|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 692
|
||||
| 5 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا | abrarhussain_73 (01-04-11), shafresha (22-03-11), محمدعدنان (01-04-11), حیدر Rehan (22-03-11), رضی (03-04-11) |
|
|
#2 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,500
کمائي: 118,596
شکریہ: 13,502
4,906 مراسلہ میں 16,695 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کتبہ : ڈاکٹر محمد عمارہ
اگست 2001ء مسئلہ فلسطین تاریخی حقائق کے تناظر میں ایک اسلامی تجزیہ (1) فلسطین کا حدود اربع : ملک شام کے جنوب مغربی علاقے کو فلسطین کہتے ہیں۔ فلسطین براعظم ایشیاء کے مغرب میں بحر ابیض متوسط (Mediterranian Sea) جس کا دوسرا نام بحیرۂ روم رہا ہے، کے ساحل پر واقع ہے۔ فلسطین ایک طرف براعظم افریقہ اور ایشیا کے درمیان پل کا کام کرتا ہے تو دوسری طرف براعظم یورپ کے انتہائی قریب واقع ہے۔ فلسطین کے شمال میں لبنان ہے؛ مشرق میں اردن اور جنوب مغرب میں مصر واقع ہے۔ فلسطین کا موجودہ رقبہ 27 ہزار مربع کلو میٹر ہے۔ آب و ہوا کے لحاظ سے یہ خطہ معتدل سمجھا جاتا ہے ۔ (2) تہذیب و تمدن کا پہلا گہوارہ فلسطین کی تہذیب دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں شمار ہوتی ہے۔ جدید تحقیق کے مطابق گیارہ ہزار سال پہلے جہاں سب سے پہلے انسان نے زمین سے فصل اگائی اورجہاں پہلی مرتبہ انسان بستی بنا کر رہنے لگے وہ سر زمین فلسطین تھی ۔دنیا کا قدیم ترین شہر ’اریحا‘ اسی سر زمین میں تہذیب و تمدن کا اولین گہوارہ بنا تھا۔ گزشتہ آٹھ ہزار سالوں سے یہ شہر آباد چلا آرہا ہے ۔ (3) اس خطے کے فضائل سر زمین فلسطین تمام مسلمانوں کیلئے ایک مقدس مقام ہے۔ قرآن مجید میں واضح طور پر فلسطین کو مبارک سر زمین کہا گیا ہے۔ یہیں پر مسجد اقصیٰ واقع ہے جو اہل اسلام کا پہلا قبلہ اور زمین پر مسجد حرام کے بعد دوسری مسجد ہے ۔یہاں اس مسجد میں نماز پڑھنے کا درجہ مسجد حرام اور مسجد نبوی کے بعد فضیلت رکھتا ہے۔ یہیں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم معراج پر گئے تھے۔ معراج کی منزل سے پہلے مکہ مکرمہ سے آپ ایک ہی رات میں یہاں وارد ہوئے تھے۔ یہ بے شمار نبیوں کی دعوت کی بھی سر زمین ہے اور ان کا مدفن بھی ۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق اس سر زمین پر حشر ہو گا اور اسی سرزمین پر لوگ دوبارہ جِلائے جائیں گے۔ آخری معرکہ (مسیح بن مریم اور یہودیوں کے دجال ) میں مسلمانوں کا پڑاؤ ( دارالاسلام ) یہیں ہو گا۔ اس سر زمین کو یہ حیثیت بھی حاصل ہے کہ یہاں محض اللہ کی خوشنودی کیلئے مقیم ہو نا دوسری جگہ جہاد کرنے کے مساوی فضیلت رکھتا ہے۔ اس خطے میں ہمیشہ ایک گروہ ہوگا جو حق پر قائم رہے گا ۔ (4) تورات و انجیل میں اس خطے کی عظمت ارض فلسطین صرف مسلمانوں کے نزدیک ہی مقدس سر زمین نہیں ہے یہود و نصاریٰ کی مذہبی تعلیمات کے لحاظ سے بھی یہ مقدس زمین ہے ۔یہودیوں کا عقیدہ ہے کہ تو رات میں جس سر زمین کو ارض موعود ( وہ زمین جہاں یہودیوں میں سے ایمان لانے والوں کو بے خانمائی کی بجائے ایک مستقر عطا کرنے کا اللہ تعالیٰ نے عہد کیا تھا ) کہا گیا ہے وہ یہی خطہ ہے۔ یہودی اس زمین سے اپنا تاریخی رشتہ سمجھتے ہیں۔ یہ سرزمین بنی اسرائیل کے انبیاء کا مدفن ہے۔ یہودی مقدسات بھی یہاں موجود ہیں؛ قدس یا بیت المقدس میں بھی اور فلسطین کے دوسرے شہر الخلیل میں بھی ۔ دوسری طرف عیسائی اس سر زمین کو عیسائیت کا گہوارہ سمجھتے ہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت با سعادت یہیں ہوئی تھی۔ عیسٰی علیہ السلام کی دعوت کا میدان بھی یہی سر زمین تھی اور یہاں عیسائیوں کے اہم ترین دینی مراکز بیت المقدس ‘ بیت اللحم اور ناصرہ کے شہر میں واقع ہیں ۔ (5) بنی اسرائیل کے انبیاء کی بابت مسلمانوں کا عقیدہ مسلمانوں کا اس بات پر پختہ ایمان ہے کہ وہ داؤد علیہ السلام ؛سلیمان علیہ السلام اور بنی اسرائیل کے تمام انبیاء اور صالحین کے حقیقی اور جائز وارث ہیں۔ بلاشبہ بنی اسرائیل کے انبیاء نے اللہ کی توحید قائم کرتے ہوئے یہاں ایک عرصے تک حکومت کی تھی۔ بنی اسرائیل کے انبیاء کا دین دین توحید تھا جس کے اصلی وارث اب اہل اسلام ہیں۔ بنی اسرائیل کے انبیاء کی وراثت دین کی وراثت ہے۔ تو حید کا علم مسلمانوں نے اٹھا رکھا ہے۔ مسلمانوں کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ بنی اسرائیل ہدایت کا راستہ چھوڑ چکے ہیں۔ یہودی اپنی کتاب میں تحریف کے مرتکب ہوئے ہیں اور یہ کہ بنی اسرائیل اپنے انبیاء کو قتل کرنے سے بھی نہیں چوکتے تھے جس کی پاداش میں خدا کا غضب اور لعنت ان کی وراثت میں آئی ہے ۔ (6) غیر مسلموں سے مسلمانوں کے اصول سیاست مسلمانوں نے تاریخ کے مختلف ادوار میں متعدد بار یہاں حکومت کی ہے۔ مسلمانوں کے سیاسی اصول وسعت نظری، درگزر کرنا، دوسرے مذاہب کے پیرو کار وں کو انسانی برابری کے اصول پر جینے کا حق دینا۔ ان کے تمام حقوق ادا کرنا خصوصاً بیت المقدس میں مقیم غیر مسلموں سے تو حکومت اور بھی نرمی سے پیش آیا کرتی تھی ( کیونکہ اسلامی عقیدے کی رو سے یہ ارض مقدس ہے جہاں اللہ کو فساد نا پسند ہے ) دوسری طرف یہاں جب بھی حکومت غیر مسلموں کے پاس آئی تو انہوں نے اپنے مذہب کے علاوہ کسی اور مذہب کو ہرگز برداشت نہ کیا۔ انہیں ہر طرح کی اذیت پہنچاتے تھے اور جلداز جلد غیر مذہب کے پیرو کاروں سے چھٹکارا حاصل کرنے کی سعی کرتے تھے ۔ (7) ارض فلسطین کے اولین باسی علم تاریخ کی رو سے خطہ فلسطین کو جس قوم نے سب سے پہلے آباد کیا تھاوہ جزیرہ عرب سے نقل مکانی کرنے والے کنعانی تھے۔ یہ تقریباً ساڑھے چار ہزار سال پہلے کی بات ہے۔ کنعانیوں نے یہاں اپنی ثقافت اور طرز زندگی کو رائج کیا۔ نیز اس وقت اس خطے کو ارض کنعان کہا جاتا تھا۔ جہاں تک موجودہ فلسطینی آبادی کا تعلق ہے تو یہ نسل بھی کنعان کے سلسلے سے ہے یا پھر ان اقوام کے اختلاط سے ان کا تعلق ہے جو بحیرہ روم کے مشرقی علاقوں میں آبادتھے جنہیں اس وقت ’بلست‘ یا فلسطی‘ کہا جاتا تھا یا پھر دوسرے عرب قبائل کے سلسلے سے جا کر ان کا نسب ملتا ہے جو ارض کنعان میں آباد ہو گئے تھے۔ سیاسی لحاظ سے فلسطین پر مختلف قوموں کی حکمرانی رہی ہے لیکن فلسطین کو بغیر کسی انقطاع کے آباد رکھنے والی ایک ہی قوم رہی ہے جو کہ خود فلسطینی ہیں ۔ ظہوراسلام کے بعد فلسطینیوں کی اکثریت مسلمان ہو گئی تھی اور وہاں کی سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان بھی عربی زبان بن گئی۔ 15ہجری سے لے کر تادم تحریر فلسطین کی ایک ہی شناخت اسلام رہی ہے اور تایخ کے اس طویل ترین عرصے میں اسلام کے علاوہ ان کی اور کوئی شناخت نہیں رہی۔اسلامی شناخت میں اس سے بھی فرق نہیں پڑا کہ وہاں کی اصل آبادی کا ایک حصہ یہودیوں کے جبر کی وجہ سے 1948 ء میں دوسرے ممالک میں ہجرت پر مجبور کر دیا گیاتھا۔ ( 8 ) صیہونیوں کا جھوٹا دعویٰ یہودیوں کا یہ دعویٰ کہ وہ بھی تاریخ قدیم سے اس سر زمین کے آباد کار رہے ہیں، تاریخی حقائق اس دعوے کو جھٹلاتے ہیں۔ فلسطینی تو اس سر زمین کی آباد کاری میں گزشتہ پندرہ سوسال سے مصروف کار ہیں جبکہ اسرائیل کا جبری قیام ( مملکت داؤد ) تو آج کی بات ہے۔ یہ درست ہے کہ تاریخ کے ایک حصے میں بنو اسرائیل کو فلسطین کے بعض حصوں میں حکومت کرنے کا موقع مل گیا تھا۔ وہ بھی فلسطین کے بعض حصوں میں نہ کہ پورے فلسطین میں۔ یہ کوئی چار سو سال کا عرصہ بنتا ہے؛ خاص طور پر 584 قبل مسیح سے لے کر 1000 قبل مسیح تک۔ اس کے بعد بنو اسرائیل ارض کنعان سے نقل پذیر ہو گئے ۔ 1948 ء تک انہیں اپنا ’ آبائی وطن ‘ یاد ہی نہ رہا! دراصل فلسطین کے بعض حصوں میں بنو اسرائیل کی حکمرانی کی وہی حیثیت ہے جو اس سر زمین میں دوسرے نو واردوں کی حکمرانی کی ہے۔ فلسطین میں دوسرے خطوں کی اقوام آکر حکمرانی کر جا یا کرتی رہی ہیں لیکن اس خطے کو جو قوم مسلسل آباد رکھے ہوئے ہے اور جو اسے اپنا وطن سمجھتی ہے وہ صرف ایک ہی قوم؛ فلسطینی رہی ہے۔ بنو اسرائیل کی فلسطین میں حکمرانی کی حیثیت اس سے زیادہ نہیں جتنی دوسری غیر قوموں کی فلسطین پر حکمرانی ۔جیسے آشوری عہد یا فارس کی حکمرانی؛ مصر کے فراعنہ کی حکمرانی یا یونانیوں اور رومیوں کی فلسطین پر حکمرانی ۔ ہر حاکم قوم کا اقتدار بالآخر زوال پذیر ہوا اور فلسطینیوں کا وطن جیسے پہلے اپنے ہم وطنوں کے پاس تھا انہیں کے پاس رہا ۔ فلسطینی اپنی سر زمین چھوڑ کر کہیں نہ گئے۔ وہ اپنے وطن میں ہی میں آباد رہے ۔ اسلام میں داخل ہونے کے بعد وہ پھر کسی اور دین میں داخل نہ ہوئے۔یہ بھی تاریخی حقیقت ہے کہ فلسطین میں اسلام کی حکمرانی کا عرصہ سب سے طویل بارہ صدیوں پر مشتمل رہا۔ فلسطین کی تاریخ میں صرف 90 برس کی قلیل مدت ایسی ہے جس میں عیسائیوں کو صلیبی جنگوں میں سے ایک معرکے میں فتح پانے پر حکمرانی کا موقع ملا ۔ جہاں تک یہودیوں کا تعلق ہے تو وہ فلسطین میں عارضی قیام کے بعد ایسے تارک خطہ ہو ئے کہ اٹھارہ سو سال تک انہیں یہاں کا خیال ہی نہیں آیا۔ سنہ 135 عیسوی تا بیسوی صدی کے طویل عرصے کے دوران میں فلسطین کی سر زمین یہودیوں کے وجود سے خالی رہی؛ سیاسی لحاظ بھی؛ ثقافتی لحاظ سے بھی؛ اور عمر انی لحاظ سے بھی۔ یہی نہیں یہودیوں کی مذہبی تعلیمات میں فلسطین کی طرف ان کا لوٹنا حرام ٹھہرا یا گیا ہے ۔ یہودیوں کے معروف رائٹر آرتھر کوسٹلر نے جو معلومات جمع کی ہیں ان کی رو سے 80 فیصد یہودی اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ تاریخی لحاظ سے یہودیوں کا کوئی رشتہ ارض فلسطین سے نہیں بنتا۔ اسی طرح بنی اسرائیل کی بھی فلسطین سے کوئی نسبت نہیں ہے۔ یہاں ہم معزز قارئین کو یہ بھی بتاتے چلیں کہ یہودی مذہب کے ماننے والوں کی موجودہ اکثریت نسلی طور پر اسرائیل (یعقوب علیہ السلام) کی نسل سے نہیں ہے بلکہ انہیں ’ یہود خزر ‘ کہا جاتا ہے۔ یہ نسل بنی اسرائیل سے نہیں۔یہود خزر ترکی نسل کے تاتاری قبائل سے ہیں جن کا وطن قوقاز (کوکیشیا) کا شمالی علاقہ رہا ہے۔ اس نسل کے لوگ آٹھویں صدی عیسوی میں یہودی ہو گئے تھے۔ اگر یہودی مذہب کے پیرو کاروں کو کہیں لوٹنے اور اپنا وطن بنانے کا حق ہے تو وہ ارض فلسطین نہیں بلکہ روس کا جنوبی علاقہ ہے۔ یہودیوں کا یہ دعویٰ کہ ان کا موسیٰ علیہ السلام کے وقت فلسطین سے تعلق ہو گیا تھا حقیقی لحاظ سے غیر ثابت شدہ دعویٰ ہے۔تاریخی لحاظ سے یہ بات ثابت ہے کہ بنو اسرائیل کی اکثریت نے موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ فلسطین کی طرف ( غزوے کے لئے ) چلنے سے انکار کردیا تھا ۔بابل ( عراق ) میں جب انہیں نقل مکانی کرنا پڑی تو اس کے بعد جب فارس کی فلسطین پر عملداری قائم ہوئی تو فارس کے حکمران’ خورس‘ نے انہیں فلسطین جانے کی اجازت دے دی تھی لیکن بیشتر یہود نے عراق رہنے کو ہی ترجیح دی اور واپس لوٹنے سے انکار کردیا۔ علاوہ ازیں، دنیا کی طویل تاریخ سے لے کر اب تک کبھی بھی ارض فلسطین میں یہودیوں کی آبادی کا تناسب باقی دنیا میں پھیلے ہوئے یہودیوں کی کل آبادی کا 40 فیصد سے زیادہ نہیں رہا ۔ (9) صیہونیت کا آغاز صہیونی تحریک جس نے اپنے لیے فلسطین میں قومی وطن کے وجود پر زور دیا کے برپا ہونے میں متعدد اسباب کار فرما رہے ہیں۔ اس تحریک کا آغاز یورپ کے عیسائی ماحول میں ہوا خصوصاً جن دنوں پر وٹسنٹ عیسائیوں کی تحریک زوروں پر تھی۔ یہ سولہوی صدی کا زمانہ تھا۔ اسی طرح یورپ میں قوم پر ستانہ تحریکیں اور وطن پر ستانہ تحریکوں نے صہیونی تحریک کے پختہ ہونے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے خاص طور پر انیسوی صدی کی قوم پر ستانہ اور وطن پر ستانہ تحریکیں ۔ مشرقی یورپ میں صیہونیت کے فروغ میں خاص طور پراس قضیے نے اہم کردار ادا کیا ہے جسے یہودیوں کی سیاسی اصطلاح میں’مسئلہ یہود ‘(jewish question) کہا جاتا ہے۔ اسی طرح روس میں یہودیوں کی نسل کشی نے بھی صہیونی تحریک کے برپا ہونے میں ا ہم کردار ادا کیا۔ اس کے علاوہ امریکہ اور یورپ میں یہودیوں کا بڑھتا ہوا اثر ونفوذ اور دوسری طرف یہوودیوں میں ’تحریک تنویر ‘(Reform Judaism ؛ یہودی عقائد میں ایسی لچک پیدا کرنا جو یورپ کے لیے قابل قبول ہو یعنی ایمانیات کو سماجی مسئلے سے زیادہ اہمیت نہ دینا) کی ناکامی بھی صیہونیت کے فروغ میں مدد گار رہی ہے۔ (10) مغربی استعمار کی سازش مغربی ممالک خصوصاً برطانیہ نے متعدد اغراض کے لئے عالم اسلام کے بیچ میں یہودی ریاست کا قیام عمل میں لایا۔ اس چھوٹی مگر خطرناک ریاست سے ایک طرف عالم اسلام کے دوبازو جدا ہو گئے ایک طرف افریقہ کے مسلم ممالک تھے تو دوسری طرف ایشیاء کے مسلم ممالک اور ان کے بیچوں بیچ صہیونی ریاست جو انہیں کاٹنے کیلئے بنائی گئی تھی۔ صہیونی ریاست مسلم خطوں کی وحدت میں سب سے بڑی رکاوٹ ثابت رہی ہے۔ اس سازش کی وجہ سے عالم اسلام میں متحدہ قوت کے ابھرنے اور ترقی کے امکانات کے سامنے ایک دیوار کھڑی کر دی گئی ہے۔ مسلم ممالک صرف کنزیومر ( صارفین) ہیں اور صہیونی ریاست مغربی مال کی مشرق میں فروخت کی گزرگاہ۔ صہیونی ریاست کے ناسور کی وجہ سے عظیم اسلامی وحدت جنم نہیں لے پائی ہے جو اس ریاست کی غیر موجودگی میں قدرتی طور پر عثمانی خلافت کے سقوط کے خلاء کو پر کرسکتی تھی۔ اس میں شبہ نہیں کہ عظیم تر اسلامی وحدت میں رکاوٹ عالم اسلام کے بیچ میں صہیونی ریاست کا قائم رہنا ہے۔ یہ جغرافیائی اور نظریاتی وحدت جس میں رکاوٹ صہیونی وجود ہے اُس وقت تک اپنے طبعی انضمام کو نہیں پہنچ سکتی جب تک صہیونی ریاست کو مٹا نہیں دیا جاتا ۔ (جاری ھے) |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا | shafresha (22-03-11), محمدعدنان (01-04-11), حیدر Rehan (22-03-11), رضی (03-04-11), عارف اقبال (01-04-11) |
|
|
#3 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,500
کمائي: 118,596
شکریہ: 13,502
4,906 مراسلہ میں 16,695 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
(11) صیہونیت کے مقاصد صہیونی تحریک کی بنیاد اگست 1897ء میں سوئٹزر لینڈ میں تھیوڈور ہرتشل کے ہاتھوں رکھی گئی تھی۔ تحریک کے بانی نے روز اول سے اس تحریک کو استعماری مقاصد کیلئے بنا یا تھا جس کا مقصد مغربی ممالک کے اہداف پورے کرنا تھا۔ تمام تر چالاکی کے باوجود یہ تحریک پہلی جنگ عظیم تک کوئی نمایاں کامیابی حاصل نہیں کرپائی تھی۔ صہیونی تحریک ایک نسل پر ستانہ تحریک ہے جس کی رگوں میں مذہبی قومی عناصر پائے گئے ہیں۔ اس تحریک کے پروان پانے کا انحصار اس اصول پر رکھا گیا ہے کہ فلسطین کے اصل باسیوں کے کتنے حقوق چھین کر نو واردوں کو دیے جا سکتے ہیں۔ ایک دفعہ صہیونی تحریک کی رکنیت حاصل کرنے کے بعد مذہبی یہودی اور سیکولر یہودی میں کوئی فرق نہیں رہتا۔ جب تک کوئی یہودی صہیونی تحریک کا رکن ہے وہ انہی مقاصد کی تکمیل میں اپنی صلاحیتیں کھپائے گا جس کیلئے صہیونی تحریک برپاکی گئی ہے ۔ (12) فلسطین پر برطانوی انتداب برطانیہ نے 1917 میں اعلان بالفور کے اعلامیے کے ساتھ فلسطین میں صہیونی قومی ریاست کی بنیاد رکھی۔ ستمبر 1918 میں برطانیہ نے خطے پر قبضہ مکمل کرتے ہوئے فلسطینی اراضی کا ایک حصہ صیہونیوں کو دے دیا۔ اس سے پہلے برطانیہ عرب شیوخ سے معاہدہ کرکے خطے میں داخل ہوا تھا کہ وہ عرب ریاستوں کو مکمل آزادی اور خود مختاری دے گا۔ یہ معاہدہ برطانیہ نے عربوں کے متحدہ نمائندے الشریف حسین سے کیا تھا۔ مشرق وسطیٰ کے ایک بڑے حصے پر قبضے کے بعد برطانیہ نے کسی معاہدے کا پاس خیال نہ کیا اور عربوں کو کبھی آزادی اور خود مختاری حاصل نہ ہوسکی۔ معاہدہ سائکس پیکو کے ذریعے مشرق وسطیٰ بشمول عراق اور وسیع ترشام فرانس اور برطانیہ کے اثرو نفوذ کے درمیان چھوٹی چھوٹی مملکتوں میں تقسیم کردیا گیا۔ 1916 میں سائکس پیکو (Sykes Picot Agreement) معاہدے کے تحت فلسطین کو بین الاقوامی خطہ قرار دیا گیا۔ پھر اس کے بعد دوسرے معاہدے سان ریمو کانفرنس؛ San Remo ( اپریل 1920) کے تحت فلسطین پر بین الاقوامی خطے کی بجائے برطانیہ کے انتداب کے حق کو تسلیم کرلیا گیا جسے مئی 1922ء میں اقوام متحدہ نے بھی تسلیم کرلیا ۔ (13) صیہونیت کے لیے برطانیہ کی خدمات برطانیہ نے فلسطین پر اپنے انتداب کے دوران میں ( 1918۔ 1948) یہودیوں کی فلسطین میں آباد کاری کی بھرپور حوصلہ افزائی کی۔ یہودی آباد کاری میں اضافہ ان اعدادو شمار سے لگا یا جاسکتا ہے کہ 1918 میں فلسطین میں صرف( 55000) پچپن ہزار یہودی تھے اور 1948 میں نقل پذیر ہو نے والے یہودیوں نے یہودی آبادی کو( 646000) چھ لاکھ چھیالیس ہزار تک بڑھا دیا۔ یعنی پہلے یہودی کل آبادی کا آٹھ فیصد تھے اور اس کے بعد ان کی آبادی کا تناسب تھا 31.7 فیصد تھا۔ اسی طرح برطانیہ نے فلسطینی اراضی کی یہودیوں کو فروخت کے کئی طریقے نکال لیے۔ برطانیہ کے انتداب سے پہلے یہودی کل اراضی کے دو فیصد کے مالک تھے اور کچھ ہی عرصہ کے بعد یہودی 6.7 فیصد اراضی کے مالک ہو گئے۔ یہ اراضی یا تو سرکار کی طرف سے الاٹ ہوئی یا پھر فلسطین میں موجود غیر فلسطینیو ں نے یہ اراضی فروخت کی تھی۔ زمین کی خریداری پر یہودیوں کی طرف سے پرکشش قیمت پر بھی غریب فلسطینی اپنی اراضی نہ بیچتے تھے۔ تیس سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود فلسطین کے اصل باشندے 93.3 فیصد اراضی کے مالک تھے اور فلسطینی آبادی کا تناسب 68.3 فیصد تھا ۔ برطانیہ نے نوواردوں کے لئے متعدد اقتصادی ‘ سیاسی اور تعلیمی اور عسکری پراجیکٹ بنائے ۔ 1948 تک برطانیہ کی طرف سے 292 یہودی خیمہ بستیاں تعمیر پا چکی تھیں۔ صیہونی ستر ہزار فوج کیل کانٹے سے لیس تھی اور اس کے ساتھ ہی اسرائیل نے آزاد ملک ہونے کا اعلان کردیا ۔ (14) تاریخ تحریک مزاحمت بلاشبہ برطانیہ نے فلسطینیوں کے خلاف بڑی بڑی سازشیں کی تھیں لیکن وہاں کے غیور مسلمانوں نے برطانیہ کے ناجائز قبضے کے خلاف مزاحمت جاری رکھی اور غلامی پر کبھی راضی نہ ہوئے۔ فلسطین میں برطانیہ سے آزادی پانے کی تحریکیں برابر چلتی رہیں۔ آزادی کی تحریک میں اسلامی جماعتیں بھی تھیں اور قوم پرست تحریکیں بھی۔ اسلامی قیادت کے بڑے ناموں میں موسیٰ کاظم اور الحاج امین حسینی کی شخصیات مشہور و معروف ہیں جنہیں عوام کی بہت بڑی حمایت حاصل تھی۔ بیسوی صدی کی ابتدا ء میں فلسطینیوں میں برطانیہ کے خلاف کئی بغاوتیں ہوئیں۔ ان بغاوتوں میں اہم ترین 1920 میں القدس کی بغاوت؛ 1931 میں ’یا فا‘ کی بغاوت؛ 1929 میں البراق کی بغاوت اور اکتوبر 1932 کی بغاوت۔ اسی طرح عزالدین قسام نے باضابطہ جہاد کا آغاز کیا۔ عبدالقادر حسینی نے ’ مقدس جہاد ‘ کے نام سے جہاد کا آغاز کیا۔ ان پے درپے بغاوتوں کی وجہ سے ( 1936۔ 1939) جنہیں فلسطین کی جہادی تاریخ میں’انقلاب عظیم‘ کہا جاتا ہے؛ برطانیہ اس بات پر مجبور ہو گیا کہ وائیٹ بک میں اس نے اگلے دس سالوں میں آزاد فلسطین کے قیام کی تحریر لکھ دی۔ تحریر میں یہ بھی لکھا گیا تھا کہ برطانیہ سرکار معین رقبے سے زیادہ فلسطینی اراضی کو یہودیوں کے ہاتھ فروخت نہیں کرے گی۔ اس کے علاوہ یہ بھی لکھا گیا کہ پانچ سالوں کے بعد فلسطین میں یہودیوں کی نقل مکانی ممنوع قرار دے دی جائے گی۔ اس تحریر کے بعد ہوا یہ کہ دنیا میں خاصی بڑی تبدیلیاں رونماں ہو گئیں۔ برطانیہ کی بجائے مشرق وسطیٰ میں امریکہ کا اثرو نفوذ بڑھ گیا۔ 1945 میں جب وائیٹ بک میں ثبت کی گئی تحریر کی تکمیل ہونا تھی تو امریکہ نے ایسا نہیں ہونے دیا بلکہ فلسطینی اراضی کی فروخت کے ساتھ یہودیوں کی فلسطین میں نقل مکانی اور بڑھ گئی ۔ (15 ) فلسطین کی تقسیم 1948 میں اقوام متحدہ کے مشترکہ اجلاس میں قرار داد پاس کی گئی کہ فلسطین کو تقسیم کر کے دو ملک بنا دیئے جائیں ایک عربی خطہ جو کل اراضی کا 45 فیصد ہو اور یہودی خطہ جو کل فلسطینی اراضی کا 54 فیصد ہو جبکہ قرار داد میں ایک فیصد رقبہ ( قدس مبارک یا بیت المقدس) بین الاقوامی عملداری کے سپرد کرنے کی سفارش کی گئی۔ یہاں یہ بات قارئین کیلئے جان لینا ضروری ہے کہ اقوام متحدہ کے مشترکہ اجلاس میں اگر کوئی قرار داد پاس کی جائے تو اقوام متحدہ کے میثاق کی رو سے ہی اس کی قانونی حیثیت اس معنی میں نہیں ہو تی کہ رکن ممالک ایسی قرار داد پر عمل درآمد کرنے پر مجبور ہوں گے۔ علاوہ اس کے تقسیم فلسطین کی مجوزہ قرار داد بذات خود اقوام متحدہ کے میثاق کے مخالف ہے۔ اقوام متحدہ کے میثاق میں اس بات کو تسلیم کیا گیا ہے کہ ہر خطے کے عوام کو مکمل آزادی ہوگی اور یہ کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کے حق دار ہوں گے۔ مزید براں اس قرار داد کی بابت نہ فلسطین کے عوام کو اعتماد میں لیا گیا؛ نہ ا ن سے رائے شماری لی گئی اور نہ کوئی وو ٹنگ سامنے آئی۔ اس قرار داد کے جانبدارانہ اور مبنی بر ظلم ہونے کی اس سے بڑی اور کیاد لیل ہو گی کہ غیر ملکی یہودی جو اقلیت میں بھی تھے انہیں اصل باشندوں کی نسبت زیادہ حصہ دیا گیا ۔ (16) صیہونی ریاست کا اعلان 14 مئی 1948 کی شام اسرائیل نے اپنی خود مختاری کا اعلان کردیا ۔اسرائیل نے جلد ہی عرب فوج کو شکست سے دو چار کردیا۔ پہلی عرب اسرائیل جنگ میں عرب فوج کی قیادت بدنظمی کا بدترین نمونہ پیش کر رہی تھی۔ اس کے علاوہ عرب فوج مکمل طور پر آزاد بھی نہ تھی۔ فوج کے ایک حصے پر استعمار کا شکنجہ کسا ہوا تھا۔ جنگ کے بعد اسرائیل فلسطین کی 77 فیصد اراضی کا مالک تھا۔ صہیونی ریاست نے اپنے قیام کے ساتھ ہی آٹھ لاکھ فلسطینیوں کو ملک بدر کردیا۔ ملک بدر ہونے والے فلسطینیوں کے علاقوں میں یہودی آباد کیے گئے۔ 1948 میں فلسطینی آبادی چودہ لاکھ تھی ۔جن علاقوں کو صہیونی ریاست نے فلسطینیوں سے خالی کرایا تھا وہاں نو لاکھ سے زیادہ آبادی تھی 478 گاؤں تباہ کر کے وہاں اسرائیلی بستیاں بسائی گئی تھیں ۔یاد رہے کہ مقبوضہ علاقے میں کل 585 گاؤں تھے۔ کم از کم 34 مرتبہ فلسطینیوں کا قتل عام ہوا۔ باقی ماندہ فلسطینی اراضی کے ایک بڑے حصے (5876 کلو میٹر ) کو ایک معاہدے کے ذریعے اردن نے اپنے اندر سمو لیا اور غزہ کے ایک حصے (363 کلو میٹر ) پر مصر کا اثرو نفوذ قائم ہو گیا۔ اقوام متحدہ نے اس شرط پر اسرائیل کو تسلیم کر لیا کہ وہ ملک بدر کیے جانے والے فلسطینیوں کو ملک واپس آنے کی اجازت دے گا۔ اس قرار داد پر آج تک عمل درآمد نہیں ہوا ۔ (17) جمال عبد الناصر کی قیادت پر اعتماد 1948۔ 1967 مصر کے جمال عبدالناصر نے فلسطینیوں کیلئے دو تحریکوں کے نام سے اسرائیل کے خلاف ردعمل کا آغاز کیا۔ ایک کا عنوان تھا ’ معرکہ قومیہ‘ اور دوسری تحریک کا عنوان تھا ’آزادی کا راستہ اتحاد ‘۔ فلسطین تنازع کے حل کے لیے عرب ریاستوں نے جمال عبدالناصر کی قیادت تسلیم کرلی دوسری طرف فلسطین کی اندرونی قوم پرست تحریکوں نے یہ کہتے ہوئے اپنی مزاحمت ترک کردی کہ ان کے بارے میں عرب قیادتوں کو اختیار ہے کہ وہ مسئلہ فلسطین کا حل نکالیں ۔ حقیقت یہ تھی کہ عرب ریاستوں کے پاس مسئلے کے حل کیلئے کوئی متفقہ لائحہ عمل نہ تھا اور نہ ہی وہ اسرائیل کے خلاف جنگ کرنے میں سنجیدہ نظر آتے تھے۔ فلسطینی مزاحمت اکا دکا دیکھنے کو ملتی رہی لیکن کوئی ایسی اسکیم سامنے نہ آسکی جسے فلسطینی مزاحمت کا مکمل منصوبہ کہا جاسکے۔ صہیونیوں کے کسی نئے ظلم کے خلاف جذبات میں آکر عوام مسلمان شدید رد عمل ظاہر کرتے رہے لیکن کچھ عرصے کے بعد اس کی شدت ختم ہو جاتی جبکہ صہیونی قوت روز بروز بڑھتی جارہی تھی ۔ (1 جمال عبدالناصر کے ذاتی اثرو رسوخجمال عبدالناصر کے ذاتی اثرو رسوخ سے 1964 میں احمد شقیری کی قیادت میں وطن پرست تحریک ’ تحریک آزادی فلسطین ‘ کی بنیاد رکھی گئی۔ جمال عبدالناصر دیکھ رہا تھا کہ فلسطین میں زیر زمین آزادی کی تحریکیں روز بروز بڑھ رہی ہیں۔ اسے خطرہ تھا کہ فلسطینی تحریکیں کہیں خود مختار نہ ہو جائیں خاص طور پر تحریک’ الفتح‘ سے اسے خطرہ پیدا ہو گیا تھا کہ وہ جمال عبدالناصر کی ’خدمات ‘ سے آزاد ہو جائے گی اس لیے جمال عبدالناصر نے خود مداخلت کرکے اپنی سرپرستی میں تحریک آزادی کی بنیاد رکھ دی ۔ تحریک ’ الفتح ‘ 1957 سے سرگرم عمل تھی۔ 1948 سے پہلے والی حیثیت کو برقرار رکھنے کیلئے تحریک الفتح نے عہد کیا کہ فلسطین کی آزادی کا صرف ایک ہی طریقہ مسلح جہاد ہے ۔ خالص فلسطینی تحریک اور قیادت ہونے کی وجہ سے تحریک الفتح فلسطین کی سب سے زیادہ ہر دل عزیز تحریک بن گئی تھی۔ فروری 1969 میں یاسر عرفات نے تحریک کی قیادت سنبھالی اور اس کے ساتھ فدائی تحریکیں اس تحریک میں شامل ہو تی گئیں۔ 1974 میں عرب ریاستوں نے الفتح کو فلسطین کی واحد قانونی تحریک تسلیم کر لیا۔ اقوام متحدہ نے بھی اسی سال اس تنظیم کی اقوام متحدہ میں بطور فلسطینی عوام کی واحد نمائندہ تنظیم کے رکنیت تسلیم کر لی ۔ (19) متحدہ عرب فوجوں کی شکست 1967 کی عرب اسرائیل جنگ میں عربوں کو بد ترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اگلے چند ہی دنوں میں فلسطین کی باقی اراضی پر بھی اسرائیل کا قبضہ ہو گیا۔ مغربی کنارے کا مشرقی علاقہ جہاں القدس واقع ہے یہودیوں کے قبضے میں چلا گیا۔ غزہ کا ایک حصہ ‘سوریا میں واقع گولان کا پہاڑی سلسلہ اور مصر کا صحرا ئے سیناء بھی اسرائیل کے قبضے میں چلا گیا اور اس کے ساتھ ہی اسرائیل نے مزید تین لاکھ تیس ہزار فلسطینی ملک بدر کر دیئے ۔ (20) فلسطین کی اسلامی شناخت مٹانا صہیونی ریاست اول روز سے اس منصوبے پر عمل پیرا تھی کہ فلسطین کی اسلامی شناخت ختم کردے اور خطے کو یہودی آبادی؛ ثقافت اور تمدن میں تبدیل کردے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے 1948 کے مقبوضہ اراضی کا 96 فیصد سرکاری تحویل میں لے لیا گیا۔ یہ وہ علاقے تھے جہاں سے یا تو مقامی آبادی کو ملک بدر کیا گیا تھا یا یہ اوقاف کی زمین تھی جو صدیوں سے اسلامی مقاصد کیلئے وقف چلی آرہی تھی۔ ان علاقوں سے اسلامی شناخت کے تمام نشانات مٹا کر وہاں 1967 کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد مغربی کنارے پر 192 یہودی بستیاں بسائی گئیں جو کہ مغربی کنارے کی کل اراضی کا 69فیصد بنتا ہے۔ غزہ کے علاقے کا 30 فیصد سرکاری تحویل میں لیا گیا اور یہاں 14 یہودی بستیاں تعمیر کی گئیں۔ شکست کے نتیجے میں ملک بدر کیے گئے فلسطینیوں کی وطن واپسی کا سوال ہی ختم ہو گیا۔مختلف ممالک کے یہودی اب بھر پور اعتماد کے ساتھ اور بڑی تیزی سے فلسطین ہجرت کرنے لگے جس کی وجہ سے 1949 سے لے کر 2000 ء تک 28 لاکھ یہودی فلسطین میں آ کرآباد ہو ئے ۔ جنگ میں فتح پانے کے بعد صیہونی ریاست نے طے کیا تھا کہ سنہ 2005 تک صہیونی ریاست کی کل یہودی آبادی 53 لاکھ تک ہونا چاہیئے ۔پچاس فیصد سے زائد مقامی آبادی کو ملک بدر کر کے ان کی جگہ اتنی بڑی یہودی آبادی اور ان کی بود و باش اور تمدن سے قدیم فلسطین کا مشرقی اور اسلامی حسن ختم ہو کر رہ گیا۔ فلسطین کی اراضی پر صہیونی مقبوضہ جات یہودی آباد کاری کا چربہ پیش کرنے لگے ۔ (عربوں کی شکست کے یہ سب ثمرات فلسطینیوں کو اٹھانا پڑے۔) (جاری ھے) |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#4 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,500
کمائي: 118,596
شکریہ: 13,502
4,906 مراسلہ میں 16,695 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
(21) بیت المقدس کی اسلامی شناخت مٹانا فلسطین کا قدیم تاریخی اور مقدس شہر ’ القدس ‘ صہیونی ریاست کے نزدیک ان اہم ترین شہروں میں سے ایک ہے جسے یہودی رنگ میں رنگنا ان کے منصوبے میں شامل رہا ہے۔ بیت المقدس کے 86 فیصد علاقے کو سرکاری تحویل میں لے لیا گیا۔ مقبوضہ علاقے میں دو لاکھ اڑھتا لیس ہزار فلسطینیوں کے مقابلے میں یہاں چار لاکھ اٹھاون ہزار یہودی آباد کیے گئے ۔بیت المقدس کے مشرق میں جہاں مسجد اقصیٰ واقع ہے دو لاکھ بیس ہزار یہودی آباد کیے گئے ۔ فلسطینیوں کے محلوں سے اس علاقے کو الگ تھلگ رکھنے کے لیے اور وہاں اسلامی تہذیب کی چھاپ چھپانے کے لیے یہودی آبادی والے علاقے کے گردا گرد شہر پناہ تعمیر کردیا گیا ہے۔ صہیونی ریاست نے اعلان کر رکھا ہے کہ بیت المقدس ہی ان کا ابد آباد تک دارالحکومت رہے گا۔ یہودیوں نے مسجد اقصیٰ پر کنٹرول حاصل کرنے کے ہزار جتن کر لیے ہیں۔ مسجد اقصیٰ کی مغربی دیوار ( دیوار براق ) کو سرکاری تحویل میں لے لیا گیا ہے۔ اس دیوار کی انتہا تک جتنا رقبہ تھا وہاں کی سب اسلامی تعمیر مٹا دی گئی ہے اور اس اراضی کو بھی سرکاری تحویل میں لے لیا گیا ہے۔ اب تک مسجد کے زیر زمین دس کھدائیاں ہوچکی ہیں۔ مسجد اقصیٰ کے زیر زمین چار مستقل سرنگیں تعمیر کی گئی ہیں۔ ان کھدائیوں اور سرنگوں کے نتیجے میں مسجد اقصیٰ کی بنیادیں ہل کر رہ گئی ہیں۔ خطرہ ہے کہ مسجد اقصیٰ کسی بھی وقت زمین بوس ہوسکتی ہے۔ 25 صہیونی شدت پسند تنظیمیں ایسی ہیں جو علانیہ مسجد اقصیٰ کو ڈھاکر وہاں ہیکل سلیمانی تعمیر کرنے کی دھمکیاں دیتی رہتی ہیں۔ 1976 سے لے کر 1998 تک 112 سے زیادہ حملے مسجد پر ان تنظیموں کی طرف سے ہو چکے ہیں۔ ان میں سے 72 حملے اوسلو پیکٹ کے بعد ہوئے ہیں۔ مسجد اقصیٰ پر یہودی شدت پسند تنظیموں کی طرف سے کیے گئے حملوں میں سب سے خطر ناک 21 اگست 1969 کی آتش زدگی کا واقعہ ہے۔ (22) مہاجر فلسطینیوں کا دوسرے ممالک کی شہریت لینے سے انکار بے وطن کیے گئے فلسطینیوں نے دوسرے ممالک کی شہریت اور مراعات لینے سے صاف انکار کر رکھا ہے ۔ وہ اپنے وطن لوٹنے پر ہی اصرار کرتے ہیں۔ (وطن واپسی میں وہ فلسطینی بھی سنجیدہ ہیں جو مغربی ممالک میں مقیم ہیں)مغربی ممالک کی طرف سے فلسطینیوں کو فلسطین سے باہر آباد کرنے کے اب تک 240 منصوبے سامنے آئے ہیں لیکن ملک بدر کیے گئے فلسطینیوں نے سب کو ٹھکرا دیا ہے۔ فلسطینیوں کی وطن واپسی کے لئے اب تک اقوام متحدہ 110 قرار دادیں پاس کر چکی ہے۔ صہیونی ریاست کسی صورت میں ملک بدر کیے گئے فلسطینیوں کو واپسی کی اجازت نہیں دیتی۔ جہاں تک اقوام عالم کا تعلق ہے تو ان میں سے کوئی ملک بھی فلسطینیوں کی وطن واپسی کویقینی بنانے میں سنجیدہ نہیں ہے ۔ 2005ء کے اعداد و شمار کے مطابق چون لاکھ فلسطینی اپنے وطن سے باہر مہاجرت کی زندگی گزار رہے ہیں۔ اس کے علاوہ مغربی کنارے سے بے دخل کیے گئے دس لاکھ فلسطینی ہیں۔ کل ملا کر یہ تعداد 64 لاکھ سے زیادہ بنتی ہے۔ مہاجرت کی زندگی گزارنے والی آبادی فلسطین کی آبادی کا 67 فیصد ہے۔ فلسطینی مہاجرت کا یہ تناسب دنیا بھر میں مہاجر بستیوں میں رہنے والی کسی بھی دوسری قوم سے زیادہ ہے۔ فلسطینی مہاجرت بیسوی صدی کا سب سے الم ناک اور تاریخی واقعہ ہے ۔ (23) اقوام متحدہ کا مسئلے کو مہاجرین تک محدود کرنا اقوام متحدہ میں 1949ء اور پھر 1974ء میں فلسطینی مہاجرت کے مسئلے پر رائے شماری ہوئی تھی۔ اقوام متحدہ کے مشترکہ اجلاس نے واضح اکثریت سے اس بات کو تسلیم کیا کہ فلسطینیوں کو اپنے وطن لوٹنے کا حق حاصل ہے۔ اسی طرح فلسطینیوں کے حقوق کی جنگ کو بھی اقوام متحدہ نے جائز قرار دیا ہے جس میں مسلح مزاحمت بھی شامل ہے اس لیے کہ ایک تو صہیونی ریاست نسل پرستی پر قائم ہے اور جانب دار ہے اور دوسرا یہ کہ ریاست اصل باشندوں کو ان کے وطن لوٹنے کی اجازت نہیں دیتی ہے۔ امریکہ اس قرار داد کو اپنے حواریوں کے ساتھ ویٹو کرتا رہا ہے اور اس پر عمل درآمد کرنے میں رکاوٹیں کھڑی کرتا رہا ہے۔ قارئین کو اس موقع پر یاد دلاتے جائیں کہ جس اصول کو بنیاد مان کر یہودیوں کے لئے وطن کی ضرورت کو تسلیم کیا گیا ہے اور اس پر عمل کرتے ہوئے فلسطین میں ان کیلئے وطن بنا یا گیا ہے وہی اصول فلسطینیوں پر لاگو نہیں کیا جاتا جو طویل عرصے سے نہ صرف بے وطن ہیں بلکہ انہیں ان کے اصل وطن سے بے دخل کیا گیا ہے۔ اقوام عالم کس طرح اپنے ہی بنائے ہوئے قوانین سے منافقت کرتی ہیں مسئلہ فلسطین اس کی سب سے بڑی شہادت ہے جبکہ اقوام متحدہ کی ایک سے زیادہ قراردادوں میں تسلیم کیا گیا ہے کہ بے وطن فلسطینیوں کو وطن لوٹنے کا حق حاصل ہے ۔اقوام متحدہ نے اسرائیل کو تسلیم کر کے کیسا انصاف کیا ہے جس نے اصلی باشندوں کو بے وطن کرکے ان کی 77 فیصد اراضی پر قبضہ کیا ہے۔ (24) استشہادی کار روائیاں 1967 تا 1970 فلسطینی تاریخ میں فدائی حملوں کا سنہری زمانہ رہا ہے۔ اس عرصے میں تحریک مزاحمت کامیابی کی طرف جارہی تھی لیکن سنہ 1971 میں اردن نے مزاحمت کاروں کو اپنی سر زمین استعمال کرنے سے منع کردیا۔ اس کے بعد اگرچہ تحریک مزاحمت ختم نہیں ہوئی بلکہ لبنان کی سر زمین اس مزاحمت کیلئے استعمال ہونے لگی لیکن لبنان کی خانہ جنگی جہاں لبنان کے لئے تباہ کن ثابت ہوئی ہے وہاں تحریک مزاحمت فلسطین کوبھی نقصان ہوا ۔ 1975 تا 1990 کی لبنان کی خانہ جنگی کے علاوہ فلسطینی خیمہ بستیوں پر اسرائیل کی مسلسل بمباری؛ 1978 میں لبنان کے جنوبی حصے میں اسرائیل کی فوجوں کا گھسنا اور وہاں مزاحمت کی کارروائیوں کے خلاف بندوبست کرنا نیز اسرائیلی فوجوں کا لبنانی سر زمین کے اندر تک چلے جانا یہاں تک کہ سنہ 1972 میں بیروت کی سڑکوں پر اسرائیلی فوج کے بوٹوں کی دھمک پڑ رہی تھی اور جب اسرائیل نے بیروت کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور اپنے مطالبات میں سب سے اہم مطالبہ یہ رکھا کہ لبنان تمام مزاحمت کاروں کو ملک بدر کر دے گا ۔ اسرائیل کے شدید دباؤ کا نتیجہ یہ نکلا کہ عرب ریاستوں میں سے کوئی بھی اپنی سرزمین فلسطینی مزاحمت کاروں کو استعمال کرنے کی جرات نہیں کرتا تھا۔ (25) غیر مخلص عرب قیادت فلسطینی مزاحمت کے سامنے سب سے بڑی رکاوٹ خود اس کے بھائی بند عرب رہے ہیں۔ صہیونیوں کے خلاف مزاحمت کس طرح موثر ہوتی جبکہ مزاحمت کی توانائی اپنے گھر میں عرب تنظیموں کے ساتھ پورا اترنے میں کھپ رہی تھی۔ سبھی عرب تنظیموں کی خواہش تھی کہ فلسطینی مزاحمت کا کنٹرول انہیں حاصل ہو۔ وہ فلسطینی مزاحمت کے سپو کس مین کہلا ئیں اورجب کوئی فیصلہ کن گھڑی آئے تو وہ اصل مزاحمت کاروں سے بالا بالا بڑی طاقتوں سے معاملات طے کر آئیں ۔ اکتوبر 1973 کی عرب اسرائیل جنگ کو اس لحاظ سے کامیاب قرار دیا جاسکتا ہے کہ اس میں معنوی طور پر مصر اور سوریا کامیاب ہوئے اور امید تھی کہ فلسطین کی نمائندگی کرنے والے حقیقی کردار سامنے آگئے ہیں جو کہ متحد اور ہم خیال ہیں۔ 1974 ہی میں یہ تاثر زائل ہونا شروع ہو گیا اور جلد ہی متعلقہ عرب ملکوں نے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ شروع کردیا۔ ستمبر 1978 میں مصر نے کیمپ ڈیوڈ معاہدہ کرلیا۔ کیمپ ڈیوڈ معاہدے کی وجہ سے عرب صہیونی تنازع میں سے ایک اہم اور مضبوط ترین ملک غیر جانبدار ہو گیا ۔ 1980۔ 1988 عراق ایران جنگ سے بھی تحریک مزاحمت کو نقصان پہنچا۔ اس طویل جنگ سے نہ صرف دونوں ملک تباہ ہوئے بلکہ عرب ملکوں کے سامنے بھی ایک سے زیادہ سیاسی مسائل کھڑے ہو گئے۔ دوسری طرف تحریک مزاحمت فلسطین کی مالی اعانت میں بھی خاطر خواہ کمی ہوگئی۔ یہ وہی زمانہ ہے جس میں معدنی تیل کی قیمت آخری سطح تک گر گئی تھی ۔ 1990 میں عراق کا کویت پر قبضہ بھی تحریک مزاحمت کیلئے نقصان دہ ثابت ہوا کیونکہ اس سے بھی مشرق وسطیٰ کے اندرونی مسائل پیچیدہ ہو گئے۔ پھر سوویت یونین کے گرنے سے بھی مغربی بلاک کی بکھری توجہ مخصوص اہداف کی طرف مجتمع ہو گئی۔ ان اسباب کی وجہ سے فلسطینی قیادت بتدریج مسلح کارروائیوں سے دست بردار ہو کر رہ گئی اور ایک ایسے پر امن سیاسی حل پر مجبور پائی گئی جس میں ان کیلئے عمل کا میدان وہی قرار پا تا تھا جہاں ان کیلئے عمل کی کوئی گنجائش چھوڑی جاتی تھی ! خوش قسمتی سے ستر کی دہائی کا نصف آخر فلسطینی نوجوانوں میں اسلامی بیداری اور جذبہ جہاد کے ابتدائی مراحل کا زمانہ ثابت ہوا۔ اسی زمانہ میں مختلف جہادی تنظیمیں ظاہر ہوئیں جیسے’اسرۃ الجہاد‘ اور 1980 میں’ حرکت الجہاد الاسلامی‘۔ اسی طرح تنظیم ’المجاہدون الفلسطینیون‘۔ آخر الذکر تنظیم کی بنیاد اسی کی دہائی کی ابتداء میں شیخ احمد یاسین نے رکھی تھی ۔ (26) انتفاضہ کا آغاز دسمبر 1978 اور ستمبر 1993 میں فلسطین کی اپنی سر زمین سے تحریک انتفاضہ نے جنم لیا۔ پہلی مرتبہ ایک خالص اسلامی تحریک نے مزاحمت کے عمل میں اپنے داخلی وسائل پر انحصار کرتے ہوئے جہاد کا آغاز کیا۔ انتفاضہ مبارکہ کو زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا کہ تحریک ’حماس ‘ نے بھی انتفاضہ کے ساتھ تحریک مزاحمت میں شمولیت اختیار کرلی ۔انتفاضہ نے جلد ہی عرب ریاستوں کے علاوہ بین الاقوامی طور پر توجہ حاصل کرلی اور مسئلہ فلسطین ایک مرتبہ پھر بین لاقوامی سطح پر نمایاں ہو گیا ۔ انتفاضہ کی مقبولیت سے جو سیاسی فوائد حاصل کیے جا سکتے تھے وہ علاقے کے سیاسی حالات ‘ فلسطینی قیادت اور عربی قیادت کی عقلی اٹھان اور دیگر عوامل کی وجہ سے آزادی فلسطین کے پر زور مطالبے کی بجائے معمولی اور جلد بازی میں قبول کیے گئے سیاسی معاہدوں کی نذر ہو گئے جن میں سب سے زیادہ مضر اسرائیل کے ساتھ عرب ریاستوں کا باضابطہ اور بلا واسطہ مذاکرات میں شریک ہونا ثابت ہوا ۔ (27) مذاکرات کا دور عرب موقف میں کمزوری آنے سے اُن قوتوں کو اس بات کے وسیع مواقع حاصل ہو گئے جو صہیونی قیادت سے پر امن مذاکرات کو وسعت دینے کے ایجنڈے پر زور دیتے تھے۔ یہاں تک کہ 1988 میں اقوام متحدہ نے اپنی قرار داد نمبر 181 کے ذریعے فلسطین کی تقسیم کا اعلان کردیا۔ قرار داد میں فلسطین کو تسلیم کرتے ہوئے اسے دو حصوں میں تقسیم کیا گیا جس کے ایک حصے پر عرب اور دوسرے پر یہودیوں کا حق تسلیم کیا گیا۔ قرار داد میں مسئلہ فلسطین کے اہم ترین مطالبات کو نظر انداز کرتے ہوئے مسئلے کی نوعیت محض مہاجر فلسطینیوں کی وطن واپسی تک محدود کی گئی ہے۔ 1991 میں پہلی مرتبہ میڈرڈ کے شہر میں عرب ریاستوں نے اسرائیل سے بلا واسطہ پر امن مذاکرات کے سلسلے کا آغاز کیا۔ میڈریڈ مذاکرات کے دو برسوں بعدتک عرب نمائندے اسرائیل سے کوئی بھی قابل ذکر مطالبہ نہ منوا سکے سوائے ان خفیہ مذاکرات کے جو بالآخر اوسلو معاہدے کی بنیاد بنے۔ ستمبر 1993 میں اوسلو معاہدے پر طرفین نے دستخط کیے ۔ (2 مذاکرات میں شکستاوسلو معاہدے میں عرب قیادت نے اسرائیل کو ایک جائز ملک کے تسلیم کرلیا۔ فلسطینی اراضی کے 77 فیصد حصے پر بھی اسرائیل کا حق تسلیم کر لیا گیا اور یہ کہ تحریک انتفاضہ کالعدم تنظیم ہو گی اور اسرائیل کے خلاف کوئی مسلح کارروائی غیر قانونی سمجھی جائے گی۔ اسی طرح عرب قیادت پورے فلسطین کی آزادی کے فلسطینی متفقہ مطالبے سے بھی دست بردار ہو گئی اور یہ کہ اسرائیل کی سلامتی کو نقصان پہنچانے والے کسی عمل کو جائز نہیں سمجھا جائے گا اور یہ کہ ہر قسم کے مسائل کا حل پر امن مذاکرات کے ذریعے تلاش کیاجائے گا ۔ عرب قیادت نے اوسلو معاہدے پر دستخط کر کے عملاً تحریک آزادی فلسطین اور دوسرے مطالبات کا گلہ گھونٹ دیا۔ اس کے مقابلے میں اوسلو معاہدے کی رو سے اسرائیل نے صرف اتنا تسلیم کیا کہ عرب قیادت (الفتح) کو فلسطین کے مسئلے کی قیادت کا حق حاصل ہے اور یہ کہ اسرائیل غزہ اور مغربی کنارے کے بعض حصوں میں فلسطینی قیادت کو محدود سطح پر آزاد ی دینے کا پابند ہو گا اور یہ کہ دوسرے اہم نوعیت کے مسائل اگلے پانچ برسوں میں طے کیے جائیں گے ۔ (29) اوسلو معاہدہ فلسطینی موقف کا ترجمان نہیں اوسلو معاہدے کے خلاف رد عمل نہ صرف فلسطین میں ہوا بلکہ دوسرے عرب ممالک کی سرکردہ شخصیات اور اسلامی قیادتوں نے بھی درج ذیل وجوہات کی بنیاد پر اس معاہدے کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا ۔ (الف) عالم اسلام کے وہ اہل علم علماء کرام جن کی حیثیت مسلمہ ہے نے فتویٰ جاری کیا کہ صہیونی قیادت کے ساتھ اس کے مطالبات پر مذاکرات کرنا ناجائز ہے۔ پورے فلسطین کی آزادی کیلئے مقدس جہاد ضروری ہے اور یہ کہ یہ حق و باطل کا معرکہ ہے جسے نسل در نسل جاری رہنا ہے جب تک اللہ اہل حق کو مکمل نصرت اور کامیابی سے ہمکنار نہیں کردیتا۔ اور یہ کہ فلسطین کی اراضی پر کسی بشر کا حق نہیں ہے بلکہ یہ سارا خطہ اللہ کا ہے اور اللہ ہی کیلئے وقف ( اوقاف ) ہے۔ کسی انسان کے لئے یہ جائز نہیں کروہ اس کے کسی ایک حصے سے دست بردار ہو۔ اگر اس وقت موجود ہ نسل حالت ضعف میں ہے تو اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں ہے کہ ہمیشہ یہی حالت برقرار رہے گی۔ آنے والی نسل کے حق کو مارنے کا کسی کو اختیار نہیں دیا جاسکتا اور یہ کہ مسئلہ فلسطین تمام مسلمانوں کا مسئلہ ہے اور عالم اسلام کا کوئی ایک مسلمان بھی اللہ کی سر زمین سے دستبردار ہونے کا وبال نہیں اٹھا سکتا خواہ فتح و کامرانی پر کتنا ہی عرصہ کیوں نہ بیت جائے ۔ (ب ) اوسلو معاہدے پر جس قیادت نے دستخط کیے ہیں وہ اپنے فعل کے آپ ذمہ دار ہیں ۔ قیادت نے عوام سے کوئی رائے طلب نہیں کی تھی اور نہ ہی وہ عوامی نمائندے تھے۔ جن دنوں معاہدے کی بات چل رہی تھی انہیں دنوں فلسطین میں اس کی مخالفت ہورہی تھی خواہ اسلامی تنظیمیں ہوں یا وطن پرست تنظیمیں ہوں یا سیاسی تنظیمیں سب کے ہاں مخالفت پائی جاتی تھی یہاں تک کے خود تنظیم ’ الفتح ‘ میں بھی مخالفت پائی جاتی تھی۔ (ج ) اس معاہدے میں طاقتور نے اپنے مطالبات ایک کمزور فریق سے قوت کے زور پر منوائے ہیں۔ اوسلو پیکٹ میں نہایت ہی اہم اور حساس مسائل کے حل سے صرف نظر کیا گیا ہے جن میں اہم ترین یہ ہیں (1) القدس (بیت المقدس) کا مستقبل کیا ہو گا ؟ (2) فلسطینی مہاجرین کا مستقبل کیا ہو گا ؟ (3) مغربی کنارے اور غزہ کے علاقے میں اسرائیلی ‘مقبوضہ جات میں یہودی بستیوں کا مستقبل کیا ہو گا ؟ (4) مستقبل میں فلسطینی قیادت کی کیا سیاسی حیثیت ہو گی وہ کس قسم کے تصرفات کرسکتی ہے اور اس کی حدود و قیود کیا ہیں ؟ سنہ 2000 تک مذکورہ بالا اہم مسائل میں سے کسی کا حل بھی سامنے نہیں آیا۔ دوسری طرف صہیونی ریاست بدستور خطے کو یہودی طرز میں ڈھالتی چلی جارہی ہے۔ اسرائیل اپنے تصرفات میں ان معاہدوں کا بھی احترام نہیں کرتا جو اس نے خود مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر طے کیے ہیں ۔ صہیونی قیادت نے مغربی کنارے کا صرف 18 فیصد حصہ فلسطینی قیادت کو دیا ہے اور غزہ کا 60 فیصد حصہ دیا ہے۔ اس طرح پورے فلسطین کا صرف 4.72 فیصد حصہ فلسطینی قیادت کے پاس آیا ہے وہ بھی اس شرط کے ساتھ کہ علاقے کا نظم و نسق ( امن عامہ ) پر دونوں ملکوں کا مشترکہ حق ہو گا۔ جو علاقے فلسطینی قیادت کو دستوری طور پر دیئے گئے ہیں ان میں سے عملاً مغربی کنارے کے 58 فیصد پر اور غزہ کے 40 فیصد علاقے پر صہیونی تسلط ہے ۔ اوسلو معاہدے میں صیہونی ریاست جن علاقوں سے دست بردار ہو کر انہیں فلسطینی اتھارٹی کے سپرد کرنے پر آمادہ ہوئی تو عالمی ’ امن ‘ قائم کرنے والوں کے اصرار پر صہیونی قیادت نے اس لیے اتفاق کر لیا تھا کیونکہ اس سے اسرائیل کی فلسطینی کثیر آبادی والے علاقے کی انتظامی ذمہ داریوں سے جان چھوٹنی تھی نیز شہری بندوبست پر جو کثیر سرمایہ لگتا اس سے بھی وہ بچ گیا۔ فلسطینی کثیر آبادی والے محلوں کے قریب صیہونی بستیاں جہادی حملوں سے غیر محفوظ تھیں۔ یوں بھی غزہ میں گنجان فلسطینی آبادی کی وجہ سے اسرائیل یہاں سے نکلنے کا بہانہ چاہتا تھا؛ اوسلو معاہدے سے پہلے اسرائیل غزہ کے مقبوضہ جات مصر کو دینے پر آمادہ تھا مصر نے خود ہی اس ذمہ داری کو اٹھانے سے انکار کر دیا تھا۔ یہ علاقے فلسطینی اتھارٹی کے سپرد کرکے دراصل صیہونی ریاست نے اپنی سلامتی کو ہی محفوظ بنایا تھا نہ کہ یہ عرب قیادت کی کوئی سیاسی کامیابی تھی (achievement)۔ اوسلو معاہدے میں فلسطینی اتھارٹی کے اختیارات نہایت محدود ہیں نیز صہیونی استعمار کی نگرانی میں ہی ان پر عمل درآمد کیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ صہیونی ریاست کو یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ فلسطینی اتھارٹی کے کسی بھی فیصلے کو یا قانون کو ویٹو کے ذریعے بے اثر کرسکتی ہے ۔ اوسلو معاہدے کی رو سے فلسطینی قیادت مستقل فوج نہیں رکھ سکتی مزید براں صہیونی ریاست کی باضابطہ اجازت کے بغیر اسلحے کا بھی لین دین نہیں کر سکتی۔ فلسطینی اتھارٹی کے فرائض میں یہ شامل ہو گا کہ وہ صہیونی ریاست کے خلاف ہر قسم کی مسلح کارروائی ( جہاد ) کا سد باب کرے گی۔ اس بات کو یقینی بنانے کیلئے فلسطینی اتھارٹی نے مزاحمت کاروں میں سے بعض مجاہدین گرفتار کیے تاکہ خطے میں امن کے عمل کو کامیاب بنانے کے لیے(اوسلو معاہدہ کرنے والی) فلسطینی قیادت اپنی سنجیدیگی اور فرض شناسی ثابت کر سکے! (صیہونی سلامتی والی اس شق کی تکمیل کے لیے) مسلح حملوں کے سدباب کیلئے نو ( خفیہ ) محکمے تشکیل دیئے گئے ۔ان خفیہ محکموں کی شاہانہ تنخواہوں کا بوجھ فلسطینی عوام پر ڈالا گیا جبکہ معاشی ترقی ‘ صحت اور تعلیم کے شعبے اس بات کے زیادہ مستحق تھے کہ ان مدوں میں ٹیکس کی آمدنی صرف کی جاتی ‘ فلسطینی اتھارٹی کے خفیہ اداروں نے اپنی کارکردگی دکھانے کیلئے اختیارات کا بے جا استعمال کیا لیکن حکومت نے اس کا کوئی نوٹس نہ لیا یہاں تک کہ ستمبر 2000 میں تحریک انتفاضہ کے میدان میں اترنے سے خفیہ محکموں کی سرگرمیاں اعتدال پر آگئیں اوسلو معاہدے میں سرحدوں کی حفاظت کاحق اسرائیل کو دیا گیا ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کو سرحدوں کا جائزہ لینا ہو یا سرحدوں سے باہر نکلتا ہو یا کسی کو فلسطینی سرحدوں میں داخل ہو نا ہو تو فلسطینی اتھارٹی اسرائیل سے اس کی باضابطہ درخواست کرے گی ۔ (اوسلو معاہدہ فلسطین کے بنیادی اور حساس ترین مطالبات پر بالکل خاموش ہے)معاہدے میں فلسطینیوں کے مستقبل کا کوئی ذکر نہیں ہے ۔نہ ان کے الگ خود مختاروطن کا تذکرہ ہے۔متنازع مغربی کنارے پر کس کا حق ہے اس کا معاہدے میں کوئی ذکر نہیں ہے اور نہ ہی غزہ کے مقبوضہ جات کے بارے میں صراحت کی گئی ہے کہ یہ متنازع علاقہ ہے۔ اوسلو معاہدے میں چونکہ اسرائیل کے عرب نمائندوں سے (پہلی مرتبہ) برائے راست مذاکرات ہوئے تھے اس لیے اس معاہدے کے بعد ہر عربی حکومت نے اس میں اپنی سلامتی دیکھی کہ وہ دوسری حکومت سے پہلے اسرائیل سے مذاکرات کرلے۔ اسرائیل نے ہر ایک حکومت سے اس کے ضعف کے بقدر مطالبات منوائے؛ اپنی مصنوعات کو فروغ دیا اقتصادی معاہدے کیے اور اسلامی تحریکوں اور قوم پرست تحریکوں کے خلاف مزید قانون سازی کرائی ۔ (30) تحریک انتفاضہ کا مبارک ظہور 29 ستمبر 2000 میں تحریک انتفاضہ نے ایک مرتبہ پھر اس بات کو ثابت کیا کہ فلسطین پر فلسطینیوں کا حق ہے۔ تحریک انتقاضہ بہت جلد نہ صرف فلسطینی عوام کی ہر دل عزیز تحریک بن گئی بلکہ عرب ممالک (کے عوام اور اسلامی اہم شخصیات اور تنظیموں) اور دوسرے اسلامی ملکوں میں انتقاضہ کو بہت زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی۔ تحریک انتفاضہ کے سرگرم عمل ہونے سے فلسطینی فراموش شدہ مسئلہ دوبارہ زندہ ہو گیا۔ انتفاضہ نے اصل صہیونی عزائم سے پردہ ہٹا یا اور صہیونی ریاست کی طرف سے امن کی اپیل کا پول کھولا۔ تحریک انتفاضہ نے اسرائیل کے ساتھ ہونے والے معاہدوں میں جس دجل اور فریب سے کام لیا گیا تھا اسے نمایاں کیا اور ثابت کیا کہ ان معاہدوں میں فلسطینیوں کے جائز حقوق سلب کیے گئے ہیں ۔ تحریک انتفاضہ کے سرگرم ہوتے ہی فلسطینی عوام پر اسرائیلی غنڈہ گردی کا سیلاب آگیا۔ فلسطینی نوجوانوں سے جیلیں بھر گئیں اور حق دفاع کو بنیاد بنا کر اسرائیل نے فلسطین کی بیشتر اراضی پر قبضہ کرلیا ۔ صرف پانچ ہی برسوں میں فلسطینی شہداء کی تعداد 4160 تک پہنچ گئی جبکہ 45 ہزار فلسطینی اسرائیلی بمباری سے زخمی ہو ئے ۔ برسر روزگار فلسطینیوں میں سے 57 فیصد بے روزگار کر دیئے گئے۔ اسرائیل کے اس شدید ظلم کے باوجود تحریک انتفاضہ جہاد اور شجاعت اور شہادتوں سے تحریک کو لازوال کرتی چلی جارہی ہے ۔ تحریک انتفاضہ کو فلسطین کی سبھی تنظیموں کی حمایت حاصل ہے۔ فلسطین کی طویل مزاحمت کی تاریخ میں پہلی مرتبہ انتفاضہ کی شکل میں صہیونی ریاست کو ایک متحدہ قوت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔انتفاضہ کی جہادی اور استشہادی کارروائیوں سے 1060 صہیونی ہلاک ہوئے ہیں 6250 سے زیادہ صہیونی زخمی ہوئے ہیں۔ صہیونی ریاست پر امن معاہدوں سے ہی فلسطینی اراضی اور ان کے حقوق کی مالک بنتی جارہی تھی انتفاضہ نے جہاد کاباب کھول کر مذاکرات کے ذریعے فلسطینیوں کی فروخت کا سلسلہ کاٹ کررکھ دیا ہے۔ صہیونی ریاست عربوں کے ساتھ بلا واسطہ مذاکرات کے بعد تجارتی لین دین کے منصوبے بنارہی تھی۔ انتفاضہ کے جہاد سے اب اسے پہلے اپنی حفاظت کرنا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کی معاشی ترقی کا خواب ادھورا رہ گیا ہے۔ اقتصادی طور پر اسرائیل کا سخت نقصان ہورہا ہے۔ سیاحت سے جو آمدن ہوتی تھی وہ ختم ہو گئی ہے ۔ انتفاضہ کے بعد بہت سے یہودیوں نے خوف کے مارے اسرائیل سے نقل مکانی کی ہے۔ اسرائیل کی سیادت دوستونوں پر قائم تھی اسرائیل ( معاہدوں کے ذریعے فلسطینی حملہ آوروں سے ) محفوظ ہو اور دوسرا اسرائیل اپنی مصنوعات کو ترقی دے کر اقتصادی اجارہ داری قائم کرے۔ الحمد للہ تحریک انتفاضہ نے اسرائیلی سیادت کے دونوں ستون ہلا کر رکھ دیئے ہیں ۔ انتفاضہ کی قوت سے اسرائیل مجبور ہو گیا کہ وہ غزہ کے مقبوضہ جات سے نکل جائے ۔ یہاں یہودی آباد کاری کا منصوبہ ناکام ہو گیا ہے۔ (جاری ھے) |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا | shafresha (22-03-11), عارف اقبال (01-04-11) |
|
|
#5 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,500
کمائي: 118,596
شکریہ: 13,502
4,906 مراسلہ میں 16,695 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
(31) فلسطین کے نصاریٰ کا موقف فلسطین میں عیسائی آبادی بھی پائی جاتی ہے۔ مسلمانوں کی طرح وہ بھی صہیونی ظلم کا شکار ہیں۔ برطانیہ کے انتداب سے لے کر اب تک وہ آزادی وطن کی تحریک میں مسلمان فلسطینیوں کے ساتھ برابر کے شریک رہے ہیں اور انہوں نے اس مسئلہ میں مسلمانوں کے ساتھ مثالی اتحاد کر رکھا ہے۔ وہ فلسطین کی پر انی تہذیب و ثقافت اور زبان ( عربی ) کا اسی طرح دفاع کر رہے ہیں جیسے عام فلسطینی کرتا ہے؛ تقریر سے تحریر سے اور تلوار سے۔ (32) تحریک مزاحمت کے متفقہ اصول اپنے خطے سے محبت اور اس کا دفاع کرنا اپنے مذہب کے مقدس مقامات کا احترام اور دفاع کرنا دین اسلام کے واجبات میں سے ایک اہم واجب ہے۔ اسلام کے علاوہ انسانیت بھی اس اصول کو تسلیم کرتی ہے۔ اپنے ہم وطن لوگوں سے ناطے داری ہونا ان سے محبت کرنا اور ان کیلئے اچھے جذبات رکھنا ایک فطری جذبہ ہے سوائے اس کے کہ اس سے کوئی ایسی چیز حلال نہ ہوجائے جو اللہ نے حرام ٹھہرائی ہے۔ اس دائرے میں رہتے ہوئے وطن اور اہل وطن سے محبت ایک فطری اور جائز جذبہ ہے۔ بنا بریں اس فطری جذبے کی وجہ سے مسئلہ فلسطین کے بنیادی عناصر خواہ وطن کی محبت نے انہیں ابھارا ہو یا عربی جذبے نے مہمیز دی ہو یا اسلامی جذبہ کار فرما ہو سب ایک دوسرے کو مکمل کرنے والے ہونے چاہئیں نہ کہ ایک دوسرے کے بر خلاف ۔ اسلامی معاشرے سے ضعف کے اسباب دور کرنا ہوں یا اسلامی ریاست کی بنیاد رکھنا ہو یا تمدن یا ثقافتی ترقی حاصل کرنا ہو یا عرب مسلمانوں کے اتحاد کی تحریک ہو یا فلسطین کی آزادی کا مسئلہ ہو ان میں سے کوئی عمل ایسا نہیں جو دوسرے عمل کے مخالف ہو بلکہ یہ سب ہی ایک دوسرے کو مکمل کرتے ہیں اور یہ بالکل ممکن ہے کہ سب عناصر ایک ساتھ عمل کی تکمیل کا حصہ بنیں ۔ (33) امن قائم کرنا اسلام کی غایت ہے دین اسلام سلامتی والا دین ہے۔ اللہ خود السلام ہے اور مسلمان ملتے ہوئے ملاقاتی کلمات میں سلام کہتے ہیں۔ جنت کا ایک نام دار السلام ہے۔ اسلام میں دوسری قوموں سے تعلقات کے لئے جو تعلیمات ہیں ان کا دائرہ کافی وسیع ہے جس میں دوسروں سے تعلقات پیدا کیے جاتے ہیں پر امن بقاء باہمی کا اصول بھی اسلام میں موجود ہے اور باہمی معاملات کرتے ہوئے اسلام نے اس اصول کی ترغیب دی ہے کہ احسن طریقے سے معاملے حل کیے جائیں ۔ اسلام کا متضاد دہشت گردی ہے یا جن نفوس کی اسلام میں حرمت ہے انہیں قتل کرنا بھی لفظ اسلام کا متضاد ہے۔ علاوہ ازیں اسلام دین حق بھی ہے اور سراسر عدل پر مبنی دین بھی ( جس میں خدا کی بندگی کا عہد کرلینے کے بعد ) انسان تمام بندھنوں سے آزا د ہو جاتا ہے اس لیے یہ دین دین حریت بھی ہے۔ بنا بریں اس دین حریت کے پیرو کار اپنے اوپر ظلم برداشت نہیں کرتے اور چونکہ یہ دین دین عدل بھی ہے اس لیے اسلام کے پیرو کار کسی پر ظلم بھی نہیں کرتے ہیں ۔ اس دین میں ذلت کی زندگی رسوائی اور ناموشی ہے۔ اپنے دین؛ عزت و ناموس؛ مقدسات اور اراضی پر وہ اپنی اعلیٰ سے اعلیٰ شے بخوشی قربان کر دیتے ہیں ۔ فلسطین میں اس وقت تک سلامتی نہیں آ سکتی جب تک اہل فلسطین پر ظالمانہ معاہدے ٹھونسے جاتے رہیں گے۔ ان کے حقوق سلب ہوتے رہیں اور اس کے اصل باشندے مہاجرت کی زندگی گزار یں ایسے ظالمانہ معاہدوں کو برابری پر قائم معاہدوں کا نعم البدل کہہ کر وقتی سیاسی مقاصد تو حاصل کیے جاسکتے ہیں اس لیے کہ وہاں کے شہریوں کو کمزور ار ضعیف سمجھ لیا گیا ہے لیکن ایسے معاہدوں سے فلسطین میں مستقل امن کا خواب پورا نہیں ہوسکتا۔ آزادی فلسطین کا جہاد فرض ہی رہے گا اور اس کے شہریوں کیلئے ایک اعزاز اور آبرو مندی کی علامت ‘ صہیونی اور مغربی اصلاحات سے اس مزاحمت میں کوئی فرق نہیں آئے گا خواہ کوئی مغربی میڈیا کی ہاں میں ہاں ملا کر جہاد فلسطین کو دہشت گردی ہی کیوں نہ کہے اور اگر فلسطینی اپنے حقوق سے دست بردار ہو کر مزاحمت چھوڑ دیں تو اسے امن کہے۔ میڈیا حقوق کی جنگ کو دہشت گردی اور مظلوم کے ترک مزاحمت کو امن کہتا ہے۔ (34) اسلام میں جہاد کے اصول مسلمان یہودیوں کے خلاف جہاد اس لیے نہیں کرتے کہ کوئی شخص یہودی ہے۔ اسلام میں اہل کتاب اور اہل ذمہ ( یہود و نصاری جو اسلامی ریاست میں ایک سالانہ مقرر شدہ رقم کی ادائیگی کے عوض اسلامی قلمرو میں رہنے کا معاہدہ کریں۔ اہل ذمہ فوجی خدمات سے مستثنیٰ ہوتے ہیں ) کے ساتھ سیاسی تعلقات کی تعلیمات موجود ہیں۔ اسلام اہل کتاب اور اہل ذمہ سے عدل و احسان کرنے کا حکم دیتا ہے۔ انہیں ( اپنے علاقے میں ) مذہبی عبادات اور رسومات ادا کرنے کی مکمل آزادی ہوتی ہے۔ اور عہد معاہدہ کرنے کے بعد انہیں ویسے ہی شہری حقوق حاصل ہوجاتے ہیں جیسے مسلم شہریوں کو حاصل ہو تے ہیں جن کا ذکر اسلام میں کر دیا گیا ہے ۔ جہاں تک ’ مسئلہ یہود ‘ اور’ سامی نفرت ‘ کا تعلق ہے تو اسلام اپنی طویل تاریخ میں ایسی اصطلاحات سے ناواقف رہا ہے۔ کسی خاص نسل سے نفرت اور کسی قوم کا قتل عام یورپ کی سوغات ہے ۔ یہودی اسلامی عملداری والے علاقوں میں صدیوں رہے ہیں لیکن وہاں انہیں ایسی کوئی’ مشکلات‘ پیش نہیں آئیں جو انہیں یورپ میں رہتے ہوئے پیش آئی ہیں۔ بنا بریں اسلامی تعلیمات میں یہ کوئی اصول نہیں کہ کسی یہودی کو صرف یہودی ہونے کی وجہ سے برداشت نہ کیا جائے۔ مسلمانوں کا جہاد صہیونیوں کے خلاف ہے جو ایک متعصب نسل پرست تشدد پسند تحریک ہے اور جس نے مسلم خطوں پر غاصبانہ قبضہ کررکھا ہے جنہوں نے وہاں کے اصل باشندوں کو مہاجرت پر مجبور کیا انہیں بے وطن کیا اور مسلمانوں کے مقدس مقامات کی اہانت کی۔ جان لیجیے کہ مسلمان ہر اس قوم کے خلاف علم جہاد بلند کرتے رہیں گے جو ان کی اراضی پر قابض ہوتا ہے خواہ اس کا کوئی مذہب ہو یا کوئی نسل ۔ (35) امت صرف اسلام کے اصول اور مبادیات پر متفق ہو سکتی ہے فلسطین کی آزادی اور صہیونیوں کی قوت منتشر کرنے کیلئے ہمیں اسلام کے اصولوں پر چلنا ہو گا۔ اللہ تعالیٰ اپنے سچے بندوں کی نصرت کا خو د ذمہ اٹھا لیا کرتا ہے۔ علاوہ ازیں پوری امت مسلمہ کا عقیدہ بھی اسلام ہے جو اس تحریک میں فلسطین کے ساتھ کھڑی ہو گی۔ اور اس لیے بھی کہ اسلام سراسر بھلائی اور فلاح کا دین ہے۔ اسلام میں یہ کشش ہے کہ وہ مسلمانوں کو متحد کرتا ہے اور ان کی طاقت کو یکجا کرسکتا ہے۔ فلسطین کی تاریخ بھی اس بات پر گواہ ہے کہ اسلام کی وجہ سے اسے پہلے بھی آزادی نصیب ہوئی ہے جیسے تا تاریوں کا قبضہ اور پھر فرانس کے قبضے سے آزادی پانے کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے۔ جہاں تک اسلام کے علاوہ دوسرے نظریات کو بنیاد بنانے کا سوال ہے (جیسے وطن پرست تحریکیں یا قوم پرست تحریکیں یا اشترا کی تحریکیں) تو ماضی قریب کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ اسلام کے علاوہ دوسرے نظریات ناکام ہی ہوئے ہیں ۔ (36) مسئلہ فلسطین کا اسلامی حل اسلامی نقطہ نظر سے فلسطین کی آزادی کی تحریک کے نکات درج ذیل ہوسکتے ہیں ۔ (الف ) اسلام ہی کو اپنا عقیدہ اور منہح حیات بنا یا جائے ۔اپنی زندگی کو اسلامی اخلاقیات اور اسلامی قدروں کے مطابق ڈھالا جائے ۔ اپنے باہمی معاملات اللہ کی شریعت کے مطابق طے کیے جائیں۔ ( ب ) تحریک آزادی فلسطین کی قیادت اسلامی ہو جو معاملات سے نبرد آزما ہونے کی پوری صلاحیت رکھتی ہو جو پختہ ارادے اور نیت صادقہ کے ساتھ صہیونی عزائم کا توڑ کرنا جانتی ہو ۔ ( ج ) صہیونیت کے خلاف تحریک کا دائرہ صرف فلسطین تک محدود نہ رہنے دیا جائے بلکہ پورے عالم اسلام میں صہیونی عزائم کو نمایاں کرنے کے بعد امت کو اپنی پشت پر لایا جائے۔ اسے صرف فلسطینی مسئلہ یا عرب اسرائیل مسئلہ تک محدود نہ رکھا جائے کیونکہ ارض فلسطین کی آزادی تمام مسلمانوں پر فرض عین ہے اس لیے کہ صہیونی منصوبے صرف فلسطین کی سر زمین تک محدود نہیں ہیں بلکہ پوری دنیا میں صہیونی اپنے منصوبے بنا رہے ہیں لہٰذا یہ مسئلہ علاقائی نہیں بین الاقوامی ہے ۔ ایک بین الاقوامی عدو سے بین الاقوامی سطح پر ہی نبٹا جاسکتا ہے ۔ ( د) تحریک آزادی فلسطین کی ہر سطح پر مدد کرنا ۔فلسطین ارض رباط ہے (مسلم علاقوں کا وہ مقام جہاں سے عدو در اندازی کرسکے اور جہاں کے باشندوں کو ہر وقت چوکنا رہنا پڑتا ہو۔ ایسے مقام سے اگر ایک دفعہ دشمن اسلامی قلمرو میں گھس آئے تو پھر اس کا دوسرے علاقوں میں گھسنا آسان ہو جاتا ہے۔ ارض رباط میں رہنے والے مسلمانوں کو اسلام میں خصوصی مراعات دی جاتی ہیں) ( ھ ) تمام مسلم خطوں میں سیاسی ‘ اقتصادی اور ٹیکنالوجی کے لحاظ سے اعلیٰ صلاحیتیں اور استعداد کارپیدا کرنا ۔ مسلم امہ کو ایک طویل جنگ کیلئے اپنے ہی پیدا کردہ وسائل پر انحصار کرنا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے مسلم ہستی کو زمین کی نیابت سونپی ہے۔ موجودہ دور میں یہ ایک نہایت کٹھن کام ہے۔ اس ذمہ داری کو اٹھانے کیلئے مسلم امہ کو اپنے اندر بہت ساری لیاقتیں اور صلاحیتیں پیدا کرنا ہیں۔ صرف فلسطین کی آزادی کا ایک مسئلہ امت کو درپیش نہیں ہے بلکہ ہمارے بہت سے مقبوضہ جات آزاد ہو نا ہیں ۔ (37) مسئلہ فلسطین انسانی المیہ مسئلہ فلسطین صرف سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ یہ انسانوں کو پیش آنے والے بہت سے مسائل سے عبارت ہے۔ صبح و شام حقوق انسانی کا واویلا کرنے والوں کے سامنے لاکھوں مظلوموں کی آہ و بکاء ان کی جانبداری کے نفاق کا پردہ چاک کررہی ہے۔ نیو ورلڈ آرڈر کا ننگ چھپائے نہیں چھپ رہا۔ ترقی یافتہ ممالک کے سامنے جہاں حیوان و بہائم کے حقوق کی بات ہوتی ہے وہاں پچھلی نصف صدی سے ساٹھ لاکھ سے زائد انسانوں کا سوال ہے جن سے ان کا وطن بزور چھین لیا گیا ہے۔ جن کی خیمہ بستیوں میں بھوک ہی بھوک ‘ افلاس ‘ امراض اور ناخواندگی ہے ۔وہ بے گھر انسان جن کی جھونپڑیوں کو جلا کر ان پر یہودیوں نے بلند و بالا عمارتیں کھڑی کر لی ہیں؛ ایک ایسے دعوے کو بنیاد بنا کر جو سفید جھوٹ ہے۔ ایک ایسا دعویٰ جس کی نہ تاریخی حقیقت ہے نہ کوئی دینی ( توراتی ) شہادت ہے اور نہ ہی بین الاقوامی قوانین میں اس کی اجازت ہے ۔ فلسطین میں صہیونی ریاست مغربی استعمار کی باقی ماندہ بدنما شکل کی صورت میں باقی ہے۔ دوسروے خطوں سے تو استعمار کو نکلنا پڑا اب اسے ارض رباط سے بھی نکلنا ہے؛ آج یا کل ! چاہیئے کہ اس انسانی المیے کو حل کرنے کیلئے پوری انسانیت کھڑی ہو جائے ۔ (3 عمرانی صداقتیںدنیا میں صہیونی قوت ایک مسلمہ حقیقت ہے ۔ بین الاقوامی مالیاتی امور ہوں یا سیاسی ہیر پھیر ہوں یا پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا ہو ہر جگہ پس پردہ صہیونی منصوبہ کار فرما ہے ۔ امریکہ میں صہیونی اثر و نفوذ سے کوئی بھی انکار نہیں کرتا ۔ ہم کسی ’ سامی نفرت ‘ کی وجہ سے یہ بات نہیں کر رہے ہیں اور نہ ہی ہمیں کسی خاص نسل سے بیر ہے ۔ اگر کوئی قوم ترقی پا کر اپنی صلاحیتوں کا لوہا دوسروں سے منوا لیتی ہے تو یہ قابل ستائش کام ہے نہ کہ قابل مذمت شرط یہ ہے کہ وہ انسانی فلاح کیلئے استعمال ہو۔ قوت حاصل ہونے پر ظلم اور فساد پھیلا نا ‘ دوسروں کے حقوق سلب کرنا قابل تحسین نہیں کہلا سکتا۔ بلاشبہ صہیونی آج قوت میں ہیں لیکن یہ تفوق نا قابل تسخیر نہیں ہے۔ یہ خیال غلط ہو گا کہ دنیا کے ہر چھوٹے بڑے واقعے کے پیچھے صہیونی ہوں گے۔ صہیونی قوت خدا کی قوت پر غالب نہیں ہے اور نہ ہی وہ بشریت کی سرحدوں سے آگے نہیں نکل گئے ہیں۔ خدا کی پیدا کردہ مخلوق ہیں اپنے تئیں پیدا نہیں ہوئے۔ قوموں کے عروج و زوال کی کچھ خدائی سنتیں ہیں جیسے دوسری قوموں پر زوال کے دن آتے ہیں اسی طرح صہیونی بھی ہمیشہ طاقت ور نہیں رہیں گے۔ ہمیں اعتراف ہے کہ ترقی کی منازل بغیر محنت و مشقت اور اعلیٰ تنظیم کے حاصل نہیں ہوا کرتیں لیکن ہمیں ان اسباب کو بھی سامنے رکھنا ہے جو زوال لایا کرتے ہیں۔ دنیا کی طویل تاریخ میں پہلے بھی اس قوم کو ترقی حاصل ہوئی تھی لیکن ان پر زوال کوئی ایک مرتبہ نہیں آیا ۔ صہیونی آج قوت میں ہیں تو اس میں امت مسلمہ کیلئے نصیحت ہے۔ ایک زمانے میں یہودی دنیا کی حقیر ترین قوموں میں شمار ہوتے تھے۔ مسلمان بھی اپنے اندر وہ صلاحیتیں پیدا کرسکتے ہیں جو دنیا کی نیابت کے لئے ضروری ہوا کرتی ہیں ۔ (39) تیسری عالمی جنگ کا خطرہ اسرائیل کی ہوشربا فوجی قوت اقوام عالم کے امن کے لئے ایک مستقل خطرہ ہے ۔اسرائیل کے پاس وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار میں جن میں 200 ایٹم بم بھی شامل ہیں۔ اسرائیل کی تیز رفتار فوج کی استعداد خطرناک حد تک زیادہ ہے۔ اسرائیل محض بہتر گھنٹوں میں سات لاکھ فوج ایک جگہ سے دوسرے جگہ منتقل کر سکتا ہے۔ عالم اسلام کے قلب میں ایسی خطر ناک فوج بین الاقوامی امن کیلئے ایک مستقل خطرہ ہے جہاں کسی وقت بھی ایک خطرناک جنگ بھڑک سکتی ہے جو تیسری عالمی جنگ کی صورت اختیار کر سکتی ہے ۔ آج نہیں تو کل مسلمان ایک بڑی فوجی قوت بننے والے ہیں یہ بات بعید نہیں کہ اسرائیل کی وجہ سے مسلمان بھی وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار حاصل کرلیں۔ مسلمان اپنی ایک انچ زمین سے بھی دست بردار ہونے کے نہیں۔ حالت ضعف میں کبھی مسلمان نچلے نہیں بیٹھے اب جبکہ وہ دن دور نہیں جب مسلمان ایک بڑی قوت ہوں گے اگر اسرائیل کے وجود کو عالم اسلام کے قلب سے ختم نہیں کیا جاتا تو مسلمان اپنی وحدت کو پارہ پارہ کرنے والے عدو کو نکال کر دم لیں گے۔ اس سے پہلے استعمار کو بھی عالم اسلام سے نکلنا پڑا تھا۔ استعماری طاقتیں بھی بڑی قوت ہوا کرتی تھیں۔ ایک خطر ناک بین الاقوامی جنگ سے بچاؤ کی یہی صورت ہے کہ عالمی طاقتیں اپنا اثرو نفوذ استعمال کرتے ہوئے صہیونی ریاست کو مسلم اراضی سے بے دخل کر دیں ۔ (40) صیہونی ریاست کا زوال فلسطین میں صہیونی منصوبوں کا ناکام ہو جانا نہ صرف ممکن ہے بلکہ ایک واقعاتی حقیقت ہے۔ صہیونی ریاست کا زوال ایک ربانی فیصلہ ہے۔ قرآن مجید جس میں باطل کی آمیزش کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اللہ تعالیٰ یہودی زوال کی بشارت دیتا ہے۔ اس کا آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم جس کی زبان سے نکلا ہوا ایک ایک حرف خدا کی طرف سے ہوتا ہے وہ بھی یہودیوں کے زوال کی بشارت دے کر گیا ہے۔ پھر اس دھرتی پر خدا کی ربانی سنتیں اثر انداز ہوتی ہیں۔ انسانی تاریخ بھی ہمیں بتاتی ہیں کہ ظلم پر کوئی ریاست زیادہ عرصہ قائم نہیں رہ سکتی ۔ خدا کے نافرمانوں پر آفتیں آیا کرتی ہیں۔ خدا کی نگری میں ظلم نہیں رہنے دیا جاتا ! ایقاز (اختتام) |
|
|
|
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,851
کمائي: 278,040
شکریہ: 1,151
6,266 مراسلہ میں 14,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلامُ علیکم
محترم کنعان بھائی اس خوبصورت شیئرنگ کاشُکریہ جزاک اللہ خیر |
|
|
|
|
|
#11 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: KPK
عمر: 39
مراسلات: 81
کمائي: 1,604
شکریہ: 328
47 مراسلہ میں 111 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ماشاءاللہ، کیا اسکی پی ڈی ایف مل سکتی ہے۔ شکریہ ان ایڈوانس۔
|
|
|
|
|
|
#12 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,500
کمائي: 118,596
شکریہ: 13,502
4,906 مراسلہ میں 16,695 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, green, قصد, نفرت, مکمل, محبت, مسائل, مسجد, مسجد نبوی, انسان, اجنبی, اسلامی, خان, زمانہ, سفر, سال, شہر, عالم, عبادت, عظیم, غلامی, صیہونی, صالح, صدیوں, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| نشئی بیوروکریٹ نے پولیس کو جوتے مار کر ایس ایس پی سندھ بدر کرا دیا | جاویداسد | خبریں | 2 | 25-02-12 06:59 AM |
| حکومت نے ایس ایم ایس پر بیس پیسے ٹیکس کا فیصلہ واپس لے لیا۔ | فرحان دانش | موبائلز معلومات اور جائزہ | 0 | 23-06-09 10:19 AM |
| ورڈپریس ڈاٹ کوم / ورڈپریس ڈاٹ آرجی / ورڈپریس ڈاٹ پی کے ؟ ان تینوں میں کیافرق ہے | عبیداللہ عبید | اردو پریس (http://wordpress.pk) | 10 | 14-06-09 07:44 PM |
| پبلک سروس کمیشن میں میرٹ کا قتل :سی ایس ایس امتحانات میں 12ویں پوزیشن لینے والا ایماندار افسر برطرف | شیخ ہمدان | خبریں | 10 | 03-04-09 03:20 AM |
| راشد رؤف فرارکیس میں ملوث پولیس اہلکاروں کے جسمانی ریمانڈ میں2 روز کی توسیع | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 25-12-07 01:43 PM |