| ترجمہ و تفسیر ترجمہ و تفسیر |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 426
|
||||
| 10 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا | کنعان (11-07-10), ھارون اعظم (10-07-10), نورالدین (21-07-10), منتظمین (10-07-10), محمدمبشرعلی (11-07-10), مرزا عامر (10-07-10), آبی ٹوکول (10-07-10), حیدر (10-07-10), راجہ اکرام (12-07-10), عبداللہ آدم (10-07-10) |
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,382
کمائي: 95,588
شکریہ: 52,496
11,159 مراسلہ میں 35,217 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
مجھے تو اس بارے میں کوئی علم نہیں کہ تفسیر قرآن کیسے ہوتی ہے۔ بس مجھے یہ علم ہے کہ قرآن کھولنے سے پہلے اللہ سے دعا کرو کہ مجھے نیکو کاروں میں شامل فرمانا کہ جن پر تو نے انعام کیا نہ کہ گناہ گاروں میں کہ جن پر تیرا غضب ہوا۔ پھر یہ بھی دعا کرو کہ اللہ تیری بات ہے تُو ہی یہ بات مجھے سمجھا ۔ میری عقل ناقص ہے۔
پھر قرآن کھولو ۔ جو پڑھنا ہے پڑھو ۔ اس پر غور کرو۔ جو سمجھ آئے وہی تفسیر ہے۔کیونکہ اس نے خؤد کہا ہے جو مجھ سے ہدایت مانگتے ہیں میں انکو ہدایت دیتا ہوں۔ اوراللہ کبھی بھی جھوٹ نہیں کہتا پھر اس بات کو دوسروں سے شئیر کرو یہ دعا کرتے ہوئے کہ اللہ اسکی مزید وضاحت فرما ۔ مزید جو سمجھ آئے اسکو تفسیر کی بھی تفسیر سمجھ لو۔ میں ایسا اس لیے کرتا ہوں کہ جو کتاب اللہ نے میرے لیے لکھی ہے اور اس میں جو باتیں میرے لیے ہیں بھلا وہ کوئی اور کیسے مجھے سمجھا سکتا ہے؟ جو ہستی بات کہہ رہی ہے وہی خود ہی وضاحت بھی کر دیتی ہے۔ باقی وہ مشکل مشکل باتیں مجھے سمجھ نہیں ائیں جن کے بارے میں آپ نے استفسار کیا ہے۔ Last edited by حیدر; 11-07-10 at 06:37 AM. |
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (11-07-10), کنعان (11-07-10), ھارون اعظم (10-07-10), نورالدین (21-07-10), مرزا عامر (11-07-10), مسلم بھائی (24-07-10), آبی ٹوکول (20-07-10), راجہ اکرام (12-07-10) |
| کمائي نے حیدر کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 11-07-10 | کنعان | جو کتاب اللہ نے میرے لیے لکھی ہے اور اس میں جو باتیں میرے لیے ہیں بھلا وہ کوئی اور کیسے مجھے سمجھا سکتا ہے/جزاک اللہ خیر | 10 |
|
|
#3 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
قرآن حکیم اپنی تشریحآپ کرتا ہے۔ نظریات کو دہراتا ہے۔ الفاظ کو دہراتا ہے۔ اس طرح کے اس کے معانی واضحہوجائیں۔ سمجھ میں آسانی سے آجائے۔ الفاظ ، خیالات ا ور نظریات کے بین القران ربط کو استعمال کرکے قرآن کو سمجھنے کو علماءکرام نے فہم القرآن من القرآن اور اس سے ملتی جلتی اصطلاحات کے نام سے پکارا ہے۔ جو دوست اس کے بارے میں جانتے ہیں، وہ یہاں معلومات فراہم کریں تاکہ سب کا فائیدہ ہو۔ والسلام |
|
|
|
|
| فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا | مرزا عامر (11-07-10) |
|
|
#4 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,343
کمائي: 52,127
شکریہ: 4,384
1,831 مراسلہ میں 6,827 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
جو کتاب اللہ نے میرے لیے لکھی ہے ور اس میں جو باتیں میرے لیے ہیں بھلا وہ کوئی اور کیسے مجھے سمجھا سکتا ہے؟ سخت قابل گرفت ہے کیونکہ اگر کتاب اتارنے والے نے ہی سب کو براہ راست سمجھانا ہوتا تو پھر صاحب کتاب کی کیا ضرورت تھی ؟؟؟؟ خیر اس موضوع کی مکمل تفہیم کے لیے آپ اسی فورم پر ہمارا لگایا گیا یہ والا مراسلہ دیکھیئے کہ جس میں ہم نے اس مسئلہ یعنی تفسیر القرآن باالحدیث کے دلائل بھی رقم کیئے ہیں ۔ یہ تو تھی تمہید بطور تنبیہ اب ہم براہ راست موضوع کی طرف آتے ہیں ۔۔ ۔ امت مسلمہ میں قرآن پاک کی آج تک جتنی بھی تفاسیر ہوئی ہیں یا جو لکھی جاچکی ہیں ان میں تفسیر کا جو سب سے اولین اسلوب ہے وہ ہے تفسیر بالماثور یعنی تفسیر بالروایات یا تفسیربالنقل کہ جسے اردو میں تفسیر ماثوری یا اثری کہا جاتا ہے ۔ چناچہ امت میں یہ بات رائج ہے کہ اس امت میں بطور تفسیر جو سب سے پہلی چیز رائج ہوئی وہ مبنی بر روایت ہے کہ جسے تفسیر ماثور یا اثری تفسیر کہا جاتا ہے یعنی اس اسلوب کے بانی و مؤسس محدثین و راوی حضرات ہیں کہ جن میں صحابہ کرام سے لیکر تبع تابعین کے تمام طبقات شامل ہیں اسی بنیاد پر ہم اس اسلوب کو چار ادوار میں تقسیم کرسکتے ہیں اول خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دور دوسرا صحابہ کرام کا دور اور تیسرا تابعین جبکہ چوتھا تبع تابعین کا دور۔ لہزا س سے قبل کہ تفسیر بالماثور اور اس کے متعلقات کو تفصیلا بیان کیا جائے ہم یہ ضروری سمجھتے ہیں کہ مختصرا تفسیر بالماثور کے تاریخی ارتقاء کو بیان کردیا جائے تاکہ یہ واضح ہوسکے کہ اس اسلوب تفسیر کی اقسام کیسے وجود میں آئیں اور ان پر اس اسلوب کا اطلاق کس طرح سے ہوا ۔ ۔ پہلا دور :- عہد رسالت ماب صلی اللہ علیہ وسلم قرآن اللہ کی کتاب ہے کہ جو اللہ نے اپنے بندوں کی طرف اپنے بندہ خاص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے توسط سے نازل فرمائی لہزا بدیہی طور پر یہ بات ثابت ہے (کہ یہ مسلمات عقل میں سے ہے) کہ فہم قرآن کے لیے چاہے وہ تفسیر القرآن بالقرآن کی صورت میں ہی کیوں نہ ہو جو سب سے پہلا رجوع کیا جائے گا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات کی ہی طرف کیا جائے گا کیونکہ آپ کی زات بابرکات نہ صرف یہ کہ فہم قرآن پر سب سے زیادہ فائق ہے بلکہ خود قرآن پاک کی رو سے خود اس قرآن کا تبیان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد کیا گیا ہے نیز یہ کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں جو کہ ابتدائی طور پر اس قرآن کہ قرآن ہونے کے بھی شاہد و صادق و مصدق ہے کہ انہی کہ در سے ہمیں یہ معلوم پڑا کہ یہ قرآن ہے اور یہ غیر قرآن، سو ہم دیکھتے ہیں کہ صحابہ کرام باوجود اہل زبان ہونے کہ فہم قرآن کے لیے بلکہ ایک ایک لفظ کی تفہیم کے لیے بارگاہ نبوی مین حاضری دیا کرتے تھے لہزا انکو فہم قرآن میں جو بھی دشواری ہوتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی ان مشکلات کو اپنی توضیحات سے بصورت تبیان القرآن واضح فرماتے اور ہھر صحابہ کرام ان توضیحات و تشریحات کو ایکدوسرے تک پہنچاتے ۔ ۔ دوسرا دور :- عہد صحابہ کرام جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال مبارک ہوگیا تو پھر خالص صحابہ کرام کا دور شروع ہوگیا اور اس دور میں صحابہ کرام قرآن کہ معنٰی اور مطالب کے لیے ایکدوسرے کی طرف باالعموم اور کبار صحابہ کرام کہ جن میں خلفائے راشدین عشرہ مبشرہ شامل ہیں کی طرف باالخصوص رجوع کیا کرتے تھے لہزا اس طرز سے صحابہ کرام کے تفسیر اقوال کا نہ صرف زبانی بلکہ تحریری طور پر بھی اچھا خاصہ ایک مجموعہ تیار ہوگیا کہ جس کو محققین علماء و محدثین نے مختلف کتب کی صورت میں جمع کیا ہے جبکہ یہ بات تحقیق سے بھی پایہ ثبوت کو پہنچتی کہ دور صحابہ کرام میں احادیث کی کتابت کی صورت میں ایسے تفسیری اقوالات بھی بکثرت تحریری صورت میں ملتے ہیں کہ جن پر تفسیر القرآن بالآثار صحابہ کا اطلاق ہوسکے ۔ ۔۔ تفصیل کے لیے دیکھیے صحیفہ ہمام بن منبہ از ڈاکٹر حمید اللہ ۔ تیسرا دور :- عہد تابعین تابعین حضرات کا دور چونکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کہ دور سے متصل ہے لہزا تمام کے تمام تابعین تفسیر قرآن کے لیے صحابہ کرام کی طرف رجوع کرتے اور صحابہ کرام کی شاگردی اختیار کرتے لہزا اس طریق سے جس قدر بھی مواد وہ صحابہ کرام سے اکٹھا کرسکے انھوں نے کیا اور پھر اس مواد کی دستیابی کے بعد صحابہ کرام کی مبارک شاگردی کی بدولت اپنے اپنے اجتھادات سے بھی اس سرمایہ کو مزید تقویت پہنچائی لیکن تفسیر بالماثور اپنے اس عہد تک پہنچتے پہنچتے حدیث نبوی سے علیحدہ ہوکر باقاعدہ ایک فن کے طور پر وجود پاچکی تھی ۔ ۔ ۔ چوتھا دور :- عہد تبع تابعین جہاں تک بات ہے تبع تابعین کی تو انھوں نے تابعین کہ ہی تفسیری اقوال کو آگے بڑھایا نیز اس دور میں جس قدر قرآن پاک کے مطالب و مفاہیم کو پرانگندہ کرنے کی کوشش کی گئی اس کو زائل کرنے کے لیے انھوں نے اپنوں سے پہلوں کے تفسیری اقوال کی زیادہ تر ترویج و اشاعت کی ۔۔ ۔ یہ تھا مختصر طور پر تفسیر بالماثور کے ارتقاء کا تعارف اب ہم اگلا مراسلہ میں براہ راست تفسیر بالماثور کے سب سے پہلے اصول یعنی تفسیر القرآن بالقران پر گفتگو کریں گے ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جاری ہے ۔ ۔ ۔۔ ۔ Last edited by آبی ٹوکول; 21-07-10 at 05:23 AM. |
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,724
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,067 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اچھا عنوان ہے اسے آگے بڑھنا چاھیے-
|
|
|
|
| مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا گیا | فاروق سرورخان (21-07-10) |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,343
کمائي: 52,127
شکریہ: 4,384
1,831 مراسلہ میں 6,827 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
تفسیر بالماثور کے ذیلی اسالیب میں سے جو سب سے پہلا اسلوب (بمعنی اصول ) ہے وہ تفسیر القرآن بالقرآن کا ہے ۔
تفسیر القرآن بالقران :- یہ تفسیر القرآن کا سب سے پہلا اسلوب (رحجان ) اور اصول ہے یعنی قرآنی آیات کی تفسیر قران پاک ہی کی دوسری آیات سے کرنا۔ کیونکہ ایک ناظر جب قرآن پر نظر کرتا ہے تو وہ اسے درج زیل امور پر مشتمل پاتا ہے ۔ ۔ ایجاز و اطناب ، اجمال و تفصیل ،مطلق و مقید ، عموم و خصوص۔ لہذا یہی وجہ کہیں ایک امر کو مجمل بیان کیا جاتا تو کہیں مفصل کہیں ایک مقام پر اختصار سے کام لیا جاتا ہے تو کہیں دوسرے مقام میں اس کی شرح وبسط و تفصیل آجاتی ہے کہیں ایک حکم مطلق آتا ہے تو کہیں وہی حکم مقید کہیں ایک حکم عام ہوتا ہے تو کہیں دوسری آیات میں وہی حکم تخصیص کے ساتھ آجاتا ہے لہذا مفسر قرآن کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایسی تمام آیات سے معرفت رکھتا ہو جو کہ ان امور پر مشتمل ہوں اور اسے چاہیے کہ ایسے میں تمام مکررات کو ایک جگہ پر جمع رکھتے ہوئے بعض آیات کا بعض سے تقابل کرے تاکہ عملی طور پر یہ واضح کیا جاسکے کہ کہاں ایجاز ہے اور کہاں تفصیل کہاں اجمال ہے اور کہاں تبیین ہے ۔ نیز ایک مفسر کو معرفت ہونی چاہیے کہ مطلق کو مقید پر اور عام کو خاص پر کیسے حمل کیا جاتا ہے اور کن کن طریقوں سے کیا جاتا ہے ۔ قرآن کا خود اپنی تفسیر کرنا ۔ ۔ پہلا طریقہ :- مختصر کو مفصل کرنا علامہ ذھبی اپنی مشھور زمانہ تصنیف التفسیر والمفسرون میں رقمطراز ہیں کہ ۔۔ ۔ ۔ ۔فمن تفسير القرآن بالقرآن: أن يُشرح ما جاء موجَزاً فى القرآن بما جاء فى موضع آخر مُسْهَباً، وذلك كقصة آدم وإبليس، جاءت مختصرة فى بعض المواضع، وجاءت مُسْهَبة مطوَّلة فى موضع آخر، وكقصة موسى وفرعون، جاءت مُوجَزة فى بعض المواضع، وجاءت مُسْهبَة مُفصَّلة فى موضع آخر ۔ ۔ ۔ یعنی تفسیر القرآن بالقرآن کا ایک طریقہ یہ ہے کہ جو مضمون قرآن پاک میں ایک جگہ مختصر بیان ہوا ہو انکی تفسیر قرآن کی ان آیات سے کی جائے کہ جن میں وہی مضمون تفصیل سے بیان ہوا ہو جیسے کہ قصہ آدم علیہ السلام و ابلیس اور قصہ موسٰی علیہ السلام و فرعون یہ قصے ایک جگہ مختصر اور دوسری جگہ تفصیل سے بیان ہوئے ہیں ۔۔۔ دوسرا طریقہ :-مجمل کو مبین سے بیان کرنا علامہ ذھبی رقمطراز ہیں کہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ومن تفسير القرآن بالقرآن: أن يُحمل المجمَل على المبيَّن لِيُفسَّر به، وأمثلة ذلك كثيرة فى القرآن، فمن ذلك تفسير قوله تعالى فى سورة غافر الآية [28]: {وَإِن يَكُ صَادِقاً يُصِبْكُمْ بَعْضُ ٱلَّذِي يَعِدُكُمْ} بأنه العذاب الأدنى المُعجَّل فى الدنيا، لقوله تعالى فى آخر هذه السورة آية [77]: {فَـإِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ ٱلَّذِي نَعِدُهُمْ أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَإِلَيْنَا يُرْجَعُونَ} .. ومنه تفسير قوله تعالى فى سورة النساء آية [27]: {وَيُرِيدُ ٱلَّذِينَ يَتَّبِعُونَ ٱلشَّهَوَاتِ أَن تَمِيلُواْ مَيْلاً عَظِيماً} بأهل الكتاب لقوله تعالى فى السورة نفسها آية [44]: {أَلَمْ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ أُوتُواْ نَصِيباً مِّنَ ٱلْكِتَابِ يَشْتَرُونَ ٱلضَّلاَلَةَ وَيُرِيدُونَ أَن تَضِلُّواْ ٱلسَّبِيلَ} .. ومنه قوله تعالى فى سورة البقرة آية [37]: {فَتَلَقَّىٰ ءَادَمُ مِن رَّبِّهِ كَلِمَاتٍ} فسَّرتها الآية [23] من سورة الأعراف: {قَالاَ رَبَّنَا ظَلَمْنَآ أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ ٱلْخَاسِرِينَ} .. ومنه قوله تعالى فى سورة الأنعام آية [103]: {لاَّ تُدْرِكُهُ ٱلأَبْصَارُ} فسَّرتها آية: {إِلَىٰ رَبِّهَا نَاظِرَةٌ} الآية [23] من سورة القيامة. ومنه قوله تعالى فى سورة المائدة آية [1]: {أُحِلَّتْ لَكُمْ بَهِيمَةُ ٱلأَنْعَامِ إِلاَّ مَا يُتْلَىٰ عَلَيْكُمْ} .. فسرتها آية {حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ ٱلْمَيْتَةُ} الآية [3] من السورة نفسها ۔ ۔ ۔ یعنی تفسیر القرآن بالقرآن کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ مجمل کو مبین سے بیان کیا جائے کیونکہ ایک چیز قرآن میں اگر مجمل ہے تو دوسری جگہ اسکی وضاحت کردی گئی ہے اور اسکی قرآن پاک میں بے شمار مثالیں ہیں ۔ ۔ جیسے سورہ غافر کی آیت نمبر 28 میں کہا گیا کہ ۔ ۔ اور اگر یہ رسول سچا ہے تو جس قدر عذاب کا وہ تم سے وعدہ کر رہا ہے تمہیں پہنچ کر رہے گا ۔ ۔ ۔ پھر اسکی تفسیر اسی سورہ کی ایت نمبر 77 میں یوں کردی گئی کہ ۔ ۔ ۔۔ پھر اگر ہم آپ کو اس (عذاب) کا کچھ حصّہ دکھا دیں جس کا ہم اُن سے وعدہ کر رہے ہیں ۔ ۔ یعنی پہلے والی آیت مین جس عذاب کا وعدہ کیا گیا تھا اللہ پاک کی طرف سے اس سے مراد دنیا کا عذاب تھا ۔ ۔ پھر اسی طرح سورہ نساء کی آیت نمبر 27 میں کہا گیا کہ ۔ ۔ ۔۔اور جو لوگ خواہشاتِ (نفسانی) کی پیروی کر رہے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم راہِ راست سے بھٹک کر بہت دور جا پڑو ۔ ۔ ۔ یہاں اس آیت میں الذین سے کون لوگ مراد ہیں اسکی وضاحت درج زیل آیت میں کردی گئی ہے جو کہ اسی سورہ نساء کی آیت نمبر 44 کہ الذین سے مراد اہل کتاب ہیں آیت کا ترجمہ ملاحظہ ہو ۔ ۔۔ ۔ ۔ کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں (آسمانی) کتاب کا ایک حصہ عطا کیا گیا وہ گمراہی خریدتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ تم (بھی) سیدھے راستے سے بہک جاؤo پھر اسی طرح مزید مثالیں جیسا کہ اوپر عربی عبارت میں موجود ہے کہ سورہ بقرہ کی آیت نمبر 37 کی تفسیر سورہ اعراف کی آیت نمبر 23 میں ہے اور سورہ انعام آیت نمبر 103 کی تفسیر سورہ قیامہ آیت نمبر 23 سے کی گئی ہے اور سورہ مائدہ کی پہلی آیت کی تفسیر اسی سورہ کی تسیری آیت سے ہے ۔ ۔ ۔ جاری ہے |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,343
کمائي: 52,127
شکریہ: 4,384
1,831 مراسلہ میں 6,827 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اسلام علیکم
گذشتہ سے پیوستہ ۔۔ تفسیر القرآن بالقرآن کا تیسرا طریقہ مطلق کا مقید پر محمول تیسرا طریقہ :- مطلق کو مقید پر محمول کرنا:- تفسیر القرآن بالقرآن کا ایک طریقہ یہ ہے کہ مطلق کو مقید پر محمول کردیا جائے وہ اس طرح کہ جب دو حکم الگ الگ ہوں مگر ان کا سبب ایک ہوتو مطلق کو مقید پر محمول کردیا جائے گا جیسا کہ علامہ ذھبی نے لکھا کہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ومن تفسير القرآن بالقرآن حمل المُطْلق على المُقيَّد، ۔۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ما نقله الغزالى عن أكثر الشافعية من حمل المُطْلَق على المُقيَّد فى صورة اختلاف الحكمين عند اتحاد السبب، ومثَّلَ له بأية الوضوء والتيمم، فإن الأيدى مُقيَّدة فى الوضوء بالغاية فى قوله تعالى فى سورة المائدة آية [6]: {فٱغْسِلُواْ وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى ٱلْمَرَافِقِ} .. ومطلقة فى التيمم فى قوله تعالى فى الآية نفسها: {فَٱمْسَحُواْ بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُمْ مِّنْهُ} .. فقيدت فى التيمم بالمرافق أيضاً، ومن أمثلته أيضاً عند بعض العلماء: آية الظَهَار مع آية القتل، ففى كفَّارة الظَهَار يقول الله تعالى فى سورة المجادلة آية [3]: {فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ} .. وفى كفَّارة القتل، يقول فى سورة النساء آية [92]: {فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ} .. فيحُمل المطلق فى الآية الأولى على المُقيَّد فى الآية الثانية، ۔ ۔ ۔ ۔۔ یعنی تفسیر القرآن میں سے ہے کہ مطلق کو مقید پر محمول کرنا جیسا کہ امام غزالی سے نقل کیا گیا کہ اکثر شافعیہ اختلاف حکم میں اتحاد سبب کے باعث مطلق کو مقید ہر محمول کرتے ہیں جیسا کہ وضو اور تیمم کی آیات سے ظاہر ہے کہ سورہ مائدہ کی آیت نمبر 6 میں ہے کہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اپنے چہروں کو اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھو لو ۔ ۔ ۔ ۔ اور پھر اسی آیت میں تیمم کا حکم بیان کرتے ہوئے ارشاد باری تعالٰی ہے کہ ۔ ۔ ۔ ۔ اس (پاک مٹی) سے اپنے چہروں اور اپنے (پورے) ہاتھوں کا مسح کر لو ۔ ۔۔ اوپر آیت کے پہلے حصہ میں وضو کے بیان میں ہاتھ کی کہنیوں تک حد بندی کی گئی ہے لہذا یہ آیت مقید ہے ہاتھ کی تحدید میں جب کہ آگے اسی آیت میں تیمم کا حکم بیان کرتے ہوئے فقط مطلق لفظ ہاتھ کا ذکر کیا گیا ہے یہ نہیں بتلایا گیا کہ کہاں تک ہاتھ کا مسح کیا جائے تو تیمم ہوگا لہذا آیت کے پہلے حصہ کو جو کہ ہاتھ کی تحدید یعنی حد بندی میں ایک خاص قسم کی قید یعنی کہنیوں کو بیان کررہا ہے کو آیت کے دوسرے حصہ جو کہ ہاتھ کی تحدید میں مطلق ہے پر محمول کیا جائے گا اب حکم یہ ہوگا کہ تیمم میں بھی اسی قدر ہاتھ کا مسح کیا جائے گا کہ جس قدر ہاتھ کی قید اوپر وضو کا حکم بیان کرتے ہوئے آئی ۔ ۔ ۔ اور اسی طرح بعض علماء سورہ مجادلہ کی ظھار والی آیت کو سورہ نساء کی آیت نمبر 92 سے مقید جانتے ہیں جیسا کہ سورہ مجادلہ میں ظھار کا حکم بیان کرتے ہوئے مطلق ایک غلام کے آزاد کرنے کا حکم دیا گیا جبکہ دوسری طرف قتل خطاء کا حکم بیان کرتے ہوئے سورہ نساء آیت نمبر 92 میں غلام کے ساتھ مومن کی قید بھی لگائی گئی ہے لہذا اس آیت نے اس پہلے والی مطلق آیت میں آنے والے غلام کے حکم کو مومن ہونے سے مقید کردیا ۔ ۔۔ ۔ چوتھا طریقہ عام کو خاص پر محمول کرنا :- تفسیر القرآن بالقران کا جوتھا طریقہ یہ ہے کہ کسی عام حکم کو خاص حکم پر محمول کردیا جائے چناچہ علامہ ذھبی رقمطراز ہیں کہ ۔ ۔ ۔ والیحمل العام على الخاص، نفى الخُلَّة والشفاعة على جهة العموم فى قوله تعالى: {يٰأَيُّهَا ٱلَّذِينَ آمَنُوۤاْ أَنْفِقُواْ مِمَّا رَزَقْنَاكُم مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِيَ يَوْمٌ لاَّ بَيْعٌ فِيهِ وَلاَ خُلَّةٌ وَلاَ شَفَاعَةٌ وَٱلْكَافِرُونَ هُمُ ٱلظَّالِمُونَ} .. وقد استثنى الله المتقين من نفى الخلة فى قوله: {ٱلأَخِلاَّءُ يَوْمَئِذٍ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ إِلاَّ ٱلْمُتَّقِينَ} .. واستثنى ما أذن فيه من الشفاعة بقوله: {وَكَمْ مِّن مَّلَكٍ فِي ٱلسَّمَاوَاتِ لاَ تُغْنِي شَفَاعَتُهُمْ شَيْئاً إِلاَّ مِن بَعْدِ أَن يَأْذَنَ ٱللَّهُ لِمَن يَشَآءُ وَيَرْضَىٰ} .. یعنی عام کو خاص پر محمول کیا جائے گا جیسا کہ اللہ پاک کہ اس قول یعنی ۔ ۔ ۔ اے ایمان والو خرچ کرو اس رزق میں سے جو کہ اللہ نے تمہیں دیا اس سے قبل کہ وہ دن آئے کہ جس رو ز نہ سودا بازی ہوگی اور نہ ہی کوئی سفارش اور دوستی قبول ہوگی اور کافر لوگ ہی ظالم ہیں ۔ ۔ ۔ اللہ پاک اس حکم میں سفارش اور دوستی کی نفی بطریق عموم بیان ہوئی ہے جبکہ دوسری طرف اللہ کے اس قول یعنی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہ جو آپس میں دوست ہیں اس دن ایک دوسرے کہ دشمن ہونگے سوائے متقیوں کے ۔ ۔ اس آیت نے متقیوں کی دوستی کو اوپر بیان ہونے والی پہلی آیت والی نفی جو کہ بطریق عموم وارد ہوئی تھی سے مستثنٰی قرار دیتے ہوئے ُاس حکم کو اس حکم سے خاص کردیا ۔ ۔ ۔ اور اسی طرح سفارش کہ عمومی حکم کو دوسری آیت یعنی ۔ ۔ آسمانوں میں کتنے ہی فرشتے ہیں کہ جنکی سفارش کوئی فائدہ نہیں دیتی مگر اللہ کے حکم سے ۔ ۔۔ ۔ کہ خصوصی حکم سے مستثنٰی قرار دے کر اس عمومی حکم کو اس خصوصی حکم سے خاص کردیا ۔ ۔ پانچواں طریقہ مختلف اور متعارض امور کو جمع کرنا :- تفسیر قرآن بالقرآن کا ایک طریقہ یہ ہے کہ جو امور باہم (بظاہر ) متعارض نظر آتے ہوں ان میں موافقت پیدا کرکے انہیں جمع کردیا جائے جیسا کہ درج زیل آیات ہیں ۔ ۔ إِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِندَ اللّهِ كَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَهُ مِن تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُن فَيَكُونُO آل عمران 59. بیشک عیسٰی (علیہ السلام) کی مثال اﷲ کے نزدیک آدم (علیہ السلام) کی سی ہے، جسے اس نے مٹی سے بنایا پھر (اسے) فرمایا ’ہو جا‘ وہ ہو گیاo اور سورہ حجر آیت 28 میں فرمایا کہ ۔ ۔ وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلاَئِكَةِ إِنِّي خَالِقٌ بَشَرًا مِّن صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَإٍ مَّسْنُونٍO الحجر 28. اور (وہ واقعہ یاد کیجئے) جب آپ کے رب نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں سِن رسیدہ (اور) سیاہ بودار، بجنے والے گارے سے ایک بشری پیکر پیدا کرنے والا ہوںo اور پھر سورہ رحمٰن آیت نمبر14 میں فرمایا کہ ۔ ۔ خَلَقَ الْإِنسَانَ مِن صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِO 14. اسی نے انسان کو ٹھیکری کی طرح بجتے ہوئے خشک گارے سے بنایاo ان تمام آیات کی جمع تطبیق :- ان تمام آیات مبارکہ میں بظاہر تو اختلاف و تعارض نظر آرہا ہے مگر حقیقت میں ہے نہیں کیونکہ ان تمام آیات کی جمع و تطبیق ممکن ہے وہ یوں کہ کہا جائے گا کہ ان تمام آیات میں تخلیق آدم کے مختلف مراحل کو فردا فردا بیان کیا گیا ہے کہ جن میں آغاز تخلیق سے لیکر نفخ روح یعنی روح پھونکنے تک کہ مختلف مراحل شامل ہیں یعنی گویا تراب تخلیق کا پہلا مرحلہ طین دوسرا صلصال من حما مسنون تیسرا صلصال کالفخار جوتھا اور آخری مرحلہ نفخ روح کا تھا ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔جاری ہے |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (21-07-10), مرزا عامر (22-07-10) |
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,343
کمائي: 52,127
شکریہ: 4,384
1,831 مراسلہ میں 6,827 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اسلام علیکم
گذشتہ سے پیوستہ تفسیر القرآن بالقرآن کا چھٹا طریقہ چھٹا طریقہ مختلف قرآتوں سے قرآن کی تفسیر کرنا :- تفسیر قرآن بالقرآن کہ طرق میں سے ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ مختلف قرآتوں کی مدد سے قرآنی آیات کی تفسیر کی جائے کیونکہ قرآتیں قرآن پاک کہ تفسیری مصادر میں سے بہت اہم مصدر کی حیثیت رکھتی ہیں علامہ ذھبی مجاہد علیہ رحمہ کا قول نقل کرتے ہیں کہ ۔ ۔ ما روى عن مجاهد أنه قال: "لو كنتُ قرأتُ قراءة ابن مسعود قبل أن أسأل ابن عباس ما احتجتُ أن أسأله عن كثير مما سألته عنه کہ مجاہد کہتے ہیں کہ اگر میں ابن مسعود کی قرآت کو پہلے سے جانتا ہوتا تو جتنے سوالات میں نے ابن عباس سے تفسیری نکات کی بابت کیے تھے ان سب کی نوبت نہ آتی۔ قارئین کرام یہ تھے تفسیر بالماثور کہ پہلے زیلی اسلوب تفسیر القرآن بالقرآن کہ چند معروف طریقے اور انکا مختصر سا تعارف کہ جن سے روز روشن کی طرح صاف عیاں ہے کہ قرآن کی بعض آیات بعض کی تفسیر کرتی ہیں لہذا اسی بنیاد پر علماء کرام فرماتے ہیں کہ ۔ ۔ ۔ القرآن یفسر بعضہ بعضا ۔ ۔ لہزا تفسیر قرآن کے میدان میں جو بھی صاحب فکر ہلکا سا بھی تدبر فرمائے گا تو وہ اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہوجائے گا کہ قرآن پاک کے بعض حصے بعضوں کی توضیح بیان فرماتے ہیں چناچہ ڈاکٹر علامہ ذھبی رقمطراز ہیں کہ ۔ ۔ الناظر فى القرآن الكريم يجد أنه قد اشتمل على الإيجاز والإطناب، وعلى الإجمال والتبيين، وعلى الإطلاق والتقييد، وعلى العموم والخصوص. وما أُوجِزَ فى مكان قد يُبْسطَ فى مكان آخر، وما أُجْمِلَ فى موضع قد يُبيَّن فى موضع آخر، وما جاء مطلقاً فى ناحية قد يلحقه التقييد فى ناحية أخرى، وما كان عاماً فى آية قد يدخله التخصيص فى آية أُخرى. ولهذا كان لا بد لمن يعترض لتفسير كتاب الله تعالى أن ينظر فى القرآن أولاً، فيجمع ما تكرر منه فى موضوع واحد، ويقابل الآيات بعضها ببعض، ليستعين بما جاء مسهبَاً على معرفة ما جاء موجَزاً، وبما جاء مُبيَّناً على فهم ما جاء مُجمْلاً، وليحمل المُطْلَق على المقيَّد، والعام على الخاص، وبهذا يكون قد فسرَّ القرآن بالقرآن، وفهم مراد الله بما جاء عن الله، وهذه مرحلة لا يجوز لأحد مهما كان أن يعرض عنها، ويتخطاها إلى مرحلة أخرى، لأن صاحب الكلام أدرى بمعانى كلامه، وأعرف به من غيره ترجمہ و مفھوم :- قرآن پاک میں غور کرنے والے کو معلوم ہوجائے گا کہ یہ ایجاز و اطناب ،اجمال و تبیین ، مطلق و مقید اور عموم و خصوص پر مشتمل ہے ۔ اس میں جو بات ایک جگہ پر مختصر ہے دوسرے مقام پر وہی بات قدرے تفصیل سے بیان ہوئی ہے اور جو ایک مقام پر مجمل ہے دوسری جگہ وہی بات قدرے وضاحت سے بیان ہوئی ہے اور جو بات ایک جگہ ایک پہلو سے مطلق ہے دوسری جگہ وہی بات کسی دوسرے پہلو کی وجہ سے مقید بیان ہوئی ہے جو امر ایک آیت میں عام ہے دوسری آیت میں وہی امر خاص کردیا گیا ہے لہزا ایک مفسر کے لیے ضروری کہ جب وہ قرآن پاک کی تفسیر کا ارادہ کرے تو پہلے قرآن پاک کی تفسیر کو خود قرآن پاک میں ہی تلاش کرے اور ایک موضوع پر بار بار آنے والی آیات کو ایک جگہ یکجا کرکے ان سب کا تقابلی مطالعہ کرے کہ اس اسلوب سے مفصل آیات سے مجمل کو سمجھنے میں ،اور مبین آیات سے مبہم آیات کے مفھوم کو متعین کرنے میں مدد ملے گی َاور اسی اسلوب سے مطلق کو مقید اور عام کو خاص پر محمول کیا جاسکے گا اور یوں قرآن کی تفسیر خود قرآن سے ہی ہوتی چلے جائے گی اور اللہ پاک کا کلام خود اللہ پاک کے کلام سے ہی واضح ہوتا چلا جائے گا اور ایسی تفسیر سے تجاوز کرنا کسی کے لیے جائز نہیں کیونکہ صاحب کلام کو اپنے کلام کی غیروں کی نسبت زیادہ ادراک و معرفت ہوتی ہے ۔ حکم اسلوب :- حکم اس اسلوب کا یہ ہے کہ علامہ ذھبی لکھتے ہیں کہ تفسیر القرآن بالقرآن تفسیر کے تمام زیلی اسالیب میں سے ممتاز ہے اور یہ عمدہ ترین اور صحیح ترین اسلوب ہے لہزا یہ متفقہ طور پر مقبول ہے اور کسی نے اسکی قبولیت میں اختلاف نہیں کیا کیونکہ نہ تو اس میں (یعنی قرآن کہ اپنی تفسیر خود کرنے میں) کسی قسم کا کوئی ضعف پیدا ہوسکتا ہے اور نہ ہی اس میں شک کی کوئی جاہ ہے ۔ ۔۔ الحمدللہ معزز قارئین کرام یہ تھا تفسیر الماثور کے ذیلی اسالیب میں سے سب سے پہلے اسلوب تفسیر القرآن بالقرآن کا مختصر مگر جامع تعارف ہم ان شاء اللہ العزیز بہت جلد ہی تفسیر الماثور کے دیگر زیلی اسالیب میں سے دوسرے بڑے درجہ کے اسلوب یعنی تفسر القرآن بالحدیث پر بھی الگ سے ایک مقالہ کی صورت میں روشنی ڈالیں گے ۔ وما توفیقی الا باللہ ۔ ۔ ۔ والسلام |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() |
عابد عنایت ، سلام علیکم۔
بہت بہترین ، جاری رکھئے۔ اللہ تعالی آپ کو اس کا بہترین اجر دیں۔ یہ دھاگہ پاک نیٹکے ہر قاری کو پڑھنا چاہئے۔ آپ اپنا کام جاری رکھیے۔ مکمل ہونے پر اپنا تھوڑا سا حصہ ڈالنے کا ارادہ ہے۔ والسلام Last edited by فاروق سرورخان; 21-07-10 at 05:32 AM. |
|
|
|
| فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا | مرزا عامر (21-07-10) |
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,343
کمائي: 52,127
شکریہ: 4,384
1,831 مراسلہ میں 6,827 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
وعلیکم السلام خان صاحب آپ شوق سے اپنا حصہ ڈالیے میں تفسیر القرآن بالقرآن کہ حوالہ سے اپنی بات یہاں مکمل کرچکا اب ایک الگ مراسلہ میں تفسیر القرآن بالحدیث پر ضرور بات کرنا چاہوں گا والسلام
Last edited by آبی ٹوکول; 21-07-10 at 05:33 AM. |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (21-07-10), مرزا عامر (21-07-10) |
![]() |
| Tags |
| ہیں؟, ہے۔, ہائے, کار, پہلے, یا, نمایاں, موضوع, معلومات, آیا, القرآن, انجام, اختلافات, اشارہ, اضافہ, اصول, بنیادی, تفسیر, خیال, دئے, سوالات, سلام, شروع, عنایت, عابد |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| حمیدالدین فراہی اور جمہور کے اصول تفسیر تحقیقی وتقابلی مطالعہ(پی ایچ ڈی مقالہ) | مسلم | کتاب گھر | 0 | 18-01-11 08:56 PM |
| جوتوں سے سیاسی مقاصد کا حصول | اویسی | اپکے کالم | 2 | 10-08-10 10:53 AM |
| اصولوں کی سیاست نے شریف برادران کو کشمکش میں مبتلا کردیا | گلاب خان | خبریں | 0 | 28-06-10 03:52 AM |
| سیاست کا پہلا اصول | راجہ صاحب | سیاست | 2 | 10-04-08 11:26 AM |
| سنگیتا نے صومی علی کو ڈرامہ سیریل کے لیے سائن کرلیا | عبدالقدوس | فلمی دنیا | 0 | 29-10-07 10:05 AM |