واپس چلیں   پاکستان کی آواز > میرے پاکستان سے > تاریخ پاکستان > تاریخ کا آئینہ




نہر زبیدہ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 01-07-10, 11:14 AM   #1
نہر زبیدہ
ابن آدم ابن آدم آف لائن ہے 01-07-10, 11:14 AM

یہ دوسری صدی ہجری کا زمانہ تھا۔ دنیا کے چپے چپے میں اسلام کی کرنیں اپنی تابناک شعاعیں بکھیر رہی تھیں۔ وہی عرب جو کچھ عرصہ پہلے انتقام کی آگ میں جھلس رہے تھے آج اسلامی تعلیمات کی بدولت باہم بھائی بھائی بن چکے تھے، قبائل کے درمیان باہمی اختلافات بلاشبہ پائے جاتے تھے مگر محاذ جنگ پر جب اکٹھے ہوتے تو سب ایک دوسرے کا بے حد احترام کرتے تھے۔ تلواروں کے سائے میں ان کی نمازیں ادا ہوتی تھیں اور جن ملکوں میں وہ جہاد کا پرچم لہراتے وہاں کے باشندوں کے ساتھ عدل و انصاف کرنا ان کی شان تھی۔

دوسری جانب مسلمان مبلغین بھی دعوت و تبلیغ کا کام جاری رکھے ہوئے تھے، چنانچہ دیکھتے ہی دیکھتے مسلمانوں کی تعداد میں بے تحاشا اضافہ ہونے لگا۔ دوسری صدی ہجری کے اواخر میں مملکت اسلامیہ کی باگ ڈور خلیفہ ہارون الرشید کے ہاتھ میں ہے، دنیا کے گوشے گوشے سے مسلمان بیت اللہ شریف کا حج ادا کرنے کے لئے آ رہے ہیں۔ مکہ مکرمہ میں پانی ناپید ہے۔ حجاج کرام اور اہل مکہ بڑی مشکل سے کسی طرح پانی کا بندوبست کر پاتے ہیں۔

اسی زمانہ میں ملکہ زبیدہ بنت جعفر فریضہ حج کی ادائیگی کے لئے مکہ آتی ہیں۔ انہوں نے جب اہل مکہ اور حُجاج کرام کو پانی کی دشواری اور مشکلات میں مبتلا دیکھا تو انہیں سخت افسوس ہوا، چنانچہ انہوں نے اپنے اخراجات سے ایک عظیم الشان نہر کھودنے کا حکم دے کر ایک ایسا فقید المثال کارنامہ انجام دیا جو رہتی دنیا تک عالم بشریت کو یاد رہے گا۔

ام جعفر زبیدہ بنت جعفر بن ابو جعفر منصور ہاشمی خاندان کی چشم و چراغ تھیں۔ یہ خلیفہ ہارون الرشید کی چچا زاد بہن تھیں ان کا نام ” امۃ العزیز “ تھا۔ ان کے دادا منصور بچپن میں ان سے خوب کھیلا کرتے تھے، ان کو ” زبیدہ “ ( دودھ بلونےوالی متھانی ) کہہ کر پکارتے تھے، چنانچہ سب اسی نام سے پکارنے لگے اور اصلی نام بھول ہی گئے۔ یہ نہایت خوبصورت اور ذہین و فطین تھیں۔ جب جوان ہوئیں تو خلیفہ ہارون الرشید سے ان کی شادی ہو گئی۔ یہ شادی بڑی دھوم دھام سے ذوالحجہ165 ھ میں ہوئی۔ ہارون الرشید نے اس شادی کی خوشی میں ملک بھر سے عوام و خواص کو دعوت پر بلایا اور مدعوین کے درمیان اس قدر زیادہ مال تقسیم کیا جس کی مثال تاریخ اسلامی میں مفقود ہے۔ اس موقع پر خاص بیت المال سے اس نے پچاس ملین درہم ( 50,000,000 ) خرچ کئے۔ ہارون رشید نے اپنے خاص مال سے جو کچھ خرچ کیا وہ اس کے علاوہ تھا۔

ہارون رشید ملکہ زبیدہ سے بہت محبت کرتا تھا۔ ایک مرتبہ اس نے اپنی بیوی کو یہ کہہ کر پکارا: ھلمی یا ام نھر ” ام نہر! ذرا ادھر آنا “ زبیدہ نے بعد میں مشہور عالم اصمعی کو بلوا کر پوچھا: امیر المومنین مجھے ” ام نہر “ کہہ کر پکارتے ہیں، اس کے کیا معنی ہیں؟ اصمعی نے جواب دیا: چونکہ جعفر عربی لغت میں ” نہر “ کو کہتے ہیں اور آپ کی کنیت ام جعفر ہے، اس لئے نہر معنی مراد لے کے آپ کو اس نام سے پکارا ہو گا۔

زبیدہ بڑی ہی سمجھدار خاتون تھیں، حاشیہ برداروں کے کہنے پر کبھی فوری فیصلہ نہیں کرتی تھیں۔ ایک مرتبہ ایک شاعر نے ان کی خدمت میں چند اشعار سنائے، مگر ردیف و قافیہ اور الفاظ کی ترکیب میں شاید وہ اپنا مافی الضمیر اچھی طرح سے ادا نہیں کر سکا۔ شعر کے مفہوم سے ان کی عظمت کے بجائے گستاخی عیاں تھی۔ حشم و خدم نے شاعر کی عبارت کو ملکہ کی بے ادبی پر محمول کیا اور اس کو گرفتار کرنا چاہا مگر ملکہ نے ان سے کہا: اس کو نظر انداز کر دو، کیونکہ جس کی نیت اچھی بات کہنے کی ہو مگر اس سے لغزش ہو جائے، ایسا شخص اس آدمی سے بہتر ہے جس کی نیت بری ہو مگر وہ بات اچھی کہہ جائے۔ “

ملکہ زبیدہ کی خدمت کے لئے ایک سو نوکرانیاں تھیں، جن کو قرآن کریم یاد تھا اور وہ ہر وقت قرآن پاک کی تلاوت کرتی رہتی تھیں۔ ان کے محل میں سے قرات کی گنگناہٹ شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ کی طرح آتی رہتی تھی۔

زبیدہ نے پانی کی قلت کے سبب حجاج کرام اور اہل مکہ کو درپیش مشکلات اور دشواریوں کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا تو انہوں نے مکہ میں ایک نہر بنانے کا ارادہ کیا۔ اس سے پہلے بھی وہ مکہ والوں کو بہت زیادہ مال سے نوازتی رہتی تھیں اور حج و عمرہ کے لئے مکہ آنے والوں کے ساتھ ان کا سلوک بے حد فیاضانہ تھا۔ اب نہر کی کھدائی کا منصوبہ سامنے آیا تو مختلف علاقوں سے ماہر انجینئر بلوائے گئے۔ مکہ مکرمہ سے 35 کلومیٹر شمال مشرق میں وادی حنین کے ” جبال طاد “ سے نہر نکالنے کا پروگرام بنایا گیا۔

ایک نہر جس کا پانی ” جبال قرا “ سے ” وادی نعمان “ کی طرف جاتا تھا اسے بھی نہر زبیدہ میں شامل کر لیا گیا یہ مقام عرفات سے 12 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع تھا۔ علاوہ ازیں منیٰ کے جنوب میں صحرا کے مقام پر ایک تالاب بئر زبیدہ کے نام سے تھا جس میں بارش کا پانی جمع کیا جاتا تھا ، اس سے سات کاریزوں کے ذریعہ پانی نہر میں لے جایا گیا، پھر وہاں سے ایک چھوٹی نہر مکہ مکرمہ کی طرف اور ایک عرفات میں مسجد نمرہ تک لے جائی گئی۔ اس عظیم منصوبے پر سترہ لاکھ ( 17,00,000 ) دینار خرچ ہوئے۔

ملکہ زبیدہ نے انتہائی شوق اور جذبہ اخلاص کے تحت نہر کی کھدائی کرائی تھی۔ وہ حجاج کرام اور اہل مکہ کو پانی کی دشواریوں سے نجات دلانا چاہتی تھیں اور یہ کام اللہ کی خوشنودی کے لئے انہوں نے کیا۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ جب نہر زبیدہ کی منصوبہ بندی شروع ہوئی تو اس منصوبہ کا منتظم انجینئر آیا اور کہنے لگا: آپ نے جس کا حکم دیا ہے اس کے لئے خاصے اخراجات درکار ہیں، کیونکہ اس کی تکمیل کے لئے بڑے بڑے پہاڑوں کو کاٹنا پڑے گا، چٹانوں کو توڑنا پڑے گا، نشیب و فراز کی مشکلات سے نمٹنا پڑے گا، سینکڑوں مزدوروں کو دن رات محنت کرنی پڑے گی، تب کہیں جا کر اس منصوبہ کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جا سکتا ہے۔

یہ سن کر ملکہ زبیدہ نے جو جواب دیا وہ دلچسپ بھی ہے اور اس سے ان کی قوت فیصلہ اور منصوبے سے دلچسپی کا اظہار بھی ہوتا ہے۔ انہوں نے چیف انجینئر سے کہا: اعملھا ولو کانت ضربۃ فاس بدینار اس کام کو شروع کردو، خواہ کلہاڑے کی ایک ضرب پر ایک دینار خرچ آتا ہو۔

اس طرح جب نہر کا منصوبہ تکمیل کو پہنچ گیا تو منتظمین اور نگران حضرات نے اخراجات کی تفصیلات ملکہ کی خدمت میں پیش کیں۔ اس وقت ملکہ دریائے دجلہ کے کنارے واقع اپنے محل میں تھیں۔ ملکہ نے وہ تمام کاغذات لئے اور انہیں کھول کر دیکھے بغیر دریا برد کر دیا اور کہنے لگیں: ” الٰہی! مجھے دنیا میں کوئی حساب کتاب نہیں لینی، تو بھی مجھ سے قیامت کے دن حساب نہ لینا۔ “

ملکہ زبیدہ نے یہ عظیم الشان کام انجام دے کر حجاج کرام اور باشندگان مکہ کو پانی کی قلت کے سبب درپیش مشکلات کا مسئلہ حل کر دیا۔ اللہ تعالیٰ اس نہر کو ان کے حق میں صدقہ جاریہ بنائے۔
( یہ واقع وفیات الاعیان۔ البدایۃ والنھایۃ، کتاب الوافی بالوفیات، الاعلام اور تاریخ مکہ مکرمہ، محمد عبدالمعبود وغیرہ کتب سے مواد اکٹھا کر کے لکھا گیا ہے۔ )

مولانا عبدالمالک مجاہد
دار السلام ، ریاض
__________________
صراط الھدیٰ فورم
www.siratulhuda.com
اردو یونیکوڈ تحریر میں بنیادی دینی ، اخلاقی و اصلاحی تعلیمات اور سائینس و انفارمیشن ٹکنالوجی کی نفع مند معلومات کی ترسیل کا مرکز

Last edited by ابن آدم; 01-07-10 at 11:16 AM..

 
ابن آدم's Avatar
ابن آدم
Senior Member
تاریخ شمولیت: Feb 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 1,098
شکریہ: 3,391
828 مراسلہ میں 2,402 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 388
Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے ابن آدم کا شکریہ ادا کیا
shafresha (01-07-10), فیصل ناصر (27-07-10), گلز (12-09-10), ھارون اعظم (27-07-10), مرزا محمد فاروق (01-07-10), مرزا عامر (07-07-10), رفیع انجم (14-07-10), عبداللہ حیدر (18-07-10)
پرانا 14-07-10, 03:52 PM   #2
محسن
مقبول
 
نوبل1976's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 173
کمائي: 3,110
شکریہ: 19
105 مراسلہ میں 269 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

Waseem's Islamic Folder - AHLAN

نہر زبیدہ کی تصاویر
نوبل1976 آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے نوبل1976 کا شکریہ ادا کیا
مسٹر رائٹ (16-07-10), ابن آدم (15-07-10), رفیع انجم (14-07-10)
پرانا 27-07-10, 06:54 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Nov 2007
مراسلات: 983
کمائي: 32,017
شکریہ: 1,331
738 مراسلہ میں 2,352 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ابن آدم مراسلہ دیکھیں
ہارون الرشید نے اس شادی کی خوشی میں ملک بھر سے عوام و خواص کو دعوت پر بلایا اور مدعوین کے درمیان اس قدر زیادہ مال تقسیم کیا جس کی مثال تاریخ اسلامی میں مفقود ہے۔ اس موقع پر خاص بیت المال سے اس نے پچاس ملین درہم ( 50,000,000 ) خرچ کئے۔ ہارون رشید نے اپنے خاص مال سے جو کچھ خرچ کیا وہ اس کے علاوہ تھا۔
بیت المال اسی کام کیلئے توہے اسی لئے تو ہمارے پرانے اور نئے حکمران اسے خوب استمال کرتے ہیں ،اور کام کیا ہے ان کا۔
ابرارحسین آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے ابرارحسین کا شکریہ ادا کیا
منتظمین (27-07-10), مرزا عامر (27-07-10), رفیع انجم (27-07-10)
جواب

Tags
فراز, پاک, قرآن, نظر, مکہ, منصوبہ, محبت, مسجد, آج, آدمی, اللہ, امیر, اسلام, اسلامی, اشعار, بھائی, بچپن, جواب, حکم, حضرات, زمانہ, شخص, شعر, عالم, صدقہ


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 03:32 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger