واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > علوم قرآن کریم > ترجمہ و تفسیر



ترجمہ و تفسیر ترجمہ و تفسیر


اصحاب الاخدود کا واقعہ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 18-01-11, 09:49 PM   #1
اصحاب الاخدود کا واقعہ
شمشاد احمد شمشاد احمد آف لائن ہے 18-01-11, 09:49 PM

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اصحابُ الاخدود کا واقعہ:

قُتِلَ أَصْحَابُ الْأُخْدُودِالنَّارِ o ذَاتِ الْوَقُودِoإِذْ هُمْ عَلَيْهَا قُعُودٌoوَهُمْ عَلَى مَا يَفْعَلُونَ بِالْمُؤْمِنِينَ شُهُودٌoوَمَا نَقَمُوا مِنْهُمْ إِلَّا أَنْ يُؤْمِنُوا بِاللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِoالَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌo

(کہ) خندقوں والے ہلاک کئے گئے وہ ایک آگ تھی ایندھن والی جبکہ وہ لوگ اس کے آس پاس بیٹھے تھے اور مسلمانوں کے ساتھ جو کر رہے تھے اس کو اپنے سامنے دیکھ رہے تھے۔‏ یہ لوگ ان مسلمانوں (کے کسی اور گناہ) کا بدلہ نہیں لے رہے تھے، سوائے اس کے کہ وہ اللہ غالب لائق حمد کی ذات پر ایمان لائے تھے جس کے لئے آسمان و زمین کا ملک ہے۔ اور اللہ تعالٰی کے سامنے ہے ہر چیز۔‏

بنی اسرائیل میں ایک بادشاہ تھا، جس نے اپنے پاس ایک جادوگررکھا ہوا تھا۔ جب جادوگر بوڑھا ہوگیا تو اس نے بادشاہ سے کہا کہ مجھے ایک سمجھدار لڑکا دیجئے جسے میں اپنا تمام عمل سکھادوں، تاکہ وہ میرے بعد تیرے کام آسکے۔ بادشاہ نے ایک لڑکا مقرر کردیا۔ جو اس سے جادو سیکھنے لگا۔ اس لڑکے کے گھر اور جادو گر کے درمیان کے راستہ میں ایک عبادت گاہ تھی جس میں ایک راہب ﴿یہود کا عالم﴾اللہ کی عبادت کرتااور لوگوں کودین سکھایاکرتا تھا۔ لڑکا اس کے پاس بھی جاکر دین کا علم سیکھنے لگا۔

اتفاق سے ایک دن ایسا ہوا کہ جب وہ راہب کے پاس سے جادوگر کے پاس جانے کے لئے نکلا تو اس نے دیکھاکہ ایک بہت بڑا اژدھا لوگوں کے راستہ میں آکر کھڑا ہوگیاہے جس سے لوگوں کی آمد ورفت رک گئی ہے۔ اس نے سوچا یہ موقع اچھا ہے اس بات کی تصدیق ہو جائے کہ جادو گر کا مذہب سچا ہے یا اس راہب کا۔ اس نے ایک پتھر اٹھایا اور اللہ سے دعاکی کہ اگر راہب کا دین سچا ہے تو یہ جانور مرجائے ورنہ ، نہ مرے۔

یہ کہہ کر اس نے پتھر مارا تو اژدھا فوراً مرگیا۔ لوگوں نے یہ دیکھ کر لڑکے کے علم کا اعتراف کرلیا۔ ایک اندھا اس کے پاس آیا اور کہا کہ اگر تو اپنے اسی علم کی بدولت میری بینائی لوٹا دے تو میں تجھے اپنی ساری دولت دے دوںگا۔ لڑکے نے کہاکہ مجھے تم سے کوئی انعام نہیں چاہئے یہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے،ہاں اگر تمہاری بینائی لوٹ آئی تو کیا تم اللہ پر ایمان لے آؤ گے؟ اس نے کہا جی ہاں۔ چنانچہ لڑکے نے دعا کی اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اس کی بینائی لوٹادی تو وہ ایمان لے آیا۔

جب بادشاہ کو اس بات کی خبر ہوئی تو اس نے راہب، لڑکے اور سابق نابینا کو اپنے دربار میں بلوایا اور کہا کہ کیا میرے علاوہ بھی تمہارا کوئی رب ہے؟ انہوں نے کہا کہ اللہ ہی ہم سب کا رب ہے۔ بادشاہ نے لڑکے کے علاوہ ان دونوں کو آرے سے چیرکر دوٹکڑے کرادیا۔ اور لڑکے کے بارے میں اپنی فوج کے ایک دستہ کوحکم دیا کہ اسے پہاڑ کی چوٹی پر لے جاکراس سے اللہ کا دین چھوڑنے کا پوچھنا اگر چھوڑدے تو ٹھیک ، ورنہ دھکا دے دینا تاکہ نیچے گرکر مر جائے۔

جب وہ اسے پہاڑ کی چوٹی پر لے گئے تو اس لڑکے نے اللہ سے یہ دعا کی :۔ ’’اَللّٰھُمَّ اکْفِنِیْھِمْ بِمَا شِئْتَ‘‘﴿اے اللہ جس طرح تو چاہے مجھے ان سے بچالے﴾۔ اللہ تعالیٰ نے پہاڑ پر لرزہ طاری کردیاوہ ساری فوج جو اس کومارنے گئی تھی ، خود گر کر مرگئی۔ اور لڑکا صحیح وسلامت دوبارہ بادشاہ کے دربار میں پہنچ گیا۔ بادشاہ نے پوچھا کہ میرے فوجی کہاں ہیں۔ اس نے کہا کہ ان تمام کو میرے رب نے مارڈالا اور مجھے بچالیا۔ بادشاہ نے پھر دوسرے دستہ کو حکم دیا کہ اسے سمندر میں لے جاؤ اور جب درمیان میں پہنچو تو اس سے ﴿اللہ کا﴾ دین چھوڑنے کا پوچھنا اگر چھوڑدے تو ٹھیک ورنہ ڈبو دینا۔

وہ اسے لے گئے جب درمیان میںپہنچے تو اس لڑکے نے پھر اللہ سے وہی دعاکی، اللہ نے تمام کو غرق کردیا اور اس لڑکے کو بچالیا۔ وہ پھر بادشاہ کے دربار میںپہنچاتو بادشاہ نے پوچھا کہ میرے فوجی کہاں ہیں۔ اس نے پھر وہی جواب دیا اور کہا کہ اگر تو مجھے مارنا چاہتا ہے تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ ایک بہت بڑے میدان میں تمام رعایا کو جمع کر اور میرے ترکش میں سے ایک تیر نکال کر میری کمان میں لگا کر یہ کلمات : ’’بِسْمِ اللّٰہِ رَبِّ الْغُلاَمِ‘‘﴿اللہ کے نام کے ساتھ میں تیر چلاتا ہوں جو اس لڑکے کا رب ہے﴾ پڑھ کر مجھ پر تیر پھینک، میں مر جاؤں گا۔

بادشاہ نے ایسا ہی کیا اور لڑکا مر گیا تو ساری قوم جو یہ منظر دیکھ رہی تھی فوراً اللہ پر ایمان لے آئی اور اس کی بندگی کا اقرار کرلیا۔ بادشاہ یہ دیکھ کربہت پریشان ہوا اور اس نے اپنے فوجیوں کو خندقیں کھودنے اور ان میں لکڑیوں کے ذریعہ آگ جلانے کا حکم دیا اور تمام کو اس کے گرد اکھٹاکرکے ہر ایک سے اس کے دین کے بارے میںپوچھاجاتا، جو توحید کا اقرار کرتا اسے زندہ آگ میں پھینک دیا جاتا۔ اس طرح بہت سارے مومن مردوں اور عورتوں کو آگ میں زندہ جلادیاگیا۔ وہ آگ بہت ہی زیادہ بھیانک اور بڑی تیز تھی۔مومنین کو اس لئے انتقام کا نشانہ بنایاگیا کہ وہ اللہ ربُّ العالمین پر ایمان لاچکے تھے۔ ﴿مسلم۔ عن صہیب رضی اللہ عنہ ﴾

ماخذ
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔

 
شمشاد احمد's Avatar
شمشاد احمد
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,138 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 208
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
کنعان (19-01-11), مرزا عامر (19-01-11), ام حازم (19-01-11), احمد بلال (20-01-11), راجہ اکرام (21-01-11), عبداللہ آدم (21-01-11)
پرانا 21-01-11, 08:41 PM   #2
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,572
کمائي: 315,134
شکریہ: 25,210
16,389 مراسلہ میں 41,629 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اسی حوالے سے آج ایک ای میل موصول ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔ افادہ عام کے لئے پیش خدمت ہے

جلتے بھنتے اجسام اور رفعتیں پاتی ارواح ۔۔۔۔۔۔
اصحاب الاخدود


ماخوذ: فی ظلال القرآن
سید قطب


اصحاب الاخدود کا واقعہ جس طرح مفسرین نے سورت بروج کے ذیل میں بیان کیا ہے۔ اکثر قارئین کی نظر سے گزر چکا ہوگا۔ اس واقعہ کو سید قطب نے 'فی ظلال القرآن' میں جس خوبصورت پیرائے میں پیش کیا ہے وہ نہ صرف دِلوں میں ایمان کا ولولہ پیدا کرتا ہے بلکہ اس تفسیر سے ہار جیت کے انسانی تصورات بھی بدل جاتے ہیں۔ انسانی جسم کی ساخت ایسی ہے کہ گوشت پوست کے اس بدن کو آخری سطح تک اور ہمیشہ کیلئے خوب سے خوب تر نہیں بنایا جا سکتا، آج کی مادی تہذیب صرف اصلاحِ ابدان تک محدود ہے، البتہ انسانی ساخت میں جو عنصر آخری سطح تک اور ہمیشہ کیلئے خوب سے خوب تر ہو سکتا ہے تو وہ عنصر ہے 'روح'۔
فی ظلال سے سورہ بروج کی تفسیر سے پہلے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ تفہیم القرآن سے قصے کا پس منظر پیش کیا جائے۔ مولانا مودودی نے اس سلسلے میں متعدد واقعات ذکر کئے ہیں، ہم اُن میں سے ایک واقعے کو بیان کریں گے۔ حضرت صہیب رومی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ ایک بادشاہ کے پاس ایک ساحر تھا۔ اُس نے اپنے بادشاہ سے بڑھاپے میں کہا کہ کوئی لڑکا ایسا مامور کردے جو مجھ سے یہ سحر سیکھ لے۔ بادشاہ نے ایک لڑکے کو مقرر کردیا، مگر وہ لڑکا ساحر کے پاس آتے جاتے ایک راہب سے بھی ملنے لگا اور اس کی باتوں سے متاثر ہو کر ایمان لے آیا، حتیٰ کہ اس کی تربیت سے صاحب کرامت ہو گیا اور اندھوں کو بینا اور کوڑھیوں کو تندرست کرنے لگا۔ بادشاہ کو جب یہ معلوم ہوا کہ یہ لڑکا توحید پر ایمان لے آیا ہے تو اُس نے پہلے تو راہب کو قتل کیا، پھر اُس لڑکے کو قتل کرنا چاہا مگر کوئی ہتھیار اور کوئی حربہ اُس پر کارگر نہ ہوا۔ آخرکار لڑکے نے کہا اگر تو مجھے قتل کرنا ہی چاہتا ہے تو مجمع عام میں باسم ربِّ الغلام (اس لڑکے کے رب کے نام پر) کہہ کر مجھے تیر مار، میں مر جاؤں گا۔ چنانچہ بادشاہ نے ایسا ہی کیا اور لڑکا مر گیا۔ اس پر لوگ پکار اُٹھے کہ ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لے آئے۔ بادشاہ سے اس کے مصاحبوں نے کہا کہ یہ تو وہی کچھ ہوگیا جس سے آپ بچنا چاہتے تھے۔ لوگ آپ کے دین کو چھوڑکر اس لڑکے کے دین کو مان گئے۔ بادشاہ یہ حالت دیکھ کر غصے میں بھرگیا۔ اُس نے سڑکوں کے کنارے گڑھے کھدوائے، اُن میں آگ بھروائی اور جس جس نے ایمان سے پھرنا قبول نہ کیا، اُس کو آگ میں پھنکوا دیا۔ (1)
تفسیر سورہ بروج:
سورہ بروج اگرچہ چھوٹی سورتوں میں سے ایک ہے مگر اس سورے میں مومن پر عقیدے کی حقیقت کھول کر رکھ دی گئی ہے اور ساتھ ہی ایمانیات کے تصورات اور اس کی مبادیات بھی بتا دیئے گئے ہیں، (انسان کے فلسفہ حیات) کے بڑے بڑے عنوانات جن سے نور اور ضیاء کے دھارے پھوٹ پھوٹ کر آفاق تک پھیلی سیاہی کو چیر کر رکھ دیتے ہیں، اس سورے میں عقیدے کے معانی اور ایمان کی اصل حقیقت نکھر کر سامنے جیتی جاگتی صورت میں نظر آتی ہے، اس سورے کی ایک ایک آیت بلکہ بعض دفعہ تو ایک ایک لفظ ابدی اور آفاقی حقائق کے دریچے وا کرتا ہے۔ (بہت دور تک افق اُجلا دکھائی دیتا ہے۔۔۔۔۔۔)
کہا جاتا ہے کہ پچھلے زمانے میں عیسائی مذہب کے موحدین پر سرکش اور جابر حکمرانوں نے ظلم وستم کے پہاڑ توڑ دیے تھے۔ وہ اُن سے اُن کا عقیدہ چھیننا چاہتے تھے اور مجبور کر رہے تھے کہ وہ اپنے ایمانی تصورات کو ترک کرکے اپنے دین سے پھر جائیں گے، مگر اصحاب ایمان کو یہ کب گوارا ہوا ہے، ہاں طواغیت کو بھی یہ گوارا نہیں کہ دُنیا میں ایسے اجنبی لوگ دیکھنے کو ملیں جن کیلئے کسی تصور حیات پر ڈٹ جانا انہیں ان کی زندگی سے بھی عزیز تر ہو۔ زمین میں بڑے بڑے شگاف ڈال دیے جاتے ہیں۔ پھر ان شگافوں میں ایندھن ڈالا جاتا ہے اور پھر شگافوں کی جگہ وہاں دہکتا ہوا الاؤ آنے والی نسلوں کیلئے روشنی پہنچانے کا سامان کر جاتا ہے۔ اِن شگافوں کی روشنی اور تابناک ہو جاتی ہے جب ان میں اہل ایمان کے گروہ در گروہ جھونک دیے جاتے ہیں، طواغیت اس منظر کو ابد آباد تک محفوظ کرنے کیلئے اپنے عوام کو محظوظ کرنے کیلئے لاکھڑا کرتے ہیں۔ آگ اگلتے گڑھوں میں جلتے ابدان پر پورا شہر گواہ بن جاتا ہے۔ اردگرد کٰھے لوگ ٹھٹھہ کر کے طواغیت کی ایذاء رسانی کی لذت کو دوچند کر دیتے ہیں۔ اب آگ میں ایندھن نہیں تھا، انسانی اجسام تھے، اُن کا قصور یہ تھا کہ وہ اپنے عقیدے سے دستبردار ہونے کو تیار نہ تھے۔ طاغوت اور اہل ایمان کی نفسیات سے یہ آیت مبارکہ پردہ اُٹھاتی ہے: وما نقموا منہم اِلاّ اَنْ یؤمنوا باﷲ العزیز الحَمید (2)
اس منظر کی دلوں میں دھاک بٹھانے کیلئے سورے کا آغاز قسم سے ہوتا ہے:
والسماء ذات البروج
والیوم الموعود
وشاھدٍ ومشھود
قُتِلَ اَصحابُ الُاخدُود
قسم ہے مضبوط قلعے والے آسمان کی!
قیامت کے دِن کی بھی!
اور دیکھنے والے کی بھی اور جسے یکھا جا رہا تھا (اُس کی بھی)
مار دیے گئے گڑھے والے
واقعہ اتنا ہولناک تھا کہ آسمان کی اور اُس میں موجود مضبوط قلعوں کی قسم سے سورے کا آغاز ہوتا ہے اور پھر قیامت اور اس کی ہولناکیاں، یہ سورت ان لوگوں کو بھی نہیں بھولتی جو تماشا دیکھنے کیلئے وہاں جمع ہو گئے تھے اور نہ انہیں بھلاتی ہے جن کو دیکھنے کیلئے وہ جمع ہوئے تھے۔ آپ ان تینوں مناظر کو ذہن میں رکھ کر اس سورے کو پڑھیں، برپا ہونے والا واقعہ اور قیامت کی ہولناکی کا منظر اور اوپر سے آسمان مع اپنے قلعوں کے۔۔۔۔۔۔
پھر آپ کے سامنے آگ کا الاؤ آتا ہے جسے دیکھ کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں، یہاں اس بات کی ضرورت نہیں سمجھی گئی کہ اس منظر کی تفصیلات بیان کی جائیں، آگ کا دہکتا الاؤ بذات خود تفصیلات بلکہ جزئیات تک پیش کر دیتا ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آگ کیوں بھڑکائی گئی ہے، اپنے عقیدے اور ایمان پر ثابت قدم رہنے والے! جو اس قدر اذیت سہہ کر ڈٹے رہتے ہیں، ڈٹے ہی رہتے ہیں اور آگ کے سمندر کو زیر کر لیتے ہیں، آگ تو کیا وہ تو حیات کو بھی فتح کر لیتے ہیں، آگ بجھنے لگتی ہے اور روحیں قلعوں والے آسمان کی طرف پرواز کر جاتی ہیں، اُس منزل کی طرف جہاں کا انسان ازل سے کھوج لگا رہا ہے۔۔۔۔۔۔ رفعتوں کے مقامات، اوج اور ثریا کے مقاماتِ قدسیہ کی طرف محو پرواز روحیں، ان کے نیچے زمیں پر رہ جاتے ہیں: سفلہ، گھٹیا اور کمینہ و کینہ پرور۔۔۔۔۔۔ دوسری طرف مومنین کی پاک روحیں، اوپر ہی اوپر، اُس آگ سے بھی اوپر جس میں ان کے ابدان جل رہے ہوتے ہیں:
النّار ذَات الوَقود
اِذھم علیھا قعود
وھم علی ما یفعلون بالمؤمنین شَھُود
جس میں خوب بھڑکتے ہوئے ایندھن کی آگ تھی
جبکہ وہ اس گڑھے کے کنارے پر بیٹھے ہوئے تھے
اور جو کچھ وہ ایمان لانے والوں کے ساتھ کر رہے تھے اُسے (بچشم سر) دیکھ رہے تھے
اس منظر کے بعد دعوت، عقیدہ اور ایمان کے تصورات، چھوٹے چھوٹے جملوں میں بڑی بڑی حقیقتوں کو کھولتے ہیں، عقیدہ اور مان، جو اُس بادشاہ نے پیدا کیا ہے، جس کی بادشاہت آسمانوں اور زمین کے سارے براعظموں میں پھیلی ہوئی ہے، وہ کہ جس سے کوئی منظر پوشیدہ نہیں رہ سکتا:
الّذِی لہ مُلکُ السّموٰتِ وَالَارضِ
واﷲ علی کلّ شئیءٍ شھید
جو آسمانوں اور زمین کی سلطنت کا مالک ہے۔
اور وہ خدا سب کچھ دیکھ لیا کرتا ہے۔
سورت میں دہلا دینے والا منظر، سفلہ اور کمینہ صفت گھمنڈیوں کے سامنے ایک اور خوب دیکھے جانے والے بڑے دن کو بھی رکھتا ہے، دوزخ کا دہکتا الاؤ اور اُس میں جلا دینے والا عذاب جس کے پہلو میں میوے سے اٹے ہوئے باغوں والی جنتیں ہیں، وہ جو سب سے بڑی کامیابی کی منزل ہے، اُن کیلئے جو صاحب ایمان ہو کر عقیدے کو زندگی کے بدلے لے جاتے ہیں، جن کیلئے دُنیا کی آگ میں جل جانا کوئی معنی نہ رکھتا تھا۔
اِنّ الَّذِین فَتَنوا المؤمنین والمؤمناتِ ثُمّ لَم یتوبوا فلھم عذابُ جھنّمَ ولَھم عَذابُ الحَریق
جن لوگوں نے مومن مردوں اور عورتوں پر ستم توڑا اور پھر اُس سے تائب نہ ہوئے یقینا اُن کیلئے جہنم کا عذاب ہے اور اُن کیلئے جلائے جانے کی سزا ہے۔
اِنّ الّذین آمَنوا وعَمِلوا الصّلحت لھم جنّتٌ تجری مِن تحتھا الاَنھار ذلِکَ الفَوزُ الکَبیرُ
جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کئے یقینا اُن کیلئے جنت کے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی یہ ہے وہ بڑی کامیابی۔
اس بربریت کے بعد ضروری تھا کہ سورت میں ظالموں کی پکڑ کا تذکرہ کیا جاتا:
اِنّ بَطش ربّکَ لَشَدیدٌ
اِنّہ ھُوَ یُبدئُ وَ یُعِیدُ (3)
درحقیقت تمہارے رب کی پکڑ بڑی ہی سخت ہے۔
وہی پہلی بار پیدا کرتا ہے، اور وہی دوبارہ پیدا کرے گا۔
اِن آیات مبارکہ میں اللہ رب العالمین اپنا تعارف کراتا ہے، اللہ کی ہر ایک صفت یہاں اپنے سیاق میں ایک بڑا معنی رکھتی ہے۔ وھو الغفور ۔۔۔۔۔۔ ظالموں سے فوراً بدلہ نہیں لیتا کیونکہ وہ غفور ہے بڑے سے بڑے گناہ اور سرکشی کو توبہ کرنے سے معاف کر دیتا ہے۔
زمین پر جس مخلوق کو اُس نے پہلی مرتبہ بھی پیدا کیا تھا اور اب تک ان کی نسل برقرار رکھے ہوئے ہے سب کے حق میں 'الوَدُدو' ہے۔ الودود جو محبت اور شفقت کے بھرپور جذبات سے بندوں کے دُکھ، درد دور کر دیتا ہے، زخموں پر مرہم رکھ دیتا ہے۔
ذوالعرشِ المَجیدِ: عرش والا، بزرگ اور برتر۔
فَعّال لِّمَا یُریدُ: کر گزرتا ہے جو وہ چاہتا ہے۔
اس کی بادشاہت کل جہاں اور سارے آفاق پر پھیلی ہے، اُس کے چاہے کو کوئی روکنے والا پیدا ہی نہیں ہوا۔
بَل ھُوَ قُرآنٌ مَّجیدٌ فِی لَوحٍ مَّحفُوظٍ
جو وہ چاہتا ہے بتلا دیتا ہے بلکہ لکھ کر محفوظ کر دیتا ہے کہ دیکھو میں (ظالموں کے ساتھ) یہ کرنے والا ہوں، لوح محفوظ میں لکھے دیتا ہوں، ہے کوئی جو میرے لکھے ہوئے امر کو ٹال دے، کوئی جابر، کوئی سرکش، کوئی ۔۔۔۔۔۔
قاری کے قلب وذہن میں ہیبت چھائی ہوئی ہے اور سورت اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہی ہے، ہیبت زدہ قاری ایمان کا امتحان سے گزرنا دیکھ رہا ہے، عقیدے کو جیون سے زیادہ جاوداں دیکھتا ہے، ایک لطیف عنصر جسم کی قید اور زمین کی کشش سے ماوراء ہوا جاتا ہے، اڑا چلا جاتا ہے، جلنے والے انسان چاہتے تو اپنے ایمان کو چھپا کر رکھتے، کسی حکمت عملی سے کام لیتے، آخر جان بچانے کیلئے خاموشی اختیار کرنا بھی تو مباح فعل ہے۔ مگر یہاں دکھانا یہ مقصود تھا کہ ایمان جیت جاتا ہے یا زندگی۔۔۔۔۔۔ ایمان کو سرفراز کر جانے کا یہ موقع کھو کر سب سے پہلے تو وہ اپنے ضمیر کے سامنے شرمندگی محسوس کرتے اور پھر پوری انسانیت کا نقصان الگ ہوتا، انسانوں کیلئے کچھ تو روشنی کے منار ہونے چاہیں، ایمان میں جو حرارت پیدا ہو گئی تھی اُسے تاباں کئے بغیر ہی ہر ایک اپنی سمت کو چل دیتا ، انسانوں کو کچھ دیے بغیر صرف اپنی حد تک ایمان کو محدود کرکے۔۔۔۔۔۔ کیا زندگی کی کوئی قیمت ہے اگر اُس زندگی میں کوئی نظریہ ہلچل پیدا نہ کرے، ایمان کے معانی تشنہ رہ جاتے اور صرف دِل کا ایک فعل رہ جاتا اور بس۔۔۔۔۔۔ سودے کا مول لگ رہا تھا، بدن جل رہے تھے، منافع بڑھ رہا تھا، ایمان کے معانی آگ میں جلترنگ پیدا کر رہے تھے اور دُنیا حیرانی سے آگ کے سمندر میں گلزاروں کا نظارہ کر رہی تھی، کھوٹ پیندے میں اور سونا جگ مگ جگ مگ۔۔۔۔۔۔
جب تک سورت بروج پڑھی جاتی رہے گی تب تک ایمان کے معانی پھوٹتے رہیں گے، عمیق اور لطیف معانی، آگ اور گلزار، تکبر اور ایمان، گڑھے اور ٹھٹھے اور ستم زدہ اہل ایمان۔ خود جیون سے بھی زیادہ پیارے معانی۔۔۔۔۔۔ وَمَا نَقَمُوا مِنھُم ۔۔۔۔۔۔


اُردو استفادہ مع تصرف: محمد زکریا


1. تصور کیا جا سکتا ہے کہ ایک خلقت کو آگ کے الاؤ میں جھونکنے کیلئے بڑے بڑے گڑھے کھودنے میں وقت ضرور لگا ہوگا۔ ایمان لانے کا اگر اُن کا فیصلہ جذباتی تھا اور محض ایک کرامت سے مرعوب ہو کر وہ ایمان لائے ہوتے تو جب تک آگ بڑھکانے کے انتظامات ہوئے ہوں گے، اس طویل دورانیے کے دوران میں وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کر سکتے تھے یا کم از کم تقیہ تو کر ہی سکتے تھے، مگر اہل ایمان سے کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ اپنے انجام سے پہلے ہی سے آشنا ہوتے ہیں۔

2. اور اہل ایمان سے ان کی دشمنی اس کے سوا کسی وجہ سے نہ تھی کہ وہ اُس خدا پر ایمان لے آئے تھے جو زبردست اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے۔

3. اِس آیت میں یہ اشارہ بھی موجود ہے کہ ظالم اور جابر خود سے پیدا نہیں ہوئے تھے، وہ اگر اپنی ابتدائے آفرینش پر غور کرتے تو تکبر کی بجائے انکساری کا رویہ اپناتے۔ اور دوبارہ مر جانے والوں کے لوٹانے میں یہ اشارہ ہے کہ نہ ظالم اس کی پکڑ سے بھاگ کر جانے والے ہیں اور نہ ہی معصوم جانوں کا خون رائیگاں ہونے والا ہے۔ (مترجم)
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (21-01-11), مرزا عامر (21-01-11), شمشاد احمد (21-01-11), عبداللہ آدم (21-01-11), عبداللہ حیدر (21-01-11)
پرانا 21-01-11, 09:18 PM   #3
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,027
کمائي: 99,940
شکریہ: 23,989
4,984 مراسلہ میں 14,700 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

آگ ہے اولاد ابراہیم ہے نمرود ہے
کیا پھر کسی کو کسی کا امتحاں مقصود ہے

آج بھی خندقیں کھدی ہوئی ہیں اور اہل ایمان دیوانہ وار اپنے رب کے حضور قربانیاں پیش کر رہے ہیں.......

انداز تھوڑا مختلف ہے باقی سب کچھ وہی ہے
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (21-01-11), شمشاد احمد (21-01-11), عبداللہ حیدر (21-01-11)
جواب

Tags
ہے۔, کلمات, گھر, گئی, لوگ, لڑکا, نام, موقع, ملک, مسلمانوں, ایمان, اللہ, انعام, بندگی, بادشاہ, توحید, جواب, خبر, راستہ, عورتوں, علم, عبادت, غالب, غرق, صحیح


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 08:55 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger