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ل یکن اس سے سید مودودی کی جلالت شان میں فرق نہیں پڑتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت کو خلافت راشدہ میں نہیں شمار کیا جاتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیوں؟ ؟؟؟؟ اس لیے کہ یہ پہلے سا مثالی نہ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
__________________
قال الشيخ محمد نجيب المطيعي - رحمه الله- في تصوير طبيعة طريق المجاهد : "وإنما يجاهد المؤمن في الله جهاده، إن أخفق فإفادة أو أوذي فإرادة، أو نفي فريادة، أو سجن فعبادة، أو عاش فقيادة، أو مات فشهادة، فله الحسنى وزيادة" Last edited by عبداللہ آدم; 09-05-10 at 09:58 AM. |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#13 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
معاویہ کا دور مثالی نہیں رہا تھا ؟؟؟؟؟ تو کیا مودودی معاویہ سے بڑا مولوی ہیں مودودی جومرضی کرے جو مرضی لکھے اس کی شان میں کوئی فرق نہیں پڑتا اور اب میں دیکھتا ھوں کوئی کیسے اس بندے کی تعریف کرتا ھے ![]() میرا میٹر گھوم گیا ھے آج پہلے میں نے سنا ہی تھا مودودی کے بارے میں کہ اسا نے یہ لکھا ھے اور وہ لکھا ھے یہ تو مجھے ایک دو دن ھوئے پتہ لگا کہ مودودی نے تو بہت کچھ لکھا ھے کیا آپ لوگوں میںسے کسی کو نہیں پتہ اس بارے میں |
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے اخترحسین کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#14 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
مودودی کا دفاع کرنے والے بہت ہیں ![]() ہائے اللہ تیرے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے دوستوں اور صحابیوں کا دفاع کرنے والا کوئی بھی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چلو دیکھتا ھوں آج کون کون ھے پاک نیٹ پر نبیوں اور صحابیوں پر گناہ اور غلطیوں کی باتوں کا دفاع کرنے والا کرو دفاع شروع کرو |
|
|
|
|
|
|
#15 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,570
کمائي: 315,120
شکریہ: 25,210
16,389 مراسلہ میں 41,627 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اختر بھائی
کچھ ہمیں بھی بتائیں کہ مودودی صاحب نے کیا لکھا ہے لیکن ذرا شائسہ انداز میں |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا | sahj (13-05-10), ھارون اعظم (09-05-10), حیدر (09-05-10), عبداللہ آدم (09-05-10), عبداللہ حیدر (09-05-10) |
![]() |
| Tags |
| color, کلاس, واقعات, قدم, مکمل, امتحان, اسلام, استاد, بچپن, تعلیم, حدیث, خصوصی, دنیا, زندگی, سال, علم, عمدہ, عالم, عادت, عربی, عرصہ, عزت, صاف, صحیح, صدر |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| تفسیرتفسیر احسن البیان پروف ریڈ ورژن اردو ان پیج فارمیٹمیں ! | جان جی | ترجمہ و تفسیر | 10 | 21-04-09 08:30 AM |
| سیاسی مفاہمت عوام کے خلاف سیاستدانوں کا اتحاد ہے ، جماعت السنہ | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 02-07-08 12:49 PM |
| وزیر اعظم نے اختر مینگل سمیت تمام سیاسی اسیروں کی رہائی کا حکم دیدیا | محمدعدنان | خبریں | 1 | 03-05-08 02:39 PM |
| تاریخِ سیرت میں ’’سیرۃ الرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم‘‘ کا امتیازی مقام | محمدعدنان | پیارے نبی کی حیات طیبہ(ص) | 6 | 03-10-07 11:31 AM |