واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > تجارتی زندگی



تجارتی زندگی تجارتی زندگی


فاروق اور کنعان کے مابین کاروباری شراکت

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 12-11-11, 05:48 PM   #1
فاروق اور کنعان کے مابین کاروباری شراکت
کنعان کنعان آن لائن ہے 12-11-11, 05:48 PM

السلام علیکم جناب من فاروق صاحب

میری دعوت اور مراسلہ کے مطابق آپ جیسا معتبر بندہ دوسروں کی طرف سے پیش کئے گئے مذھبی لیکچرز پر ایک لائن لکھ دے "یہ کہانیاں ہیں" اور خود کو 28 سال سے قرآن کا طالب علموں کا حافظ جانے، اور جواب دینے میں خود بھی غلطی کر جائے تو ایسا عمل بےکار ہوتا ھے بالکل اسی طرح جیسا آپ نے اپنے ایک نقاط میں لکھی

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
یاد رکھئے انصاف وہ ہے جو آپ کی طرف سے دیکھیں‌ تو بھی درست نظر آئے اور میری طرف آپ بیٹھ کر دیکھیں تو بھی درست نظر آئے۔
جس ذاتی عبارت کو سورت الطلاق کی آیت نمبر ایک اور دو کے ساتھ ملایا گیا تھا میں نے اس پر آپکی رائے مانگی تھی، آپ آ تو گئے مگر جواب نہ بن پانے پر وہی سائنس اور حساب جیسے مراسلہ کی طرح اس مرتبہ ایک کاروباری مراسلہ پیش کر دیا جس میں مجھے اس پر بھی کوئی ۔۔۔۔۔۔؟ نظر نہیں آئی۔

آپکا مراسلہ میرے اعتراض پر غیر متعلقہ اس لئے تھا کہ ایسی کہانیوں میں ہمیشہ بحث مباحثہ خطرناک نتائج کا حامل ہوتا ھے اور میں ایسے غیر متعلقہ مراسلوں میں قدم نہیں رکھتا، مگر کوشش کروں گا کہ آپکی خوش فہمی ضرور دور کر سکوں، اس لئے عقلمندی اسی میں ہوتی ھے کہ جس بات پر اعتراض کیا گیا ھے اسی کا جواب دیا جائے اور اگر جواب نہ آتا ہو تو یہ چودہ نکاتی اجنڈہ پیش کرنے سے بہتر ھے خاموشی اختیار کی جائے، کسی کے اعتراض میں جواب نہ ملنے پر بلاوجہ اپنے چودہ نکات پیش کرنے کی عادت اب چھوٹ جانی چاہئے


(جاری ھے)
مکمل ہونے تک صبر کا دامن نہ چھوٹنے پائے
__________________



 
کنعان's Avatar
کنعان
ذیلی ناظم
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,500
شکریہ: 13,503
4,906 مراسلہ میں 16,695 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 713
Reply With Quote
11 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (12-11-11), shafresha (12-11-11), skjatala (12-11-11), ننھا بچہ (12-11-11), محمد یاسرعلی (13-11-11), ابن آدم (22-11-11), احمد نذیر (22-11-11), بنت حوا (12-11-11), رضی (12-11-11), عادل سہیل (19-11-11), عدنان دانی (13-11-11)
پرانا 12-11-11, 07:34 PM   #2
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,500
کمائي: 118,597
شکریہ: 13,503
4,906 مراسلہ میں 16,695 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں

آپ نے بلایا، میں‌ آگیا ۔ شکریہ ۔ اب آپ کے لئے ایک پروپوژل

کنعان آپ ایسا کیجئے کہ آپ میرے ساتھ کاروبار کیجئے۔ شرائط یہ ہیں۔

لیز میں‌لیتا ہوں، میرے اور میری کمپنی کے نام ہوگی۔ کاروبار میرے نام سے رجسٹر ہوگا۔ (‌ جس طرح گھر ، لڑکے اور اس کے خاندان کا ہوتا ہے)

پیسے آپ لگائیں گے ۔ یعنی پیسہ آپ کا ہوگا۔ اور کام بھی آپ کریں‌ گے۔
(‌جس طرح عورت اپنے بدن میں‌اولاد پالتی ہے اور کام کرتی ہے)

آپ سب اپریشن چلائیں گے، صفائی کریں گے ، سیل کریں گے
(‌جس طرح عورت گھر میں اولاد پالتی ہے، گھر چلاتی ہے )

جب یہ کاروبار خوب کامیاب ہو جائے گا تو ہم آپ کو تین مرتبہ زبان سے کہیں‌گے کہ "باہر نکلو، باہر نکلو، باہر نکلو" اور آپ چپ چاپ یہ دکان چھوڑ کر چلے جائیں گے
(‌جیسے آپ کہتے ہیں کہ طلاق شدہ عورت "لڑکے کا مکان" چھوڑ کر چلی جائے)۔

آپ کے کاروبار چھوڑ کر جانے کی صورت میں کوئی "حکم" یعنی جج نہیں‌ہوگا۔
(‌جس طرح بناء "حکم" کے ، ‌ آپ نے ثابت کرنے کا حکم دیا ہے )

طریقہ کار سو فی صد آپ کا ہے ۔ آپ ان شرائط پر میرے ساتھ کام کرنے پر تیار ہوں گے؟؟؟

یاد رکھئے انصاف وہ ہے جو آپ کی طرف سے دیکھیں‌ تو بھی درست نظر آئے اور میری طرف آپ بیٹھ کر دیکھیں تو بھی درست نظر آئے۔

کیا آپ اس کاروبار سے صرف تین بار "باہر نکلو" کہہ دینے کے بعد نکلنا پسند کریں‌گے؟ اگر ایسا ہے تو رقم تیار کیجئے میں‌ تیار ہوں۔ پہلے بتا دیتا ہوں کہ ان واہیات شرائط پر میں‌ تو کبھی پیسہ نا لگاؤں بیٹی بیاہنا تو بہت ہی دور کی بات ہے ۔۔۔۔

یہ بھی ذہن میں ‌رکھئے کہ " گھر ، گھرانہ " دو افرا د --- میاں اور بیوی " کا مشترکہ کاروبار بھی ہوتا ہے ۔ " گھر اور گھرانے" کے پھلنے پھولنے کے ذمہ دار " میاں اور بیوی " دونوں ہوتے ہیں۔ آپ کا فرمانا یہ ہے کہ اس کاروبار کے ایک فریق کو جو کہ عورت ہے جب چاہے ایک دو جملے کہہ کر نکال باہر کیا جائے؟؟؟؟
جب کہ یہی معزز خاتون ۔ قوم کی تعمیر کا کام کررہی ہیں ۔۔۔۔۔

چند الفاظ ایک معزز خاتون کے تمام حق ختم کر دیں ۔۔۔۔۔۔ایسا کیوں‌ کر مان لیا جائے؟؟؟؟
السلام علیکم جناب من فاروق صاحب

فاروق صاحب آپ جتنے بھی بڑے کاروباری شخصیت ہوں مگر آپ نے میرے ساتھ جو کاروباری شراکت پر مراسلہ لگایا ھے اس سے مجھے نہیں لگتا کہ آپ کاروباری اصولوں سے واقف ہیں۔

محترم آپ نے میرے ساتھ کاروباری شراکت کرنے پر اپنی خواہش بھی ظاہر کی
اور اپنی شرطیں بھی نسب کیں
اور کاروبار نہ کرنے پر بھی خود ہی جواب دے دیا ۔
نیچے والے کوٹنگ مراسلہ میں دیکھ لیں۔


اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
کنعان آپ ایسا کیجئے کہ آپ میرے ساتھ کاروبار کیجئے۔

شرائط یہ ہیں۔
۔
۔
۔

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
کیا آپ اس کاروبار سے صرف تین بار "باہر نکلو" کہہ دینے کے بعد نکلنا پسند کریں‌گے؟ اگر ایسا ہے تو رقم تیار کیجئے میں‌ تیار ہوں۔

پہلے بتا دیتا ہوں کہ ان واہیات شرائط پر میں‌ تو کبھی پیسہ نا لگاؤں

بیٹی بیاہنا تو بہت ہی دور کی بات ہے ۔۔۔۔
آپکی بیٹی بھی میری بیٹی جیسی ھے اس لئے اس پر اس سے اچھا جواب اور کوئی نہیں۔

یہاں یا کسی دوسری جگہ کسی کی بہن بیٹی یا خاندان پر بات نہیں ہو رہی، قرآن مجید میں اللہ سبحان تعالی کے فرمان پر اپنی اپنی رائے دینے پر بات ہو رہی ھے۔

یہ واہیات شرائط آپ نے میری کس رائے پر لکھ دیا ھے جبکہ میں نے تو کوئی واہیات شرط لکھی ہی نہیں۔ کاروباری دعوت بھی آپکی اور شرائط بھی آپکی۔

50 سال کی عمر میں پہنچ کر اکثر بیشتر چند انسانوں کی زندگی "اینٹی بائیوٹکس" سے چلتی ھے اور اس سے دماغی حالت میں بہت اثر پڑتا ھے کہ انسان کو خود یاد نہیں رہتا کہ اس نے کیا لکھنا ھے اور کیا لکھ دیا۔

محترم جناب من آپ شائد 1982 میں امریکہ سفر کے لئے نکلے تھے اور میں نے اس وقت پاکستان میں اپر لیول پر ایک کامیاب کاروبار کیا تھا اپنے والد محترم کے فنانس پر۔

آپ لیز پر کاروباری شراکت کر رہے ہیں یا چڑیاں طوطے بیچنے پر۔

کاروبار کے لئے کسی دوسرے کو شراکت دار بننے کی دعوت اس صورت میں دی جاتی ھے جب خود کے پاس فنانس کی کمی ہو ورنہ بینک سے لون لینے کی نوبت آن پڑتی ھے (جسے کچھ لوگ حرام کی وجہ سے نہیں لینا چاہتے) پھر جس کو دعوت دی جاتی ھے اس کو بتایا جاتا ھے کہ کاروبار میں اس کو پرافٹ میں آپ کتنا حصہ دیں گے اسی طرح اس پر بہت سی ٹرم اینڈ کنڈیشن ہیں اس کے بعد شراکت دار کی مرضی ھے کہ اسے فائدہ نظر آتا ہو تو وہ آپسے معاہدہ کرے گا۔

کاروبار میں انویسٹر کو فائدہ نظر آتا ہو تو وہ شراکت دار بنتا ھے،
کاروبار ڈومیسٹک لیول پر ہو یا کمرشل و انٹرنیشنل لیول پر انوسیٹر جب آفر قبول کر لے تو اس میں قانونی لیگل ڈاکومنٹس تیار کی جاتی ہیں تاکہ مال لینے والا دھوکہ نہ کر جائے۔

آخر میں قرآن مجید کی اس آیت کے ساتھ اپنا جواب ختم کرتا ہوں، اور یقیناً یہ آیت آپکی نظر سے نہیں گزری ہو گی ورنہ آپ کاروباری مراسلہ میں 14 نکات لکھنے سے پہلے سوچ لیتے۔


يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ إِذَا تَدَايَنتُم بِدَيْنٍ إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى فَاكْتُبُوهُ وَلْيَكْتُب بَّيْنَكُمْ كَاتِبٌ بِالْعَدْلِ وَلاَ يَأْبَ كَاتِبٌ أَنْ يَكْتُبَ كَمَا عَلَّمَهُ اللّهُ فَلْيَكْتُبْ وَلْيُمْلِلِ الَّذِي عَلَيْهِ الْحَقُّ وَلْيَتَّقِ اللّهَ رَبَّهُ وَلاَ يَبْخَسْ مِنْهُ شَيْئًا فَإِن كَانَ الَّذِي عَلَيْهِ الْحَقُّ سَفِيهًا أَوْ ضَعِيفًا أَوْ لاَ يَسْتَطِيعُ أَن يُمِلَّ هُوَ فَلْيُمْلِلْ وَلِيُّهُ بِالْعَدْلِ وَاسْتَشْهِدُواْ شَهِيدَيْنِ من رِّجَالِكُمْ فَإِن لَّمْ يَكُونَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ مِمَّن تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ أَن تَضِلَّ إحْدَاهُمَا فَتُذَكِّرَ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى وَلاَ يَأْبَ الشُّهَدَاءُ إِذَا مَا دُعُواْ وَلاَ تَسْأَمُوْاْ أَن تَكْتُبُوْهُ صَغِيرًا أَو كَبِيرًا إِلَى أَجَلِهِ ذَلِكُمْ أَقْسَطُ عِندَ اللّهِ وَأَقْومُ لِلشَّهَادَةِ وَأَدْنَى أَلاَّ تَرْتَابُواْ إِلاَّ أَن تَكُونَ تِجَارَةً حَاضِرَةً تُدِيرُونَهَا بَيْنَكُمْ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَلاَّ تَكْتُبُوهَا وَأَشْهِدُوْاْ إِذَا تَبَايَعْتُمْ وَلاَ يُضَآرَّ كَاتِبٌ وَلاَ شَهِيدٌ وَإِن تَفْعَلُواْ فَإِنَّهُ فُسُوقٌ بِكُمْ وَاتَّقُواْ اللّهَ وَيُعَلِّمُكُمُ اللّهُ وَاللّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ
اے ایمان والو!

جب تم کسی مقررہ مدت تک کے لئے آپس میں قرض کا معاملہ کرو تو اسے لکھ لیا کرو،

اور تمہارے درمیان جو لکھنے والا ہو اسے چاہئے کہ انصاف کے ساتھ لکھے

اور لکھنے والا لکھنے سے انکار نہ کرے جیسا کہ اسے ﷲ نے لکھنا سکھایا ہے،

پس وہ لکھ دے (یعنی شرع اور ملکی دستور کے مطابق وثیقہ نویسی کا حق پوری دیانت سے ادا کرے)،

اور مضمون وہ شخص لکھوائے جس کے ذمہ حق (یعنی قرض) ہو

اور اسے چاہئے کہ ﷲ سے ڈرے جو اس کا پروردگار ہے

اور اس (زرِ قرض) میں سے (لکھواتے وقت) کچھ بھی کمی نہ کرے،

پھر اگر وہ شخص جس کے ذمہ حق واجب ہوا ہے ناسمجھ یا ناتواں ہو یا خود مضمون لکھوانے کی صلاحیت نہ رکھتا ہو تو اس کے کارندے کو چاہئے کہ وہ انصاف کے ساتھ لکھوا دے،

اور اپنے لوگوں میں سے دو مردوں کو گواہ بنا لو،

پھر اگر دونوں مرد میسر نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں ہوں (یہ) ان لوگوں میں سے ہوں جنہیں تم گواہی کے لئے پسند کرتے ہو (یعنی قابلِ اعتماد سمجھتے ہو) تاکہ ان دو میں سے ایک عورت بھول جائے تو اس ایک کو دوسری یاد دلا دے،

اور گواہوں کو جب بھی (گواہی کے لئے) بلایا جائے وہ انکار نہ کریں،

اور معاملہ چھوٹا ہو یا بڑا اسے اپنی میعاد تک لکھ رکھنے میں اکتایا نہ کرو،

یہ تمہارا دستاویز تیار کر لینا ﷲ کے نزدیک زیادہ قرینِ انصاف ہے اور گواہی کے لئے مضبوط تر

اور یہ اس کے بھی قریب تر ہے کہ تم شک میں مبتلا نہ ہو سوائے اس کے کہ دست بدست ایسی تجارت ہو جس کا لین دین تم آپس میں کرتے رہتے ہو

تو تم پر اس کے نہ لکھنے کا کوئی گناہ نہیں،

اور جب بھی آپس میں خرید و فروخت کرو تو گواہ بنا لیا کرو،

اور نہ لکھنے والے کو نقصان پہنچایا جائے

اور نہ گواہ کو،

اور اگر تم نے ایسا کیا تو یہ تمہاری حکم شکنی ہو گی،

اور ﷲ سے ڈرتے رہو،

اور ﷲ تمہیں (معاملات کی) تعلیم دیتا ہے

اور ﷲ ہر چیز کا خوب جاننے والا ہے

2:282

جناب من فاروق صاحب آپکی شرائط قرآن مجید کی اس آیت/ اللہ سبحان تعالی کے فرمان کے مطابق نہیں ہیں اس لئے میں آپکے ساتھ کسی بھی قسم کی کاروباری شراکت کرنے سے معذرت چاہتا ہوں اس لئے آپ اپنے جیسا کوئی دوسرا دیکھ لیں تب تک میں رانا صاحب کے مراسلہ پر رائے لکھنے کی کوشش کرتا ہوں

والسلام
کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
11 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
asakpke (22-11-11), dxbgraphics (12-11-11), shafresha (12-11-11), skjatala (12-11-11), فاروق سرورخان (13-11-11), ننھا بچہ (12-11-11), مہتاب (13-11-11), ابن آدم (22-11-11), احمد نذیر (22-11-11), عادل سہیل (19-11-11), عبداللہ حیدر (12-11-11)
پرانا 12-11-11, 09:34 PM   #3
Senior Member

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,222
کمائي: 77,430
شکریہ: 9,129
3,023 مراسلہ میں 11,135 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

السلام علیکم،
کنعان چچا۔ خان صاحب اور ان کی ٹیم اپنے فہم کو قرآن کے نام پر پیش کرتی ہے۔ صحیح احادیث، صحابہ، تابعین اور ائمہ امت کے کتنے ہی دلائل پیش کر دیے جائیں لیکن ان کا ماننا ہے کہ قرآن بس وہی ہے جو ان کے ذہن میں سماتا ہے، باقی سب کچھ خلاف قرآن ہے۔ ہمارے اور ان کے پیمانے ہی مختلف ہیں تو ہر بات پر اختلاف تو ظاہر ہو گا۔ ہماری تو دعا ہے کہ اللہ آپ کے ذریعے ہی کچھ سمجھا دے، ہماری بات تو سالہا سال سے انہیں‌سمجھ نہیں آ رہی۔
عبداللہ حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (12-11-11), ہادی (13-11-11), کنعان (12-11-11), ابن آدم (22-11-11), راجہ اکرام (13-11-11), عادل سہیل (19-11-11), عبیداللہ عبید (23-11-11)
پرانا 13-11-11, 10:59 AM   #4
Senior Member
 
مہتاب's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2010
مراسلات: 2,033
کمائي: 22,538
شکریہ: 862
1,306 مراسلہ میں 2,830 بارشکریہ ادا کیا گیا
مہتاب کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں مہتاب کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

کنعان بھائی فہم قرآن کی دعوت کا شکریہ ۔۔۔۔۔۔ جزاک اللہ
مہتاب آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے مہتاب کا شکریہ ادا کیا
کنعان (22-11-11), ابن آدم (22-11-11)
پرانا 21-11-11, 11:22 PM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,853
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,688 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ،
جزاک اللہ خیرا ، کنعان بھائی ، اللہ آپ کی یہ کوشش بھی قبول فرمائے ، بے شک وہ ہر چیز پر قادر ہے ، عین ممکن ہے کہ اللہ سُبحانہ ُ و تعالیٰ آپ کی باتیں اللہ کے کلام کو اپنی عقلوں کے مطابق سمجھنے والوں ، اللہ کے احکام کو اپنے معاشرے کی عادات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرنے والوں ، اللہ کے احکام کی تضحیک کرنے والوں کو کچھ درست راہ دیکھنے والی بنا دے ، ایک دفعہ پھر دعا ہے کہ جزاک اللہ احسن الجزاء و السلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب
ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (22-11-11), کنعان (22-11-11), ابن آدم (22-11-11), راجہ اکرام (22-11-11)
پرانا 22-11-11, 09:43 AM   #6
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: یہیں کہیں آس پاس
مراسلات: 2,040
کمائي: 55,124
شکریہ: 11,770
1,558 مراسلہ میں 4,848 بارشکریہ ادا کیا گیا
نورالدین کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں نورالدین کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

معاملہ کچھ سمجھ نہیں آیا ۔ کہ یہ سب آخر ہو کیا رہا ہے ۔ ؟
اس نورا کشتی میں زور کس موضوع پر ہے ۔ ؟
__________________
انسان کو زندگی میں وہی کام کرنا چاہیے جس کی اسے ضرورت ہو ۔
نورالدین آن لائن ہے   Reply With Quote
نورالدین کا شکریہ ادا کیا گیا
فیصل ناصر (24-11-11)
پرانا 23-11-11, 05:34 PM   #7
Senior Member
 
مہتاب's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2010
مراسلات: 2,033
کمائي: 22,538
شکریہ: 862
1,306 مراسلہ میں 2,830 بارشکریہ ادا کیا گیا
مہتاب کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں مہتاب کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

فہم قران ہونے کی غلط فہمی دور کرنے کیلئے
مہتاب آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 23-11-11, 06:38 PM   #8
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مقام: پاکستان
مراسلات: 1,761
کمائي: 26,282
شکریہ: 912
1,266 مراسلہ میں 2,890 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبیداللہ عبید کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبیداللہ عبید کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبیداللہ عبید کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اس بارے میں چچا جان کی موقف سامنے نہیں آئی کیوں ؟؟
عبیداللہ عبید آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
color, ہوتا, کوئی, کوشش, کنعان, قدم, قرآن, نظر, ملنے, مذھبی, مطابق, اپنے, جواب, جائے, حامل, خود, خوش, دے, سال, سائنس, عقلمندی, عادت, عبارت, غلطی, صبر


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 03:48 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger