| ترجمہ و تفسیر ترجمہ و تفسیر |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 506
|
||||
| 13 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | Miss Khan (30-01-12), rana ammar mazhar (19-05-12), skjatala (30-01-12), فیصل ناصر (30-01-12), کنعان (30-01-12), ھارون اعظم (31-01-12), نبیل خان (30-01-12), ابن آدم (31-01-12), احمد نذیر (30-01-12), حیدر (30-01-12), حیدر Rehan (30-01-12), شکاری (30-01-12), عبداللہ آدم (03-02-12) |
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,382
کمائي: 95,613
شکریہ: 52,496
11,159 مراسلہ میں 35,217 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت شکریہ عبد اللہ حیدر بھائی گراں قدر معلومات فراہم کرنے کا۔
گزشتہ دنوں مکتبہ الشاملہ سے شناسائی ہوئی۔ کُچھ آپ نے بیان کیا۔ لیکن میری بدقسمتی یہ ہے کہ میں عربی سے نا بلد ہوں۔ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا اُردو میں کوئی ایسی ویب سائٹ یا سافٹ وئیر موجود ہے جس میں ایک ہی آیت کے بارے میں مختلف تفاسیر آ جائیں؟ یعنی اگر میں دیکھنا چاہوں کہ کسی آیت کے بارے میں مختلف مفسر حضرات کی کیا رائے ہے اور ان آرا کو ایک ہی جگہ دیکھنا چاہوں تو کیا ایسا کوئی پروگرام موجود ہے؟ |
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (19-05-12), skjatala (30-01-12), کنعان (30-01-12), نبیل خان (30-01-12), حیدر Rehan (30-01-12), شکاری (30-01-12), عبداللہ آدم (03-02-12) |
|
|
#3 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 439
کمائي: 10,419
شکریہ: 340
435 مراسلہ میں 1,429 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
تفصیلات یہاں:
__________________
نہیں، اے محمدؐ، تمہارے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں،پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی نہ محسوس کریں، بلکہ سر بسر تسلیم کر لیں۔ [النساء: 65] |
|
|
|
|
| 11 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (19-05-12), فیصل ناصر (31-01-12), کنعان (30-01-12), ھارون اعظم (18-05-12), نبیل خان (30-01-12), ابن آدم (31-01-12), احمد نذیر (30-01-12), حیدر (31-01-12), حیدر Rehan (30-01-12), عبداللہ آدم (03-02-12), عبداللہ حیدر (30-01-12) |
|
|
#4 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 2,286
کمائي: 26,507
شکریہ: 8,476
1,586 مراسلہ میں 3,509 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے نبیل خان کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (19-05-12), حیدر (31-01-12) |
|
|
#5 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 439
کمائي: 10,419
شکریہ: 340
435 مراسلہ میں 1,429 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
بجا فرمایا آپ نے۔ ہمارے اسلاف نے تو پوری پوری زندگیاںقرآن کی بے لوث خدمت کے لئے وقف کر دی تھیں۔ علوم القرآن کا بیش بہا خزانہ آج بھی ہمیں ہمارے ان اسلاف کی یاد دلاتا رہتا ہے، جنہوں نے قرآن کے ایک ایک حرف پر مدتوں تحقیق کی۔ علوم القرآن کے تعلق سے کوئی گوشہ تشنہ تحقیق نہ چھوڑا۔ ان کا مقابلہ دور حاضر کے ان حضرات سے کرنا ہی توہین ہے، جو چند تراجم کو یکجا کر کے انٹرنیٹ پر پیش کر دینے ہی کو علمی معراج سمجھے بیٹھے ہیںاور ’ اس سے دراز نفسی مقصود نہیں‘کہہ کر ہر جا اس تفاخر کا اظہار بھی ضروری سمجھتے ہیں۔ |
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#6 | |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() |
اقتباس:
![]() ![]()
|
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,175
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,300 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کوئی فائدہ نہیں بھتیجے
![]() بعد میں پتہ چلتا ہے لغت یا ڈکشنری والے الفاظ کی تفسیر و تراجم میں کوئی اہمیت نہیں
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا |
| کمائي نے فیصل ناصر کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 19-05-12 | rana ammar mazhar | بعد میں پتہ چلتا ہے لغت یا ڈکشنری والے الفاظ کی تفسیر و تراجم میں کوئی اہمیت نہیں | 5 |
|
|
#8 | |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,175
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,300 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (19-05-12), حیدر (31-01-12) |
|
|
#9 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,382
کمائي: 95,613
شکریہ: 52,496
11,159 مراسلہ میں 35,217 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (19-05-12), عبداللہ حیدر (31-01-12) |
|
|
#10 | |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() |
اقتباس:
تھوڑی سی تبدیلی کےساتھ "ترجمہ و تفسیر میں لغات یا ڈکشنری والے الفاظ ہی کی اہمیت نہیںہے" ایک ذاتی تجربہ بتاتا ہوں۔ اول اول مجھے حمید الدین فراہی رحمۃ اللہ علیہ کی "تفسیر فراہی" اور انکے شاگرد خاص امین احسن اصلاحی کی "تدبر قرآن" پڑھنے کا اتفاق ہوا تھا۔ یہ نو جلدوں پر مشتمل ہے۔ اس کا نتیجہ اصلاحی صاحب کے شاگرد جاوید احمد غامدی سے ذہنی قربت کی صورت نکلا۔ جن سے میری وارفتگی کا یہ عالم تھا کہ جب کبھی کسی اخبار میں ان کے انٹرویو یا مضمون کی خبر ملتی تو خاص اہمتمام سے اسے خرید کر ایک فائل میں لگا لیتا تھا۔ (کیا زمانہ تھا )نتیجتا بہت سے معاملات مجھ پر مشتبہ ہو گئے یہاں تک کہ ایک دن چچا عادل سہیل حفظہ اللہ سے کسی معاملے پر بات چیت کے دوران انہوں نے ایک جملہ کہا جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے مجھے ذہنی طور پر یکسو کر دیا اور وہ تمام اشکالات جو عرصے سے ذہن میں گردش کر رہے تھے، ایک ایک کر کے ختم ہوتے چلے گئے۔ ان کی بات مفہوم یوں تھا: "کتاب اللہ کو سمجھنے کے لیے ہم سنت رسول کے محتاج ہیں، ان دونوں کی تفہیم کے لیے عربی زبان سے واقفیت لازم ہے لیکن لغت پر ایک تیسری چیز نگران ہے اور وہ ہے صحابہ کرام کا فہم، اسے نظر انداز کرنے کی وجہ سے لوگوں نے بڑی بڑی ٹھوکریں کھائی ہیں" میں آپ کی ذہنی کیفیت سمجھ سکتا ہوں کیونکہ میں خود اس سے گزر چکا ہوں۔ گزارش بس اتنی ہے کہ مذکورہ بالا قول پر دھیرے دھیرے ٹھنڈے مزاج سے غور کرتے رہیے اور اللہ سے دعا کریں کہ وہ حق بات کی طرف راہنمائی فرمائے اور اس پر استقامت دے۔ اگر عربی سمجھ آتی ہے تو اس موضوع پر امام البانی کی یہ مدلل تقریر ضرور سنیں حصہ اول: http://www.alalbany.net/click/go.php?id=320 حصہ دوم http://www.alalbany.net/click/go.php?id=321 یہ تقریر کتابچے کیصورت میں یہاں سے اتاری جا سکتی ہے: nofasser : azizi : Free Download & Streaming : Internet Archive والسلام علیکم Last edited by عبداللہ حیدر; 31-01-12 at 11:11 PM. |
|
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (19-05-12), فیصل ناصر (01-02-12), کنعان (02-02-12), ھارون اعظم (31-01-12), شکاری (31-01-12), عبداللہ آدم (03-02-12) |
| کمائي نے عبداللہ حیدر کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 31-01-12 | ھارون اعظم | جزاک اللٰہ | 150 |
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2011
مراسلات: 1,133
کمائي: 12,504
شکریہ: 3,416
697 مراسلہ میں 1,606 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت مفید پوسٹ ہے ۔ ۔ ۔ ۔ جزاک اللہ خیرا
|
|
|
|
| بنت حوا کا شکریہ ادا کیا گیا | rana ammar mazhar (19-05-12) |
|
|
#12 |
|
Senior Member
![]() |
سب سے پہلے تو اتنے عظیم بزرگوںکی خدمات کا تذکرہ کرنے کا شکریہ ۔ آپ کو اللہ تعالی جزائے خیر دے۔ قرآن حکیم لکھنے والے، پڑھنے والے، ترجمہ کرنے والے، یا کسی بھی طریقے سے اس کی ترویج کرنے والے تمام بزرگوں کو سلام۔
ضروری ہے کہ اس بات کی وضاحت کردوں کہ "قرآن حکیم کا کوئی داعی" ان پرکھوں میں شامل نہیں جو عیاری سے قرآن حکیم کی آڑ لے کر اپنے ان نظریات کی ترویج ایسے کرتے ہیںکہ جیسے بس یہی اسلام ہے ۔ یہ ان لوگوں کی بات کررہا ہوںجو یہاںپر "ایکٹیو" ہیں ۔۔ اور زندہ ہیں۔ جو گذر گئے ان کا حساب اب اللہ تعالی کے ہاتھ میںہے، ہم ان کو کچھ نہیں کہہ سکتے۔ لہذا جو کچھ بات ہے ، بحث ہے وہ ان لوگوں سے ہے جو آج کی تاریخ میں یہاں بات کرتے ہیں۔ ان کو پرکھوں کا حوالہ کیوںدیتا ہوں؟ اس کے باوجود کہ اللہ تعالی نے واضح طور پر حکم دے دیا ہے کہ اس کی پیروی کرو جو اللہ تعالی نے نازل کیا ہے ۔ اسلام کے کسی بھی معیار کے مطابق ، قرآن حکیم کے بعد کوئی بخاری، مسلم ، ترمذی ، یا کوئی دوسری کتاب نازل نہیں ہوئی۔ لہذا ان کتب میںجو کچھ ہے وہ قرآن پر ہی پرکھا جائے گا۔ 2:170 وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ اتَّبِعُوا مَا أَنزَلَ اللّهُ قَالُواْ بَلْ نَتَّبِعُ مَا أَلْفَيْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا أَوَلَوْ كَانَ آبَاؤُهُمْ لاَ يَعْقِلُونَ شَيْئاً وَلاَ يَهْتَدُونَ اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو اﷲ نے نازل فرمایا ہے اس کی پیروی کرو تو کہتے ہیں: (نہیں) بلکہ ہم تو اسی پر چلیں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے، اگرچہ ان کے باپ دادا نہ کچھ عقل رکھتے ہوں اور نہ ہی ہدایت پر ہوں پرکھ، باپ دادا کو یا بزرگوں کو عزت سے کہتے ہیں۔ آپ پسند کریں تو میں باپ دادا کے الفاظ استعمال کرسکتا ہوں۔ اس پر یہ شکایت ہوگی کے باپ دادے تک پہنچتا ہے ۔ قرآن کی آڑ میں اپنی کتب اور نظریات کی ترویج کی ایک مثال۔ شوہر اپنی بیوی کی رسی سے باندھ کر ڈنڈے سے پٹائی کرے۔۔۔ ایک سنی ہوئی روایت، غیر قرآنی نظریہ کا پرچار درج ذیل میرا ذاتی تجربہ ہے ۔۔۔ سنی سنائی نہیں ۔۔۔ کوئی بیس برس پہلے سان فرانسسکو سے ایک بھائی نے بلاوا دیا کہ آپ ہمارے گھر آئیے ، "درس قرآن " ہے ۔ میںاپنی زوجہ کے ساتھ پہنچا۔ جہاں موصوف کے دادا جان، کتابوں کے ایک ٍٍڈھیر کے ساتھ بیٹھے تھے۔ ترمذٰی کی ایک موٹی سے جلد اور بخاری کی ایک منقش جلد۔ یقین کیجئے "درس قرآن" میں "اللہ کا فرمان قرآن " موجود نہیںتھا۔ میرے پوچھنے پر "کہ آپ کے پاس قرآن ہے"، موصوف نے اشارہ کیا ، کہ جی وہ ۔۔۔۔ شیلف پر ۔۔۔۔ عورتیںایک کمرے میںتھیں اور مرد دوسرے کمرے میں ۔ اس طرح کے مرد و عورت دونوںایک دوسرے کو ڈائریکٹلی نہیں دیکھ سکتے تھے لیکن ان "بزرگ" کو دیکھ سکتے تھے۔ جناب نے "درس قرآن" اعوذ باللہ اور بسم اللہ پڑھ کر شروع کیا ۔۔۔ اور اگلے ستر منٹ تک صرف درج ذیل " درس قرآن " پر تبصرہ کرتے رہے ۔ "درس قرآن" --- کا لب لباب ۔۔۔۔ بقول ان بزرگ کے "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن فاطمہ الزہرۃ سے دریافت کیا ۔۔۔ کیا تم جانتی ہو کہ تم سے پہلے کون سی عورت جنت میں جائے گی؟ فاطمہ نے عرضکی کہ "مجھے علم نہیں، لیکن میں ضرور جاننا چاہوں گی کہ ایسی کون سی نیک ہستی ہے جو مجھ سے پہلے جنت میںجائے گی؟" تو رسول اکرم نے ان کو ایک عورت کے بارے میں بتایا اور کہا کہ تم جا کر اس عورت سے مل کر آؤ۔ جنابہ فاطمہ ، ان خاتون سے ملنے گئیں۔۔۔ دروازہ کھٹکھٹایا م، اس عورت نے جھری سے جھانک کر پوچھا کہ آپ کون ہیں۔ جنابہ فاطمہ نے فرمایا کہ وہ نبی کی بیٹی ہیں اور ملنے آئی ہیں۔ اس عورت نے کہا کہ "کل آئیے گا۔۔۔ میںاپنے شوہر سے اجازت لے کر رکھوں گی۔" اگلے دن جنابہ فاطمہ اپنے بیٹے کے ساتھ وہاں پہنچی تو اس عورت نے کہا کہ ۔۔۔ میںنے تو صرف آپ کے ملنے کی اجازت لی تھی ، آپ تو اپنے بیٹے کے ساتھ آ گئیں؟" آپ کل آئیں تو میں آپدونوں کے لئے اجازت لے کر رکھوںگی۔ لہذا اب تیسری مرتبہ پر جب جنابہ فاطمہ الزہرۃ اندر داخل ہوئیں تو دیکھا کہ ایک بڑے دیگچے میں پانی ابل رہا ہے ، ایک رسی اور ایک ڈنڈا رکھا ہے ۔۔ جنابہ فاطمہ کے پوچھنے پر اس خاتون نے بتایا کہ اس کا شوہر بہت ہی ظالم ہے ۔ جب لکڑیاں کاٹکر گھر آتا ہے تو اپنی تھکن ، رسی سے باندھ کر ، ڈنڈے سے پیٹکر نکالتا ہے ۔ اس وجہ سے تھک جاتا ہے تو پھر گرم پانی سے نہاتا ہے ۔ لہذا محترمہ ڈنڈا، رسی اور گرم پانی تیار رکھتی تھیں۔ وغیرہ وغیرہ یہ کہانی جناب نے کوئی 30 منٹمیں مزے لے لے کر "درس قرآن " میں سنائی ۔ کوئی ستر منٹ بعد میں نے "دادا جان" سے اجازت لی کے کچھ سوالات ہیں۔ اجازت ملنے پر پوچھا۔ 1۔ نبی اکرم محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن حکیم نازل ہوا۔ لہذا اس آیت کا حوالہ عنایت فرما دیجئے ، جو تھکن اتارنے کے لئے رسی سے باندھ کر ، ڈنڈے سے بیوی کی پٹائی کا حکم دیتی ہے ۔۔۔ "دادا جان" نے فورآ جواب دیا ۔۔۔ یہ سورۃ النساء میں ہے بلکہ "بے ادب" قرآن میں تو یہاںتک ہے کہ اگر "بیوی نافرمان" ہو تو اس کی ۔۔ ،،،،،، ۔۔ کردی جائے۔۔۔(قلم مجبور ہے ، لکھ نہیںسکتا) جس طرح قرآن کی آڑ میں یہ دادا جان اپنی کتب کی ترویج میں مصروف تھے ۔ اسی طرح قرآن کی آڑلے کر کچھ برادران یہاں موجود ہیں، تاکہ اپنے پرکھوں کی کتب سے خلاف قرآن کہانیوں کا پرچار کرسکیں۔ ان برادران سے یہ عرضہے کہ ۔۔۔ میں صرف اور صرف ان لوگوں کے بارے میںلکھتا ہوںجو زندہ ہیں۔۔۔ جو گذر گئے ان کو تذکرہ ہی نہیں ۔ ان کا حساب اب اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہے ۔ ہم ان کو نا ہی بھال کہہ سکتے ہیں اور نا ہی برا۔۔۔ لہذا عرض کروںکہ یہ "گذر جانے والے علماء" کا پرانا ہتھکنڈہ استعمال کرنے کے بجائے ۔ اپنا عذر پیش کریں کہ کیا وجہ ہے کہ جب قرآن حکیم --- ان دونوںکو گناہ گار" ٹھیراتا ہے ہے تو آپ کیوں ۔۔۔ سارے انسانوں کی محترم ماںپر کیچڑ اچھالتے ہیں ؟؟؟؟ کیوں اس محترم ہستی کو قصور وار ٹھیراتے ہیں کہ اس نے اپنے شوہر سے منافقت کی یا شیطان سے سازش کی ؟؟؟ کیا وجہ ہے کہ قران کی آڑ میں عیاری سے شکار کھیلتے ہیں ؟؟؟ کیا وجہ ہے کہ اپنے نکات ختم ہوجانے کے بعد "مرحوم مترجمین" کو سہارا لے رہے ہیں ؟؟کیا یہ "مرحوم مترجمین " آج آ کر اپنے کسی بیان کی وضاحت کرسکتے ہیں؟؟؟ جو نکات پیش کرنے ہیں، خود سے کیجئے۔۔۔ اپنا قصور ، دوسروں کے سر نا تھوپئے ۔۔۔ میںکسی بھی مترجم قرآن کو کبھی برا نہیں کہہ سکتا۔۔۔ یہ آپ کا یارا ہے کہ ایسے بزرگ لوگوںکو بھی اپنے مسموم ارادوں کی تکمیل کے لئے استعمال کرتے ہیں۔۔۔۔ "درس قرآن" کی آڑ میں خلاف قرآن روایات کی ترویج بند کیجئے۔ الحمد للہ یہی کتب روایات ، موافق قرآن روایات سے بھری پڑی ہیں ، ان کو سامنے لائیے ![]() والسلام
__________________
فاروق سرور خان ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف Last edited by فاروق سرورخان; 01-02-12 at 06:43 PM. |
|
|
|
| فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا | rana ammar mazhar (19-05-12) |
| کمائي نے فاروق سرورخان کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 19-05-12 | rana ammar mazhar | کیا وجہ ہے کہ قران کی آڑ میں عیاری سے شکار کھیلتے ہیں ؟؟؟ | 5 |
|
|
#13 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
فاروق صاحب، قرآن سے نماز کی رکعتوں کے بارے میں معلومات فراہم کردیجئے۔ مہربانی ہوگی۔
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (19-05-12), عبداللہ آدم (03-02-12) |
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() |
نماز کی رکعتوں کی تعداد کیا خلاف قرآن کسی قسم کی سنت ہے ؟ کیا نماز کا حکم قرآن میں نہیں ؟؟؟ یا نبی صلعم کی سنت جاریہ سے ثابت نہیں ؟؟؟ نبی صلعم کی سنت میں اور خلاف قرآن روایات میںکوئی فرق نظر آتا ہے آپ کو یا پھر ساون کے اندھے کی طرح ہرا ہرا دیکھتے ہیں ؟؟؟
عورتوں کی رسی سے باندھ کر ڈنڈے سے پٹائی میں اور نماز میں آپ کو مماثلت نظر آتی ہے ؟؟؟ ایسے بچکانہ سوالات ہزاروں سال پرانے ہوگئے ہیں۔ آپ کسی بھی روایت کو (سنت رسول نہیں ) پیش کرنے سے پہلے اس کے دو عدد گواہوں کے نام بتائیے جنہوں نے کسی خلیفہ کی عدالت میں گواہی دی ہو۔ شکوہ بے جا بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعور۔ |
|
|
|
| فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا | rana ammar mazhar (19-05-12) |
|
|
#15 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 439
کمائي: 10,419
شکریہ: 340
435 مراسلہ میں 1,429 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
خاں صاحب،
یہ ٹیکنیک بھی سینکڑوں سال پرانی ہو چکی کہ مخالفین کے ذمہ خود سے گھڑ کر کوئی بات منسوب کر دی جائے اور پھر اس کی زور و شور سے تردید کر کے عوام الناس کی آنکھوں میںدھول جھونکی جائے۔ جن بزرگ کی مثال آپ نے پیش کی ہے، ان کا معاملہ بھی بعینہ یہی ہے۔ وہ یا تو آپ کا خود ہی دل سے گھڑا ہوا افسانہ ہے، کیونکہ دن رات قرآن کو دروغ گوئی کے لئے تختہ مشق بنانے والوں سے صدق کی امید تو سچی بات ہے، ہمیںہے ہی نہیں۔ خیر، بشرط صحت، ان بزرگ صاحب کی ذاتی سوچ ہو سکتی ہے جسے آپ اپنے سارے مخالفین پر ، جو کہ خیر سے پوری امت مسلمہ ہی بنتی ہے، تھونپنے کی کوشش فرما رہے ہیں۔ الحمدللہ، ہمارا دین، ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بذریعہ احادیث، ہمارے ماںباپ، ہمارے علمائے کرام، ہمارے بزرگ ہمیںخواتین کا احترام کرنے، ان کی عزت کرنے ہی کی ترغیب و تلقین کرتے ہیں۔ جہلاء کی کسی بھی معاشرے ، گروہ یا مکتب فکر میںکمی نہیں ہوتی۔ کسی ایک جاہل کی بات کو پورے معاشرے یا گروہ پر منطبق کرنا آپ جیسے مفکرین ہی کا شیوہ ہو سکتا ہے۔ اس موضوع میں ہمارے اسلاف کی قرآنی خدمات کا تذکرہ کیا گیا تھا۔ بجائے اس کے کہ آپ اپنی توجہ اسی طرف رکھتے۔ آپ فوراً پٹڑی سے ہٹ کر اپنے پسندیدہ موضوع کی جانب چل نکلے۔ ضمنا عرض ہے کہ ہارون اعظم صاحب کا سوال بھی بالکل درست ہے۔ ہزاروں سال پرانا سہی، لیکن اس کا درست جواب آج تک آپ جیسے مفکرین پر ادھار چلا آ رہا ہے۔ نماز جب قرآن سے ثابت نہیں ہو سکتی تو فوراً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو بھی ماننے لگ جاتے ہیں بلکہ اس کی تبلیغ و اشاعت میںایسے مصروف ہوتے ہیںگویا آپ نے تو سنن کو حرزجان بنا کر رکھا ہوا ہے۔ حالانکہ جیسے نماز سنت جاریہ سے ثابت ہے ویسے ہی ڈھائی فیصد زکوٰۃبھی سنت جاریہ سے ہی ثابت ہے ۔ اور ویسے ہی حجیت احادیثبھی سنت جاریہ سے صراحتاً، تفصیلاً اور مسلسل ثابت ہے۔ تعدد ازواج بھی سنت جاریہ سے ثابت ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ نفس کی پیروی میںمبتلا شخص کو بات دراصل دل کی ہی ماننی ہوتی ہے، اس کے لئے سو حیلے بہانے وہ گھڑ کر لے آتا ہے۔ لہٰذا آپ اپنی مغرب زدہ عقل کے بل پر جب کسی تصور کو اسلامی ثابت کرنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے اس تصور کو تحریفاً قرآن کی جانب منسوب کر دیا جاتا ہے، اور پھر ہر گری پڑی شے چاہے وہ تحریف شدہ انجیل سے مل جائے، تاریخ کی کوئی بے حوالہ روایت ہو، کارل مارکس کی بات ہو، ماؤزے تنگ کی یا لینن کی، بوٹا مسیح کی ہو یا رام موہن کی، بس ہر بات ’مطابق قرآن‘ کی چھتری تلے قابل قبول کاسرٹیفیکیٹحاصل کر لیتی ہے۔ اور غیروںسے مستعار نظریات کے خلاف بات چاہے اللہ کی ہو، یا اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی، خلفائے راشدین کی ہو یا صحابہ و تابعین کی، محدثین عظام اور فقہائے کرام کی ہو یا عام علمائے ملت کی۔ وہ سب ’خلاف قرآن‘ کی تلوار کے ایک وار سے رد کر دی جاتی ہیں۔ اور پھر جناب کا نفس بھی خوب مطمئن ہو جاتا ہے کہ الحمدللہ چودہ صدیوںپرانی کتاب دور حاضر کے تقاضوں سے خوب ’ہم آہنگ‘ ہو گئی ہے۔ |
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (19-05-12), کنعان (02-02-12), ھارون اعظم (02-02-12), طارق راحیل (03-03-12), عبداللہ آدم (03-02-12), عبداللہ حیدر (02-02-12) |
![]() |
| Tags |
| قرآنی خدمات |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|