واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > علوم قرآن کریم > ترجمہ و تفسیر



ترجمہ و تفسیر ترجمہ و تفسیر


مفتی تقی عثمانی صاحب کا "آسان ترجمۂ قرآن" ۔۔ تعارف و تبصرہ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات درجہ بندی: موضوع  کی درجہ بندی:  1 ووٹ 5.00 اوسط ظاہری انداز
پرانا 12-05-09, 12:05 AM  
مفتی تقی عثمانی صاحب کا "آسان ترجمۂ قرآن" ۔۔ تعارف و تبصرہ
احمد غزنوی احمد غزنوی آف لائن ہے 12-05-09, 12:05 AM
درجہ بندی: (1 votes - 5.00 average)

السلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ
مفتی تقی عثمانی حفظہ اللہ کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ حال ہی میں مفتی صاحب کا ترجمۂ قرآن مجید بنام "آسان ترجمۂ قرآن" کراچی سے شائع ہوکر منظرِ عام پر آیا ہے۔ مفتی ابولُبابہ نے اپنے دو مضامین میں اس ترجمہ کا عمدہ تعارف و تبصرہ پیش کیا ہے۔ میں نے یہی دو مضامین تلخیص کے ساتھ یکجا کرنے کی کوشش کی ہے جو آپ آئندہ سطور میں ملاحظہ کریں گے۔
دعا ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالی ان کی امثال و اتباع میں اضافہ فرمائیں اور ان سمیت تمام علمائے حق کو درازیٔ عمر کے ساتھ دین کی مزید خدمت کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

"سنجیدہ تحریروں کا آغاز عموماً کسی لطیفے سے نہیں کیا جاتا۔ مگر زیر نظر مضمون کے سنجیدگی کے آخری حد کا متقاضی ہونے کے باوجود اس کا آغاز ایک لطیفے سے کرنے کو دل چاہتا ہے۔ وجہ اس کی صرف یہی نہیں کہ لطیفہ بامعنی اور صورتِ حال ۔۔۔ دل چاہے تو "لطفِ حال" کہہ لیں۔۔۔ پر پوری طرح منطبق ہے بلکہ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جو کچھ لطیفے کے مرکزی کردار پر گزری، یہ ایک عرصہ تک خود کالم نگار پر گزرتی رہی ہے۔

لطیفہ کچھ یوں ہے کہ ایک مرتبہ ایک خان صاحب نے مولانا صاحب سے وعظ میں سن لیا کہ ہندو کاپر (کافر) ہے اس لیے کہ کلمہ نہیں پڑھتا۔ خان صاحب کو اس پر طیش آیا کہ اس کی یہ جرأت کہ یہ کلمہ نہیں پڑھتا اور ہمارے سامنے دندناتا پھرتا ہے۔ ایک لالہ جی کی جو شامت آئی تو ادھر کو آنکلے۔ خان صاحب نے جھٹ سے گردن ناپی، دھوبی پٹخا مارا اور زمین پر دے پٹخ، سینے پر سوار ہوگئے۔ "خوچہ! کاپر کا بچہ! تم وہی ہے جو کلمہ نہیں پڑھتا"۔ لالہ جی کو جان چھٹتی نظر آرہی تھی نہ بچتی۔ مرتے کیا نہ کرتے۔ لجاجت سے التجا کی کہ کلمہ پڑھا دیجیے تاکہ زمین بوسی اور زبردستی کی "خان سواری" سے تو نجات ملے۔ لالہ جی کی آمادگی کا مسئلہ جب حل ہوا تو خان صاحب کو احساس ہوا کہ اگلا مسئلہ اس سے بھی سنگین ہے اور وہ یہ ہے کہ کلمہ شریف خود ان کو بھی نہیں آتا تھا!!!

اس عاجز کو "فہم دین کورس" کے دوران جس صورتحال سے سابقہ پڑا، وہ خان صاحب کی "خود آگاہی" کے بعد پیدا ہونے والی سنگین صورتحال سے کچھ مختلف نہ تھی۔ فرق تھا تو اتنا کہ خان صاحب کیلئے لالہ جی کے سینے سے اترنا اور اپنی راہ لینا آسان تھا، جبکہ ہمارے لیے "فہم دین کورس" کا آغاز ہوجانے کے بعد حاضرین کو ۔۔۔ جو صدقِ طلب سے سرشار تھے ۔۔۔ مطمئن کرنا نہایت مشکل تھا۔ جان چھڑانا تو اس سے بھی سوا مشکلات پیدا کرتا بلکہ عار کا سبب تھا۔

مسئلہ یہ درپیش تھا کہ درس دینے والے علماء حضرات کی زبان اور اس میں پیش کردہ ترجمۂ قرآن "عربک اردو" یا "پرشین اردو" میں ہوتا تھا۔ اور سامعین "اینگلو اردو" کے عادی تھے۔ مدرسین حضرات اپنی گفتگو میں فارسی اور عربی کے عالمانہ الفاظ اور خوبصورت ترکیبیں بلا تکلف استعمال کرتے تھے جبکہ وہ جدید تعلیم یافتہ طبقہ جو "شاگرد" کے طور پر ان کے سامنے موجود تھا، وہ اس معیاری اور شاندار اردو کو سمجھنے سے قاصر تھا۔ اسے کس طرح قرآن کریم کا آسان ترجمہ سمجھایا جائے؟ وہ کون سی مختصر تشریح ہو جو قرآن کا بنیادی پیغام ان کے دل میں اُتار دے؟ اور ضعیف روایات اور فقہی اختلافات سے ہٹ کر مستند بات اور قول مختار ان کے ذہن نشین ہوجائے؟

اردو میں ایسا ترجمہ و تشریح دستیاب نہ تھی جو ایک طرف تو علمی و تحقیقی اعتبار سے مستند ہو، دوسری طرف اس کی زبان اتنی آسان اور معیاری ہو کہ کم پڑھے لکھے افراد اور جدید تعلیم یافتہ ہونے کا اعزاز حاصل کرنے والے، سب کیلئے یکساں طور پر مفید اور کار آمد ہو۔ علم و ادب کے امتزاج کی سب سے زیادہ جس موضوع کو ضرورت تھی، اس کی طرف اتنی ہی کم توجہ کی جارہی تھی۔

بات خان صاحب کے "سینہ زور" لطیفے سے شروع ہوئی تھی اور کہاں جاپہنچی؟ خان صاحب کو خدا جانے بعد میں کلمہ سمجھنے اور لالہ جی کو پڑھانے کا موقع ملا یا نہ ملا، لیکن ہمیں اُس وقت اس مہیب خلا کے پُر ہونے اور عامۃ المسلمین کے سامنے شرمندگی سے بچنے کا ذریعہ دستیاب ہونے کا یقین ہوگیا جب تقریباً دو سال قبل سنا کہ عصر حاضر کی نابغہ روزگار شخصیت، مفکر اسلام، مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم، قرآن کریم کا اُردو ترجمہ لکھ رہے ہیں۔ سال ڈیڑھ سال ہونے کو آیا کہ حضرت کا انگریزی میں ترجمۂ قرآن کریم چھپ کر منظر عام پر آیا۔ یہ ایسی ضرورت تھی جو اسلام اور انگریز یا عربی اور انگریزی کی عالمی معرکہ آرائی شروع ہونے سے لے کر آج تک پوری نہ ہوئی تھی۔ اس سے پہلے انگریزی میں جو ترجمے تھے۔ وہ کسی ایسے عالم کی کاوشوں کا نتیجہ نہ تھے جو علومِ دینیہ میں رسوخ کے ساتھ انگریزی زبان پر بھی براہِ راست اور بذاتِ خود عبور رکھتا ہو۔ انگریزی تراجم یا تو غیر مسلموں کے تھے یا نو مسلموں کے، یا پھر ایسے اہلِ اسلام کے جو علومِ عربیت اور علومِ دینیہ پر اتنی گہری نظر نہ رکھتے تھے جو اس نازک علمی کام کیلئے اور پھر اس کام کے معیار و مستند ہونے کیلئے درکار ہوتا ہے۔ قرآن کریم کا قرض اُتارنا تو انسان کی استطاعت سے باہر ہے لیکن عوام کے قرض کی پہلی قسط جو انگریزی ترجمے کی شکل میں ادا ہوئی تھی، آج اُس کی دوسری قسط اردو ترجمے کی شکل میں ادا ہونے کی صورت پیدا ہوگئی ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ دونوں کیلئے اللہ تعالی نے ایک ہی شخصیت کو قبول فرمایا اور ان سے لیے گئے دونوں کام ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر عمدہ اور معیاری نکلے۔ اردو ترجمے سے یہاں ہماری مراد "آسان ترجمۂ قرآن" کے نام سے سامنے آنے والا وہ اسم با مسمی ترجمہ ہے جو مفتی تقی عثمانی صاحب نے کیا ہے۔

قرآن کریم کے ترجمے کیلئے دو چیزیں ضروری ہیں۔ ایک تو دینی علوم اور خصوصاً علوم عربیت میں مہارت اور دوسرے متعلقہ زبان پر عبور اور اس کی باریکیوں پر گہری نظر۔ ہم محولہ بالا ترجمہ قرآن پر ان دونوں حوالوں سے گفتگو کریں گے۔

علوم دینیہ میں رسوخ
علمائے اسلام نے لکھا ہے کہ قرآن کریم کی تفسیر کیلئے پندرہ علوم میں مہارت ضروری ہے۔ عقائد، قرأت، حدیث، فقہ، اصول فقہ، اسباب نزول، ناسخ و منسوخ اور سات علوم عربیت (یعنی صرف و نحو، لغت، اشتقاق اور معانی، بیان، بدیع) درج بالا شرط کے حوالے سے دیکھا جائے تو حضرت کی اب تک کی ساری زندگی انہی علوم کے پڑھنے پڑھانے میں گزری ہے۔ آپ 1960ء سے تاحال (یعنی تقریباً نصف صدی ہوگئی) مختلف اسلامی علوم کی تدریس کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ نیز دینی و ادبی موضوعات پر آپ کی تصانیف پر نگاہ ڈالی جائے تو اب تک کم و بیش 64 کے قریب کتابیں چھپ کر منظر عام پر آچکی ہیں جن میں سے 5 عربی میں، 53 اردو میں اور 22 انگریزی میں ہیں جبکہ 14 کتابوں کا انگریزی میں ترجمہ بھی شائع ہوچکا ہے۔ ان تصنیفات میں سے علوم القرآن پر 7، علوم الحدیث پر 6، علم الفقہ والفتویٰ پر 14 کتابیں ہیں۔ بقیہ کتب بھی علمی، ادبی اور اصلاحی موضوعات پر ہیں یا تقاریر، اصلاحی بیانات اور سبقی دروس کے مجموعے ہیں۔

ہمارے ہاں بہت سے ڈاکٹرز، پروفیسرز اور اسکالرز ہیں جن کا "درس قرآن" کے حوالے سے طوطی بولتا ہے۔ علمائے کرام جب خیر خواہی کا فرض ادا کرتے ہوئے ان حضرات سے "استفادہ" سے منع کرتے ہیں تو قدرتی طور پر عوام کا سوال ہوتا ہے: "کیوں؟ آخر ان کا درس سننے میں حرج ہی کیا ہے؟ اتنی پُر مغز اور دلنشیں باتیں ہوتی ہیں۔ علمائے کرام کو تو لگتا ہے جدت پسندوں سے اللہ واسطے کا بیر ہے۔۔۔! مگر انصاف کی نظر سے دیکھا جائے تو۔۔۔ دیگر وجوہات کے علاوہ۔۔۔ ایک بڑی وجہ جو ان اسکالر حضرات کے کام کو "نیکی برباد گناہ لازم" کا مصداق بنادیتی ہے وہ علوم عربیت میں عدم مہارت اور شرعی علوم خصوصاً "علم الفقہ" سے ناواقفیت کے سبب "آیات الاحکام" کی تفسیر میں ان کے اغلوطے اور مغالطے ہیں۔ شرعی احکام (جو علم فقہ کا اصل موضوع ہیں) کے بیان یا استنباط میں ان حضرات کی لڑکھڑاہٹیں اور بوکھلاہٹیں دیکھنے کے قابل ہوتی ہیں جبکہ علمائے کرام کے تراجم یا دروس اس خامی اور عیب سے بحمد اللہ محفوظ ہوتے ہیں۔ مثلاً:
دیکھیے "ظہار" ایک قرآنی فقہی اصطلاح ہے۔ اس کا مخصوص پس منظر اور خاص مفہوم ہے۔ عام مترجم اس کا صحیح صحیح اور معنی کے بالکل قریب لے جانے والا ترجمہ نہیں کرسکتا۔ آیت کریمہ میں ارشاد ہے:

وَمَا جَعَلَ أَزْوَاجَكُمُ اللَّائِي تُظَاهِرُونَ مِنْهُنَّ أُمَّهَاتِكُمْ (الاحزاب: 04)

اس آیت کے مختلف ترجمے دیکھیے۔ آخری ترجمہ محولہ بالا ترجمے کا ہے۔

1: "نہ اس نے تم لوگوں کی ان بیویوں کو جن سے تم ظہار کرتے ہو، تمہاری ماں بنایا ہے۔" (مولانا مودودی)
2: "اور اپنی جن بیویوں کو تم ماں کہہ بیٹھتے ہو، انہیں اللہ نے تمہاری (سچ مچ) کی مائیں نہیں بنایا۔" (مولانا محمد جونا گڑھی)
3: "اور نہیں بنایا اللہ نے تمہاری ان بیویوں کو جنہیں تم ماں کہہ بیٹھتے ہو، تمہاری مائیں۔" (مولانا سید شبیر احمد، قرآن آسان تحریک)
4: "اور تمہاری ان بیویوں کو جنہیں تم ماں کے برابر کہہ دو تمہاری ماں نہیں بنایا۔" (مولانا احمد رضا خاں بریلوی)
5: "اور نہ تمہاری عورتوں کو جن کو تم ماں کہہ بیٹھتے ہو تمہاری ماں بنایا۔" (مولانا فتح محمد جالندھری)
6: "اور تم جن بیویوں کو ماں کی پشت سے تشبیہہ دے دیتے ہو، ان کو تمہاری ماں نہیں بنایا۔" (آسان ترجمۂ قرآن)
ظہار کے حقیقی معنی و مفہوم کو جس میں بیوی کو ماں کی پشت سے تشبیہہ دینے کا عنصر لازمی طور پر شامل ہے، جس خوبصورتی سے حضرت نے ادا کیا ہے، اس کی معنویت کو کچھ وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جو اس کے پس منظر سے آگاہ ہیں۔

ادب سے مناسبت:
ادبی اعتبار سے دیکھا جائے تو آپ کے متعدد شہرۂ آفاق سفرنامے، کالموں کے مجموعی اور شخصی خاکے آپ کے زورِ قلم کی بہترین مثال ہیں۔ آپ کی تحریر میں چاشنی اور اثر آفرینی کے ساتھ سادگی و پرکاری اس قدر خوبصورتی سے گندھی ہوئی ملتی ہے کہ اس کی سحر انگیزی کا قائل ہوئے بغیر چارہ نہیں رہتا۔ عربی اور انگریزی پر تو آپ کو جو عبور ہے سو ہے، اُردو تو آپ کے گھر کی لونڈی ہے۔ نثر ہو یا نظم، تقریر ہو یا تحریر، تحقیقی مضامین ہوں یا تفریحی یادداشتیں۔۔۔ آپ کا قلم ہر میدان میں لوہا منوا چکا ہے اور تقریباً جملہ اصنافِ تحریر ہی آپ کی جولان گاہ رہ چکی ہیں۔ زبان و بیان پر آپ کی گرفت اور ٹھیٹھ محاوراتی ٹکسالی اردو پر عبور کے ساتھ آپ کے فطری ادبی ذوق کی حسین پرچھائیں آپ کے اس ترجمے میں واضح نظر آتی ہے۔ کچھ ترجمے تو ایسے بے ساختہ اور برمحل ہیں کہ سبحان اللہ! پڑھنے والا جھوم ہی جائے۔ مثلاً:
هَيْتَ لَكَ
"آ بھی جاؤ" (یوسف:23)
فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ
"ان کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔" (الشمس:14)
وَزِيَادَةٌ
"اور اس سے بڑھ کر کچھ اور بھی۔" (یونس:26)

ادبِ عالمی کے ذوق اور اس سے فطری مناسب کی بناء پر اس ترجمے میں ایک طرف تو نَسْيًا مَنْسِيًّا (بھولی بسری)، قِسْمَةٌ ضِيزَى (بھونڈی تقسیم)، سَبْحًا طَوِيلًا (لمبی مصروفیت) جیسی تراکیب کے بامحاورہ ترجمے دیکھنے کو ملتے ہیں تو دوسری طرف درج ذیل جملوں میں کی گئی ترجمانی پر بھی ذرا ایک نظر ڈالیے جو لفظی اور آزاد ترجمہ کی درمیانی روش کی عمدہ مثالیں ہیں:
مَا لِيَ لَا أَرَى الْهُدْهُدَ
کیا بات ہے؟ مجھے ہُدہُد نظر نہیں آرہا۔" (النمل:20)
ظُلُمَاتٌ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ
"غرض اوپر تلے اندھیرے ہی اندھیرے۔" (النور:40)
فَاقْضِ مَا أَنْتَ قَاضٍ
"اب تمہیں جو کچھ کرنا ہے، کرلو۔" (طٰہٰ:72)
وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ
"اپنے ایمان کے ساتھ کسی ظلم کا شائبہ بھی نہیں آنے دیا۔" (الانعام:82)

اصل الفاظ کے قریب رہتے ہوئے معانی و مفاہیم کی بھرپور وضاحت کس قدر مشکل کام ہے؟ اس کا اندازہ اہل علم کو بخوبی ہے۔ ذیل کی کچھ آیات دیکھیے، مترجم کس روانی اور پُر کاری سے اس گھاٹی سے گزرے ہیں:
فَإِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوا
"پھر جب کھانا کھاچکو تو اپنی اپنی راہ لو۔" (الاحزاب:53)
فَنَادَوْا وَلَاتَ حِينَ مَنَاصٍ
"تو انہوں نے اس وقت آوازیں دیں جب چھٹکارے کا وقت رہا ہی نہیں تھا۔" (سورۃ ص:3)
فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرَى مِنْ فُطُورٍ
"اب پھر سے نظر دوڑا کر دیکھو! کوئی رخنہ نظر آتا ہے؟" (الملک:3)
وَيَقُولُونَ حِجْرًا مَحْجُورًا
"بلکہ یہ کہتے پھریں گے کہ خدایا! ہمیں ایسی پناہ دے کہ یہ ہم سے دور ہوجائیں۔" (الفرقان:22)
اسی طرح
وَإِنْ هُمْ إِلَّا يَظُنُّونَ (البقرۃ:7
میں نفی اور استثناء کے ذریعے جو "حصر" ہے، علم معانی جانے بغیر اس کی حقیقی تفہیم کوئی کیسے کرسکتا ہے؟ حضرت نے ترجمہ کیا ہے:
"اور ان کا کام بس یہ ہے کہ وہم و گمان باندھتے رہتے ہیں۔"
دوبارہ پڑھیے: "اور ان کا کام بس یہ ہے۔۔۔۔" عربیت کا ذرا بھی ذوق (یا چسکا) ہو تو سچ پوچھیے لطف ہی آجاتا ہے۔ یہی "حصر" ایک اور جگہ بھی ہے جہاں دوسری طرح کے الفاظ سے یہی معنی ادا کیا ہے:
وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا (اسراء:85)
"اور تمہیں جو علم دیا گیا ہے وہ تھوڑا ہی سا علم ہے۔"
پہلی آیت میں "بس یہ ہے۔۔۔" اور دوسری جگہ "تھوڑا ہی سا۔۔۔" کے ذریعے کس خوبصورتی سے زبان و بیان کی باریکیوں کو نبھایا گیا ہے۔

سورتوں کا تعارف:
"آسان ترجمۂ قرآن" میں سورت سے پہلے تعارف کے عنوان سے "خلاصۂ سورت" یا "سورت کا مرکزی پیغام" یا مضمون دیا گیا ہے۔ اس میں مصنوعی ربط کے بجائے حقیقی اور واقعی انداز میں قرآن کریم کی تالیفی ترتیب اور معنویت کو اجاگر کیا گیا ہے۔ اس تعارف کے علاوہ اردو ترجمہ کے شوع میں دیا گیا مبسوط مقدمہ بھی ہے جو مطالعۂ قرآن کیلئے بنیاد کا کام دیتا ہے۔

مختصر تشریحات
اگر "آسان ترجمۂ قرآن" صرف ترجمہ ہوتا تو اس کی افادیت اتنی ہمہ گیر نہ ہوتی جتنی کہ اس کے ساتھ موجود مختصر، جامع اور برمحل تفسیری تشریحات نے بڑھادی ہے۔ ترجمہ پڑھنے کے دوران قرآن کریم کے طالب علم کو جہاں جہاں آیت کا مفہوم سمجھنے میں دشواری پیش آسکتی تھی، وہاں مستند علمی تشریحات کے ذریعے اس کی تشنگی دور کی گئی ہے۔ ان تشریحات میں بڑی خوبصورتی سے رسمی تعبیرات اور اختلاف اقوال کے بجائے عصر حاضر کے انسان کے ذہن کے مطابق قرآنیات کی تفہیم و تشریح پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔

تقابلی مطالعہ:
عربی کا مشہور مقولہ ہے: "و بضدها تتبين الاشياء" امثال یا اضداد کے ساتھ موازنے سے ہی کسی چیز کی خوبیاں واضح ہوتی ہیں۔ اس اُصول کی روشنی میں ہم "آسان ترجمۂ قرآن" کی چند منتخب آیات کا مروّجہ پانچ معاصر تراجم کے ساتھ تقابل کریں اور اس تقابل کو کسی طرح کی تنقیص و تحقیر یا کسی کی خدمت کا درجہ گھٹانے کے بجائے محض طالب علمانہ تحقیق اور ترجیحی خصوصیات کے تفقد تک محدود رہیں تو ان شاء اللہ ایک اچھا مطالعہ ثابت ہوگا۔
پہلی مثال:
وَأَسْبَغَ عَلَيْكُمْ نِعَمَهُ ظَاهِرَةً وَبَاطِنَةً (لقمان:20)
1: اور اپنی کھلی اور چھپی نعمتیں تم پر تمام کردی ہیں۔" (مولانا مودودی)
2: اور تمہیں بھرپور دیں اپنی نعمتیں ظاہر اور چھپی۔" (مولانا احمد رضا خان بریلوی)
3: اور تم پر اپنی ظاہری اور باطنی نعمتیں پوری کردی ہیں۔" (مولانا فتح محمد جالندھری)
5: "اور پوری کررکھی ہیں اس نے تمہارے اوپر اپنی نعمتیں ظاہری اور باطنی۔" (مولانا سید شبیر احمد، قرآن آسان تحریک)
6: "اور تم پر اپنی ظاہری اور باطنی نعمتیں پوری پوری نچھاور کی ہیں۔" (آسان ترجمۂ قرآن)

دوسری مثال:
بَقَرَةٌ لَا ذَلُولٌ تُثِيرُ الْأَرْضَ وَلَا تَسْقِي الْحَرْثَ (البقرۃ:71)
1: "کہ وہ ایسی گائے ہے جس سے خدمت نہیں لی جاتی، نہ زمین جوتتی ہے نہ پانی کھینچتی ہے۔" (مولانا مودودی)
2: "وہ ایک گائے ہے جس سے خدمت نہیں لی جاتی کہ زمین جوتے اور نہ کھیتی کو پانی دے۔" (مولانا احمد رضا خان بریلوی)
3: "کہ وہ گائے کام کرنے والی زمین میں ہل جوتنے والی اور کھیتوں کو پانی پلانے والی نہیں۔" (مولانا محمد جونا گڑھی)
4: "کہ وہ بیل کام میں لگا ہوا نہ ہو۔ نہ تو زمین جوتتا ہو اور نہ کھیتی کو پانی دیتا ہو۔" (مولانا فتح محمد جالندھری)
5: "کہ وہ ایک گائے ہے جو نہیں ہے محنت کرنے والی، کہ زمین جوتتی ہے اور نہ پانی دیتی ہو کھیتی کو۔ (مولانا سید شبیر احمد، قرآن آسان تحریک)
6: "کہ وہ ایسی گائے ہو جو کام میں جت کر زمین نہ گاہتی ہو اور نہ کھیتی کو پانی دیتی ہو۔" (آسان ترجمۂ قرآن)
" ذَلُولٌ " کیلئے "کام میں جت کر" اور " تُثِيرُ الْأَرْضَ " کیلئے "زمین نہ گاہتی ہو" کے الفاظ کا انتخاب عربی اور اردو تعبیرات کو جس خوبصورتی سے آمنے سامنے لا کھڑا کرتا ہے، اس کا لطف اہلِ علم ہی لے سکتے ہیں۔

تیسری مثال:
نِعْمَ الْعَبْدُ إِنَّهُ أَوَّابٌ (ص:44)
1: "(ایوب علیہ السلام) بہترین بندہ، اپنے رب کی طرف بہت رجوع کرنے والا۔" (مولانا مودودی)
2: "کیا اچھا بندہ بے شک وہ بہت رجوع کرنے والا ہے۔" (مولانا احمد رضا خان بریلوی)
3: "وہ بڑا نیک بندہ تھا اور بڑی ہی رغبت رکھنے والا۔" (مولانا محمد جونا گڑھی)
4: "بہت خوب بندے تھے بے شک وہ رجوع کرنے والے تھے۔" (مولانا فتح محمد جالندھری)
5: "بہترین بندہ اور یقیناً تھا وہ بہت زیادہ رجوع کرنے والا (اپنے رب کی طرف)" (مولانا سید شبیر احمد، قرآن آسان تحریک)
6: "وہ بہترین بندے تھے، واقعی وہ اللہ سے خوب لو لگائے ہوئے تھے۔" (آسان ترجمۂ قرآن)
"اواب" کا ترجمہ "خوب لو لگانے والا" ایسا ہے کہ کسی تبصرے کی ضرورت ہی نہیں۔ بقیہ تمام تراجم کو دیکھ لیجیے (اللہ تعالی قرآن کریم کی ہر طرح خدمت کرنے والوں کو ان کی کوششوں کا اجر عطا فرمائے) ٹھیٹھ اردو تعبیر تک نہ پہنچنے کی وجہ سے قاری اصل قرآنی مراد پانے کا لطف نہیں لے سکتا۔

ترجمہ اور ترجمانی کا فرق:یہ تین مثالیں بطور نمونہ کافی ہونی چاہئیں۔ ویسے بھی یہ اخباری مضمون ہے، کوئی تحقیقی مقالہ نہیں، لیکن ایک مثال اور پیش کرنے کو جی چاہتا ہے۔ اس میں "ترجمہ اور ترجمانی کا فرق" قارئین ملاحظہ فرماسکیں گے:
وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهِ وَهَمَّ بِهَا لَوْلَا أَنْ رَأَى بُرْهَانَ رَبِّهِ (یوسف:24)
1: "وہ اس کی طرف بڑھی اور یوسف علیہ السلام بھی اس کی طرف بڑھتا اگر اپنے رب کی برہان کو نہ دیکھ لیتا۔" (مولانا مودودی)
2: اور بے شک عورت نے اس کا ارادہ کیا اور وہ بھی عورت کا ارادہ کرتا اگر اپنے رب کی دلیل نہ دیکھ لیتا۔" (مولانا احمد رضا خان بریلوی)
3: اس عورت نے یوسف کی طرف کا قصد کیا اور یوسف اس کا قصد کرتے اگر وہ اپنے پروردگار کی دلیل نہ دیکھتے۔" (مولانا محمد جونا گڑھی)
4: "اور اس عورت نے ان کا قصد کیا اور انہوں نے اس کا قصد کیا، اگر وہ اپنے پروردگار کی نشانی نہ دیکھتے تو جو ہوتا ہوتا۔" (مولانا فتح محمد جالندھری)
5: "اور یقیناً بڑھی وہ اس کی طرف اور بڑھتے وہ (یوسف علیہ السلام) بھی اس کی طرف، اگر نہ دیکھ لیتے وہ برہان اپنے رب کی۔" (مولانا سید شبیر احمد، قرآن آسان تحریک)
6: "اس عورت نے تو واضح طور پر یوسف (کے ساتھ برائی) کا ارادہ کرلیا تھا اور یوسف کے دل میں بھی اس عورت کا خیال آچلا تھا، اگر وہ اپنے رب کی دلیل کو نہ دیکھ لیتے۔" (آسان ترجمۂ قرآن)

سبحان اللہ! ترجمہ ہی ایسا ہوا ہے کہ بھرپور ترجمانی کے ساتھ
تمام اشکالات و جوابات کا از خود جواب ہوگیا ہے بلکہ سرے سے اشکالات پیدا ہی نہیں ہونے دیے گئے۔

غرضیکہ کہا جاسکتا ہے علم و ادب اور لفظ دانی و معنی شناسی کے حسین امتزاج نے اردو میں ترجمۂ قرآن کی وہ کمی بڑی حد تک پوری کردی ہے جس سے عصری اردو کا دامن خالی تھا اور اردو میں دستیاب دینی ادب کے ماتھے پر وہ جھومر سجادیا گیا ہے جو حسین ہونے کے باوجود خالی خالی، اُجڑا اُجڑا سا لگتا تھا۔"


تحریر: مفتی ابو لُبابہ شاہ منصور
تلخیص و کمپوزنگ: احمد

 
احمد غزنوی's Avatar
احمد غزنوی
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Jul 2008
مراسلات: 33
شکریہ: 111
25 مراسلہ میں 79 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 2183
Reply With Quote
14 قاری/قارئین نے احمد غزنوی کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (04-03-12), shafresha (05-08-10), فیصل ناصر (05-08-10), ھارون اعظم (07-08-10), قاسم شاہ (10-08-10), میاں شاہد (13-05-09), مجیب انڑ (04-08-10), مرزا عامر (04-08-10), مسٹر شیف (15-09-10), آبی ٹوکول (04-08-10), ابونعیم (03-03-12), ابوسعد (27-02-11), حیدر Rehan (03-03-12), عبداللہ حیدر (05-08-10)
پرانا 13-09-10, 01:00 AM   #31
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,676
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,138 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اگر یہی کام امت کی نشاة ثانیہ اور عروج کے لئے ناگزیر ہے تو ‏آپ کے علاوہ کسی اور کو یہ کیوں نہیں سوجا۔۔
یقینا یہ فریضہ بھی ‏آپ اپنے مخصوص فہم قر‏آن کی بنا پر ہی سر انجام دے رہے ہوں گے۔۔۔ لیکن سوال پھر وہی سامنے ‏آ کھڑا ہوتا ہے کہ۔۔۔ یہ سنہری اور مؤثر طریقہ کسی اور کو کیوں نہیں سوجتا۔۔۔
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 13-09-10, 01:35 AM   #32
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,612
کمائي: 31,146
شکریہ: 7,116
2,944 مراسلہ میں 8,723 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

قرآن حکیم شئیر کرنا یعنی دوسروں‌تک پہنچا دینا یا مناسب آیات کسی موضوع پر پیش کرنا ۔ ایک تو اللہ کا فرمان ہے۔ دوسرے یہ سب مسلمانوں کا وطیرہ رہا ہے۔ بنیادی طور پر قرآن حکیم کو پڑھنا اللہ تعالی کا حکم ہے۔ ایسا کہنا کہ یہ طریقہ کسی اور کو کیوں‌نہیں سوجھتا ۔۔۔۔ بالکل درست نہیں۔ آج قرآں حکیم کی ترویج ہر طرف جاری ہے۔ ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ قرآن خود سے حکیم پڑھے اور سمجھے۔ یہ طریقہ کار کہ قرآن حکیم چند لوگوںکے لئے ہے۔ بس وہ سمجھ لیں اور دوسروں کو سمجھا دیں، عموماً اس لئے اختیار کیا جاتا ہے کہ اس سے کمرشل فائیدے حاصل کئے جاسکیں۔

اللہ تعالی نے کیس مولوی ، ملا، آیت اللہ کو یہ حق نہیں‌دیا کہ وہ اسلام کا کرتا دھرتا بن بیٹھے۔ لوگوں‌نے اپنی تعلیم حاصل کی، اپنا علم حاصٌ کیا لیکن قوانیں اور فیصلے اللہ کے حکم و فرمان کے مطابق، باہمی مشورے سے کئے۔ باہمی مشوری سے کسی ایک شخص کے فہم کا معاملہ رفع دفع ہوجاتا ہے۔ اور وہ فہم سامنے آتا ہے جو سب کا مشترکہ فہم ہوتا ہے۔ لہذا ہم سب کو اللہ تعالی کے فرمان اور اسی فرمان کے عین مطابق سنت رسول سے اپنا فہم حاصل کرنا چاہئیے۔ اور تمام ٍ فیصلے باہمی مشورے سے طے کرنے چاہئیں۔

والسلام۔
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (13-09-10), نورالدین (14-09-10), مرزا عامر (13-09-10), شمشاد احمد (04-03-12)
پرانا 13-09-10, 02:12 AM   #33
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,676
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,138 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
باہمی مشوری سے کسی ایک شخص کے فہم کا معاملہ رفع دفع ہوجاتا ہے۔ اور وہ فہم سامنے آتا ہے جو سب کا مشترکہ فہم ہوتا ہے۔ لہذا ہم سب کو اللہ تعالی کے فرمان اور اسی فرمان کے عین مطابق سنت رسول سے اپنا فہم حاصل کرنا چاہئیے۔ اور تمام ٍ فیصلے باہمی مشورے سے طے کرنے چاہئیں۔
لیکن ‏آنجناب کا فہم قر‏آن اور فہم سنت کا نظریہ ہی الگ ہے۔۔۔ جو سوٹ کرے درست جو سوٹ نہ کرے وہ روایات کہہ کر ردی کر دی جاتی ہیں۔
تو اصل قر‏آن و حدیث تو نہ ہوا۔۔۔۔ ‏آپ کا ہی وہ فہم ہوا جو ‏آپ سمجھ رہے ہیں یا سمجھا رہے ہیں۔
اور اپنے اس فہم کے حوالے سے کسی دوسرے کی تائید نہ تو پیش کرتے ہیں اور نہ ہی قبول کرتے ہیں۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 13-09-10, 02:18 AM   #34
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,612
کمائي: 31,146
شکریہ: 7,116
2,944 مراسلہ میں 8,723 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شمشاد احمد مراسلہ دیکھیں
لیکن ‏آنجناب کا فہم قر‏آن اور فہم سنت کا نظریہ ہی الگ ہے۔۔۔ جو سوٹ کرے درست جو سوٹ نہ کرے وہ روایات کہہ کر ردی کر دی جاتی ہیں۔
تو اصل قر‏آن و حدیث تو نہ ہوا۔۔۔۔ ‏آپ کا ہی وہ فہم ہوا جو ‏آپ سمجھ رہے ہیں یا سمجھا رہے ہیں۔
اور اپنے اس فہم کے حوالے سے کسی دوسرے کی تائید نہ تو پیش کرتے ہیں اور نہ ہی قبول کرتے ہیں۔
شمشاد،

جو موافق القرآن روایات ہیں وہ قابل قبول احادیث ہیں۔ جو خلاف قرآن روایات ہیں وہ ناقابل قبول۔

پوچھیں‌کیوں؟
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا
شمشاد احمد (04-03-12)
پرانا 13-09-10, 02:33 AM   #35
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,676
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,138 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

کیوں کی ضرورت نہیں۔
جواب واضح ہے
کہ ‏آپ کا۔۔ جی ہاں۔۔۔ صرف ‏آپ کا فہم یہ کہتا ہےکہ فلاں حدیث خلاف قر‏آن ہے بس اس لئے
لیکن باقی اتنی بڑی اسلامی دنیا۔۔۔ اور ‌چودہ سو سالہ اسلامی تاریخ میں سے ‏آپ ‌چودہ افراد کے نام بھی پیش نہیں کرتے جن کو اپ کی طرح یہ بات سمجھ ‏آئی ہو کہ جس حدیث کو ‏آپ خلاف قر‏آن قرار دے رہے ہیں انھوں نے بھی ایسا ہی سمجھا ہو۔۔۔ یا جس ‏آیہ کا ‏آپ ایک خود ساختہ مفہوم مراد لے رہے ہیں وہ کسی اور نے بھی لیا ہو۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 13-09-10, 02:44 AM   #36
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,612
کمائي: 31,146
شکریہ: 7,116
2,944 مراسلہ میں 8,723 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

آپ تو لوگوں کے پیچھے چھپنے لگے

بھول گئے کہ رسول اللہ صٌعم نے کیا حکم دیا تھا؟ کہ صرف موافق القرآن روایات کو سنت نبوی سمجھئے؟ اور خلاف القرآن کو رد کردیجئے۔ آپ دنیا کی سنیں‌گے یا پھر رسول اللہ کی سنیں گے؟

جو روایات خلاف القرآن ہیں۔ ان پر ہی بحث چل دہی ہے۔ 1200 سالوں سے۔ میں نے آپ کو کب روکا ہے کہ آپ ان خلاف القرآں روایات کو ماننے سے انکار کردیں؟

مسلمانوں کے زوال کی وجہ یہی منافقت اور یہی کفر ہے کہ قرآن کی تردید اور بیچ بیچ میں قرآن کے ایکسٹنیشن لگا کر منافقت۔ موافق القران روایات ماننے میں کیا برائی ہے

اور خلاف القرآن روایات ایمان رکھنے کی مسلمان کو کیا ضرورت ہے؟

یہ میرا فہم نہیں۔ کہ روایات خلاف القرآن ہیں۔ الفاظ معانی، مفہوم ، اصول سب کے سب قرآن کی تردید کرتے ہیں۔

آپ مانتے رہئیے ان خلاف القران روایات کو۔ کم از کم آپ کا اور میرا اتفاق قران حکیم پر تو ہے۔ یا قران کو بھی اپ رد کرتے ہیں؟
والسلام
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
کاشف جمیل (04-03-12), نورالدین (14-09-10), شمشاد احمد (04-03-12)
پرانا 13-09-10, 02:52 AM   #37
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,612
کمائي: 31,146
شکریہ: 7,116
2,944 مراسلہ میں 8,723 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

انشاء‌اللہ تعالی کچھ دنوں بعد ۔ قرآن ، اللہ کا فرمان اور سنت رسول کے نام سے ایک مراسلہ لکھ رہا ہوں۔ اللہ تعالی کے فرمان کی روشنی میں آپ کے سب شبہات دور ہوجائیں‌گے۔

خلاف القرآن روایات، سنت رسول کے ساتھ مکس کرنے کا مقصد صرف اور صرف یہ تھا کہ وہ عیسائی اور یہودی حضرات، جو مسلمانوں کو عیسائی اور یہودی کرنا چاہتے تھے ، ان خلاف القران روایات کی مدد سے مسلمانوں‌میں بھی منافقت اور کفر پھیلا سکیں۔ اسی لئے عیسی علیہ السلام کو خدا بنا کر پیش کیا، یہودی، اسرائیلی روایات کو کتب حدیث میں داخل کیا گیا تاکہ مسلماں یہودی اور عیسائیوں جیسے ہوجائیں۔

خلاف القرآن روایات اس حقیقت کا بین ثبوت ہیں۔

والسلام
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا
شمشاد احمد (04-03-12)
پرانا 13-09-10, 03:16 AM   #38
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,676
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,138 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
بھول گئے کہ رسول اللہ صٌعم نے کیا حکم دیا تھا؟ کہ صرف موافق القرآن روایات کو سنت نبوی سمجھئے؟ اور خلاف القرآن کو رد کردیجئے۔ آپ دنیا کی سنیں‌گے یا پھر رسول اللہ کی سنیں گے؟
کیا یہ بات ‏آپ کے علاوہ پوری اسلامی تاریخ میں اور کسی کو سمجھ نہیں ‏آئی۔۔۔ یہی تو پو‌چھ رہا ہوں ‏آپ سے۔۔۔
اقتباس:
موافق القران روایات ماننے میں کیا برائی ہے
کون سی روایت موافق قر‏آن ہے اور کونسی روایت خلاف قر‏آن ہے۔ اس کا فیصلہ کس طرح ہو گا۔۔ اس طرح جس طرح ‏آپ کا فہم کہتا ہے۔۔ یا اس طرح جس طرح جمہور امت مسلمہ ‏روز اول سے ‏آج تک کرتی ‏آئی ہے۔۔۔
اقتباس:
یہ میرا فہم نہیں۔ کہ روایات خلاف القرآن ہیں۔ الفاظ معانی، مفہوم ، اصول سب کے سب قرآن کی تردید کرتے ہیں۔
یہی تو ‏آپ کا فہم ہے جناب۔۔۔ جس روایت کو ‏آپ خلاف قر‏آن قرار دے رہے ہیں لیکن دنیا میں کیا کسی اور مسلمان مفکر و مسلم نے نے بھی اس کو خلاف قر‏آن قرار دیا ہے جب یہ پو‌چھو تو بات مرو‎ڑ جاتے ہیں۔
اقتباس:
آپ مانتے رہئیے ان خلاف القران روایات کو۔ کم از کم آپ کا اور میرا اتفاق قران حکیم پر تو ہے۔ یا قران کو بھی اپ رد کرتے ہیں؟
میں تو ‏آپ کے فہم قر‏آن کو سمجھنے سے قاصر ہوں یا پھر ‏آپ سمجھانے سے قاصر ہیں۔۔۔



میرا سوال۔ صرف یہ ہے کہ ‏آخر روایت کے موافق قر‏آن یا مخالف قر‏آن ہونے میں ‏آپ کا فہم ہی حرف ‏آخر کیوں تسلیم کیا جائے۔۔۔ جبکہ بقول ‏آپ کے روایات بارہ سو سال سے ہیں تو اس روایت کے خلاف قر‏آن ہونے پر ‏آپ بارہ افراد کے نام ہی پیش کر دیں جو ا ن بارہ سو سالوںمیں گذرے ہوں۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 13-09-10, 07:22 AM   #39
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,612
کمائي: 31,146
شکریہ: 7,116
2,944 مراسلہ میں 8,723 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اقتباس:
بھول گئے کہ رسول اللہ صلعم نے کیا حکم دیا تھا؟ کہ صرف موافق القرآن روایات کو سنت نبوی سمجھئے؟ اور خلاف القرآن کو رد کردیجئے۔ آپ دنیا کی سنیں‌گے یا پھر رسول اللہ کی سنیں گے؟
اقتباس:
کیا یہ بات ‏آپ کے علاوہ پوری اسلامی تاریخ میں اور کسی کو سمجھ نہیں ‏آئی۔۔۔ یہی تو پو‌چھ رہا ہوں ‏آپ سے۔۔۔
شکوہ بے بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعور۔

آپ اللہ تعالی یا رسول اللہ صلعم کا فرمان نہیں سننا چاہتے ہیں ۔ صرف اور صرف افراد کا ریفرنس مانگتے ہیں۔
ذرا دیکھئے کہ درج ذیل باعزت افراد کیا فرما رہے ہیں؟ --- خلاف القرآن --- کو اٹھا کر پھینک دیجئے۔ پہلے یہ اصول مانئے پھر ۔ آپ کو خلاف القرآن دکھاتے ہیں۔
نوٹ‌کیجئے کہ ان ا فراد کا تعلق ہر قسم کے فرقے سے ہے۔ آپ اپنے آُپ سے وعدہ کیجئے کہ کم از کم آپ خلاف القرآن روایات کو پھینک دینے کا اصول آج سے مانیں گے (‌جس کو آُپ میرا فہم قرار دیتے ہیں)۔ یہ اور بات ہے کہ آپ کسی روایت کو خلاف قرآن مانیں یا نہیں۔ یہ آپ کی اپنی عقل پر منحصر ہے۔


------------------
علامہ حافظ جلال الدین سیُوطی متوفی ١١٩ھ
” بما روی ان النبی قال: ما جاءکم عنی حدیث فاعرضوہ علی کتاب اللہ،فما وافقہ فاَنا قلتہ وما خالفہ فلم اقلہ۔“
روایت ہے کہ نبی نے فرمایا کہ جو حدیث تمہارے پاس آئے تو اسے کتاب اللہ پر پیش کرو،اگر اس ( قرآن) کے موافق ہو تو (سمجھوکہ) میں نے ہی کہی ہے اور اگر مخالف ہو تو (سمجھوکہ) میں نے نہیں کہی ۔“
(مفتاح الجنة فی الاحتجاج بالسنة ص١٢)

آپ کی خدمت میں لگ بھگ 150 سالہ پرانا ایک انٹرویو پیش کرتا ہوں۔

اقتباس: ۔کتاب : اظہار الحق الجلی
سوال نمبر12:مسلمانوں کے یہاں سب سے اول درجہ کی کتاب صحیح بخاری پھر صحیح مسلم ہے یا نہیں؟
جواب: (‌احمد رضا خاں)‌ :بخاری و مسلم بھی نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ڈھائی سو برس بعد تصنیف ہوئیں۔مسلمانوں کے بہت سے فرقے انہیں مانتے ہی نہیں اور اس کے سبب وہ اسلام سے خارج نہ ہوئے۔ماننے والوں میں بہت سے لوگ کسی خاص کتاب کو سب سے اول درجہ کی نہیں کہتے۔اس کی مدار صحت سند پر رکھتے ہیں۔بعض جو ترتیب رکھتے ہیں وہ مختلف ہیں۔مشرقی صحیح بخاری کو ترجیح دیتے ہیں اور مغربی صحیح مسلم کو۔ اور حق یہ ہے کہ جو کچھ بخاری یا مسلم اپنی تصنیف میں لکھ گئے سب کو بے تحقیق مان لینا ان کی بری تقلید ہے جس پر وہابی غیر مقلدین جمع ہوئے ہیں حالانکہ تقلید کو حرام کہتے ہیں۔انہیں خدا اور رسول یاد نہیں آتے۔خدا اور رسول نے کہاں فرمایا ہے کہ کہ جو کچھ بخاری یا مسلم میں ہے سب صحیح ہے۔
---------------

مزید باعزت افراد کی طرف سے دیکھئے کہ خلاف القرآن کے بارے میں کیا حدیث نبوی پیش کرتے ہیں۔

------
------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
Saturday, December 24, 2005
احادیث کے لئے قرآن ہی معیار ہے
احادیث کے پرکھنے کے لئے سب سے پہلا اصول اور سب سے اہم معیار خود قرآن ہی ہے۔
جو حدیث قرآن کے خلاف یا معارض ہوگی وہ رد کردی جائے گی۔جیسا کہ ضمناً ان عبارتوں سے جو پہلے گزریں ،سے ثابت ہوا کہ قرآن جو قطعی اور یقینی ہے ،اسکے خلاف یا معارض حدیث نہیں ہوسکتی ،جو کہ ظنّی ہے۔اب ہم احادیث اور اقوالِ علماءکو نقل کرتے ہیں جس سے یہ ثابت ہوگا کہ قرآن ہی اصلِ معیاراور پہلا اصول ہے احادیث کے قبول و رد کا ۔

(ا) امام علی بن محمدالبزدوی الحنفی متوفی٢٨٤ھ
” فاذا روی لکم عنی حدیث فاعرضوہ علی کتاب اللہ تعالٰی، فما وافق کتاب اللہ تعالٰی فاقبلوہ وما خالفوہ فردوہ۔“
( اگر تم سے کوئی حدیث روایت کی جائے مجھ سے تو اسے کتاب اللہ تعالٰی پر پیش کروتواگر وہ کتاب اللہ کے موافق ہو تو اسے قبول کرلو اور جو مخالف ہو تو رد کردو۔
( فقہِ حنفی کی مشہور کتاب ’اصولِ بزدوی‘،باب بیان قسم الانقطاع ص٥٧١،میرمحمد کتب خانہ کراچی۔)

(٢) علامہ عبیداللہ بن مسعود المحبوبی الحنفی متوفی ٨٤٧ھ
٭” فقولہ علیہ السلام تکثر لکم احادیث من بعدی فاذاروی لکم عنی حدیث فاعرضوہ علی کتاب اللہ تعالٰی فما وافق کتاب اللہ تعالٰی فاقبلوہ وما خالفوہ فردوہ۔“
( تو آپ علیہ السلام کا قول کہ میرے بعد تمہارے لئے احادیث کی کثرت ہوجائے گی تو جب اگر تم سے کوئی حدیث روایت کی جائے مجھ سے تو اسے کتاب اللہ تعالٰی پر پیش کروتواگر وہ کتاب اللہ کے موافق ہو تو اسے قبول کرلو اور جو مخالف ہو تو رد کردو۔“
( التوضیح والتلویح،بحثِ سنت،ص٠٨٤)
اس کتاب کے ماتن صدرالشریعہ عبیداللہ بن مسعود المحبوبی الحنفی ہیں اور ان کا متن ’التوضیح‘ کہلاتا ہے۔اور اسکی تشریح دوسرے مشہور و معروف عالم و متکلم علامہ سعدالدین تفتازانی شافعی متوفی ٢٩٧ھ نے’ التلویح‘ کے نام سے لکھی اور یہ دونوں ’التوضیح والتلویح‘ کے نام سے مشہور ہیں۔ اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد صدرالشریعہ لکھتے ہیں کہ:
٭” فدلّ ھذا الحدیث علی ان کل حدیث یخالف کتاب اللہ (تعالٰی) فانہ لیس بحدیث الرسول وانما ھو مفتری وکذلک کل حدیث یعارض دلیلاً اقوٰی منہ فانہ منقطع عنہ علیہ السلام لان الادلة الشریعة لا یناقض بعضھا بعضاً وانما التناقض من الجھل المحض۔“
( تو یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ ہر وہ حدیث جو کتاب اللہ کی مخالف ہو ہرگز رسول (اللہ ) کی حدیث نہیں ہے اور وہ افتراءہے اور اسی طرح ہر وہ حدیث جو کسی زیادہ قوی دلیل کے معارض و مخالف ہو وہ بھی آپ علیہ السلام سے منقطع ہے( یعنی صحیح نہیں ) کیونکہ شریعت کے دلائل آپس میں ایک دوسرے کے معارض و مخالف و مناقض نہیں ہوسکتے کیونکہ تناقض تو محض جہل ہے۔)( التوضیح والتلویح ص٠٨٤)

(٣) علامہ حافظ جلال الدین سیُوطی متوفی ١١٩ھ
” بما روی ان النبی قال: ما جاءکم عنی حدیث فاعرضوہ علی کتاب اللہ،فما وافقہ فاَنا قلتہ وما خالفہ فلم اقلہ۔“
روایت ہے کہ نبی نے فرمایا کہ جو حدیث تمہارے پاس آئے تو اسے کتاب اللہ پر پیش کرو،اگر اس ( قرآن) کے موافق ہو تو (سمجھوکہ) میں نے ہی کہی ہے اور اگر مخالف ہو تو (سمجھوکہ) میں نے نہیں کہی ۔“
(مفتاح الجنة فی الاحتجاج بالسنة ص١٢)

(٤) ملا علی قاری حنفی متوفی
” (فصل) ومنھا مخالفة الحدیث لصریح القرآن کحدیث مقدارالدنیا وانھا سبعة اٰلاف سنة ونحن فی الالف السابعة وھذامن ابین الکذب۔“
( اور اس(اصولِ حدیثِ موضوع) میں سے ہے کہ حدیث صریحاً قرآن ہی کے مخالف ہو(تووہ موضوع ہوگی) جیسے حدیث ہے کہ دنیا کی عمر سات ہزار سال ہے اور ہم ساتویں ہزار سال میں ہیں ( اور ابھی تک دنیا بھی ہے لھذا یہ صریحاً غلط ثابت ہوگئی) اور یہ انتہائی کھلا ہوا جھوٹ ہے۔)(موضوعات الکبیر ص٢٦١)

(٥) محمد نظام الدین الشاشی المعروف بہ ملا جیون متوفی
” بقولہ اذا روی لکم عنی حدیث فاعرضوہ علی کتاب اللہ تعالٰی فما وافقہ فاقبلوہ والا فردوہ۔“
( اور آپ کا قول کہ جب تم سے میری کوئی حدیث بیان کی جائے تو اسے کتاب اللہ پر پیش کرو تو جو اسکے موافق ہو قبول کر لو اور جو مخالف ہو اسے رد کردو۔)
( فقہِ اصول حنفی کی مشہور کتاب جو مدارس میں بھی پڑھائی جاتی ہے ’ نورالانوار ص ٥١٢،اور اسکے مصنف ملا جیون مغل بادشاہ عالمگیر کے استادتھے! )
٭ایک جگہ لکھتے ہیں کہ:
اذا بلغکم منی حدیث فاعرضوہ علی کتاب اللہ فان وافقہ فاقبلوہ والا فردوہ۔
( مفہوم وہی جو اوپر گزرا)( مقدمہ تفسیر احمدیہ ص٤، بحوالہ جاءالحق از مفتی احمد یار خان گجراتی ص٤٣)

( ٦) حافظ ابن کثیر متوفی
وقال ابن جریر حدثنا محمد بن اسماعیل الَحمسی اَخبرنی جعفر بن عون عن عبدالرحمان بن المخارق عن ابیہ المخارق بن سلیم قال قال لنا عبداللہ ھوابن مسعود اذا حدثناکم بحدیث اتیناکم بتصدیق ذلک من الکتاب اللہ تعالٰی۔“
(عبداللہ ابن مسعود نے کہا کہ جب ہم تم سے کوئی حدیث بیان کرتے ہیں تو کتاب اللہ سے اس کی تصدیق بھی لا تے ہیں ۔)( تفسیر ابن کثیر ج٤ ص٩٤٥ ،سورہ فاطر)

(٧) عنایت اللہ سبحانی
٭” اور جو حدیث قرآن کے خلاف ہو وہ کبھی بھی قرآن کی شرح نہیں بن سکتی ۔“(حقیقت رجم ص٦١)
٭” حدیث قرآن کی تشریح ہے لیکن قرآن بھی حدیث کی صحت کےلئے بہترین کسوٹی ہے۔آپ کا ارشاد ہے کہ : تکثر لکم الاحادیث بعدی فاذا روی لکم عنی حدیث فاعرضوہ علی کتاب اللہ فما وافق فاقبلوہ وما خالف فردوہ ۔“(مفہوم وہی جو کئی بار گزرا)
٭ اسی سے ملتی جلتی ایک حدیث آتی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں :
’ ما اتاکم عنی فاعرضوہ علی کتاب اللہ فان وافق کتاب اللہ اَنا اقلتہ وان خالف کتاب اللہ فلم اقلہ وکیف اخالف کتاب اللہ وبہ ھدانی اللہ؟۔“
( یعنی تمہارے پاس جو کچھ بھی میرے پاس سے آئے تو اسے کتاب اللہ پر پیش کرو اگر کتاب اللہ کے موافق ہو تو ہو میں نے ہی کہا ہوگا اور اگر مخالف ہو کتاب اللہ کے تو اسے میں نے نہیں کہا ،اور میں کیسے کتاب اللہ کی مخالفت کرسکتاہوںجبکہ اللہ نے مجھے اسی کے ذریعے ہدایت دی ۔“( امام شاطبی ،الموافقات ج٤ص٣١)
امام شاطبی اس روایت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ” اس حدیث کی سند صحیح ہو یا نہ ہو لیکن اس میں جو بات کہی گئی ہے وہ اپنی جگہ بالکل صحیح ہے۔“( ایضاً ص٠٥١)
٭ حضرت عیسٰی بن ابان (م ٩٤٢ھ) جو ایک بلند پایہ محدث اور ایک بالغ نظر فقیہ تھے اور جو کئی سال تک بصرہ کے قاضی رہے ،انہوں نے بھی اس روایت کی توثیق کی ہے اور اسکی اساس پر انکا مسلک یہ تھا کہ ’ خبر واحد جس کے اندر صحتِ سند کی تمام سندیں اور شرطیں موجود ہوں اسے کتاب ( اللہ) کی کسوٹی پر پرکھنا ضروری ہوگا اور اس کی صحت کا آخری فیصلہ اسی کی بنیاد پر ہوگا‘۔“ [المحصول فی علم اصول فقہ از امام رازی] ( بحوالہ حقیقت رجم ص٥١)

(٨) مولانا عبدالماجد دریا آبادی
خود خبر واحد کے قبول کا معیار یہی ہے کہ وہ کسی نص قرآنی کے مخالف نہ ہو۔
(تفسیر ماجدی ص٤٢٣ ،سورہ اعراف حاشیہ ٣)
امام ابوبکر جصاص اور امام قرطبی کا حوالہ بھی مولانا نے نقل کیا ہے جسے ہم بھی پہلے نقل کرچکے ہیں لھذا وہاں دیکھ لیا جائے ۔
ّّ
(٩) مولانامفتی محمدشفیع عثمانی دیوبندی
” اور صحیح مسلم میں ایک حدیث ابو ھریرہ کی روایت سے آئی ہے جس میں تخلیق عالم کی ابتداءیوم سبت یعنی ہفتہ کے روز سے بتائی گئی ہے اس کے حساب سے آسمان و زمین کی تخلیق کا سات دن میں ہونا معلوم ہوتا ہے مگر عام نصوص قرآنی میں یہ تخلیق چھہ روز ہونا صراحاً مذکور ہے ۔ خلاصہ یہ ہے کہ تخلیق ارض و سماءکے واقعات اور دن اور ان میں ترتیب جن روایات حدیث میں آتی ہے ان میں کوئی روایت ایسی نہیں جس کو قرآن کی طرح قطعی، یقینی کہا جاسکے بلکہ یہ احتمال غالب ہے کہ یہ اسرائیلی روایات ہوں ،مرفوع احادیث نہ ہوں جیسا کہ ابن کثیر نے مسلم اور نسائی کی حدیث کے متعلق اس کی صراحت فرمائی ہے۔اس لئے آیات قرآنی ہی کو اصل قرار دے کر مقصود متعین کرنا چاہیے۔“( معارف القرآن ،ج٧ص٦٣٦ سورہ حٰم) (یعنی اگر کوئی روایت قرآن کے خلاف ہو تو وہ رد کیے جانے کے قابل ہے چاہے صحیح مسلم کی ہی کیوں نہ ہو ۔)

(٠١) مولانا عبدالسلام رستم مردانی
” واعلم قبل جواب ھذا الحدیث ان مسلک ابی حنیفہ اسلم ،فانہ یقدم العمل بالآیة من العمل بالحدیث اذا لم یمکن التوفیق بینھما ویتاول فی الحدیث دون الآیة۔“
( اور جان لے اس حدیث کے جواب سے قبل کہ ابو حنیفہ کا مسلک سلامتی والا ہے کیونکہ وہ آیت پر عمل کو مقدم رکھتے ہیں حدیث کے مقابلے پر جب ان دونوں(قرآن و حدیث)میں توفیق اور تطبیق ممکن نہ ہو، اور آپ حدیث میں تاویل کرتے ہیں بجائے آیت کے ۔)(التبیان فی تفسیر امّ قرآن ص٧٣١)
٭” وایضاًکان ھذاالحدیث مخالفاًعن ظاھرالقرآن الدال علی فوقیتہ تعالٰی علی العرش فلذا اول فی الجامع الترمذی۔“( اور اسی طرح یہ حدیث ظاہرقرآن کے مخالف ہے لھذا جمع ترمذی میں ہی تاویل کی جائے۔)

(١١) امام نسفی متوفی710 ھ
٭” بقولہ علیہ السلام اذا روی لکم عنی الحدیث فاعرضوہ علی کتاب اللہ تعالٰی فما وافقہ فاقبلوہ والا فردوہ۔“( آپ کا قول کہ،جب تم سے کوئی حدیث بیان کرے میری طرف سے تو اسے کتاب اللہ تعالٰی پر پیش کرو ،اگر موافق ہے تو قبول کرلواوراگرنہیں تو رد کردو۔)( کشف الاسرار علی المنار،ج٢ص٥٨)

(٢١)امام ابوبکر السرخسی
٭” ان کل حدیث ھو مخالف الکتاب اللہ تعالٰی فھو مردود ۔“
( ہر حدیث جو کتاب اللہ کے مخالف ہو مردود ہے)(اصول سرخسی ج١ص٥٦٣)
٭” وما روی من قولہ علیہ السلام فاعرضوہ علی کتاب اللہ تعالٰی۔“
( اورجوقول مروی ہے آپ کا کہ (حدیث کو ) کتاب اللہ پر پیش کرو)(ایضاًج٢ص٦٧)
٭” وبہ نقول ان الخبر الواحد لا یثبت نسخ الکتاب ،لانہ لا یثبت کونہ مسموعاًمن رسول اللہ قطعاًوالھذالایثبت بہ العلم الیقین ،علی ان المرادبقولہ(وما خالفہ فردوہ)۔“
(اور اسی وجہ سے ہم کہتے ہیں کہ خبر واحد سے کتاب اللہ منسوخ ثابت نہیں ہوتی،کیونکہ یہ بات کہ وہ رسول سے ہی سے سنی گئی ہے ،قطعی نہیں ،لھذا اس سے علم یقین پیدا نہیں ہوتا، آپ کے قول مراد یہی ہےکہ جو مخالف قرآن ہو اسے رد کردو(ایضاً)٭” ولا یجوز ترک ما ھو ثابت فی کتاب اللہ نصاًعندالتعارض۔“
(نص،کتاب اللہ میں جو ثابت ہے اس کو ترک کرنا جائز نہیں ( جب اس کا حدیث سے) تعارض ہو۔)( ایضاً)

(٣١) مولانا حسن بن عمار بن علی حنفی
” قالت (عائشة) کیف یقول رسول اللہ ذلک رد علی الراوی واللہ تعالٰی یقول وما انت بمسمع من فی القبور ،ای فلم یقلہ۔“( حضرت عائشہ نے فرمایا کہ ’ رسول اللہ کیسے یہ بات کہہ سکتے ہیں‘( کہ مُردوں نے سنا)اور آپ نے یہ راوی پرپر رد کیا ،’ جبکہ اللہ تعالٰی فرماتا ہے کہ آپ مُردوںکو نہیں سنا سکتے‘یعنی آپ نے یہ بات ہی نہیں کی ( کہ مخالفِ قرآن ہوتی)( مراقی الفلاح شرح النورالایضاح ص٧٠٣)

(٤١)
” کیونکہ فقہ حنفی کے اصول میں ہے کہ استخراج واستنباطِ مسائل کے سلسلے میں قرآن حدیث پر مقدم ہے ،حدیث کا نمبر قرآن کے بعد ہے نہ کہ قرآن سے پہلے ۔لیکن اگر اس کے متعلق کوئی آیت موجود نہیں تو ظاھر ہے کہ اب حدیثِ صحیح کو ہی مستدل بنایا جائے گا اور اگر کسی مسئلے میں احادیث متعارض ہوں تو دین کے ناقلینِ اول صحابہ کرام کے اقوال و افعال کسی ایک کے لئے وجہءترجیح بنیں گے۔“
( رسول اکرم کا طریقہءنماز ص١١)

(٥١)امام ابن ھمام متوفی ١٨٦ھ”قولہ علیہ السلام فی اھل القلیب ما انتم باسمع بما اقول منھم واجابوا تارة بانہ مردود من عائشة قالت کیف یقول ذلک واللہ یقول وما انت بمسمع من فی القبور ،انک لا تسمع الموتٰی ۔“
( اور آپ کا قول قلیبِ بدر کے متعلق کہ’ تم ان(مُردوں) سے زیادہ نہیں سنتے ہو جو میں ان سے کہتا ہوں ‘اور انہوں نے ایک مرتبہ جواب بھی دیا ،تو یہ رد شدہ ہے حضرت عائشہ سے کیونکہ آپنے فرمایا کہ آپ کیسے یہ قول کہہ سکتے تھے جبکہ اللہ کہتا ہے کہ آپ ان کو(اپنی بات) نہیں سنا سکتے جو قبروں میں ہیں اور آپ مُردوں کو(اپنی بات) نہیںسنا سکتے۔ )( فتح القدیر ،ج٢ص٩٦)

(٦١) مولانا قاسم نانوتوی بانیءدارالعلوم دیوبند
واقعی مخالف کلام نہ کہ محدث کا قول معتبر ہے اور نہ ہی کسی منکر کا بلکہ خود حدیث اگر مخالف کلام اللہ ہو تو موضوع سمھجی جائے گی ۔“( تصفیة العقائد ص ٠٢)

(٧١)علامہ ابن قیّم جوزی
” ومنھا مخالفة الحدیث لصریح القرآن کحدیث مقدارالدنیا وانھا سبعة اٰلاف سنة۔“
( اور ( حدیث کے موضوع ہونے کی ایک دلیل)قرآن کی صراحت کے حدیث کا مخالف ہونا ہے جیسے مقدارِ دنیا والی حدیث کہ دنیا کی کل عمرسات ھزار سال ہے۔)( حالانکہ یہ حس و مشاھدہ کے بھی خلاف ہے چہ جائیکہ قرآن)۔( رسالہ المنار ص١٣، نیز موضوعات الکبیر ص٢٦١)

(٨١)یعقوب بن اسحاق کُلینی رازی (اثنا عشری شیعہ)
٭” عن ابوعبداللہ علیہ السلام قال:قال رسول اللہ ان علی کل حق حقیقة وعلی کل صواب نورا فماوافق کتاب اللہ فخذہ وما خالف کتاب اللہ فدعوہ ۔“
(ابوعبداللہ علیہ السلام نے کہا کہ کہا رسول اللہ ہر ایک حق پر ایک حقیقت اور ہر ایک صحیح و صواب پر ایک نور ہوتا ہے تو جو کتاب اللہ سے موافق ہو تو اسے پکڑ لو اورجوکتاب اللہ کے مخالف ہواسے ردکردو۔“( اصولِ کافی،باب الاخذ بالسنةوھواھدالکتاب،ج١ص٨٨)
٭” عن ایوب بن الحر قال: سمعت اباعبداللہ یقول کل شیءمردود الی الکتاب والسنةوکل حدیث لایوافق کتاب اللہ فھو زخرف۔“(اصولِ کافی،ج١ص٩٨)
( ایوب بن حر نے کہا کہ میں نے ابوعبداللہ کوکہتے سنا کہ فرماتے ہں کہ ہرشیءکتاب اورسنت کی طرف پھیری جاےگی اور ہر وہ حدیث جو کتاب اللہ کے موافق نہیں وہ بیکار چیز ہے۔)
٭” عن ابوعبداللہ قال:خطب النبی بمنٰی وقال:ایھاالناس ماجاءکم عنی یوافق کتاب اللہ فانہ قلتہ وماجاءکم یخالف کتاب اللہ فلم اقلہ۔“(ایضاً)
( ابوعبداللہ نے کہا کہ نبی نے منٰی میں خطبہ دیا اورفرمایاکہ اے لوگوں!میری طرف سے تم تک جو بھی (حدیث) آئے جوکتاب اللہ کے موافق ہوتوسمجھوکہ میں نے ہی کہا ہوگااوراگرکوئی (حدیث)کتاب اللہ کے مخالف ائے تو سمجھنا کہ میں نے نہیں کہا ۔)

(٩١)سیدظفرالحسن امروہوی(شیعہ)حدیث کی صحت کا معیار یہ ہے کہ وہ اول تو قرآن کے خلاف نہ ہو۔“
( فروعِ کافی کا دیباچہ ،ج١ص٤)


(٠٢)امام دارمی محدث سمرقندی
’باب تاویل حدیث رسول اللہ‘۔عن ابی ہریرةفکان ابن عباس اذاحدث قال:اذاسمعتمونی احدث عن رسول اللہ فلم تجدوہ فی کتاب اللہ اوحسناعندالناس فاعلمواا
¿نی قدکذبت علیہ۔“ (سنن دارمی ج١ص٤٥١،قدیمی کتب خانہ کراچی)
(یعنی امام دارمی نے باب قائم کیا ہے’حدیث رسول اللہمیں تاویل‘اس کے تحت لکھتے ہیں کہ ابوہریرہ سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباس جب حدیث بیان کرتے توکہتے :جب تم مجھ سے کوئی حدیث سنواور تم اسے کتاب اللہ میں نہ پاو یا وہ لوگوں کے نزدیک وہ اچھی چیزنہ ہو(یعنی معروف نہ ہو)توسمجھوکہ میں نے آپ پر جھوٹ باندھا۔)(یعنی میں نے غلط کہاکیونکہ اس کا امکان نہیں کہ آپ پر آپ جھوٹ باندھیں مگر اس پر تنبیہ کے لیے ایسا فرمایا)

(١٢)امام سخاوی
ملاعلی قاری اپنی ’موضوعات الکبیر‘میں امام سخاوی کا قول بھی یہی قول کرتے ہیں کہ ’ہمارے شیخوں کے شیخ شمس الدین نے ’مقاصد الحسنة فی بیان الاحادیث المشتھرة علی الالسنة‘کے خاتمہ میں کہاکہ(موضوع حدیث ہونے کی علامت )میں سے یہ بھی ہے کہ حدیث صریح قرآن کے مخالف ہو ۔‘(موضوعات الکبیر،فصل ٣١ص٦٢٣۔قدیمی کتب خانہ کراچی)
(ختم شد معیار حدیث، قرآن)

(٢٢)نووی۔پٹنی۔شاہ عبدالعزیز۔سیوطی۔قرآن۔ایام رکم ان تکفروا بعد ایمانکم۔۔۔؟ولو تقول علینا بعض الاقاویل۔؟
------

آپ آُ کے پاس صرف ی ہاعتراض رہ جانا چاہئیے کہ کون سی روایت خلاف قرآن ہے اور کونسی نہیں؟‌ اس کے لئے آپ اللہ تعالی کی تفسیر استعمال کیجئے۔ قرآن اپنی تفسیر آپ کرتا ہے۔

والسلام
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (13-09-10), نورالدین (14-09-10)
پرانا 14-09-10, 12:13 AM   #40
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,676
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,138 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

فاروق صاحب
اقتباس:
آپ اللہ تعالی یا رسول اللہ صلعم کا فرمان نہیں سننا چاہتے ہیں ۔ صرف اور صرف افراد کا ریفرنس مانگتے ہیں۔
یہ بھی ‏آپ کا سوئے فہم ہے۔ میرا قصور نہیں۔۔۔۔ میں نے صرف یہ مطالبہ کیا تھا کہ ‏آپ کا جو فہم قر‏آن ہے کیا اسلام کی گذشتہ ‌چودہ صدیوں میں کسی کا رہا ہے۔ بس۔۔۔۔
اس پر ‏آپ نے جو کاپی پیسٹ کا شاندان تجربہ دہرایا ہے اس پر ‏آپ فرماتے ہیں۔
اقتباس:
نوٹ‌کیجئے کہ ان ا فراد کا تعلق ہر قسم کے فرقے سے ہے۔ آپ اپنے آُپ سے وعدہ کیجئے کہ کم از کم آپ خلاف القرآن روایات کو پھینک دینے کا اصول آج سے مانیں گے (‌جس کو آُپ میرا فہم قرار دیتے ہیں)۔ یہ اور بات ہے کہ آپ کسی روایت کو خلاف قرآن مانیں یا نہیں۔ یہ آپ کی اپنی عقل پر منحصر ہے۔
بلی تھیلی سے ‏آخر نکل ہی ‏آئی۔۔۔۔۔ اتنی سی بات بتانے میں ‏آپ نے اتنا عرصہ لگا دیا۔ یہ ایک جملہ پہلے ہی عرض کر دیا ہوتا۔

‏آپ نے جتنے بھی حضرات کے نام اور ریفرنس دیے ہیں وہ تمام حضرات اصول حدیث کے ایک سنہری اصول کے بارے میں بات کر رہے ہیں کہ خلاف قر‏آن روایت کو قبول نہیں کیا جائے گا۔۔۔۔
اور میں نے کبھی بھی اس اصول کو تسلیم کرنے سے انکار نہیں کیا۔ میرا ‏آپ سے اختلاف اس اصول کے حوالے سے نہیں بلکہ اس کے بعد والی بات سے ہے۔
وہ یہ کے کونسی روایت خلاف قر‏آن ہے اور کونسی نہیں اس کا فیصلہ کیسے ہو گا۔۔۔۔
ان تمام حضرات میں سے کسی نے بھی یہ نہیں کہا کہ ‏آپ کی عقل جس روایت کو خلاف قر‏آن کہے بس وہ خلاف قر‏آن ہے۔۔ اور جو شخص ‏آپ کی عقل کے اس فیصلے کو تسلیم نہ کرے اور اس روایت کو موافق قر‏آن کہے وہ تارک قر‏آن ہے جیسا کہ ‏آنجناب فرماتے ہیں۔

اسی لئے بار بار میں ‏آپ سے یہی پو‌چھتا رہتا ہوں۔۔۔ کہ ‏آخر ‏آپ کو اس بات پر اصرار کیوں ہے کہ ‏آپ کا فہم قر‏آن و حدیث ہی درست ہے۔ جس کی بنیاد صرف اور صرف ‏آپ کی عقلم و فہم ہے۔۔۔۔۔
اور ‏آپ کی عقل کے بر خلاف جو شخص بات کرے وہ تارک قر‏آن اور مشرک کیوں ہے۔

اس لئے محترم کاپی پیسٹ پر اور بات مرو‎ڑنے پر توجہ کم دیجئے اور ٹو دی پوائنٹ بات کرنے پر بھر پوری دھیان رکھیں۔

Last edited by شمشاد احمد; 14-09-10 at 12:15 AM.
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 14-09-10, 01:02 AM   #41
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,612
کمائي: 31,146
شکریہ: 7,116
2,944 مراسلہ میں 8,723 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

الحمد للہ ۔ کہ آپ نے ایک اصول مانا۔

اب رہ گیا کہ ہم اتفاق کیسے کریں‌گے کہ --- کیا خلاف القرآن ہے ؟؟
اب ابتدا ایک سوال سے کرتے ہیں۔ بہت ہی سادہ ہے۔

قرآن حکیم کے مطابق، آپ کے اور میرے درمیان کسی بات پر اتفاق کرنے کا یعنی باہمی فیصلہ کرنے کا کیا طریقہ ہے؟

بہت شکریہ؟ اور سلام
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 14-09-10, 09:25 AM   #42
Member
اجنبی
 
احمد غزنوی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2008
مراسلات: 33
کمائي: 1,919
شکریہ: 111
25 مراسلہ میں 79 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ

جو بحث یہاں‌ شروع کی گئی ہے، میرا نہیں‌ خیال کہ تھریڈ کے موضوع سے کوئی مطابقت رکھتی ہے۔ اس لیے میری موڈریٹرز سے گذارش ہے کہ غیر متعلقہ پوسٹس کو کسی مناسب تھریڈ میں منتقل کردیا جائے۔ شکریہ

والسلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ
احمد غزنوی آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے احمد غزنوی کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (01-03-12), مرزا عامر (01-03-12), شمشاد احمد (14-09-10)
پرانا 14-09-10, 12:32 PM   #43
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,676
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,138 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بات تو یہ بھی درست ہے۔۔۔‌اس طرف دھیان ہی نہیں‌گیا۔۔۔‌کیوں‌کہ کسی اور کو اس موضوع پر عرصہ ہوا دیکھا ہی نہیں‌‏آتے ہوئے۔۔۔۔۔ تو ہمارا ‏آنکڑا ا‎ڑ گیا۔۔۔۔ ‌چلیں فاروق صاحب بھی یقینا اتفاق کریں‌گے۔۔۔
ہم واپس اپنے موسی علیہ السلام کی رسیوں اور حیات عیسی پر ‌چلتے ہیں۔
کیا خیال ہے۔۔۔‌وہ بھی خاموش ہی ہے۔۔۔۔۔ ویسے اصل میں تو یہ مباحث وہاں کی ہی ہیں۔

Last edited by شمشاد احمد; 14-09-10 at 10:50 PM.
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 14-09-10, 12:39 PM   #44
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,612
کمائي: 31,146
شکریہ: 7,116
2,944 مراسلہ میں 8,723 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بھائی ۔ مجھے کوئی اعتراض نہیں‌ہے۔
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 14-09-10, 10:51 PM   #45
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,676
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,138 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

تو ‏آئیے میں نے اپنا یہاں کا سوال
اس دوسرے موضوع پر کر لیتا ہوں۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
ہندو, فرض, کتابوں, کراچی, گمان, قصد, لطیفہ, ماں, مجید, ایمان, اللہ, انگریزی زبان, انٹرنیٹ, انسان, اردو, اسلامی, بہترین, بھائی, تحریر, تعلیم, تعارف, خدا, دیکھو, عالم, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
انٹرنیٹ میں انقلابی سہولتوں کا اضافہ: "بنگ" اور "ویوز" Hashims Search Engines 8 02-09-11 03:24 PM
"کوئی" "کسی" سفارت خانے سے وزیر اعظم ہاوس کی جاسوسی کر رہا تھا حیدر خبریں 6 11-10-10 04:49 PM
مایا "ماں "کوسلا م ،اسی فیصدبھارتی کر پٹ ہیں جاویداسد خبریں 0 09-09-10 02:04 PM
cd,cdr,cdrwکیسے کام کرتی ہیں۔"Optical Drives" arslansun کمپیوٹر ہارڈ ویر معلومات 2 01-02-09 08:37 AM
کیٹیگری "بی" ممالک کے باشندوں کی مانیٹرنگ کیلئے نیا نظام متعارف کرانیکا فی عبدالقدوس خبریں 0 02-07-08 07:52 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 08:53 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger