| ترجمہ و تفسیر ترجمہ و تفسیر |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
اس میں کسی قسم کا کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ تمام جانور کی تخلیق اپنے خالق کی لامحدود طاقت اور علم کی عکاسی کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی ایک ایک چیز میں بے شمار نشانیاں پنہاں ہیں۔ انسانوں کی ہدایت کے لیے قرآن کریم میں کئی چیزوں کے نام لے کر ان پر غور کرنے کی
دعوت دی گئی ہے۔ سورۃ الغاشیۃ آیت 17 میں اللہ تعالیٰ نے اونٹ کے متعلق سوچنے اور اس میں مستور نشانیاں تلاش کرنے کی تلقین کی ہے۔ فرمایا: أَفَلَا يَنظُرُونَ إِلَى الْإِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ “کیا یہ لوگ اونٹ کی طرف نہیں دیکھتے کہ وہ کس طرح (عجیب ساخت پر) بنایا گیا ہے “ اونٹ کی ساخت اللہ تعالٰی نے ایسی بنائی ہے کہ وہ کئی کئی دن تک خوراک اور پانی کے بغیر زندہ رہ سکتا ہے۔ کئی کئی روز کا سفر اپنی پیٹھ پر سینکڑوں کلو گرام بوجھ لاد کر طے کر سکتا ہے۔ اونٹ کی جسمانی ساخت کے اہم پہلو درج ذیل ہیں۔ ریت سے محفوظ سر: ![]() اونٹ کی آنکھیں خاص طور پر صحراء میں رہنے کے لیے بنائی گئی ہیں۔ ان میں ایک خاص قسم کا نظام پایا جاتا ہے جو ریت اور مٹی کے ذرات کو اس جانور کی آنکھوں میں داخل ہونے سے روکتا ہے۔ ناک اور کان پر لمبے بالوں کی موجودگی ان میں ریت کے ذرات کے دخول میں مانع ہوتی ہے۔ دوسرے جانوروں سے مختلف اور لمبی گردن پتوں کو خوراک بنانے کے لیے زمین سے تین میٹر بلندی تک پہنچنے میں مدد دیتی ہے۔ ![]() اونٹ کے پاؤں بھی دوسرے جانوروں سے مختلف ہوتے ہیں جو اس بات کی شہادت ہے کہ اس کائنات میں ہر چیز بڑے متوازن اور مناسب انداز میں تخلیق کی گئی ہے۔ اگر اونٹ کے پاؤں کی ساخت اس نوعیت کی نہ ہوتی تو صحرا میں رہنا اس کے لیے ناممکن تھا۔ اس کے پاؤں میں دو پنجے ایک گدی نما لچکدار پیڈ سے جڑے ہوئے ہوتے ہیں جو زمین پر مضبوطی سے چلنے میں مدد دیتے ہیں اور ان کی بدولت اونٹ ہر قسم کی زمین پر آسانی سے چل سکتا ہے۔ پنجوں پر مضبوط ناخن ٹکر کی صورت میں پاؤں کو نقصان سے بچاتے ہیں۔ اونٹ کے گھٹنوں پر سخت کھال ہوتی ہے جو سینگ سے بھی زیادہ سخت اور موٹی ہوتی ہے۔ جب اونٹ تپتی ریت پر بیٹھنے کے لیے گھٹنے ٹیکتا ہے تو یہ سخت کھال اسے دھوپ کی شدت سے دہکتی ریت سے زخمی ہونے سے بچاتی ہے۔ اونٹ کے پاؤں جو اس کی ٹانگوں کی مناسبت سے بڑے ہیں بطورِ خاص بنائے گئے ہیں۔ ان میں پھیلاؤ بھی زیادہ ہے اور کسی پھولی ہوئی چیز کی صفات بھی رکھتے ہیں جبکہ تلووں میں ایک خاص قسم کی دبیز کھال ہوتی ہے جو انہیں جلتی ہوئی ریت سے محفوظ رکھتی ہے۔ ذخیرہ خوراک: اونٹ بغیر کچھ کھائے پیے تین ہفتوں تک زندہ رہ سکتا ہے۔ اس کی کوہان میں اللہ تعالیٰ نے ایسا نظام بنا دیا ہے کہ فالتو خوراک چربی کی صورت میں وہاں ذخیرہ ہو جاتی ہے اور بوقت ضرورت خودکار طریقے سے اونٹ کو توانائی مہیا کرتی ہے۔ ![]() تپش سے محفوظ رکھنے والی اُون: اونٹ کے جسم پر گھنے اور لچھے دار بالوں سے بننے والی اون سردی اور گرمی دونوں سے بچاؤ کا کام دیتی ہے اور پانی کی کمی واقع ہونے سے بھی بچاتی ہے۔گھنی اون کے ذریعے یہ جانور موسم گرما میں 50 سینٹی گریڈ تک کا درجہ حرارت برداشت کر سکتا ہے۔ وسطی ایشیا کے بلند اور سرد علاقوں میں رہنے والے اونٹ منفی 52 سینٹی گریڈ درجہ حرارت کو برداشت کر لیتے ہیں۔ پیاس اور بھوک کی غیر معمولی مزاحمت: اونٹ 50 سینٹی گریڈ درجہ حرارت میں آٹھ روز تک خوراک اور پانی کے بغیر زندہ رہ سکتا ہے جو کسی دوسرے جانور کے لیے ممکن نہیں ہے۔ ایک دبلا پتلا اونٹ اپنے وزن کا 40 فیصد پانی ضائع ہو جانے کے بعد بھی زندہ رہ سکتا ہے۔ اونٹ کے اندر اللہ تعالٰی نے ایسا خودکار نظام بنایا ہے کہ یہ اپنے جسم کے اندر کے درجہ حرارت کو کنٹرول کر سکتا ہے۔ شدید گرمی میں یہ اندرونی درجہ حرارت 40 سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے چنانچہ یہ جانور صحرا کے شدید گرم موسم میں بھی اپنے جسم کے پانی کو کم سے کم ضائع ہونے دیتا ہے۔ خوراک اور پانی سے زیادہ سے زیادہ فائدہ: جانوروں کے گردوں میں جمع شدہ یوریا خون میں تحلیل ہو جائے تو وہ مر جاتے ہیں لیکن اونٹ کی جسمانی ساخت ذرا مختلف ہے۔ یہ اس یوریا کو بار بار جگر سے گزار کر پانی اور خوراک کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرتا ہے۔ اس کے خون اور خلیوں کی ساخت خاص قسم کی ہوتی ہے جو پانی کے ضیاع کو روکتی ہے۔ خون کی خاص بناوٹ کی بدولت اس کے دوران خون میں اس وقت بھی کمی نہیں ہوتی جب اِس کے جسم میں پانی کی سطح گر کر کم سے کم رہ گئی ہو۔ اس کے علاوہ اس میں البومین خامرے دوسرے جانوروں کی نسبت کہیں زیادہ مقدار میں پائےجاتے ہیں جو پیاس کو برداشت کرنے کی قوت میں اضافہ کرتے ہیں۔ کوہان والا اونٹ ایک دن میں 30 سے 50 کلو گرام خوراک کھا سکتا ہے جبکہ سخت اور مشکل حالات میں یہ صرف 2 کلو گرام کھاس یومیہ کھا کر ایک ماہ تک زندہ رہ سکتا ہے۔ منہ اور معدے کی خاص بناوٹ: اونٹ کے ہونٹ بہت مضبوط اور ربڑ کی مانند لچکدار ہوتے ہیں جس کی وجہ سے وہ ایسے نوکدار کانٹے بھی کھا جاتا ہے جو موٹے چمڑے میں بھی سوراخ کر دیں۔ اس کے معدے میں چار خانے ہوتے ہیں اور نظام ہضم بہت مضبوط ہوتا ہے جس سے وہ جو کچھ بھی کھاتا ہے ہضم کر لیتا ہے۔یہاں تک ربڑ جیسی چیز بھی اس کے لیے قابل ہضم ہے۔ ان معلومات کی روشنی میں غور کرتے ہیں: کیا اونٹ نے صحرائی حالات کے مطابق یہ جسم خود اس طرح کا بنا لیا ہے؟ ناک کے اندر لعابی بناوٹ یا کمر پر کوہان کیا اس نے خود بنائی ہے؟ کیا اونٹ نے اپنی ناک اور آنکھوں کی بناوٹ خود بنائی ہے تاکہ یہ اسے آندھیوں اور طوفانوں سے محفوظ رکھ سکے؟ کیا اس کے خون اور خلیوں کی مخصوص ساخت اس کی اپنی کسی کوشش کا نتیجہ ہے؟ دوسرے جانوروں کی طرح اونٹ میں بھی یہ صلاحیت نہیں ہے کہ وہ یہ سب کچھ خود بخود کر سکے۔ یہ محض اللہ تعالیٰ کا احسان اور فضل ہے کہ اس نے اس قدر اعلٰی جسمانی خوبیوں کے ساتھ اس جانور کو تخلیق کیا اور انسانوں کی خدمت میں لگا دیا۔ فلہ الحمد علیٰ ما اعطیٰ و خلق Last edited by عبداللہ حیدر; 03-10-08 at 09:04 PM. |
|
|
|
| مندرجہ ذیل 5 صارفین نے عبداللہ حیدر کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے | hasnan_1983 (25-12-09), میاں شاہد (22-11-08), زین خان (03-10-08), سیپ (03-10-08), طارق راحیل (22-11-08) |
| کمائي نے عبداللہ حیدر کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 22-11-08 | میاں شاہد | دستیاب نہیں | 150 |
|
|
#2 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
اس مضمون کی تیاری میں جناب ہارون یحیٰی کی کتابوں سے استفادہ کیا گیا۔
|
|
|
|
| عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | زین خان (03-10-08) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: کوئٹہ
عمر: 18
مراسلات: 5,287
کمائي: 21,341
ميرا موڈ:
شکریہ: 9,413
2,466 مراسلہ میں 3,955 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت ہی زبردست معلومات ہیں۔ آپ کا بہت بہت شکریہ عبداللہ بھائی
|
|
|
|
| مندرجہ ذیل 2 صارفین نے زین خان کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے | تفسیر حیدر (06-04-09), عبداللہ حیدر (03-10-08) |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() |
بہت ہی زبردست ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
|
|
|
|
| طارق راحیل کا شکریہ ادا کیا گیا | عبداللہ حیدر (23-11-08) |
![]() |
| Bookmarks |
| Tags |
| arabic, color, com, کمر, کتابوں, قرآن, لوگ, اللہ, بھائی, تلاش, خون, سفر, صفات, صلاحیت, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| یہ کس طرح کہیں کے گہنگار ھم نہیں | Ashfaq Ahmed | شعر و شاعری | 2 | 01-11-09 11:16 PM |
| کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ یہ کیا ہے ؟؟؟؟؟؟؟؟ | قیصرجی | دلچسپ اور عجیب | 17 | 03-02-09 12:51 PM |
| یہ زمیں کس کی ہے، یہ فصل بتا کس کی ہے | خرم شہزاد خرم | شعر و شاعری | 1 | 05-10-08 03:48 PM |
| کس کو فرصت ہے کہ یہ درد بھرے راگ سنے | The Great | شعر و شاعری | 0 | 09-08-08 07:32 PM |
| چوتھا ون ڈے،کامران اکمل پوری طرح آؤٹ نہیں ہوئے ،احسن حمید ،سر فراز کو احتیاطاً طلب کیا گیا ہے | خرم شہزاد خرم | کرکٹ | 0 | 13-11-07 10:57 AM |