واپس چلیں   پاکستان کی آواز > میرے پاکستان سے > تاریخ پاکستان > تاریخ کا آئینہ




میرا ملتان تاریخ کے آئینے میں!

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات درجہ بندی: موضوع  کی درجہ بندی:  1 ووٹ 5.00 اوسط ظاہری انداز
پرانا 08-12-10, 10:52 PM   #1
میرا ملتان تاریخ کے آئینے میں!
بلال اویسی بلال اویسی آف لائن ہے 08-12-10, 10:52 PM
درجہ بندی: (1 votes - 5.00 average)

دنیاکی قدیم ترین تہذیبیں دریاوں کی وادیوں میں‌پیدا ہوئیں اور وہیں پروان چڑھیں۔ نیل،دجلہ،فرات اور دریائے سندھ کی تہذیبیں دریاوں کی ہی تہذیبیں تھیں۔ دریائے سندھ کی وسیع و عریض وادی کے علاقوں میں ملتان شہر اور اس کا نواحی علاقہ بھی شامل ہے۔

ملتان جنوبی پنجاب کا سب سے بڑا، پنجاب کا تیسرااور پاکستان کا پانچواں بڑا شہر ہے ملتان قومی شاہراہ پر واقع ہے اور قدیم تاریخی شہروں میں سے ہے۔ ماضی بعید میں یہ کتنا قدیم و عظیم تھا اس کا اندازہ مندرجہ ذیل تاریخی شواہد سے باآسانی لگایا جاسکتا ہے۔


ہبوط آدم:۔

اسلامی نقطہ نظرسے دنیا کا پہلا انسان حضرت آدم علیہ السلام کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ ان کا ہبوط باتفاق مورخین جزیرہ سراندیپ یعنی""سری لنکا"" پر ہوا۔ جس کی توثیق امیرالمومنین حضرت علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجھہ الکریم اور الامام محمد بن علی باقر، الامام جعفر الصادق کی روایات سے ہوتی ہے۔ جن کو ابن الفقیہ الہمدانی متوفی بعد 279ھ نے ان الفاظ میں نقل کیا ہے کہ

وفی الحدیث ان ادم اھبط بالھند علیٰ جبل سراندیپ و اھبطت حواء بجدۃ و ابلیس اللعین بمیسان والحیتہ باصفھان

ترجمعہ:۔ اور حدیث میں ہے کہ آدم ہند میں سراندیپ پہاڑ پر اتارے گئے اور حوا جدہ میں ابلیس لعین "میسان" میں اور سانپ اصفہان میں

یاد رہے کہ ملتان کا سب سے پہلا نام میسان ہی تھا۔
تاج الدین کی کتاب تاریخ پنجاب میں جو 1868ء میں لکھی گئی یہ روایت درج ہے کہ نوح علیہ السلام کے طوفان کے وقت ملتان آباد تھا۔
نامور مورخ البرونی اپنی کتاب " مالہند" کے صفحہ 155 پر لکھتا ہے کہ
" گیارویں صدی عیسوی میں میرے قیام ملتان کے دوران ملتان کے باشندے اسے دو لاکھ سولہ ہزار چارسو تیس سال پرانا بتاتے ہیں۔ "
اس کی تائید ان آثار قدیمہ سے ہوتی ہے جو ملتان اور اس کے مضافات میں پائے گئے ان کی رو سے ماہرین آثار قدیمہ نے اس کی عمر دولاکھ سال قیاس کی ہے۔
موجودہ تاریخیں اس کی قدامت اس حد تک تسلیم کرتی ہیں کہ دس ہذار سال قبل جب آرین وادی سندھ میں پہنچے توانہوں نے ملتان کو آباد کیا۔
ہندووں کی متبرک کتاب رگ وید علم انسانی کی سب سے پرانی کتاب ہے جو ملتان کے علاقہ کے دریاوں کے کنارے بیٹھ کر کئی صدیوں میں لکھی گئی۔ رگ وید کے اشلوک کا زمانہ مورخین نے چھ ہزار سال سے آٹھ ہزار سال قبل از مسیح تحقیق کیا ہے۔
سات دریاوں کی سرزمین نامی کتاب کے مصنف ابن حنیف ملتان کی قدامت پر روشنی ڈالتے ہوئے رقم طراز ہیں کہ
"اندرون فصیل ملتان کی گلیوں اور سڑکوں پر گزرتے وقت اکثر مجھے خیال آیا کرتا ہے کہ ان گلیوں کے نیچے ان سڑکوں کے نیچے گہرائیوں میں ہزاروں برس پہلے کا وہ ملتان سویا ہوا ہے جو صدیوں تک باربار اجڑتا اور آباد ہوتا رہا۔ جواب سے ساڑھے چار ہزار قبل بھی پاکستان بھرکے چند اہم ترین شہروں میں سے تھا بعض ٹھوس وجوہات منطقی نتائج اور بیشتر معقول قیاسات کی بنا پر کم از کم مجھے تو پختہ یقین ہے کہ دریا کے کنارے ملتان کے مقام پر پہلی بستی ساڑھے پانچ ہزار سال قبل کے لگ بھگ اس وقت بسائی گئی اور اس وقت آباد تھی جب پاکستان کے مختلف علاقوں میں جلیل پور، لیہ وہنی وال، رحمان ڈھیری، ہٹھالہ، گوملا، کوٹڈیجی، ہڑپ، موہنجوڈارو، وحب سادات، کلی گل محمد امری اور ایسی ان گنت دوسری چھوٹی چھوٹی بستیاں پہلے پہل آباد ہوئی تھیں اور بعد میں بھی آباد تھیں۔ یہ سب آبادیاں زراعت کاروں کی تھیں۔ اندرون فصیل ملتان شہر کی صورت حال ذہن میں رکھیں تو یہ حقیقت نکھر کر سامنے آئے گی کہ سارا شہر کافی اونچائی پر واقع ہے گلیوں اور بازاروں میں چلیں بھریں ‌توبے شمار نشیب و فراز سامنے آتے ہیں جس اونچائی پر ملتان کی آبادی ہے وہ قدرتی ہرگز ہرگز نہیں ہے بلکہہزار ہا برس کے مسلسل تعمیری اور تخریبی عمل کے نتیجے میں صورت پذیر ہوئی ہے۔ میں کہنا یہ چاہتا ہوں کہ گزشتہ پانچ ساڑھے پانچ برس کے دوران ملتان کتنی بار آباد ہوا اور برباد ہوا اور یہ تباہ کاریاں دریائی سیلابوں کی بھی لائی ہوئی ہوسکتی ہیں اور دیگر آفات سماوی کی نازل کردہ بھی۔ تباہی اور آبادی کے عمل مسلسل سے وہ بلندیاں وجود میں آئیں جن پر آج کا ملتان زندگی گزار رہا ہے۔ ملتان کی قدامت اور اہمیت کے سلسلے میں ایک بات زہن نشین رہنی چاہیئے اور وہ یہ کہ نہ صرف سکندر یونانی ""623 ق م "" بلکہ ہڑپائیدور 2500 ق م ۔ 1500 ق م میں بھی ملتان میں قلعہ اور فصیل موجود تھی۔ ہڑپائی دور میں بالفرض نہ سہی تو کم از کم سکندر کے زمانے میں عظیم الشان اور مضبوط و مستحکم قلعہ بہرحال موجود تھا۔ چنانچہ سوادوہزار سال قبل ملتان میں قلعے کی موجودگی سے باآسانی یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہاسے اتنا بڑا مرکزی اور اہم شہر بننے میں کتنا عرصہ صرف ہوا ہوگا کہ جہاں قلعہ بھی بن سکے ظاہر ہے یہ تدریجی ارتقاء چند برسوں میں تو ہونے سے رہا۔ ہزاروں سال لگے ہوں گے۔

ملتان کے قدیم نام:۔
میسان :
جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے کہ ملتان کا سب سے پہلا نام میسان تھا۔

کشپ پور:۔
ہندووں کی دیومالا کے مطابق اسے برہما کے لڑکے کشپ نے آباد کیا اور اس کا نام کشپ پور تجویز ہوا۔ کشپ ہندووں کے نزدیک 112دتیادی یا سورج دیوتاوں کا باپ تھا۔

پرہلاد پورہ:۔
کشپ کا سب سے چھوٹا لڑکا پرہلاد خدا کے وجود کا قائل تھا اور اس پاکیزہ عقیدہ کی وجہ سے اس کے عہد میں ملتان نے پرہلاد پورہ نام پایا۔

سنب پورہ:۔
پرہلاد کے پوتے بانا کے مخالف سنبہ نے اس کا نام سنب پورہ کردیا اور سورج کی پرستش کو دوبارہ رائج کرکے اسے بہت فروغ دیا۔ ایک خوبصورت بت سورج دیوتا کی یاد اور عبادت کیلئے بنایا جسے ادیتہ سنتھان نامی مندر میں رکھا۔

ہنس پور اور بھاگ پور:۔
یہ دو نام بھی سنسکرت کی پرانی کتابوں میں ملتان کیلئے ملتے ہیں۔

مول استھان:۔
آدیتہ دیوتا کے مندر کے اجراء کے بعد اس کا نام مول استھان پڑگیا۔ سنسکرت میں مولا کے معنی اصل کے ہیں اور استھان کے معنی جگہ کے ہیں۔ یعنی آدیتہ دیوتا کے مندر کی اصل جگہ۔

مالی استھان:۔
سکندراعظم کے حملہ کے وقت ملتان میں ہندووں کی ایک شاخ مالی آباد تھی اس نے اس کانام بدل کر مالی استھان رکھ دیاتھا۔

مولتان:۔
ایک روایت کے مطابق ادیتہ دیوتا کی نسبت سے مولتان نام پایا۔ یہ بت صدیوں تک قائم رہا اور ان طلائی تحائف کی وجہ سے جو اس بت پرچڑھائے جاتے تھے ملتان کو عرب سیاحوں نے بیت الزہب کانام دے رکھا تھا انگریزوں کے قبضے کے وقت بھی ملتان کان نام مولتان ہی تھا۔

ملتانِ:۔
مولتان کو مزید آسان اور کم وزن بنانے کیلئے کسی دانشور نے صرف واو نکال کر سیدھا ملتان بنادیا۔ یہ کب ہوا اس کی کوئی حتمی تاریخ نہیں معلوم ہوسکی۔ تاہم 1897 ء تک مولتان ہی استعمال ہوتا تھا۔


تاریخ ملتان از منشی عبدالرحمان خان
__________________
اور ہم نے کوئی رسول نہ بھیجا مگر اس لئے کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اے محبوب! تمہارے حضور حاضر ہوں اور پھر اللہ سے معافی چاہیں اور رسول ان کی شفاعت فرمائے تو ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں۔النساء:64
ترجمعہ:امام احمدرضابریلوی

Last edited by بلال اویسی; 08-12-10 at 11:09 PM..

 
بلال اویسی's Avatar
بلال اویسی
Senior Member
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مقام: Multan, Pakistan
مراسلات: 657
شکریہ: 1,422
601 مراسلہ میں 1,906 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 414
Reply With Quote
10 قاری/قارئین نے بلال اویسی کا شکریہ ادا کیا
shafresha (09-12-10), فیصل ناصر (09-12-10), پاکستانی (08-12-10), ھارون اعظم (08-12-10), نیلم خان (09-12-10), مرزا عامر (08-12-10), معظم (08-12-10), آبی ٹوکول (09-12-10), اویسی (11-12-10), حیدر (08-12-10)
پرانا 08-12-10, 11:11 PM   #2
ذیلی ناظم
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,248
کمائي: 121,392
شکریہ: 15,089
4,228 مراسلہ میں 12,902 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ماشاء اللٰہ ملتان کے بارے میں اچھی معلومات ہیں۔ بلال بھائی، ملتان میں‌ اولیاء کرام کی آمد کے بارے میں بھی کچھ شئیر کیجئے۔
__________________


http:// haroonazam.wordpress.com

ھارون اعظم کا بلاگ۔
ھارون اعظم آن لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا
shafresha (09-12-10), فیصل ناصر (09-12-10), نیلم خان (09-12-10), آبی ٹوکول (09-12-10), بلال اویسی (09-12-10), حیدر (08-12-10)
پرانا 08-12-10, 11:20 PM   #3
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,368
کمائي: 95,550
شکریہ: 52,468
11,159 مراسلہ میں 35,214 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اچھی محققانہ شییرنگ ہے۔ اُمید ہے ملتان کی جدید تاریخ پر بھی روشنی ڈالیں گے۔ انشا اللہ
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (09-12-10), فیصل ناصر (09-12-10), نیلم خان (09-12-10), بلال اویسی (09-12-10)
پرانا 08-12-10, 11:29 PM   #4
ذیلی ناظم
 
یاسر عمران مرزا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: جدہ-سعودی عرب
مراسلات: 5,641
کمائي: 86,349
شکریہ: 9,614
4,226 مراسلہ میں 12,046 بارشکریہ ادا کیا گیا
یاسر عمران مرزا کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اچھی معلومات شئر کرنے کے لیے شکریہ بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یاسر عمران مرزا آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے یاسر عمران مرزا کا شکریہ ادا کیا
shafresha (09-12-10), فیصل ناصر (09-12-10), نیلم خان (09-12-10), بلال اویسی (09-12-10), حیدر (09-12-10)
پرانا 09-12-10, 12:12 AM   #5
ذیلی ناظم
 
نیلم خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,904
کمائي: 560,445
شکریہ: 25,573
10,399 مراسلہ میں 38,462 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

معلومات میں اضافہ کرنے کا بہت بہت شکریہ اور اچھی شئیرنگ پر دلی مبارکباد قبول فرمائیں
نیلم خان آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے نیلم خان کا شکریہ ادا کیا
shafresha (09-12-10), فیصل ناصر (09-12-10), بلال اویسی (09-12-10), حیدر (09-12-10)
پرانا 09-12-10, 01:52 AM   #6
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,169
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اس کی تائید ان آثار قدیمہ سے ہوتی ہے جو ملتان اور اس کے مضافات میں پائے گئے ان کی رو سے ماہرین آثار قدیمہ نے اس کی عمر دولاکھ سال قیاس کی ہے۔
اسی فورم میں کہیں پڑھا تھا انسانی تاریخ 6000 سال سے زیادہ قدیم نہیں
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (09-12-10), بلال اویسی (09-12-10), حیدر (09-12-10)
پرانا 09-12-10, 09:21 AM   #7
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,368
کمائي: 95,550
شکریہ: 52,468
11,159 مراسلہ میں 35,214 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جبکہ میں نے حضرت آدم علیہ السلام کی آمد کے بارے میں کہیں تحقیق پڑھی تھی کہ زیادہ سے زیادہ تیس ہزار سال پرانی تاریخ ہے۔ واللہ عالم
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (09-12-10), بلال اویسی (09-12-10)
پرانا 09-12-10, 09:25 AM   #8
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,368
کمائي: 95,550
شکریہ: 52,468
11,159 مراسلہ میں 35,214 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
ہندووں کی متبرک کتاب رگ وید علم انسانی کی سب سے پرانی کتاب ہے جو ملتان کے علاقہ کے دریاوں کے کنارے بیٹھ کر کئی صدیوں میں لکھی گئی۔ رگ وید کے اشلوک کا زمانہ مورخین نے چھ ہزار سال سے آٹھ ہزار سال قبل از مسیح تحقیق کیا ہے۔
اگر دو ہزار سال بعد از مسیح کے لگائیں۔ اور آٹھ ہزار سال قبل از مسیح کے۔ تو یہ کل بنے دس ہزار سال۔ کم و بیش اتنا ہی عرصہ مزید عطا کر دیں تو بھی تاریخ بیس ہزار سال کی ہی بنتی ہے
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (09-12-10), فیصل ناصر (09-12-10), بلال اویسی (09-12-10)
پرانا 09-12-10, 02:17 PM   #9
Senior Member
 
بلال اویسی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مقام: Multan, Pakistan
مراسلات: 657
کمائي: 18,048
شکریہ: 1,422
601 مراسلہ میں 1,906 بارشکریہ ادا کیا گیا
بلال اویسی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

تمام صاحبان کا پسند کرنے کا بہت بہت شکریہ انشاء اللہ مزید بھی ملتان کے بارے میں پیش کرنے کی کوشش جاری رہے گی۔ حسابات کے جوابات دینے کی بھی کوشش ہوگی۔ شکریہ
بلال اویسی آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے بلال اویسی کا شکریہ ادا کیا
shafresha (09-12-10), فیصل ناصر (09-12-10), حیدر (09-12-10)
پرانا 09-12-10, 09:54 PM   #10
Senior Member
 
بلال اویسی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مقام: Multan, Pakistan
مراسلات: 657
کمائي: 18,048
شکریہ: 1,422
601 مراسلہ میں 1,906 بارشکریہ ادا کیا گیا
بلال اویسی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ھارون اعظم مراسلہ دیکھیں
ماشاء اللٰہ ملتان کے بارے میں اچھی معلومات ہیں۔ بلال بھائی، ملتان میں‌ اولیاء کرام کی آمد کے بارے میں بھی کچھ شئیر کیجئے۔
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : بدرالزمان مراسلہ دیکھیں
اچھی محققانہ شییرنگ ہے۔ اُمید ہے ملتان کی جدید تاریخ پر بھی روشنی ڈالیں گے۔ انشا اللہ
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : یاسر عمران مرزا مراسلہ دیکھیں
اچھی معلومات شئر کرنے کے لیے شکریہ بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : نیلم خان مراسلہ دیکھیں
معلومات میں اضافہ کرنے کا بہت بہت شکریہ اور اچھی شئیرنگ پر دلی مبارکباد قبول فرمائیں
سب سے پہلے میں نیلم بہن۔ یاسر بھائی ،بدر بھائی اور ہارون اعظم بھائی کا مشکور ہوں۔ شکریہ
بلال اویسی آف لائن ہے   Reply With Quote
بلال اویسی کا شکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم (09-12-10)
پرانا 09-12-10, 10:08 PM   #11
Senior Member
 
بلال اویسی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مقام: Multan, Pakistan
مراسلات: 657
کمائي: 18,048
شکریہ: 1,422
601 مراسلہ میں 1,906 بارشکریہ ادا کیا گیا
بلال اویسی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
اسی فورم میں کہیں پڑھا تھا انسانی تاریخ 6000 سال سے زیادہ قدیم نہیں
فیصل بھائی اقتباس میں جو عبارت آپ نے لی ہے اس کے ساتھ حوالہ البرونی کی کتاب مالہند کا ہے۔ یہ بات ایسے ہی نہیں کی گئی البرونی نے بھی ساتھ ہی یہ لکھا ہے کہ اس بات کی تصدیق ملتان سے ملنے والے آثار قدیمہ سے ہوتی ہے۔ اور تاریخ کو مورخ ترتیب دیتا ہے یا آثار قدیمہ یہ تو آپ جانتے ہی ہوں گے۔ آپ پلیز تھریڈ کا حوالہ دیجئے گا تاکہ آپ کی بات کا حوالہ بھی دیکھا جاسکے پھر ہی کچھ گفتگو آگے بڑھائیں گے۔ شکریہ

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : بدرالزمان مراسلہ دیکھیں
جبکہ میں نے حضرت آدم علیہ السلام کی آمد کے بارے میں کہیں تحقیق پڑھی تھی کہ زیادہ سے زیادہ تیس ہزار سال پرانی تاریخ ہے۔ واللہ عالم
محترم کہاں پڑھ لیا آپ نے یہ بات تو آج تک کوئی نہیں بتا سکا سب مختلف اشیاء کے ساتھ اندازے لگاتے ہیں مثلا آثار قدیمہ وغیرہ سے حوالہ آپ کے ذمہ رہا۔ شکریہ

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : بدرالزمان مراسلہ دیکھیں
اگر دو ہزار سال بعد از مسیح کے لگائیں۔ اور آٹھ ہزار سال قبل از مسیح کے۔ تو یہ کل بنے دس ہزار سال۔ کم و بیش اتنا ہی عرصہ مزید عطا کر دیں تو بھی تاریخ بیس ہزار سال کی ہی بنتی ہے
جو عبارت اقتباس میں آپ نے لکھی ہے اگر اسی کی تحقیق کرلی جائے تو آرین نسل جب یہاں آئی تو وہ وقت مورخین تقریبا دس ہزار سال ق م بنتاہے اور مشہور مہابھارت جنگ بھی پانچ یا چھ ہزار سال ق م میں ہوئی تھی۔ آپ نے تو پتہ نہیں کس اکاونٹ سے دس ہزار سال عطا فرمادیئے۔ بہرحال یہ آپ کی تحقیق ہے۔ مزید آپ صاحبان سے گذارش ہے انسانی تاریخ کتنی قدیم ہے ابھی تک یہ تحقیق طلب بات ہے۔ اور نیشنل جیو گرافک پر اس سلسلے میں تحقیق سامنے آتی رہتی ہے۔ شکریہ
بلال اویسی آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے بلال اویسی کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (10-12-10), ھارون اعظم (09-12-10), اویسی (11-12-10)
جواب

Tags
فراز, کلی, کتابوں, پاکستان, معلوم, آج, اللہ, انسان, جواب, حال, خدا, زندگی, زمانہ, سال, سری لنکا, شہر, عہد, عبادت, عرب, عرصہ, عظیم, صفحہ, صدی, صدیوں, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 03:32 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger