|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 644
|
||||
| کنعان کا شکریہ ادا کیا گیا | wajee (21-08-11) |
|
|
#2 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,500
کمائي: 118,596
شکریہ: 13,502
4,906 مراسلہ میں 16,695 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
صومالیہ کا تجربہ یہ ثابت کرتا ہے کہ قحط خوراک کی کمی نہیں بلکہ خوراک کی سپلائی کی زیادتی کے سبب آتا ہے۔ خوراک کی اندھا دھند ترسیل ملکی زراعت کے لیے زہر قاتل کا کام کرتی ہے، نیز گلوبلائزیشن کے اس دور میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے اصلاحاتی پروگرام قحط سازی کے اس عمل میں براہ راست ملوث ہیں چونکہ یہ پروگرام انتہائی منظم انداز سے دیہی اور شہری علاقوں کی ان معاشی سرگرمیوں کا استحصال کرتے ہیں جن کا عالمی نظام معیشت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ ہمارا سوال اب بھی اپنی جگہ قائم ہے کہ ایک زرعی ملک کیسے قحط کے دہانے پر پہنچا؟ عالمی برادری اس بدحالی کو ملک میں خانہ جنگی اور خشک سالی کا شاخسانہ قرار دیتی ہے جو کسی حد تک درست ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ یہ خانہ جنگی شروع کیسے ہوئی؟ وسائل سے مالا مال ساحلی پٹی پر بسنے والے صومالیوں نے کیونکر ویران صحرائی علاقوں کا رخ کیا؟ زرعی شعبے کے ساتھ کیا بیتی؟ عالمی امدادی تنظیمیں اس سلسلے میں کس کردار کی حامل ہیں؟ صومالی معیشت کو اس نہج پر پہنچانے والا کون ہے؟ 1990 کی دہائی سے صومالیہ عالمی سطح پر ایک ناکام ریاست تصور کی جاتی ہے۔ یہاں کوئی مرکزی حکومت نہیں۔ پنٹا لینڈ اور صومال لینڈ صومالیہ کے دو خود مختار خطے ہیں جب کہ جنوبی صومالیہ جس کا ذکر قبل ازیں کیا گیا مختلف مسلح گروہوں کے مابین منقسم ہے۔ 1980ء کی دہائی میں صومالیہ معاشی طور پر عدم استحکام کا شکار ہونا شروع ہوا اور اس ملک کا خوراک و زراعت کا شعبہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔ دا ٹائمز میگزین کے مطابق صومالی صدر محمد صیاد باری نے صومالیہ کا دو تہائی علاقہ تیل تلاش کرنے والی چار امریکی کمپنیوں Conoco، Amoco، Chevron and Phillips کو دے دیا۔ امریکی انتظامیہ ہمیشہ سے صومالیہ میں اپنی سرگرمیوں کو انسانی بنیادوں پر استوار قرار دیتی آئی ہے جبکہ امریکی تیل کی صنعت کے لوگ جن میں سابق امریکی صدر جارج بش بھی شامل ہیں کے صومالیہ میں مفادات ہر صاحب نظر کے لیے واضح اور آشکار ہیں۔ اسی طرح ورلڈ فوڈ پروگرام کی پالیسیاں بھی اس قحط میں ایک اہم عامل ہیں۔ 2006ء سے صومالیہ کے شہر اریٹیریا میں مقیم واحد آزاد مغربی صحافی تھامس سی ماونٹین صومالیہ کے قحط میں ورلڈ فوڈ پروگرام کے کردار کے بارے میں لکھتے ہیں۔ صومالیہ میں ورلڈ فوڈ پروگرام ایک مکروہ اور گھناﺅنی تاریخ کا حامل ہے۔ 2006ء میں جب صومالی کسان اپنی گندم بیچنے کے لیے بازار میں لائے تو ورلڈ فوڈ پروگرام نے پورے صومالیہ میں سال بھر کی امدادی گندم کی تقسیم کا سلسلہ شروع کر دیا۔ اس امدادی گندم کی موجودگی میں صومالی کسانوں کے لیے اپنی گندم فروخت کرنا ناممکن ہو گیا۔ صومالی کسانوں نے ورلڈ فوڈ پروگرام کے دفاتر کا گھیراﺅ کیا، جس پر ان دفاتر کی جانب سے باقاعدہ معافی مانگی گئی اور آئندہ ایسی حرکت نہ کرنے کا وعدہ کیا گیا، تاہم اگلے سال یعنی 2007ء میں دوبارہ وہی عمل دہرایا گیا۔ اس بار ورلڈ فوڈ پروگرام کو ایتھوپیا کی افواج کا تعاون حاصل تھا۔ اسی بنا پر صومالیہ کی مسلم عسکری تنظیم الشباب نے ورلڈ فوڈ پروگرام اور تمام تر مغربی امددی اداروں کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی۔ The Globalization of Poverty جیسی معرکة الاراء کتاب کے مصنف مائیکل چوسو ڈوسکی (Michel Chossudovsky) نے صومالیہ کے ابتر حالات کے اسباب کا ذرا مفصل تجزیہ کیا ہے ان کا یہ تجزیہ 1993 ء میں شائع ہوا۔ اس مقالے کے چند اقتباسات پیش قارئین ہیں آئی ایم ایف صومالی معیشت کا دارومدار گلہ بانوں اور چھوٹے کسانوں کے مابین اشیاء کے تبادلے پر تھا۔ 1983ء تک مویشیوں کی برآمد سے حاصل ہونے والا زرمبادلہ ملک کے کل زرمبادلہ کا 80 فیصد تھا۔ 80 کی دہائی میں آئی ایم ایف کی آمد کے سبب صومالی معیشت گراوٹ کا شکار ہوئی۔ آئی ایم ایف کی افریقی ممالک کے لیے زرعی اصلاحات نے اس پورے خطے بالخصوص صومالیہ کی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ حکومت پر پیرس کلب کے قرضہ جات ادا کرنے کے لیے انتہائی سخت پابندیاں عائد کی گئیں، تاکہ زیادہ سے زیادہ رقم ان قرضوں کی ادائیگی کے لیے مہیا کی جا سکے۔ شعبہ خوراک و زراعت کی تباہی SAP اسٹرکچل ایڈجیسمنٹ پلین کے ذریعے صومالیہ کی حکومت کو مجبور کر دیا گیا کہ وہ درآمد شدہ گندم پر انحصار کرے۔ اسی کی دہائی میں خوراک کی مد میں ملنے والی امداد پندرہ گنا بڑھا دی گئی۔ اس سستی درآمد نے مقامی پیداوار کو بری طرح متاثر کیا۔ ملک میں کرنسی کی قیمت گرتی گئی، جس کے سبب تیل، فرٹیلائزر اور زرعی اشیاء کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے سامنے آئے۔ اسی عرصے میں بہت سا زرعی علاقہ بیوروکریسی، فوجی افسران اور حکومت کے کاسہ لیس کاروباری حضرات کو عنایت کیا گیا۔ اپنی غذائی ضروریات کے لیے پیداوار کے بجائے برآمد کی جانے والی مصنوعات جیسا کہ پھل، سبزی اور کپاس کی کاشت کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ شعبہ پرورش حیوانات کی تباہی ورلڈ بنک کی ایما پر جانوروں کی ویکسی نیشن کے شعبہ کو نجی ملکیت میں دے دیا گیا۔ ویکسی نیشن کی بہت سی نجی کمپنیاں بنائی گئیں۔ حکومت کے پرورش حیوانات کے شعبہ کو مکمل طور پر ورلڈ بینک کا باج گزار کر دیا گیا۔ جس کے سبب حیوانات کی صحت پر ان عالمی اداروں کا مکمل کنٹرول ہو گیا۔ خشک سالی کے سالوں میں جانوروں کے لیے خوراک کی کمی اور ویکسی نیشن کی عدم دستیابی کے سبب صومالیہ کی معیشت کا یہ اہم حصہ زبوں حالی کا شکار ہوتا چلا گیا۔ اس زبوں حالی کا بالواسطہ فائدہ مغربی ممالک کو بھی پہنچا۔ صومالیہ سے گوشت درآمد کرنے والے ممالک نے آسٹریلیا اور یورپی منڈیوں کا رخ کرنا شروع کیا۔ ریاست کی تباہی بریٹن ووڈ انسٹی ٹیوٹ کی سرپرستی میں صومالی حکومت کے اخراجات کی از سرنو تشکیل نے بھی صومالیہ کے شعبہ زراعت کی تباہی میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ آئی ایم ایف نے صومالی حکومت کو زراعت کے شعبے کی از سرنو بحالی کے عمل کے لیے مقامی وسائل کو بروئے کار لانے سے سختی سے روک دیا۔ بجٹ کے خسارے کو دور کرنے کے لیے انتہائی سخت شرائط رکھ دی گئیں۔ اس کے ساتھ ساتھ عالمی امدادی اداروں نے خوراک کی صورت میں امداد میں اضافہ کر دیا۔ جسے حکومت مقامی مارکیٹ میں فروخت کر کے اپنے ترقیاتی منصوبے چلاتی رہی۔ اسی کی دہائی میں اس امدادی خوراک کی فروخت ہی حکومت کی آمدن کا سب سے بڑا ذریعہ تھی، جس کے سبب امدادی اداروں کو حکومت کے بجٹ پر مکمل تصرف حاصل ہو گیا۔ صحت اور تعلیم کی مد میں خرچ کی جانے والی رقم بہت کم کر دی گئی۔ آئی ایم ایف نے صومالیہ کی معیشت کو ایک نہ ختم ہونے والے گھناﺅنے مدار میں داخل کر دیا۔ حیوانات کی بڑے پیمانے پر ہلاکت نے صومالی گلہ بانوں کو فاقوں پر مجبور کر دیا۔ جس کے اثرات گندم کے کاشتکاروں پر پڑے جو اپنی گندم کے تبادلے میں جانور خریدا کرتے تھے۔ صومالی معیشت کا مکمل نظام تباہ ہو گیا۔ امریکا کی جانب سے آنے والی رعایتی گندم اور کھیت کی تیاری کے لیے ضروری اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کے سبب مقامی کسان بے روزگار ہونے لگے۔ شہری علاقوں میں آمدن کی کمی کے سبب خوراک کی ضرورت میں بھی کمی واقع ہونے لگی، جس کے سبب حکومت نے زراعت کے شعبے پر توجہ کم کر دی۔ حکومتی فارمز کو آنے والے سالوں میں ورلڈ بینک کی سرکردگی میں نجی ملکیت میں دے دیا گیا۔ ورلڈ بینک کے 1989ء کے ایک تخمینے کے مطابق صومالیہ کے نجی شعبے میں ایک فرد کی اوسط آمدن 3 ڈالر ماہانہ ہو چکی تھی جو کہ 1970ء کی نسبت 90 فیصد کم تھی۔ حکومتی شعبے میں تنخواہیں ورلڈ بینک ادا کر رہا تھا۔ اسی ورلڈ بینک کے احکامات پر ملازمین کی تعداد میں کمی کرائی گئی۔ 1989ء میں صومالیہ کے بڑی مقدار میں واجب الادا قرضوں کے سبب آئی ایم ایف کی امداد روک دی گئی۔ ورلڈ بینک نے 1989ء میں صومالیہ کے لیے 70 ملین ڈالر کے قرضے کی منظوری دی، جس کی ادائیگی کچھ ہی ماہ بعد روک دی گئی۔ مائیکل چوسو ڈوسکی کے مطابق اس وقت فقط صومالیہ ہی نہیں بلکہ تیسری دنیا کے سو سے زیادہ ممالک میں انہی پالیسیوں پر عمل درآمد جاری ہے۔ اس کے نزدیک تیسری دنیا میں بہت سے صومالیہ ہیں جو اپنے اپنے وقت پر خشک سالی اور قحط کا شکار ہو جائیں گے۔ صومالیہ کا تجربہ یہ ثابت کرتا ہے کہ قحط خوراک کی کمی نہیں بلکہ خوراک کی سپلائی کی زیادتی کے سبب آتا ہے۔ خوراک کی اندھا دھند ترسیل ملکی زراعت کے لیے زہر قاتل کا کام کرتی ہے، نیز گلوبلائزیشن کے اس دور میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے اصلاحاتی پروگرام قحط سازی کے اس عمل میں براہ راست ملوث ہیں چونکہ یہ پروگرام انتہائی منظم انداز سے دیہی اور شہری علاقوں کی ان معاشی سرگرمیوں کا استحصال کرتے ہیں جن کا عالمی نظام معیشت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ ان تمام حقائق کے مدنظر جب ہم پاکستان میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی سرگرمیوں کا جائزہ لیتے ہیں تو زبان پر قائداعظم کے وہ آخری الفاظ آ جاتے ہیں جو انھوں نے یہ دنیا چھوڑنے سے قبل کہے تھے۔ اللہ! پاکستان تحریر:سید اسد عباس تقوی ![]() |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| پولیس, لمحوں, مکمل, ممکن, ماں, آبادی, آج, ایمان, اقوام متحدہ, الزام, تلاش, تصویر, تصاویر, جلد, حسن, خدا, دل, رمضان, زندگی, سال, شہر, شعر, علی, صحیح, صدر |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| قرآن کریم کو سمجھنے کے بنیادی اصول | عبداللہ حیدر | ترجمہ و تفسیر | 12 | 20-06-11 08:22 AM |
| وحدتِ اُمت کے بنیادی اصول | محمد عاصم | ایمان | 15 | 30-06-10 02:52 PM |
| ہمارا اصول یہ ہے کہ ہمارا کوئی اصول نہیں | فیصل ناصر | عمومی بحث | 36 | 08-10-09 03:03 AM |
| پنجابی صوفی کالام(اللہ ہو اللہ) | شیراز احمد | گپ شپ | 0 | 24-08-09 11:02 AM |
| قرآن حکیم سے شفاء و برکت کے حصول کا بیان | Real_Light | تلاوت اور تجوید | 0 | 05-08-08 05:52 PM |