واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > علوم قرآن کریم > ترجمہ و تفسیر



ترجمہ و تفسیر ترجمہ و تفسیر


!"! اصول ترجمہ قرآن ª!ª

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 20-07-10, 05:21 AM   #1
!"! اصول ترجمہ قرآن ª!ª
آبی ٹوکول آبی ٹوکول آن لائن ہے 20-07-10, 05:21 AM

اصول ترجمہٴ قرآن کریم

علامہ مولانا محمد عبدالحکیم شرف قادری علیہ الرحمۃ

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ کَفٰی وَ الصَّلوٰةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفےٰ خُصُوْصاً عَلٰی اَفْضَل الخلق وَ سَیِّدُ الرُّسل مُحَمَّدٍ ن النَبِی الاُمِیِّ الَّذِی اولی القرآن والسبع المثانِی وَعَلٰی آلِہ وَاَصحَابِہ اَجْمَعِیْنَ o

اصل موضوع پر گفتگو کرنے سے پہلے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم، تفسیر اور ترجمہ کے معانی اور تعریفات ذکر کردی جائیں تاکہ اصل مطلب کے سمجھنے اور سمجھانے میں آسانی رہے۔

قرآن کریم:
عربی لغت میں قرآن، قراء ت کا ہم معنی مصدر ہے، جس کا معنی پڑھنا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

اِنَّ عَلَیْنَا جَمَعَہ وَقُرْاٰنَہ فَاِذَا قَرَاْنَاہُ فَاتَّبِعْ قُرْاٰنَہ (76/18- 17)

”بے شک اس کا محفوظ کرنا اور پڑھنا ہمارے ذمہ ہے، تو جب ہم اسے پڑھ چکیں اس وقت پڑھے ہوئے کی اتباع کرو“ (کنزالایمان)

پھر معنی مصدری سے نقل کر کے اللہ تعالیٰ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیے ہوئے مُعجزِ کلام کا نام قرآن رکھا گیا، یہ مصدر کا استعمال ہے مفعول کے معنی میں جیسے خلق بمعنی مخلوق عام طور پر آتا ہے۔[1]

تفسیر:
عربی زبان میں تفسیر کا معنی ہے ”واضح کرنا اور بیان کرنا“ اسی معنی میں کلمہٴ تفسیر سورہٴ فرقان کی اس آیت میں آیا ہے:

وَلَا یَاْ تُوْنَکَ بِمَثَلٍ اِلاَّ جِئْنٰکَ بِا لْحَقِّ وَاَحْسَنَ تَفْسِیْرًا
(الفرقان 25/ 33)


”اور کوئی کہاوت تمہارے پاس نہ لائیں گے مگر ہم اس سے بہتر بیان لے آئیں گے“

اصطلاحی طور پر تفسیر وہ علم ہے جس میں انسانی طاقت کے مطابق قرآن پاک سے متعلق بحث کی جاتی ہے کہ وہ کس طرح اللہ تعالیٰ کی مراد پر دلالت کرتا ہے۔

جب یہ کہا گیا کہ تفسیر میں قرآن کریم سے بحث ہوتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی مراد پر دلالت کرنے کے اعتبار سے تو اس قید سے درج ذیل علوم خارج ہوگئے انہیں تفسیر نہیں کہا جائے گا۔

علم قراءت:
اس علم میں قرآن کریم کے احوال ہی سے بحث ہوتی ہے لیکن قرآن پاک کے کلمات کے ضبط اور ان کی ادائی کی کیفیت پیش نظر ہوتی ہے۔

علم رسم عثمانی:
اس علم میں قرآن کریم کے کلمات کی کتابت سے بحث کی جاتی ہے۔

علم کلام:
اس علم میں بحث کی جاتی ہے کہ قرآن پاک مخلوق ہے یا نہیں۔

علم فقہ:
اس علم میں بحث کی جاتی ہے کہ حیض و نفاس اور جنابت کی حالت میں قرآن پاک کا پڑھنا حرام ہے ۔ (2)

علم صرف:
اس علم میں کلمات کی ساخت سے بحث ہوتی ہے۔

علم نحو:
اس میں کلمات کے معرب (اعراب لگانا) و مبنی ہونے اور ترکیب کلمات سے بحث ہوتی ہے۔

علم معانی:
اس میں کلام فصیح کے موقع محل کے مطابق ہونے سے بحث کی جاتی ہے۔

علم بیان:
اس میں ایک مطلب کو مختلف طریقوں سے بیان کرنے کی بحث ہوتی ہے۔

علم بدیع:
اس میں وہ امور زیر بحث آتے ہیں جن کا تعلق الفاظ کے حسن و خوبی سے ہوتا ہے غرض یہ کہ صرف علم تفسیر ہی وہ علم ہے جس میں طاقت انسانی کے مطابق قرآن پاک کے ان معانی اور مطالب کو بیان کیا جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ تعالیٰ کی مراد ہیں۔

طاقتِ انسانی کی قید کا مطلب یہ ہے کہ متشابہات کے مطالب اور اللہ تعالیٰ کی واقعی مراد کا معلوم نہ ہونا علم تفسیر کے خلاف نہیں ہے، اللہ تعالیٰ کی مراد اسی حد تک بیان کی جائے گی جہاں تک انسانی طاقت اور علم ساتھ دے گا۔

وہ علوم جن کی مفسّر کو حاجت ہے:
علما اسلام نے مفسر کے لیے درج ذیل علوم میں مہارت لازمی قرار د ی ہے:


(1) لغت (2) صرف (3) نحو
(4) بلاغت (5) اصول فقہ (6) علم التوحید
(7) قصص ( ناسخ و منسوخ (9)علم وہبی
(10) اسباب نزول کی معرفت
(11) قرآن کریم کے مجمل اور مبہم کو بیان کرنے والی احادیث


وہبی علم، عالمِ با عمل کو عطا کیا جاتا ہے، جس شخص کے دل میں بدعت، تکبر، دنیا کی محبت یا گناہوں کی طرف میلان ہو اسے علم وہبی سے نہیں نوازا جاتا۔

ارشاد ربانی ہے:
سَاَصْرِفُ عَن آیَاتِیَ الَّذِینَ یَتَکَبَّرُوْنَ فِی الاَرْضِ بِغَیْرِ الحَقِّ (نوح 7/146)


”اور میں اپنی آیتوں سے انہیں پھیر دوں گا جو زمین میں ناحق بڑائی چاہتے ہیں۔“ (کنزالایمان)

امام شافعی فرماتے ہیں:
شَکوتُ اِلیٰ وَکِیعٍ سُوءَ حِفْظِی
فَاَرشَدَنِیْ اِلیٰ تَرکِ الْمَعَاصِیْ
وَاَخبَرَنِیْ بِاَنَّ الْعِلْمَ نُوْر
وَنُورُ اللّٰہِ لَا یُھْدٰی لِعَاصِی


میں نے امام وکیع کے پاس حافظے کی خرابی کی شکایت کی تو انہوں نے مجھے گناہوں کے ترک کرنے کی ہدایت فرمائی۔

اور مجھے بتایا کہ علم نور ہے اوراللہ تعالیٰ کا نور گناہگار کو عطا نہیں کیا جاتا۔

یہ علوم اور ان کے علاوہ دیگر شرائط تفسیر کے اعلیٰ مراتب کے لیے ضروری ہیں۔ عمومی طور پر اتنا علم کافی ہے جس سے قرآن پاک کے مطالب اجمالی طور پر سمجھے جاسکیں اور انسان اپنے مولائے کریم کی عظمت اور اس کے پیغام سے آگاہ ہوسکے۔

تفسیر کے اعلیٰ مراتب کے لیے چند امور نہایت ضروری ہیں:

قرآن پاک میں امم سابقہ، سننِ الٓہیہ اور اللہ تعالیٰ کی ان آیات کا اجمالاً ذکر کیا گیا ہے جو آسمانوں اور زمین، آفاق اور نفوس میں پائی جاتی ہیں، یہ اس ہستی کا بیان کردہ اجمال ہے جس کا علم ہر شے کو احاطہ کیے ہوئے ہے، اس نے ہمیں غور و فکر اور زمین میں سیر کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ ہم اس کے اجمال کی تفصیل کو سمجھ کر ترقی کے زینے طے کرسکیں، اب اگر ہم کائنات پر ایک سر سری نظر ڈالنا ہی کافی جان لیں تو یہ ایسے ہی ہوگا جیسے کہ ایک شخص کسی کتاب کی جلد کی رنگینی اور دلکشی کو دیکھ کر خوش ہوجائے اور اس علم و حکمت سے غرض نہ رکھے جو اس کتاب میں ہے۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جو شخص احوال جاہلیت سے جس قدر زیادہ جاہل ہے اس کے بارے میں اتنا ہی زیادہ خوف ہے کہ وہ اسلام کی رسی کو تار تار کردے، مطلب یہ ہے کہ جو شخص اسلام کی آغوش میں پیدا ہوا، پلا بڑھا اور اسے پہلے لوگوں کے حالات معلوم نہیں ہیں تو اسے پتا نہیں چلے گا کہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت و عنایت نے کس طرح انقلاب برپا کیا اور کس طرح انسانوں کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کے جگ مگ راستے پر کھڑا کر دیا؟


ترجمہ۔۔۔۔۔ عربی لغت کی روشنی میں :

عربی زبان میں لفظ ”ترجمہ“ چار معنوں کے لیے استعمال ہوتا ہے:

ایک شاعر نے لفظِ ترجمہ اسی معنی میں استعمال کیا ہے:

اِنَّ الثَّمَانِیْنَ …… وَ بَلَغْتُھَا
قَد اَحْوَجَت سَمعِی اِلیٰ تَر جُمَان


”بے شک میں اسّی سال کی عمر کو پہنچ چکا ہوں اس عمر نے مجھے ترجمان کا محتاج بنا دیا ہے“
(یعنی مجھے مخاطب کی بات سنائی نہیں دیتی، اس لیے میں ایسے شخص کا محتاج ہوں جو خاص طور پر مجھے وہ بات سمجھائے)

اسی معنی کے اعتبار سے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو ”ترجمان القرآن“ کہا جاتا ہے۔

لسان العرب اور قاموس میں ہے کہ ترجمان : کلام کے مفسر کو کہتے ہیں، شارح قاموس نے جوہری کے حوالے سے بیان کیا کہ تَرجَمَہ و تَرجَمَ عَنْہُ کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص کسی کے کلام کا مطلب دوسری زبان میں بیان کرے۔
البتہ تفسیر ابن کثیر اور تفسیر بغوی سے معلوم ہوتا ہے کہ لفظ ترجمہ، عربی زبان میں مطلقاً بیان کرنے کو کہتے ہیں خواہ اسی زبان میں ہو جس میں اصل کلام ہے یا دوسری زبان میں۔
لسان العرب میں ترجمان پہلے حرف پر پیش یا زبر، وہ شخص ہے جو کلام کو ایک زبان سے دوسری زبان کی طرف نقل کرے
قاموس سے معلوم ہوتا ہے کہ ترجمان کا تلفظ تین طرح کیا جاسکتا ہے۔

تاء اور جیم دونوں پر پیش (تُرجُمان)
دونوں پر زبر (تَرجَمان)
تاء پر زبر اور جیم پر پیش (تَرجُمان)

چونکہ ان چاروں معنوں میں بیان پایا جاتا ہے، اس لیے وسعت دیتے ہوئے ان چار معنوں کے علاوہ ہر اس چیز پر ترجمہ کا اطلاق کردیا جاتا ہے جس میں بیان ہو، مثلاً کہا جاتا ہے۔

تَرجَمَ لِھٰذَا البَاب بکَذَا، مصنف نے اس باب کا یہ عنوان مقرر کیا۔
تَرجَمَ لِفَلاَنٍ، فلاں شخص کا تذکرہ لکھا۔
تَر جَمَةُ ھٰذَا البَابِ کذا، اس باب کا مقصد اور خلاصہ یہ ہے ۔ [4]


یاد رہے کہ تَرجَمَة رباعی مجرد کے باب فَعْلَلَةٌ سے ہے، اس لیے ترجمہ کرنے والے کو مُتَرْجِم اور قرآن پاک کو مُتَرْجَم کہا جائے گا مُتَرَجِّم اور مُتَرَجَّم میں جیم کو مشدد پڑھنا غلط ہے۔

ترجمہ کا عرفی معنی :

لغوی اعتبار سے لفظ ترجمہ چار معنوں میں استعمال ہوتا ہے، جن کا ذکر ابھی ابھی کیاگیا ہے۔ عرف عام میں لفظ ترجمہ سے چوتھا معنی مراد لیا جاتا ہے یعنی ایک کلام کا معنی کسی دوسری زبان میں بیان کرنا۔

علامہ محمد عبد العظیم زرقانی کہتے ہیں کہ ترجمہ کا عرفی معنی یہ ہے کہ کلام ایک زبان میں ہو، اور اُس کا مطلب دوسری زبان میں اس طرح بیان کیا جائے کہ اس کلام کے تمام معانی اور مقاصد بھی ادا کردیے جائیں۔ (5) اور ظاہر ہے کہ کسی بھی کلام کا اور خاص طور پر قرآن مجید کا ایسا ترجمہ نہیں کیا جاسکتا جس میں اصل کلام کے تمام معانی اور مقاصد ادا کردیے جائیں۔ اسی لیے علامہ محمد عبد العظیم زرقانی قرآن پاک کے ترجمہ کو ناجائز قرار دیتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ تفسیر میں اصل کلام کے تمام معانی کا ادا کرنا ضروری نہیں ہے بلکہ بعض مقاصد کا ادا کرنا کافی ہے، اس لیے قرآن پاک کی تفسیر تو کی جاسکتی ہے ترجمہ نہیں کیا جاسکتا۔

دنیا بھر کی مختلف زبانوں میں قرآن پاک کا ترجمہ کیاگیا ہے اور کوئی بھی ترجمہ کرنے والا یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ میں نے قرآن مجید کے تمام معانی اور مقاصد کو اپنی زبان میں منتقل کردیا ہے، اور یہ بھی نہیں ہوسکتا، تو اس بحث کی حاجت ہی نہیں رہتی کہ ایسا ترجمہ جائز ہے یا نہیں؟، اس سے پہلے لسان العرب اور شرح قاموس کے حوالے سے بیان کیا گیا ہے کہ ترجمہ کا مطلب ایک کلام کے معنی کو دوسری زبان میں بیان کرنا ہے، یہ قید علامہ زرقانی نے اپنے طرف سے لگائی ہے کہ اصل کلام کے تمام معنی اور مقاصد بھی ادا کیے جائیں، ظاہر ہے کہ اس قید کے اضافے میں ا ن سے اتفاق نہیں کیا جاسکتا، جو شخص بھی قرآن مجید کا ترجمہ کرے گا وہ بعض معانی اور مقاصد ہی کو بیان کرے گا، اگر ایسے ترجمہ کو تفسیری ترجمہ کہا جائے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔


اقسام ترجمہ:

عرفی معنی کے لحاظ سے ترجمہ کی دو قسمیں ہیں:

(1) لفظی (2) تفسیری

لفظی ترجمہ میں اصل کلام کے کلمات کی ترتیب کو ملحوظ رکھا جاتا ہے اور ایک ایک کلمہ کی جگہ اس کا ہم معنی لفظ رکھ دیا جاتا ہے، جیسے شاہ رفیع الدین محدث دہلوی اور”تفسیر نعیمی“ میں مفتی احمد یار خاں نعیمی اور ”تفسیر الحسنات“ میں علامہ ابو الحسنات سید محمد احمد قادری نے کیا ہے، اس ترجمہ کو حرفی ترجمہ بھی کہا جاتا ہے۔

تفسیری ترجمہ میں تحت اللفظ ایک ایک کلمہ کا ترجمہ نہیں کیا جاتا بلکہ مطالب و معانی کو بہتر اور موٴثر انداز میں پیش کیا جاتا ہے، اسے معنوی ترجمہ اور تفسیری ترجمہ کہا جاتا ہے، یہ ترجمہ تفسیر تو نہیں ہے جیسے کہ آیندہ سطور میں بیان کیا جائے گا، لیکن مقاصد کو بہتر انداز میں پیش کرنے کے اعتبار سے تفسیر کے مشابہ ضرور ہے۔

ترجمہ اور تفسیر میں فرق:

ترجمہ لفظی ہو یا تفسیری، وہ تفسیر سے الگ چیز ہے، ترجمہ اور تفسیر میں متعدد وجوہ سے فرق ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اکثر تفسیروں میں لغوی، اعتقادی، فقہی اوراصولی مباحث بیان کی جاتی ہیں، کائناتی اور اجتماعی مسائل زیر بحث لائے جاتے ہیں، اسبابِ نزول اور ناسخ و منسوخ کا ذکر کیا جاتا ہے جبکہ ترجمہ میں ان مباحث و مسائل کی گنجائش نہیں ہوتی۔


خواہ اجمالاً ہو یا تفصیلاً،
… تمام معانی اور مقاصد پر مشتمل ہو یا بعض پر،

اس کا دارومدار ان حالات پر ہے جن میں مفسر گزر رہا ہے اور ان لوگوں کی ذہنی سطح پر ہے جن کے لیے تفسیر لکھی گئی ہے۔


اس جگہ اس موقف کا اعادہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ قرآن پاک کا مختلف زبانوں میں ترجمہ کرنے والے علما کا یہ موقف ہرگز نہیں ہوتا کہ ہم قرآن پاک کے تمام معانی اور مطالب کو دوسری زبان میں منتقل کر رہے ہیں، کیونکہ ایسا ترجمہ کرنا ممکن ہی نہیں ہے اور انسانی طاقت سے باہر ہے۔

وہ چند امور جن کے بغیر ترجمہ نہیں کیا جاسکتا:

اس سے پہلے بیان کیا جاچکا ہے کہ مفسر کے لیے کن علوم میں دسترس ضروری ہے؟ قرآن حمید کے ترجمہ کے لیے بھی ان علوم میں مہارت لازمی ہے، ان کے علاوہ مترجم کے لیے جو امور ضروری ہیں ان میں سے چند ایک درج ذیل ہیں:

اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ یُخٰدِعُوْنَ اللّٰہَ وَھُوَ خَادِعُھُمْ (النساء/ 142)

”البتہ منافق دغا بازی کرتے ہیں اللہ سے اور وہی ان کو دغا دے گا“

اللہ تعالیٰ کی طرح دغا کی نسبت کسی طرح بھی صحیح نہیں ہے، اس لیے اس آیت کاترجمہ یہ ہے:

”بے شک منافق لوگ اپنے گمان میں اللہ تعالیٰ کو فریب دیا چاہتے ہیں اور وہی انہیں غافل کر کے مارے گا“ (کنزالایمان)

منافقین اللہ تعالیٰ کو دغا نہیں دے سکتے کیونکہ وہ تو عالم الغیب و الشھادة ہے، وہ ہر ظاہر اور مخفی امر کو جانتا ہے، اسے کون دھوکہ دے سکتا ہے؟ ہاں منافقین دھوکہ دینے کی اپنی سی کوشش کرتے ہیں، اگرچہ انہیں اس میں کامیابی نہیں ہوسکتی، وَھُوَ خَادِعُھُمْ کا کتنا عمدہ اور صحیح ترجمہ ہے؟ کہ:
”وہی انہیں غافل کرکے مارے گا“

یہ معنی نہیں کہ ”وہی ان کو دغا دے گا“۔


حَتّٰی اِذَا اسْتَیئسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوْٓا اَنَّھُمْ قَدْ کُذِبُوْا
(یوسف 12/110)


اس آیت کا ترجمہ بعض لوگوں نے یہ کیا:

”یہاں تک کہ جب ناامید ہوگئے رسول اور خیال کرنے لگے کہ ان سے جھوٹ کہا گیا تھا“

اس ترجمہ میں دوباتیں قابلِ غور ہیں:


اِنَّہٓ لَا یَا یْئَسُ مِن رَّوحِ اللّٰہ اِلَّا الْقَومُ الْکٰفِرُونَ
(یوسف 12/ 87)


”بے شک اللہ کی رحمت سے نا امید نہیں ہوتے مگر کافر لوگ“

اور خیال کرنے لگے کہ ان سے جھوٹ کہا گیا تھا“

معاذ اللہ! انبیا کرام علیھم السلام معصوم ہیں ان کے گوشہٴ خیال میں بھی یہ بات نہیں آسکتی کہ ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو کہا گیا تھا وہ جھوٹ تھا۔

حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے اپنی خالہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا وَظَنُّوْا اَنَّھُمْ قَدْ کُذِبُوا (الآیة)
”کیا رسولوں نے یہ گمان کیا کہ انھیں جھوٹ کہا گیا تھا“؟

انہوں نے فرمایا:
مَعَاذَاللّٰہِ لَمْ تَکُنِ الرُّسُلُ تَظُنُّ ذٰلِکَ بِرَبِّھَا، وَظَنَّتِ الرُّسُلُ اَنَّ اَتبَاعَھُمْ قَدْ کَذَّبُوْھُمْ (

”اللہ کی پناہ! رسولان گرامی اپنے رب کے بارے میں یہ گمان کرسکتے تھے، رسولوں نے گمان کیا کہ اُن کے پیروکاروں نے انہیں جھٹلادیا ہے
“۔

حضرت ام الموٴمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی قراءت قَد کُذِّبُوْا ہے ذال مشدّد مکسور کے ساتھ۔ اس صورت میں معنی یہ ہے کہ رسولوں نے گمان کیا کہ انہیں ان کی قوم کی طرف سے جھٹلادیا گیا ہے، دوسری قرأت میں قَد کُذِبُوا ہے اب اگر ظَنُّوا کی ضمیر رسولوں کی طرف راجع کریں تو معنی یہ ہوگا کہ رسولوں نے گمان کیا کہ انہیں جھوٹ کہا گیا، اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ رسولوں کے خیال میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں جو کچھ کہا گیا تھا وہ جھوٹ تھا، اسی مطلب کو سامنے رکھتے ہوئے حضرت ام الموٴمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا:

”معاذاللہ! اللہ تعالیٰ کے رسول اپنے رب کی نسبت یہ گمان نہیں کرسکتے“

ام الموٴمنین کا انکار اسی صورت سے متعلق ہے جب کہ ظنُّوا کی ضمیر رسولوں کی طرف راجع کی جائے، ورنہ امام حفص کی قرأت میں قَد کُذِبُوْا ذال کی تخفیف کے ساتھ ہے، اس قرأت کے مطابق ظنُّوا کی ضمیر رسولوں کی طرف نہیں بلکہ ان کی قوم کے افراد کی طرف راجع ہے، اب ترجمہ یہ ہوگا کہ لوگوں نے گمان کیا کہ انہیں (رسولوں کی طرف سے) جھوٹ کہا گیا تھا۔ اور اس ترجمہ میں کوئی حرج نہیں ہے۔

امام احمد رضا بریلوی قدس سرّہُ العزیز نے اِس آیت کا جو ترجمہ کیا ہے اہل علم اسے پڑھ کر داد دیے بغیر نہیں رہ سکتے، ملاحظہ ہو۔

”یہاں تک جب رسولوں کو ظاہری اسباب کی امید نہ رہی اور لوگ سمجھے کہ رسولوں نے ان سے غلط کہا تھا“
(کنزالایمان)

یعنی رسولوں کی مایوسی ظاہری اسباب سے نہ تھی نہ کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے، اور لوگوں نے گمان کیا کہ انہیں عذاب وغیرہ کے بارے میں جھوٹ کہا گیا تھا، انبیا کرام علیھم السلام کا دامنِ عصمت اس خیال سے ہرگز داغ دار نہ تھا۔


فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقدِرَ عَلَیْہِ (الانبیا 21/ 87)

اس کا ترجمہ یہ کیا گیا:

”پھر سمجھا نہ پکڑ سکیں گے اس کو“

اس آیت میں سیدنا یونس علیہ السلام کا ذکر ہے، ترجمہ میں ان کی طرف اس امر کی نسبت کی گئی ہے کہ انہوں نے سمجھا کہ اللہ تعالیٰ انہیں نہ پکڑ سکے گا، اور یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا انکار ہے جس کی نسبت حضرت یونس علیہ السلام کی طرف کرنا کسی طرح بھی جائز نہیں ہے، مغالطہ اس لیے پیدا ہوا کہ قَدَرَ یَقْدِرُ کا استعمال دو معنوں میں ہوتا ہے۔
… قادر ہونا
… تنگی کرنا


مترجم نے سمجھا کہ اس جگہ پہلا معنی مراد ہے جو قطعاً غلط ہے اس موقع اور عصمتِ انبیا کے مطابق صرف دوسرا معنی ہے۔

علامہ محمد بن مکرم افریقی فرماتے ہیں:
جس شخص نے اس آیت میں قدر کو قدرت سے ماخوذ مان کر کہا کہ حضرت یونس علیہ السلام نے یوں گمان کیا کہ اللہ تعالیٰ ان کو نہ پکڑ سکے گا، تو یہ ناجائز ہے اور اس معنی کا گمان کرنا کفر ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت میں ظن کرنا شک ہے اور اس کی قدرت میں شک کرنا کفر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیا علیہھم السلام کو اس قسم کے گمان سے محفوظ اور معصوم رکھا ہے، ایسی تاویل وہی کرے گا جو عرب کے کلام اور اُن کی لغات سے جا ہل ہوگا۔ [8]

اس تفصیل کے بعد امام احمد رضا بریلوی کا ترجمہ دیکھیے ایمان تازہ ہوجائے گا:

”تو گمان کیا (یونس علیہ السلام نے) کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے۔“

ایک دوسری آیت کریمہ دیکھیے!

وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوا لِرُسُلِھِمْ لَنُخْرِجَنَّکُمْ مِّنْ اَرْ ضِنَا اَوْ لَتَعَوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا (ابراہیم 14/ 13)

اس کا ترجمہ اس طرح کیا گیا ہے:

”ان کفار نے اپنے رسولوں سے کہا کہ ہم تم کو اپنی زمین سے نکال دیں گے یا یہ کہ تم ہمارے مذہب میں لوٹ آوٴ“۔

”لوٹ آوٴ“ کا واضح مطلب یہ ہے کہ حضرات رسولانِ گرامی علیھم السلام معاذ اللہ! پہلے کافروں کے مذہب میں شامل تھے، حالانکہ انبیا کرام علیھم السلام کبھی بھی کافروں کے مذہب میں شامل نہیں ہوتے۔ اس جگہ مغالطے کی وجہ یہ ہے کہ عَادَ یَعُودُ کا استعمال دو طرح ہوتا ہے:

فعل تام، اس وقت اس کا معنی لوٹنا ہوگا۔
فعل ناقص، اس وقت یہ صَارَ کے معنی میں ہوگا اورہوجانے کے معنی پر دلالت کرے گا۔


ترجمہ کرنے والے کے سامنے نحو کے مسائل و قواعد مستحضر ہوں تو وہ غور کرے گا کہ اس جگہ پہلا معنی مناسب ہے یا دوسرا؟ ظاہر ہے کہ مذکورہ ترجمہ میں پہلا معنی مراد لینے کے بنا پر غلطی ہوئی ہے، جب کہ اس جگہ دوسرا معنی مراد اور موزوں ہے ۔اسی لیے امام احمد رضا بریلوی رحمہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کا ترجمہ اس طرح کیا ہے:

”اور کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا ہم ضرور تمہیں اپنی زمین سے نکال دیں گے یا تم ہمارے دین پر آجاوٴ“ (کنزالایمان)


اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

ذٰلِکَ الْکِتَابُ لَا رَیْبَ فِیْہِ (البقرہ 2 / 2)

عام طور پر اس آیت کا ترجمہ کچھ اس طرح کیاجاتا ہے کہ:
”یہ کتاب اس میں کوئی شک نہیں ہے“

اس ترجمے پر دو سوال وارد ہوتے ہیں:

ذٰلِکَ کی وضع بعید کی طرف اشارہ کرنے کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ کرتے ہوئے ”وہ کتاب“ کہنا چاہیے تھا نہ کہ ”یہ کتاب“

”اس میں کوئی شک نہیں“ واقع کے خلاف ہے، کیونکہ قرآن کریم میں بہت سے لوگوں نے شک کیا اور آج بھی ایسے لوگوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔

امام احمد رضا بریلوی رحمہ اللہ تعالیٰ کا ترجمہ دیکھیے جو اعجازِ قرآن کو واضح طور پر آشکارا کرتا ہے:

”وہ بلند رتبہ کتاب (قرآن) کوئی شک کی جگہ نہیں“ (کنزالایمان)

اس ترجمہ پر پہلا سوال تو ظاہر ہے کہ وارد ہی نہیں ہوتا، دوسرے سوال کا جواب بھی دے دیا کہ اگرچہ قرآن پاک کے بارے میں بہت سے لوگوں نے شک کیا ہے لیکن وہ کوئی شک کی جگہ نہیں ہے، کوئی بھی منصف عاقل، عربی زبان کے اسلوب اور نزاکتوں سے واقف اس کا مطالعہ کرے تو اسے ماننا پڑے گا کہ یہ ربانی کلام ہے کسی انسان کے فکر کا نتیجہ نہیں ہے۔



وَمَرْیَمَ بْنَتَ عِمْرَانَ الَّتِیْ اَحْصَنَتْ فَرْجَھَا (التحریم 66 / 12)
اس کاترجمہ یوں کیا گیا!
”اور مریم بیٹی عمران کی جس نے روکے رکھا اپنی شہوت کی جگہ کو“

یہ امر محتاج بیان نہیں ہے کہ اس ترجمہ میں اردو زبان کی شائستگی اور مزاج کو ملحوظ نہیں رکھا گیا، اس کی بجائے یہ ترجمہ کتنا دلکش ہے۔

”اور عمران کی بیٹی مریم جس نے اپنی پارسائی کی حفاظت کی“



فَقَالَ اِنِّیْٓ اَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَیْرِ عَنْ ذِکْرِ رَبِّیْ ج حَتیّٰ تَوَارَتْ بالْحِجَابِo وقفة رُدُّوْھَا عَلَیَّ ط فَطَفِقَ مَسْحاًم بِاالسُّوْقِ وَالْاَعنَاقِ o
(ص 38 /32 تا 33)


عام طور پر مترجمین نے تَوَارَت باِلحِجَابِ کا ترجمہ یہ کیا ہے:

”سورج چھپ گیا اور حضرت سلیمان علیہ السلام کی نماز عصر قضا ہوگئی، انہوں نے گھوڑوں کو طلب کیا اور ان کی پنڈلیاں اور گردنیں کاٹ دیں۔“

اس ترجمے پر دو سوال وارد ہوتے ہیں:

حضرت سلیمان علیہ السلام گھوڑوں کو ملاحظہ فرمارہے تھے کہ نماز قضا ہوگئی، اس میں گھوڑوں کا کیا قصور تھا؟ کہ انہیں ہلاک کردیا گیا۔

گھوڑوں کی گردنیں اور ٹانگیں کاٹ کر مال کے ضائع کرنے کا کیا جواز تھا؟ یہ بھی تو ہوسکتا تھا کہ تمام گھوڑے خیرات کردیتے۔

امام بخاری رحمہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا ہے:
عَن ذِکْرِ رَبِّیْ مِنْ ذِکرِ طَفِقَ مَسحاً یَمْسَحُ اَعْرافَ الْخَیلِ و عَرَاقِیْبَھَا (9)


یعنی عَن بمعنی مِن ہے، اور طَفِقَ مَسحاً کا معنی یہ ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام گھوڑوں کی ایال (گردن کے بالوں) اور ان کے ٹخنوں پر ہاتھ پھیرنے لگے۔

اس اقتباس سے واضح ہوگیا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے گھوڑوں کو ہلاک نہیں کیا تھا، جب یہ حقیقت ہی نظروں سے اوجھل ہو تو ترجمہ کیسے صحیح ہوسکتا ہے؟ آئیے صحیح ترجمہ ملاظہ فرمائیں:

”تو سلیمان نے کہا مجھے ان گھوڑوں کی محبت پسند آئی ہے اپنے رب کی یاد کے لیے پھر انہیں چلانے کا حکم دیا یہاں تک کہ نگاہ سے پردے میں چھپ گئے۔ پھر حکم دیا انہیں میرے پاس واپس لاوٴ تو ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنے لگا“ (کنزالایمان)

غرض یہ کہ قرآن پاک ایسی عظیم الشان اور لافانی کتاب کا ترجمہ کرنا ہر کس و ناکس اور ہر عالم کا کام نہیں ہے، مترجم کے لیے جو امور ضروری ہیں ان کا مختصر تذکرہ آپ کے سامنے پیش کیا گیا ہے، اللہ تعالیٰ ہم سب کو قرآن پاک کے پڑھنے، اسے سمجھنے اور اس کی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بحرمة سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم والحمدللہ رب العالمین۔

حوالہ جات
(1) محمد عبدالعظیم زرقانی، علامہ: منابل العرفان (دار احیاء الکتب العربة، مصر) ج 1، ص 7

(2) محمد عبد العظیم زرقانی،علامہ: منابل العرفان، ج 1،
ص 71-470

(3) محمد عبد العظیم زرقانی، علامہ: منابل العرفان (ملخصاً)
ج 1، ص 522-519

(4) محمد عبد العظیم زرقانی، علامہ: منابل العرفان (ملخصاً)
ج 2 / ص 6-5

(5) محمد عبد العظیم زرقانی، علامہ: منابل العرفان، ج 2،
ص 7

(6) محمد عبد العظیم زرقانی، علامہ: منابل العرفان 2/12-10

(7) محمد بن اسماعیل بخاری، امام: بخاری شریف (مطبع رشیدیہ، ہند) ج 2/ ص 680

( محمد بن مکرم افریقی، علامہ امام: لسان العرب (دار صادر، بیروت) ج 5 ص 77

(9) محمد بن اسماعیل بخاری، امام: صحیح بخاری، ج 2/ ص 710



از معارف رضا۔ سالنامہ 2009ء

ربط

 
آبی ٹوکول's Avatar
آبی ٹوکول
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,343
شکریہ: 4,384
1,831 مراسلہ میں 6,827 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 197
Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (01-03-12), کنعان (24-07-10), ملک اظہر (28-10-11), بلال اویسی (20-07-10), حیدر Rehan (20-07-10), شمشاد احمد (11-12-10), غلام مجتبی جان (20-07-10)
پرانا 11-12-10, 04:47 AM   #2
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,343
کمائي: 52,127
شکریہ: 4,384
1,831 مراسلہ میں 6,827 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default فنِ ترجمہ کی نظری تعریف،مبادیات اور مشکلات

فنِ ترجمہ کی نظری تعریف،مبادیات اور مشکلات

حق کو قبول کرنے اور نیکی کی باتوں کو غور سے سننے، اسے سمجھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے اور ہر زمان و مکان کے انسانوں تک ان کو اس طرح منتقل کرنے کے لیے کہ وہ بھی اس کو سمجھ کر اس پر عمل پیرا ہوسکیں، اس پیغام اور دعوت کو قرآن مجید نے بڑے خوبصورت پیرائے اور جامع انداز میں پیش کیا ہے۔ معلمِ کائنات سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانِ اظہر سے ارشاد ہوتا ہے:

قُلِ اللّٰہُ شَھِیْدٌ مبَیْنِیْ وَبَیْنَکُمْ قف وَاُوحٰی إِلَیَّ ھٰذَا الْقُرْآنُ لِأُنْذِرَکُمْ بِہ وَمَنْ م بَلَغَ ط (الانعام6: 19)

ترجمہ: تم فرماؤ کہ اللہ گواہ ہے مجھ میں اور تم میں اور میری طرف اس قرآن کی وحی ہوئی ہے کہ میں اس سے تمہیں ڈراؤں اور جن جن کو پہنچے۔ (کنز الایمان)

مفسر قرآن حضرت صدر الافاضل علامہ مولانا نعیم الدین مراد آبادی علیہ الرحمة اس آیہٴ کریمہ کی تفسیر میں اپنے حاشیہ خزائن العرفان میں تحریر کرتے ہیں کہ اس کے معنی یہ ہوئے کہ

”میرے بعد قیامت تک آنے والے جنہیں یہ قرآن پاک پہنچے خواہ وہ انسان ہوں یا جن، سب کو میں حکمِ الٰہی کی مخالفت سے ڈراتا ہوں۔“

حدیث شریف میں ہے کہ جس شخص کو قرآن پہنچا گویا اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور آپ کا کلامِ مبارک سنا۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسریٰ اور قیصر وغیرہ سلاطین کو دعوتِ اسلام کے مکتوب بھیجے
(مدارک و خازن)۔ اس کی تفسیر میں ایک قول یہ بھی ہے کہ من بلغ میں ”من“ مرفوع المحل ہے اور معنی یہ ہیں کہ اس قرآن پاک سے میں تم کو ڈراؤں اور وہ ڈرائیں جنہیں قرآن پاک پہنچے۔

ترمذی کی حدیث میں ہے کہ ”اللہ تر و تازہ کرے اس کو جس نے ہمارا کلام سنا اور جیسا سنا ویسا پہنچایا، بہت سے پہنچائے ہوئے سننے والوں سے زیادہ اہل ہوتے ہیں اور ایک روایت میں ہے سننے والے سے زیادہ افقہ ہوتے ہیں۔

قارئین کرام! معلم کائنات سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دعا اور ان خطِ کشیدہ جملوں کو ذہن میں رکھیں جب آئندہ سطور میں ”کنز الایمان“ اور صاحبِ کنز الایمان کی خصوصیات کا ذکر آئے گا تو پھر اس حوالے سے ان شاء اللہ گفتگو ہوگی۔

اس آیہٴ کریمہ کی تفسیر سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ قرآن حکیم ترجمہ یا ترجمانی کے بنیادی عناصر ابلاغ اور ترسیل کی اہمیت کو اجاگر کررہا ہے۔ ابلاغ کا مطلب یہ ہے کہ متن کا مفہوم اور اس کا مرکزی خیال مکمل وضاحت کے ساتھ مترجم کے ذہن میں اتر جائے۔“

بقول ڈاکٹر عنوان چشتی:

”ابلاغ (Comprehension) کا نقطہٴ آغاز وہ لمحہ ہے جب مترجم قاری (یا قرآنی الفاظ میں سامع۔ وجاہت) کی حیثیت سے اس کا مطالعہ شروع کرتا ہے اور اس عمل کا لمحہٴ آخر وہ لمحہ ہے جب قاری زیرِ مطالعہ فن پارے کے مفہوم یا مفاہیم کو پوری طرح سمجھ کر مطمئن ہوجاتا ہے۔“ (1)

ابلاغ کے بعد ترسیل (Communication) کا مرحلہ آتا ہے، اس مرحلہ کے لیے ڈاکٹر عنوان چشتی صاحب تحریر کرتے ہیں:

”ترسیل وہ عمل ہے جس میں مترجم مصنف کی مجرد آگہی یا فن پارے کے اصل مفہوم کو قابلِ فہم علامتوں یعنی ترجمے کی زبان کے ذریعہ قارئین کے سامنے پیش کرتا ہے۔ یہ عمل۔۔۔ زیادہ پیچیدہ اور دقت طلب ہے۔ ترجمے کے عام قارئین کو
اس سے دلچسپی نہیں ہوتی کہ اصل تصنیف میں کیا تھا یا اس کا اندازِ بیان کیا تھا، وہ ترجمے کو اصل کے نعم البدل کی حیثیت سے پڑھتے ہیں۔ اس میں جو کچھ ہوتا ہے، وہی ان کے لیے سب کچھ ہوتا ہے۔

عملِ ترسیل کے دو مدارج ہیں۔ پہلا وہ ہے جہاں ذہن کے آئینہ خانہ میں لفظ اور خیال ایک دوسرے میں تحلیل ہوتے ہیں، بہ الفاظِ دیگر مترجم کی مجرد آگہی الفاظ کا مرئی پیکر اختیار کرتی ہے۔ ترسیل کا عمل مجرد سے غیر مجرد کی طرف ہوتا ہے اس لیے ترسیل کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ مترجم نے شاعر یا مصنف کی آگہی کو (جو ابلاغ ہونے پر اس کے ذہن کا لازمی حصہ ہوتی ہے) کس حد تک ترجمے کی زبان میں سمویا ہے۔

دوسری منزل وہ ہے جب مترجم، مصنف یا شاعر کی مجرد آگہی کو ایک نئی زبان میں قارئین کے سامنے پیش کرتا تھا۔ یہ منزل مترجم کی تخلیقی اور فنی صلاحیتوں کی آزمائش کی منزل ہے۔“ (2)

کتبِ سماوی بالخصوص قرآنِ حکیم کے مطالعہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ انبیاءِ کرام علیہم الصلوٰة والسلام کلامِ الٰہی کے اصل ترجمان تھے اور ان کے پیروکار یعنی صحابہٴ کرام، تابعین و تبع تابعین وحی الٰہی کے ابلاغ و ترسیل کے سلسلے میں انبیاءِ کرام علیہم الصلوٰة والسلام کے تفسیری ارشادات کے مترجم تھے۔ اس طرح ترجمہ کی روایت اتنی ہی قدیم ہے جتنا خود انسان کا اس کائنات میں اپنا وجود۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فطری طور پر انسان کے اندر تجسس اور غور و فکر کا مادّہ ودیعت کیا ہے۔ اسی بناء پر انسان کو تجسس اور تدبر کا آمیزہ کہا جاتا ہے۔ اسی جذبے کے تحت صدیوں سے انسان ایک دوسرے کو سمجھنے، پرکھنے اور ایک دوسرے تک اپنا مافی الضمیر پہنچانے کے راستے نکالتا رہا ہے۔ تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ اس صلاحیت کے موٴثر و مستعد استعمال نے انسانی معاشرے، ملک اور قوموں کے درمیان افہام و تفہیم کی فضاء پیدا کی ہے اور اس کے برعکس تجسس و تدبر کے جذبہ کی ناپختگی یا اس صلاحیت کے غیر موٴثر استعمال نے فتنہ و فساد کی راہیں بھی کھولی ہیں۔

ترجمہ کی عمومی تعریف یہ ہے کہ ایک زبان میں بیان کردہ خیالات یا معلومات کو دوسری زبان میں منتقل کرنا اور بظاہر یہ ایک سادہ سا عمل ہے۔

عطش درّانی اپنے ایک مقالہ میں ترجمہ کی تعریف یوں کرتے ہیں:
”جہاں تک ترجمہ کی تعریف کا تعلق ہے، اسے ہم ان الفاظ میں بیان کرسکتے ہیں کہ ترجمہ:- کسی زبان پر کیے گئے ایسے عمل کا نام ہے جس میں کسی اور زبان کے متن کی جگہ دوسری زبان کا متبادل متن پیش کیا جائے۔ اس تعریف میں معانی، مفہوم، مطالب، اندازِ بیان اور اظہارِ بیان، اسلوب اور انداز کے تمام پہلو آجاتے ہیں۔ چونکہ بنیادی طور پر یہ فن زبان سے تعلق رکھتا ہے اس لیے اس کے نظری پہلو کو ہم ترجمہ کا لسانیاتی نظریہ قرار دے سکتے ہیں۔(3الف)

ترجمہ کی ایک اور جامع تعریف ایک فرانسیسی ادیب پال نے یوں کی ہے:

”ترجمہ کسی علّت (اصل تخلیق) کے معلول کی ایک دوسری علت (ترجمہ) کے توسط سے امکانی قربت و صحت کے ساتھ تشکیل کرنے کا عمل ہے۔“ (3ب)

اس تعریف کی روشنی میں علمائے لسانیات کا کہنا ہے کہ بحیثیت ِ مجموعی ترجمہ ایک فن (Art) ہے اور ایک ہنر (Science) بھی۔(4)

لیکن ترجمہ کا ہنر اتنا سادہ و آسان نہیں ہے جتنا عام طور پر تصور کیا جاتا ہے۔
اس کے اندر جو پیچیدگیاں ہیں اور اس میں جو خالص علمی، فنی، ادبی اور تخلیقی نوعیت کی صلاحیتوں کو ایک متوازن آمیزے کے ساتھ بروے کار لانے کا عمل ہے۔ اس کی نشاندہی کرتے ہوئے ڈاکٹر مظفر احمد سید تحریر فرماتے ہیں:

”ترجمہ کا ہنر اس لحاظ سے خاصا پیچیدہ ہے کہ اس میں دہری تہری صلاحیت کی ضرورت پڑتی ہے۔ متن کی زبان اور اپنی زبان تو خیر آنی ہی چاہیے، اُس موضوع سے بھی طبعی مناسبت درکار ہے جو متن میں موجود ہے۔ مصنف سے بھی کوئی نہ کوئی نفسیاتی ممثالت ضروری ہے اور صنفِ ادب اور شاخ علم سے بھی جس سے متن پیوست ہے، مترجم کو پیوستگی حاصل ہو، تب ترجمہ شاید چالو معیار سے اوپر اٹھ سکے، تاہم ترجمے کی زیریں انواع میں اتنی ساری شرائط کا اجتماع نہیں ہوتا۔ مثلاً تعلیمی اور تکنیکی ترجمہ بلکہ علمی ترجمہ بھی مصنف کی شخصیت اور مترجم کی پیوستگی پر اصرار نہیں کرتا تاہم اس قسم کا ترجمہ بھی لسانی اور علمی (یا تعلیمی اور تکنیکی) اہلیت سے بے نیاز رہ کر نہیں کیا جاسکتا۔“ (5)

ہر فن کی طرح ترجمے کی بھی کچھ بنیادی شرطیں (مبادیات)، ضرورتیں اور اصول ہیں۔

پہلی شرط یہ ہے کہ اصل تصنیف کی زبان، اس کے ادب اور اس کی قومی تہذیب سے نہ صرف واقفیت بلکہ دلچسپی اور ہمدردی ہو۔ اس لیے کہ مترجم دو زبانوں اور دو قوموں کے درمیان لسانی اور ثقافتی سفیر کی حیثیت رکھتا ہے۔

دوسری اہم شرط اپنی زبان پر اس کی قدرت اور نئے خیالات کے اظہار کے لیے نئے الفاظ، ترکیبیں اور اصطلاحات وضع کرنے کی استعداد ہے۔

تیسری شرط اور ضرورت تصنیف کی زبان سے ایسی گہری واقفیت ہے کہ وہ اس کی باریکیوں، نفاستوں اور تہہ داریوں کو بخوبی سمجھ سکے۔

چوتھی شرط اور ضرورت یہ کہ اصل تصنیف جس عہد اور جس موضوع سے تعلق رکھتی ہے، اسی عہد کی زندگی، زبان اور اس موضوع کی اہم تفصیلات سے مترجم کی واقفیت ہو۔

پانچویں اور آخری ، لیکن سب سے اہم شرط ادبی ترجمہ کی صلاحیت، دلچسپی اور شوق و شغف اور انہماک ہے۔ اگر یہ نہیں تو دوسری تمام شرائط کی تکمیل بھی کامیاب ترجمہ کی ضمانت نہیں ہوسکتی۔ (6)

جہاں تک ترجمے کے اصول کا تعلق ہے تو ہم ایک مایہ ناز تحقیقی مقالہ ”شاہ حقانی کا اردو ترجمہ و تفسیر قرآن…ایک تنقیدی و تحقیقی جائزہ“ محققہ و مرتبہ جناب ڈاکٹر سید محمد امین اور جناب محمد ارشاد احمد رضوی مصباحی سے ایک اقتباس پیش کرتے ہیں جو زیر نظر موضوع (اصولِ ترجمہ) پر عمیق مطالعہ کا نچوڑ ہے اور ایک اجمالی مگر جامع خاکہ کی صورت میں پیش کیا گیا ہے۔“ (7)

”1۔ اصل عبارت کسی حالت میں مترجم کی نگاہ سے اوجھل نہیں ہونی چاہیے کیونکہ مترجم بہرصورت متن کے مرکزی خیال کا پابند ہے۔

2۔ مترجم کو اپنی جانب سے حذف و اضافہ کا کوئی حق حاصل نہیں نہ صرف عبارات بلکہ تشبیہات اور استعارات میں بھی، اس سے انحراف علمی بددیانتی ہوگی۔

3۔ ترجمہ میں سہولت کے لیے متن کو آگے پیچھے کرنے کا بھی حق نہیں۔

4۔ اصل عبارت میں کسی طرح کی ترمیم کا جواز نہیں۔

5۔ زبان و بیان کے پیچ و خم کا لحاظ رکھنے کے ساتھ ساتھ موضوع کے لسانی، ادبی، علمی، تاریخی، سماجی اور شخصیاتی پس منظر کو بھی ملحوظ رکھنا ہوگا ورنہ مترجم ہمیشہ فکری ٹھوکروں کی زد پہ رہے گا۔

6۔ اصطلاحات کو جوں کا توں سنبھالنے کی وسعت اگر ترجمہ کی زبان میں ہو تو سبحان اللہ! ورنہ قریب ترین مفہوم میں اسے منتقل کرنا چاہیے بلکہ اس سلسلہ میں اصطلاح سازی کا ایک استنادی بورڈ ہونا چاہیے تاکہ اصطلاحات کے استعمال میں یکسانیت رہے۔

7۔ مترجم کو اعلیٰ اور مستند لغت کا سہارا ضرور لینا چاہیے۔ صرف حافظہ پر بھروسہ کرنا مناسب نہیں۔

8۔ ترجمہ گہری نظر اور حاضر دماغی سے کرنا چاہیے تاکہ لفظوں کے پردے میں چھپے ہوئے تہہ دار جلوہ ہائے معانی بھی آشکار ہوسکیں ورنہ سرسری نگاہ کا ترجمہ زبان کی بہت ساری داخلی لطافتوں کو مجروح کرتا چلا جائے گا اور جو مفہوم اور اشارے ان الفاظ کی پشت سے جھانک رہے ہیں وہ ترجمے میں غائب ہوجائیں گے۔

9۔ ترجمہ میں اصل کے کرداروں کی جغرافیائی حیثیت کا خیال رکھتے ہوئے ایسے الفاظ یا اسماء لائے جائیں جس سے اصل کے کرداروں کی بھرپور ترجمانی ہوسکے ورنہ ایرانی، ہندی اور امریکن، پاکستانی ہوجائے اور مصنف نے ان کرداروں کے جغرافیائی مزاج اور ماحولیاتی کیف کا جو لمس ان لفظوں میں رکھ دیا ہے اس کا احساس تو دور اس کی ہوا بھی نہ لگے گی۔

مثال کے طور پر روس کے عظیم شاعر پوشکن (Pushkin) کو لے لیجیے۔ اس کے ایک مشہور افسانے کے ساتھ اس قسم کے ایک حادثہ کو بیان کرتے ہوئے ڈاکٹر ظ۔ انصاری لکھتے ہیں:

”روس کے شاعر اعظم ”پوشکن“ کے ایک مشہور افسانے کا عنوان انگریزی میں ”اسٹیشن ماسٹر“ دیا گیا اور اردو میں جوں کا توں لے لیا گیا۔ روس وہ کردار اس چوکی کے غریب، تباہ حال اور بے بس، تھکے ہارے منشی کی نمائندگی کرتا جو ریلوں کا وسیع جال بچھنے سے پہلے کسی گاؤ یا کارواں سرائے کے ناکے پر بدلی کے گھوڑے مہیا کرتا تھا۔۔۔ اس کردار کو ہم انگریزی کی تقلید میں اسٹیشن ماسٹر لکھ دیں تو افسانے کی روح فنا ہوجائے گی۔ وہ ہمارے یہاں ”ڈاک چوکی کا منشی“ ہے اور یہی نام دیا جانا چاہیے تھا۔“

10۔ ترجمہ کا پیرایہ اور اسلوب، رواں، شستہ، قابلِ فہم اور ایسا جاذب ہونا چاہیے کہ اصل کے ساتھ ساتھ شانہ بشانہ چلتے ہوئے بھی ایک انفرادیت جھلکے۔

11۔ ترجمہ میں محاورات اور ضرب الامثال کو جوں کا توں منتقل کرنے کی تو کوئی صورت ہی نہیں البتہ ترجمہ کی زبان کے محاورات سے تقابل کی راہ نکل سکتی ہے لیکن یہ راہ ہے بڑی دشوار۔ اس سلسلہ میں زبردستی عبارت کے حسن کو بگاڑ کر رکھ دیتی ہے اس لیے اعتدال سے کام لیتے ہوئے محاورے کی جگہ محاورے کی جستجو کے بجائے اپنی ضرورت کے مطابق محاورے کے مفہوم کو الفاظ سے اور الفاظ کے معنوں کو محاورے کی مدد سے پیش کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

12۔ ترجمہ میں تکنیک اور اسلوب کا کام آرائش نہیں بلکہ مرکزی خیال کی ترسیل یا اظہار ہے۔ مترجم کو جان بوجھ کر کوئی نئی تکنیک یا اچھوتا اسلوب نہ اختیار کرنا چاہیے بلکہ ترجمے کے مکمل عمل کے دوران اس کے موضوع، مواد اور مزاج کی مناسبت سے ایسی تکنیک اور اسلوب اختیار کرنا چاہیے جو ہر طرح سے اس تصنیف کے بنیادی خیال یا تاثر کے اظہار میں مفید ثابت ہو۔ یہی معاملہ ہیئت کا ہے۔ مترجم کو ہیئت بھی وہی منتخب کرنی چاہیے جو موضوع اور مواد کا تقاضہ ہو۔

13۔ جملے اگر پیچیدہ اور طویل ہوں تو ترجمہ میں اسے چھوٹے چھوٹے جملوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے لیکن یہ انداز ہر جگہ نہیں برتا جاسکتا۔

14۔ ترجمہ کے لیے موضوع سے واقفیت بنیادی شرط ہے۔ اس کے بعد اصل زبان سے پھر اپنی زبان سے۔ ”یہی وجہ ہے کہ ڈیٹ رایٹ (امریکہ) کی Mass Translation Project میں یہ طریقہ بتایا گیا ہے:

Translator- Quality Control- Technical Editor- Language Editor
یعنی مترجم۔۔ معیار کا نگراں۔ ٹیکنیکل ایڈیٹر۔ زبان کا ایڈیٹر۔“

ترجمہ کی مبادیات اور شرائط کے جائزہ کی روشنی میں دیکھا جائے تو ایک مترجم پر بڑی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ بقول مرزا حامد بیگ:

”مترجم کا کام دراصل نیاز و ناز کا امتزاج ہے۔ اس کی دو صفات انتہائی قابلِ تحسین ہیں (اور یہی بات سمجھنے اور سمجھانے کی ہے۔وجاہت) یعنی ایک تو وہ مصنف کا دل سے احترام کرتا ہے اور دوسرا بطور مترجم انتہائی دیانت داری کا مظاہرہ کرتا ہے۔ یوں مکمل آزادی اور دیانت دارانہ پابندی کا یہ اتصال (ترجمہ) اسے دوسرے کی مصنوعات اپنے ٹریڈ مارک کے ساتھ بیچنے سے باز رکھتا ہے۔ حالانکہ ترجمہ کرتے وقت وہ فن پارے کو اس طرح ڈھالتا ہے کہ کم از کم جزوی طور پر وہ اس کا خالق ضرور کہلا سکتا ہے لیکن یہ مترجم کی بڑائی ہے کہ وہ ایک عمدہ کاریگر کی طرح کام کرتا ہے ۔ دل اور روح کی صفائی کے ساتھ لیکن اپنا نام سامنے نہیں لاتا اور ترجمہ کی حرمت کی مسلسل پاسبانی کرتا ہے۔“ (7ب)

حوالہ جات

(1) قمر رئیس، ڈاکٹر، ترجمہ کا فن اور روایت، تاج پبلشنگ ہاؤس، دہلی، ص:142 بحوالہ شاہ حقانی کا اردو ترجمہ و تفسیر قرآن، ص:152، کتب خانہ امجدیہ، مٹیا محل، دہلی۔

(2) ایضاً، ص:150، بحوالہ شاہ حقانی اردو ترجمہٴ تفسیرِ قرآن، ص:153، 154

(3) "To translate is to reconstitute as nearly as possible the effect of a certain cause (the original) by means of another cause (the translation)."
(The Art of Translation - Delhi, 1962, P.23)

(4) خلیق انجم، فنِ ترجمہ نگاری، انجمنِ ترقیِ اردو، ہند، دہلی، ص:160، 161

(5) اعجاز راہی، اردو زبان میں ترجمے کے مسائل، مقتدرہ قومی زبان، اسلام آباد۔ ص:38

(6) قمر رئیس، ڈاکٹر، ترجمہ کا فن اور روایت، تاج پبلشنگ ہاؤس، دہلی۔ ص:11، 12
(7) الف۔ سید محمد امین، ڈاکٹر و محمد ارشاد احمد رضوی مصباحی، شاہ محمد حقانی کا اردو ترجمہ و تفسیر، کتب خانہٴ امجدیہ، مٹیا محل، دہلی، 2001ء، ص:156 تا 159۔
(7) ب۔ ترجمہ کا فن اور اس کا جواز، ”ماہِ نو“، لاہور، مئی 1986ء

(ماخوذ از سالنامہ معارف رضا کراچی2009ء)
اصل ماخذ
آبی ٹوکول آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
جواب

Tags
php, گمان, پاک, پسند, قید, قواعد, قرآن, نماز, نظر, منافق, منتقل, ممکن, مجید, محبت, مسائل, معلوم, اللہ, اردو, اسلام, اعلیٰ, جھوٹ, جواب, حسن, خوش, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
دوسرا قدم:"تاریخ حدیث و اصول حدیث پر جامع تنقید" حیدر حجت حدیث 29 22-01-12 06:35 PM
انٹرنیٹ میں انقلابی سہولتوں کا اضافہ: "بنگ" اور "ویوز" Hashims Search Engines 8 02-09-11 03:24 PM
اسلامی سکرین سیور """ کیا آپ چاہتے ہیں کہ ؟ """" عادل سہیل اسلام اور معاشرہ 17 23-02-11 07:37 PM
"کوئی" "کسی" سفارت خانے سے وزیر اعظم ہاوس کی جاسوسی کر رہا تھا حیدر خبریں 6 11-10-10 04:49 PM
"قرآن کریم کو سمجھنے کے بنیادی اصول" آراء اور تجاویز عبداللہ حیدر ترجمہ و تفسیر 6 08-07-10 11:44 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 08:55 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger