| تجارتی زندگی تجارتی زندگی |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | ||||
|
|||||
|
مناظر: 713
|
|||||
| 11 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا | dxbgraphics (12-11-11), shafresha (12-11-11), skjatala (12-11-11), ننھا بچہ (12-11-11), محمد یاسرعلی (13-11-11), ابن آدم (22-11-11), احمد نذیر (22-11-11), بنت حوا (12-11-11), رضی (12-11-11), عادل سہیل (19-11-11), عدنان دانی (13-11-11) |
|
|
#2 | ||
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,500
کمائي: 118,597
شکریہ: 13,503
4,906 مراسلہ میں 16,695 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
فاروق صاحب آپ جتنے بھی بڑے کاروباری شخصیت ہوں مگر آپ نے میرے ساتھ جو کاروباری شراکت پر مراسلہ لگایا ھے اس سے مجھے نہیں لگتا کہ آپ کاروباری اصولوں سے واقف ہیں۔ محترم آپ نے میرے ساتھ کاروباری شراکت کرنے پر اپنی خواہش بھی ظاہر کی اور اپنی شرطیں بھی نسب کیں اور کاروبار نہ کرنے پر بھی خود ہی جواب دے دیا ۔ نیچے والے کوٹنگ مراسلہ میں دیکھ لیں۔ اقتباس:
یہاں یا کسی دوسری جگہ کسی کی بہن بیٹی یا خاندان پر بات نہیں ہو رہی، قرآن مجید میں اللہ سبحان تعالی کے فرمان پر اپنی اپنی رائے دینے پر بات ہو رہی ھے۔ یہ واہیات شرائط آپ نے میری کس رائے پر لکھ دیا ھے جبکہ میں نے تو کوئی واہیات شرط لکھی ہی نہیں۔ کاروباری دعوت بھی آپکی اور شرائط بھی آپکی۔ 50 سال کی عمر میں پہنچ کر اکثر بیشتر چند انسانوں کی زندگی "اینٹی بائیوٹکس" سے چلتی ھے اور اس سے دماغی حالت میں بہت اثر پڑتا ھے کہ انسان کو خود یاد نہیں رہتا کہ اس نے کیا لکھنا ھے اور کیا لکھ دیا۔ محترم جناب من آپ شائد 1982 میں امریکہ سفر کے لئے نکلے تھے اور میں نے اس وقت پاکستان میں اپر لیول پر ایک کامیاب کاروبار کیا تھا اپنے والد محترم کے فنانس پر۔ آپ لیز پر کاروباری شراکت کر رہے ہیں یا چڑیاں طوطے بیچنے پر۔ کاروبار کے لئے کسی دوسرے کو شراکت دار بننے کی دعوت اس صورت میں دی جاتی ھے جب خود کے پاس فنانس کی کمی ہو ورنہ بینک سے لون لینے کی نوبت آن پڑتی ھے (جسے کچھ لوگ حرام کی وجہ سے نہیں لینا چاہتے) پھر جس کو دعوت دی جاتی ھے اس کو بتایا جاتا ھے کہ کاروبار میں اس کو پرافٹ میں آپ کتنا حصہ دیں گے اسی طرح اس پر بہت سی ٹرم اینڈ کنڈیشن ہیں اس کے بعد شراکت دار کی مرضی ھے کہ اسے فائدہ نظر آتا ہو تو وہ آپسے معاہدہ کرے گا۔ کاروبار میں انویسٹر کو فائدہ نظر آتا ہو تو وہ شراکت دار بنتا ھے، کاروبار ڈومیسٹک لیول پر ہو یا کمرشل و انٹرنیشنل لیول پر انوسیٹر جب آفر قبول کر لے تو اس میں قانونی لیگل ڈاکومنٹس تیار کی جاتی ہیں تاکہ مال لینے والا دھوکہ نہ کر جائے۔ آخر میں قرآن مجید کی اس آیت کے ساتھ اپنا جواب ختم کرتا ہوں، اور یقیناً یہ آیت آپکی نظر سے نہیں گزری ہو گی ورنہ آپ کاروباری مراسلہ میں 14 نکات لکھنے سے پہلے سوچ لیتے۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ إِذَا تَدَايَنتُم بِدَيْنٍ إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى فَاكْتُبُوهُ وَلْيَكْتُب بَّيْنَكُمْ كَاتِبٌ بِالْعَدْلِ وَلاَ يَأْبَ كَاتِبٌ أَنْ يَكْتُبَ كَمَا عَلَّمَهُ اللّهُ فَلْيَكْتُبْ وَلْيُمْلِلِ الَّذِي عَلَيْهِ الْحَقُّ وَلْيَتَّقِ اللّهَ رَبَّهُ وَلاَ يَبْخَسْ مِنْهُ شَيْئًا فَإِن كَانَ الَّذِي عَلَيْهِ الْحَقُّ سَفِيهًا أَوْ ضَعِيفًا أَوْ لاَ يَسْتَطِيعُ أَن يُمِلَّ هُوَ فَلْيُمْلِلْ وَلِيُّهُ بِالْعَدْلِ وَاسْتَشْهِدُواْ شَهِيدَيْنِ من رِّجَالِكُمْ فَإِن لَّمْ يَكُونَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ مِمَّن تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ أَن تَضِلَّ إحْدَاهُمَا فَتُذَكِّرَ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى وَلاَ يَأْبَ الشُّهَدَاءُ إِذَا مَا دُعُواْ وَلاَ تَسْأَمُوْاْ أَن تَكْتُبُوْهُ صَغِيرًا أَو كَبِيرًا إِلَى أَجَلِهِ ذَلِكُمْ أَقْسَطُ عِندَ اللّهِ وَأَقْومُ لِلشَّهَادَةِ وَأَدْنَى أَلاَّ تَرْتَابُواْ إِلاَّ أَن تَكُونَ تِجَارَةً حَاضِرَةً تُدِيرُونَهَا بَيْنَكُمْ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَلاَّ تَكْتُبُوهَا وَأَشْهِدُوْاْ إِذَا تَبَايَعْتُمْ وَلاَ يُضَآرَّ كَاتِبٌ وَلاَ شَهِيدٌ وَإِن تَفْعَلُواْ فَإِنَّهُ فُسُوقٌ بِكُمْ وَاتَّقُواْ اللّهَ وَيُعَلِّمُكُمُ اللّهُ وَاللّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ اے ایمان والو! جب تم کسی مقررہ مدت تک کے لئے آپس میں قرض کا معاملہ کرو تو اسے لکھ لیا کرو، اور تمہارے درمیان جو لکھنے والا ہو اسے چاہئے کہ انصاف کے ساتھ لکھے اور لکھنے والا لکھنے سے انکار نہ کرے جیسا کہ اسے ﷲ نے لکھنا سکھایا ہے، پس وہ لکھ دے (یعنی شرع اور ملکی دستور کے مطابق وثیقہ نویسی کا حق پوری دیانت سے ادا کرے)، اور مضمون وہ شخص لکھوائے جس کے ذمہ حق (یعنی قرض) ہو اور اسے چاہئے کہ ﷲ سے ڈرے جو اس کا پروردگار ہے اور اس (زرِ قرض) میں سے (لکھواتے وقت) کچھ بھی کمی نہ کرے، پھر اگر وہ شخص جس کے ذمہ حق واجب ہوا ہے ناسمجھ یا ناتواں ہو یا خود مضمون لکھوانے کی صلاحیت نہ رکھتا ہو تو اس کے کارندے کو چاہئے کہ وہ انصاف کے ساتھ لکھوا دے، اور اپنے لوگوں میں سے دو مردوں کو گواہ بنا لو، پھر اگر دونوں مرد میسر نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں ہوں (یہ) ان لوگوں میں سے ہوں جنہیں تم گواہی کے لئے پسند کرتے ہو (یعنی قابلِ اعتماد سمجھتے ہو) تاکہ ان دو میں سے ایک عورت بھول جائے تو اس ایک کو دوسری یاد دلا دے، اور گواہوں کو جب بھی (گواہی کے لئے) بلایا جائے وہ انکار نہ کریں، اور معاملہ چھوٹا ہو یا بڑا اسے اپنی میعاد تک لکھ رکھنے میں اکتایا نہ کرو، یہ تمہارا دستاویز تیار کر لینا ﷲ کے نزدیک زیادہ قرینِ انصاف ہے اور گواہی کے لئے مضبوط تر اور یہ اس کے بھی قریب تر ہے کہ تم شک میں مبتلا نہ ہو سوائے اس کے کہ دست بدست ایسی تجارت ہو جس کا لین دین تم آپس میں کرتے رہتے ہو تو تم پر اس کے نہ لکھنے کا کوئی گناہ نہیں، اور جب بھی آپس میں خرید و فروخت کرو تو گواہ بنا لیا کرو، اور نہ لکھنے والے کو نقصان پہنچایا جائے اور نہ گواہ کو، اور اگر تم نے ایسا کیا تو یہ تمہاری حکم شکنی ہو گی، اور ﷲ سے ڈرتے رہو، اور ﷲ تمہیں (معاملات کی) تعلیم دیتا ہے اور ﷲ ہر چیز کا خوب جاننے والا ہے 2:282 جناب من فاروق صاحب آپکی شرائط قرآن مجید کی اس آیت/ اللہ سبحان تعالی کے فرمان کے مطابق نہیں ہیں اس لئے میں آپکے ساتھ کسی بھی قسم کی کاروباری شراکت کرنے سے معذرت چاہتا ہوں اس لئے آپ اپنے جیسا کوئی دوسرا دیکھ لیں تب تک میں رانا صاحب کے مراسلہ پر رائے لکھنے کی کوشش کرتا ہوں والسلام |
||
|
|
|
| 11 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا | asakpke (22-11-11), dxbgraphics (12-11-11), shafresha (12-11-11), skjatala (12-11-11), فاروق سرورخان (13-11-11), ننھا بچہ (12-11-11), مہتاب (13-11-11), ابن آدم (22-11-11), احمد نذیر (22-11-11), عادل سہیل (19-11-11), عبداللہ حیدر (12-11-11) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() |
السلام علیکم،
کنعان چچا۔ خان صاحب اور ان کی ٹیم اپنے فہم کو قرآن کے نام پر پیش کرتی ہے۔ صحیح احادیث، صحابہ، تابعین اور ائمہ امت کے کتنے ہی دلائل پیش کر دیے جائیں لیکن ان کا ماننا ہے کہ قرآن بس وہی ہے جو ان کے ذہن میں سماتا ہے، باقی سب کچھ خلاف قرآن ہے۔ ہمارے اور ان کے پیمانے ہی مختلف ہیں تو ہر بات پر اختلاف تو ظاہر ہو گا۔ ہماری تو دعا ہے کہ اللہ آپ کے ذریعے ہی کچھ سمجھا دے، ہماری بات تو سالہا سال سے انہیںسمجھ نہیں آ رہی۔ |
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | shafresha (12-11-11), ہادی (13-11-11), کنعان (12-11-11), ابن آدم (22-11-11), راجہ اکرام (13-11-11), عادل سہیل (19-11-11), عبیداللہ عبید (23-11-11) |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,853
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,688 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ،
جزاک اللہ خیرا ، کنعان بھائی ، اللہ آپ کی یہ کوشش بھی قبول فرمائے ، بے شک وہ ہر چیز پر قادر ہے ، عین ممکن ہے کہ اللہ سُبحانہ ُ و تعالیٰ آپ کی باتیں اللہ کے کلام کو اپنی عقلوں کے مطابق سمجھنے والوں ، اللہ کے احکام کو اپنے معاشرے کی عادات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرنے والوں ، اللہ کے احکام کی تضحیک کرنے والوں کو کچھ درست راہ دیکھنے والی بنا دے ، ایک دفعہ پھر دعا ہے کہ جزاک اللہ احسن الجزاء و السلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() |
فہم قران ہونے کی غلط فہمی دور کرنے کیلئے
|
|
|
|
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() |
اس بارے میں چچا جان کی موقف سامنے نہیں آئی کیوں ؟؟
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, ہوتا, کوئی, کوشش, کنعان, قدم, قرآن, نظر, ملنے, مذھبی, مطابق, اپنے, جواب, جائے, حامل, خود, خوش, دے, سال, سائنس, عقلمندی, عادت, عبارت, غلطی, صبر |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|