|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 790
|
||||
| 2 قاری/قارئین نے رضی کا شکریہ ادا کیا | منتظمین (23-03-10), راجہ اکرام (23-03-10) |
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,570
کمائي: 315,120
شکریہ: 25,210
16,389 مراسلہ میں 41,627 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
رضی بھائی
یہ تو نئی معلومات ہیں ۔ اس سے قبل میں نے یہ نہیں سنا 23 اور 24 والا قصہ شکریہ برادرم
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
|
|
|
| راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا | رضی (30-05-10) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Jul 2008
مراسلات: 144
کمائي: 5,118
شکریہ: 156
98 مراسلہ میں 375 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
دوستو،
ایک مدت سے ایسی کہانیاں پڑھ پڑھ کر اب تو عاجز آچُکا ہوں۔ مگر ایسی باتیں لکھنے پڑھنے کو تو بہت ہیں، مگر کسی کام کی نہیں۔ میںجانتا ہوں میری باتیں بری لگیں گی، مگر کوئی ان کڑوی حقیقتوں سے انکار نہیں کر سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام کے نام پر بننے والے اس ملک جس کے منشور میں قرآن و سنت والے نظام کی کچھ باتیںکی گئی ہیں، خود اللہ اور اسکے رسول سے جنگ والا نظام اپنائے ہوئے ہے، یعنی سودی نظام آجتک اپنی تعلیمی نظام کو اسلامی طور پر بھی نافذ نہیں کر سکا۔ دین کے جتنے فرقے یہاں توڑ پھوڑ کرتے نظر آتے ہیں، شائید ہی دنیا میںکسی اور ملک میں نظر آتے ہوں۔ اسلام کا نام لینے اور دین کا پرچار کرنے کے ساتھ ساتھ مشرکانہ کام بھی جاری ہیں اور ہندوانہ رسم و رواج اور دیگر غیر اسلامی طریقوں کو اپنانے کے لئے دلائل کے ساتھ زور بھی دیا جاتا ہے اور اسلام کو صرف قرآن کے غلاف کی صورت میں الماری میں سجا دیا جاتا ہے۔ ۔۔۔ ۔ ۔ ۔ میرے پاس تو ایک بہت لمبی لسٹ ہے یہ ثابت کرنے کے لئے کہ ہم پر لعنتیں اور مصیبتیں بالکل ٹھیک برستی ہیں۔ دن منانے اور اچھی اچھی باتیںکرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔۔۔۔ "جب دل و نگاہ مسلمان نہیں تو کچھ بھی نہیں" اور مسلمان قرآن و سنت پر عمل کرنے والا صرف اور صرف مسلمان ہوتا ہے، سنی، شعیہ، وہابی ،بریلوی، منہاج وغیرہ وغیرہ نہیںہوتا۔۔۔۔ اگر کسی کو جواب میں اپنے آباواجداد کی عظمتیں اور اچھی باتیں یاد آئیں تو یہ بھی پڑھ لے: "وہ زمانے میں معزز تھے مسلمان ہو کر اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآن ہو کر |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے Farrukh کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#4 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,615
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,595 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
یہ میرے لیے بھی ایک نئی بات ہے۔ یہ بددیانتی کب سے شروع کی گئی؟
سرورق کے لیے پیش کریں۔
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو! |
|
|
|
| منتظمین کا شکریہ ادا کیا گیا | رضی (30-05-10) |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,537
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
قرار داد پاکستان 22 مارچ سے 24 مارچ تک تھی اور یہ 24 مارچ کو منظور ھوئی تھی ۔ اور اس دبدیانتی کے بارے میں آپ کسی بھی بزرگ سے پوچھ سکتے ہیں جو 1956 کے دور میں پوری سمجھ بوجھ رکھتے تھے ۔
|
|
|
|
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,537
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اسکا ماخذ میرا ذاتی نالج ہے ۔ یہ کہیں سے اسی طرح نہیں اٹھائی گئی ۔ جہاں بھی پڑھیں گے یہی لکھا ملے گا 23 مارچ ۔ اس کے بارے میں آپکو معلومات بابوں سے مل سکے گی ۔میرے اساتذہ کرام کو آپ ماخذ تصور کر سکتے ہیں لیکن انکو یہاں پوسٹ کیسے کروں
Last edited by رضی; 23-03-10 at 06:37 PM. |
|
|
|
| رضی کا شکریہ ادا کیا گیا | منتظمین (23-03-10) |
|
|
#8 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,615
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,595 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
لیکن اس کو ثابت کرنے کے لیے تاریخی سچائی کو ضرورت تو ہر حال میں ہو گی۔ کوئی پرانی کتاب، کوئی پرانی ویڈیو فوٹیج کچھ نہ کچھ تو کہیں نہ کہیں سے مل سکتا ہو گا۔
|
|
|
|
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() |
السلام علیکم، واقعی یہ بات پہلی دفعہ سنی ہے۔ قرار داد پاکستان جب منظور ہوئی تو میرے نانا جی رحمہ اللہ بھی وہیں موجود تھے۔ یہ بات انہوں نے بھی کبھی نہیں بتائی۔
والسلام علیکم |
|
|
|
|
|
#10 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,537
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
ڈاکٹر سعید الدین ڈار صاحب میرے استاد ہیں ۔ وہ اسی پچاسی سال کے بابا جی ۔ نیٹ پر مواد اتنا نہیں ملا میں نے ان سے سنا ہے اور اگر غور بھی کیا جائے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ 22 مارچ سے 24 مارچ تک ریسولوشن کی تاریخ ملتی ہے ۔ فالحال میں یہی حوالہ دے سکتا ہوں اگر کہیں اور سے بھی کچھ ملا یا ان سے کبھی ملاقات ہوئی تو ان سے مزید حوالاجات طلب کرلوں گا۔ اوپر انکی کتاب کا حوالہ دے رہا ہوں۔ |
|
|
|
|
| رضی کا شکریہ ادا کیا گیا | shafresha (23-03-10) |
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,537
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جی ہاں مل گیا کچھ مواد نیٹ سے بھی یہ دیکھیں
Myth 10 March 23, 1940 is celebrated because the Pakistan Resolution was adopted on that day. The fact of the matter is that the Pakistan Resolution was only introduced on March 23 and was finally adopted on March 24 (the second and final day of the session). As to why we celebrate March 23 is another story altogether. The day was never celebrated before 1956. It was first celebrated that year as the Republic Day to mark the passage of the first constitution and Pakistan?s emergence as a truly independent republic. It had the same importance for us as January 26 for India. But when Gen Ayub abrogated the constitution and established martial law in 1958, he was faced with a dilemma. He could not let the country celebrate a day commemorating the constitution that he had himself torn apart, nor could he cancel the celebration altogether. A way-out was found by keeping the celebration, but giving it another name: the Pakistan Resolution Day. حوالہ اور بھی ھوسکتے ہیں چیک کرتا ہوں |
|
|
|
| رضی کا شکریہ ادا کیا گیا | shafresha (23-03-10) |
|
|
#12 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,537
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جی ہاں مل گیا کچھ مواد نیٹ سے بھی یہ دیکھیں
Myth 10 March 23, 1940 is celebrated because the Pakistan Resolution was adopted on that day. The fact of the matter is that the Pakistan Resolution was only introduced on March 23 and was finally adopted on March 24 (the second and final day of the session). As to why we celebrate March 23 is another story altogether. The day was never celebrated before 1956. It was first celebrated that year as the Republic Day to mark the passage of the first constitution and Pakistan?s emergence as a truly independent republic. It had the same importance for us as January 26 for India. But when Gen Ayub abrogated the constitution and established martial law in 1958, he was faced with a dilemma. He could not let the country celebrate a day commemorating the constitution that he had himself torn apart, nor could he cancel the celebration altogether. A way-out was found by keeping the celebration, but giving it another name: the Pakistan Resolution Day. حوالہ An article "myth of history" carried by the "Dawn" of Karachi on March 27, 2005 اور بھی ھوسکتے ہیں چیک کرتا ہوں Last edited by رضی; 23-03-10 at 06:22 PM. |
|
|
|
|
|
#13 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,537
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
|
#14 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
اس حوالے سے اور بھی کچھ اختلافات ہیں۔ مثلاً قرارداد میں State کا لفظ استعمال کیا گیا تھا، یا States کا۔ جہاں تک 23 مارچ کا تعلق ہے، تو اس حوالے سے مندرجہ ذیل لنک بھی ملاحظہ کیجئے، جس کے مطابق قرارداد کی ٹیکسٹ 23 مارچ کو منظور کی گئی تھی۔ آپ جو حوالہ دے رہے ہیں، وہ اس اجلاس کا ہے، جس میں قرارداد پیش کی گئی تھی، جو کہ 22 سے 24 مارچ تک تھی۔
The principle text of the Lahore Resolution was passed on 23 March. In 1941 it became part of the Muslim League's constitution. In 1946, it formed the basis for the decision of Muslim League to struggle for one state for the Muslims Lahore Resolution - Wikipedia, the free encyclopedia
__________________
http:// haroonazam.wordpress.com ھارون اعظم کا بلاگ۔ |
|
|
|
|
|
#15 | ||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,537
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اقتباس:
اور آپنے جو حوالہ دیا ہے وہ وکی پیڈیا کا ہے اس میں تو جو مرضی لکھ دیں اور جسکا دل کرے جاکر لکھ دے۔ اور اس حوالے کے مطابق جو میں نے دیا ہے وہ صرف میتھ نمبر 10 کی وجہ سے دیا ہے باقی ڈاکومنٹ میں نے نہیں پڑھا میں نے تو منتظمین کے اصرار پر نیٹ سے سرچ کرکے اس ڈاکومنٹ کا حوالہ دیا ہے ۔ باقی ایک سٹیٹ یا ایک سے زیادہ سٹیٹس کے متعلق اس ڈاکومنٹ میں کیا ہے مجھے نہیں معلوم ۔ لیکن میرے علم کے مطابق چوہدری رحمت علی ایک سے زیادہ مسلم سٹیٹس بنانا چاہتے تھے ۔ جسکی وضاحت ایک نقشے سے ہوسکتی ہے اسکو میں تلاش کر کے یہاں پوسٹ کردوں گا۔ شکریہ Last edited by رضی; 24-03-10 at 09:50 PM. |
||
|
|
|
| رضی کا شکریہ ادا کیا گیا | ھارون اعظم (24-03-10) |
![]() |
| Tags |
| color, ہے۔, کہانی, گوگل, پڑی, پاکستان, یوم, نام, نظر, ملک, منظور, مطابق, اسلامی, بار, بدل, تلاش, تحریر, جائے, دیکھا, دے, سوچ, شروع, عوام, عجیب, صفحہ |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|