واپس چلیں   پاکستان کی آواز > میرے پاکستان سے > تاریخ پاکستان > تاریخ کا آئینہ




23 مارچ کی حقیقت

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 23-03-10, 01:06 AM   #1
23 مارچ کی حقیقت
رضی رضی آف لائن ہے 23-03-10, 01:06 AM

میں کافی دیر سے سوچ رہا تھا کہ تئیس مارچ کے حوالے سے کچھ تحریر کروں لیکن دماغ تھا کہ چل نہیں رہا تھا کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا لکھوں ۔ لہذا پھر نیٹ گردی شروع کردی کہ کہیں سے کوئی نقطہ مل جائے جسکو بنیاد بنا کر کچھ لکھوں یا پھر کسی کا آئیڈیا چراؤں اور پھر اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق اپنی سوچ کے مسالحہ جات میں اس کو تڑکا لگاؤں اور آپ کے سامنے پیش کردوں یا پھر کوئی اچھی سی تحریر مل جائے تو اسی طرح حوالے کے ساتھ آپ کے سامنے پیش کردوں۔
اسی تلاش میں گوگل کی گاڑی پر سوار ھوا اور وکی پیڈیا کے ایک سٹاپ ایک تحریر نظر آئی پاکستان کے نام سے اسی صفحہ پر میری نظر ایک لائن پر پڑی
یوم پاکستان، 23 مارچ کو منایا جاتا ہے۔ 23 مارچ 1940 کو قرار داد پاکستان منظور ہوئی اور اسی دن پاکستان پا پہلا آئین 1956 میں منظور ہوا اس لائن کو پڑھتے ہی میرے دماغ کے کچھ خلیوں نے اپنا رویہ بدل دیا ۔ اور 23 مارچ کی حقیقت میں الجھ گئے ۔ اب انہیں اس الجھن میں ڈالنے والا کون ہے لیکن جو کوئی بھی ہے اس نے ہمارے ساتھ عجیب مزاق کیا ہے ۔ کیونکہ 23 مارچ کو جس حوالے سے ہم مناتے ہیں وہ تو کہانی کچھ اور ہے ۔ ہم 23 مارچ کو قرار داد پاکستان کے حوالے سے مناتے ہیں اور ہمیں یہی بتایا گیا ہے کہ 23 مارچ کو قرار داد لاہور منظور ہوئی تھی جسے بعد میں قرار داد پاکستان کا نام دے دیا گیا تھا ۔ یہ قرار داد تو 24 مارچ 1940 کو منظور ہوئی تھی ۔ پھر ہم اسے 23 مارچ کو کیوں مناتے ہیں۔ اصل میں 23 مارچ کو پاکستان کا پہلا آئین منظور ہوا تھا جس کے مطابق پاکستان کو اسلامی جمہوریہ ملک قرار دیا گیا ۔ اسی خوشی میں23 مارچ کو پریڈ کروائی جاتی تھی۔ لیکن جب اس آئین کو معطل کردیا گیا تو ہمارے قابل احترام اعلٰی عہدیداروں کو خیال آیا کہ اب کی بار 23 مارچ کو پریڈ کا کیا جواز بنتا ہے لہذا ان ہمدردوں نے عوام کو مایوس نہیں کیا اور انکی اس تفریح کے لیئے تاریخ میں ردوبدل کرنا مناسب سمجھا ۔ اور دیکھا کہ 24 مارچ 1940 ایک اہم دن ہے لہذا اس کو 24 سے 23 پر لے إٓئے اور عوام کی تفریح کا سامان عوام کو میسر کیا ۔

آج جس جگہ بھی دیکھیں یہی لکھا ملے گا کہ 23 مارچ 1940 کو منٹو پارک لاہور میں مسلم لیگ کی قیادت میں قرار داد پاکستان منظور ہوئی۔

یہ ایک تاریخی بدیانتی تھی جسے ہماری عوام نے پس پشت ڈال دیا ۔
یہاں عوام کے ساتھ ہی نہیں بلکہ تاریخ کے ساتھ بھی ہاتھ ھوتے رہے ہیں۔

اس دن کی مناسبت سے اور موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے میرے خیال میں قائداعظم کی یہ تقریر ہی ایک بہترین پیغام ہے
__________________

عشق قاتل سے بھی مقتول سے ہمدردی بھی ،یہ بتا کس سے محبت کی جزا مانگے گا؟
سجدہ خالق کو بھی ابلیس سے یارانہ بھی، حشر میں کس سے عقیدت کا صلہ مانگے گا؟

Last edited by رضی; 23-03-10 at 01:53 AM..

 
رضی's Avatar
رضی
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 790
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے رضی کا شکریہ ادا کیا
منتظمین (23-03-10), راجہ اکرام (23-03-10)
پرانا 23-03-10, 04:38 AM   #2
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,570
کمائي: 315,120
شکریہ: 25,210
16,389 مراسلہ میں 41,627 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

رضی بھائی
یہ تو نئی معلومات ہیں ۔
اس سے قبل میں نے یہ نہیں سنا 23 اور 24 والا قصہ

شکریہ برادرم
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا
رضی (30-05-10)
پرانا 23-03-10, 10:22 AM   #3
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Jul 2008
مراسلات: 144
کمائي: 5,118
شکریہ: 156
98 مراسلہ میں 375 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

دوستو،
ایک مدت سے ایسی کہانیاں پڑھ پڑھ کر اب تو عاجز آچُکا ہوں۔ مگر ایسی باتیں لکھنے پڑھنے کو تو بہت ہیں، مگر کسی کام کی نہیں۔
میں‌جانتا ہوں میری باتیں بری لگیں گی، مگر کوئی ان کڑوی حقیقتوں سے انکار نہیں کر سکتا۔
حقیقت یہ ہے کہ اسلام کے نام پر بننے والے اس ملک جس کے منشور میں قرآن و سنت والے نظام کی کچھ باتیں‌کی گئی ہیں، خود اللہ اور اسکے رسول سے جنگ والا نظام اپنائے ہوئے ہے، یعنی سودی نظام
آجتک اپنی تعلیمی نظام کو اسلامی طور پر بھی نافذ نہیں کر سکا۔
دین کے جتنے فرقے یہاں توڑ پھوڑ کرتے نظر آتے ہیں، شائید ہی دنیا میں‌کسی اور ملک میں‌ نظر آتے ہوں۔
اسلام کا نام لینے اور دین کا پرچار کرنے کے ساتھ ساتھ مشرکانہ کام بھی جاری ہیں اور ہندوانہ رسم و رواج اور دیگر غیر اسلامی طریقوں کو اپنانے کے لئے دلائل کے ساتھ زور بھی دیا جاتا ہے اور اسلام کو صرف قرآن کے غلاف کی صورت میں الماری میں سجا دیا جاتا ہے۔
۔۔۔
۔
۔
۔
میرے پاس تو ایک بہت لمبی لسٹ ہے یہ ثابت کرنے کے لئے کہ ہم پر لعنتیں اور مصیبتیں بالکل ٹھیک برستی ہیں۔

دن منانے اور اچھی اچھی باتیں‌کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔۔۔۔

"جب دل و نگاہ مسلمان نہیں تو کچھ بھی نہیں"

اور مسلمان قرآن و سنت پر عمل کرنے والا صرف اور صرف مسلمان ہوتا ہے، سنی، شعیہ، وہابی ،بریلوی، منہاج وغیرہ وغیرہ نہیں‌ہوتا۔۔۔۔

اگر کسی کو جواب میں اپنے آباواجداد کی عظمتیں اور اچھی باتیں یاد آئیں تو یہ بھی پڑھ لے:

"وہ زمانے میں معزز تھے مسلمان ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآن ہو کر
Farrukh آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے Farrukh کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (23-03-10), مزمل فاروق (24-03-10), رضی (30-05-10), عبداللہ حیدر (23-03-10)
پرانا 23-03-10, 10:52 AM   #4
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,615
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,595 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

یہ میرے لیے بھی ایک نئی بات ہے۔ یہ بددیانتی کب سے شروع کی گئی؟

سرورق کے لیے پیش کریں۔
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو!
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
منتظمین کا شکریہ ادا کیا گیا
رضی (30-05-10)
پرانا 23-03-10, 11:28 AM   #5
Senior Member
 
رضی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,537
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

قرار داد پاکستان 22 مارچ سے 24 مارچ تک تھی اور یہ 24 مارچ کو منظور ھوئی تھی ۔ اور اس دبدیانتی کے بارے میں آپ کسی بھی بزرگ سے پوچھ سکتے ہیں جو 1956 کے دور میں پوری سمجھ بوجھ رکھتے تھے ۔
رضی آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 23-03-10, 01:18 PM   #6
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,615
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,595 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اس کا ماخذ بھی بتا دیں۔
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
shafresha (23-03-10), رضی (30-05-10)
پرانا 23-03-10, 02:11 PM   #7
Senior Member
 
رضی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,537
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اسکا ماخذ میرا ذاتی نالج ہے ۔ یہ کہیں سے اسی طرح نہیں اٹھائی گئی ۔ جہاں بھی پڑھیں گے یہی لکھا ملے گا 23 مارچ ۔ اس کے بارے میں آپکو معلومات بابوں سے مل سکے گی ۔میرے اساتذہ کرام کو آپ ماخذ تصور کر سکتے ہیں لیکن انکو یہاں پوسٹ کیسے کروں

Last edited by رضی; 23-03-10 at 06:37 PM.
رضی آف لائن ہے   Reply With Quote
رضی کا شکریہ ادا کیا گیا
منتظمین (23-03-10)
پرانا 23-03-10, 02:14 PM   #8
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,615
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,595 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

لیکن اس کو ثابت کرنے کے لیے تاریخی سچائی کو ضرورت تو ہر حال میں ہو گی۔ کوئی پرانی کتاب، کوئی پرانی ویڈیو فوٹیج کچھ نہ کچھ تو کہیں نہ کہیں سے مل سکتا ہو گا۔
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
shafresha (23-03-10), فیصل ناصر (23-03-10), رضی (23-03-10)
پرانا 23-03-10, 02:15 PM   #9
Senior Member

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,222
کمائي: 77,430
شکریہ: 9,129
3,023 مراسلہ میں 11,135 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

السلام علیکم، واقعی یہ بات پہلی دفعہ سنی ہے۔ قرار داد پاکستان جب منظور ہوئی تو میرے نانا جی رحمہ اللہ بھی وہیں موجود تھے۔ یہ بات انہوں نے بھی کبھی نہیں بتائی۔
والسلام علیکم
عبداللہ حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (23-03-10), رضی (30-05-10)
پرانا 23-03-10, 05:04 PM   #10
Senior Member
 
رضی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,537
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : منتظمین مراسلہ دیکھیں
لیکن اس کو ثابت کرنے کے لیے تاریخی سچائی کو ضرورت تو ہر حال میں ہو گی۔ کوئی پرانی کتاب، کوئی پرانی ویڈیو فوٹیج کچھ نہ کچھ تو کہیں نہ کہیں سے مل سکتا ہو گا۔
Ideology of Pakistan, by Dr. Saeed-ud-Din Ahmad Dar

ڈاکٹر سعید الدین ڈار صاحب میرے استاد ہیں ۔ وہ اسی پچاسی سال کے بابا جی ۔ نیٹ پر مواد اتنا نہیں ملا میں نے ان سے سنا ہے اور اگر غور بھی کیا جائے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ 22 مارچ سے 24 مارچ تک ریسولوشن کی تاریخ ملتی ہے ۔ فالحال میں یہی حوالہ دے سکتا ہوں اگر کہیں اور سے بھی کچھ ملا یا ان سے کبھی ملاقات ہوئی تو ان سے مزید حوالاجات طلب کرلوں گا۔ اوپر انکی کتاب کا حوالہ دے رہا ہوں۔
رضی آف لائن ہے   Reply With Quote
رضی کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (23-03-10)
پرانا 23-03-10, 05:28 PM   #11
Senior Member
 
رضی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,537
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جی ہاں مل گیا کچھ مواد نیٹ سے بھی یہ دیکھیں
Myth 10
March 23, 1940 is celebrated because the Pakistan Resolution was adopted on that day. The fact of the matter is that the Pakistan Resolution was only introduced on March 23 and was finally adopted on March 24 (the second and final day of the session).

As to why we celebrate March 23 is another story altogether. The day was never celebrated before 1956. It was first celebrated that year as the Republic Day to mark the passage of the first constitution and Pakistan?s emergence as a truly independent republic. It had the same importance for us as January 26 for India. But when Gen Ayub abrogated the constitution and established martial law in 1958, he was faced with a dilemma. He could not let the country celebrate a day commemorating the constitution that he had himself torn apart, nor could he cancel the celebration altogether. A way-out was found by keeping the celebration, but giving it another name: the Pakistan Resolution Day.
حوالہ
اور بھی ھوسکتے ہیں چیک کرتا ہوں
رضی آف لائن ہے   Reply With Quote
رضی کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (23-03-10)
پرانا 23-03-10, 05:31 PM   #12
Senior Member
 
رضی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,537
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جی ہاں مل گیا کچھ مواد نیٹ سے بھی یہ دیکھیں
Myth 10
March 23, 1940 is celebrated because the Pakistan Resolution was adopted on that day. The fact of the matter is that the Pakistan Resolution was only introduced on March 23 and was finally adopted on March 24 (the second and final day of the session).

As to why we celebrate March 23 is another story altogether. The day was never celebrated before 1956. It was first celebrated that year as the Republic Day to mark the passage of the first constitution and Pakistan?s emergence as a truly independent republic. It had the same importance for us as January 26 for India. But when Gen Ayub abrogated the constitution and established martial law in 1958, he was faced with a dilemma. He could not let the country celebrate a day commemorating the constitution that he had himself torn apart, nor could he cancel the celebration altogether. A way-out was found by keeping the celebration, but giving it another name: the Pakistan Resolution Day.
حوالہ
An article "myth of history" carried by the "Dawn" of Karachi on March 27, 2005
اور بھی ھوسکتے ہیں چیک کرتا ہوں

Last edited by رضی; 23-03-10 at 06:22 PM.
رضی آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 23-03-10, 06:25 PM   #13
Senior Member
 
رضی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,537
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

یہ لیں جی ڈان نیوز کا ایک آرٹیکل

The myth of history
By Prof Shahida Kazi
لنکیہ رہا
رضی آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے رضی کا شکریہ ادا کیا
shafresha (23-03-10), منتظمین (23-03-10)
پرانا 24-03-10, 01:06 AM   #14
ذیلی ناظم
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,248
کمائي: 121,392
شکریہ: 15,089
4,228 مراسلہ میں 12,902 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اس حوالے سے اور بھی کچھ اختلافات ہیں۔ مثلاً قرارداد میں State کا لفظ استعمال کیا گیا تھا، یا States کا۔ جہاں تک 23 مارچ کا تعلق ہے، تو اس حوالے سے مندرجہ ذیل لنک بھی ملاحظہ کیجئے، جس کے مطابق قرارداد کی ٹیکسٹ 23 مارچ کو منظور کی گئی تھی۔ آپ جو حوالہ دے رہے ہیں، وہ اس اجلاس کا ہے، جس میں‌ قرارداد پیش کی گئی تھی، جو کہ 22 سے 24 مارچ تک تھی۔

The principle text of the Lahore Resolution was passed on 23 March. In 1941 it became part of the Muslim League's constitution. In 1946, it formed the basis for the decision of Muslim League to struggle for one state for the Muslims


Lahore Resolution - Wikipedia, the free encyclopedia
__________________


http:// haroonazam.wordpress.com

ھارون اعظم کا بلاگ۔
ھارون اعظم آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 24-03-10, 09:35 PM   #15
Senior Member
 
رضی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,537
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ھارون اعظم مراسلہ دیکھیں
اس حوالے سے اور بھی کچھ اختلافات ہیں۔ مثلاً قرارداد میں State کا لفظ استعمال کیا گیا تھا، یا States کا۔ جہاں تک 23 مارچ کا تعلق ہے، تو اس حوالے سے مندرجہ ذیل لنک بھی ملاحظہ کیجئے، جس کے مطابق قرارداد کی ٹیکسٹ 23 مارچ کو منظور کی گئی تھی۔ آپ جو حوالہ دے رہے ہیں، وہ اس اجلاس کا ہے، جس میں‌ قرارداد پیش کی گئی تھی، جو کہ 22 سے 24 مارچ تک تھی۔

The principle text of the Lahore Resolution was passed on 23 March. In 1941 it became part of the Muslim League's constitution. In 1946, it formed the basis for the decision of Muslim League to struggle for one state for the Muslims


Lahore Resolution - Wikipedia, the free encyclopedia
اقتباس:
آپ جو حوالہ دے رہے ہیں، وہ اس اجلاس کا ہے، جس میں‌ قرارداد پیش کی گئی تھی، جو کہ 22 سے 24 مارچ تک تھی۔
آپ کیا کہنا چاہ رہے ہیں تھوڑی وضاحت کر دیں
اور آپنے جو حوالہ دیا ہے وہ وکی پیڈیا کا ہے اس میں تو جو مرضی لکھ دیں اور جسکا دل کرے جاکر لکھ دے۔

اور اس حوالے کے مطابق جو میں نے دیا ہے وہ صرف میتھ نمبر 10 کی وجہ سے دیا ہے باقی ڈاکومنٹ میں نے نہیں پڑھا میں نے تو منتظمین کے اصرار پر نیٹ سے سرچ کرکے اس ڈاکومنٹ کا حوالہ دیا ہے ۔
باقی ایک سٹیٹ یا ایک سے زیادہ سٹیٹس کے متعلق اس ڈاکومنٹ میں کیا ہے مجھے نہیں معلوم ۔ لیکن میرے علم کے مطابق چوہدری رحمت علی ایک سے زیادہ مسلم سٹیٹس بنانا چاہتے تھے ۔ جسکی وضاحت ایک نقشے سے ہوسکتی ہے اسکو میں تلاش کر کے یہاں پوسٹ کردوں گا۔ شکریہ

Last edited by رضی; 24-03-10 at 09:50 PM.
رضی آف لائن ہے   Reply With Quote
رضی کا شکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم (24-03-10)
جواب

Tags
color, ہے۔, کہانی, گوگل, پڑی, پاکستان, یوم, نام, نظر, ملک, منظور, مطابق, اسلامی, بار, بدل, تلاش, تحریر, جائے, دیکھا, دے, سوچ, شروع, عوام, عجیب, صفحہ


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 03:41 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger