| ترجمہ و تفسیر ترجمہ و تفسیر |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 197
|
||||
| 7 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (01-03-12), کنعان (24-07-10), ملک اظہر (28-10-11), بلال اویسی (20-07-10), حیدر Rehan (20-07-10), شمشاد احمد (11-12-10), غلام مجتبی جان (20-07-10) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,343
کمائي: 52,127
شکریہ: 4,384
1,831 مراسلہ میں 6,827 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
فنِ ترجمہ کی نظری تعریف،مبادیات اور مشکلات حق کو قبول کرنے اور نیکی کی باتوں کو غور سے سننے، اسے سمجھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے اور ہر زمان و مکان کے انسانوں تک ان کو اس طرح منتقل کرنے کے لیے کہ وہ بھی اس کو سمجھ کر اس پر عمل پیرا ہوسکیں، اس پیغام اور دعوت کو قرآن مجید نے بڑے خوبصورت پیرائے اور جامع انداز میں پیش کیا ہے۔ معلمِ کائنات سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانِ اظہر سے ارشاد ہوتا ہے: قُلِ اللّٰہُ شَھِیْدٌ مبَیْنِیْ وَبَیْنَکُمْ قف وَاُوحٰی إِلَیَّ ھٰذَا الْقُرْآنُ لِأُنْذِرَکُمْ بِہ وَمَنْ م بَلَغَ ط (الانعام6: 19) ترجمہ: تم فرماؤ کہ اللہ گواہ ہے مجھ میں اور تم میں اور میری طرف اس قرآن کی وحی ہوئی ہے کہ میں اس سے تمہیں ڈراؤں اور جن جن کو پہنچے۔ (کنز الایمان) مفسر قرآن حضرت صدر الافاضل علامہ مولانا نعیم الدین مراد آبادی علیہ الرحمة اس آیہٴ کریمہ کی تفسیر میں اپنے حاشیہ خزائن العرفان میں تحریر کرتے ہیں کہ اس کے معنی یہ ہوئے کہ ”میرے بعد قیامت تک آنے والے جنہیں یہ قرآن پاک پہنچے خواہ وہ انسان ہوں یا جن، سب کو میں حکمِ الٰہی کی مخالفت سے ڈراتا ہوں۔“ حدیث شریف میں ہے کہ جس شخص کو قرآن پہنچا گویا اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور آپ کا کلامِ مبارک سنا۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسریٰ اور قیصر وغیرہ سلاطین کو دعوتِ اسلام کے مکتوب بھیجے (مدارک و خازن)۔ اس کی تفسیر میں ایک قول یہ بھی ہے کہ من بلغ میں ”من“ مرفوع المحل ہے اور معنی یہ ہیں کہ اس قرآن پاک سے میں تم کو ڈراؤں اور وہ ڈرائیں جنہیں قرآن پاک پہنچے۔ ترمذی کی حدیث میں ہے کہ ”اللہ تر و تازہ کرے اس کو جس نے ہمارا کلام سنا اور جیسا سنا ویسا پہنچایا، بہت سے پہنچائے ہوئے سننے والوں سے زیادہ اہل ہوتے ہیں اور ایک روایت میں ہے سننے والے سے زیادہ افقہ ہوتے ہیں۔“ قارئین کرام! معلم کائنات سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دعا اور ان خطِ کشیدہ جملوں کو ذہن میں رکھیں جب آئندہ سطور میں ”کنز الایمان“ اور صاحبِ کنز الایمان کی خصوصیات کا ذکر آئے گا تو پھر اس حوالے سے ان شاء اللہ گفتگو ہوگی۔ اس آیہٴ کریمہ کی تفسیر سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ قرآن حکیم ترجمہ یا ترجمانی کے بنیادی عناصر ابلاغ اور ترسیل کی اہمیت کو اجاگر کررہا ہے۔ ابلاغ کا مطلب یہ ہے کہ متن کا مفہوم اور اس کا مرکزی خیال مکمل وضاحت کے ساتھ مترجم کے ذہن میں اتر جائے۔“ بقول ڈاکٹر عنوان چشتی: ”ابلاغ (Comprehension) کا نقطہٴ آغاز وہ لمحہ ہے جب مترجم قاری (یا قرآنی الفاظ میں سامع۔ وجاہت) کی حیثیت سے اس کا مطالعہ شروع کرتا ہے اور اس عمل کا لمحہٴ آخر وہ لمحہ ہے جب قاری زیرِ مطالعہ فن پارے کے مفہوم یا مفاہیم کو پوری طرح سمجھ کر مطمئن ہوجاتا ہے۔“ (1) ابلاغ کے بعد ترسیل (Communication) کا مرحلہ آتا ہے، اس مرحلہ کے لیے ڈاکٹر عنوان چشتی صاحب تحریر کرتے ہیں: ”ترسیل وہ عمل ہے جس میں مترجم مصنف کی مجرد آگہی یا فن پارے کے اصل مفہوم کو قابلِ فہم علامتوں یعنی ترجمے کی زبان کے ذریعہ قارئین کے سامنے پیش کرتا ہے۔ یہ عمل۔۔۔ زیادہ پیچیدہ اور دقت طلب ہے۔ ترجمے کے عام قارئین کو اس سے دلچسپی نہیں ہوتی کہ اصل تصنیف میں کیا تھا یا اس کا اندازِ بیان کیا تھا، وہ ترجمے کو اصل کے نعم البدل کی حیثیت سے پڑھتے ہیں۔ اس میں جو کچھ ہوتا ہے، وہی ان کے لیے سب کچھ ہوتا ہے۔ عملِ ترسیل کے دو مدارج ہیں۔ پہلا وہ ہے جہاں ذہن کے آئینہ خانہ میں لفظ اور خیال ایک دوسرے میں تحلیل ہوتے ہیں، بہ الفاظِ دیگر مترجم کی مجرد آگہی الفاظ کا مرئی پیکر اختیار کرتی ہے۔ ترسیل کا عمل مجرد سے غیر مجرد کی طرف ہوتا ہے اس لیے ترسیل کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ مترجم نے شاعر یا مصنف کی آگہی کو (جو ابلاغ ہونے پر اس کے ذہن کا لازمی حصہ ہوتی ہے) کس حد تک ترجمے کی زبان میں سمویا ہے۔ دوسری منزل وہ ہے جب مترجم، مصنف یا شاعر کی مجرد آگہی کو ایک نئی زبان میں قارئین کے سامنے پیش کرتا تھا۔ یہ منزل مترجم کی تخلیقی اور فنی صلاحیتوں کی آزمائش کی منزل ہے۔“ (2) کتبِ سماوی بالخصوص قرآنِ حکیم کے مطالعہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ انبیاءِ کرام علیہم الصلوٰة والسلام کلامِ الٰہی کے اصل ترجمان تھے اور ان کے پیروکار یعنی صحابہٴ کرام، تابعین و تبع تابعین وحی الٰہی کے ابلاغ و ترسیل کے سلسلے میں انبیاءِ کرام علیہم الصلوٰة والسلام کے تفسیری ارشادات کے مترجم تھے۔ اس طرح ترجمہ کی روایت اتنی ہی قدیم ہے جتنا خود انسان کا اس کائنات میں اپنا وجود۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فطری طور پر انسان کے اندر تجسس اور غور و فکر کا مادّہ ودیعت کیا ہے۔ اسی بناء پر انسان کو تجسس اور تدبر کا آمیزہ کہا جاتا ہے۔ اسی جذبے کے تحت صدیوں سے انسان ایک دوسرے کو سمجھنے، پرکھنے اور ایک دوسرے تک اپنا مافی الضمیر پہنچانے کے راستے نکالتا رہا ہے۔ تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ اس صلاحیت کے موٴثر و مستعد استعمال نے انسانی معاشرے، ملک اور قوموں کے درمیان افہام و تفہیم کی فضاء پیدا کی ہے اور اس کے برعکس تجسس و تدبر کے جذبہ کی ناپختگی یا اس صلاحیت کے غیر موٴثر استعمال نے فتنہ و فساد کی راہیں بھی کھولی ہیں۔ ترجمہ کی عمومی تعریف یہ ہے کہ ایک زبان میں بیان کردہ خیالات یا معلومات کو دوسری زبان میں منتقل کرنا اور بظاہر یہ ایک سادہ سا عمل ہے۔ عطش درّانی اپنے ایک مقالہ میں ترجمہ کی تعریف یوں کرتے ہیں: ”جہاں تک ترجمہ کی تعریف کا تعلق ہے، اسے ہم ان الفاظ میں بیان کرسکتے ہیں کہ ترجمہ:- کسی زبان پر کیے گئے ایسے عمل کا نام ہے جس میں کسی اور زبان کے متن کی جگہ دوسری زبان کا متبادل متن پیش کیا جائے۔ اس تعریف میں معانی، مفہوم، مطالب، اندازِ بیان اور اظہارِ بیان، اسلوب اور انداز کے تمام پہلو آجاتے ہیں۔ چونکہ بنیادی طور پر یہ فن زبان سے تعلق رکھتا ہے اس لیے اس کے نظری پہلو کو ہم ترجمہ کا لسانیاتی نظریہ قرار دے سکتے ہیں۔(3الف) ترجمہ کی ایک اور جامع تعریف ایک فرانسیسی ادیب پال نے یوں کی ہے: ”ترجمہ کسی علّت (اصل تخلیق) کے معلول کی ایک دوسری علت (ترجمہ) کے توسط سے امکانی قربت و صحت کے ساتھ تشکیل کرنے کا عمل ہے۔“ (3ب) اس تعریف کی روشنی میں علمائے لسانیات کا کہنا ہے کہ بحیثیت ِ مجموعی ترجمہ ایک فن (Art) ہے اور ایک ہنر (Science) بھی۔(4) لیکن ترجمہ کا ہنر اتنا سادہ و آسان نہیں ہے جتنا عام طور پر تصور کیا جاتا ہے۔ اس کے اندر جو پیچیدگیاں ہیں اور اس میں جو خالص علمی، فنی، ادبی اور تخلیقی نوعیت کی صلاحیتوں کو ایک متوازن آمیزے کے ساتھ بروے کار لانے کا عمل ہے۔ اس کی نشاندہی کرتے ہوئے ڈاکٹر مظفر احمد سید تحریر فرماتے ہیں: ”ترجمہ کا ہنر اس لحاظ سے خاصا پیچیدہ ہے کہ اس میں دہری تہری صلاحیت کی ضرورت پڑتی ہے۔ متن کی زبان اور اپنی زبان تو خیر آنی ہی چاہیے، اُس موضوع سے بھی طبعی مناسبت درکار ہے جو متن میں موجود ہے۔ مصنف سے بھی کوئی نہ کوئی نفسیاتی ممثالت ضروری ہے اور صنفِ ادب اور شاخ علم سے بھی جس سے متن پیوست ہے، مترجم کو پیوستگی حاصل ہو، تب ترجمہ شاید چالو معیار سے اوپر اٹھ سکے، تاہم ترجمے کی زیریں انواع میں اتنی ساری شرائط کا اجتماع نہیں ہوتا۔ مثلاً تعلیمی اور تکنیکی ترجمہ بلکہ علمی ترجمہ بھی مصنف کی شخصیت اور مترجم کی پیوستگی پر اصرار نہیں کرتا تاہم اس قسم کا ترجمہ بھی لسانی اور علمی (یا تعلیمی اور تکنیکی) اہلیت سے بے نیاز رہ کر نہیں کیا جاسکتا۔“ (5) ہر فن کی طرح ترجمے کی بھی کچھ بنیادی شرطیں (مبادیات)، ضرورتیں اور اصول ہیں۔ پہلی شرط یہ ہے کہ اصل تصنیف کی زبان، اس کے ادب اور اس کی قومی تہذیب سے نہ صرف واقفیت بلکہ دلچسپی اور ہمدردی ہو۔ اس لیے کہ مترجم دو زبانوں اور دو قوموں کے درمیان لسانی اور ثقافتی سفیر کی حیثیت رکھتا ہے۔ دوسری اہم شرط اپنی زبان پر اس کی قدرت اور نئے خیالات کے اظہار کے لیے نئے الفاظ، ترکیبیں اور اصطلاحات وضع کرنے کی استعداد ہے۔ تیسری شرط اور ضرورت تصنیف کی زبان سے ایسی گہری واقفیت ہے کہ وہ اس کی باریکیوں، نفاستوں اور تہہ داریوں کو بخوبی سمجھ سکے۔ چوتھی شرط اور ضرورت یہ کہ اصل تصنیف جس عہد اور جس موضوع سے تعلق رکھتی ہے، اسی عہد کی زندگی، زبان اور اس موضوع کی اہم تفصیلات سے مترجم کی واقفیت ہو۔ پانچویں اور آخری ، لیکن سب سے اہم شرط ادبی ترجمہ کی صلاحیت، دلچسپی اور شوق و شغف اور انہماک ہے۔ اگر یہ نہیں تو دوسری تمام شرائط کی تکمیل بھی کامیاب ترجمہ کی ضمانت نہیں ہوسکتی۔ (6) جہاں تک ترجمے کے اصول کا تعلق ہے تو ہم ایک مایہ ناز تحقیقی مقالہ ”شاہ حقانی کا اردو ترجمہ و تفسیر قرآن…ایک تنقیدی و تحقیقی جائزہ“ محققہ و مرتبہ جناب ڈاکٹر سید محمد امین اور جناب محمد ارشاد احمد رضوی مصباحی سے ایک اقتباس پیش کرتے ہیں جو زیر نظر موضوع (اصولِ ترجمہ) پر عمیق مطالعہ کا نچوڑ ہے اور ایک اجمالی مگر جامع خاکہ کی صورت میں پیش کیا گیا ہے۔“ (7) ”1۔ اصل عبارت کسی حالت میں مترجم کی نگاہ سے اوجھل نہیں ہونی چاہیے کیونکہ مترجم بہرصورت متن کے مرکزی خیال کا پابند ہے۔ 2۔ مترجم کو اپنی جانب سے حذف و اضافہ کا کوئی حق حاصل نہیں نہ صرف عبارات بلکہ تشبیہات اور استعارات میں بھی، اس سے انحراف علمی بددیانتی ہوگی۔ 3۔ ترجمہ میں سہولت کے لیے متن کو آگے پیچھے کرنے کا بھی حق نہیں۔ 4۔ اصل عبارت میں کسی طرح کی ترمیم کا جواز نہیں۔ 5۔ زبان و بیان کے پیچ و خم کا لحاظ رکھنے کے ساتھ ساتھ موضوع کے لسانی، ادبی، علمی، تاریخی، سماجی اور شخصیاتی پس منظر کو بھی ملحوظ رکھنا ہوگا ورنہ مترجم ہمیشہ فکری ٹھوکروں کی زد پہ رہے گا۔ 6۔ اصطلاحات کو جوں کا توں سنبھالنے کی وسعت اگر ترجمہ کی زبان میں ہو تو سبحان اللہ! ورنہ قریب ترین مفہوم میں اسے منتقل کرنا چاہیے بلکہ اس سلسلہ میں اصطلاح سازی کا ایک استنادی بورڈ ہونا چاہیے تاکہ اصطلاحات کے استعمال میں یکسانیت رہے۔ 7۔ مترجم کو اعلیٰ اور مستند لغت کا سہارا ضرور لینا چاہیے۔ صرف حافظہ پر بھروسہ کرنا مناسب نہیں۔ 8۔ ترجمہ گہری نظر اور حاضر دماغی سے کرنا چاہیے تاکہ لفظوں کے پردے میں چھپے ہوئے تہہ دار جلوہ ہائے معانی بھی آشکار ہوسکیں ورنہ سرسری نگاہ کا ترجمہ زبان کی بہت ساری داخلی لطافتوں کو مجروح کرتا چلا جائے گا اور جو مفہوم اور اشارے ان الفاظ کی پشت سے جھانک رہے ہیں وہ ترجمے میں غائب ہوجائیں گے۔ 9۔ ترجمہ میں اصل کے کرداروں کی جغرافیائی حیثیت کا خیال رکھتے ہوئے ایسے الفاظ یا اسماء لائے جائیں جس سے اصل کے کرداروں کی بھرپور ترجمانی ہوسکے ورنہ ایرانی، ہندی اور امریکن، پاکستانی ہوجائے اور مصنف نے ان کرداروں کے جغرافیائی مزاج اور ماحولیاتی کیف کا جو لمس ان لفظوں میں رکھ دیا ہے اس کا احساس تو دور اس کی ہوا بھی نہ لگے گی۔ مثال کے طور پر روس کے عظیم شاعر پوشکن (Pushkin) کو لے لیجیے۔ اس کے ایک مشہور افسانے کے ساتھ اس قسم کے ایک حادثہ کو بیان کرتے ہوئے ڈاکٹر ظ۔ انصاری لکھتے ہیں: ”روس کے شاعر اعظم ”پوشکن“ کے ایک مشہور افسانے کا عنوان انگریزی میں ”اسٹیشن ماسٹر“ دیا گیا اور اردو میں جوں کا توں لے لیا گیا۔ روس وہ کردار اس چوکی کے غریب، تباہ حال اور بے بس، تھکے ہارے منشی کی نمائندگی کرتا جو ریلوں کا وسیع جال بچھنے سے پہلے کسی گاؤ یا کارواں سرائے کے ناکے پر بدلی کے گھوڑے مہیا کرتا تھا۔۔۔ اس کردار کو ہم انگریزی کی تقلید میں اسٹیشن ماسٹر لکھ دیں تو افسانے کی روح فنا ہوجائے گی۔ وہ ہمارے یہاں ”ڈاک چوکی کا منشی“ ہے اور یہی نام دیا جانا چاہیے تھا۔“ 10۔ ترجمہ کا پیرایہ اور اسلوب، رواں، شستہ، قابلِ فہم اور ایسا جاذب ہونا چاہیے کہ اصل کے ساتھ ساتھ شانہ بشانہ چلتے ہوئے بھی ایک انفرادیت جھلکے۔ 11۔ ترجمہ میں محاورات اور ضرب الامثال کو جوں کا توں منتقل کرنے کی تو کوئی صورت ہی نہیں البتہ ترجمہ کی زبان کے محاورات سے تقابل کی راہ نکل سکتی ہے لیکن یہ راہ ہے بڑی دشوار۔ اس سلسلہ میں زبردستی عبارت کے حسن کو بگاڑ کر رکھ دیتی ہے اس لیے اعتدال سے کام لیتے ہوئے محاورے کی جگہ محاورے کی جستجو کے بجائے اپنی ضرورت کے مطابق محاورے کے مفہوم کو الفاظ سے اور الفاظ کے معنوں کو محاورے کی مدد سے پیش کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ 12۔ ترجمہ میں تکنیک اور اسلوب کا کام آرائش نہیں بلکہ مرکزی خیال کی ترسیل یا اظہار ہے۔ مترجم کو جان بوجھ کر کوئی نئی تکنیک یا اچھوتا اسلوب نہ اختیار کرنا چاہیے بلکہ ترجمے کے مکمل عمل کے دوران اس کے موضوع، مواد اور مزاج کی مناسبت سے ایسی تکنیک اور اسلوب اختیار کرنا چاہیے جو ہر طرح سے اس تصنیف کے بنیادی خیال یا تاثر کے اظہار میں مفید ثابت ہو۔ یہی معاملہ ہیئت کا ہے۔ مترجم کو ہیئت بھی وہی منتخب کرنی چاہیے جو موضوع اور مواد کا تقاضہ ہو۔ 13۔ جملے اگر پیچیدہ اور طویل ہوں تو ترجمہ میں اسے چھوٹے چھوٹے جملوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے لیکن یہ انداز ہر جگہ نہیں برتا جاسکتا۔ 14۔ ترجمہ کے لیے موضوع سے واقفیت بنیادی شرط ہے۔ اس کے بعد اصل زبان سے پھر اپنی زبان سے۔ ”یہی وجہ ہے کہ ڈیٹ رایٹ (امریکہ) کی Mass Translation Project میں یہ طریقہ بتایا گیا ہے: Translator- Quality Control- Technical Editor- Language Editor یعنی مترجم۔۔ معیار کا نگراں۔ ٹیکنیکل ایڈیٹر۔ زبان کا ایڈیٹر۔“ ترجمہ کی مبادیات اور شرائط کے جائزہ کی روشنی میں دیکھا جائے تو ایک مترجم پر بڑی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ بقول مرزا حامد بیگ: ”مترجم کا کام دراصل نیاز و ناز کا امتزاج ہے۔ اس کی دو صفات انتہائی قابلِ تحسین ہیں (اور یہی بات سمجھنے اور سمجھانے کی ہے۔وجاہت) یعنی ایک تو وہ مصنف کا دل سے احترام کرتا ہے اور دوسرا بطور مترجم انتہائی دیانت داری کا مظاہرہ کرتا ہے۔ یوں مکمل آزادی اور دیانت دارانہ پابندی کا یہ اتصال (ترجمہ) اسے دوسرے کی مصنوعات اپنے ٹریڈ مارک کے ساتھ بیچنے سے باز رکھتا ہے۔ حالانکہ ترجمہ کرتے وقت وہ فن پارے کو اس طرح ڈھالتا ہے کہ کم از کم جزوی طور پر وہ اس کا خالق ضرور کہلا سکتا ہے لیکن یہ مترجم کی بڑائی ہے کہ وہ ایک عمدہ کاریگر کی طرح کام کرتا ہے ۔ دل اور روح کی صفائی کے ساتھ لیکن اپنا نام سامنے نہیں لاتا اور ترجمہ کی حرمت کی مسلسل پاسبانی کرتا ہے۔“ (7ب) حوالہ جات (1) قمر رئیس، ڈاکٹر، ترجمہ کا فن اور روایت، تاج پبلشنگ ہاؤس، دہلی، ص:142 بحوالہ شاہ حقانی کا اردو ترجمہ و تفسیر قرآن، ص:152، کتب خانہ امجدیہ، مٹیا محل، دہلی۔ (2) ایضاً، ص:150، بحوالہ شاہ حقانی اردو ترجمہٴ تفسیرِ قرآن، ص:153، 154 (3) "To translate is to reconstitute as nearly as possible the effect of a certain cause (the original) by means of another cause (the translation)." (The Art of Translation - Delhi, 1962, P.23) (4) خلیق انجم، فنِ ترجمہ نگاری، انجمنِ ترقیِ اردو، ہند، دہلی، ص:160، 161 (5) اعجاز راہی، اردو زبان میں ترجمے کے مسائل، مقتدرہ قومی زبان، اسلام آباد۔ ص:38 (6) قمر رئیس، ڈاکٹر، ترجمہ کا فن اور روایت، تاج پبلشنگ ہاؤس، دہلی۔ ص:11، 12 (7) الف۔ سید محمد امین، ڈاکٹر و محمد ارشاد احمد رضوی مصباحی، شاہ محمد حقانی کا اردو ترجمہ و تفسیر، کتب خانہٴ امجدیہ، مٹیا محل، دہلی، 2001ء، ص:156 تا 159۔ (7) ب۔ ترجمہ کا فن اور اس کا جواز، ”ماہِ نو“، لاہور، مئی 1986ء (ماخوذ از سالنامہ معارف رضا کراچی2009ء) اصل ماخذ
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (01-03-12), شمشاد احمد (11-12-10) |
![]() |
| Tags |
| php, گمان, پاک, پسند, قید, قواعد, قرآن, نماز, نظر, منافق, منتقل, ممکن, مجید, محبت, مسائل, معلوم, اللہ, اردو, اسلام, اعلیٰ, جھوٹ, جواب, حسن, خوش, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| دوسرا قدم:"تاریخ حدیث و اصول حدیث پر جامع تنقید" | حیدر | حجت حدیث | 29 | 22-01-12 06:35 PM |
| انٹرنیٹ میں انقلابی سہولتوں کا اضافہ: "بنگ" اور "ویوز" | Hashims | Search Engines | 8 | 02-09-11 03:24 PM |
| اسلامی سکرین سیور """ کیا آپ چاہتے ہیں کہ ؟ """" | عادل سہیل | اسلام اور معاشرہ | 17 | 23-02-11 07:37 PM |
| "کوئی" "کسی" سفارت خانے سے وزیر اعظم ہاوس کی جاسوسی کر رہا تھا | حیدر | خبریں | 6 | 11-10-10 04:49 PM |
| "قرآن کریم کو سمجھنے کے بنیادی اصول" آراء اور تجاویز | عبداللہ حیدر | ترجمہ و تفسیر | 6 | 08-07-10 11:44 AM |