|
فتحِ سپین

17-11-10, 04:44 PM
ولید بن عبدالملک کے دورِ خلافت (705ء تا 715ء) میں موسیٰ بن نصیر کو شمالی افریقہ کی گورنری تفویض ہوئی۔ اُس دور میں سپین کی سیاسی و معاشی حالت اِنتہائی اَبتر تھی۔ عیش کوش ’گاتھ‘ حکمرانوں نے غریب رِعایا کا جینا دوبھر کر رکھا تھا۔ عیش و عشرت کے دِلدادہ بدمست اُمراء اور پادریوں نے عوام کو ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبا رکھا تھا۔ یہودیوں کی حالت سب سے بری تھی۔ اُنہیں کوئی دَم سکھ کا سانس نہیں لینے دیا جاتا تھا۔ ظلم و بربریت کے اُس نظام سے تنگ آ کر بڑی تعداد میں لوگوں نے ہجرت کی سوچی اور وہاں سے فرار ہو کر موسیٰ بن نصیر کے زیرِ اِنتظام شمالی افریقہ میں پناہ لینا شروع کر دی جہاں اِسلامی نظامِ حکومت کے باعث لوگ پُر امن زندگی بسر کر رہے تھے۔ جب معاملہ حد سے بڑھا اور مہاجرین بڑی تعداد میں سمندر پار کر کے افریقہ آنے لگے تو موسیٰ نے سپین کی مظلوم رِعایا کو بدمست حکمرانوں کے چنگل سے آزاد کروانے کا منصوبہ بنایا۔
سپین پر باقاعدہ حملے سے قبل دُشمن کی فوجی طاقت کے صحیح اندازے کے لئے موسیٰ نے اپنے ایک قابل غلام ’طریف‘ کی کمان میں جولائی 710ء میں 100 سواروں اور 400پیادوں کا دستہ روانہ کیا، جس نے سپین کے جنوبی ساحل پر پڑاؤ کیا، جسے آج تک اُس کی یاد میں ’طریفہ‘ کہا جاتا ہے ۔
آس پاس کے علاقوں پر کامیاب یلغار کے بعد’طریف‘ نے موسیٰ کو اِطلاع دی کہ فضاء سازگار ہے، اگر حملہ کیا جائے تو جلد ہی عوام کو ظالم حکمرانوں کے پنجۂ تسلط سے نجات دِلائی جا سکتی ہے ۔
موسیٰ بن نصیر نے اگلے ہی سال 711ء بمطابق92ھ معروف بربر جرنیل ’طارق بن زیاد‘ کو ,0007 فوج کے ساتھ سپین پر لشکر کشی کیلئے روانہ کیا۔ افریقہ اور یورپ کے درمیان واقع 13 کلومیٹر چوڑائی پر مشتمل آبنائے کو عبور کرنے کے بعد اِسلامی لشکر نے سپین کے ساحل پر جبل الطارق (Gibraltar) کے مقام پر پڑاؤ کیا۔
’طارق‘ کا سامنا وہاں سپین کے حکمران ’راڈرک‘ کی ایک لاکھ سے زیادہ اَفواج سے ہوا۔ تین روز گھمسان کی لڑائی جاری رہی مگر فتح کے آثار دِکھائی نہ دیئے۔ چوتھے دِن طارق بن زیاد نے فوج کے ساتھ اپنا تاریخی خطاب کیا، جس کے اِبتدائی الفاظ یوں تھے:
أیھا النّاسُ! أین المفرّ البحر مِن ورائِکم و العدوّ أمامکم، و لیس لکم و اللہ إلا الصّدق و الصبر۔
(دولۃُ الاسلام فی الاندلس، 1:46)
اے لوگو! جائے فرار کہاں ہے؟ تمہارے پیچھے سمندر ہے اور سامنے دُشمن، اور بخدا تمہارے لئے ثابت قدمی اور صبر کے سوا کوئی چارہ نہیں۔
شریف اِدریسی نے اپنی کتاب "نُزھۃُ المشتاق" میں لکھا ہے کہ اِس خطاب سے قبل ’طارق‘ نے سمندر میں کھڑی اپنی کشتیاں جلادی تھیں تاکہ فتح کے سوا زِندہ بچ نکلنے کے باقی تمام راستے مسدُود ہو جائیں۔ چنانچہ مسلمان فوج بے جگری سے لڑی اور 19جولائی711ء کے تاریخی دِن ’وادیٔ لکہ‘ کے مقام پر ہسپانوی اَفواج کو شکستِ فاش سے دوچار کیا، جس میں گاتھ بادشاہ فرار ہوتے ہوئے دریا میں ڈوب کر مر گیا۔ اِس بڑے معرکے کے بعد جہاں عالمِ اِسلام خصوصاً افریقہ میں مسرّت کی لہر دوڑ گئی وہاں سپین کے عوام نے یومِ نجات منایا۔ اس کے بعد اکتوبر711ء میں اِسلامی اندلس کا نامور شہر قرطبہ (Cordoba) ’مغیث رومی‘ کے ہاتھوں فتح ہوا اور دُوسرے شہر بھی یکے بعد دیگرے تیزی سے فتح ہوتے چلے گئے ۔ بعد اَزاں جون712ء میں ’موسیٰ بن نصیر‘ نے خود,00018 فوج لے کر اندلس کی طرف پیش قدمی کی اور ’اشبیلیہ‘ (Seville) اور ’ماردہ‘ (Merida) کو فتح کیا۔ دونوں اِسلامی لشکر ’طلیطلہ‘ (Tledo) کے مقام پر آن ملے جو پہلے ہی کسی مزاحمت کے بغیر فتح ہو چکا تھا۔
اِسلامی لشکر جن شہروں کو فتح کرتا وہاں کے مفلوک الحال مقامی باشندے خصوصاً یہودی مسلمانوں کا بھرپور ساتھ دیتے ۔ عوامی پذیرائی کچھ اِس قدر بڑھی کہ مسلمان تھوڑے سے وقت میں پورا سپین فتح کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ طارق بن زیاد کی فتوحات میں سے آخری فتح ’خلیج بسکونیہ‘ (Bay of Biscay)پر واقع شہر ’خیخون‘ (Gijon) کی تھی، جس کے بعد فتوحات کا سلسلہ روک کر ملکی اِنتظام و اِنصرام کی طرف توجہ دی گئی۔ (دولۃُ الاسلام فی الاندلس، 1:51)
اِسی اثناء میں موسیٰ بن نصیر کو خلیفہ ولید بن عبدالملک کی طرف سے پیغام موصول ہوا کہ وہ اور طارق بن زیادہ اس مہم کو یہیں چھوڑ کر دمشق چلے آئیں۔ دو سال کی قلیل مدّت میں کم و بیش سارا سپین فتح ہو چکا تھا، موسیٰ نے وہاں سے واپسی سے پہلے اُس کے اِنتظام حکومت کا اِہتمام کیا۔ قرطبہ (Cordoba) کو اندلس کا دارالحکومت قرار دیا، اپنے بیٹے ’عبدالعزیز‘ کو وہاں کا حاکم بنایا اور خلیفہ کے حکم کے مطابق دمشق کی طرف عازمِ سفر ہوا۔
اسلام اور جدید سائنس، ڈاکٹر طاہر القادری
__________________
http:// haroonazam.wordpress.com
ھارون اعظم کا بلاگ۔
|
ھارون اعظم
ذیلی ناظم
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,248
شکریہ: 15,089
4,228 مراسلہ میں 12,902 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|