| تعارف کیا آپ فورمز پر نئے ہیں ؟ کوئی بات نہیں ابھی اپنا تعارف باقی اراکین سے کروائیں تاکہ ہم آپ کے بارے میں جان سکیں |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Apr 2011
مراسلات: 12
کمائي: 467
شکریہ: 9
12 مراسلہ میں 44 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بسم اللہ الرحمن الرحیم
کئی دنوں سے جی میں آ رہا تھا کہ اپنی عجیب و غریب گزشتہ زندگی کے نشیب وفراز یہاں پر موجود تمام بہن اور بھائیوں کے گوش گزار کر لوں مگر وقت کی تیز رفتار دوڑ نے سنبھلنے کا موقع ہی نہ دیا کہ کچھ لکھا جا سکے بہرحال اب اللہ کے فضل سے قلم اٹھا لیا ہے علاوہ ازیں اردو مجلس کے ایک مخلص دوست کا بھی اصرار رہا کہ کچھ اپنے بارے میں بتائیے تو گویاموصوف کے مطالبہ نے سونے پہ سہاگے کا کام کیا بس اب ذرا دھیان سے رہیں کیونکہ توجہ کے بغیر محض الفاظ کا پڑھنا فائدہ نہیں دیتا ،سب سے پہلے ایک بات جو ضروری سمجھتا ہوں وہ یہ کہ اس ساری کہانی کو بیان کرنے کا مقصد تفریح طبع یا بناوٹ نہیں بلکہ اس کہانی میں پوشیدہ وہ تلخ تجربات ہیں جن سے بلاشبہ سبق حاصل کیا جاسکتا ہے کیونکہ سکون کی راہ پر گامزن کیا جانے کہ درد کا سفیر جب کرب کی راہ پر چلتا ہے تو اس کا انگ انگ کسک کا ہویدا ہوتا ہے۔۔۔۔۔ کہتے ہیں کہ زندگی اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایک انمول تحفہ ہے مگر کیا کہ یہ زندگی بھی ایک عجیب چیز ہے جب سمجھنے لگو تو سمجھ نہیں آتی اور جب ضرورت نہ ہو تو سب سمجھ آجاتا ہے لہٰذا اس زندگی کی حقیقت سے میاں کسی کو بھی مفر نہیں یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ انسان اس کو تسلیم کرنے پر مجبور ہے یہی زندگی پھول ہے تبسم ہے مگر میاں یہی زندگی زخم بھی ہے کیونکہ ۔۔۔۔۔ہم نے برسات میں جلتے ہوئے گھر دیکھے ہیں۔۔۔ تمہید کے دائرے کو مزید وسیع کرنے سے ڈر لگ رہا ہے کہ تحریر کہیں طبیعت پر گراں نہ گزرے کیونکہ اگر قاری کو ابتداء ہی میں تھکا دیا جائے تو اس کا ذوق بہر صورت مفلوج ہو جاتا ہے لہٰذ�آئیں اور اس درد کے سفیر کی کہانی انکی اپنی زبانی سنیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خاکسار کو نعمان نیر کلاچوی کہتے ہیں خاکسار کا تعلق صوبہ خیبر پختونخواہ کی ایک قدیم اور دورافتادہ تحصیل کلاچی سے ہے خاکسار کا بچپن اسی بے آب گیاہ علاقہ میں گزرا۔۔۔۔اور گزر رہا ہے۔۔۔۔۔مگر اب بچپن نہیں۔۔۔۔ جماعت چہارم سے اردو شاعری کی طرف دھیان ہوا اور اسی دوران سب سے پہلے کلیات اقبال پڑھنا شروع کی۔۔۔۔یقیناًآپ حیران ہوگئے ہوں گے کہ چوتھی جماعت اور کلیات اقبال ؟جی میاں یہ سچ ہے کیونکہ اس دور میں اساتذہ بھی ایسے تھے کہ طالبعلم کی حوصلہ افزائی کو اپنا فرض سمجھتے تھے ۔۔۔سارا دن سکول میں اور باقی کا وقت شاعری۔۔۔۔اتنی چھوٹی عمر میں اقبال کے الفاظ کو سمجھنا کوئی معمولی بات نہ تھی اس لئے ان دنوں صرف الفاظ پڑھنے تک کا سلسلہ جاری رہا سمجھ کچھ بھی نہیں آیا مگر کیا کہ بس ایک جنون تھا جو ایک بچے پر سوار ہو گیا تھا۔۔۔ جماعت پنجم کے آغاز میں سب سے پہلا شعر جو اپنے انتہائی شفیق استاد محترم جناب فوجی عبدالوہاب خان رانہ زئی کو سنایا تووہ انگشت بدنداں ہو گئے اور کہنے لگے کہ بیٹا میرا یقین نہیں ہو رہا۔۔۔۔۔۔کہ شعر تم نے لکھا ہے۔۔۔۔۔شعر کچھ یوں تھا۔۔ اپنے منہ سے حسن کی تعریف بھاتی نہیں شریفؔ ۔۔۔۔۔۔ادائے دلبری ہے دستور نرالا ہم کیا کریں۔۔۔۔ واضح رہے کہ خاکسار کا ابتدائی تخلص شریفؔ تھا۔۔۔۔ سلسلہ تعلیم جاری رہا اور ساتھ ساتھ مختلف اوقات میں طبع آزمائی بھی ہوتی رہی میٹرک پاس کرنے کے بعدتک تمام اساتذہ شعراء کی شاعری پر نظر گزر چکی تھی اسی دوران پھر کچھ عرصہ نظم سے نثر کی طرف طبیعت مائل ہوئی اور ان دنوں روزنامہ مشرق پشاور کی زینت بننے والا خاکسار کا ایک مختصر افسانہ اس وقت کے تمام نثرنگاروں کی توجہ کا مرکز بنااور اس افسانہ کی نہ صرف خواص بلکہ عوام میں بھی تعریف کی گئی ۔۔۔۔ انٹر کے بعد ایک قریبی دوست کی وساطت سے مقامی روزنامہ اپنا اخبار میں بحیثیت کالم نگار کے خدمت کا مو قع مل گیا اور تھوڑے ہی عرصہ بعد چند عزیز دوستوں کی بدولت طبعی میلان موسیقی کی طرف امڈ آیا۔۔۔۔اور اپنے علاقہ میں واقع ایک فرسوہ حال میوزک اکیڈیمی میں داخلہ لے لیا جہاں پر اس وقت کے ہارمونیم کے ماہر استاد سردارکلیم اللہ خان و سردار سلیم اللہ خان جوکہ پیانو کے ماہر تھے اور جدید میوزک پر ان کو کافی دسترس حاصل تھی جیسے لوگ موجود تھے اور پھر باقاعدہ طور پر ان کی زیر سرپرستی علم موسیقی حاصل کرنے لگابلاشبہ سرگم کا سیکھنا کوئی معمولی بات نہ تھی نہ دادرہ پر دسترس حاصل کرنا آسان تھابہر حال کئی ماہ کی مسلسل محنت اور ان اساتذہ کے زیر سایہ نہ صرف ہارمونیم بلکہ طبلہ پر بھی اچھا خاصاعبور حاصل کرلیاتھاواضح رہے کہ اسی دوران نہ صرف ادب کے ساتھ وابستگی رہی بلکہ صحافت میں بھی اچھا خاصا اثر رسوخ حاصل کرلیا تھاکچھ عرصہ تک تو سارے گا ماپادھا نی سا میں مگن رہا مگر یہاں بھی قدم نہ جم سکے اور کسی انجانے سکون کی تلاش میں سرگرداں رہا دریں اثناء ایک قریبی دوست جو کہ معروف تبلیغی جماعت کا سرگرم رکن تھا کی صحبت نے کافی گہرا اثر کیا اور جلد ہی انکے ساتھ گشتیں وغیرہ کرنا اور معروف تبلیغی نصاب کا پڑھناروز کا معمول بن گیاوالدین جوکہ پہلے موسیقی کی طرف راغب ہوجانے پر کافی نالاں نظر آرہے تھے اب ایک دم کی مثبت تبدیلی نے انہیں باغ باغ کردیا اور خاکسار کا تبلیغی جماعت کے ساتھ منسلک ہونا انہیں بے حد پسند آیا اورانہوں نے اس موقع ہر اپنے رب کا شکریہ ادا کیا کہ ہمارا بیٹا راہ راست پر آگیاکچھ عرصہ اس جماعت میں گزارنے کے بعد موسیقی سے توبہ تائب ہوا اور ایک دوست کی خصوصی توجہ کے پیش نظر اپنے علاقہ میں واقع مکتبہ دیوبند کی قدیم دینی درسگاہ نجم المدارس العربیہ میں دینی تعلیم کے حصول کی خاطر داخلہ لے لیاواضح رہے کہ اس قدیم دینی درسگاہ کا افتتاح 1949ء میں معروف دیوبندی عالم حسین احمد مدنی نے کیا تھا جوکہ اس درسگاہ کے موسس و بانی مفتی قاضی عبدالکریم کے استاد ہو گزرے ہیں چار سے پانچ سال کے عرصہ تک مذکورہ درسگاہ میں مختلف علوم جن میں نحو ،صرف ،منطق اور اصول فقہ شامل ہیں حاصل کرتا رہا لیکن اب ارادہ کیا کہ کیوں نہ تھوڑا سا وقت صحافت کو سیکھنے میں صرف کیا جائے لہٰذااس خیال کے آتے ہی علوم دینیہ کے ساتھ ساتھ صحافت کا بھی ایک کورس شروع کردیا تاکہ صحافت کے بھی ابجد سے بخوبی آگاہ ہوجائیں کچھ عرصہ کے بعد ایک قومی اخبار میں بحیثیت ٹرینی رپورٹر کے بھی فرائض سرانجام دینے کا موقع مل گیااور اسی طرح کافی عرصہ صحافت کی ابجد سیکھنے میں لگ گیا جبکہ اسی دوران ساتھ ساتھ اردو ادب بھی چلتا رہااللہ تعالیٰ کے خصوصی فضل اور حالات حاضرہ پر کماحقہ لکھنے کی بدولت جلد ملک کے معروف قومی اخبارات میں لکھنے کا موقع مل گیا اسی دوران اثر رسوخ کافی وسیع ہوگئے اور ایک سینئر صحافی دوست کے اصرار پر ملک کے خفیہ ادارے میں بحیثیت خفیہ رپورٹر کے خدمات سرانجام دینے لگاادارے کا سربراہ نہایت خوش اخلاق ہونے کیساتھ ساتھ ایک ملنسار انسان تھا س لئے اس نے خاکسار کی غیر معمولی خدمات کے سبب ایریا آفیسر کی ذمہ داری سونپ دی اورخاکسار نے بادل ناخواستہ یہ آفر قبول کرلی اور ایک مقررہ ٹارگٹ کے حصول کی خاطر مکمل طور پر اس کام میں جتھ گیاواضح رہے کہ اسی دوران نہ صرف صحافت چلتی رہی بلکہ دینی تعلیم بھی برائے نام جاری رہی جبکہ شاعری تو اپنی میراث کے طور پر ساتھ ہی رہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خفیہ ادارے کی جانب سے دیے گئے ٹارگٹ کو حاصل کرنے کے بعدنجی مسائل کچھ اس حد تک بڑھ گئے کہ اس وقت نہ صرف خفیہ ادارے کو خیر باد کہنا پڑا بلکہ ساتھ دینی تعلیم اور صحافت سے یاتھ دھونے پڑے یہ ایک ایسا وقت تھا کہ صرف سوائے باہر نکل جانے کے کوئی راستہ نہ بچا تھا لہٰذا انتہائی غور و خوص کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ اب علاقہ سے باہر نکلنے میں ہی بہتری ہوگی لہٰذا بے مقصد باہر نکلنا بھی نقصان سے خالی نہ تھا اس لئے والدین کی رضا مندی سے یہ فیصلہ کیا گیاکہ باہر نکل کر اعلیٰ تعلیم کا حصول عمل میں لایا جائے لہٰذا ایک منظم پلاننگ کے تحت لاہور کی معروف قدیمی درسگاہ پنجاب یونیورسٹی کا انتخاب کیا گیاتو گویا فوری طور پراپنے علاقہ سے دل برداشتہ ہو کر لاہور کی طرف روزنہ ہوااور جلد ہی ابتدائی امور کے بعد سلسلہ تعلیم کا آغاز ہوایہاں پر ایک بات جوکہ بہت اہم ہے بتانا فرض سمجھتا ہوں کہ اس وقت اسلامک ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ غامدی کے معتقد تھے اور انکے عقائد مکتبہ دیوبند کے اکابرین سے قدرے مختلف تھے اس وقت ہمارے ایک تفسیر قرآن کے استاد ہوا کرتے تھے جو آجکل میڈیا پر اسلام کے چیمپیئن بنے ہوئے ہیں ان کا یہاں پر ذکر کرنا میں مناسب نہیں سمجھتا ، میں چونکہ عقائد میں کٹر دیوبندی تھا اس لئے مجھے انکے نہ صرف عقائد سے اختلاف ہوا بلکہ انکے افکار ونظریات بھی جوکہ اہلسنت سے بالکل مختلف تھے پسند نہ آئے اور میں نے سوچا کہ کہیں اس طرف اپنا ایمان نہ دے بیٹھوں اسی ڈر سے تقریباً چار ماہ تک کے عرصہ کے بعد یونیورسٹی جانا چھوڑدیاجبکہ والدین پر امید تھے کہ ہمارا ہونہار بیٹا اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے پھر اپنے علاقے واپس آئے گا اور یہاں پر لوگوں میں دین پھیلائے گا،یونیورسٹی سے خود ساختہ فراغت کے بعد سوچنے لگا کہ اب کیا کیا جائے،لہٰذا پھر سے ارادہ کیا کہ کیوں نہ موسیقی کی طرف رجوع کیا جائے اور پھر اسی خیال کو عملی جامہ پہنانے کیلئے ایک قریبی دوست کے ذریعے لاہور کے معروف الحمرا ء آرٹ کونسل تک رسائی حاصل کرلی اورجلدہی ملک کے معروف غزل سنگر استاد غلام علی خان کی آغوش میں پناہ لے لی علاوہ ازیں استاد سلامت علی خان اور بین الاقوامی شہرت یافتہ طبلہ نواز استاد طاری خان کی صحبت میں جا گھسامجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ان دنوں راحت فتح علی ،رفاقت علی ، فریہ پرویز اور ارم حسن جیسی گلوکارائیں پی ٹی وی کے معروف ہدایتکار حفیظ طاہراور معاون عزیز خان کے ہاتھوں پنپ رہی تھیں ۔۔۔۔۔۔ دن رات کے عشقیہ جنون نے خاکسار کو اپنی شرعی داڑھی صاف کرنے پر مجبور کردیااور وہ وقت قابل افسوس تھا کہ دس دس صفحوں کو نمازیں پڑھانے والا مسلمان آج فاحشہ رقاصاؤں کے جھرمٹ میں محو تماشا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کچھ عرصہ تو ان جھمیلوں میں مست رہا مگر پھر نجانے کیا کہ ایک بے سکونی کی سی کیفیت طاری رہنے لگی اور طبیعت بالکل اداس رہنے لگی اسی دوران خاکسار کے کالے کرتوتوں کا علم جب والدین کو ہوا تو یہ صدمہ انکے لئے خاکسار کی موت سے کم نہ تھاکیونکہ کیا سوچا تھا اور کیا ہوگیا تھا انکی ساری امیدوں پہ پانی پھر گیا تھالہٰذا اب خاکسار کو بھی شرم آرہی تھی کہ گھر کیسے واپس جائے اس لئے ایک قریبی شفیق کے بے حد اصرار پرکوئٹہ کے سنگلاخ پہاڑوں میں واقع انکے ہاں رہنے لگا اب کے پختہ ارادہ کیا کہ داڑھی رکھ کر ایک پکا اور کھرا مسلمان بننے کی کوشش کروں گامگر یہ پیاس ہنوز باقی تھی کہ آخر حق پر کون ہے اس لئے سب سے پہلے ایک دوست کی وساطت سے مرزا غلام احمد قادیانی کی کتب اور لٹریچر کا مطالعہ کیا اور اس حد تک متاثر ہوا کہ بالاآخر قادیانیوں کو حق پر سمجھنے لگا اور خود بھی ایک احمدی مسلمان ہوگیاکیونکہ مجھے لگا کہ یہی حق ہے پھر کچھ عرصہ تو انکے عقائد ونظریات پر کاربند رہامگر نجانے پھر کیا سوجھی کہ ایک دم سے اس گمراہ جماعت سے بد ظن ہوگیا اور ان کی نسبت سے پختہ توبہ کرلی کہ پھر انکے قریب بھی نہیں جاؤں گا۔۔۔ اب چونکہ دیوبند سے توپہلے ہی بد ظن ہوچکا تھا ور اسکی بنیادی وجہ یہی تھی کہ یہ لوگ سوچ اور غوروفکر کو گناہ کبیرہ سمجھتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ جتنا ہمارے امام صاحب نے سوچ لیا ہے بس وہی ہمارے لئے کافی ہے اب مزید سوچنا گمراہی ہے لہٰذا انکی یہ تقلید جمودمجھے قطعی پسند نہ آئی اور اب احمدیت سے توبہ کے بعد میں نے سوچا کہ کیوں نہ بریلوی ازم کا مطالعہ کیا جائے اور پھر چند کتب پڑھنے کے بعد مجھے لگا کہ حق تو یہی ہے جس سے تم دور رہے ہو لہٰذا اب میں ایک پکا بریلوی ہوگیا تھا اور باقاعدہ گولڑہ شریف کے مزارات پرحاضری دینے لگااور قوالی وغیرہ کو ایمان کا حصہ سمجھنے لگااور دن رات بس قبروں پر جانا اور مزارات پر حاضری دینا گویا میرا معمول بن چکا تھاپھر مجھے لگا کہ یہ تو معمولی درجہ ہے اس لئے کیوں نہ اہل تشیع کی کتب کا مطالعہ کیا جائے لہٰذا جلد ہی میں نے بریلویت کو خیر باد کہہ کر اہل تشیع کے گروہ میں جا گھساامام خامنہ ای کو حق پر سمجھنے لگا اور انکی پیروی کو ایمان کا جز سمجھنے لگا یعنی اب نیم شیعہ ہو چکا تھاپھر یہ لوگ جب صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم پر بکنے لگے تو میرا دل برداشت نہ کرسکا اور میں نے شیعیت کو بھی خدا حافظ کہہ دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب صورتحال بالکل گھمبیر بن چکی تھی اور کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا جائے ؟اسی دوران علم نفسیات کی طرف رجوع کیا اور جلد ہی اس علم میں اچھی خاصی مہارت حاصل کرلی ہے اب ارادہ یہی تھا کہ بس اسی پر اکتفا کیا جائے اور ایک عام مسلمان کی سی زندگی بسر کی جائے کیونکہ اب اپنی متلون مزاجی سے تنگ آگیا تھامگر دل کو پھر بھی اطمینان نہ ہوا اور آخر کار یہی ارادہ کیا کہ تہجد کی نماز کا اہتمام کیا جائے اور اس میں اللہ تعالیٰ سے دعا کی جائے کہ وہ راہ حق دکھا دے لہٰذا کئی راتوں کی مسلسل جدو جہد کا یہ نتیجہ نکلا کہ انسان کی ابدی کامیابی کا راز صرف اور صرف کتاب وسنت میں ہے اور پھر فوری طور پر قرآن اور حدیث پر تحقیق شروع کردی اور اسکے ساتھ ساتھ اہلحدیث علماء کرام کے کتب کا بھی مطالعہ کرنے لگا بہت حد تک متاثر ہوا اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے یہی القا ہوا کہ بلاشبہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ میں ہی انسان کی اصل اخروی کامیابی مضمر ہے اسکے بعد پھر مختلف عرب علماء کرام کے کتب کا مطالعہ بھی مفید رہاآہستہ آہستہ سلفی مہج کا بھی مطالعہ کیا اور میں نہیں سمجھتا کہ اس وقت دنیا میں منہج سلف کے علاوہ کوئی بھی عین حق پر ہواور یہاں پر میں اپنے گوناں گوں تجربے کی روشنی میں علی الاعلان کہتا ہوں کہ اللہ عزوجل کے جاہ وجلال کی قسم اگر کوئی حق پر ہے تو وہ واحد کاروان توحید کے جیالے سلفی اور اہلحدیث ہیں۔۔۔۔ اور اب اللہ تعالیٰ کا جتنا بھی شکر ادا کروں کم ہے کیونکہ اس پروردگار عالم نے مجھے راہ حق دکھا دیا اور مجھے اب موحد،سلفی اور اہلحدیث ہونے فخر ہے اور رہے گا انشاء اللہ اور نہ صرف میں بلکہ خاکسار کی آنے والی نسلیں بھی بحمد اللہ اہلحدیث ہی ہونگی کیونکہ خاکسار اپنے پورے خاندان میں پہلا اہلحدیث ہوا ہے الحمد للہ، انشاء اللہ آپ لوگوں کی دعا ساتھ رہی تو جلد ہی اپنے گھر کے افراد اور دوستوں پر سعی جمیلہ کرکے اللہ تعالیٰ کے حکم اور منشاء سے ان کو صراط مسقیم پر گامزن کر لوں گا۔۔۔۔ امید تو یہی کی جاتی ہے کہ ہر قاری کو تحریر پسند آئی ہوگی۔۔۔۔اگر کسی قاری کے ذہن میں کوئی سوال منڈلا رہا ہے تو بلا ججک دریافت فرما سکتے ہیں مجھے خوشی ہوگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو یہ تھی۔۔۔۔بقول فیض صاحب۔۔۔ جو ہم پہ گزری سو گزری مگر شب ہجراں۔۔۔۔۔۔ ہمارے اشک تری عاقبت سنوار چلے۔۔۔۔۔ |
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے نعمان نیر کلاچوی کا شکریہ ادا کیا | shafresha (12-04-11), نورالدین (12-04-11), محمدخلیل (12-04-11), مرزا عامر (12-04-11), راجہ اکرام (12-04-11), عبدالقدوس (12-04-11), عبداللہ آدم (12-04-11) |
|
|
#2 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
اللہ آپ کو راہ حق پر استقامت عطا فرمائے.آمین
فورم پر اپ تعارف کے سیکشن میں تعارف داخل فرما دیں عین نوازش ہو گی والسلام |
|
|
|
|
|
#3 |
|
Administrator
![]() ![]() ![]() |
فورم پر خوش آمدید۔۔
آپ جیسی طبیعت ہمارے ایک دوست کی بھی ہے
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عبدالقدوس کا شکریہ ادا کیا | shafresha (12-04-11), عبداللہ آدم (12-04-11) |
|
|
#4 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,382
کمائي: 95,648
شکریہ: 52,496
11,166 مراسلہ میں 35,224 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
آہا۔۔۔۔ واقعی بڑی دلچسپ کہانی ہے۔ کہانی کی اٹھان ہی بڑی زبردست تھی لیکن اختتام تو کمال کا نکلا۔ مزا آ گیا۔
اس اختتام پر تو بعد میں تبصرہ کریں گے۔
|
|
|
|
| حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | shafresha (12-04-11) |
|
|
#5 | ||||
|
Senior Member
![]() |
السلام و علیکم جناب ۔ ۔
اکثر لوگوں کا کم و بیش یہی حال ہے ۔ اقتباس:
اقتباس:
اقتباس:
فرقے کو چھوڑ کر فرقے میں ہی آئے ۔ اقتباس:
خیر سلفی مسلک مذکورہ سابقہ مسالک سے بہتر ہے ۔ دعا ہے اللہ آپ کو مزید ہدایت دے اور مزید بہتر راہ پر چلائے ۔ اور اللہ آپ کو صرف مذہب کے کنویں میں محدود نہ کرے ۔ بلکہ اسلام کے عالمگیر پیغام کو سمجھ کر اسے انسانیت کی سطح تک اس کے فوائد و ثمرات پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین ۔ ۔
__________________
انسان کو زندگی میں وہی کام کرنا چاہیے جس کی اسے ضرورت ہو ۔ |
||||
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے نورالدین کا شکریہ ادا کیا | shafresha (12-04-11), ننھا بچہ (12-04-11), مرزا عامر (12-04-11), حیدر (12-04-11), راجہ اکرام (12-04-11), عبداللہ آدم (12-04-11) |
| کمائي نے نورالدین کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 12-04-11 | عبداللہ آدم | اللہ آپ کو صرف مذہب کے کنویں میں محدود نہ کرے | 10 |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,852
کمائي: 278,068
شکریہ: 1,153
6,266 مراسلہ میں 14,142 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلامُ علیکم
آپکی تحریرپڑھ کر اچھا لگا۔ پڑھی تو پڑھتی چلی گئی۔ اللہ آپکوصراطِ مستقم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اورآسانیان پیدا کرے آپکے لئے۔ آمین
__________________
![]() |
|
|
|
|
|
#7 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
نعمان بھائی السلام علیکم،
آپ کی کہانی دلچسپ ہے۔ آپ سے درخواست کی جاتی ہے کہ مندرجہ ذیل تھریڈ میںاپنا تعارف کروائیے: تعارف - پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمز اس کے بعد میںآپ کے اس تھریڈ کو میری ڈائری میںمنتقل کردوں گا!!!
__________________
میںتمھارے اس حق کے لیئے کہ تم مجھ سے "اختلاف" کرسکو، آخری وقت تک لڑوںگا! |
|
|
|
|
|
#8 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,572
کمائي: 315,159
شکریہ: 25,210
16,389 مراسلہ میں 41,629 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم و رحمۃ اللہ
مکرمی نعمان صاحب آپ کی کہانی پڑھ کر خوشی ہوئی کہ موسیقی کو روح کی غذا کہنے والوں کے خیالات کا بہر حال ابطال ہو گیا اور حقیقی سکون اور راحت اللہ کے دین میں ہی نظر آئی۔ اللہ تعالی آپ کو استقامت عطا فرمائے۔ آمین میری ہدایت کے لئے بھی دعا کیا کریں
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا | shafresha (12-04-11), عبداللہ آدم (12-04-11) |
|
|
#9 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,641
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,595 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کوشش کیجیے گا کہ سلفی تک ہی رہیں کہیں سلفی سے تکفیری نہ بن جائیں گے کیونکہ یہ سفر بہت جلد طے ہو جاتا ہے۔۔
۔
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو! |
|
|
|
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,724
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,067 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا | shafresha (12-04-11), عبداللہ آدم (12-04-11) |
|
|
#12 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,641
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,595 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
معنوی اعتبار سے اپ درست کہتے ہیںلیکن بدقسمتی سے یہ ایک باقاعدہ فرقہ بن چکا ہے۔ سلفی مسلمانوںکی اکثریت پر مختلف حیلے بہانوں سے کوئی نہ کوئی الزام تراشی کرتے رہتے ہیں لیکن تکفیری ماشاءآللہ ان سے بھی دو ہاتھ آگے ہیں یہ سلفیوں کو بھی کافر کہ دیتے ہیں
۔
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| فرض, پھول, پسند, قرآن, نظر, میراث, موت, ایمان, اردو, توحید, تلاش, تعلیم, حدیث, خدا, دوست, داڑھی, دریافت, دعا, راستہ, شاعری, غامدی, غزل, صحافت, صحابہ, صدمہ |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| دلچسپ انڈے | J.S | دلچسپ اور عجیب | 19 | 21-04-12 11:48 PM |
| مالٹے مارنے کی منفرد اوردلچسپ جنگ | جاویداسد | دلچسپ اور عجیب | 2 | 02-10-10 05:19 PM |
| نئے دور کی دلچسپ USB! | shafresha | دلچسپ اور عجیب | 7 | 07-07-10 02:36 PM |
| دنیا کی 50 دلچسپ اور عجیب بلڈنگ | چیتا چالباز | دلچسپ اور عجیب | 19 | 02-02-09 03:09 PM |
| دلچسپ اور عجیب | ابن جلال | خبریں | 0 | 08-11-08 09:46 AM |