واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > علوم قرآن کریم > ترجمہ و تفسیر



ترجمہ و تفسیر ترجمہ و تفسیر


ہشت نگینہ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 12-12-10, 05:14 PM   #1
ہشت نگینہ
عبداللہ آدم عبداللہ آدم آن لائن ہے 12-12-10, 05:14 PM

شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب

قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِن كُنتُمْ فِي شَكٍّ مِّن دِينِي فَلاَ أَعْبُدُ الَّذِينَ تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللّهِ وَلَـكِنْ أَعْبُدُ اللّهَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُمْ وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ0

وَأَنْ أَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا وَلاَ تَكُونَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِينَ0

وَلاَ تَدْعُ مِن دُونِ اللّهِ مَا لاَ يَنفَعُكَ وَلاَ يَضُرُّكَ فَإِن فَعَلْتَ فَإِنَّكَ إِذًا مِّنَ الظَّالِمِينَ0
(یونس: 104۔ 106)

”کہہ دو: اے لوگو تم میرے طریقہ بندگی کی بابت ابھی تک کسی شبہ میں ہو تو (سن لو) تم اللہ کے سوا جن جن کو پوجتے ہو میں ان کو نہیں پوجتا۔ میں تو پوجتا ہوں اللہ (وحدہ لاشریک) کو جو تمہاری جان قبض کرتا ہے اور مجھ کو یہ حکم ہوا ہے کہ میں اہل ایمان میں کا ہو رہوں۔


”اور (حکم ہوا ہے) یہ کہ اپنا پورا رخ اس دین اور طریقہء بندگی کی جانب ہی کر دو۔ حنیف ویکسو ہو کر۔ اور ہرگز ہرگز مشرکوں میں سے نہ ہو۔

”اور اللہ کو چھوڑ کر کسی ایسی ہستی کو نہ پکار لینا جو تجھ کو نہ کوئی فائدہ پہنچا سکے اور نہ کوئی ضرر پہنچا سکے اور اگر تو ایسا کر بیٹھا تو (خود بھی) ظالموں میں سے ہو رہے گا“۔


سورہ یونس کے اختتام کی یہ آیات خاص غور سے پڑھنے کی ہیں۔ یہاں درجہ بدرجہ آٹھ حالتیں ہیں جو ایمان میں اوپر سے اوپر جاتی ہیں:

اول:

یہ کہ آدمی عبادت غیر اللہ سے بالکل دستبردار ہو جائے۔ باپ زور لگائے ماں دہائی مچائے۔ دُنیا اِدھر کی اُدھر ہو جائے ہرگز کوئی لالچ حائل ہو اور نہ خوف!!!
خدا کے غیر کی تعظیم اور پرستش خارج اَز سوال ہو جائے۔ جیسا کہ سعد رضی اللہ عنہ نے اپنی ماں کے طلب واصرار کے جواب میں موحدانہ طرز عمل آخری حدتک جاری رکھا تھا ....جب ان کی ماں نے دھوپ میں بیٹھنے کی قسم کھا لی تھی.

ماں نے کہا تھا :: یا تو سعد، محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو چھوڑ دے یا پھر میری جان اسی طر دھوپ میں بیٹھے بیٹھے نکل جائے گی" تو سعد رضی اللہ عنہ نے پتہ چلنے پر جواب دیا تھا کہ ::"ماں کو گرمی لگے گی تو خود ہی چھاؤں میں چلی جائے گی اور بھو لگے گی تو ھا لے گی لیکن میں محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو نہیں چھوڑ سکتا" ""اے کاش اس جیسی سو مائیں ہویتں تو انہیں بھی میں مر جانے دیتا لیکن نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو نہ چھوڑتا"" "فلا اعبد الذین تعبدون من دون اﷲ ”میں ان کی پوجا کرنے کا نہیں جن کو تم پوجتے ہو“۔


دوئم:

یہ کہ بہت سے لوگ ایسے ہیں جو بے شک شرک کی شناعت کے ’قائل‘ بھی ہو جائیں اور اس کو بُرا بھی جاننے لگیں اور اس کو ترک بھی کر لیں پھر بھی وہ اس معاملے کا وہ سرا نہیں پاتے جو خدا کو مطلوب ہے۔ یعنی خدا کی عظمت اور قدر کی ہیبت وجلال کا اس کے دل میں یوں بسیرا کر لینا جیسا اس آیت کے اگلے لفظ کا اس سے براہِ راست تقاضا ہے: ولکن اعبداﷲ الذی یتوفاکم ”مگر میں تو خدا کو پوجتا ہوں وہ جو تمہاری جان قبض کرتا ہے“ یا یہ کہ ”جو تمہاری جان نکالے گا“۔ یہ خدا کی ہیبت وکبریائی اور اس کے قبضہ وجبروت کی ایک دھاک ہے جو قلب ِمومن پر بیٹھ جاتی ہے تو پھر پہاڑوں پہ بھاری ہوتی ہے اور جو کہ شرک چھوڑنے چھڑوانے کی اصل سمت اور اصل بنیاد ہونا چاہیے۔


سوئم:

اب فرض کر لیا کہ اس نے عبادت غیر اللہ سے رخ بھی پھیر لیا اور پھر یہ کہ خدائے واحد کی تعظیم وکبریائی کا اعتراف کرتے ہوئے اس کی بندگی بھی اختیار کر لی تو بھی ابھی یہ فرض باقی ہے کہ وہ اپنے آپ کو جماعت موحدین کا ایک سرگرم فرد ثابت کرے اور اپنی یہ حیثیت اور شمولیت علی الاعلان واضح کرے وامرت ان اکون من المؤمنین ”اور مجھے حکم ہوا ہے کہ میں اہل ایمان میں کا ایک ہو رہوں“۔

اہل توحید سے آملنا اور ان کا اٹوٹ انگ ہو رہنا اسی عمل کا ہی ایک حصہ ہے جسے ولاءکہا جاتا ہے۔ موحدین کا ایک حصہ بن جانا وہ فرض ہے کہ اس کو پورا کرنے کی کوئی صورت اگر اس کے علاوہ نہ ہو کہ آدمی ایک ایسے ملک یا ایسے ماحول سے بھاگ کھڑا ہو جس سے طواغیت اس کو یہ فرض پورا نہ کرنے دیتے ہوں اور اس معاملہ میں دشمنی پر ہی آمادہ ہوں یہاں تک کہ وہ واضح کردے کہ اس کا تعلق اسی (موحد) گروہ سے ہے جو ان (طاغوتوں) سے برسر مخاصمت ہے .... تو یہ بھی کر گزرے۔


چہارم:

اب فرض کرلیا اس نے یہ تینوں کام بھی کر لئے تب بھی ہو سکتا ہے کہ دین پر عمل پیرا ہونا اور دین کو لے کر چلنے میں آخری درجے کی سنجیدگی اختیار کر لینا ابھی پڑا ہو۔ دین کے معاملے میں آستینیں چڑھا لینا ابھی باقی ہو۔ اب اس کو کہا جاتا ہے وان اَقم وجہک للدین مراد یہ کہ آدمی کا اپنا پورے کا پورا رخ دین ہی کی جانب کر لینا اور اپنے آپ کو اسی کا کر لینا۔


پنجم:

اب فرض کر لیا یہ چار چیزیں بھی ہو گئیں۔ اب ضروری ہے کہ اس شخص کا ایک باقاعدہ مذہب اور مسلک بھی ہو جس سے یہ کھل کھلا کر اپنی نسبت کرائے اور اس سے وابستگی کو ہی اپنے لئے حوالہ بنا لے۔ اب یہاں حکم ہوتا ہے کہ اس کا مذہب حنیفیت ہو۔ اس کے ماسوا کوئی اس کا مذہب ہو اور نہ کوئی حوالہ، بے شک کسی مذہب میں کوئی کتنی بھی اچھی بات کیوں نہ ہو مگر اس کو ایک حنیفیت ہی کفایت کرتی ہو۔ اس کے اس مسلک میں کمی ہی کیا ہے جو خیر اور بھلائی کو کہیں اور جا کر ڈھونڈا جائے؟!


ششم:

فرض کر لیا آدمی سمجھتا ہے کہ اس نے پانچوں کے پانچوں مرحلے سر کر لئے تو اب یہ ضروری ہے کہ وہ مشرکوں سے براءت وبیزاری بھی کرے۔ چنانچہ کہا جاتا ہے ولا تکونن من المشرکین۔ چنانچہ اب یہ لازم ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے وجود سے مشرکوں کے مجمع میں اضافے کا باعث نہ ہو۔ اب وہ اس امر کو ہر ممکن یقینی بنائے کہ وہ مشرکوں کی رونق وشوکت بڑھانے کا ہرگز ذریعہ نہ ہو اور اپنے وجود سے ان کے لئے کسی صورت باعث تقویت نہ ہو۔


ہفتم:

فرض کر لیا اب وہ اپنے تئیں یہ چھ کے چھ فرض پورے کر چکا تب بھی یہ چیز باقی ہے کہ وہ معاملے کو موت تک نبھانے کا عزم رکھے اور زندگی بھر اس پر جما رہنے پہ پختہ ہو۔ یہ معاملہ گھڑی دو گھڑی کا نہیں زندگی کا فیصلہ ہے۔ اس میں اس کو بس اب آگے ہی بڑھنا ہے۔ واپسی کے سب راستے مسدود کر لینے ہیں۔ پیچھے پلٹ کر دیکھنا بھی خارج از سوال ہو جانا ہے۔ خدا کے سوا کوئی ہستی کیسی بھی کیوں نہ ہو، نبی کیوں نہ ہو بطور معبود خدا کی ہستی ہی نگاہ میں رہے اس کے سوا سب کچھ نگاہ سے روپوش ہو جائے۔ وہ یکسوئی حاصل ہو کہ خدا کے ماسوا ہر کہیں سے اُمید تک ختم ہو جائے۔

خدا کے سوا کسی کا خوف اور پرواہی نہ رہے۔ آدمی کمزور ایمان ہو تو وہ چاہت سے شرک نہ بھی کرے کسی کے خوف اور رعب سے یا پھر حالات سے دب کر ایسا کر بیٹھنے کی جانب مائل ہو سکتا ہے بلکہ سمجھتا ہے کہ دفع ضرر کیلئے تو اس کیلئے اس بات کی ضرور ہی گنجائش ہے۔ مگر یہ بات بھی خارج از بحث ہو جانا چاہیے۔ اس بات کو ذہن میں تادم مرگ پختہ رکھنے کیلئے اب پھر یہ کہا جا رہا ہے ولا تدع من دون اﷲ ما لا ینفعک ولا یضرک



ہشتم:

فرض کیجئے اپنے تئیں وہ یہ ساتوں باتیں بھی پوری کر چکا ہے پھر بھی ایک بات ابھی باقی ہے جس میں اسے اپنے طرز عمل کو دو ٹوک اور فیصلہ کن کرنا ہے .... اور وہ یہ کہ چلیں وہ خود تو نہیں اس کا کوئی دوست، کوئی عزیز کسی خوف واندیشے کے باعث یا کسی غرض سے ملت شرک سے قربت اختیار کرتا ہے اور غیر اللہ کے پکارے جانے کی سمت واپسی کی راہ پہ چل پڑتا ہے تو کیا یہ خدا سے اپنے تعلق میں اس قدر سچا اور بے لاگ ہو کر دکھاتا ہے کہ فان فعلت فانک اذاً من الظالمین کے مصداق یہ اپنے اس دوست اور عزیز کو ’ظالمین‘ میں گنے، چاہے یہ اپنے اس دوست کو سارے جہان سے بڑھ کر نیک و پارسا کیوں نہ سمجھتا ہو؟

یا پھر وہ اپنے اس عزیز کو شرک کرتے دیکھ کر کہے گا: اس کو کفر کا مرتکب کیونکر کہا جائے جبکہ یہ دین سے محبت کرتا ہے اور شرک کو (دل سے) ناپسند کرتا ہے؟ کتنے کم اورنایاب ہیں وہ لوگ جو اس آخری گھاٹی سے بھی صاف گزر جاتے ہوں: بلکہ کتنے کم اور نایاب ہیں وہ لوگ جو چاہے اس سے گزرنہ پائیں اس سے گزرنے کا ادراک ہی رکھتے ہوں! بلکہ کتنے کم اور نایاب ہیں وہ لوگ جو اس راہ چلنے کو کم از کم جنون شمار نہ کریں!!!

واﷲ اعلم

.........................................

ماخوز از" مجموعۃ رسائل فی التوحید والایمان"

 
عبداللہ آدم's Avatar
عبداللہ آدم
ذیلی ناظم
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,027
شکریہ: 23,989
4,984 مراسلہ میں 14,700 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 193
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
shafirajput (10-06-11), shafresha (12-12-10), فیصل ناصر (12-12-10), معاذ بن عدنان (17-01-11)
جواب

Tags
color, فرض, چاہت, موت, ممکن, ماں, محبت, آدمی, ایمان, اللہ, بندگی, توحید, ترک, جواب, حکم, خدا, دل, زندگی, شخص, عبادت, عزیز, عزم, عظمت, غور, صاف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 09:10 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger