یہودیوں ، عیسائیوں،اور مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ قیامت سے پہلے حضرت امام مہدی علیہ السلام کا ظہور ہو گا اور تمام دینی امور اور دنیاوی معاملات کی اصلاح کریں گے ۔ مسلمانوں میں سب سے پہلے اس عقیدہ پر مؤرخ وفلسفی علامہ ابن خلدون نے با قاعدہ روشنی ڈالی ۔وہ اپنے مقدمہ میں رقم طراز ہیں ''کہ ہر دور میں مسلمانوں کا یہ عقیدہ رہا ہے کہ آخری زمانہ میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان میں سے ایک ایسا شخص ظاہر ہو گا جو مذہب کی از سر نو اصلاح وتنظیم کر ے گا اور اسکی ذات سے ہر جگہ انصاف کی بالا دستی قائم ہوگی ۔ تمام مسلمان اس کے پیرو ہوں گے اور تمام عالم اسلام پر اس کا اقتدار قائم ہو جائیگا ۔
لفظ ''مہدی ' کے لغوی معنیٰ بھی یہی ہے یعنی ایک ایسا شخص جو ''ہدایت یافتہ'' رہبر یا سردار ہو یعنی دوسروں کا رہبر بننے کا ملکہ رکھتا ہو ۔بہت سے محدثین نے مہدی علیہ السلام کے متعلق احادیث بیان کی ہیں ۔ ان کا خلاصہ یہ ہے کہ جو شخص مہدی کے نزول میں اعتقاد نہیں لکھتا ، اس کا عقیدہ نا قص ہے اور جو دجال کے ظاہر ہو نے پر یقین نہیں رکھتا وہ جھوٹا ہے ۔
بعض محدثین نے امام مہدی علیہ السلام کے تشریف ظہور پذیر ہو نے سے پہلے کئی قسم مخصوص نشانیوں کا بھی ذکر کیا ہے ۔
دراصل لفظ ''مہدی'' مختلف ادوار میں مختلف معنوں میں استعمال ہو تا رہا ہے ۔
''لسان العرب ''میں مہدی کا لقب چاروں خلفاء کو دیا گیا اور انہیں خلفائے راشدین المہدیین کہا گیا ۔ علامہ ابن جریر طبری نے یہ لقب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا تھا ۔ سلیمان بن سراہ نے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو ان کی شہادت کے بعد ''مہدی ابن مہدی'' کےلقب سے یاد کیا تھا ۔ اموی دور کے عربی کے مشہور شاعر فرزدق اور علامہ ابن جریر طبری نے اس لقب سے خلفائے امیہ کو بھی ملقب کیا۔
مدعی مہدی
چنانچہ جب امام حسین رضی اللہ عنہ کربلا میں شہید کر دئے گئے ( 61ھ / 680ء ) تو مختار بن علی عبید الثقفی نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بیٹے محمد بن الحنفیہ کے مہدی ہو نے کا اعلان کر دیا اس کے بعد جب کبھی کسی مسلمان ملک میں سیاسی، سماجی اور اقتصادی بحران پیدا ہوا تو وہاں کے بعض من چلے صوفیاء ''مہدی ہو نے کا دعویٰ کرتے رہے ۔ تاریخ اسلام میں ایسے واقعات پائے جاتے ہیں کہ مختلف ادوار میں مختلف لوگوں نے مہدی ہو نے کا دعویٰ کیا اور انہوں نےبعض حدیثوں میں تبدیلی کر کے ان کو اپنے دعویٰ کے ثبوت نیں استعمال کیا ۔خاص طور سے فا طمیوں نے ایسے سیاسی حالات اور احادیث سے فائدہ اٹھایا ۔
جن لوگوں نے مہدویت کا دعویٰ کیا ان میں سے ایک ابن تو مارات تھا جس نے مراکش میں الموحد خاندان کے دور حکومت میں 1122ء میں مہدی ہونے کا دعویٰ کیا ،اس کی سیاسی تحریک بڑی اہم مذہبی تحریک بن گئی تھی ۔اس کا دعویٰ تھا کہ وہ احیاء اسلام کا علمبردار ہے اسے اپنے مقاصد میں بڑی حد تک کامیابی بھی ہوئی تھی ۔
شاہ نعمت اللہ ولی کی ''فتنہ آخر الزماں ''اور نزول مہدی سے متعلق پیشین گوئیوں سے بھی پندرھویں صدی عیسوی میں اس عقیدہ کو بڑی تقویت ملی ۔ ایران میں علاقہ گیلان کے محمود اور اس کے پیرو کاروں نے بھی مہدی ہو نے کا دعویٰ 800ھ میں کیا تھا اوراسکی تحریک ایران میں شاہ عباس صفوی کے عہد حکومت تک بڑی کا میاب رہی تھی ۔
علامہ ابن خلدون نے مقدمہ میں بعض ایسے لوگوں کا ذکر کیا ہے جنہوں نے مہدی ہو نے کا دعویٰ کیا ، جیسے صفی التو یزری اور العباس وغیرہ۔
بر صغیر ہند وپاکستان میں سلطان فیروز شاہ (1351 ء ۔1388ء ) کے دور حکومت میں ''مہدی'' عقیدے کو بڑی شہرت حاصل ہوئی اس کے عہد میں ایک شخص رکن الدین نے مہدی آخر الزماں ہو نے کا دعویٰ کیا ۔وہ دہلی کا رہنے ولا تھا اور اس نے اپنے خیالات کی وضاحت میں کتابیں بھی لکھیں اور اعلان کیا کہ وہ اسے پیغمبر تسلیم کر لیں ۔علماء نے اس فتنہ کی طرف جب سلطان فیروز کی توجہ دلائی تو انہوں نے اس کو اس کے ساتھیوں اور مریدوں سمیت قتل کروادیا ۔اس کے بعد عرصہ تک کسی شخص کو مہدی ہو نے کا دعویٰ کر نے کی جرات نہ ہوئی ۔
مدعی مہدویت سید محمد جونپوری
ہم یہاں تفصیل سے سید محمد جونپوری کے دعویٰ مہدی اور تحریک مہدویت وعقیدہ مہدوی
کا جائزہ لیں گے ۔
سلسلہ نسب
سید عبد اللہ بن عثمان بن موسیٰ بن قاسم بن نجم الدین بن عبد اللہ بن یو سف بن یحییٰ بن نعمت اللہ بن اسماعیل بن موسیٰ کا ظم بن جعفر صادقؒ بن محمد بن باقر ؒبن علی بن زین العابدین بن سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ بن حضرت علی بن طالب رضی اللہ عنہم
سید محمد جب چار سال چار دن کے ہوئے تو ان کے والد نے ان کو بڑے بھائی سید احمد کے ساتھ شیخ دانیال خضری جو نپوریؒ کی شاگردی میں دے دیا۔
آپ بچپن ہی سے بڑے ہو نہار اور بلا ذہین تھے ۔ انہوں نے سات سال کی عمر میں حفظ قرآن اور بارہ سال کی عمر میں تمام علوم ظاہری کی تحصیل مکمل کر لی تھی ۔ان کی وسیع معلومات ، کثرت مطالعہ اور غیر معمولی ذہانت سے بڑے بڑے علماء دنگ رہ جاتے اسی بناء پر انہیں اسد العلماٰ کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا ۔
مہدویوں کے علاوہ معاصرین اور متاخرین علما وصوفیاء نے بھی ان کی علمی استعداد اور قابلیت اور زہد وتقویٰ کی تعریف کی ہے ۔ مولانا عبد القادر بدایونی لکھتے ہیں کہ کوئی شخص ان کی قابلیت اور خوبیوں سے انکار نہیں کر سکتا ۔ مولنا جمال الدین ،علامہ ابو الفضل میاں ،حاتم سنبھلی اور شیخ علی متقی جیسے علماءئے نا مدار نے بھی ان کی علمی قابلیت اور زہد وورع کی تعریف کی ہے اور ان کی بزرگی تسلیم کی ہے ۔
مہدوی کتابوں میں لکھا ہے کہ ان کو بہت چھوٹی عمر ہی میں یہ روحانی اشارے ہوا کرتے تھے کہ وہ ''مہدی آخرا لزماں'' ہوں گے اور یہ بھی کہ خواجہ خضر علیہ السلام ان کو غائبانہ طور پر روحانی تعلیم دیا کرتے تھے انہوں نے ان کو ذکر خافی بھی سکھایا تھا جس کا وظیفہ وہ کھوکھر کی مسجد جونپور میں دریائے گو متی کے کنارے کیا کرتے تھے ۔
سید محمد جو نپوری نے تعلیم سے فارغ ہو کر چھوٹی عمر ہی میں درس وتدریس کا سلسلہ شروع کر دیا اور ان کے درس میں بے شمار طلباء اور عقیدتمندوں کا جمگھٹا لگا رہتا ۔ان کے درس میں امیر وغریب ہر سطح کے لوگ شامل ہو تے ۔ ان میں سے ایک سلطان حسین شرقی والی جونپور بھی تھے وہ ان کے علم ومعرفت کے بڑے گر ویدہ تھے اور ان سے اپنی وابستگی کا اظہار فخر سے کیا کرتے تھے ۔
جب سید محمد چالیس سال کے ہوئے تو سلطان حسین شرقی کے کئی بار درخواست کر نے کے با وجود 887ھ/ 1482ء میں جونپور سے ہجرت کر گئے تا کہ وہ ملک کے دوسرے علاقوں میں جا کر تبلیغ کریں اس سفر میں ان کے ہمراہ ان کی زوجہ محترمہ اللہ دی بیٹے سید محمود ، خلیفہ میاں شاہ دلاور اور شیخ بھیک اور بہت سے دوسرے احباب بھی تھے ۔ کہا جاتا ہے کہ جب وہ دانا پور ( عظیم آباد، پٹنہ) پہنچے تو ان کی زوجہ محترمہ ، بیٹے سید محمود اور خلیفہ شاہ دلاور کو روحانی اشارہ ہوا کہ وہ مہدی ہیں اور اپنے مہدی ہو نے کا اعلان کردیں ۔انہوں نے خود بھی اس اشارے کی تصدیق تو کی مگر فر مایا کہ اس حقیقت کا اعلان ہم خدا کے حکم سے ایک معینہ وقت پر کریں گے ۔ دانا پور سے پھر وہ کالپی وچندیری ہو تے ہوئے ما نڈو پہنچے ۔وہاں کے بے شمار لوگ ان کے پاکیزہ اخلاق، سنت نبوی کی اتباع اور مواعظ حسنہ سے ہدایت یاب ہوئے ۔سلطان غیاث الدین خلجی ( 1469 ۔ 515ء) والی مالوہ کو جب ان کے علم ومعرفت کی خبر ہوئی تو اس نے بھی ان کی زیارت کی خواہش کی لیکن اس وقت اپنے بیٹے نصیر الدین ( 1500۔1511ء) کے زیر حراست تھا ۔اس لئے اپنی حسرت کو پورا نہ کر سکا ۔ تاہم اس نے ان کی پیغام بھیجوایا کہ وہ اپنے چند مریدوں کو میرے پاس ضرور بھیجیں تاکہ میں ان سے مستفید ہو سکوں ۔اس پر انہوں نے اپنے دو مریدوں سید سلام اللہ اور میاں ابو بکر کو اس کے پاس بھیجا ۔ سلطان غیاث الدین خلجی نے ان پر سونے اور چاندی کے سکوں کی بارش کر دی اور ان سے سید محمد جو نپوری کے متعلق بڑی تفصیل سے دریافت فر مایا ۔ان کے جوابات سے وہ بڑا متاثر ہوا اور ان کے مہدی آخر الزماں ہو نے پر ایمان لے آیا ۔اس نے ان کو بطور فتوح کے بہت سے مال وزر نذر کیا لیکن انہوں نے ان کی طرف نگاہ تک نہ کی اور خود رکھنے یا مریدوں میں تقسیم کرنے کے بجائے اس کو سلطان کے ملازموں ہی میں بانٹ دیا ۔جب لوگوں نے ان سے سوال کیا کہ انہوں نے اس رقم کو کیوں قبول نہیں کیا تو فر مایا کہ میرے مرید اور ارادتمند کسی دنیاوی مال ومتاع کے لالچ کے بغیر خدائے برحق کی تلاش میں ہیں اور انہیں ایسی چیزوں کی ضرورت نہیں ۔
عقائد فرقہ مہدویت
عقیدہ(1) سید محمد جونپوری ولی کامل اور مکمل ہیں۔
عقیدہ(2) سید محمد جونپوری مہدی مو عود ہیں 905ھ میں دعویٰ مہدویت کر کے 910ھ میں انتقال کیا۔
عقیدہ(3) تصدیق مہدیویت سید محمد جونپوری فرض ہے ان کا اور ان کی مہدویت کا انکار کفر ہے۔
عقیدہ(4)شیخ موصوف اگر چہ داخل امت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں لیکن افضل ہیں چاروں خلفاء رضوان اللہ علیہ اجمعین سے۔
عقیدہ(5)سید محمد جونپوری سوائے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے افضل ہیں ابراہیم وموسیٰ وعیسی ٰوآدم اور تمام انبیاء اور مرسلین سے۔
عقیدہ(6) سید محمد جونپوری اگرچہ تابع تام ہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیکن رتبہ میں آنحضرت خاتم المرسلین کے برابر ہیں کہ دونوں میں سر مو کمی وبیشی نہیں ہے۔
عقیدہ(7) یہ کو جو احدیث رسول خدا کی اور تفاسیر قرآن اگر چہ کیسی ہی روایات صحیحہ سے مروی ہوں لیکن شیخ جونپور کے بیان واحوال سے مقابل کر کے دیکھنا اگر مطابق ان کے احوال کے ہوویں صحیح جاننا ورنہ غلط جا ننا ۔
(

یہ کہ شیخ موصوف کو با الذات مفترض الطاعات جانتے ہیں یعنی جو کچھ انہوں نے کہا یا کیا اس کی اتباع دوسروں پر فرض ہو گئی۔
عقیدہ(9) یہ کہ سید محمد جونپوری اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پورے مسلمان ہیں اور سوائے ان کے حضرت ابراہیم وموسیٰ وعیسی ٰوآدم اور تمام انبیاء اور مرسلین ناقص اسلام ہیں کہ کوئی پیغمبر نیم مسلم ہے اور کوئی پاؤ مسلمان اور کوئی اس سے بھی کم تر ہےچنانچہ ‘‘پنج فضائل ‘‘میں ہے کہ شاہ دلاور نے اپنے مہدی سے روایت کی کہ آدم علیہ السلام ناک کے نیچے سے بالائے سر تک مسلمان تھے اور نوح علیہ السلام زیر حلق سے بالائے سر تک مسلمان تھے اور عیسیٰ علیہ السلام زیر ناف سے بالائے سر تک مسلمان تھے دوسری بار جب آوینگے پورے مسلمان ہو جاویں گے۔
(10)عقیدہ تسویہ یعنی شیخ جونپوری کو برابر حضرت سید الکائنات علیہ التسلیمات کے سمجھنا مہدویوں کا کھلم کھلا اعتقاد ہے کہ اس میں کسی فرد بشر بلکہ خداداد وگر سے بھی ذرہ برابر خوف وشرم نہیں رکھتے ہیں ۔
مگر ایک عقیدہ دیگر کہ اس سے بھی بد تر ہے اس میں البتہ خدا وخلق سے ذرہ شرماتے ہیں کہ صاٍف ہر ایک کے سامنے زبان پر نہیں لاتے ہیںوہ یہ ہے کہ‘‘حضرت سید کائنات علیہ التسلیمات شیخ جونپورکے عوام مریدوں کے برا بر ہیں چہ جائے خاص مریدین واصحاب کے۔( استغفر اللہ ثم استغفر اللہ ۔ناقل)کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بمراتب بہتر ہیں۔